🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ محمد بن شجاع ثلجی بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

محمد بن شجاع ثلجی بغدادی المعروف بہ ابن الثلجی: ماہ رمضان ۱۸۱ھ؁ میں پیدا ہوئے،اپنے وقت کے فقیہ اہل عراق محدث متورع عابد قاری اور بحور العلم تھے۔کنیت ابو عبد اللہ تھی،فقہ حسن بن مالک اور حسنبن زیاد سے حاصل کی اور حدیث کو یحییٰ بن آدم اور اسمٰعیل عیّہ اور وکیع اور ابی اسامہ اور محمد بن عمر راقد ہی سے سُنا اور روایت کیا اور آپ سے یعقوب بن شیبہ اور اس کے پوتے محمد بن یعقوب نے روایت کی لیکن چونکہ آپ مہتم بہ مذہب مشتبہ تھے اس لیے محدثین کے نزدیک آپ متررک ہیں، گوہذاتہ کاملین میں سے تھے۔

بد رالدین عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں لکھا ہے کہ ثلجی آپ کو اس لیے کہتے ہیں کہ آپ ثلج بن عمر ابن مالک بن عبد مناف ک ی طرف منسوب تھے اور اہل حدیث نے جو آپ پر بڑی تشنیع کی ہے اور ابن عدی سے ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ آپ تشبیہ میں حدیثیں وضع کر کے اہل حدیث کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔

پیرایۂ صدق سے یہ بات عاری معلوم ہوتی ہے کیونکہ جس صورت میں آپ نے فرقہ مشہبہ کی تردیدی میں کتاب تصنیف کی ہے تو یہ الزام آپ پر کس طرح صحیح آ سکتا ہے حالانکہ آپ بڑے متدین صالح عابد اپنے وقت میں فقیہ اہل حنفیہ تھے، مدت تک آپ بغداد کے قاضی رہے ۔

آپ نے کتاب تصحیح الآثار، کتاب النوادار، کتاب المضاربہ، کتاب الرو علی المشبہ، کتاب المناسک کچھ اوپر ساٹھ جزو کبیر میں تصنیف کی ـ

اور پچاسی سال کی عمر میں بتاریخ ۴؍ماہ ذی الحجہ ۲۶۶ھ نماز عصر کی پڑھتے ہوئے سجدہ میں جان بحق تسلیم ہوئے ۔

ابو الحسن بن علی بن صالح اپنے دادا سے حکایت کرتے ہیں کہ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھ کو اسی مکان میں دفن کرنا کیونکہ اس مکان کی ایسی کوئی اینٹ نہیں کہ جس پر میں نے بیٹھ کر قرآن شریف کا ختم نہ کیاہو۔’’زیب الوریٰ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-shuja-salji-baghdadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ عبد الرحمٰن بن قاضی القضاۃ رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام عبد الرحمٰن بن قاضی القضاۃ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد دیری اور لقب امین الدین تھا۔

تاریخِ ولادت:
آپ 820 ھ سے پہلے پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے ملک کےعلماء وفضلاء سے علم حاصل کرکےجامعِ علومِ عقلیہ ونقلیہ اور فائقِ زمانہ ہوئے۔

