🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-12-1444 ᴴ | 24-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-12-1444 ᴴ | 24-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
یوگا ورزش ہے یا کچھ اور؟

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

اکیس جون کو عالمی یوگا ڈے(Yoga Day) منایا گیا۔اس بار سرکاری مدارس میں بھی یوگا کی مشقیں خوب کی گئیں جس پر مذہبی طبقے میں کافی چہ می گوئیاں ہوئیں اور اس پر دو الگ الگ رائیں سامنے آئیں۔بعض حضرات کے نزدیک یوگا صرف ایک کسرت اور جسمانی ورزش کا نام ہے جس کا کسی مذہب یا مذہبی رسومات سے کوئی لینا دینا نہیں جب کہ دوسرے حضرات کا ماننا یہ ہے کہ یوگا ایک ہندوانہ رسم اور شرکیہ ثقافت کا حصہ ہے جس سے پرہیز ضروری ہے۔اس سلسلے میں ہم نے بھی یوگا کو جاننے سمجھنے کی تھوڑی بہت کوشش کی، حالیہ تحریر اسی کا خلاصہ اور لب لباب ہے۔

_____یوگا کسے کہتے ہیں؟

ہندو مفکرین اور کتابوں کے مطابق یوگا سنسکرت کے لفظ یُج(:युज) سے بنا ہے، جسے ہندی میں یوگ اور انگریزی میں یوگا کہتے ہیں۔جس کا لغوی معنی جوڑنا ہے، پنڈت مدن موہن جھا نے لکھا ہے:
"یوگا کا لغوی مطلب جوڑنا ہے جب کہ اصطلاح میں وہ طریقہ ہے جس میں آتما(روح) کو پرماتما سے جوڑا جاتا ہے۔(ہندی شبد کوش)

ویدانتی فلسفے کے مطابق انسان اور پرماتما کے ملن کا نام ہی یوگ ہے۔
اسکندھ پران(स्कंध पुराण) کے مطابق کے جِیو آتما(روح) اور پرماتما کا الگ الگ ہونا ہی تکلیفوں کا سبب ہے۔ان کا ایک ہوجانا ہی یوگ ہے۔
لنگ پران(लिंग पुराण) کے مطابق ذہن کی سبھی عادتوں کو ختم کر دینا ہی یوگ ہے۔
کٹھوپ نِشد( कठोपनिषद) کے مطابق جب حواس خمسہ دل کے ساتھ قرار پاجاتے ہیں تو دل دماغ کے ساتھ جا ملتا ہے، اسی حالت کو یوگ کہتے ہیں۔پھر اس میں اچھے سنسکار (اچھی تہذیب) آنے لگتی ہے اور برے سَنسکار ختم ہونے لگتے ہیں۔
یوگی رام چَرَک(राम चरक) کے مطابق ہم سبھی لامحدو طاقت کے مالک ہیں اور اس طاقت کے رازوں سے شناسائی یوگ میں پوشیدہ ہے۔
(یوگ ایوم آیروید ص 2،3 اتراکھنڈ مکت وشوادھالیہ)

ان حوالہ جات سے ثابت ہوجاتا ہے کہ یوگا صرف ایک کسرت نہیں بل کہ خاص مذہبی عمل کا نام ہے، ہاں اس مذہبی عمل میں کچھ پوزیشن ایسی ہیں جو ورزش جیسی ہیں۔اس لیے جو لوگ اسے صرف کسرت/ریاضت بدنیہ اور ورزش ہی سمجھ رہے ہیں وہ شاید اس کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں۔

