🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-11-1444 ᴴ | 19-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ عرس والد اعلیٰ حضرت عرس حضور رئیس الاتقیاء عرس علامہ نقی علی خان
29-11-1444 ᴴ | 19-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس والد اعلیٰ حضرت
عرس حضور رئیس الاتقیاء
عرس علامہ نقی علی خان
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
محمد سرخکتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام ونسب: آپ کا نام محمد بن عبد اللہ بن فاعل سرخکتی ہے۔ آپ کی کنیت ابو بکراور لقب مجدالائمہ ہے۔

سیرت و خصائص:
آپ امام فاضل، مرجع العلماء اور صاحبِ طریقتِ حسنہ تھے، آپ کو قوتِ نظری اور دستگاہ کامل حاصل تھی ۔

اور شہرِ سرخکت کے جو علاقۂ سمرقند میں واقع ہے رہنے والے تھے ۔

پہلے سمرقند میں فقہ پڑھی پھر بخارا میں امامت اختیار کی اور وہاں کے علماء و فضلاء سے تحصیلِ علوم کی ۔

ابو المعالی محمد بن محمد زید سے حدیث کو سنا اور آپ سے ایک جماعتِ کثیرہ روایت کی اور ضیاء الدین محمود بند نیچی نے آپ سے فقہ پڑھی ۔

وفات:
یکم ذی الحجہ 518 ھ / بمطابق 8 جنوری 1125ء کو سمرقند میں وفات پائی اور بخارا میں دفن کئے گئے ۔

ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-abdullah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت عیسیٰ عادل الخطیب رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام عیسیٰ بن ملک عادل سیف الدین ابی بکر بن ایوب اور آپ کا لقب شرف الدین تھا۔

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ 576 ء میں مصر کے مشہور شہر قاہرہ میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ نے فقہ جمال الدین محمود حصیری سے پڑھی اور دیگر علوم وفنون کی کتابیں جلیل القدر علماء سے پڑھی۔کتاب مسعودی کو یاد کیااور امام احمد کی تمام مسند کو سنااور حدیث کو روایت کیا۔

سیر ت و خصائص:
آپ بڑے عالم فاضل، فقیہ، ادیب، نحوی، لُغوی، شاعرِ عروضی اور مجاہد فی سبیل اللہ تھے۔ملک مصر میں آٹھ سال تک بادشاہ رہے۔ بنی ایوب میں آپ کے اور آپ کی اولاد کے علاوہ کوئی حنفی المذہب نہیں تھا۔آپ نے فقہاء کو حکم دیا تھا کہ میرے لئے امام اعظم علیہ الرحمہ کا مذہب دیگر سب علماء سے علیحدہ کرو، پس فقہاء نے ایسا ہی کیا اور آپ نے اسے یاد کیا۔ اور علماء کو حکم دیا کہ امام احمد کی مسند کوابواب پر مرتب کریںاور ہر ایک حدیث کو اس باب میں وارد کریں جو اس کو اس کے معنی کا تقاضا کرے۔اسی طرح آپ نے ایک کتاب لغت میں بھی جامع کبیر مرتب کرائی۔آپ کے وقت میں علماء و فضلاء کی بڑی قدر تھی اور دوردور سے آکر آپ کے پاس جمع ہوگئے تھے اور بڑے بڑے وظائف ان کے لئے مقرر فرمائے اور ان کو اپنی مجالس میں بٹھاکرآپ ان سے علمی استفادہ کرتے(لیکن موجودہ دور جتنا ظلم جماعتِ علماء سے کیا جاتاہے شاید ہی کسی دوسرے گروہ کے ساتھ ایسا معاملہہو۔ یہ نورانی جماعت چاہتی ہے ہم امتِ محمدیہﷺ کی اخلاقی و ذہنی تربیت کرکے انہیں ایک انسان کے اعلی محاسن تک پہنچائے،توہونا یہ چاہیئے تھا کہ عوام کو علماء سے قریب کیا جائے ، لیکن قریب کرنے کے بجائے علماء سے دور ہی کردیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام ظلمت و جہالت کے اندھیرے میں خود بھی جارہے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو اسی اندھیرے میں ڈال کر شرم و حیاء کے دائرے سے باہر نکال رہے ہیں۔علماء سے فائدہ حاصل کرنے بجائے انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔لوگوں کی یہ سوچ ہے کہ ان کی تعلیم فقط دین تک محدود ہے لیکن ان کی سوچ بہت غلطی پر مبنی ہے کیونکہ جس طرح ایک عالم دین کا علم رکھتا ہے اسی طرح اسے دنیا میں چلنے والے حالات پر بھی ایک گہری نگاہ حاصل ہوتی ہے۔تاریخ کی کتابیں اس بات کی گواہی دیرہی ہیں بڑے بڑے بادشاہوں کو اپنی سلطنت چلانے کے لئے علماء کی رائے اور مشوروں کی ضرورت ہوتی تھی)۔ابنِ خلکان نے لکھا ہے کہ بڑے بڑے شعرا ء نے آپ کی مدح کی اور اچھی مدح کی۔ 611 ھ میں حج کیا۔ جامع کبیر کی کئی ایک مجلد میں تصنیف کی اور ایک کتاب عروض میں لکھی۔ خطیب بغدادی نے جو امام اعظم علیہ الرحمہ کے حق میں تاریخِ بغداد میں کچھ کلام کیا ہے اس کی تردید میں ایک کتاب سہم المصیب فی الرد علی الخطیب تصنیف ک۔