سیرت و خصائص:
شیخ عبد الرحمٰن بن قاضی القضاۃ کی ذات و شخصیت علم واخلاق کی وجہ سے دیگر تمام لوگوں سے ممتاز تھی۔آپ نےدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ مخلوق کی بھی خدمت کی چناچہ آپ کے بھائی قاضی القضاۃ سعد الدین سعد دیری سے جب وہ کبیر السن ہوئے تو ولایتِ مصر کی قضا حاصل کی، اور نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اس عہدے کے تمام حقوق کامل طریقے سے ادا کئے۔( کسی عہدے پر فائز ہونے کے لئے اس کا اہل ہونا ضروری ہے، نااہل ہونے کی صورت میں وہ خود بھی ہلاک ہوگا اور اپنے ساتھ پورے ملک کو بھی لے ڈوبے گا، یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ہر دور میں جسے جو عہدہ ملا وہ اہلیت کی بنا پر ملا جیسا کہ شیخ عبد الرحمٰن علیہ الرحمہ کو ملا،سفارش اور دیگر ناجائز طریقوں سے کسی کو عہدہ نہیں ملا جیسا کہ آج کل ہورہا ہے کہ سفارش اور بھاری رقم دیکر کسی بھی منصب پر فائز کیا جاسکتا ہے اس روش نے ملک کا جو حال بگاڑ کر رکھا ہےوہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، سب پر عیاں ہے۔ ہماری حکومت کو چاہئے کہ جس کسی کو کوئی عہدہ دینا ہوتو اہلیت کی بنا پر دیا جائے سفارش و رقم کو نہ دیکھا جائے اور ان میں بھی علماء کو ترجیح دی جائے۔)

وصال:
آپ کا وصال 4 ذو الحجہ 856 ھ بمطابق 15 دسمبر 1452ء کو ہوا ۔

ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-rehman-bin-shamsuddin
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا شاہ محمد شفیع بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت شاہ عین الحق عبد المجید بد ایونی قدس سرہٗ کے منجھلے بھائی، محمد شفیع نام ـ

ولادت:
آپ 6 رمضان المبارک ۱۱۸۴ھ میں پیدا ہوئے ـ والد ماجد اور حضرت مولانا محمد علی بحر العلوم بد ایونی سے تحصیل علم کیا، نہایت متواضع اور بردبار تھے،

وصال:
4 ذی الحجہ ۱۲۵۸ھ میں بعد مغرب انتقال ہوا،۔۔۔ ‘‘عالم ذی وقار وباکمال’’ فقرۂ سال وفات ہے، عالم متجر تھے، درس بھی خوب دیتے تھے ۔

( اکمل التاریخ جلد اول )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-shafi-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شارح بخاری، شیخ الاسلام، حضرت امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمود ۔ کنیت: ابو محمد ـ لقب: بدر الدین، امام عینی، قاضی الشام ۔ عرفی نام: شارحِ بخاری امام بدر الدین عینی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمود بن احمد بن موسیٰ بن احمد بن حسین بن یوسف بن محمود عینی حنفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

آپ کے والد اور دادا دونوں قاضی تھے ۔ آپ کے اجداد میں حسین بن یوسف بہت ہی معروف " مفسرِ قرآن " تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26 رمضان 762ھ، مطابق 30 جولائی 1361ء کو قلعہ " عین تاب " حلب، شام میں ہوئی ۔ اسی عین تاب کی نسبت سے آپ کو "عینی " کہا جاتا ہے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن اپنے والدِ گرامی سے کیا ۔ فقہِ حنفی جمال الدین یوسف بن موسی ملطی، اور ملک العلماء علاؤ الدین سیرامی، شیخ تقی الدین، اور شیخ زین الدین عراقی، شیخ سراج الدین بلقینی، وغیرہ جید علماء سے علمی استفادہ کیا ۔ علم کے لئے آپ نے دور دراز علاقوں کا سفر کیا ۔

سیرت و خصائص:
شیخ المحدثین، امام المتکلمین، رأس المفسرین، مؤید الحنفیین، قاضی الاسلام والمسلمین، حافظ و شارح الاحادیثِ سید المرسلین، استاذ الفقہاء الکاملین، جامع المنقولاتِ والمعقولات، شارحِ بخاری حضرت امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ ۔

امام فاضل، محدث کامل، فقیہ بے عدیل، علامہ بے تمثیل، عارف عربیت و تصریف، حافظ لغت، سریع الکتابت، تخریج احادیث اور اور ان کے کشف معانی میں وسعت کامل رکھتے تھے ۔

آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ آپ کی " عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری " سے لگایا جا سکتا ہے ۔