یوگا کی عالمی پہچان__

یوں تو یوگا ہندو سماج میں صدیوں سے رائج ہے۔بھارت کے رشی مُنی اور جوگی صدیوں سے جنگلوں، پہاڑوں اور آشرموں میں یوگا کی تعلیم وتربیت دیتے رہے ہیں لیکن اس عمل کو عالمی پہچان بی جے پی نے دلائی۔مئی 2014 میں بی جے پی کی حکومت بنی اور 11 دسمبر 2014 کو یوگا کو اقوام متحدہ میں منظوری مل گئی۔اکیس جون کو عالمی یوگا ڈے کے طور پر منایا جانا منظور ہوا۔پہلی بار اکیس جون 2015 کو عالمی یوگا ڈے منایا گیا۔اس کے بعد سے ہر سال یہ دن عالمی پیمانے پر منایا جاتا ہے۔
جو لوگ اسے صرف کسرت یا ورزش مانتے ہیں،وہ غور کریں کہ صرف کسرت وورزش کو عالمی پہچان دلانے کے لیے بی جے پی کو محنت کرنے کی کیا ضرورت تھی، کیا بھارت کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی کسرت اور ورزش کا تصور نہیں ہے؟
پوری دنیا میں صحت وتندرستی کے حوالے سے بڑی بیداری پائی جاتی ہے۔یوروپ ہو یا خطہ عرب، افریقہ ہو کہ ایشیائی ممالک ہر جگہ صحت وتندرستی کے ہزارہا طریقے رائج ہیں۔اہل چین وجاپان کے کراٹے اور افریقی باشندوں کی جسمانی قوت کس سے پوشیدہ ہے۔عربوں کی قابل رشک صحت اور یورپین باشندوں کی صحت سے متعلق سنجیدگی سے دنیا واقف ہے، ایسے میں بھاجپا کو بھاگ دوڑ کی کیا پڑی تھی؟ اصل میں یہ صرف ورزش ہے ہی نہیں یہ ہندو روایات کا اہم حصہ ہے۔اسی لیے بی جے پی اس ہندو روایت کو عالمی پہچان دلانا چاہتی تھی۔اگر یہ صرف کسرت ہوتی تو کسرت کے لیے ہندی میں وِیَایَام(व्यायाम) کا لفظ آتا ہے، اسے استعمال کیا جاتا، یوگا نہیں۔یوگا ان کے یہاں کتنا محترم لفظ ہے اس کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ ہندو سماج میں یوگا کرنے والے ہر شخص کو یوگی نہیں کہا جاتا بل کہ جو شخص یوگ کو علی وجہ الکمال اختیار کرتا ہے اسے ہی یوگی کا خطاب دیا جاتا ہے۔اگر یہ صرف کسرت و ورزش ہوتی تو ہر کسرت کرنے والے کو یوگی کہا جاتا مگر ایسا نہیں ہے۔
یوگا میں اصولی طور پر صرف وہی آسن استعمال کیے جاتے ہیں جو رشی مُنیوں سے منقول اور دیوتاؤں سے منسوب ہیں۔چند آسنوں کی تفصیل یہ ہے:
🔸یوگا کی شروعات سوریہ نمسکار آسن سے ہوتی ہے جس میں انسان بائیں ٹانگ پر کھڑا ہوتا ہے اور دائیں ٹانگ موڑ کر بائیں گھٹنے پر رکھتا ہے۔سر سیدھا اور دونوں ہاتھوں کو نمسکار کے انداز میں جوڑ کر آسمان کی جانب بلند کیا جاتا ہے۔
🔹نٹ راج آسن: اسے ہندو دیوتا شِو کی وجہ سے شِو آسن بھی کہا جاتا ہے۔اس میں بائیں پیر پر کھڑا ہوکر داہنا پیر پیچھے کی جانب لیجاتے ہیں اور داہنے ہاتھ سے اسے پکڑ کر آگے کی جانب جھکتے ہیں۔
1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
🔸شو آسن کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان آلتی پالتی بیٹھتا ہے اور اپنے دونوں پاؤں کے تلوے جانگھوں کی طرف نکال لیتا ہے۔
🔹پدماسن؛ اس آسن میں آرام سے بیٹھ کر ناک پر انگلی رکھ کر آہستہ آہستہ سانس لی اور چھوڑی جاتی اور اس درمیان اوم کا جاپ کیا جاتا ہے۔

آسنوں کی مختصر تفصیل سے بھی یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یوگا صرف ورزش نہیں ہندو ثقافت اور ان کی تہذیبی روایت ہے۔ورنہ ورزش میں تو کوئی بھی مفید طریقہ شامل ہوسکتا ہے۔پھر بھی جو لوگ اسے صرف ورزش ماننے کی ضد پر ہیں انہیں رَشمی پٹیل نامی ہندو اسکالر کا یہ اقتباس پڑھنا چاہیے:
"اگر آپ کو لگتا ہے کہ یوگا کا مطلب صرف جسم کو الگ الگ طریقے سے موڑنا ہے تو پھر وقت آگیا ہے کہ آپ اپنے نظریے پر پھر سے غور کریں یوگا صرف چند پوزیشنوں تک محدود نہیں ہے بل کہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔"
(یوگ کیا ہے، از رشمی پٹیل Leverageedu. com)

