🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.82K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
07-12-1444 ᴴ | 26-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-12-1444 ᴴ | 26-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-12-1444 ᴴ | 26-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌷سلسلہ کلامِ رضا🌷
معانی,مفہوم و شرح

(1)حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

*مشکل الفاظ کے معانی*

شہنشاہ: شاہ شاہاں،یعنی بادشاہوں کے بادشاہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم

*مفہوم و تشریح *

اے حجاج کرام! خوش نصیب ہو کہ تمہیں حج کی سعادت نصیب ہوئی تم نے بیت اللہ شریف کے انوار و تجلیات کواپنے دامن میں سمیٹا, اب میری بات سنوا!
چلو چلو سوۓ طیبہ چلو!
اس شہنشاہ ہردوعالم کی بارگاہ میں جس نے کعبہ کو صنم خانہ سے بیت اللہ و قبلہ بنایا ہے، اگر یہ کعبہ ہے اور یقینا کعبہ ہے تو مدینے کا تاجدار تو کعبہ کا بھی کعبہ (قبلہ) ہے۔

𝒩𝒶𝒶𝓉 𝒜𝒸𝒶𝒹ℯ𝓂𝓎

اگر کعبہ کا حج کرنے کا حکم ہے اور اس سے گناہوں کی بخشش ہوتی ہے اور حاجی (کیوم ولدتہ امہ) ایسے ہوجاتا ہے جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے(گناہوں سے پاک) تو زیارت روضۂ مصطفیٰ ﷺ کا بھی حکم ہے:

(ولوانھم اذا ظلموا انفسھم جاءوک۔من زاری قبری وجبت لہ شفاعتی۔ من حج البیت ولم یزرنی فقد جفانی)
اور اس زیارت سے حضور ﷺ کی شفاعت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس زیارت سے محرومی سعادت دارین سے محروم وبدبختی ہے۔

ساری دولت خدا کی مدینے میں ہے
تاجدار زمانۂ مدینے میں ہے
ان سروں کے یہ سجدے تو کعبے کے ہیں
پر دلوں کی عبادت مدینے میں ہے
کعبے کی حاضری میں بھی لذت تو ہے
پر نہیں وہ جو لذت مدینے میں ہے

𝒩𝒶𝒶𝓉 𝒜𝒸𝒶𝒹ℯ𝓂𝓎

حضور ﷺ چونکہ رحمۃ للعالمین، ندیر للعالمین، مرسل الی الخلق کافۃ (مشکوۃ) ہیں اور عالمین و کافہ ماسوی اللہ کو کہا جاتا ہے لہذا آپ کو کعبہ کا کعبہ (قبلہ) کہا گیا۔
تفسیر مظہری میں زیرایت ولکل وجہۃ ھو مولیھا (البقرہ) ہے کہ قبلہ کا معنی مرکز توجہ ہے اور ہر مخلوق کا ایک خاص قبلہ یعنی مرکز توجہ ہے جیسے بیت المعمور فرشتوں کا، کعبہ معظمہ انسانوں کا وغیرہ اور قبلتی انت اور اے محبوب میرا قبلہ (میری توجہ کا مرکز تو ہی تو ہے)

قرآن پاک کی کتنی ہی آیات پیش کی جاسکتی ہیں۔
قد نری تقلب وجھک فی السماء۔ نماز کے دوران اللہ تعالیٰ کا اپنے محبوب کو دیکھنا
فانک باعیننا۔ حضور ﷺ کا ہر وقت اللہ کی نگاہ میں رہنا
الذی یرک حین تقوم وتقلبک فی الساجدین اے محبوب جب تو کھڑا ہوتا ہے تو تیرا رب تجھے دیکھتا ہے اور جب تو سجدہ کرنے والوں میں گھومتا پھرتا ہے جب بھی تیرا رب تجھے دیکھتا رہتا ہے

صحرا حضور آپ کے دم سے چمن ہوا
پتھر کا یہ نصیب کہ وہ گلبدن ہو

Admin
Owais Razvi Qadri Siddiqui
𝒩𝒶𝒶𝓉 𝒜𝒸𝒶𝒹ℯ𝓂𝓎

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0eZb7t5Z4we16a2henGJ7rqnbHJ6k3REu8cLhTECGNavQ5MCVg87uUHiVQgNGmd7El&id=100047367692539&mibextid=NOb6eG
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت فاضل جلیل حضرت مولانا محمد ریاض الدین، کیمبلپور

