🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.82K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت فاضل جلیل حضرت مولانا محمد ریاض الدین، کیمبلپور

ولادت:
عمدۃ المدرسین حضرت مولانا محمد ریاض الدین عرف گلاب خان ابن ملک عبدالستار خان مرحوم ۸ ذوالحجہ ۱۳۵۱ھ/ ۴؍اپریل ۱۹۳۳ء میں موضع لنگر (مضافات کیبلپور) میں پیدا ہوئے۔

آپ ہاشمی اعوان کے ایک علم دوست گھرانے کےچشم و چراغ ہیں۔ آپ کے پردادا ملک نواب خان اپنے وقت کے مشہور صاحبِ علم اور دین دار انسان تھے، چنانچہ ان کی یاد میں حضرت مولانا محمد ریاض الدین کے والد گرامی ملک عبدالستار خان مرحوم نے آٹھ کنال اراضی وقف (فی سبیل اللہ) کرکے اپنے گاؤں میں آبائی مشن کو جاری کیا۔

حصولِ تعلیم:
علومِ عربیہ کے علاوہ آپ نے مڈل تک مروجہ انگریزی تعلیم بھی حاصل کی۔ علوم دینیہ کی کتب متداولہ کی تعلیم کے لیے آپ لنگر شریف، چورہ شریف، مکھڈ شریف، احسن المدارس راولپنڈی، فیض العلوم پاک پتن شریف اور جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے متعلق رہے۔

آپ کے اساتذہ میں محدث اعظم مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ، شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی، مولانا سید محمد زبیر شاہ صاحب چکوال، مولانا صاحبزادہ محمد ارشاد حسین چورہ شریف، مولانا قاضی اسرار الحق صاحب، مولانا سلطان محمود صاحب، مولانا اللہ بخش صاحب رحمہ اللہ واں بھچراں، مولانا محمد اسحاق صاحب کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔ فنون کی تکمیل کے بعد جامعہ رضویہ فیصل آباد میں کتبِ احادیث پڑھ کر ۲۳ شعبان المعظم ۱۳۸۰ھ/ ۱۱؍فروری ۱۹۶۱ء کو سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

تدریس:
آپ ایک قابل اور محنتی مدرس ہیں، چنانچہ آپ فراغت سے اب تک اسی مشن کو اپنائے ہوئے ہیں۔ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں بحیثیت نائب صدر تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ دربارِ عالیہ میرا شریف ضلع کیمبل پور، دارالعلوم عربیہ غوثیہ لالہ موسیٰ اور تبلیغ الاسلام گجرات میں صدر مدرس رہے اور جامعہ اسلامیہ چک سواری میرپور (آزادکشمیر) میں بطور شیخ الحدیث کام کرنے کے بعد آج کل جامعہ غوثیہ معینیہ ریاض الاسلام (مرزاروڈ) کیمبل پور میں بحیثیت مہتمم اور شیخ الحدیث اشاعتِ دین میں مصروف ہیں۔ علاوہ ازیں جامعہ اسلامیہ غوثیہ چکوال میں دورۂ قرآن مجید بھی پڑھاتے رہے۔

خطابت:
آپ بنیادی طور پر ایک فاضل مدرس ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ تبلیغ و اشاعت دین کی خاطر مختلف مذہبی، تبلیغی جلسوں میں شمولیت کی غرض سے اطراف و اکناف کا دورہ فرمانے کے علاوہ جامع مسجد محمدیہ نور کیمبلپور میں بطورِ خطیب متعلقہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل دربارِ عالیہ میرا شریف اور لال جامع مسجد لالہ موسیٰ میں فرائض خطابت سر انجام دے چکے ہیں۔

تصانیف:
تدریس و خطابت کے علاوہ آپ نے مندرجہ ذیل چند کتب بھی تصنیف فرمائیں:

۱۔ سیف جدید بجواب رشید ابن رشید
۲۔ گنجینۂ حق
۳۔ آئینۂ حق
۴۔ خزینۂ حق
۵۔ مدینۂ حق
۶۔ مرأتِ دین
۷۔ سفینۂ حق
۸۔ اسلامی عقائد اور ان کے احکام
۹۔ حاشیہ فارسی صغری او اوسط

