🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-11-1444 ᴴ | 19-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-11-1444 ᴴ | 19-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم والد Father Day فادر ڈے
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-11-1444 ᴴ | 19-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ عرس والد اعلیٰ حضرت عرس حضور رئیس الاتقیاء عرس علامہ نقی علی خان
29-11-1444 ᴴ | 19-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس والد اعلیٰ حضرت
عرس حضور رئیس الاتقیاء
عرس علامہ نقی علی خان
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
محمد سرخکتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام ونسب: آپ کا نام محمد بن عبد اللہ بن فاعل سرخکتی ہے۔ آپ کی کنیت ابو بکراور لقب مجدالائمہ ہے۔

سیرت و خصائص:
آپ امام فاضل، مرجع العلماء اور صاحبِ طریقتِ حسنہ تھے، آپ کو قوتِ نظری اور دستگاہ کامل حاصل تھی ۔

اور شہرِ سرخکت کے جو علاقۂ سمرقند میں واقع ہے رہنے والے تھے ۔

پہلے سمرقند میں فقہ پڑھی پھر بخارا میں امامت اختیار کی اور وہاں کے علماء و فضلاء سے تحصیلِ علوم کی ۔

ابو المعالی محمد بن محمد زید سے حدیث کو سنا اور آپ سے ایک جماعتِ کثیرہ روایت کی اور ضیاء الدین محمود بند نیچی نے آپ سے فقہ پڑھی ۔

وفات:
یکم ذی الحجہ 518 ھ / بمطابق 8 جنوری 1125ء کو سمرقند میں وفات پائی اور بخارا میں دفن کئے گئے ۔

ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-abdullah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت عیسیٰ عادل الخطیب رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام عیسیٰ بن ملک عادل سیف الدین ابی بکر بن ایوب اور آپ کا لقب شرف الدین تھا۔

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ 576 ء میں مصر کے مشہور شہر قاہرہ میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ نے فقہ جمال الدین محمود حصیری سے پڑھی اور دیگر علوم وفنون کی کتابیں جلیل القدر علماء سے پڑھی۔کتاب مسعودی کو یاد کیااور امام احمد کی تمام مسند کو سنااور حدیث کو روایت کیا۔

سیر ت و خصائص:
آپ بڑے عالم فاضل، فقیہ، ادیب، نحوی، لُغوی، شاعرِ عروضی اور مجاہد فی سبیل اللہ تھے۔ملک مصر میں آٹھ سال تک بادشاہ رہے۔ بنی ایوب میں آپ کے اور آپ کی اولاد کے علاوہ کوئی حنفی المذہب نہیں تھا۔آپ نے فقہاء کو حکم دیا تھا کہ میرے لئے امام اعظم علیہ الرحمہ کا مذہب دیگر سب علماء سے علیحدہ کرو، پس فقہاء نے ایسا ہی کیا اور آپ نے اسے یاد کیا۔ اور علماء کو حکم دیا کہ امام احمد کی مسند کوابواب پر مرتب کریںاور ہر ایک حدیث کو اس باب میں وارد کریں جو اس کو اس کے معنی کا تقاضا کرے۔اسی طرح آپ نے ایک کتاب لغت میں بھی جامع کبیر مرتب کرائی۔آپ کے وقت میں علماء و فضلاء کی بڑی قدر تھی اور دوردور سے آکر آپ کے پاس جمع ہوگئے تھے اور بڑے بڑے وظائف ان کے لئے مقرر فرمائے اور ان کو اپنی مجالس میں بٹھاکرآپ ان سے علمی استفادہ کرتے(لیکن موجودہ دور جتنا ظلم جماعتِ علماء سے کیا جاتاہے شاید ہی کسی دوسرے گروہ کے ساتھ ایسا معاملہہو۔ یہ نورانی جماعت چاہتی ہے ہم امتِ محمدیہﷺ کی اخلاقی و ذہنی تربیت کرکے انہیں ایک انسان کے اعلی محاسن تک پہنچائے،توہونا یہ چاہیئے تھا کہ عوام کو علماء سے قریب کیا جائے ، لیکن قریب کرنے کے بجائے علماء سے دور ہی کردیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام ظلمت و جہالت کے اندھیرے میں خود بھی جارہے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو اسی اندھیرے میں ڈال کر شرم و حیاء کے دائرے سے باہر نکال رہے ہیں۔علماء سے فائدہ حاصل کرنے بجائے انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔لوگوں کی یہ سوچ ہے کہ ان کی تعلیم فقط دین تک محدود ہے لیکن ان کی سوچ بہت غلطی پر مبنی ہے کیونکہ جس طرح ایک عالم دین کا علم رکھتا ہے اسی طرح اسے دنیا میں چلنے والے حالات پر بھی ایک گہری نگاہ حاصل ہوتی ہے۔تاریخ کی کتابیں اس بات کی گواہی دیرہی ہیں بڑے بڑے بادشاہوں کو اپنی سلطنت چلانے کے لئے علماء کی رائے اور مشوروں کی ضرورت ہوتی تھی)۔ابنِ خلکان نے لکھا ہے کہ بڑے بڑے شعرا ء نے آپ کی مدح کی اور اچھی مدح کی۔ 611 ھ میں حج کیا۔ جامع کبیر کی کئی ایک مجلد میں تصنیف کی اور ایک کتاب عروض میں لکھی۔ خطیب بغدادی نے جو امام اعظم علیہ الرحمہ کے حق میں تاریخِ بغداد میں کچھ کلام کیا ہے اس کی تردید میں ایک کتاب سہم المصیب فی الرد علی الخطیب تصنیف ک۔