ولادت:
عمدۃ المدرسین حضرت مولانا محمد ریاض الدین عرف گلاب خان ابن ملک عبدالستار خان مرحوم ۸ ذوالحجہ ۱۳۵۱ھ/ ۴؍اپریل ۱۹۳۳ء میں موضع لنگر (مضافات کیبلپور) میں پیدا ہوئے۔

آپ ہاشمی اعوان کے ایک علم دوست گھرانے کےچشم و چراغ ہیں۔ آپ کے پردادا ملک نواب خان اپنے وقت کے مشہور صاحبِ علم اور دین دار انسان تھے، چنانچہ ان کی یاد میں حضرت مولانا محمد ریاض الدین کے والد گرامی ملک عبدالستار خان مرحوم نے آٹھ کنال اراضی وقف (فی سبیل اللہ) کرکے اپنے گاؤں میں آبائی مشن کو جاری کیا۔

حصولِ تعلیم:
علومِ عربیہ کے علاوہ آپ نے مڈل تک مروجہ انگریزی تعلیم بھی حاصل کی۔ علوم دینیہ کی کتب متداولہ کی تعلیم کے لیے آپ لنگر شریف، چورہ شریف، مکھڈ شریف، احسن المدارس راولپنڈی، فیض العلوم پاک پتن شریف اور جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے متعلق رہے۔

آپ کے اساتذہ میں محدث اعظم مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ، شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی، مولانا سید محمد زبیر شاہ صاحب چکوال، مولانا صاحبزادہ محمد ارشاد حسین چورہ شریف، مولانا قاضی اسرار الحق صاحب، مولانا سلطان محمود صاحب، مولانا اللہ بخش صاحب رحمہ اللہ واں بھچراں، مولانا محمد اسحاق صاحب کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔ فنون کی تکمیل کے بعد جامعہ رضویہ فیصل آباد میں کتبِ احادیث پڑھ کر ۲۳ شعبان المعظم ۱۳۸۰ھ/ ۱۱؍فروری ۱۹۶۱ء کو سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

تدریس:
آپ ایک قابل اور محنتی مدرس ہیں، چنانچہ آپ فراغت سے اب تک اسی مشن کو اپنائے ہوئے ہیں۔ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں بحیثیت نائب صدر تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ دربارِ عالیہ میرا شریف ضلع کیمبل پور، دارالعلوم عربیہ غوثیہ لالہ موسیٰ اور تبلیغ الاسلام گجرات میں صدر مدرس رہے اور جامعہ اسلامیہ چک سواری میرپور (آزادکشمیر) میں بطور شیخ الحدیث کام کرنے کے بعد آج کل جامعہ غوثیہ معینیہ ریاض الاسلام (مرزاروڈ) کیمبل پور میں بحیثیت مہتمم اور شیخ الحدیث اشاعتِ دین میں مصروف ہیں۔ علاوہ ازیں جامعہ اسلامیہ غوثیہ چکوال میں دورۂ قرآن مجید بھی پڑھاتے رہے۔

خطابت:
آپ بنیادی طور پر ایک فاضل مدرس ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ تبلیغ و اشاعت دین کی خاطر مختلف مذہبی، تبلیغی جلسوں میں شمولیت کی غرض سے اطراف و اکناف کا دورہ فرمانے کے علاوہ جامع مسجد محمدیہ نور کیمبلپور میں بطورِ خطیب متعلقہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل دربارِ عالیہ میرا شریف اور لال جامع مسجد لالہ موسیٰ میں فرائض خطابت سر انجام دے چکے ہیں۔

تصانیف:
تدریس و خطابت کے علاوہ آپ نے مندرجہ ذیل چند کتب بھی تصنیف فرمائیں:

۱۔ سیف جدید بجواب رشید ابن رشید
۲۔ گنجینۂ حق
۳۔ آئینۂ حق
۴۔ خزینۂ حق
۵۔ مدینۂ حق
۶۔ مرأتِ دین
۷۔ سفینۂ حق
۸۔ اسلامی عقائد اور ان کے احکام
۹۔ حاشیہ فارسی صغری او اوسط

