🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
غوث زماں حضرت خواجہ محمد عبد الرحمن چھوہروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ عبدالرحمن ۔ لقب: غوثِ زمان ۔ چھوہر کی نسبت سے " چھوہروی " کہلائے ۔ والد کااسمِ گرامی: خواجہ فقیر محمد المعروف بہ خواجہ خضری رحمۃ اللہ علیہ ـ

آپ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ آپ کا لقب " غوثِ وقت " تھا ۔ آپ نسباً علوی ، مذہباً حنفی، مشرباً، قادری تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1262ھ، بمطابق 1846ء کو ایک گاؤں " چھوہر " (نزد ہری پور ہزارہ، خیبر پختون خواہ، پاکستان) میں ہوئی ۔ آٹھ سال کی عمر میں والدِ گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے صرف ابتدائی تعلیم (قرآنِ مجید ، چند ابتدائی کتب) اساتذہ سے حاصل کی لیکن فیضانِ الہی سے آپ کو علوم و معارف کے خزائن حاصل ہو گئے ۔ جب کوئی مسئلہ پوچھتا تو معلوم ہوتا تو بتا دیتے اگر نہ معلوم ہوتا تو کہتے صبرکرو میں حضور اکرم ﷺ سے پوچھ کر بتاتا ہوں پھر بغیر کسی مراقبہ اور آنکھ بند کرنے کے فرماتے: حضور ﷺ سے دریافت کیا ہے ایسے مسئلہ ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم لدنی عطا فرمایا تھا آپ نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں " مجموعہ صلوات الرسول ﷺ" نہایت اہم ہے، اس کے تیس پارے ہیں اور ہر پارہ قرآن مجید کے پارے سے تقریباً دو گنا بڑا ہے۔ہر پارے میں نبی اکرم ﷺ کے ایک ایک وصف کا کتاب و سنت کے مطابق بیان ہے ، آپ نے عظیم الشان کتاب بارہ سال آٹھ ماہ بیس دن میں مکمل کی۔

بیعت و خلافت:
ابتداء ہی سے آپ کی طبیعت عبادت و ریاضت کی طرف متوجہ تھی چنانچہ زمانۂ نو عمری میں ایک سخت چلہ کیا اور حضرت مولانا اخوند عبد الغور قدس سرہ کے دربار میں سید و شریف (سوات)حاضر ہوئے ، حضرت نے فرمایا :" اپنے گھر جاکر رہو تمہارا مرشد خود تمہارے پاس آکر تمہیں بیعت کر ے گا ۔ کچھ دنوں بعد حضرت شیخ یعقوب شاہ گن چھتروی قدس سرہ چھو ہر شریف تشریف لائے اور آپ کو بیعت فرمایا۔

