باد میں ایک وقف بلڈنگ مل گئی ۔
۵، مارچ ۱۹۶۲ء کو اس میں مدرسہ قرآنیہ رحمانیہ کا آغاز کر دیا۔ اس کے ساتھ جامعہ مجددیہ رکن الاسلام ہیر آباد حیدرآباد میں بھی پچیس تیس سال کا عرصہ پڑھاتے رہے۔ ۱۹۸۴ء کو جناح مسجد برنس روڈ کراچی میں تشریف لے گئے اور تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وصال سے دو ماہ پہلے الانہ مسجد رامسوامی رنچھوڑلائن میں تدریس شروع کی اور اسی جگہ داعی اجل کو لبیک کہا۔
بیعت:
بچپن میں ہی حضرت امیر ملت کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔
سفر حرمین شریفین :
۱۹۴۶ء کو حضرت امیر ملت مولانا پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری ایک سومریدین کے ہمراہ حج و زیارت کیلئے تشریف لے گئے تو قاری صاحب کو بھی مرشد گرامی کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔
تجارت:
اگر چہ کپڑے کی تجارت بھی کرتے رہے چار پانچ سال آرھت بھی کی تاہم ان کی توجہ تحصیل علم کی طرف بھی باقاعدہ رہی اور فراغت کے بعد قرآن حکیم کی تدریس اور تلاوت میں مصروف رہے اور سینکڑوں حافظ اور قاری تیار کر کے دنیا سے رخصت ہوئے۔
شادی و اولاد :
ایک شادی کی جس سے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تولد ہوئیں ۔
تلامذہ :
آپ کے بے شما ر تلامذہ میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :
٭ قاری عبدالرحمن بلوچستانی ۔ انوار العلوم ملتان میں پندرہ برس پڑھاتے رہے۔
٭ قاری علی احمد روہتکی مدرس جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد
٭ قاری خیر محمد چشتی مدرس مدینۃ الاسلام ہالینڈ
٭ قاری محمد دین جامعہ تحفیظ القرآن مکہ مکرمہ
٭ قاری محمود الحسن مالدیپ
٭ قاری محمد اسحاق کویت
٭ قاری محمد رفیق اشرفی افریقہ
٭ قاری بشیر احمد ملتانی پانچ سال تک مدینہ منورہ میں پڑھاتے رہے
٭ زینت القراء قاری محمد بخش سندھی ( لاڑکانہ ) فاضل جامعۃ الازہر قاہرہ ، مصر
٭ قاری محمد افضل چترال
٭ حافظ محمد یوسف سد یدی امام الخطاطین ، لاہور
٭ قاری محمد سلیمان اعوان مدرس رکن الاسلام حیدرآباد سندھ
وصال :
قاری محمد طفیل ۹، ذوالحجہ ۱۴۰۹ھ بمطابق ۱۹۸۹ء بروز جمعرات کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے رب کریم کی دربار مقدس میں حاضر ہو گئے۔ اگلے روز جمعہ بھی تھا اور عید الاضحی بھی ، جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ غالبا مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کی امامت میں ادا کی گئی اور انہیں حسن اسکوائر ( گلشن اقبال ) کراچی کے قبرستان میں دفن کیا گیا ۔ (ماخوذ: عظمتوں کے پاسبان )
(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qari-muhammad-tufail-naqshbandi
۵، مارچ ۱۹۶۲ء کو اس میں مدرسہ قرآنیہ رحمانیہ کا آغاز کر دیا۔ اس کے ساتھ جامعہ مجددیہ رکن الاسلام ہیر آباد حیدرآباد میں بھی پچیس تیس سال کا عرصہ پڑھاتے رہے۔ ۱۹۸۴ء کو جناح مسجد برنس روڈ کراچی میں تشریف لے گئے اور تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وصال سے دو ماہ پہلے الانہ مسجد رامسوامی رنچھوڑلائن میں تدریس شروع کی اور اسی جگہ داعی اجل کو لبیک کہا۔
بیعت:
بچپن میں ہی حضرت امیر ملت کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔
سفر حرمین شریفین :
۱۹۴۶ء کو حضرت امیر ملت مولانا پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری ایک سومریدین کے ہمراہ حج و زیارت کیلئے تشریف لے گئے تو قاری صاحب کو بھی مرشد گرامی کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔
تجارت:
