🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-12-1444 ᴴ | 25-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-12-1444 ᴴ | 25-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-12-1444 ᴴ | 25-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-12-1444 ᴴ | 25-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ سید محمد عیسی گنڈا پوری رحمۃ اللہ علیہ

موضع چودھواں تحصیل کلاچی ضِلع ڈیرہ اسمٰعیل خاں (صوبہ سرحد) ؟؟؟ھ/؟؟؟ء۔۔۔ ۱۲۲۰ھ/ ۱۸۰۶ء موضع چودھواں ضِلع ڈیرہ اسمٰعیل خاں

قطعۂ تاریخِ وفات:
صاحب کشف و کرامت شہِ گنڈا پُوری
سالِ رحلت ہے ملائک کی زباں پر صابر

آپ کے نُور کی ہے صوبۂ سرحد میں ضیاء
’’دُرِّ شاہوارِ اَرم خواجہ محمد عیسیٰ‘‘
۱۸۰۶ء

(صابر براری، کراچی)

آپ کی ولادت با سعادت موضع چودھیواں علاقہ گنڈا پور تحصیل کلاچی ضِلع ڈیرہ اسماعیل خاں (صوبہ سرحد) میں ہوئی۔ ظاہری تعلیم اپنے گاؤں ہی میں حاصل کی اور پھر تصوّف کی بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ آپ حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت یافتہ تھے اور ہر روز اُن سے ملاقات کرتے تھے بلکہ آپ کی ابتدائی باطنی تربیّت حضرت خضرت علیہ السلام نے ہی کی تھی۔ اور اُنہی کے ارشارے پر ہی رامپور جا کر حضرت حافظ شاہ محمد جمال اللہ قدس سرہ کے دستِ حق پر سعادتِ بیعت حاصل کی اور عرصۂ دراز تک اُن کی خدمت بابرکت میں حاضر رہے۔ سفر و حضر میں ساتھ رہکر فیوض و برکات کے خزانے لُوٹے۔ پیر و مرشد کے محبوب اور راز دار خلیفہ تھے۔ اتنے منظورِ نظر اور با اعتبار تھے کہ آپ کے شیخ بعض مریدوں کو آپ کے حوالے کر دیتے تھے۔

ایک دفعہ حضرت سیّد محمد جمال اللہ قدس سرّہ نے اپنے مریدوں سے ارشاد فرمایا کہ آج ہم سب لوگ اَورادو وظائف سے فارغ ہوکر شاہی قلعہ اور شاہی باغ کی سیر کو جائیں گے۔ چنانچہ حضرت خواجہ محمد عیسیٰ و دیگر خلفاء و مریدان کے ہمراہ شاہی قلعہ کے نزدیک پہنچے تو اُس وقت وہاں حضرت خواجہ فیض اللہ تیراہی قدس سرہ بطور سپہ سالار متعین تھے اور دیوارِ قلعہ پر پہرہ کی نگرانی فرما رہے تھے۔ جب اُن کی نظر حضرت شاہ جمال اللہ قدس سرہ پر پڑی تو بے خود ہوکر حاضر خدمت ہوئے، قدموں میں گے، تڑپے اور بے ہوش ہوگئے۔ دو تین گھنٹے بعد ہوش میں آئے تو بیعت کے لیے عرض کیا۔ آپ نے کشف سے معلوم کرلیا کہ اِن کا فیض باطنی حضرت خواجہ محمد عیسیٰ قدس سرہ کے پاس ہے۔ چنانچہ آپ کو اُن کے حوالہ کر کے فرمایا کہ اس کی بیعت اگرچہ میری طرف سے ہے مگر اس کی تکمیل تمہارے ذمّہ ہے چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔

آپ صاحبِ کشف و کرامات تھے۔ ایک دفعہ حضرت خواجہ فیض اللہ تیراہی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی قدمبوسی کے لیے حاضر خدمت ہو رہے تھے کہ راستے میں سخت علیل ہوگئے۔ یہاں تک کہ زندگی کی اُمید نہ رہی۔ ایک مسجد میں قیام پذیر ہو کر ہر وقت رو رو کر آپ کو یاد کرتے تھے۔ اُن کی آہ وزاری آپ تک پہنچتی تو خواجہ فیض اللہ کو دیکھنے کے لیے اپنے دردِولت سے روانہ ہوئے۔ جب اس مسجد میں پہنچے جہاں خواجہ محمد فیض اللہ مقیم تھے تو نماز مغرب سے فارغ ہو کر حجرہ میں داخل ہوئے۔ خواجہ محمد فیض اللہ آپ کو دیکھ کر وجد میں آگئے اور قدمبوسی کر کے قدموں سے لپٹ کر تڑپنے لگے۔ آپ نے انہیں اُٹھا کر سینے سے لگایا اور نور علی نور کردیا۔ کیونکہ خواجہ محمد فیض اللہ رحمۃ اللہ علیہ بہت کمزور ہوچکے تھے اور کافی دنوں سے کچھ بھی کھایا پیا نہ تھا۔ لہٰذ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی چیز کو دل سے چاہے تو تیار کریں۔ خواجہ محمد فیض اللہ نے عرض کیا کہ حضور!