بیعت:
آپ نے ۲۲ شعبان ۱۳۸۰ھ/ ۱۰فروری ۱۹۶۱ء کو محدثِ اعظم حضرت مولانا سردار احمد صاحب رحمہ اللہ کے دستِ حق پرست پر شرفِ بیعت حاصل کیا۔

ذوقِ نعت:
مولانا ریاض الدین صاحب [۱] کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات کا مالک بنایا ہے، چنانچہ آپ کو شعر گوئی کا ملکہ بھی حاصل ہے۔ آپ نے فارسی میں بھی کئی نعتیں لکھیں۔ عربی میں حضرت محدث اعظم کی شان میں ایک منقبت نظم فرمائی۔

[۱۔ مولانا ریاض الدین کا اصلی نام گلاب خان تھا۔ دورۂ حدیث کے دوران حضرت محدث اعظم پاکستان رحمہ اللہ نے اس میں تبدیلی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ آج کے بعد یوں لکھا کرو ’’محمد ریاض الدین عرف گلاب خان‘‘ (مکتوب حضرت علامہ موصوف بنامِ مرتّب)]

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کا حلقہ کافی وسیع ہے، جن میں چند قابلِ ذکر یہ ہیں:

۱۔ مولانا حافظ ابوالوفاخان محمد خان صاحب مہتمم و بانی جامع مسجد محمدیہ نور کیمبلپور و خطیب میانوالی

۲۔ مولانا قاری غلام مجتبیٰ صاحب خطیب جامع مسجد صدر کیمبلپور

۳۔ قاری غلام محمد خان صاحب خطیب جامع مسجد صدر کیمبلپور

۴۔ مولانا محمد اکرم ہاشمی خطیب شاہدرہ لاہور

۵۔ مولانا غلام رسول نقشبندی، آزاد کشمیر

۶۔ مولانا محمد صدیق ہزاروی، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

اولاد:
آپ کے چار فرزند اور دو صاحبزادیاں ہیں۔[۱]

[۱۔ مکتوب حضرت مولانا ریاض الدین صاحب، بنامِ مرتب ]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-riazuddin
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید صفی الدین صوفی گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی:سید صفی الدین گیلانی۔کنیت:ابونصر۔لقب:جمال الفقہاء،زین الصلحا،سیدالاتقیاء۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت شیخ سید صفی الدین گیلانی بن سیدسیف الدین عبدالوہاب گیلانی بن غوث الاعظم سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی۔علیہم الرحمہ۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت بوقتِ صبح صادق 8/ذوالحج 548ھ،مطابق 22/فروری 1154ءکوبغدادمیں ہوئی۔

تحصیلِ علم: آپ نے اپنے جد امجد حضرت غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے والد بزرگوار سے تفقہ کیا اور حدیث سُنی۔ نیز شیخ ابی الحسن محمد بن اسحاق بن العتابی رحمۃ اللہ علیہ اور ابو الفتح محمد بن عبد الباقی احمد وغیرہ سے بھی استماعِ حدیث کیا۔ اپنے زمانہ کے فقہاء و محدثین کے سردار اور علمائے زمان کے سالار ہوئے۔آپ نے اپنے چچا سید ابو اسحاق ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو طالب عبد الرحمٰن بن محمد ہاشمی واسطی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے۔ آپ نے حدیث کا بکثرت مطالعہ کیا اور اپنے قلم سے احادیث لکھیں، اور بیان کیں اور فتوے دئیے۔ اہل بغداد کی ایک جماعت آپ کے علوم سے مستفید ہوئی۔آپ بڑے ادیب، متین، سنجیدہ اور منطق، فلسفہ وغیرہ علوم میں کامل تھے۔

بیعت وخلافت: اپنےوالدِ گرامی سید سیف الدین عبدالرزاق علیہ الرحمہ سےبیعت ہوئے اورانہوں نےتمام اسانیداورسلسلہ عالیہ قادریہ کی اجازت عطاءفرمائی۔