بیعت:
آپ نے ۲۲ شعبان ۱۳۸۰ھ/ ۱۰فروری ۱۹۶۱ء کو محدثِ اعظم حضرت مولانا سردار احمد صاحب رحمہ اللہ کے دستِ حق پرست پر شرفِ بیعت حاصل کیا۔

ذوقِ نعت:
مولانا ریاض الدین صاحب [۱] کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات کا مالک بنایا ہے، چنانچہ آپ کو شعر گوئی کا ملکہ بھی حاصل ہے۔ آپ نے فارسی میں بھی کئی نعتیں لکھیں۔ عربی میں حضرت محدث اعظم کی شان میں ایک منقبت نظم فرمائی۔

[۱۔ مولانا ریاض الدین کا اصلی نام گلاب خان تھا۔ دورۂ حدیث کے دوران حضرت محدث اعظم پاکستان رحمہ اللہ نے اس میں تبدیلی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ آج کے بعد یوں لکھا کرو ’’محمد ریاض الدین عرف گلاب خان‘‘ (مکتوب حضرت علامہ موصوف بنامِ مرتّب)]

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کا حلقہ کافی وسیع ہے، جن میں چند قابلِ ذکر یہ ہیں:

۱۔ مولانا حافظ ابوالوفاخان محمد خان صاحب مہتمم و بانی جامع مسجد محمدیہ نور کیمبلپور و خطیب میانوالی

۲۔ مولانا قاری غلام مجتبیٰ صاحب خطیب جامع مسجد صدر کیمبلپور

۳۔ قاری غلام محمد خان صاحب خطیب جامع مسجد صدر کیمبلپور

۴۔ مولانا محمد اکرم ہاشمی خطیب شاہدرہ لاہور

۵۔ مولانا غلام رسول نقشبندی، آزاد کشمیر

۶۔ مولانا محمد صدیق ہزاروی، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

اولاد:
آپ کے چار فرزند اور دو صاحبزادیاں ہیں۔[۱]

[۱۔ مکتوب حضرت مولانا ریاض الدین صاحب، بنامِ مرتب ]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-riazuddin
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید صفی الدین صوفی گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی:سید صفی الدین گیلانی۔کنیت:ابونصر۔لقب:جمال الفقہاء،زین الصلحا،سیدالاتقیاء۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت شیخ سید صفی الدین گیلانی بن سیدسیف الدین عبدالوہاب گیلانی بن غوث الاعظم سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی۔علیہم الرحمہ۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت بوقتِ صبح صادق 8/ذوالحج 548ھ،مطابق 22/فروری 1154ءکوبغدادمیں ہوئی۔

تحصیلِ علم: آپ نے اپنے جد امجد حضرت غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے والد بزرگوار سے تفقہ کیا اور حدیث سُنی۔ نیز شیخ ابی الحسن محمد بن اسحاق بن العتابی رحمۃ اللہ علیہ اور ابو الفتح محمد بن عبد الباقی احمد وغیرہ سے بھی استماعِ حدیث کیا۔ اپنے زمانہ کے فقہاء و محدثین کے سردار اور علمائے زمان کے سالار ہوئے۔آپ نے اپنے چچا سید ابو اسحاق ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو طالب عبد الرحمٰن بن محمد ہاشمی واسطی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے۔ آپ نے حدیث کا بکثرت مطالعہ کیا اور اپنے قلم سے احادیث لکھیں، اور بیان کیں اور فتوے دئیے۔ اہل بغداد کی ایک جماعت آپ کے علوم سے مستفید ہوئی۔آپ بڑے ادیب، متین، سنجیدہ اور منطق، فلسفہ وغیرہ علوم میں کامل تھے۔

بیعت وخلافت: اپنےوالدِ گرامی سید سیف الدین عبدالرزاق علیہ الرحمہ سےبیعت ہوئے اورانہوں نےتمام اسانیداورسلسلہ عالیہ قادریہ کی اجازت عطاءفرمائی۔