’’جو نعمت مجھے اس وقت نصیب ہوچکی ہے یہی کافی ہے۔ یعنی آپ کا دیدار فیض بار‘‘۔

گر خواری یک لقمہ ازنانِ نُور
خاک ریزی برسرِ نانِ تنور



اگر تو نور کی روئی کا ایک لقمہ ہی کھالے
تو تو تنور کی روئی پر خاک ڈالے گا



پھر آپ نے ایک پیالے میں سے تھوڑا سا ہریسہ (ایک قسم کا کھانا جو گندم کے آئے، گوشت کی یخنی اور دودھ سے پکایا جاتا ہے) نکالا اور ارشاد کیا کہ یہ تھوڑا سا کھالو انشااللہ تعالیٰ صحت عاجلہ کاملہ نصیب ہوگی۔ آپ نے حسب الحکم دو تین لقمے تناول فرمائے تو تمام حجابات اُٹھ گئے۔ بعد ازاں آپ کو سخت بھوک لگی اور آپ نے بقیہ تمام ہریسہ کھالیا اور سوگئے۔ دوسرے دن صبح بیدار ہوئے تو آپ مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے تھے۔

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی



بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

کرامات

۱۔ ایک دفعہ آپ اپنے خلیفۂ اعظم حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کے لیے تیراہ شریف تشریف لے گئے۔ ایک دن مجلس میں خواجہ محمد فیض اللہ کے تمام صاحبزادگان کو طلب کیا اور دُعائے خیر فرمائی۔ جب خواجہ نور محمد سامنے آئے اور خواجہ محمد فیض اللہ نے عرض کی کہ حضور کہ میرے دوسرے بیٹے تو علومِ ظاہری سے فارغ ہوچکے ہیں مگر اس کا ذہن ابھی تک رسائی نہیں کرسکا یہی وجہ ہے ابھی تک صرف نصف قرآن پاک ختم کیا ہے۔ دُعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سینہ بے کینہ کو روشن کردے۔

آپکو صاحبزادہ نُور محمد کے حالِ زار پر بہت رحم آیا اور اُسے فوراً گلے سے لگالیا اور خصوصی توجہ سے نوازا۔ چنانچہ ان کا شرح صدر ہوگیا اور جلد ہی بڑی بڑی دقیق کتابوں پر حاوی ہو گئے اور دقیق سے دقیق مسائل بیان فرمانے لگے۔

۲۔ حضرت خوجہ فیض اللہ ہر سال آپ کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ عرس شریف کے مو
2
قعہ پر سخت بیمار ہوگئے اور پیر روشن ضمیر کی خدمت میں حاضری نہ دے سکے اور دوسرے ساتھیوں کے ذریعے پیغام بھیجا کہ:

’’آپ کے غلام بے دام کو آپ کے دیدار کا بے حد شوق تھا مگر کیا کرے علالت کی وجہ سے مجبور ہے، بستر سے ہل نہیں سکتا، معذور ہے‘‘۔

ساتھیوں سے یہ بھی کہا کہ جب تم لوگ واپس آؤ تو حضرت قدس سرّہ کے مبارک قدموں کے نیچے سے تھوڑی سی خاکِ پاک اٹھا تے لانا۔ جب سب ساتھی آپ کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ فیض اللہ دیوانہ تمہارے ساتھ نظر نہیں آرہا۔ وہ کہاں ہے؟ ساتھیوں نے سب ماجرا عرض کیا اور دُعا کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا کہ میرے دیوانے کو سلام کے بعد کہنا کہ فقیر خود تمہاری ملاقات کے لیے آنا چاہتا ہے، غم و فکر کی کوئی بات نہیں ہے، انشااللہ تعالیٰ جلد ہی ملاقات ہوگی اور سب لوگوں کو دعائے خیر کے بعد اجازت رخصت دے دی۔