وصال:
آپ کی وفات یکم ذو الحجہ 624 ھ/ بمطابق11 نومبر 1227 ء کی چاند ررات کو ہوئی اور دمشق کے قلعہ میں دفن کئے گئے، پھر آپ کی نعش جبلِ صالحہ کی طرف لیجاکروہاں کے مدرسہ میں جہاں آپ کے خاندان کے لوگوں کی قبریں ہیں اور معظمہ نام سے مشہور ہے، دفن کئے گئے۔(معلوم ہوا کہ علماء و اولیاء کے جسدِ خاکی کو نہ زمین کھاتی ہےاور نہ ہی ان کا جسم گل سڑ جاتا ہے بلکہ صحیح و سالم رہتاہے۔ اور یہ صرف حضرت عیسیٰ عادل خطیب کے بارے میں ہی منقول نہیں بلکہ متعدد اولیاء و علماء کے بارے میں درج ہے کہ انہیں دفنانے کے ایک عرصہ بعدکسی مجبوری کی وجہ سےدوسری قبر میں دفنانے کے لئے جب انہیں نکالاگیا تو ان کے مبارک جسم صحیح اور سالم تھے)

ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-esa-bin-malik-adil-al-khateeb
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابنِ ابی حجلہ رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام احمد بن یحیٰ بن ابی بکر التلمسانی اور آپ ابنِ ابی حجلہ کے نام سے مشہور ہیں۔

ولادتِ باسعادت:
آپ 725 ھ میں تولد ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
آپ بچپن ہی سے اخلاقِ حمیدہ کے حامل تھے۔ آپ کو علمِ دین حاصل کرنے کا بہت شوق تھا چناچہ جب آپ نے علم ِ دین کے حاصل کرنے کا سفرشروع کیا تو اس میں بہت مشغول ہوگئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ ادیبِ اجل ، فصیحِ اکمل بن کے ابھرے اور بہت کامل ہوکر مخلوق کی ذہنی واخلاقی تربیت فرمائی۔ آپ حنفی المذہب تھے۔ کتابوں کو نظم و نثر میں لکھااور بہت سے مجامیع کو جمع کیا۔

وفات:
آپ نے یکم ذوالحجہ 776 ھ / بمطابق 2 مئی 1375ء کو پچپن سال کی عمر میں وفات پائی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-bin-yahya-ibn-e-abi-hajla-
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شاہ محمد اجمل الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
شاہ محمد اجمل بن شاہ محمد ناصر بن شاہ محمد یحیٰ

ولادتِ باسعادت:
مولانا شاہ محمد اجمل رحمۃ اللہ علیہ 1160 ھ جمعرات کی نصف شب کے بعد 11 شوال المکر کو پیدا ہوئے۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد حضرت شاہ محمد ناصر افضلی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور آپ کو خلافت کی سند واجازتآپ کے چچا مولانا شاہ محمد فاخر کے صاحبزادے شاہ غلام قطب الدین نے دی۔