سیرت وخصائص: قدوۃ الفقہاء و المحدثین، زبدۃ العلما ءو المفسرین،فخر المشائخ والاصفیاء،ابرر الاولیاء و الاتقیاء، سید الاقطاب، فرد الاحباب صاحبِ مقاماتِ بلند و کرامات، حضرت سید سیف الدین عبد الوہاب گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر و مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین سید صفی الدین صوفی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ اپنےجدبزرگوارکی طرح مادرزادولی کامل تھے۔تحفہ قادریہ میں ہے:جب تک آپ والدہ ماجدہ کے شکم میں رہے حضرت سید عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ آپ کی طرف پشت نہ کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے حضرت جد بزرگوار غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کنارِ عاطفت میں فرمائی۔ آپ کو گود میں لے کر آپ کی پشت کو بوسے دیا کرتے۔ اکثر اوقات حضور غوثیہ کو وجد ہوجایاکرتا اور بے اختیار فرمایا کرتے الحمد للہ۔ آپ اخلاق عالیہ سےمتصف تھے۔ زیادہ تر خاموش رہنے والے، علم کو دوست رکھنے والے، کثیر الحلم، پسندیدہ اخلاق والے، اہلِ علم کا احترام کرنے والے اور صلحا کی عزت کرنے والے۔ اپنے قول و فعل میں ثقہ تھے۔ آثار جذب ابتدا ءسے ہی آپ کی طبیعت میں آثارِ جذب و ولایت پائے جاتے تھے۔آپ اکثر غیبی احوال بیان فرمایا کرتے جس طرح زبان مبارک پر آتا اُسی طرح ظہور میں آجاتا تھا۔

آپ اپنے آبا و اجداد کی طرح حنبلی مذہب کے پیروکار تھے،اور اسی مذہب کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ بہت مدت تک بغداد شریف کے مفتی رہے۔ آپ اپنے والدِ اکرم رحمۃ اللہ علیہ کے بعد سجادہ نشینِ درگاہِ عالیہ غوثیہ ہوئے اور مسند ارشاد پر متمکن ہوکر طالبانِ خدا کو منزل مقصود پر پہنچاتے رہے۔ چونکہ آپ ہمیشہ خدا کی طرف دھیان رکھتے اور دِل کو بُری باتوں یعنی ماسوی اللہ سے پاک رکھتے تھے اس لیے آپ کا لقب صوفی پڑگیا تھا۔ آپ مدت دراز تک مدرسہ عالیہ غوثیہ میں درس و تدریس کرتے رہے اور خدمتِ وعظ و نصیحت کو انجام دیا اور کمالاتِ صوری و معنوی سے مالا مال ہوئے۔ اسی طرح سیاحت بھی خوب فرمائی،بلاد عرب،افغانستان،اورپھرہندمیں بمقام ملتان تشریف لائے،اوریہاں فیضِ غوثیہ تقسیم کرنےکےبعد واپس بغدادمعلیٰ تشریف لےگئے،اورپھروہیں انتقال ہوا۔

طالبانِ حق کونصیحت: آپ نصیحت فرماتےہوئےارشادفرماتےہیں: ظاہر شریعت پر عمل کرو، اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہﷺسے تمسک رکھو، سلفِ صالحین کے طریق پر چلنا اپنا شِعار بناؤ، اعتقاد اہل سنت جماعت رکھو، نفس کو ریاضت سے مطیع کرو۔ طلبِ مولامیں صبر جمیل اختیار کرو، بلاؤں پر تحمل کرو، خدا تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہو، اللہ تعالیٰ کے افعال میں فنا حاصل کرو، سنت کا اتباع کرو، بدعت سے اجتناب رکھو، اللہ تعالیٰ پر ہر کام میں توکل رکھو، اُسی سے مدد مانگو اور ہر حال و ہر وقت اُسی سے نصرت طلب کرو۔