اگر چہ کپڑے کی تجارت بھی کرتے رہے چار پانچ سال آرھت بھی کی تاہم ان کی توجہ تحصیل علم کی طرف بھی باقاعدہ رہی اور فراغت کے بعد قرآن حکیم کی تدریس اور تلاوت میں مصروف رہے اور سینکڑوں حافظ اور قاری تیار کر کے دنیا سے رخصت ہوئے۔
شادی و اولاد :
ایک شادی کی جس سے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تولد ہوئیں ۔
تلامذہ :
آپ کے بے شما ر تلامذہ میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :
٭ قاری عبدالرحمن بلوچستانی ۔ انوار العلوم ملتان میں پندرہ برس پڑھاتے رہے۔
٭ قاری علی احمد روہتکی مدرس جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد
٭ قاری خیر محمد چشتی مدرس مدینۃ الاسلام ہالینڈ
٭ قاری محمد دین جامعہ تحفیظ القرآن مکہ مکرمہ
٭ قاری محمود الحسن مالدیپ
٭ قاری محمد اسحاق کویت
٭ قاری محمد رفیق اشرفی افریقہ
٭ قاری بشیر احمد ملتانی پانچ سال تک مدینہ منورہ میں پڑھاتے رہے
٭ زینت القراء قاری محمد بخش سندھی ( لاڑکانہ ) فاضل جامعۃ الازہر قاہرہ ، مصر
٭ قاری محمد افضل چترال
٭ حافظ محمد یوسف سد یدی امام الخطاطین ، لاہور
٭ قاری محمد سلیمان اعوان مدرس رکن الاسلام حیدرآباد سندھ
وصال :
قاری محمد طفیل ۹، ذوالحجہ ۱۴۰۹ھ بمطابق ۱۹۸۹ء بروز جمعرات کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے رب کریم کی دربار مقدس میں حاضر ہو گئے۔ اگلے روز جمعہ بھی تھا اور عید الاضحی بھی ، جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ غالبا مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کی امامت میں ادا کی گئی اور انہیں حسن اسکوائر ( گلشن اقبال ) کراچی کے قبرستان میں دفن کیا گیا ۔ (ماخوذ: عظمتوں کے پاسبان )
(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qari-muhammad-tufail-naqshbandi
scholars.pk
Hazrat Molana Qari Muhammad Tufail Naqshbandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی علیہ الرحمہ
پلکھنہ ضلع علی گڈھ کےساکن، مولوی محمد اسد اللہ کے بیٹے، محمد لطف اللہ نام، ۱۲۴۴ھ میں ولادت ہوئی، والد نے ‘‘چراغم’’ مادۂ تاریخ کہا، حضرت شاہ جمال علی گڈھی سےنسلی مولانا عنایت وابستہ ہے، ابتدائی درسیات مقامی معلموں سےپڑھیں، کان پور مدرسۂ فیض عام میں مولانا عنایت احمد سےتکمیل علوم کی ۱۲۷۸ھ میں اُستاذ نےاُن کو مدرسہ کا مدرس دوم مقرر کیا، خود حجکی نیت سےجاتے ہوئے جدہ کے قریب غریق بحر رحمت ہوئے، مفتی صاحب نے سات برس تک مدرسہ فیض عام میں درس دیا، اسی سنہ میں مدرسہ جامعہ مسجد علی گڈھ میں بحیثیت مدرس اول تقرر ہوا، فارغین کی پہلی جماعت میں حضرت اُستاذ زمن مولانا شاہ احمد حسن کانپوری جیسے اکابر عالم تھے، غیر مقلد مولوی اسماعیل علی گڑھی سےتحریری مناظرہ رہا۔
۱۳۱۲ھ میں دائی ریاست حیدر آباد کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے، اور صدر المدرسین کےعہدہ پر تقرر ہوا، ۲۸؍فروری ۱۸۵۹ء میں مفتئ عدالت ہوئے، ایک ہزار روپیہ مشاہرہ مقرر ہوا ۱۹۰۱ء میں حیدر آباد سےواپس آئے، ۱۹۰۶ء میں آنکھ کا آپریشن کرایا، معالج کی ہدایت تھی کہ منھ پر پانی نہ پڑے، مگر وضو کے لیےبار بار پانی کے استعما کے سبب سے آنکھ جاتی رہی، نویں ذالحجہ ۱۳۳۴ھ ۱۹۱۶ء کو چار بجے دن میں فوت ہوئے، نواب حبیب الرحمٰن خاں شروانی شاگرد نے جو آزاد خیال تھےیہ قطعۂ تاریخ کہا ؎
چوں مولانا لطف اللہ
بودہ استاذ العلماء
حسرت سالِ وفات شاں
‘‘استاذ العلماء’’ گفتا
(استاذ العلماء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-lutfullah-aligarhi