سیرت و خصائص:
آپ دوسال آٹھ ماہ کے تھے کہ آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا شاہ محمد ناصر افضلی نے داغِ یتیمی دیا، اسی دن والد نے آپ کو اپنا مرید بھی کیا تھا۔ والدۂ ماجدہ کے زیرِ سایہ مکتب کی تعلیم پائی اور حفظِ قرآن پاک کیا، دس برس کے ہوئے تو والدہ نے بھی انتقال کیا، بعدہ اپنے چچا مولانا شاہ محمد فاخر کے صاحبزادے شاہ غلام قطب الدین کے زیرِ تربیت آئے ۔اور تکمیلِ علوم کے بعد سلوک طے کیااور خلافت کی سند و اجازت پائی۔نہایت فیاض، سخی تھے۔ صبح سے شام تک حاجت مندوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا۔آپ کی طبیعت بہت نفاست پسند واقع ہوئی تھی، تعمیرات کا خاص شوق تھا،دائرہ کا پھاٹک آپ کے ذوقِ تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ علم و فضل میں آپ کا پایہ بہت بلند تھا۔ شاہ و گدا سبھی آپ کے عقیدت مند تھے۔شاہ عالم، شاہ دہلی اور نواب آصف الدولہ کو خصوصی عقیدت تھی، حضرت سراج الہند شاہ عبد العزیز محدث سے آپ کی خط وکتابت رہتی تھی، علامہ تفضل حسین خاں کشمیری آپ کے بے حد مداح تھے۔ آپ فارسی وریختہ کے بلند پایہ شاعر بھی تھے۔

وصال:
پچھتر سال دو ماہ کی عمر میں یکم ذو الحجہ 1236 ھ بمطابق 29 اگست 1821 ء قبلِ ظہر بروز جمعرات انتقال کیا۔ حسبِ وصیت حضرت شیخ محمد افضل کے روضہ میں دائیں جانب دفن کئے گئے۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ علمائے اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shah-muhammad-ajmal-alah-abadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
غوث زماں حضرت خواجہ محمد عبد الرحمن چھوہروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ عبدالرحمن ۔ لقب: غوثِ زمان ۔ چھوہر کی نسبت سے " چھوہروی " کہلائے ۔ والد کااسمِ گرامی: خواجہ فقیر محمد المعروف بہ خواجہ خضری رحمۃ اللہ علیہ ـ

آپ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ آپ کا لقب " غوثِ وقت " تھا ۔ آپ نسباً علوی ، مذہباً حنفی، مشرباً، قادری تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1262ھ، بمطابق 1846ء کو ایک گاؤں " چھوہر " (نزد ہری پور ہزارہ، خیبر پختون خواہ، پاکستان) میں ہوئی ۔ آٹھ سال کی عمر میں والدِ گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے صرف ابتدائی تعلیم (قرآنِ مجید ، چند ابتدائی کتب) اساتذہ سے حاصل کی لیکن فیضانِ الہی سے آپ کو علوم و معارف کے خزائن حاصل ہو گئے ۔ جب کوئی مسئلہ پوچھتا تو معلوم ہوتا تو بتا دیتے اگر نہ معلوم ہوتا تو کہتے صبرکرو میں حضور اکرم ﷺ سے پوچھ کر بتاتا ہوں پھر بغیر کسی مراقبہ اور آنکھ بند کرنے کے فرماتے: حضور ﷺ سے دریافت کیا ہے ایسے مسئلہ ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم لدنی عطا فرمایا تھا آپ نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں " مجموعہ صلوات الرسول ﷺ" نہایت اہم ہے، اس کے تیس پارے ہیں اور ہر پارہ قرآن مجید کے پارے سے تقریباً دو گنا بڑا ہے۔ہر پارے میں نبی اکرم ﷺ کے ایک ایک وصف کا کتاب و سنت کے مطابق بیان ہے ، آپ نے عظیم الشان کتاب بارہ سال آٹھ ماہ بیس دن میں مکمل کی۔

بیعت و خلافت:
ابتداء ہی سے آپ کی طبیعت عبادت و ریاضت کی طرف متوجہ تھی چنانچہ زمانۂ نو عمری میں ایک سخت چلہ کیا اور حضرت مولانا اخوند عبد الغور قدس سرہ کے دربار میں سید و شریف (سوات)حاضر ہوئے ، حضرت نے فرمایا :" اپنے گھر جاکر رہو تمہارا مرشد خود تمہارے پاس آکر تمہیں بیعت کر ے گا ۔ کچھ دنوں بعد حضرت شیخ یعقوب شاہ گن چھتروی قدس سرہ چھو ہر شریف تشریف لائے اور آپ کو بیعت فرمایا۔