تاریخِ وصال: آپ کاوصال 3/رجب المرجب 611ھ،مطابق 8/نومبر1214ءبروزہفتہ کوہوا۔آپ کومقبرہ حلبیہ بغدادمعلی عراق میں دفن کیاگیا۔

ماخذومراجع: شریف التواریخ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-safiuddin-sufi-gilani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ محمد صدیق چشتی
صابری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ لاہور میں بلند پایہ چشتی بزرگ ہوئے ہیں علوم شریعت و طریقت میں وحید و فرید تھے۔

سارا دن طلبا کی تدریس میں مصروف رہتے شام کے بعد طالبات حق کو تلقین فرمایا کرتے تھے ـ

پنجاب بھر سے آپ کی خدمت میں لوگ حاضر ہوتے اور دینی و دنیاوی امور حل کراتے تھے سماع اور وجد کے دوران آپ جس پر نظر ڈالتے اسے تارک الدینا بنا دیتے تھے ـ

آپ کو محمد عارف لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت ملا تھا اور لاہور میں ہی قیام پذیر رہے ـ

وصال:
آپ 8 ذی الحجہ ۱۰۸۴ھ کو فوت ہوئے۔
آپ کا مزار بھی زین خان کے میدان میں ہے۔

زدنیا رفت در خلد معلّی
چو صدیق آں ولی راہ تحقیق

رقم شد شیخ قدسی سال تاریخ
۱۰۸۴ھ
بدیگر بار شمع عشق صدیق
۱۰۸۴ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-siddique-chishti-sabri-lahori
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت حاجی حسن سخی بابا منگھو پیررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت حافظ حاجی حسن المعروف سلطان بابا منگھو پیر کا سالانہ عرس شریف آٹھ ذی الحجہ کو ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سخی سلطان منگھو پیر روحانی بزرگ اور بابا فرید گنج شکر کے مریدوں میں سے ہیں۔ دوسرے ترجمانوں کے مطابق آپ حضرت شاہباز قلندر کے مرید ہیں۔ اس سلسلے میں حتمی دستاویز شاید مزار کے سابق متولی کے پاس موجود ہے۔

کراچی شہر سے ۱۱ میل شمال کی جانب واقع پہاڑی جو لیاری ندی اور کھرتار ورب پہاڑوں کے دامن میں حضرت حافظ حاجی حسن المعروف سخی سلطان بابا منگھو پیر چشی مزار واقع ہے جو۷۰۰ سال قبل برصغیر میں تشریف لائے تھے آپ تیرہویں صدی عیسوی میں بخار ا سے آئے تھے حضرت منگھو پیر حضرت اما م حسن سے ماں کی طرف سے اور حضرت امام حسین سے باپ کی طرف سے نسبت رکھتے تھے، آپ نے تاتاریوں کے لشکر کے خلاف جنگ میں حصہ لیا جس نے اس ملک پر حملہ کیا تھا اس کے بعد آپ حجاز مقدس زیارت کے لیے چلے گئے اسی دوران جب آپ مدینہ منورہ میں تھے تو آپ حجاز مقدس زیارت کے لیے چلے گئے اسی دوران جب آپ مدینہ منورہ میں تھے تو آپ نے خواب میں حضرت محمد ﷺ کو دیکھا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے انکو حکم دیا کہ ہندوستان میں اجودھان جاکر اپنی خدمات حضرت باب فرید گنج شکر کو پیش کرو۔ حضرت منگھو پیر اجودھان پہنچے (آج کل جسکا نام پاک پٹن شریف ہے) اور حضرت بابا صاحب کے شاگردوں / مریدوں میں شامل ہوگئے۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت بابا فرید نے حضرت منگھو پیر کو اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اپنے خلافت نامہ میں ہدایت کی کہ اس جگہ جائیں جو اب کراچی کہلاتی ہے اور وہاں مقیم ہوجائیں اور اپنا مشن، تبلیغ اسلام بنائیں اور اسلامی تعلیمات کو علاقہ میں عام کریں۔ حضرت بابا فرید کی زندگی ۱۱۷۵ء سے ۱۲۶۵ء تک ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آپ نے آخری سولہ یا چوبیس سال پاک پٹن میں گزارے ، حضرت منگھو پیر ایک غار میں رہ کر روحانی ، عرفانی الہٰی کو حاصل کرنے کے لیے وظائف اور دعائیں کیا کرتے تھے۔ وہ علاقہ غیر آباد بنجر تھا۔ بعد میں آہستہ آہستہ علاقہ آباد ہوتا گیا اور علاقہ کے لوگوں کو آپکی روحانی علمی صلاحیت کا علم ہوتا گیا ۔ یہ ایک عام سی بات ہے خدا کے نیک بندے غیر آباد علاقوں میں قیام کرتے ہیں جو آہستہ آہستہ آباد ہوتی جاتی ہے۔ حضرت منگھو پیر کے بارے میں تاریخی معلومات مندرجہ ذیل کتابوں میں ملتی ہیں:

ا۔ تاریخ البرہانی مصنف برہان الدین عربی زبان میں ہے اور الازہر یونیورسٹی میں موجود ہے۔

ب۔ تو فات الکریم ۔ مصنف جناب علی کانا ٹھٹھوی۔ جلد (۱۱۱)

ج۔ سفر نامہ ابن بطوطہ

اس وقت کے ہم عصروں میں حضرت بہاؤ الدین ذکریا حضرت قلند لال شہباز ، حضرت جلال الدین بخاری اسکے علاوہ حضرت بابا فرید تھے۔

ترجمانوں کا خیال ہے کہ محمد بن قاسم کے کچھ سپاہی وقتی طور سے اس علاقے میں رہائش پذیر تھے اس لیے کہ اس وقت کے قبروں کے ڈیزائن کے آثار موجود ہیں۔ جو ایسے نشانات رکھتے ہیں جو چوکنڈی، ٹھٹھہ اور سہون شریف کے قبروں پر ملتے ہیں۔
2👍1
حضرت منگھو پیر کو اس نام سے لوگ پیا رو محبت اور عقید ت سے یاد کرتے ہیں  اس لیے کہ وہاں تالاب میں کئی مگر مچھ موجود ہیں۔ منگھار میچ کے معنی مگر مچھ کے ہیں اور منگھو پیر کے معنی ہیں بزرگ یا پاک مگر مچھ ۔ اس تالاب میں تقریباً ۱۵ مگر مچھ پائے جاتے ہیں جبکہ بیان  یہ کیا جاتا ہے کہ کبھی اس تالاب میں ۱۰۰  مگر مچھ ہوا کرتےتھے، اس تالاب میں مگر مچھوں سے متعلق مختلف روایتیں  وغیرہ ملتی ہیں۔  ایک سمجھ میں آنے والی یہ بات بھی ہے کہ دریائے حب میں طغیانی آنے سے مگر مچھ یہاں آگئے اور تالاب میں ایک چشمہ  ہے جہاں سے پانی آتا ہے، زائرین اور عقیدت مند  احتراماً  اور تعظیم کی خاطر ان مگر مچھوں کو خوراک مہیا کرتے ہیں۔

          یہاں ٹھنڈے اور گرم پانی کے گندھک ملے ہوئے چشمے ہیں جن میں زخم کی شفایابی کی تاثیر ہے خاص کر جلدی امراض کے لیے مفید ہیں۔ اسی کے قریب کوڑھ کا سینی ٹوریم بھی واقع ہے۔ مختلف عقیدے کے لوگ اس مزار مبارک پر تشریف لاتے ہیں ۔ اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے بعد چشموں پر جاکر نہاتے ہیں اور مگر مچھوں کو گوشت ڈالتے ہیں۔

          حضرت منگھو پیر کے ایک مرید  جن  کانام حضرت خاکی شاہ بخاری ہے جو بعد میں آپ کے خلیفہ بنے اور آپ کا بھی مزار کمپاؤنڈ میں قریب  ہی واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں ایک ہندو شہزادی کوڑھ میں مبتلا تھی اور حضرت منگھو پیر نے  اپنے مرید خاکی شہ ہدایت کی کہ وہ اسکا علاج دعا ؤں  سے کریں جو کامیاب  رہا جسکے نتیجہ  میں ہندو راجہ نے اس کرامت کو دیکھ کر اپنی بیٹی  کی شادی خاکی شاہ سے کردی۔