پلکھنہ ضلع علی گڈھ کےساکن، مولوی محمد اسد اللہ کے بیٹے، محمد لطف اللہ نام، ۱۲۴۴ھ میں ولادت ہوئی، والد نے ‘‘چراغم’’ مادۂ تاریخ کہا، حضرت شاہ جمال علی گڈھی سےنسلی مولانا عنایت وابستہ ہے، ابتدائی درسیات مقامی معلموں سےپڑھیں، کان پور مدرسۂ فیض عام میں مولانا عنایت احمد سےتکمیل علوم کی ۱۲۷۸ھ میں اُستاذ نےاُن کو مدرسہ کا مدرس دوم مقرر کیا، خود حجکی نیت سےجاتے ہوئے جدہ کے قریب غریق بحر رحمت ہوئے، مفتی صاحب نے سات برس تک مدرسہ فیض عام میں درس دیا، اسی سنہ میں مدرسہ جامعہ مسجد علی گڈھ میں بحیثیت مدرس اول تقرر ہوا، فارغین کی پہلی جماعت میں حضرت اُستاذ زمن مولانا شاہ احمد حسن کانپوری جیسے اکابر عالم تھے، غیر مقلد مولوی اسماعیل علی گڑھی سےتحریری مناظرہ رہا۔
۱۳۱۲ھ میں دائی ریاست حیدر آباد کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے، اور صدر المدرسین کےعہدہ پر تقرر ہوا، ۲۸؍فروری ۱۸۵۹ء میں مفتئ عدالت ہوئے، ایک ہزار روپیہ مشاہرہ مقرر ہوا ۱۹۰۱ء میں حیدر آباد سےواپس آئے، ۱۹۰۶ء میں آنکھ کا آپریشن کرایا، معالج کی ہدایت تھی کہ منھ پر پانی نہ پڑے، مگر وضو کے لیےبار بار پانی کے استعما کے سبب سے آنکھ جاتی رہی، نویں ذالحجہ ۱۳۳۴ھ ۱۹۱۶ء کو چار بجے دن میں فوت ہوئے، نواب حبیب الرحمٰن خاں شروانی شاگرد نے جو آزاد خیال تھےیہ قطعۂ تاریخ کہا ؎
چوں مولانا لطف اللہ
بودہ استاذ العلماء
حسرت سالِ وفات شاں
‘‘استاذ العلماء’’ گفتا
(استاذ العلماء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-lutfullah-aligarhi
scholars.pk
Hazrat Mufti Muhammad Lutfullah Aligarhi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت مسلم ابن عقیل (شہادت: 9 ذوالحجۃ 60ھ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی حضرت عقیل ابن ابو طالب کے بیٹے تھے یعنی امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب سفیر حسین علیہ السلام اور غریبِ کوفہ (کوفہ کے مسافر) تھا۔ واقعۂ کربلا سے کچھ عرصہ پہلے جب کوفہ کے لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو خطوط بھیج کر کوفہ آنے کی دعوت دی تو انہوں نے حضرت مسلم ابن عقیل کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ روانہ کیا۔ وہاں پہنچ کر انہیں صورتحال مناسب لگی اور انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط بھیج دیا کہ کوفہ آنے میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر بعد میں یزید نے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ کا حکمران بنا کر بھیجا جس نے حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے دو کم سن فرزندوں کو شہید کروا دیا۔
ابتدائی واقعات:
جب امام حسین علیہ السلام نے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ جانے کا حکم دیا تو اس وقت وہ مکہ میں تھے۔ وہاں سے وہ مدینہ گئے جہاں انہوں نے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حاضری دی پھر اپنے دو بیٹوں محمد اور ابراہیم جن کی عمریں سات اور آٹھ سال کی تھیں، کو لے کر کوفہ چلے گئے۔ کوفہ میں انہوں نے جناب مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کے گھر پر قیام کیا۔ کوفہ والوں نے ان کی بیعت شروع کی جن کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی۔ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ دیا کہ کوفہ آنے کے لیے حالات سازگار ہیں۔ اس وقت کوفہ کا گورنر نعمان بن بشیر تھا۔ جب یہ خبر یزید تک پہنچی تو اس نے بصرہ کے عبید اللہ ابن زیاد کو پیغام بھیجا کہ وہ جلد کوفہ پہنچ کر نعمان بن بشیر کی جگہ حکمران مقرر ہوں اور مسلم بن عقیل کا سر کاٹ کر یزید کے پاس بھیجیں۔ ابن زیاد نے کوفہ پہنچ کر گورنری سنبھالی تو حضرت مسلم بن عقیل امیر مختار کے گھر سے صحابیِ رسول درودحضرت ہانی بن عروہ کے گھر منتقل ہو گئے۔ ابن زیاد نے فوج کو انہیں پکڑنے کے لیے بھیجا تو حضرت ہانی بن عروہ جن کی عمر اس وقت 90 سال تھی، نے اپنے مہمان کو حوالہ کرنے سے انکار کر دیا۔ حضرت ہانی بن عروہ کو قید کر لیا گیا۔ اس پر بھی انہوں نے انکار کیا تو انہیں باندھ کر پانچ سو کوڑوں کی سزا دی گئی جس کے دوران جب وہ بے ہوش ہو گئے تو ان کا سر تن سے کاٹ کر لٹکا دیا گیا۔
