🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت محمد عارف چشتی صابری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام: آپ کا نام محمد عارف تھا۔

بیعت وخلافت: آپ نے لاہور ہی میں شیخ عبد الخالق چشتی سے بیعت کی اور خلافت حاصل کی۔ آپ اپنے شیخ کے جلیل القدر خلیفہ تھے۔

سیرت وخصائص: آپ صاحبِ کشف وکرامت، درویش، فقیر اور ولئ کامل تھے۔ آپ پربے شمار اسرارِ ربانی منکشف تھے۔ علومِ شریعت وطریقت کے یکسا ماہر تھے۔اور آپ کی شانِ فقری بھی بہت بلند ہے ،صابر وشاکر تھے جو میسر آتا تناول فرمالیتے، لیکن مہمانوں کی دل کھول کر خدمت فرماتے۔ آپ کو سماع کا بھی بہت شوق تھا۔ سماع میں آپ پر کیفیت طاری ہوجاتی تو ذوق و محبت میں رقص کرنے لگتے۔(لیکن ایک بات کا خیال رہے کہ قوالی سننے کے دوران اولیائے کرام کا جو رقص کرنا منقول ہوتا ہے تو ان کا رقص کرنا اپنے اختیار سے نہیں ہوتا بلکہ جب وہ اپنے کیفیت کے متعلق اشعار سنتے ہیں تو وہ بے خود ہوکر بے اختیار رقص کرنے لگتے ہیں ۔ آج کل کے جاہل فاسق وفاجر جوجو مزار وں کے اردگردبیٹھ کر چرس وبھنگ پی کر اپنے آپ کو صوفی بناکر رقص کرتے ہیں وہ اس میں شامل نہیں بلکہ وہ اپنے اختیار سے ہی رقص کرتے ہیں جو کہ ممنوع ہے۔ ان جاہل صوفیاء کو تصوف کے ابجد کے متعلق بھی علم نہیں اور صوفی بن کر معاذ اللہ صوفیاء کا مزاق اڑاکر لوگوں کو صوفیاء سے متنفر کرتے ہیں ۔ ان جاہل صوفیاء کا رقص دیکھ کر یہ نہ کہا جائے کہ اسلام اس کا درس دیتا ہے بلکہ اسلام اس سے منع فرماتا ہے، اور ایسے جاہل صوفیاء سے دور ہی رہا جائے اور نہ ان کے کسی کام کی حوصلہ افزائی کی جائے۔)آپ کی خانقاہ سے کئ لوگوں نے روحانی و اخلاقی فائدہ حاصل کیئے۔لوگوں کی ذہنی واخلاقی تربیت کا خاص خیال فرماتے اور ہر ایک کو شریعت کی پابندی کی تلقین کرتے رہتے۔ سائل آپ کے پاس جس مقصد سے آتا وہ مقصد اس کا پورا ہوتا، اگر کوئی شرعی مسئلہ پوچھنے آتا تو اس کا تشفی بخش جواب پاتااور اگر کسی مراد کے حصول کے لئے آپ سے دعا کرواتا تو مراد حاصل ہوجاتی۔

وفات: آپ کی وفات 7 ذو الحجہ 1071 ھ/بمطابق 24 جولائی 1661 ء اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں لاہور میں ہوئی۔

ماخذ ومراجع: تذکرۂ اولیائے لاہور

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-arif-chishti-sabri-lahori
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام و نسب:آپ کا نام حبیب الرحمٰن اور آپ کے والد کا نام محمد نقی ہے۔ آپ مذہباً حنفی تھے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت 28 شعبان 1283 ھ میں بھیکن پور جو کہ علی گڑھ کے دیہات میں ہےہوئی۔

تحصیلِ علم:آپ علیہ الرحمہ نے چند دن مولانا عبد الغنی قائم گنجی سے علم حاصل کیااور ان سے علومِ متعارفہ پڑھے۔اور اپنے دادا استاذ مفتی لطف اللہ کوئلی سے بھی کچھ علم حاصل کیا۔ اور مدرسہ العلوم علی گڑھ میں انگریزی زبان حاصل کی اور اس مدرسہ میں جو آگرہ میں تھا اور وہاں انشاء اور فنِ شعر میں توجہ ہوگئے۔ پھر آپ نے علومِ شرعیہ کی طرف توجہ دیا اور سب سے پہلےشیخ محدث حسین بن محسن انصاری جو بھوپال کے رہنے والے تھے ان ہی سے صحاح ِ ستہ بہت ہی تدبراور سمجھ سے پڑھی۔ اور شیخ عبد الرحمٰن بن محمد انصاری پانی پتی نے ا نہیں حدیث کی اجازت دی تھی۔

بیعت: آپ مراد آباد میں داخل ہوکر شیخ فضل الرحمٰن بکری مراد آبادی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔

سیرت و خصائص: آپ نے والد اور چچا نواب عبد الشکور خان کے سایہ میں پُر عیش زندگی میں پرورش پائی۔حصولِ علم کے بعد آپ کو بڑا مقام ومرتبہ حاصل ہوا۔اللہ تبارک وتعالٰی نے آپ کو دکن شہر کی قدردانی کی صدارت کے علاوہ مال کی فراوانی اور شہر کی صدارت بھی دی۔ اس لئے اپنے بال بچو اوروطن کو اللہ تعالٰی کی رضامندی کے لئے چھوڑ کر مملکتِ اسلامیہ کی خدمت کی۔امورِ دینیا اور اوقافِ اسلامیہ کا وزیر مقرر کیا گیا، اتنے بڑے عہدے پر مسلسل تقریباً تیرا سال تک پاکدامنی، صفائی اور عزتِ نفس کے ساتھ استقامت فرمائی اور ساتھ ہی بندوں اور شہروں کی پوری پوری خدمت میں لگے رہےاور مصالحِ اسلامیہ اور نیک کاموں میں اعانت کرتے رہے۔آپ کے علمی خدمات بہت زیادہ ہیں، نادرونایاب کتابوں کے جمع کرنے کے عاشق، اسی طرح سلف کے نشانات کو بھی جو اُن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہوں یا اُ ن کی مہریں، ان کی کتابوں کے ضمیمے اور ان کے علاوہ دوسری چیزوں کے حصول و حفاظت میں اپنے مال کا بڑا حصہ خرچ کرتے۔اپنے مکتبہ کے لئے بہت سی کتابیں جمع کر رکھی تھیں، اور ان میں بھی اپنی یا دوسروں کی ہاتھوں کی لکھی ہوئی مخطوطات ہوتیں، ان مخطوطات میں اپنا طویل وقت خرچ کرتے۔

وصال: آپ نے جمعہ کے دن 7 ذو الحجہ 1370 ھ/ بمطابق8 ستمبر 1951 ء میں علی گڑھ میں وفات پائی اور ایک دیہات حبیب گنج میں دفن کئے گئے۔

ماخذ ومراجع: چودھویں صدی کے علمائے بر صغیر

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-habib-ul-rahman-sherwani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ احمد بن علی بن حسین رازی المعروف بہ جصاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
احمد بن علی بن حسین رازی المعروف بہ جصاص: امام زمانہ،مجتہد وقت، علامۂ عصر،حافظ حدیث،صاحب عفت ودیانت و زہد تھے۔۳۰۵؁ھ کو شہر بغداد میں پیدا ہوئے۔ابو بکر کنیت تھی،فقہ کو ابو سہل زجاج تلمیذ امام کرخی سے اخذ کیا اور حدیث کو ابا حاتم اور عثمان دارمی اور عبد الباقی بن قانع وغیرہ محدثین سے سُنا اور روایت کیا یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کی ریاست آپ پر منتہی ہوئی اور دور دور سے لوگ واسطے استفادہ کے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے چنانچہ ابو عبداللہ محمد بن یحییٰ جر جانی شیخ قدوری و ابو الحسن محمد بن احمد زعفرانی وابو الفرح احمد بن عمر المعروف بہ اسلمہ وابو حفص محمد بن احمد نسفی اور ابو الحسن محمد بن محمد کازنی وغیرہ فقہائے بغداد نے آپ سے بڑا فیض حاصل کیا اور بو علی وبو احمد حاکم نے آپ سے حدیث کو سُنا۔قضاء خطاب کےلیےآپ کو کہا گیا تھا مگر آپ نے منظور نہ کیا اور تدریس و تعلیم میں مشغول رہنا پسند کیا۔

کہتے ہیں کہ جب آپ مناظرہ کی مجلس میں داخل ہوتے تھے تو آپ کے نفس کی قوت اور حسن کلام کے سبب سے مخالفین کو بات تک کی جرأت نہ رہتی تھی۔چونکہ آپ چونا بنایا کرتے تھے اور جص چونا کو کہتے میں اس لیے حصاص کے لقب سے مشہور ہوئے۔آپ نے حسب ذیل کتابیں تصنیف کیں جو نہایت مفید و عمدہ ہیں،مختصر کرخی،مختصر طحطاوی،شرح جامع امام محمد،شرح اسماء الحسنیٰ،کتاب احکام القرآن،کتاب ادب القضاء،کتاب اصول فقہ،واقعات فرہ چلپی۔علاوہ ان کے بہت سے مسائل پر جو اپ سے استفسار کیے گئے،آپ نے جوابات لکھے۔بعض علماء نے آپ کو طبقۂ اصحاب تخریج میں شمار کیا ہے لیکن بعض فضلاء کہتے ہیں کہ آپ کو اصحاب تخریج میں شمار کرنا سراسر آپ پر ظلم کرنا ہے اور اس سے با لکل آپ کی کسر شان ہے کیونکہ اگر اپ کی تصانیف اور ترجفی العلوم کا خیال کیا جائے تو شمس الائمہ وغیرہ فقہاء جن کو اصحاب مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا گیا ہے،آپ کے آگے بمنزلہ شاگردوں کے ٹھہرتے ہیں پس اس صورت میں آپ کیونکر طبقہ مجتہدین فی المسائل میںنہ شمار کیے جائیں۔وفات آپ کی پینسٹھ سال کی عمر میں یوم شنبہ ۴یا۷ ماہ ذی الحجہ۳۷۰؁ھ میں بمقام نیشا پور واقع ہوئی۔’’رہنمائے دین‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-bin-ali-bin-hussain-razi-jassas
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی الله عنه