          حضرت منگھو پیر نے دعاؤں اور تبلیغ سے ایک کم عرصہ میں بہت کام کیا۔ وہ چھوٹی سی پہاڑی  جسکے غار میں آپ قیام پذیر ہوئے تھے اور اپنا مشن عبادت و تبلیغ  شروع کیا تھا وہاں بے شمار لوگ آباد ہوتے گئے اور علاقہ منگھو بستی یا اور نگی وادی کے نام سے مشہور ہوگیا۔

یہ بات بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ حضرت جلال الدین بخاری۔ حضرت لال شہباز قلنر اور حضرت بابا فرید ہمیشہ حضرت منگھو پیر سے کرتے تھے اور یہ تمام بزرگان ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب تمام بزرگان حضرت منگھو پیر سے ملنے آئے اور آپ سے فرمایا کہ آپ ان کے ساتھ حج پر چلیں۔ حضرت منگھو پیر نے فرمایا کہ ان کی وفات کا وقت قریب ہے اور انہوں نے اپنا مشن مکمل کرلیا ہےجو اسلام کی تبلیغ حضرت نبی پاک ﷺ کی ہدایت کے مطابق تھی اور جو ہدایت آپ کو اپنے پیر و مرشد حضرت بابا فرید گنج شکرنے دی تھی لہٰذا یہ بہتر ہے کہ وہیں رہیں ۔آٹھ ذی الحج کا دن تھا کہ آپ نے وفات پائی اور ۸ اور ۹ ذی الحج کو ہر سال آپ کا عرس مبارک منایا جاتا ہے۔

(تذکرہ اولیاءِ سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-haji-hasan-sakhi-baba-manghopeer
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام ابو محمد عبد اللہ دارمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب: آپ کانام عبد اللہ، ابو محمد کنیت،سلسلۂ نسب یہ ہے، عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن فضل بن بہرام بن عبد الصمد۔

تاریخ ومقامِ ولادت:181ھ میں خراسان کے مشہور شہر سمرقند میں پیدا ہوئے۔ قبیلہ تمیم کی ایک شاخ دارم سے نسبی تعلق تھا، اس کی نسبت سے سمرقندی،تمیمی اور دارمی کہلائے۔

سیرت و خصائص:قدوۃ العلماء امام المحدثینامام دارمی علم و عمل دونوں کے جامع تھے اور زہدو تقویٰ کے لحاظ سے بھی ان کا مرتبہ بہت بلند تھا۔ ان کو اطاعت و عبادتِ الٰہی میں بڑا انہماک تھا۔ عبد اللہ بن نمیر فرماتے ہیں کہ وہ ورع اور تقویٰ کے اعتبار سےہم سب پر فوقیت رکھتے تھے۔ خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ وہ زہد واتقاء سے متصف تھے۔ ابو منصور شیرازی کا بیان ہے کہ ان کی ذات زہدوتقویٰ اور دیانت و عبادت کے لئے ضرب المثل تھی۔ عثمان بن ابی شیبہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی عصمت اور پاکیزگئ ِ نفس کے متعلق جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس سے زیادہ عظیم و برتر تھے۔

طلبِ حدیث کے لئے سفر: امام دارمی نے اس زمانہ کے دستور کے مطابق حدیث کی طلب وتکمیل کے لئےشام، بغداد، مصر، عراق، خراسان اور مکہ و مدینہ کا سفر کیا۔ خطیب اور دوسرے مؤرخین نےان کے سفر و رحلت کی کثرت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہوہ ان لوگوں میں سے ایک تھے جوحدیث کے لئے بہت زیادہ سفر کیا کرتے تھے۔ بعض علمائے رجال نے لکھا ہے کہ طلبِ حدیث کے لئے سفر کیا اور ملکوں کی خاک چھانی۔