سیرت وخصائص: قدوۃ الفقہاء و المحدثین، زبدۃ العلما ءو المفسرین،فخر المشائخ والاصفیاء،ابرر الاولیاء و الاتقیاء، سید الاقطاب، فرد الاحباب صاحبِ مقاماتِ بلند و کرامات، حضرت سید سیف الدین عبد الوہاب گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر و مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین سید صفی الدین صوفی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ اپنےجدبزرگوارکی طرح مادرزادولی کامل تھے۔تحفہ قادریہ میں ہے:جب تک آپ والدہ ماجدہ کے شکم میں رہے حضرت سید عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ آپ کی طرف پشت نہ کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے حضرت جد بزرگوار غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کنارِ عاطفت میں فرمائی۔ آپ کو گود میں لے کر آپ کی پشت کو بوسے دیا کرتے۔ اکثر اوقات حضور غوثیہ کو وجد ہوجایاکرتا اور بے اختیار فرمایا کرتے الحمد للہ۔ آپ اخلاق عالیہ سےمتصف تھے۔ زیادہ تر خاموش رہنے والے، علم کو دوست رکھنے والے، کثیر الحلم، پسندیدہ اخلاق والے، اہلِ علم کا احترام کرنے والے اور صلحا کی عزت کرنے والے۔ اپنے قول و فعل میں ثقہ تھے۔ آثار جذب ابتدا ءسے ہی آپ کی طبیعت میں آثارِ جذب و ولایت پائے جاتے تھے۔آپ اکثر غیبی احوال بیان فرمایا کرتے جس طرح زبان مبارک پر آتا اُسی طرح ظہور میں آجاتا تھا۔

آپ اپنے آبا و اجداد کی طرح حنبلی مذہب کے پیروکار تھے،اور اسی مذہب کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ بہت مدت تک بغداد شریف کے مفتی رہے۔ آپ اپنے والدِ اکرم رحمۃ اللہ علیہ کے بعد سجادہ نشینِ درگاہِ عالیہ غوثیہ ہوئے اور مسند ارشاد پر متمکن ہوکر طالبانِ خدا کو منزل مقصود پر پہنچاتے رہے۔ چونکہ آپ ہمیشہ خدا کی طرف دھیان رکھتے اور دِل کو بُری باتوں یعنی ماسوی اللہ سے پاک رکھتے تھے اس لیے آپ کا لقب صوفی پڑگیا تھا۔ آپ مدت دراز تک مدرسہ عالیہ غوثیہ میں درس و تدریس کرتے رہے اور خدمتِ وعظ و نصیحت کو انجام دیا اور کمالاتِ صوری و معنوی سے مالا مال ہوئے۔ اسی طرح سیاحت بھی خوب فرمائی،بلاد عرب،افغانستان،اورپھرہندمیں بمقام ملتان تشریف لائے،اوریہاں فیضِ غوثیہ تقسیم کرنےکےبعد واپس بغدادمعلیٰ تشریف لےگئے،اورپھروہیں انتقال ہوا۔

طالبانِ حق کونصیحت: آپ نصیحت فرماتےہوئےارشادفرماتےہیں: ظاہر شریعت پر عمل کرو، اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہﷺسے تمسک رکھو، سلفِ صالحین کے طریق پر چلنا اپنا شِعار بناؤ، اعتقاد اہل سنت جماعت رکھو، نفس کو ریاضت سے مطیع کرو۔ طلبِ مولامیں صبر جمیل اختیار کرو، بلاؤں پر تحمل کرو، خدا تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہو، اللہ تعالیٰ کے افعال میں فنا حاصل کرو، سنت کا اتباع کرو، بدعت سے اجتناب رکھو، اللہ تعالیٰ پر ہر کام میں توکل رکھو، اُسی سے مدد مانگو اور ہر حال و ہر وقت اُسی سے نصرت طلب کرو۔

تاریخِ وصال: آپ کاوصال 3/رجب المرجب 611ھ،مطابق 8/نومبر1214ءبروزہفتہ کوہوا۔آپ کومقبرہ حلبیہ بغدادمعلی عراق میں دفن کیاگیا۔

ماخذومراجع: شریف التواریخ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-safiuddin-sufi-gilani
2