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سیدامام محمد ۔ (آپ کا نام جد امجد سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نامِ نامی اسمِ گرامی پر رکھا گیا) ـ کنیت: ابو جعفر ۔لقب: باقر، شاکر، ہادی ۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی المرتضی ۔

آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ فاطمہ بنت سیدنا امام حسن تھا۔

یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہیں کہ آپ کا سلسلۂ نسب دونوں طرف سے سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتا ہے۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

باقر کی وجہ تسمیہ:
باقر، بقرہ سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل بھی ہے ۔اس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں (المنجد) ۔ حضرت امام محمد باقر کو اس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سر بستہ خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے ۔ (صواعق محرقہ، شواہد النبوت)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز جمعہ 3 / صفرالمظفر 57ھ، بمطابق 15 / دسمبر 676ء کو اپنے دادا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تین سال پہلے مدینہ منورہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
اپنے والدِ گرامی اور فقہاء مدینۃ المنورہ سے علم حاصل کیا۔ طبقات الحفاظ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد، اور جد امجد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک طائفہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اِن سے اِن کے صاحبزادے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ و عطاء رضی اللہ عنہ و ابن جریج رضی اللہ عنہ و امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ و اوزاعی رضی اللہ عنہ و زُہری رضی اللہ عنہ وغیرہ نے حدیث کو لیا ہے، اور ابن شہاب زہری رضی اللہ عنہ جنہوں نے سب سے پہلے حدیث کی تدوین کی ہے اِن کو حدیث میں ثقہ لکھا ہے، اور امام نسائی رضی اللہ عنہ نے اہلِ مدینہ کے فقہائے تابعین میں اِن کا ذکر کیا ہے۔ علم احادیث، علم سنن اور تفسیر قرآن وعلم السیرت و دیگر علوم وفنون کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے ظاہر ہوئے اتنے حسنین کریمین کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی کےجانشین ہوئے،اور آئمہ اہل بیت میں سے پانچویں امام ہیں۔

سیرت و خصائص:
کاشفِ اسرار، مطلعِ انوار، آثارِ سید المرسلین ﷺ وارثِ حسن وحسین حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے اوراس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم وزہد اورشرف وفضیلت میں بے مثال شخصیت کے مالک تھے۔ آپ علم القرآن، علم الآثار،علم السنن اورہرقسم کے علوم ، حکم،آداب وغیرہ کے جامع تھے۔بڑے بڑے تابعین،اورعظیم القدرفقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے۔

عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے علمائے کرام کو ازروئے علم کے کسی کے پاس اس قدر اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ اِن کے رو برو دیکھا۔ علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں: کہ حضرت امام محمد باقررضی اللہ عنہ کے علمی فیوض وبرکات اورکمالات واحسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہو گیا ہواورجس کی طینت وطبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ "باقرالعلوم" علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں۔آپ کا دل صاف، علم وعمل روشن و تابندہ ، اورخلقت شریف تھی۔ آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسر ہوتے تھے۔عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔

علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں:
کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان)۔

علامہ ذہبی لکھتے ہیں :
کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔

آپ اپنےآباؤاجدادکی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ۔ساری رات نمازپڑھنا، اورسارا دن روزہ سے گزارناآپ کی عادت تھی ۔آپ کی زندگی زاہدانہ تھی۔آپ بڑے عابد، زاہد، خاشعِ، خاضع، پاک طینت اور بزرگ نفس تھے، تمام اوقات کو عبادت و طاعتِ الٰہی سے معمور رکھتے، آدھی رات کو رویا کرتے، اور بارگاہِ الٰہی میں نہایت عاجزی سے مناجات کیا کرتے تھے۔ ہدایاجوآتے تھے اسے فقراء ومساکین پرتقسیم کردیتے تھے غریبوں پربے حدشفقت فرماتے تھے تواضع اور فروتنی ، صبرو شکر غلام نوازی صلہ رحمی وغیرہ میں اپنی نظیرآپ تھے۔آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اورانہیں اچھے نام سے یادکرتے تھے (کشف الغمہ )۔
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-12-1444 ᴴ | 25-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-12-1444 ᴴ | 26-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1