سیرت و خصائص:
منبع معارف لدنیہ ،مخزن علوم الٰہیہ، واقف علوم شریعت، مرشد طریقت، کاشف اسرار حقیقت،استاذ علوم تفصیلیہ ، امکانیہ و معلم حقائق وجوبیہ، قدیمیہ ازلیہ اجمالیہ،و مفسر معارف توحیدیہ و مبین رموز حروف مقطعات قرآنیہ، صاحب قوت روحانی ، عالم ربانی، عارف لاثانی، صاحب حکمت لقمان ، آصف ہذا الزمان ،خلیفہ شاہ ِجیلان، فخرِ متاخرین، بقیہ سلفِ صالحین، متصف باوصاف رسول اللہ ، نمونہ اصحاب رسول کریم ﷺ ۔ غوثِ زماں، عارف باللہ حضرت خواجہ عبد الرحمن چھوہروی رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ کے اخلاق حضور فخر دو عالم سید الکونین صاحبِ خُلق عظیم احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے ارشادات عالیہ کے عین مطابق تھے۔ سنت نبوی علیہ التحیۃ وا لثنا کا اتباع آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔ آپ سے مستحبات بھی کبھی ترک نہیں ہوئے۔ مہمانوں کی خدمت خود کرتے۔ آپ کی خانقاہ اور مجلس میں بدعات اور مخترعات کا نام تک نہ تھا۔ آپ نہایت ہی متواضع ، خلیق، صاحب حلم ، عفو و درگذر کرنے والے، منکسر المزاج اور پردہ پوش تھے۔ علماء فقراء وسادات کی قدر ومنزلت اور انتہائی ادب و احترام کرتے۔ آپ کی خانقاہ انتہائی سادہ اور ہر قسم کی آرائش وزبیائش سے پاک تھی۔ تمام اوقات مسجد ہی میں بسر ہوتے ۔ طالب علموں کی خدمت اپنے لئے سرمایہ آخرت سمجھ کر بہت ہی محبت اور اخلاص سے خود کرتے۔ " دارالعلوم رحمانیہ اسلامیہ" کے ابتدائی دور میں طلباء کے لئے کھانا وغیرہ چھوہر شریف سے تیار ہو کر ہری پور آتا۔ ایک دن بہت بارش تھی رات بھی تاریک تھی ۔ آپ نے خادموں سے فرمایا کہ طلباء کے لئے روٹی پہنچا دو۔ مگر کسی میں ہمت نہ ہوئی ۔ آپ بنفس نفیس روٹی اور کھانا اٹھاکر طلباء کے لئے موسلاد ھار بارش میں لے گئے۔

آپ کا لباس نہای سادہ اور اخلاق کریمانہ تھے۔ آپ علوم دینیہ کو بہت اہمیت دیتے تھے ۔ آپ نے کئی مسجدیں تعمیر کرائیں اور 1328ھ میں ہری پور میں مدرسہ اسلامیہ محمد یہ کی بنیاد رکھی۔جو اب دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور کی صورت میں علوم دینیہ کی قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے ۔

آپ کے فیض تربیت سے ان گنت افراد مستفیض ہوئے ۔ صرف ہزارہ ہی نہیں، بلکہ آپ کے مریدین کا سلسلہ کشمیر ، صوبہ سرحد ، افغانستان ، عرب، ہندوستان ، برمااور خصوصاً بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔

وصال:
آپ کا وصال یکم ذوالحجہ/1342ھ، بمطابق جولائی / 1942ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار چھوہر نزد ہری پور ہزارہ، خیبر پختون خواہ، پاکستان) میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ مشائخِ سرحد ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-abdul-rehman
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
تلمیذ اعلیٰ حضرت، حضرت بابا یوسف شاہ تاجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا عبد الکریم ۔ المعروف: حضرت بابا یوسف شاہ تاجی ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید لعل محمد علیہ الرحمہ ۔

آپ علیہ الرحمہ جے پور کے ایک غریب گھرانے کے چشم و چراغ تھے ۔

مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت جے پور (ریاست راجستھان کا دار الحکومت، انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے محلہ کے مکتب میں ہوئی ۔ وہیں اردو، فارسی، عربی کی چند کتب پڑھیں تھیں کہ معاشی تنگی نے مجبور کر دیا اور بچپن میں گھر کے اخراجات پورا کرنے کے لئے ملازمت اختیار کی ۔ جب گھر کے حالات کچھ اچھے ہوئے تو جے پور سے بریلی پہنچے تو خوش قسمتی سے اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ میں داخلہ مل گیا، بچے کو ہونہار دیکھ کر اعلیٰ حضرت نے خصوصی توجہ فر مائی، جب مدرسہ سے نکلے تو ایک عظیم عالمِ دین اور مبلغ اسلام تھے ۔