ساتھیوں نے حسبِ وعدہ آپ کے قدموں کی خاک حاصل کی اور وطن واپس آگئے۔ خواجہ محمد فیض اللہ کو اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی آمد کی خبر ملی تو بہت خوش ہوئے اور زبان حال سے ارشاد فرمایا۔

مژدہ اے دل کہ باد صبا باز آمد
ہُد ہُد خوش خبر از شہر سبا باز آمد



اے دلِ مبارک ہوکر بادِ صبا واپس آئی ہے
ملکہ سبا کے شہر سے ہُد ہُد بڑی اچھی خبر لایا ہے



دوستوں سے ملاقات کے بعد آپ نے اپنی امانت طلب کی۔ انہوں نے خاکِ پا آپ کے حوالے کردی اور یہ مژدہ بھی سنایا کہ آپ بنفسِ نفیس تشریف لارہے ہیں۔ یہ سن کر آپ پھولے نہ سماتے تھے اور بار بار یہ شعر دیوانہ وار پڑھتے تھے۔

قاصد رسید نامہ رسید و خبر رسید
درحیر تم کہ جاں بکدامی کنم نثار



قاصد پہنچ گیا خط پہنچ گیا اور خبر بھی پہنچ گئی
میں حیران ہوں کہ اپنی جان کس کس پر نثار کروں



اُسی وقت خاکِ پا کو پانی میں حل کر کے نوش فرمایا اور اپنے شیخِ کامل سے محبت کامل اور عقیدے کی صحت و پختگی کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو تین روز میں مکمل شفاعطا فرمادی۔

یہ اللہ والے دیتے ہیں سب کچھ



مگر اِن سے چاہیے لینے کا ڈھب کچھ

۳۔ ایک مرتبہ خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ میرے ایک بچپن کے دوست اور ہم سبق مسمّی ’’حضرت جی‘‘ سے ملاقات کے لیے دل بہت بیقرار ہے جو پشاور شہر کے قرب و جوار میں رہتے ہیں اور ایک عرصہ سے اُن کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ دعا فرمائیں کہ ملاقات ہوجائے۔ آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ جنگل میں چل۔ وہاں پہنچ کر آپ مراقب ہوکر بیٹھ گئے اور حضرت خواجہ کو بھی مراقبہ کرنے کا حکم دیا۔

تھوڑی دیر کے بعد دیکھا کہ دور سے دو آدمی چلے آرہے ہیں۔ انہوں نے نزدیک آکر بڑے ادب سے ملاقات کی اور وہیں بیٹھ گئے۔ حضرت خواجہ محمدفیض اللہ نے بغور دیکھا تو اُن میں سے ایک اُن کے دوست ’’حضرت جی‘‘ تھے جن کی ملاقات کے لیے وہ مشتاق اور منتظر تھے۔ چنانچہ مل کر بہت خوش ہوئے۔ دریں اثنا حضرت خواجہ محمد عیسیٰ قدس سرہ نے ارشاد کیا کہ اے دیوانے! کیا تو دوسرے شخص کو پہچانتا ہے؟ خواجہ فیض اللہ نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ نے ارشاد کیا کہ یہ حضرتِ خضر علیہ السلام ہیں۔ ان سے ملاقات کرو اور جس چیز کی ضرورت ہو ان سے طلب کرو۔ خواجہ محمد فیض اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا کہ حضور!

’’مجھے جو کچھ ملنا ہے، آپ ہی سے ملنا ہے، اگر خضر علیہ السلام بھی ملے ہیں تو آپ ہی کی کرم نوازی سے ملے ہیں لہذا آپ کے درِ اقدس کو چھوڑ کر کسی اور کے دروازے سے کیوں مانگوں‘‘۔

زمانہ چھوٹ جائے لیکن تیرا در نہ چھوٹے گا



کہ ساقی تیرے میخواروں کو غدّاری نہیں آتی

آپ کو یہ بات بہت پسند آئی اور خواجہ محمد فیض اللہ کو گلے لگالیا اور سینہ روشن کردیا۔
2
وفات:
آپ کی وفات حسرت آیات ۷؍ ذی الحجہ۱۲۲۰ھ/۲۶؍ فروری ۱۸۰۶ھ کو ہوئی مرقدِ انور موضع ’’چودھواں‘‘ علاقہ گنڈہ پور تحصیل کلاچی ضِلع ڈیرہ اسمٰعیل خاں(صوبہ سرحد) میں زیارتِ گاہ خاص و عام ہے۔