وصال:
آپ کی وفات یکم ذو الحجہ 624 ھ/ بمطابق11 نومبر 1227 ء کی چاند ررات کو ہوئی اور دمشق کے قلعہ میں دفن کئے گئے، پھر آپ کی نعش جبلِ صالحہ کی طرف لیجاکروہاں کے مدرسہ میں جہاں آپ کے خاندان کے لوگوں کی قبریں ہیں اور معظمہ نام سے مشہور ہے، دفن کئے گئے۔(معلوم ہوا کہ علماء و اولیاء کے جسدِ خاکی کو نہ زمین کھاتی ہےاور نہ ہی ان کا جسم گل سڑ جاتا ہے بلکہ صحیح و سالم رہتاہے۔ اور یہ صرف حضرت عیسیٰ عادل خطیب کے بارے میں ہی منقول نہیں بلکہ متعدد اولیاء و علماء کے بارے میں درج ہے کہ انہیں دفنانے کے ایک عرصہ بعدکسی مجبوری کی وجہ سےدوسری قبر میں دفنانے کے لئے جب انہیں نکالاگیا تو ان کے مبارک جسم صحیح اور سالم تھے)

ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-esa-bin-malik-adil-al-khateeb
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابنِ ابی حجلہ رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام احمد بن یحیٰ بن ابی بکر التلمسانی اور آپ ابنِ ابی حجلہ کے نام سے مشہور ہیں۔

ولادتِ باسعادت:
آپ 725 ھ میں تولد ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
آپ بچپن ہی سے اخلاقِ حمیدہ کے حامل تھے۔ آپ کو علمِ دین حاصل کرنے کا بہت شوق تھا چناچہ جب آپ نے علم ِ دین کے حاصل کرنے کا سفرشروع کیا تو اس میں بہت مشغول ہوگئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ ادیبِ اجل ، فصیحِ اکمل بن کے ابھرے اور بہت کامل ہوکر مخلوق کی ذہنی واخلاقی تربیت فرمائی۔ آپ حنفی المذہب تھے۔ کتابوں کو نظم و نثر میں لکھااور بہت سے مجامیع کو جمع کیا۔

وفات:
آپ نے یکم ذوالحجہ 776 ھ / بمطابق 2 مئی 1375ء کو پچپن سال کی عمر میں وفات پائی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-bin-yahya-ibn-e-abi-hajla-
1