شیخ ابو المعالی حسینی فرماتے ہیں:
امام، عالم، علامہ، حافظ، متقی، وحیدِ زمانہ، استاذ الکل، امام المحدثین، منفرد فی الروایۃ والدرایۃ، معاندین پر اللہ کی حجت، اور بدمذہبوں پر قاہر، امام بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ نے صحیح بخاری کی ایسی شرح لکھی جس کی مثال ہمیں نہیں ملتی ۔ اپنے معاصرین میں علم و عمل تقویٰ و دیانت، فقہ اور حدیث میں بِالخصوص اور جملہ علوم میں بالعموم یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ (مقدمہ عمدۃ القاری ص:14)

آپ کو عہدۂ قضا بغیر طلب کے دیا گیا، آپ نے عدل و انصاف کی مثال قائم کر دی تھی ۔ اس کے علاوہ دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ لیکن آپ نے درس و تدریس، تصنیف و تالیف کو ہمیشہ جاری و ساری رکھا ۔

بستان المحدثین میں ہے:
کہ جب سلطان نے " مدرسہ مؤیدیہ " کو بنوایا اس کے مناروں میں سے ایک منارہ جو بُرج شمالی پر بنا ہوا تھا ٹیڑھا ہو کر گرنے کے قریب ہو گیا ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو گرا کر از سر نو تیار کرایا جائے ۔ اتفاقاً اس وقت " علامہ عینی " اس کے سایہ میں بیٹھے ہوئے درس دے رہے تھے ۔ علامہ ابنِ حجر اور حافظ عینی میں معاصرانہ چشمک تھی ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے مندرجہ ذیل اشعار لکھ کر بادشاہ کے حضور میں پڑھے:

لجامع مولانا المؤید رونق
منارتہ تزھو بالحسن وبالزین

تقول و قدمالت علیہھم امہلوا
فلیس علیٰ حسنی اضر من العین

ترجمہ:
جامع مؤید بڑی با رونق ہے، اس کا منارہ بہت حسین و جمیل تھا، وہ جھکتے وقت زبانِ حال سے کہ رہا تھا کہ مجھے چھوڑ دو کیونکہ میرے جمال کے لئے اصل نقصان دہ " عین " یعنی نظرِ بد ہے ۔ عین سے انہوں نے تعریض کی ۔

علامہ عینی کو جب ان اشعار کا معلوم ہوا تو علامہ ابنِ حجر کی طرف یہ اشعار لکھ بھیجے ۔

منارۃ کعروس الحسن قد حلیت
وھد مھا بقضاء اللہ والقدر

قالوا اصیبت بعین قلت ذاغلط
ما اوجب اٰفۃ الحجر الا خسۃ الحجر

ترجمہ:
وہ منارہ دلہن کی طرح حسین اور خوبصورت تھا ۔ جس کا گرنا حقیقت میں قضا و قدر کے سبب سے تھا ۔ لوگوں نے کہا: اس کو نظر لگ گئی، میں کہتا ہوں: وہ غلط ہیں ۔ لیکن اس کو گرانے کا سبب " حجر " کی خستہ حالی تھی ۔

آپ نے اپنی کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں احناف کی وکالت کا حق ادا کر دیا ہے ۔ جہاں امام بخاری علیہ الرحمہ نے بعض مقامات پر " بعض الناس " سے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کیے ہیں، ایسے مقامات پر امام المحدثین حافظ عینی علیہ الرحمہ نے امام اعظم کے دفاع کا حق ادا کر دیا ہے ۔ یہ آپ کا احناف پر بہت بڑ احسان ہے ۔ تمام علماءِ احناف کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مقلدین آپ کی شرح پر غیر مہذبانہ الزام لگاتے ہیں، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