آپ نے اپنے پیچھے تین صاحبزادے یادگار چھوڑے (۱) خواجہ پیر محمد (۲) خواجہ جان محمد (۳) خواجہ علی محمد۔ جب وقتِ وصال قریب آیا تو صاحبزادے خواجہ جان محمد اور خواجہ علی محمد بقیدِ حیات تھے۔ آپ نے دونوں کو وصیّت فرمائی کہ تم میرے بعد خواجہ محمد فیض اللہ سے تجدیدِ بیعت کرنا اور اُس وقت تک اُن کی خدمتِ بابرکت میں رہنا جب تک کہ تصوّف کی تمام منازل طے نہ ہوجائیں۔ چنانچہ حسبِ وصیّت دونوں صاحبزادے حضرت خواجہ محمد فیض اللہ کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے اور تجدیدِ بیعت کرکے چھ ماہ تک وہاں قیام فرمارہے اور اکتسابِ فیضِ باطنی کرتے رہے۔

جب مراحلِ تصوّف طے ہوگئے تو دونوں صاحبزادوں کو خرقۂ خلافت دیکھ کر بصد ادب و احترام اور اعزاز و اکرام سے واپس وطن بھیجا گیا۔ بعد ازیں تاحیات تیزئی شریف (تیراہ) میں حاضر ہوتے رہے۔ دونوں ہی صاحبِ باطن، صاحبِ کشف و کرامات اور صاحبِ حال تھے، بے شمار لوگوں نے اُن کے فیض سے استفادہ کیا۔ حضرت خواجہ محمد عیسیٰ قدس سرّہ کی رحلت کے بعد صاحبزادہ جان محمد سجادہ نشین ہُوئے۔

(تاریخِ مشائخ نقشبند)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-syed-muhammad-esa
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ حافظ عبدالخالق اویسی رحمۃ اللہ علیہ
آپ اویسیہ خاندان کے کبریٰ مشائخ اور عظیم اولیاء اللہ میں سے تھے۔ صاحب وجد و سماع تھے۔ ذوق و شوق کے مالک تھے۔ سکرو جذب میں یگانہ روزگار تھے فقر و تجدید میں بڑی ثابت قدمی سے رہے بڑے بلند رتبہ تھے۔ روحانی فیضان جناب حضرت قرنی قدس سرہ سے پایا تھا۔ صاحب اجازت تھے اور تلقین و ارشاد میں معروف ہوئے ساری زندگی لوگوں کی اصلاح و ہدایت میں گذار دی چونکہ آباواجداد سے علم و فضل کی دولت ملی تھی۔ اس لیے جامع فضل ظاہری و باطنی ہوگئے حافظ ظاہرین محمود بن حافظ یعقوب آپ کے والد ماجد تھے جن کا فتوی چلتا تھا۔ وہ عالم عامل اور حافظ کامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا راہ دکھانا چاہا تو سب سے پہلے حضرت بلہے شاہ قصوری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بھائی گل شیر کو بھی ساتھ لے کر حضرت شیخ عبدالحکیم قادری قدس سرہ (جو اس وقت قطب وقت تھے) کی خدمت میں حاضری دی۔ حضرت عبدالحکیم ان دنوں موضع تنبیہ میں رہتے تھے۔ حضرت شاہ عبدالحکیم نے مراقبہ فرمایا تو ان کے بھائی گل شیر کو تو بیعت کرلیا۔ مگر حضرت بلہے شاہ کو فرمایا کہ آپ حضرت شاہ عنایت قادری (قدس سرہ) کے پاس جاکر اپنا حصہ لے لیں خواجہ عبدالخالق کو فرمایا کہ تمہارا حصہ تو ایک ایسے شخص کے پاس ہے جو اس وقت دنیائے فانی سے رخصت ہوگیا ہے اب اپنے گھر میں گوشہ نشینی اختیار کرو اور اللہ کی عبادت اور ریاضت میں مشغول رہو۔ یاد رہے اس ذکر اور عبادت کے دوراں درود مستغاث کا ورد کرتے رہو۔ اس طرح اللہ کی جناب سے تمہارے پیر کا فیض خود بخود آتا رہا کرے گا۔ حضرت خواجہ وہاں سے رخصت ہوئے چند ماہ اسی حالت پر گزرے۔ حجرے میں پڑے رہتے درود مستغاث پڑھتے رہتے ناگاہ ایک دن ایسا ہوا۔ کہ ایک نورانی شخص سامنے آیا اور آتے ہی اسلام علیکم کہا حضرت خواجہ نے سلام کا جواب دیا۔ لیکن جونہی اس نورانی شخصیت سے آنکھیں ملائیں بے ہوش ہوکر گر پڑے سارا دن بے ہوش رہے شام کے وقت ہوش میں آئے تو دوبارہ عبادت میں مشغول ہوگئے دوسرے دن پھر وہی واقعہ پیش آیا مگر آپ کو یہ معلوم نہ ہوسکا۔ کہ یہ نورانی شکل والا کون ہے اور کہاں سے آیا ہے تیسرے دن زیارت ہوئی تو قدم پکڑ لیے۔ اور نام نامی دریافت کیا۔ اور ان کے مقام و مولد کا پوچھا۔ انہوں نے فرمایا ہمارا نام خواجہ اویس بن عامر قرنی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تمہاری راہنمائی کروں خواجہ عبدالخالق کو بیعت کیا یہ بات سنتے ہی آپ پھر بیہوش ہوکر گرپڑے تین دن رات ایسی کیفیت رہی تیسرے دن آپ کے ہمسایہ کے گھر سے سرود کی آوازیں بلند ہوئیں یہ آوازیں ایک شادی کی تقریب سے تھیں آپ نے ان گانے والوں کو اپنے پاس بلایا اور قوالی کرنے کا کہا آپ یہ سرود سن کر وجد میں جھومنےلگے یہ سلسلہ سارا دن رہا۔ ہوش میں آئے تو اپنے تمام متعلقین کو بلا کر فرمایا تمہیں مبارک ہو میرا کام مکمل ہوگیا ہے میں نے اپنے محبوب و مطلوب کو پالیا ہے۔