جنگ:
حضرت ہانی بن عروہ کی گرفتاری کے بعد حضرت مسلم بن عقیل باہر آ گئے اور جنگ شروع کی مگر آہستہ آہستہ سب کوفیوں نے ساتھ چھوڑ دیا حتیٰ کہ صرف تیس افراد ان کے ساتھ رہ گئے۔ مغرب کی نماز تک وہ بھی باقی نہ رہے۔ انہیں حضرت محمد ابن کثیر نے اپنے گھر میں پناہ دی۔ محمد ابن کثیر کے حمایتیوں کے ساتھ ابن زیاد کی فوج نے جنگ کی اور انہیں بھی شہید کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت مسلم بن عقیل کوفہ سے باہر جانے کی کوشش کرنے لگے مگر شہر کے سب دروازے بند تھے۔ آپ نے ایک بوڑھی عورت سے پانی مانگا۔ جب انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق خاندانِ رسالت سے ہے تو اس عورت نے انہیں اپنے گھر میں پناہ دی۔ مگر اس عورت کے بیٹے طوعہ نے انعام کے لالچ میں مخبری کر دی۔ ابن زیاد نے تین ہزار فوج بھیجی تو حضرت مسلم بن عقیل گھر سے باہر آ کر لڑنے لگے اور بنو ہاشم کی تلوار بازی کے جوہر دکھائے۔ جب سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے تو ابن زیادکے سالار ابن اشعش نے اور فوج کا پیغام بھیجا۔ یہ سن کر ابن زیاد نے کہلا بھیجا کہ کیا ایک شخص کے لیے تین ہزار کی فوج بھی ناکافی ہے؟ تو ابن اشعش نے جواب بھجوایا کہ "یہ کوئی بقال یا جولاہا نہیں بنو ہاشم کا چشم و چراغ ہے"۔ بعد میں ایک گڑھے میں مسلم بن عقیل کو دھوکے سے گرا کر گرفتار کر لیا گیا۔[2]
شہادت:
جب حضرت مسلم کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے انہیں سزا دی کہ کوفہ کے دار الامارۃ کی چھت سے گرا دیا جائے۔ حضرت مسلم بن عقیل نے شہادت سے پہلے چند وصیتیں کیں جس کے بعد ان کو چھت سے گرا کر شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 9 ذوالحجۃ 60ھ کا ہے۔ شہید ہونے کے بعد ان کا سر کاٹ دیا گیا اور اسے یزید کو دمشق بھجوا دیا گیا اور جسم کو کوفہ کے قصابوں کے بازار میں دار پر لٹکا دیا گیا تاکہ کوفہ کے لوگ اب بنو ہاشم کی حمایت نہ کریں۔
بچوں کی شہادت:
ان کی شہادت کے بعد ابن زیاد کے حکم سے ان کے دونوں کم سن بچوں کو جو قاضی شریح کے گھر میں چھپے ہوئے تھے، شہید کر دیا گیا۔ قاضی شریح نے کوشش کی کہ بچوں کو خفیہ طور پر مدینہ پہنچا دیا جائے مگر کامیابی نہ ہو سکی کیونکہ شہر کے تمام دروازے بند کر کے راستوں پر پہرہ بٹھا دیا گیا تھآ۔ ان بچوں کے بھی سر کاٹ لیے گئے تھے۔ ایک کا نام محمد اور دوسرے کا ابراہیم تھا۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-imam-muslim-bin-aqeel
حضرت مسلم ابن عقیل (شہادت: 9 ذوالحجۃ 60ھ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی حضرت عقیل ابن ابو طالب کے بیٹے تھے یعنی امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب سفیر حسین علیہ السلام اور غریبِ کوفہ (کوفہ کے مسافر) تھا۔ واقعۂ کربلا سے کچھ عرصہ پہلے جب کوفہ کے لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو خطوط بھیج کر کوفہ آنے کی دعوت دی تو انہوں نے حضرت مسلم ابن عقیل کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ روانہ کیا۔ وہاں پہنچ کر انہیں صورتحال مناسب لگی اور انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط بھیج دیا کہ کوفہ آنے میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر بعد میں یزید نے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ کا حکمران بنا کر بھیجا جس نے حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے دو کم سن فرزندوں کو شہید کروا دیا۔