وصال:
آپ کا وصال 4 ذوالحج 855ھ، 28 دسمبر 1451ء کو ہوا ۔ اپنی مسجد اور مدرسے کے صحن میں دفن کیے گئے ۔ آپ کی قبر " قاہرہ " مصر میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ مقدمہ عمدۃ القاری مطبوعہ بیروت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/shareh-bukhari-hazrat-allama-imam-badruddin-aini
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، شیخ العرب والعجم قُطبِ مدینہ، حضرت علامہ ضیاء الدین احمد قادری مدنی رضی الله تعالیٰ عنه

نام و القاب:
اسمِ گرامی: ضیاء الدین احمد ۔ تاریخی نام: احمد مختار ـ اَلقابات: قطبِ مدینہ، ضیاء المشائخ، ضیاءالملت، شیخ العرب والعجم، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، آفتابِ رضویت، مقتدائے اہلِ سنّت، مشہور ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ضیاء الدین احمد مدنی بن شیخ عبد العظیم بن شیخ قطب الدین ۔

آپ کے اَجداد میں آفتابِ پنجاب امام العصر حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی علیہ الرحمہ بہت مشہور عالم گزرے ہیں۔

حضرت سیّدی قطبِ مدینہ کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت سیّدنا عبدالرحمٰن بن حضرت سیّدنا ابوبکر صدّیق رضی الله تعالیٰ عنہما سے ملتا ہے ۔ اس لحاظ سے آپ ’’صدّیقی‘‘ ہوئے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

ولادت:
حضرت سیّدی قطبِ مدینہ کی ولادتِ باسعادت بروز پیر، ماہِ ربیع الاوّل 1294ھ مطابق مارچ 1877ء کو بمقام کلاس والا ضلع سیالکوٹ (پنجاب، پاکستان) میں ہوئی ۔ (سیّدی ضیاءالدین احمد القادری، ص: 162)

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے جدِّ مکرم شیخ قطب الدین علیہ الرحمہ سے حاصل کی ۔ پھر عالم و عارف حضرت مولانا محمد حسین نقشبندی پسروری علیہ الرحمہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ اس کے بعد لاہور میں شیخ العرفاء مفتیِ اعظم حضرت علامہ مولانا غلام قادر بھیروی (خطیب بیگم شاہی مسجد) سے ڈیڑھ سال تک علوم اخذ کیے اور پھر لاہور سے پیلی بھیت تشریف لے گئے ۔

پیلی بھیت میں محدثِ کبیر حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ سےحصولِ علمِ حدیث کیا اور تقریباً 4 سال حضرت محدث سورتی کی خدمت میں رہ کر تمام علومِ دینیہ کی تکمیل کی اور دورۂ حدیث کے بعد سندِ فراغت حاصل کی ـ

اور شیخ الاسلام مجددِ دین وملّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ نے اپنے دستِ مبارک سے دستار بندی کی ۔

بیعت و خلافت:
پیلی بھیت میں قیام کے دوران آپ ہر جمعرات کو مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ اور مولانا عبد الرحمٰن اعظم گڑھی علیہ الرحمہ کے ہمراہ بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قُدِّسَ سِرُّہٗ کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔

رات کو اعلیٰ حضرت کے ہاں قیام ہوتا، دوسرے دن جمعۃ المبارک کی نماز ادا کرکے واپس پیلی بھیت آ جاتے ۔ ساڑھے تین برس یہ ہی معمول رہا اور اسی طرح آپ اعلیٰ حضرت کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے ۔ اسی دوران سلسلۂ ارادت میں داخل ہوئے ۔ 1315ھ مطابق 1897ء میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ نے حضرت قطبِ مدینہ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی، اس وقت آپ کی عمر اکیس سال تھی ۔ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ کے علاوہ دیگر کئی شیوخ سے بھی آپ کو اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
1
سیرت و خصائص:
قطبِ مدینہ، میزبانِ مہمانانِ مدینہ، ضیاء المشائخ، ضیاء الملت، شیخ العرب والعجم، عارف باللہ، ولیِ کامل، نمونۂ اسلاف، واقفِ علومِ شریعت، مرشِدِ طریقت، کاشفِ اسرارِ حقیقت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، آفتابِ رضویت، مقتدائے اہلِ سنّت، فخرِ متأخرین، بقیۃ سلفِ صالحین، متصف باوصافِ رسول اللہ ﷺ، نمونۂ اصحابِ رسولِ کریم ﷺ حضرت علامہ مولانا شیخ ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔

آپ کے اخلاق حضور فخرِ دو عالم سیّد الکونین صاحبِ خُلق عظیم احمدِ مجتبیٰ حضرت محمدِ مصطفیٰ ﷺ کے ارشاداتِ عالیہ کے عین مطابق تھے ۔ سنّتِ نبوی علیہ التحیۃ والثنا کی اتباع آپ کی زندگی کا مقصد تھا ۔ آپ سے مستحبات بھی کبھی ترک نہیں ہوئے ۔ مہمانوں کی خدمت خود کرتے ۔ آپ بہت سادہ و زاہدانہ طور پر زندگی بسر کرتے تھے ۔ آپ کا قلب تجلیاتِ و انوارِ قادریہ سے مُتَجَلّٰی تھا ۔ آپ حقیقتاً امامِ  اہلِ سنّت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نائب اور ان کے کرمِ خاص سے ممتاز تھے ۔ آپ عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار تھے ۔ آپ کی ساری زندگی کی متاعِ کُل عشقِ مصطفیٰ ﷺ تھا، جو آپ کو امام العاشقین اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلبِ مبارک سے ملا تھا ۔ آپ کا اصل مشغلہ محبتِ رسول ﷺ کو عام کرنا تھا ۔ دن ہو یا رات، آپ کی ہر محفل و مجلس ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے آباد ہوتی ۔ آپ کی بارگاہ میں عرب وعجم کے ہر علاقے کے لوگ حاضر ہوتے اور اپنی اپنی زبان میں نعتِ مصطفیٰ ﷺ سے دلوں کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے لبریز کرتے ۔

بالخصوص جب دیارِ حبیب ﷺ میں امامِ اہلِ سنّت کا کلام پڑھا جاتا تو محفل پر ایک وجد طاری ہو جاتا تھا، اور عشقِِ حبیب ﷺ سے زندگی میں بہار آجاتی تھی ۔ آپ کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ سب سے بڑی قوت ہے، اور  عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی سب سے بڑی طاقت ہے، اور یہی حقیقتاً دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔

حضرت شیخ کی متوکلانہ زندگی، زہد و تقویٰ، علم و فضل، ولولۂ تبلیغ و ارشاد، امّت کا درد، دینی اخلاص، ریاضت و مجاہدہ، بارگاہِ رسالت میں تقربِ خاص اور باطنی کمالات کی بنیادوں پر دنیائے اسلام کے علما و مشاہیر اور مشائخِ کبار  انہیں ’’قطبِ مدینہ‘‘ کہتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبرِ  انور پر اپنی بے بہا  رحمتوں کا نزول فرمائے، اور آپ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہمارا ادارہ ’’انجمن ضیائے  طیبہ‘‘ جو کہ آپ کے اسم شریف سے موسوم ہے، کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا  فرما کر اِتحاد و فروغِ اہلِ سنّت کا داعی بنائے ۔ (آمین)

وصال:
آپ کا وصال 4 ذوالحجہ 1401ھ مطابق 2 اکتوبر 1981ء کو مدینۃ الرسول ﷺ میں ہوا ۔

مزارِ پُر اَنوار:
آپ کی تدفین جنۃ البقیع میں ہوئی۔

مآخذ و مراجع:
سیّدی ضیاء الدین احمد القادری ـ
قطبِ مدینہ کا سفرِ آخرت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/qutb-e-madina-khawaja-shah-ziauddin-ahmed-madani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-12-1444 ᴴ | 22-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-12-1444 ᴴ | 23-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1