شیخ احمد بن محمود قدس سرہ نے ایک کتاب لطائف نفیسیہ فی فضائل اویسیہ لکھی ہے میں حضرت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ عبدالخاق قدس سرہ موضع ہانس پنجاب دریائے ستلج کے کنارے پر رہتے تھے۔ آپ حالت سکر و وجد میں اس حد تک مستغرق رہتے کہ نماز ادا کرنا بھی مشکل ہوگیا۔ جب دوسرے نمازیوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہوتے تو امام سے اللہ اکبر سنتے ہی بے ہوش کر گر پڑتے۔ رکوع۔ سجود اور دوسرے ارکان نماز ادا نہ کرسکتے تھے۔ جب آپ کی حالت سکر زیادہ دیر ہوتی تو قوالوں کو بلایا جاتا وہ مسجد کے دروازے کے سامنے سرود کا آغاز کرتے تو ان کی آواز سے آپ بے ہوشی اور سُکر سے وجد میں آتے۔ آپ اللہ اکبر کے علاوہ قرآن پاک کی آیتہ کریمہ سن کر بھی بے ہوش ہوجاتے سرود کی آواز آتی تو ہوش میں آتے چنانچہ شیخ احمد اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میں ایک بار بذات خود آپ کی خدمت میں موجود تھا۔ زیارت کی آفتاب روحانیت اویسیہ سے آپ کا چہر تاباں ہوتا میں نے آپ کے منہ سے ارشاد و تلقین کی باتیں سنیں۔ جس کا اثر زندگی بھر میرے دل و دماغ پر رہا۔

آپ کی وفات۷؍ذِوالحجہ ۱۸۵ھ میں ہوئی۔ مزار پُر انوار مبارک پور متصل بہاول پور مرجع خلایٔق ہے۔ آپ کے تین صاحبزادے حافظ صالح محمد۔ ولی محمد اور قطب الدین تھے تینوں اولیاء اللہ تھے۔ صاحب کرامت تھے وجد و سماع شوق ذوق کےمالک تھے قطب الدین تو عنفوان جوانی میں ہی وجد سماع کی حالت میں زور سے اڑے اور آسمانوں کی بلندیوں کی طرف پرواز کر گئے اور نظروں سے غائب ہوکر ابدالوں میں جاملے سید عارف آپ کے خلیفہ تھے۔ آپ کا مزار بریلی میں ہے۔ شیخ محرم بھی آپ کے خلیفہ خاص تھے ان کا مزار لیہ میں ہے خواجہ محکم الدین صاحب الیسر بھی آپ کے خلفاء عالی شان میں سے تھے۔

وصل شد چو باذاتِ حق چوں عبد خالق نامور
سال اوخورشید اجلال از خرد شد جلوہ گر
۱۱۸۵ھ



رفت روح پاک اوبر عرش از فرش زمین
ہم دگر محبوب خالق ہادی راہ یقین
۱۱۸۵ھ0

( خذینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-hafiz-abdul-khaliq-owaisi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1