ابتدائی واقعات:
جب امام حسین علیہ السلام نے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ جانے کا حکم دیا تو اس وقت وہ مکہ میں تھے۔ وہاں سے وہ مدینہ گئے جہاں انہوں نے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حاضری دی پھر اپنے دو بیٹوں محمد اور ابراہیم جن کی عمریں سات اور آٹھ سال کی تھیں، کو لے کر کوفہ چلے گئے۔ کوفہ میں انہوں نے جناب مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کے گھر پر قیام کیا۔ کوفہ والوں نے ان کی بیعت شروع کی جن کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی۔ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ دیا کہ کوفہ آنے کے لیے حالات سازگار ہیں۔ اس وقت کوفہ کا گورنر نعمان بن بشیر تھا۔ جب یہ خبر یزید تک پہنچی تو اس نے بصرہ کے عبید اللہ ابن زیاد کو پیغام بھیجا کہ وہ جلد کوفہ پہنچ کر نعمان بن بشیر کی جگہ حکمران مقرر ہوں اور مسلم بن عقیل کا سر کاٹ کر یزید کے پاس بھیجیں۔ ابن زیاد نے کوفہ پہنچ کر گورنری سنبھالی تو حضرت مسلم بن عقیل امیر مختار کے گھر سے صحابیِ رسول درودحضرت ہانی بن عروہ کے گھر منتقل ہو گئے۔ ابن زیاد نے فوج کو انہیں پکڑنے کے لیے بھیجا تو حضرت ہانی بن عروہ جن کی عمر اس وقت 90 سال تھی، نے اپنے مہمان کو حوالہ کرنے سے انکار کر دیا۔ حضرت ہانی بن عروہ کو قید کر لیا گیا۔ اس پر بھی انہوں نے انکار کیا تو انہیں باندھ کر پانچ سو کوڑوں کی سزا دی گئی جس کے دوران جب وہ بے ہوش ہو گئے تو ان کا سر تن سے کاٹ کر لٹکا دیا گیا۔
جنگ:
حضرت ہانی بن عروہ کی گرفتاری کے بعد حضرت مسلم بن عقیل باہر آ گئے اور جنگ شروع کی مگر آہستہ آہستہ سب کوفیوں نے ساتھ چھوڑ دیا حتیٰ کہ صرف تیس افراد ان کے ساتھ رہ گئے۔ مغرب کی نماز تک وہ بھی باقی نہ رہے۔ انہیں حضرت محمد ابن کثیر نے اپنے گھر میں پناہ دی۔ محمد ابن کثیر کے حمایتیوں کے ساتھ ابن زیاد کی فوج نے جنگ کی اور انہیں بھی شہید کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت مسلم بن عقیل کوفہ سے باہر جانے کی کوشش کرنے لگے مگر شہر کے سب دروازے بند تھے۔ آپ نے ایک بوڑھی عورت سے پانی مانگا۔ جب انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق خاندانِ رسالت سے ہے تو اس عورت نے انہیں اپنے گھر میں پناہ دی۔ مگر اس عورت کے بیٹے طوعہ نے انعام کے لالچ میں مخبری کر دی۔ ابن زیاد نے تین ہزار فوج بھیجی تو حضرت مسلم بن عقیل گھر سے باہر آ کر لڑنے لگے اور بنو ہاشم کی تلوار بازی کے جوہر دکھائے۔ جب سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے تو ابن زیادکے سالار ابن اشعش نے اور فوج کا پیغام بھیجا۔ یہ سن کر ابن زیاد نے کہلا بھیجا کہ کیا ایک شخص کے لیے تین ہزار کی فوج بھی ناکافی ہے؟ تو ابن اشعش نے جواب بھجوایا کہ "یہ کوئی بقال یا جولاہا نہیں بنو ہاشم کا چشم و چراغ ہے"۔ بعد میں ایک گڑھے میں مسلم بن عقیل کو دھوکے سے گرا کر گرفتار کر لیا گیا۔[2]
شہادت:
جب حضرت مسلم کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے انہیں سزا دی کہ کوفہ کے دار الامارۃ کی چھت سے گرا دیا جائے۔ حضرت مسلم بن عقیل نے شہادت سے پہلے چند وصیتیں کیں جس کے بعد ان کو چھت سے گرا کر شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 9 ذوالحجۃ 60ھ کا ہے۔ شہید ہونے کے بعد ان کا سر کاٹ دیا گیا اور اسے یزید کو دمشق بھجوا دیا گیا اور جسم کو کوفہ کے قصابوں کے بازار میں دار پر لٹکا دیا گیا تاکہ کوفہ کے لوگ اب بنو ہاشم کی حمایت نہ کریں۔