اکابر علما سے گزارش___

حکومت کی حالیہ پالیسیاں اور نطریاتی ایجنڈا کسی سے چھپا نہیں ہے۔یوگا کا مسئلہ نیا نہیں ہے اس سے پہلے جن گن من کا مسئلہ تھا، اگر کل عزیمت سے کام لیا گیا ہوتا تو شاید آج بات یہاں تک نہ پہنچتی۔کوئی خواب خرگوش میں نہ رہے کہ بات صرف یوگا تک ہی رک جائے گی آگے سرس وتی وَندنا، ہولی ،دیوالی، مہا بھارت اور رام کتھا کے ترغیبی واقعات پر संगोष्ठी اور سیمینار کا حکم بھی جاری ہو سکتا ہے۔اس لیے سنجیدگی، حکمت اور غیرت ایمانی کے ساتھ شرعی سیمینار بلائیں۔موجودہ اور آئندہ آنے والے مسائل کے متعلق شرعی خطوط متعین کرکے متفقہ فیصلہ لیں تاکہ سرکاری مدارس کے ساتھ ساتھ پرائی ویٹ مدارس اور عام مسلمان بھی بغیر شش وپنج کے خود کو ابتلا و آزمائش سے بچا سکیں۔ابھی بھی بہت سارے علما ناواقف ہیں، یا ناواقف دکھنے کی کوشش میں ہیں۔کیوں کہ ابھی تک جماعتی سطح پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے اس لیے ابھی سب کچھ جس کی جیسی مرضی مطابق چل رہا ہے۔اگر حالیہ معاملے کو یوں ہی چھوڑ دیا گیا یا ورزش کی چند پوزیشن اور کفریہ شرکیہ منتروں کے ترک کے ساتھ قبول کر لیا گیا تو کل کو یہ مطالبہ ہولی کے رنگ، دیوالی کے چراغ اور رکھشا بندھن کی راکھی اپنانے تک بھی پہنچے گا، آپ کفریہ شرکیہ کلمات کی بنیاد پر منع کریں گے تو کہہ دیا جائے گا آپ آیت قرآنی صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً پڑھ کر رنگ لگائیں، اندھیرا دور کرنے کی نیت سے دیوالی پر چراغ جلائیں اور حفاظت کی نیت کے ساتھ لڑکی سے راکھی بندھوائیں۔

ذرا سوچیں!
اس وقت ہمارے پاس بچاؤ کا کیا راستہ ہوگا؟ کیوں کہ اس وقت بھی جواز کی دلیل وہی رہے گی جو آج یوگا کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔اس لیے جو علما یوگا کے پس منظر سے ناواقف ہیں وہ معلومات حاصل کریں اور مفتیان کرام اس پر شرعی تقاضوں کے مطابق حکم شرع بیان کریں تاکہ مدارس کا وقار بھی سلامت رہے اور اہل ایمان بھی تہذیبی ارتداد کے فتنے سے محفوظ رہیں۔

٤ ذوالحجہ ١٤٤٤ھ
23 جون 2023 بروز جمعہ
3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام محمد تقی جواد رضی اللہ عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
محمد ۔ کنیت: ابو جعفر ۔ لقب: تقی، جواد، قانع، مرتضیٰ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد تقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام محمد جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن حضرت علی بن ابی طالب ۔

آپ کی والدہ کا اسم گرامی ریحان یا سکینہ یا خیزران تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 10 رجب المرجب 195ھ / بمطابق اپریل 811ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
خاندانی روایت کے مطابق آپ نے تمام علومِ ظاہری وباطنی کی تحصیل اپنے والدِ گرامی اور دیگر شیوخ سے فرمائی۔ آپ اپنے وقت کے علماء و مشائخ میں علم و عمل، اور ہر لحاظ سے ممتاز تھے ۔

شواہد النبوت میں ہے:
کہ حضرت امام تقی رضی اللہ عنہ صغر سنی میں علم و ادب اور فضل میں اس قدر ترقی کر چکے تھے کہ اس زمانے میں کسی کو ایسے ظاہری و باطنی کمالات حاصل نہ تھے ۔

بیعت وخلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کے جانشین و خلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
امام الاولیاء و الاصفیاء، ساداتِ کرام کے نیر عظیم ، خانوادۂ نبوت کے سراج منیر ابو جعفر حضرت امام محمد تقی جواد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

