🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ی طرف نہ تھی۔اسی طرح تاریخی مادے بحساب ابجد نکالنے میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔عربی فارسی کلاموں میں تضمین آپ کےلئے کوئی مشکل کام نہ تھا۔’’الداعی‘‘ تخلص تھا۔زیادہ تر کلام فارسی میں ہے۔

درس وتدریس: جب آپ نے چکوال میں مسند تدریس بچھائی تو آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی۔کشمیر،سرحد،اور کابل وقندھار تک کےطلبہ تعلیم حاصل کرتےتھے۔خاص طور پر مثنوی شریف،ربع مجیب،اور ربع مقنطرہ وغیرہ علوم پڑھنے کےلئے دور دراز سے علماء حاضر ہوتے اور شرفِ تلمذ حاصل کرتے۔قدوۃ المحققین حضرت علامہ غلام محمود پپلانوی(محشی تکملہ ومصنف نجم الرحمن) آپ کے ارشد تلامذہ میں سےتھے۔حضرت مفتی دین محمد رتوی﷫ نے فقہ، اصول فقہ،طب کی تعلیم آپ سے حاصل کی۔حضرت مولانا عبداللہ کھڈہ مارکیٹ کراچی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم کراچی۔مولوی محمد صادق دیوبندی کانگریسی کھڈہ کراچی۔نامور تلامذہ ہیں۔جنات بھی آپ کے درس میں شریک ہوتےتھے۔

مدرسہ مظہر العلوم کا بانی کون؟: کھڈہ مارکیٹ لیاری کراچی کے دارالعلوم مظہر العلوم کا بانی کون اور قبضہ کس کا؟ کے متعلق درج ذیل مضمون میں اختصار کے ساتھ دلائل درج کئے جارہے ہیں تاکہ تاریخ کے طالب علم پراصل حقائق واضح ہوں۔ مولانا اشرف صاحب لکھتے ہیں:’’مولانا حمد دین چکوالی1298ھ کو حرمین شریفین سے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرکے واپسی پر کراچی کے محلہ کھڈہ میں مولاناعبداللہ کے پاس کچھ عرصہ قیام کیا اور وہاں ایک دینی مدرسہ مظہر العلوم قائم کیا جو آج بھی موجود ہے‘‘ (تذکرہ اکابر اہل سنت :44)

مولانا عبداللہ سنی حنفی صحیح العقیدہ تھے، مولانا احمد دین کے دوست اور ایک روایت کے مطابق شاگرد بھی تھے اور کراچی کے مشہور قاری حافظ غلام رسول قادری (متوفی1391ھ) کی نماز جنازہ جہانگیر پارک صدر میں مولانا عبداللہ نے پڑھائی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے علماء و مشائخ بھی شریک تھے ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی دیوبندی یا وہابی سے اہل سنت کے عالم و پیر کے جنازے کی امامت جانتے بوجھتے کرائی جائے۔ معلوم یہ ہوا کہ حضرت مولانا عبداللہ اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے تھے مگر آپ کے صاحبزادے اہل سنت سے منحرف ہو کر دیو بندی ہوگئے۔ حضرت مولانا عبداللہ کا لڑکا ’’مولوی محمد صادق‘‘نے والد ماجد کے عقیدے و نظریے سے غداری کرکے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے پکے دیوبندی وہابی بنے، سندھ واپس آکر دیوبندیت کا نگریسیت سے شہرت حاصل کی، متحدہ قومیت(ہندو مسلم اتحاد) کے مبلغ بنے، تحریک ہجرت و کانگریس میں بھر پور کام کیا۔ اس طرح اہل سنت کے مدرسہ پر وہابیت کا نہ فقط قبضہ ہوا بلکہ آج تک مرکز بنا ہوا ہے۔ مولوی صادق کی نسبت سے مدرسے سے پرچہ ’’الصادق‘‘ آج تک جاری ہے۔

