🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.82K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت مولانا غلام علی گوپانگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا غلام علی بن حیدر خان گوپانگ (متوفی ۱۸ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ) نے ۹ ذولحجہ ۱۲۸۷ھ کو اپنے گوٹھ (جو کہ بعد میں آپ کے نام سے مشہور ہوا) ضلع بدین میں تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کی سرپرستی میں قائم مدرسہ دارالنور عثمانیہ میں تعلیم و تربیت حاصل کی اسی درسگاہ میں درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہویئے۔ اس مدرسہ کی بنیاد مولانا نور محمد قوم گھرانہ نے ۱۲۷۳ھ کو رکھی تھی۔

بیعت:
شیخ طریقت قاطع نجدیت خواجہ محمد سعید صدیقی قدس سرہ سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں خواجہ محدم حسن جان سرہندی کی خدمت میں رہ کر حل لطائف اور مقامات سلوک کی تکمیل کی۔ (مونس المخلصین)

درس و تدریس:
مفتی غلام علی گوپانگ بعد فراغت درگاہ سرہندیہ ٹندو سائینداد کی درسگاہ میں مدرس مقرر ہوئے وہیں سے درس و تدریس کا آغاز کیا کچھ عرصہ وہیں گزرنے کے بعد اپنے گوٹھ میں مدرسہ قائم کرکے درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی کا سلسلہ تاحیات جاری رکھا۔

اولاد:
مولانا غلام علی گوپانگ کو چار بیٹے تولد ہوئے ان کے اسماء درج ذیل ہیں:

۱۔ مولانا حاجی محمد سعید گوپانگ
۲۔ غلام حسین
۳۔ عبدالرحیم
۴۔ حاجی عبدالرحمن

حاجی عبدالرحمن گوپانگ کے بیٹے مولانا عبداللہ گوپانگ ہیں جو کہ ایک عرصہ سے مدینہ جامع مسجد کے امام و خطیب اور دارالعلوم نور الاسلام مجددیہ چوھڑ جمالی (ضلع ٹھٹھہ) کے صدر مدرس ہیں۔ حاجی صٓحب کے دوسرے بیٹے کا نام مولوی غلام علی ہے جو کہ قطر مسجد بدین کے امام و خطیب ہیں عقیدے کے لحاظ سے وہابی ہیں اور رابطے کے باجود مواد فراہم نہیں کیا۔

وصال:
مولانا غلام علی ۱۳، ربیع آخر ۱۳۶۸ھ/۱۹۴۹ء کو انتقال کیا۔ آخری آرامگاہ گوٹھ مولوی غلام علی گوپانگ تحصیل و ضلع بدین میں واقع ہے۔

(مولانا عبداللہ سے ان کے جد امجد مولانا غلام علی کی سوانح حاصل کرنے چوھڑ جمالی جانے کی زحمت گورا کی لیکن ہائے افسوس انہوں نے فقط ولادت اور وصال اور اولاد کے اسماء لکھوائے۔ بقیہ معلومات محترم سائیں بخش جونیجو کی زیر ترتیب سندھی قلمی کتاب سے حاصل کی ہے)

( انوارِعلماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-ali-gopang
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا قاضی زین العابدین دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
قاضی زین العابدین بن حضرت حافظ غیاث الدین تارک الدنیا بن حضرت قاضی رحیم الدین ، محلہ پہاڑ گنج شہر دہلی میں ۹ ذوالحجہ ۱۳۱۹ھ/۱۹۰۱ء کو تولد ہوئے۔

آپ کے جد بزرگوار قاضی رحیم الدین شاہان مغلیہ کے ادوار سے محکمہ قضاء کے عہدے پر فائز تھے اور آپ کا خاندان ’’شاہی قاضی‘‘ کے نام سے موسوم تھا۔ آپ کے والد قاضی حافظ غیاث الدین بحالت جوانی میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے وصال کے وقت قاضی زین العابدین کی عمر صرف ڈھائی سال تھی۔ آپ کی نگہداشت اور پرورش آپ کی والدہ مکرمہ کے ظل عاطفت میں انجام پذیر ہوئی۔

تعلیم و تربیت:

آپ نے ابتدائی تعلیم اردو و حفظ قرآن کی سعادت بعمر گیارہ سال میں حافظ عبدالقادر سے حاصل کی۔ دارالعلوم فتحپوری دہلی کے ’’شعبہ فارسی‘‘ میں داخلہ لیا۔ جناب منشی مرزا سے آمد نامہ ، کریما، پند نامہ، عطار ، گلستان ، بوستان سعدی و بہار ستان جامی وغیرہ ہم کتب متداولہ کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۱۶ء میں عربی کی ابتدائی تعلیم کیلئے اسی مدرسے کے ’’شعبہ عربی‘‘ میں داخلہ لیا اس کے بعد سات سال تک مسلسل نہایت تندہی اور سعی بلیغ کے ساتھ تحصیل علوم عربیہ میں مصروف و مشغول رہے۔ علم فقہ و تفسیر علامہ مفتی اشفاق الرحمن سے حاسل کیا، علم منطق و فلسفہ علامہ عبدالرحمن (متوطن حیدرآباد دکن) سے اکتساب کیا۔ دیگر علوم و فنون کے علاوہ صحاح ستہ (احادیث شریف) علامہ مولانا احمد علی محدث میرٹھی اور علامہ مولانا سلطان محمود سے پڑھیں۔ ۱۹۲۶ء کو فارغ التحصیل ہو کر دستار فضیلت سے مشرف ہوئے۔

بیعت و خلافت:

قاضی صاحب حسب دستور بوقت صبح بعد نماز فجر درس قرآن پاک فرما رہے تھے ناگاہ، پناہ بے کساں، واقف راہ یزدانی، غواص بحار معانی ، آیۃ من اایات اللہ، معدن حلم وحیا، حضرت الحاج مولانا خواجہ عبدالسلام نقشبندی قدس سرہ (متوفی ۱۹۳۹ء مدفون بہادر گنج سلطان پور، ضلع مراد آباد، صوبہ یوپی انڈیا) اثنائے وعظ میں تشریف لائے، پہلی ہی نگاہ میں متاث اور بے قرار ہوگئے۔ بالآخر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہو کر صحبت عالیہ سے اکتساب فیض فرمانے کے بعد کمالات فنا و بقا کی دولت لایزال سے مزین ہو کر خلافت سے ممتاز و متمیز ہوئے۔ بعد حصول خلافت سلسلہ رشد و ہدایت کا آغاز ہوا۔ بہت سے طالبان صادق آپ کے مرید ہوگئے۔ آپ کا معمول تھا کہ بعد نماز عشاء حلقہ میں بیٹھتے اور طالبان صادق کے قلوب کو اپنی توجہ باطنی اور نسبت روحانی سے فیض پہنچا کر توجہ الی اللہ کی دولت سے مشرف فرماتے ۔ چانکہ آپ نہایت قوی نسبت رکھتے تھے جس کے باعث بہت جلد مریدین پر ا سکا اثر ظاہر ہوجاتا تھا اور قلیل عرصے میں لوگ اجزائے ذکر و محویت سے سر شار ہو کر اپنی یافت و ذوق کا اظہار فرمانے لگتے تھے۔ آپ صاحب کشف و کرامات تھے پیر کامل وہ ہے جو خود مشاہدہ کرے اور دوسروں (مریدوں) کو بھی مشاہدی کرادے۔

درس و تدریس:

بعد تحصیل علوم دینیہ ۱۹۲۶ء تا دم تقسیم ہند و پاک ۱۹۴۷ء تک ۲۱ سالہ دور زندگی آپ کا شہر دہلی میں گزرا۔ ۱۹۴۷ء تا وقت رحلت ۱۹۷۴ء تک ۲۷ سالہ زندگی ملک خداداد پاکستان شہر کراچی میں گزرا۔ اس طرح آپ نے ۴۸ سالہ زندگی درس و تدریس تبلیغ دین اسلام اور محافل ذکر و اذکار میں بسر فرمائی۔

فارغ التحصیل ہونے کے بعد دہلی کے محلہ پہاڑ گنج میں مسجد قاضیان میں بوقت صبح بعد نماز فجر قرآن پاک اور حدیث شریف کا درس سلسلہ وار روزانہ بلا ناغہ شروع کر رکھا۔ اس کے ساتھ ’’مدرسہ مصباح العلوم‘‘ کی تشکیل دی۔ اس طرح درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

امامت و خطابت:

قئام پاکستان کے بعد شہر کراچی تشریف لائے اور محلہ رنچھوڑ لائن پنکھا لائن میں مستقلاً رہائش اختیار کرلی اور تا دم حیات یہیں مقیم رہے اور یہیں جامع مسجد صدیقی میںامامت و خطابت اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ بعد نماز فجر جامع مسجد صدیقی میں درس فرامتے اور بعد نما زعشاء مریدین طالبان حق کی سہولت کیلئے جامع مسجد صابری (رنچھوڑ لائن) میں حلقہ قائم فرماکر سلوک کی تعلیم دیتے تھے۔ جامع مسجد آرام باغ کے منتظمین کے اصرار کے پیش نظر بعد نماز عشاء عرصہ دراز تک درس دیا، ہزار ہا انسانوں کو ہدایت و معلومات دینی حاصل ہوئی۔

عادات و خصائل:

آپ کی خوش خلقی و ہر دلعزیزی کے باعث اطراف و جوانب سے طالبان علوم دینیہ نے لبیک کہا اور خوب استفادہ کیا۔ شب بیدار خلوص و للہیت کے پیر، اخلاق کے مجسمہ تھے ۔ دین کی خدمت کا جذبہ وافر ملا ہوا تھا۔ طالبان شریعت و طریقت دونوں کی اصلاح و تربیت پر توجہ خاص دی۔ علاوہ ازیں اکثر و بیشتر اوقات محافل وعظ و بیان میںشرکت فرما کر مردان حق کی تسلی و تشفی فرماتے۔ بوقت شب تین بجے سے بیدار ہو کر بعد نماز تہجد درگاہ رب العزت میں دست دعا دراز فرما کر مشغول مناجات ہونا ان کے معمول میں تھا۔ جہاں تک معاملات کا تعلق ہے تو آپ امانت دیانت حق گوئی میںاپنی نظیر آپ تھے۔ رحم دل، شیریں زبان آپ کا طرہ امتیاز
1
تھا۔ فراخدلی اور فیاضی کا ایسا عالم تھا کہ کوئی سائل آپ کے پاس سے خالی ہاتھ واپس نہ جاتا تھا۔ آنکھوں کی نمی، دل کی نرمی آپ کے حلاوت ایمانی کی متاتر عکاسی اور نشاندہی کرتی رہی اور اسی جذبے کے سات بسا اوقات کود بھی چشم پر نم ہو کر تقریر کرتے اور سامعین کو بھ اپنی حلاوت ایمانی کے پر تو سے لطف اندوز و بہرہ ور فرماتے۔

مسجد قاضیاں دہلی کی دوبارہ از سر نو تعمیر بھی آپ کا عظیم کارنامہ ہے اور جامع مسجد صدیقی کراچی کی توسیع و ترقی بھی آپ کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔

اپنی زندگی میں قیام دہلی و قیام کراچی رمضان المبارک میں نماز تراویح میں ۵۲ محرابیں سنانے کا عظیم اعزاز بفضلہ تعالیٰ حاصل کیا۔

تلامذہ:

آپ کے نامور تلامذہ کے اسماء درج ذیل ہیں:

٭ حضرت مولان اعلامہ محمد اسحاق خطیب جامع مسجد اسٹیڈ ہال روڈ حیدرآباد سندھ

٭ صاحبزادہ مولانا حافظ شمس العارفین ابن قاضی صاحب

٭ مولانا حافظ محمد اسماعیل ٭ مولانا حافظ قاری سراج احمد

٭ مولانا حافظ حکیم سید مظہر حسن

تصنیف و تالیف:

مولانا محمد طفیل اسلامی رقمطراز ہیں: آپ کی تصنیفات میں کتاب

(۱) ’’حقیقت ایمان‘‘ جو کہ عقائد کے لحاظ سے ایک جامع کتاب آپ کے تبحر علمی کی ایک منہ بولتی تصویر ہے

(۲) سفرنامہ عراق و شام وغیرہ

سفر حرمین شریفین:

آپ نے پہلا حج بیت اللہ شریف ۱۹۳۸ء میں شہر دہلی سے ادا فرمایا ۔ اس کے بعد تین حج اور ایک عمرہ بحالت قیام شہر کراچی سے ادا فرمائے۔

آپ نے رجب المرجب ۱۳۷۳ھ/مارچ ۱۹۵۴ء کو عراق و شام کے مزارات مقدسہ کی زیارت کی نیت سے کراچی سے سفر کیا اور اس سفر نامہ کو خود ہی تحریر فرمایا ، اقتباسات پیش خدمت ہیں ، رقمطراز ہیں:

’’آج میری آنکھ ۳ بجے کھی، بعد از فراغت ضروریات تہجد پڑھ کر قرآن شریف نہ پڑھ سکا، چونکہ روشنی کافی نہ تھی۔ یہاں پہنچ کر باجود یہ کہ راستے کی تکان اور مسافرین کا تکدر تھا، مگر باطنی طور پر حال انتہائی صاف ہوگیا اور فنائیت کا غلبہ ہونا شروع ہوگیا، یہ صرف اور صرف یہاں کے مزارات کا فیض ہے جو ہماری اس جگہ سے قریب تر ہیں۔ بصرہ بڑا عمدہ شہر ہے۔ دوسرے روز ہم ایک موٹر کرایہ پر لے کر مزارات کی طر ف چل پڑے تقریباً ۷ سات میل کے فاصلے پر جناب طلحہ رضی اللہ عنہٗ کا مزار مقدس جو بالکل جنگل می ہے۔ آپ کی شکل مبارک سانولی ہے ۔ قد لمبا، سفید چگی داڑھی شریف ہے۔ بہت ہی نحیف اور دبلے ہیں۔ بہت موٹا عربی کرتہ زیب تن ہے، سر پر عمامہ اور اس پر رومال ہے ۔ اپنی نیکیوں کا بدلہ پارہے ہیں۔ مزار مقدس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت موسلا دھار بارش کی طرح برس رہی ہے حال کی زیادتی بیان سے باہر ہے، بیس منٹ تک صحبت قائم رہی۔ اس کے بعد ہم آگے چلے یہاں سے تھوڑی دور کے فاصلے پر ایک قصبہ ہے، اس کا نام زبیر ہے۔ یہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا مزار مقدس ہے۔ آپ کا رنگ سفید اور رخسار نہایت خوبصورت ہیں، داڑھی مبارک میں بال شریف بہت کم ہیں، قد اوسط ہے۔ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بڑا کرم ہو رہاہے روحانیت کے اسقدر مالک ہیں کہ قلم تحریر سے عاجز اور تکلم کی حد سے باہر ہے۔ صرف ۱۲ منٹ کی صحبت میں مالا مال کردیا اب ہم آگے چلے تھوڑی دور پر اسی قصبے میں ایک قبرستان ہے جہاں ایک گنبد میں حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ آرام فرما رہے ہیں ۔ آپ کا رنگ سیاہ ہے عشق و محبت کے دریا میں غرق ہیں ۔ زوار کی طرف توجہ کی بھی فرصت نہیں۔ آپ کی توجہ میں اتغراق ہے۔ بعد فاتحہ دریافت کیا کہ یہ برابر میں کس کا مزار ہے فرمایا: ھذا قبر محمد بن سیرین۔ یہ قبر امام محمد بن سیرین تابعی رضی اللہ عنہ کی ہے۔ …بصرہ سے بغداد شریف … جم ہم مزار شریف میں داخل ہوئے تو ایک وسیع کمرہ پہلے آیا پھر دوسرا کمرا اایا جس می بڑی شان والا بڑی آن والا حضرت غوث پاک جیلانی کا مزار مقدس ہے آپ کا رنگ سفید ، چہرہ نہایت چوڑا چکلا رعب دار ہے، مستغر فی اللہ ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی توجہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، آپ کا فیض اس قدر عظیم ہے کہ مجھے خطرہ ہوگیا کہ میں از خود رفتہ نہ ہوجائوں، یہ بھی آپ کا کرم ہے کہ ہوش بھی باقی ہیں اور انتہائی فنائیت بھی ہے ۔ یہاں سے فارغ ہو کر …کچھ دیر کے بعد کار سے امامنا امام اعظم صاحب فقہ احناف کے مزار مقدس پر پہچادیا یہ کس قدر کیف اور سرور بخش مزار ہے کہ بیان کرتے کرتے اور لکھتے لکھتے قیامت آجائے، خوبی ختم نہ ہو، چہرہ مبارک گورا ہے، بہت بوڑھے ہیں، داڑھی مبارک اور سر مبارک کے بال سفید ہیں۔ ہماری قیام گاہ کے قریب ایک بڑا قبرستان ہے اس میں حجۃ الاسلام حضرت امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ کا مزار مقدس ہے ۔ دروازے پر کتبہ لگا ہوا ہے ’’ھذا مقبرۃ الغزالی‘‘ جب اندر داخل ہوئے تو ایسا معلوم ہوا کہ کوئی زائر مہینوں سے یہاں نہیں اایا ۔ آپ کا فیضان بڑا مکمل ہے۔ جناب کے لمبے بال دونوں شانوں پر پڑے ہں۔ رنگ گورا ، ٹوپی چونچدار، بالکل جوان معلوم ہوتے ہیں۔ شر
1
دمشق مسجد اموی کے سامنے حمیدیہ بازار کے اند رایک چھوٹی سی مسجد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ آرام فرما رہے ہیں۔ سانولہ رنگ، کالی داڑھی شریف ، منہ مبارک پر خفیف چیچک کے داغ ہیں۔ بعد فاتحہ جب بازر میں آیا تو اس قدر فیضان ہوا کہ حیران رہ گیا۔