آپ آئمۂ اہلِ بیت کے نویں امام ہیں ۔ آپ حسن جمال و علمی کمالات اور جملہ خصائل میں مثل آباء کرام رضی اللہ عنہ کے تھے، بڑے عالم، بڑے عاقل، بڑے حاضر جواب اور صاحبِ کشف و کرامات تھے، خورد سالی میں مراتبِ امامت کو پہنچے، اِن کے فیض باطن سے بہت لوگ مستفیض ہوئے،

خلیفہ مامون الرشید اِن کی کمال تعظیم و توقیر کرتا تھا، جس قدر اِن کے علم و فضل و کمالِ عقل اور فہم و فراست کی حقیقت اُس پر کھُلتی گئی، اُسی قدر وہ تعظیم و تکریم میں مبالغہ کرتا گیا، آخر اپنی بیٹی امّ الفضل سے اِنکا نِکاح کر دیا، اور ہزار دینار خرچ سالانہ آپ کو  نذرانہ پیش کرتا رہا ۔

ایک بار خلیفہ مامون نے قاضی یحییٰ بن اکثم رحمۃ اللہ علیہ سے جو متبحر عالم تھا، اِن کا مناظرہ کروایا، جس میں وہ نہایت لاجواب ہوا، اور اِن کو نمایاں فتح ہوئی، اور اراکینِ دولت و اعیانِ سلطنت کی طرف سے احسنت احسنت کے آوازے آنے لگے ۔

روحانی قوت و تصرف کایہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ مدینۃ المنورہ جا رہے تھے۔ جب کوفہ پہنچے شام کے وقت مسجد میں قیام فرمایا۔ مسجد کے صحن میں ایک بیری کا درخت تھا جو بالکل خشک تھا۔ آپ نے پانی کا کوزہ منگوا کر اس درخت کے نیچے وضو کیا اور مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ اس کے بعد آپ اس درخت کے نیچے پہنچے، تو دیکھا کہ بغیر گٹھلی کے درخت پر پھل آ گیا اور لوگوں نے تازہ اور میٹھا پھل بطور تبر ک حاصل کیا اور کھایا، اور بعد میں بطورِ تبرک لوگ  اس سے پھل لے جاتے تھے ۔

اسی طرح جب خلیفہ مأمون فوت ہوا تو امام موصوف نے فرمایا کہ میری وفات مامون کی وفات کے تیس ماہ بعد ہوگی۔ چنانچہ یہی ہوا کہ مامون کی وفات کےتیس ماہ بعد امام صاحب کا بھی وصال ہو گیا۔ (بارہ امام: 202) ـ

وصال:
آپ کا وصال 6 ذو الحجہ 220ھ / بمطابق نومبر 835ء کو ہوا ۔ آپ کی قبر انور (بغداد شریف، عراق) میں اپنے جد مکرم حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے مقبرے میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ شواہد النبوت ۔ بارہ امام ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-muhammad-taqi-jawwad
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امیر سید علی بن شہاب بن محمد ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ علوم ظاہری و باطنی کے جامعی تھے ۔ ان کے اہل باطن کے علوم میں مشہور تصانیف ہیں ۔ جیسے " کتاب اسرار النفیظہ شرح اسماء اللہ " شرح فصوص الحکم " شرح قصیدہ حمزیہ فارضیہ " ـ

آپ شیخ شرف الدین محمود بن عبد اللہ نمروقانی کے مرید ہیں ۔ لیکن طریقت کا کسب اقطاب میں صاحب السر تقی الدین علی دوسی سے کیا ہے ۔

جب شیخ تقی الدین رحلت فرما گئے ۔ تو پھر شیخ شرف الدین محمود کی طرف رجوع کیا، اور کہا، کیا حکم ہے ۔ انہوں نے توجہ کی اور کہا حکم یہ ہے کہ جہان کے گرد پھرے ۔ تین دفعہ تمام دنیا کا سیر کیا اور ۱۴۰۰ ولیوں سے ملے اور چار سو ولیوں کو ایک مجلس میں پایا ۔

وصال:
4 ذی الحجہ ۷۸۶ھ میں کبر و سواد ولایت کے نزدیک فوت ہوئے ۔

وہاں سے ان کو ختلان میں نقل کر کے لے گئے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-ameer-ali-bin-shahab-bin-muhammad-hamdani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-12-1444 ᴴ | 24-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-12-1444 ᴴ | 25-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1