سیرت و خصائص:
منبع معارف لدنیہ ،مخزن علوم الٰہیہ، واقف علوم شریعت، مرشد طریقت، کاشف اسرار حقیقت،استاذ علوم تفصیلیہ ، امکانیہ و معلم حقائق وجوبیہ، قدیمیہ ازلیہ اجمالیہ،و مفسر معارف توحیدیہ و مبین رموز حروف مقطعات قرآنیہ، صاحب قوت روحانی ، عالم ربانی، عارف لاثانی، صاحب حکمت لقمان ، آصف ہذا الزمان ،خلیفہ شاہ ِجیلان، فخرِ متاخرین، بقیہ سلفِ صالحین، متصف باوصاف رسول اللہ ، نمونہ اصحاب رسول کریم ﷺ ۔ غوثِ زماں، عارف باللہ حضرت خواجہ عبد الرحمن چھوہروی رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ کے اخلاق حضور فخر دو عالم سید الکونین صاحبِ خُلق عظیم احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے ارشادات عالیہ کے عین مطابق تھے۔ سنت نبوی علیہ التحیۃ وا لثنا کا اتباع آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔ آپ سے مستحبات بھی کبھی ترک نہیں ہوئے۔ مہمانوں کی خدمت خود کرتے۔ آپ کی خانقاہ اور مجلس میں بدعات اور مخترعات کا نام تک نہ تھا۔ آپ نہایت ہی متواضع ، خلیق، صاحب حلم ، عفو و درگذر کرنے والے، منکسر المزاج اور پردہ پوش تھے۔ علماء فقراء وسادات کی قدر ومنزلت اور انتہائی ادب و احترام کرتے۔ آپ کی خانقاہ انتہائی سادہ اور ہر قسم کی آرائش وزبیائش سے پاک تھی۔ تمام اوقات مسجد ہی میں بسر ہوتے ۔ طالب علموں کی خدمت اپنے لئے سرمایہ آخرت سمجھ کر بہت ہی محبت اور اخلاص سے خود کرتے۔ " دارالعلوم رحمانیہ اسلامیہ" کے ابتدائی دور میں طلباء کے لئے کھانا وغیرہ چھوہر شریف سے تیار ہو کر ہری پور آتا۔ ایک دن بہت بارش تھی رات بھی تاریک تھی ۔ آپ نے خادموں سے فرمایا کہ طلباء کے لئے روٹی پہنچا دو۔ مگر کسی میں ہمت نہ ہوئی ۔ آپ بنفس نفیس روٹی اور کھانا اٹھاکر طلباء کے لئے موسلاد ھار بارش میں لے گئے۔

آپ کا لباس نہای سادہ اور اخلاق کریمانہ تھے۔ آپ علوم دینیہ کو بہت اہمیت دیتے تھے ۔ آپ نے کئی مسجدیں تعمیر کرائیں اور 1328ھ میں ہری پور میں مدرسہ اسلامیہ محمد یہ کی بنیاد رکھی۔جو اب دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور کی صورت میں علوم دینیہ کی قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے ۔

آپ کے فیض تربیت سے ان گنت افراد مستفیض ہوئے ۔ صرف ہزارہ ہی نہیں، بلکہ آپ کے مریدین کا سلسلہ کشمیر ، صوبہ سرحد ، افغانستان ، عرب، ہندوستان ، برمااور خصوصاً بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔

وصال:
آپ کا وصال یکم ذوالحجہ/1342ھ، بمطابق جولائی / 1942ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار چھوہر نزد ہری پور ہزارہ، خیبر پختون خواہ، پاکستان) میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ مشائخِ سرحد ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-abdul-rehman
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
تلمیذ اعلیٰ حضرت، حضرت بابا یوسف شاہ تاجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا عبد الکریم ۔ المعروف: حضرت بابا یوسف شاہ تاجی ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید لعل محمد علیہ الرحمہ ۔

آپ علیہ الرحمہ جے پور کے ایک غریب گھرانے کے چشم و چراغ تھے ۔

مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت جے پور (ریاست راجستھان کا دار الحکومت، انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے محلہ کے مکتب میں ہوئی ۔ وہیں اردو، فارسی، عربی کی چند کتب پڑھیں تھیں کہ معاشی تنگی نے مجبور کر دیا اور بچپن میں گھر کے اخراجات پورا کرنے کے لئے ملازمت اختیار کی ۔ جب گھر کے حالات کچھ اچھے ہوئے تو جے پور سے بریلی پہنچے تو خوش قسمتی سے اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ میں داخلہ مل گیا، بچے کو ہونہار دیکھ کر اعلیٰ حضرت نے خصوصی توجہ فر مائی، جب مدرسہ سے نکلے تو ایک عظیم عالمِ دین اور مبلغ اسلام تھے ۔