بیعت و خلافت:
مولانا سید عبد الحکیم لکھنوی جو شریعت و طریقت میں یگانہ روز گار تھے نے آپ کو تعلیم و تربیت کے مخصوص مراحل طے کرائے اور ایک مدت تک اپنا قرب خاص عطا کیا ،نیز سلاسل قادریہ ، سہروردیہ میں خلافت و اجازت مرحمت فرمائی، نیز یہ بھی فر مایا کہ اب تمہاری اگلی منزل بابا تاج الدین ناگپوری کے پاس ہے، آپ بابا تاج الدین ناگپوری خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں آپ کو اجازت و خلافت کے ساتھ ساتھ اپنا جانشین بھی منتخب کیا ۔

سیرت و خصائص:
مبلغ اسلام، خطیبِ اسلام حضرت علامہ مولانا محمد یوسف شاہ المعروف تاجی بابا رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ حضرت بابا تاج الدین ناگپوری رحمہ اللہ کے اجلہ خلفاء میں سے ہیں، شیخ کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے قبل آپ مولانا عبد الکریم کے نام سے مشہور تھے، آپ کا شمار نامور علماء خطباء میں ہوتا تھا، آپ جے پور (ہند) کے ایک غر یب گھرانہ کے چشم و چراغ تھے ـ

ابھی آپ چھ ماہ کے تھے کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا، آپ کی پرورش آپ کے والد سید لعل محمد نے کی، محلہ کے مکتب میں اردو فارسی اور عربی پڑھنے کے لئے داخل کرا دِیئے گئے، ابھی ابتدائی تعلیم پا رہے تھے کہ تنگی معاشی نے مجبور کر دیا، اس لئے بچپن ہی میں ریاستی ملازمت اختیار کرنی پڑی، جب گھر کے حالات کچھ اچھے ہوئے تو جے پور سے بر یلی پہنچے تو خوش قسمتی سے اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان رضی الله تعالیٰ عنہ کے مدرسہ میں داخلہ مل گیا ـ

بچے کو ہونہار دیکھ کر اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنہ نے خصوصی توجہ فرمائی، جب مدرسہ سے نکلے تو مسجد کے پیش امام نہ تھے بلکہ اسلام کے ولولہ انگیز مبلغ تھے، قدرت نے فصاحت کے جوہر زبان و بیان کی لذت آفرینی سے مالا مال کیا تھا، محافل عیدمیلاد النبی ﷺ اور اعراس مقدسہ کی مجلس متبر کہ میں آپ اپنے مخصوص انداز میں دلوں کو گر ماتے اور روحوں کو تڑ پاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام آپ کی قدر دانی کرتے تھے۔

حضرت مولانا عبد السلام نیازی جیسے قلندرانہ مشرب رکھنے والے بزرگ جو کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے ۔ اسی طرح مولانا عبد القادر نیازی، مولانا انوار الرحمن بسمل جے پوری مولانا محمد ایوب پانی پتی اور حکیم احسان الحق جیسی علمی شخصیات آپ کے گرد رہتی تھیں ۔

بابا تاج الدین نے ہی آپ کو یوسف شاہ کا نام عطا کیا، ایک مرتبہ بابا صاحب واکی سے شکر ورہ تشریف لائے تو اپنے ہاتھ سے یہ تحریر لکھ کر آپ کو دی، یہ خلافت نامہ ہے تم میرے بیٹے ہو اور تمہارا نام محمد یوسف ہے، 26 محرم 1344ھ / مطابق 14 اگست 1925ء کو جب بابا تاج الدین کا وصال ہو گیا تو بابا یوسف شاہ سلسلۂ تاجیہ میں مرجع خلائق بن گئے وصال سے چند روز قبل آپ کو کراچی لایا گیا ۔ آپ کے مریدین پاک و ہند میں کثیر تعداد میں ہیں ۔

وصال:
یکم ذوالحجہ 1366ھ، بمطابق اکتوبر 1947ء کو کراچی میں آپ وصال ہوا ۔ آپ کا مرقد " میوہ شاہ قبرستان " کراچی میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-yousuf-shah-taji
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-11-1444 ᴴ | 19-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-12-1444 ᴴ | 20-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2