(سفر نامہ عراق و شام)

وصال:

حضرت قاضی زین العابدین دہلوی نے ۹ ذوالحجہ ۱۳۹۴ھ بمطابق ۱۹۷۴ء بعمر ۷۴ سال بوقت ۱۰ بجے شب داعی اجل کو لبی کہا اور اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کا مزار مقدس قبرستان میوہ شاہ (لیاری) کراچی میں لب سڑک مرجع خلائق ہے۔

[ماخوذ: سوانح حیات قاضی زین العابدین مؤلف مولا نا طفیل احمد سلامی (رنچھوڑلائن) مطبوعہ کراچی ۱۹۹۰ء اس سوانح کی نقل فوٹو اسٹیٹ الحاج صوفی محمد مقصود حسین قادری نوشاہی اویسی کی وساطت سے مہیا ہوئی۔]


(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-zain-ul-abideen-dehlvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
عبدالغفور ہزاروی ، شیخ القرآن ابو الحقائق ، علامہ مولانا محمد، رحمۃ اللہ تعالی علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
عبدالغفور ۔ کنیت: ابوالحقائق ۔ لقب: شیخ القرآن ۔

سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی بن مولانا عبد الحمید بن مولانا محمد عالم بن فقیر غلام محمدعلیہم الرحمہ۔آپ کا سلسلسۂ نسب والد کی طرف سے حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتاہے۔

آپ کانام اخوند عبدالغفور المعروف بابا سیدو شریف علیہ الرحمہ کے نام کی نسبت سے عبد الغفور تجویز کیا گیا ۔

تاریخِ ولادت:
9 ذوالحج،1329ھ، یکم دسمبر1911ء جمعۃ المبارک، حج اکبر کے دن، بوقتِ صبح، موضع چنبہ پنڈ، نزد کوٹ نجیب اللہ ضلع ایبٹ آباد ہزارہ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ناظرہ قرآن ِ پاک اور کافیہ تک کتب والد ماجد سے پڑھیں ،بقیہ تمام علوم و فنون استاذ الاساتذہ مولانا احمد دین ،استاذ العلماء مولانا محب النبی ،بحر العلوم مولانا یار محمد بند یالوی ، استاذ شہیر مولانا قطب الدین غور غشتوی،مولانا میاں عبد الحق غور غشتوی،اور علامہ مشتاق احمد کانپوری علیہم الرحمہ سے حاصل کیے ۔مہرِ عالم پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ سے حمد اللہ اور ملا حسن کا درس لیا ۔دورۂ حدیث کے لئے حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دار العلوم منظر اسلام سے سند ِفراغت حاصل کی۔

بیعت وخلافت:
آپ شیخ الاسلام حضرت پیرسید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے تھے۔

سیرت وخصائص:
شیخ القرآن ابوالحقائق حضرت علامہ مولانا عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ بیک وقت مدرس، محقق، مقرر، مفسر، محدث ،عظیم مناظر، شیخِ طریقت ورہبر ِشریعت،شاعر اور مدبر سیاستدان تھے۔ساری زندگی خلوص کے ساتھ درسِ نظامی کی تمام کتابوں کی تدریس کرتے رہے۔دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات میں"دورۂ قرآن ِحکیم"شروع کیا جس میں پورے پاکستان سے ہزاروں طلبہ آپ سے کسبِ فیض کیاکرتے تھے۔آپ نے قرآن ِ مجید فرقانِ حمید کی تعلیمات کو پورے پاکستان میں عام کیا۔اسی سے آپ "شیخ القرآن" کے لقب سے زمانہ میں مشہور ہوئے۔عبادت وریاضت، وعظ و نصیحت ، زہد وتقویٰ قائم الیل اور صائم النہار ،اور اخلاقِ حسنہ کی دولت سے متصف تھے۔

تحریک پاکستان کے حوالے سے جو نابغۂ روز شخصیات فرنگیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں ان میں حضرت شیخ القرآن کا نام سر فہرست نظر آتاہے ۔اسی جرم میں ضلع گوجرانوالہ میں داخلِ زنداں بھی ہوئے۔اور اس سلسلہ میں ضلع گوجرانوالہ میں آپ کو شرفِ اولیت حاصل ہے۔آپ کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے سوشلزم کو کفر قرار دیتے ہوئے فتویٰ پر دستخط کئے تھے۔غیر اسلامی قوانین کی بھرپور مخالفت کی علماء سو اور عقائد مسلمین کی اصلاح فرمائی ،اور بدعقیدہ مولویوں کو مناظروں میں زبر دست شکست دی۔

جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر کی حیثیت سے اہل سنت کو سیاسی میدان میں عروج بخشا۔تحریکِ پاکستان میں آپ کا کردار آبِ زر سے تحریر کرنے کے قابل ہے۔1940کو منٹو پارک(اقبال پارک)لاہور میں" قرار داد ِپاکستان"منظور ہوئی تواس میں شیخ القرآن نے شرکت فرمائی اور خطاب بھی کیا۔1941میں وزیرآباد میں "پاکستان کانفرنس" منعقد کروائی اور یہ کانفرنس پنجاب میں پہلی کانفرنس تھی جس میں نظریہ پاکستان کی وضاحت کی گئی ،اور اس کانفرنس میں بانیِ پاکستان مہمانِ خصوصی تھے۔

تحریک پاکستان کے سلسلے میں ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں جلسہ ہورہا تھا جس میں بابائے صحافت مولانا ظفرعلی خان اور حضرت شیخ القرآن وزیر آباد سے خصوصی طور پر شریک ہوئے ،اسی علاقہ میں احراریوں کا معرکۃ الاراء جلسہ بھی ہورہا تھا احراری مقررین اپنی لچھے دار تقاریر سے عوام کو نظریہ پاکستان سے دور کرنے میں مصروف تھے، کہ اہل سنت کے اسٹیج پر حضرت شیخ القرآن فوراً مائیک پر آئے اور ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ لوگ احراریوں کے پنڈال سے آپ کی طرف آنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے احراریوں کا پنڈال خالی ہوگیااور مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری تنہا رہ گیا۔یہ منظر دیکھ کر بطلِ حریت مولانا ظفر علی خاں وفورِ جذبات سےبے قابو ہوگئے اور فی البدیہ ایک نظم پڑھی جس کا ایک مشہور شعریہ ہے۔

؎میں آج سے مرید ہوں عبدالغفور کا،چشمہ اُبل رہا ہے محمدﷺ کے نورکا

بند اس کے سامنے ہے بخاری کا ناطقہ،کیا ان سے ہومقابلہ اس بے شعور کا

وصال:
7 شعبان المعظم 1390ھ بمطابق 9اکتوبر 1970بروز جمعۃ المبارک،60 سال،7 ماہ 28دن کی عمر میں شہادت کے مرتبہ پر فائزہوئے آپ وزیر آباد میں مدفون ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-ghafoor-hazarvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا قاری محمد طفیل نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

قاری محمد طفیل نقشبندی بن حاجی عبدالرحمن ۱۹۰۵ء کو امر تسر (پنجاب ، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد حاجی عبدالرحمن نقشبندی مجددی جماعتی ، امیر ملت حضرت مولانا پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ (علی پور شریف ضلع نارووال ، پنجاب) کے مرید اور خلیفہ تھے۔ حیدرآباد (سندھ) میں ان کا وصال ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔ جدامجد حاجی اللہ رکھا جنت المعلیٰ قبرستان مکہ مکرمہ میں مدفون ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
قاری صاحب نے دس سال کی عمر میں ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم قاری کریم بخش شاگرد قاری عبدالخالق سہارنپوری ، قاری خدا بخش اور قاری ظفر علی سے حاصل کی۔ روایت حفص قاری عبدالرزاق لکھنوی سے حاصل کی ۔ جنگ جرمن (۱۹۳۹ء سے لے کر ۱۹۴۱ء تک) کے عرصے میں قاری صاحب حرمین شریفین میں رہے اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے مدرس شیخ حسن بن ابراہیم الشاعر سے روایت حفص کی تکمیل کی ۔ آپ اپنے شاگردوں کو روایت امام حفص کی جو سند دیتے تھے وہ انہی کے واسطہ سے حضور نبی اکرم ﷺ تک پہنچتی ہے۔ اس سند کا خلاصہ یہ ہے:

’’مجھے مدینہ منورہ کے شیخ القراء حسن بن ابراہیم الشاعر نے قرآن پاک پڑھایا۔ انہوں نے شیخ حسن محمد بیومی سے انہوں نے شیخ محمد سابق سکندری سے ، انہوں نے شیخ خلیل مطوبسی سے، انہوں نے شیخ علی ابیاری سے پڑھا اور ان کی سند نبی اکرم ﷺ تک پہنچتی ہے۔ آپ نے جبرائیل علیہ السلام اور انہوں نے لوح محفوظ سے اور اللہ رب العزت سے حاصل کیا‘‘۔

آپ ۱۹۴۱ء سے ۱۹۴۶ء تک جامع مسجد وزیر خان لاہور میں نائب خطیب اور مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اس عرصے میں غازی کشمیر ، مفسر قرآن علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری اور علامہ مفتی ابو البرکات سید احمد قادری سے دینی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔

قاری صاحب نے اردو خطاطی منشی فیض احمد امر تسری سے اور عربی خطاطی مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے قاری امین الدین سے سیکھی ۔ فیروز سنز کے کاتب منشی عبدالرشید عادل گڑھی کے پاس بھی خط نسخ کی مشق کی ۔ حدیث شریف غزالی زماں شیخ الحدیث علامہ سید احمد سعید کاظمی ملتانی سے پڑھی ۔ قاری صاحب نے قراٗت سبعہ مدرسہ فخر یہ عثمانیہ مکہ مکرمہ میں قاری محمد اسحاق سے پڑھیں ۔ قاری مجیب الرحمن سے بھی استفادہ کیا۔ ( بقول قاری محمد سلیمان اعوان ) ، قاری صاحب نے قراٗت عشرہ کی تکمیل شیخ حسن بن ابراہیم الشاعر سے کی۔