بیعت و خلافت:
مولانا سید عبد الحکیم لکھنوی جو شریعت و طریقت میں یگانہ روز گار تھے نے آپ کو تعلیم و تربیت کے مخصوص مراحل طے کرائے اور ایک مدت تک اپنا قرب خاص عطا کیا ،نیز سلاسل قادریہ ، سہروردیہ میں خلافت و اجازت مرحمت فرمائی، نیز یہ بھی فر مایا کہ اب تمہاری اگلی منزل بابا تاج الدین ناگپوری کے پاس ہے، آپ بابا تاج الدین ناگپوری خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں آپ کو اجازت و خلافت کے ساتھ ساتھ اپنا جانشین بھی منتخب کیا ۔

سیرت و خصائص:
مبلغ اسلام، خطیبِ اسلام حضرت علامہ مولانا محمد یوسف شاہ المعروف تاجی بابا رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ حضرت بابا تاج الدین ناگپوری رحمہ اللہ کے اجلہ خلفاء میں سے ہیں، شیخ کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے قبل آپ مولانا عبد الکریم کے نام سے مشہور تھے، آپ کا شمار نامور علماء خطباء میں ہوتا تھا، آپ جے پور (ہند) کے ایک غر یب گھرانہ کے چشم و چراغ تھے ـ

ابھی آپ چھ ماہ کے تھے کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا، آپ کی پرورش آپ کے والد سید لعل محمد نے کی، محلہ کے مکتب میں اردو فارسی اور عربی پڑھنے کے لئے داخل کرا دِیئے گئے، ابھی ابتدائی تعلیم پا رہے تھے کہ تنگی معاشی نے مجبور کر دیا، اس لئے بچپن ہی میں ریاستی ملازمت اختیار کرنی پڑی، جب گھر کے حالات کچھ اچھے ہوئے تو جے پور سے بر یلی پہنچے تو خوش قسمتی سے اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان رضی الله تعالیٰ عنہ کے مدرسہ میں داخلہ مل گیا ـ

بچے کو ہونہار دیکھ کر اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنہ نے خصوصی توجہ فرمائی، جب مدرسہ سے نکلے تو مسجد کے پیش امام نہ تھے بلکہ اسلام کے ولولہ انگیز مبلغ تھے، قدرت نے فصاحت کے جوہر زبان و بیان کی لذت آفرینی سے مالا مال کیا تھا، محافل عیدمیلاد النبی ﷺ اور اعراس مقدسہ کی مجلس متبر کہ میں آپ اپنے مخصوص انداز میں دلوں کو گر ماتے اور روحوں کو تڑ پاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام آپ کی قدر دانی کرتے تھے۔

حضرت مولانا عبد السلام نیازی جیسے قلندرانہ مشرب رکھنے والے بزرگ جو کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے ۔ اسی طرح مولانا عبد القادر نیازی، مولانا انوار الرحمن بسمل جے پوری مولانا محمد ایوب پانی پتی اور حکیم احسان الحق جیسی علمی شخصیات آپ کے گرد رہتی تھیں ۔

بابا تاج الدین نے ہی آپ کو یوسف شاہ کا نام عطا کیا، ایک مرتبہ بابا صاحب واکی سے شکر ورہ تشریف لائے تو اپنے ہاتھ سے یہ تحریر لکھ کر آپ کو دی، یہ خلافت نامہ ہے تم میرے بیٹے ہو اور تمہارا نام محمد یوسف ہے، 26 محرم 1344ھ / مطابق 14 اگست 1925ء کو جب بابا تاج الدین کا وصال ہو گیا تو بابا یوسف شاہ سلسلۂ تاجیہ میں مرجع خلائق بن گئے وصال سے چند روز قبل آپ کو کراچی لایا گیا ۔ آپ کے مریدین پاک و ہند میں کثیر تعداد میں ہیں ۔

وصال:
یکم ذوالحجہ 1366ھ، بمطابق اکتوبر 1947ء کو کراچی میں آپ وصال ہوا ۔ آپ کا مرقد " میوہ شاہ قبرستان " کراچی میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-yousuf-shah-taji
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-11-1444 ᴴ | 19-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-12-1444 ᴴ | 20-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-12-1444 ᴴ | 20-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-12-1444 ᴴ | 20-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1