حفظ و ضبط:قدرت نے ان کو حفظ و ضبط کا غیر معمولی ملکہ عطا فرمایا تھا۔ ائمہ فن نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے چناچہ عبد اللہ بن نمیر جیسے بلند پایامحدث کا بیان ہے کہ دارمی حافظہ کے لحاظ سے ہم پر فوقیت رکھتے تھے۔ رجاء بن جابر مرجی کا بیان ہے کہ میں نے احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، علی بن مدینی اور شاذکونی وغیرہ ائمہ حدیث میں سے کسی کو عبد اللہ سے بڑا حافظ نہیں پایا۔عثمان بن ابی شیبہ فرماتے ہیں کہان کے حفظ وضبط کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہےوہ اس سے کہیں زیادہ فائق تھے۔

فقہ و تفسیر: امام دارمی کو دوسرے اسلامی فنون میں بھی دستگاہ حاصل تھی۔ فقہ و تفسیر سے ان کی مناسبت اور تعلق کا اکثر علمائے رجال نے ذکر کیا۔ حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ ان کو باکمال مفسر اور صاحبِ علم فقیہ قرار دیتے ہیں۔ ان فنون میں انہوں نے کتابیں بھی لکھی تھیں۔ اور فقہ میں ان کی مجتہدانہ کمالات کا ثبوت ان کی سنن سے بھی ملتا ہے۔

فضل و امامت: ان گوناگوں کمالات نے ان کی ذات کو مرجعِ خلائق بنایا دیاتھااور وہ ائمہ مسلمین میں شمار کئے جاتے ہیں۔ معاصرین علماء نے بھی ان کی اس حیثیت کو تسلیم کیاہے۔امام احمد ان کو امام وسید کے لقب سے موسوم کرتے تھے،ابو سعید اشبح کابیان ہےکہ وہ ہمارے امام ہیں، ابو حاتم فرماتے ہیں کہ دارمی اہنے زمانے کے ائمہ میں تھے۔

وفات:مشہور روایت کے متعلق تقریباً پچھتر سال کی عمر میں اپنے وطن سمرقندمیں انہوں نے8 ذی الحجہ 255 ھ/بمطابق 16 نومبر 867 ء بعد نمازِ عصر انتقال فرمایا۔

ماخذ و مراجع: تذکرۃ المحدثین

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-imam-abu-muhammad-abdullah-samarqandi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید برہان الدین قطب عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت قطب عالم، عالم میں مشہور ہوئے۔

خاندانی حالات:
آپ مخدوم جہانیاں جہاں گشت حضرت سید جلال الدین بخاری کے پوتے ہیں۔

نام:
آپ کانام سیدبرہان الدین ہے۔

لقب:
آپ کالقب"قطب عالم "ہے،اسی لقب سے آپ مشہورہوئے۔

گجرات میں آمد:
آپ وطن سےہجرت کرکےگجرات تشریف لےگئےاورگجرات ہی کواپنی رشدوہدایت کا مرکز بنایا۔

وفات:
آپ نے۸ذی الحجہ ۸۵۷ھ کوانتقال فرمایا۔۱؎مزارمبارک بتوہ میں ہے،جواحمدآبادکےقریب ہے۔

سیرت:
ترک وتجرید میں یگانۂ روزگارتھے
عشق الٰہی میں سرشارتھے۔

کرامات:
ایک دن کاواقعہ ہےکہ آپ پانی میں تشریف لےگئے،آپ کےپیروں میں کوئی چیزلگی،چوٹ کالگنا تھاکہ آپ نےفرمایاکہ کس چیزسےچوٹ لگی،کیایہ پتھرہےیالوہاہےیالکڑی"۔

چنانچہ اس پتھرمیں تینوں چیزیں پیداہوگئیں،پتھرکی صفت بھی اس میں ہے،لوہابھی اور لکڑی بھی۔

حواشی
۱؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)ص۲۳۴
(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-burhanuddin-qutb-e-alam
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-12-1444 ᴴ | 26-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-12-1444 ᴴ | 27-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1