درس و تبلیغ قرآن :

قاری صاحب نے ابتدا امر تسر میں تجوید و قراٗ ت کی تعلیم کیلئے ’’مدرسہ قرآنیہ رحمانیہ ‘‘ قائم کیا۔ ۱۹۴۱ء سے ۱۹۴۶ء تک جامع مسجد وزیر خاں لاہور میں رہے۔ ۱۹۴۰ئ؍۱۹۴۱ء میں حرم مکہ شریف میں امام کعبہ ابو سمع مصری اور عبدالرحمن اظھر رئیس المعلمین تراویح پڑھاتے اور مذہب شافعی کے مطابق ایک رکعت و تر پڑھتے تھے ، جب کہ قاری محمد طفیل حنفی مذہب کے مطابق تین رکعت و تر پڑھاتے تھے، نیز ایک قرآن پاک ستائیس راتوں میں سناتے اور ایک تین راتوں میں ، حاضرین کا جم غفیر جماعت میں شریک ہوتا۔ ہر روز پیدل چل کر عمرہ کرتے اور ہر روز عصر اور مغرب کے درمیان ایک گھنٹہ حرم مکہ میں تلاوت کرتے اور مدینہ منورہ حاضری دیتے تو مسجد نبوی شریف میں روزانہ ایک گھنٹہ تلاوت کرتے ۔

آریہ اپنے جلسے کا آغاز ہار مونین اور طبلہ پر آرتی اتار کر کرتے ۔ مسلمانوں کے جلسے میں قاری صاحب تلاوت کرتے ۔ قرآن کریم کی برکت اور قاری صاحب کی سحر انگیز آواز کا یہ اثر ہوتا کہ بہت سے آریہ مسلمان ہو جاتے ۔ انہیں پاک و ہند کے مختلف شہروں مثلا دہلی ، کلکتہ ، مدارس ، بمبئی ، امر تسر ،حیدر آباد دکن ، بنگلور ، میسور ، لاہور ، ملتان ، حیدرآباد اور کراچی میں تراویح پڑھانے اور بڑی بڑی محفلوں میں تلاوت کرنے کا موقع ملا ۔ ڈپٹی عزیز الدین کے صاحبزادے شیخ عبدالمجید وکیل کی دعوت پر قاری صاحب امر تسر سے لاہور تشریف لائے اور لاہور ریڈیو کے افتتاح کے موقعہ پر تلاوت کی۔ ۱۹۴۶ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں مسلم لیگ کا آخری جلسہ امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں بھی قاری صاحب نے تلاوت کی سعادت حاصل کی ۔ قیام پاکستان کے موقع پر قاری صاحب تراویح پڑھانے کیلئے بنگلور گئے ہوئے تھے۔ وہاں سے آپ حیدرآباد سندھ تشریف لے گئے ، جہاں مدرسہ قرآنیہ رحمانیہ کے نام سے تعلیم القرآن کا کام شروع کر دیا۔

۱۹۵۰ء کو آپ جامع مسجد مائی خیری ، فقیر کا پڑحیدرآباد کے متولی مقرر ہوئے تو مدرسہ اس مسجد میں منتقل کر دیا۔ ۱۹۵۴ء کو آپ ملتان چلے گئے اور کپڑے کے کاروبار کے ساتھ جامع مسجد پتراں والی میں تدریس شروع کر دی۔

۱۹۵۸ء کو آپ پھر حیدرآباد تشریف لے گئے ۔ مسجد مائی خیری میں قائم مدرسہ کام کرتا رہا اور آپ ہی اس کے مہتمم تھے۔ ۱۹۶۰ء کو ’’محکمہ اوقاف ‘‘ قائم ہوا جس نے مسجد و مدرسہ اپنی تحویل میں لے لیا۔ آپ کو اسٹیشن روڈ حیدرآ
1
باد میں ایک وقف بلڈنگ مل گئی ۔

۵، مارچ ۱۹۶۲ء کو اس میں مدرسہ قرآنیہ رحمانیہ کا آغاز کر دیا۔ اس کے ساتھ جامعہ مجددیہ رکن الاسلام ہیر آباد حیدرآباد میں بھی پچیس تیس سال کا عرصہ پڑھاتے رہے۔ ۱۹۸۴ء کو جناح مسجد برنس روڈ کراچی میں تشریف لے گئے اور تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وصال سے دو ماہ پہلے الانہ مسجد رامسوامی رنچھوڑلائن میں تدریس شروع کی اور اسی جگہ داعی اجل کو لبیک کہا۔

بیعت:

بچپن میں ہی حضرت امیر ملت کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔

سفر حرمین شریفین :

۱۹۴۶ء کو حضرت امیر ملت مولانا پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری ایک سومریدین کے ہمراہ حج و زیارت کیلئے تشریف لے گئے تو قاری صاحب کو بھی مرشد گرامی کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔

تجارت:

اگر چہ کپڑے کی تجارت بھی کرتے رہے چار پانچ سال آرھت بھی کی تاہم ان کی توجہ تحصیل علم کی طرف بھی باقاعدہ رہی اور فراغت کے بعد قرآن حکیم کی تدریس اور تلاوت میں مصروف رہے اور سینکڑوں حافظ اور قاری تیار کر کے دنیا سے رخصت ہوئے۔

شادی و اولاد :

ایک شادی کی جس سے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تولد ہوئیں ۔

تلامذہ :

آپ کے بے شما ر تلامذہ میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :

٭ قاری عبدالرحمن بلوچستانی ۔ انوار العلوم ملتان میں پندرہ برس پڑھاتے رہے۔

٭ قاری علی احمد روہتکی مدرس جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد

٭ قاری خیر محمد چشتی مدرس مدینۃ الاسلام ہالینڈ

٭ قاری محمد دین جامعہ تحفیظ القرآن مکہ مکرمہ

٭ قاری محمود الحسن مالدیپ

٭ قاری محمد اسحاق کویت

٭ قاری محمد رفیق اشرفی افریقہ

٭ قاری بشیر احمد ملتانی پانچ سال تک مدینہ منورہ میں پڑھاتے رہے

٭ زینت القراء قاری محمد بخش سندھی ( لاڑکانہ ) فاضل جامعۃ الازہر قاہرہ ، مصر

٭ قاری محمد افضل چترال

٭ حافظ محمد یوسف سد یدی امام الخطاطین ، لاہور

٭ قاری محمد سلیمان اعوان مدرس رکن الاسلام حیدرآباد سندھ

وصال :

قاری محمد طفیل ۹، ذوالحجہ ۱۴۰۹ھ بمطابق ۱۹۸۹ء بروز جمعرات کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے رب کریم کی دربار مقدس میں حاضر ہو گئے۔ اگلے روز جمعہ بھی تھا اور عید الاضحی بھی ، جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ غالبا مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کی امامت میں ادا کی گئی اور انہیں حسن اسکوائر ( گلشن اقبال ) کراچی کے قبرستان میں دفن کیا گیا ۔ (ماخوذ: عظمتوں کے پاسبان )

(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qari-muhammad-tufail-naqshbandi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی علیہ الرحمہ

پلکھنہ ضلع علی گڈھ کےساکن، مولوی محمد اسد اللہ کے بیٹے، محمد لطف اللہ نام، ۱۲۴۴؁ھ میں ولادت ہوئی، والد نے ‘‘چراغم’’ مادۂ تاریخ کہا، حضرت شاہ جمال علی گڈھی سےنسلی مولانا عنایت وابستہ ہے، ابتدائی درسیات مقامی معلموں سےپڑھیں، کان پور مدرسۂ فیض عام میں مولانا عنایت احمد سےتکمیل علوم کی ۱۲۷۸؁ھ میں اُستاذ نےاُن کو مدرسہ کا مدرس دوم مقرر کیا، خود حجکی نیت سےجاتے ہوئے جدہ کے قریب غریق بحر رحمت ہوئے، مفتی صاحب نے سات برس تک مدرسہ فیض عام میں درس دیا، اسی سنہ میں مدرسہ جامعہ مسجد علی گڈھ میں بحیثیت مدرس اول تقرر ہوا، فارغین کی پہلی جماعت میں حضرت اُستاذ زمن مولانا شاہ احمد حسن کانپوری جیسے اکابر عالم تھے، غیر مقلد مولوی اسماعیل علی گڑھی سےتحریری مناظرہ رہا۔

۱۳۱۲؁ھ میں دائی ریاست حیدر آباد کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے، اور صدر المدرسین کےعہدہ پر تقرر ہوا، ۲۸؍فروری ۱۸۵۹؁ء میں مفتئ عدالت ہوئے، ایک ہزار روپیہ مشاہرہ مقرر ہوا ۱۹۰۱؁ء میں حیدر آباد سےواپس آئے، ۱۹۰۶؁ء میں آنکھ کا آپریشن کرایا، معالج کی ہدایت تھی کہ منھ پر پانی نہ پڑے، مگر وضو کے لیےبار بار پانی کے استعما کے سبب سے آنکھ جاتی رہی، نویں ذالحجہ ۱۳۳۴؁ھ ۱۹۱۶؁ء کو چار بجے دن میں فوت ہوئے، نواب حبیب الرحمٰن خاں شروانی شاگرد نے جو آزاد خیال تھےیہ قطعۂ تاریخ کہا ؎

چوں مولانا لطف اللہ

بودہ استاذ العلماء
حسرت سالِ وفات شاں

‘‘استاذ العلماء’’ گفتا
(استاذ العلماء)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-lutfullah-aligarhi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت مسلم ابن عقیل (شہادت: 9 ذوالحجۃ 60ھ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی حضرت عقیل ابن ابو طالب کے بیٹے تھے یعنی امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب سفیر حسین علیہ السلام اور غریبِ کوفہ (کوفہ کے مسافر) تھا۔ واقعۂ کربلا سے کچھ عرصہ پہلے جب کوفہ کے لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو خطوط بھیج کر کوفہ آنے کی دعوت دی تو انہوں نے حضرت مسلم ابن عقیل کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ روانہ کیا۔ وہاں پہنچ کر انہیں صورتحال مناسب لگی اور انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط بھیج دیا کہ کوفہ آنے میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر بعد میں یزید نے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ کا حکمران بنا کر بھیجا جس نے حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے دو کم سن فرزندوں کو شہید کروا دیا۔