بچوں کی شہادت:
ان کی شہادت کے بعد ابن زیاد کے حکم سے ان کے دونوں کم سن بچوں کو جو قاضی شریح کے گھر میں چھپے ہوئے تھے، شہید کر دیا گیا۔ قاضی شریح نے کوشش کی کہ بچوں کو خفیہ طور پر مدینہ پہنچا دیا جائے مگر کامیابی نہ ہو سکی کیونکہ شہر کے تمام دروازے بند کر کے راستوں پر پہرہ بٹھا دیا گیا تھآ۔ ان بچوں کے بھی سر کاٹ لیے گئے تھے۔ ایک کا نام محمد اور دوسرے کا ابراہیم تھا۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-imam-muslim-bin-aqeel
scholars.pk
Hazrat Syedna Imam Muslim Bin Aqeel
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسلم ابن عقیل (شہادت: 9 ذوالحجۃ 60ھ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی حضرت عقیل ابن ابو طالب کے بیٹے تھے یعنی امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب سفیر حسین علیہ السلام اور غریبِ کوفہ (کوفہ…
امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا جھوٹا قصہ (سلسلہ "کربلا کے کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17064
امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا جھوٹا قصہ (سلسلہ " کربلا کے کچھ جھوٹے واقعات " سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17068
ایک بار پھر امام مسلم بن عقیل کے بچوں پر بحث (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17072
اسے بھی ہضم کیجیے (1) ۔ ایک مزے دار قصہ (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17076
اسے بھی ہضم کیجیے (2) - میدان کربلا میں شادی (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17080
اسے بھی ہضم کیجیے (3) ۔ تاریخ الخلفاء میں موجود ایک روایت (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17084
محافظ اسلام، سفیرِ امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ـ آپ حضرت علی المرتضی کے بھائی حضرت عقیل بن ابو طالب کے بیٹے ہیں۔ 9 ذوالحجہ 60ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔
https://t.me/islaamic_Knowledge/35333
https://t.me/islaamic_Knowledge/17064
امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا جھوٹا قصہ (سلسلہ " کربلا کے کچھ جھوٹے واقعات " سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17068
ایک بار پھر امام مسلم بن عقیل کے بچوں پر بحث (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17072
اسے بھی ہضم کیجیے (1) ۔ ایک مزے دار قصہ (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17076
اسے بھی ہضم کیجیے (2) - میدان کربلا میں شادی (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17080
اسے بھی ہضم کیجیے (3) ۔ تاریخ الخلفاء میں موجود ایک روایت (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17084
محافظ اسلام، سفیرِ امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ـ آپ حضرت علی المرتضی کے بھائی حضرت عقیل بن ابو طالب کے بیٹے ہیں۔ 9 ذوالحجہ 60ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔
https://t.me/islaamic_Knowledge/35333
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-12-1444 ᴴ | 27-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-12-1444 ᴴ | 28-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-12-1444 ᴴ | 28-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-12-1444 ᴴ | 28-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1