ابتدائی واقعات:
جب امام حسین علیہ السلام نے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ جانے کا حکم دیا تو اس وقت وہ مکہ میں تھے۔ وہاں سے وہ مدینہ گئے جہاں انہوں نے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حاضری دی پھر اپنے دو بیٹوں محمد اور ابراہیم جن کی عمریں سات اور آٹھ سال کی تھیں، کو لے کر کوفہ چلے گئے۔ کوفہ میں انہوں نے جناب مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کے گھر پر قیام کیا۔ کوفہ والوں نے ان کی بیعت شروع کی جن کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی۔ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ دیا کہ کوفہ آنے کے لیے حالات سازگار ہیں۔ اس وقت کوفہ کا گورنر نعمان بن بشیر تھا۔ جب یہ خبر یزید تک پہنچی تو اس نے بصرہ کے عبید اللہ ابن زیاد کو پیغام بھیجا کہ وہ جلد کوفہ پہنچ کر نعمان بن بشیر کی جگہ حکمران مقرر ہوں اور مسلم بن عقیل کا سر کاٹ کر یزید کے پاس بھیجیں۔ ابن زیاد نے کوفہ پہنچ کر گورنری سنبھالی تو حضرت مسلم بن عقیل امیر مختار کے گھر سے صحابیِ رسول درودحضرت ہانی بن عروہ کے گھر منتقل ہو گئے۔ ابن زیاد نے فوج کو انہیں پکڑنے کے لیے بھیجا تو حضرت ہانی بن عروہ جن کی عمر اس وقت 90 سال تھی، نے اپنے مہمان کو حوالہ کرنے سے انکار کر دیا۔ حضرت ہانی بن عروہ کو قید کر لیا گیا۔ اس پر بھی انہوں نے انکار کیا تو انہیں باندھ کر پانچ سو کوڑوں کی سزا دی گئی جس کے دوران جب وہ بے ہوش ہو گئے تو ان کا سر تن سے کاٹ کر لٹکا دیا گیا۔

جنگ:
حضرت ہانی بن عروہ کی گرفتاری کے بعد حضرت مسلم بن عقیل باہر آ گئے اور جنگ شروع کی مگر آہستہ آہستہ سب کوفیوں نے ساتھ چھوڑ دیا حتیٰ کہ صرف تیس افراد ان کے ساتھ رہ گئے۔ مغرب کی نماز تک وہ بھی باقی نہ رہے۔ انہیں حضرت محمد ابن کثیر نے اپنے گھر میں پناہ دی۔ محمد ابن کثیر کے حمایتیوں کے ساتھ ابن زیاد کی فوج نے جنگ کی اور انہیں بھی شہید کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت مسلم بن عقیل کوفہ سے باہر جانے کی کوشش کرنے لگے مگر شہر کے سب دروازے بند تھے۔ آپ نے ایک بوڑھی عورت سے پانی مانگا۔ جب انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق خاندانِ رسالت سے ہے تو اس عورت نے انہیں اپنے گھر میں پناہ دی۔ مگر اس عورت کے بیٹے طوعہ نے انعام کے لالچ میں مخبری کر دی۔ ابن زیاد نے تین ہزار فوج بھیجی تو حضرت مسلم بن عقیل گھر سے باہر آ کر لڑنے لگے اور بنو ہاشم کی تلوار بازی کے جوہر دکھائے۔ جب سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے تو ابن زیادکے سالار ابن اشعش نے اور فوج کا پیغام بھیجا۔ یہ سن کر ابن زیاد نے کہلا بھیجا کہ کیا ایک شخص کے لیے تین ہزار کی فوج بھی ناکافی ہے؟ تو ابن اشعش نے جواب بھجوایا کہ "یہ کوئی بقال یا جولاہا نہیں بنو ہاشم کا چشم و چراغ ہے"۔ بعد میں ایک گڑھے میں مسلم بن عقیل کو دھوکے سے گرا کر گرفتار کر لیا گیا۔[2]

شہادت:
جب حضرت مسلم کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے انہیں سزا دی کہ کوفہ کے دار الامارۃ کی چھت سے گرا دیا جائے۔ حضرت مسلم بن عقیل نے شہادت سے پہلے چند وصیتیں کیں جس کے بعد ان کو چھت سے گرا کر شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 9 ذوالحجۃ 60ھ کا ہے۔ شہید ہونے کے بعد ان کا سر کاٹ دیا گیا اور اسے یزید کو دمشق بھجوا دیا گیا اور جسم کو کوفہ کے قصابوں کے بازار میں دار پر لٹکا دیا گیا تاکہ کوفہ کے لوگ اب بنو ہاشم کی حمایت نہ کریں۔

بچوں کی شہادت:
ان کی شہادت کے بعد ابن زیاد کے حکم سے ان کے دونوں کم سن بچوں کو جو قاضی شریح کے گھر میں چھپے ہوئے تھے، شہید کر دیا گیا۔ قاضی شریح نے کوشش کی کہ بچوں کو خفیہ طور پر مدینہ پہنچا دیا جائے مگر کامیابی نہ ہو سکی کیونکہ شہر کے تمام دروازے بند کر کے راستوں پر پہرہ بٹھا دیا گیا تھآ۔ ان بچوں کے بھی سر کاٹ لیے گئے تھے۔ ایک کا نام محمد اور دوسرے کا ابراہیم تھا۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-imam-muslim-bin-aqeel
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسلم ابن عقیل (شہادت: 9 ذوالحجۃ 60ھ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی حضرت عقیل ابن ابو طالب کے بیٹے تھے یعنی امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب سفیر حسین علیہ السلام اور غریبِ کوفہ (کوفہ…
امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا جھوٹا قصہ (سلسلہ "کربلا کے کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17064

امام مسلم بن عقیل کے بچوں کا جھوٹا قصہ (سلسلہ " کربلا کے کچھ جھوٹے واقعات " سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17068

ایک بار پھر امام مسلم بن عقیل کے بچوں پر بحث (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17072

اسے بھی ہضم کیجیے (1) ۔ ایک مزے دار قصہ (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17076

اسے بھی ہضم کیجیے (2) - میدان کربلا میں شادی (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17080

اسے بھی ہضم کیجیے (3) ۔ تاریخ الخلفاء میں موجود ایک روایت (سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
https://t.me/islaamic_Knowledge/17084

محافظ اسلام، سفیرِ امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ـ آپ حضرت علی المرتضی کے بھائی حضرت عقیل بن ابو طالب کے بیٹے ہیں۔ 9 ذوالحجہ 60ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔
https://t.me/islaamic_Knowledge/35333
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1