ایک اور اہم انشاف یہ سامنے آیا کہ 1907ء کو مدرسہ مظہر العلوم میں ’’دارالافتاء‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کے صدر مفتی مولانا عبداللہ مرحوم تھے اور اس کے نائب مفتی حضرت علامہ عبدالکریم درس تھے جب کہ کراچی کے متعدد مفتی صاحبان مولانا محمد صدیق، مولانا عبدالحق ہالائی، مولانا احمد بخاری وغیرہ اس کے باضابطہ ممبر تھے۔مولانا حکیم احمد الدین کے دو صاحبزادے ان کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے۔۱۔ مولانا حافظ علاء الدین 21 سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔2۔ مولانا حافظ قاضی ضیاء الدین ایم ۔ اے بی ایڈ۔ ڈسٹرکٹ انسپکٹر اسکولز، صحیح العقیدہ سنی تھے، ملازمت کے دوران ایک حادثہ کا شکار ہوگئے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:107)

تاریخِ وصال: آپ کا وصال 28/ذوالقعدہ 1347ھ مطابق 8/مئی 1929ء کو صبح صادق سے پہلےہوا۔چکوال میں آبائی قبرستان میں مدفون ہیں۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ اکابر اہل سنت۔انوار علمائے اہلسنت سندھ۔فوزالمقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-ahmeduddin-chishti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا سراج الحق بدایونی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام سراج الحق والد کا نام فیض احمد بدایونی، آپ کا تاریخی ناماظہار الحق ہے۔

تاریخ ولادت:
آپ 20 رمضان المبارک 1246ھ بدایوں میں پیدا ہوئے۔

بیعت:
آپ علیہ الرحمہ حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ کے دست پر مرید ہوئے۔

سیرت و خصائص:
آپ نے اکثر کتبِ مروجہ اپنے والد سے پڑھیں، والدِ ماجد کے بعد استاذ العلماء نور احمد قدس سرہ سے درسیات کی تکمیل کی۔

والد کے ماموں حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ سے عملاً طب حاصل کی۔ اکثر دان پور، دھرم پور میں قیام رہتا تھا۔ دستِ شفا کی خاص شہرت تھی۔

عربی ادب میں والد صاحب کی طرح ماہر تھے۔ نظم و نثر دونوں پر قدرت تھی۔ دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔مخلوق کے افاضہ و افادہ میں ہمہ تی مصروف رہتے تھے۔

اس وقت جب علم کتابوں میں اور علماء اپنے مزاروں میں تھے اس وقت ان کی ذات کو غنیمت تصور کیا جاتا تھا۔ تصانیف میں علمِ میراث اور علمِ کلام سے خصوصی شغف تھا۔ باطل مذاہب خصوصاً وہابیہ کی رد میں کئی رسائل لکھے۔

وصال:
آپ کا وصال 28 ذو القعدہ 1322ھ / بمطابق 2 فروری 1905ء میں بمقام دان پور وقتِ سحر واصل الی اللہ ہوئے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علائے ہند، تذکرۂ علمائے اہلِ سنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-siraj-ul-haq-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
بارہویں صدی کے مجدد ، شہنشاہ ہندوستان ابو المظفر محی الدین سلطان اورنگ زیب بہادر عالمگیر بادشاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: اورنگ زیب عالمگیر ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: محی الدین ، سلطان المعظم ، سلطان الہند ۔ پورا نام: سلطان المعظم ابو المظفر محی الملۃ والدین محمد اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ ۔

سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
سلطان اورنگ زیب عالمگیر، بن سلطان شاہ جہاں، بن نورالدین جہانگیر۔

تاریخِ ولادت:
بروز ہفتہ، 15 ذیقعدہ /1027ھ، بمطابق 24/اکتوبر 1618ء کو "مالوہ" اور گجرات کی آخری سرحد پر "دوحد" کے مقام پر پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ سلاطینِ مغلیہ میں سے واحد شخصیت ہیں ، جوحافظِ قرآن تھے۔ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کو اپنے وقت کے جید مشائخ اور اساتذہ کی صحبت کا موقع ملا جن میں شیخِ جلیل شیخ محمد معصوم سرہندی بن مجد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی، اور شیخ احمد معروف بہ ملا جیون (صاحبِ تفسیراتِ احمدیہ) ۔ ان کے علاوہ میر محمد ہاشم گیلانی، ملا موہن بہاری، علامۂ زمان سعد اللہ وزیرِ اعظم شاہجہاں بادشاہ، مولانا سید محمد قنوجی، دانشمند خان (علیہم الرحمہ)۔ 3 ذوالحج 1045ھ کو 18 سال ؛ 10 دن کی عمر میں تمام علومِ مکتسبہ و فنونِ متعارفہ، عربی، فارسی، ترکی اور ہندی زبانوں میں پوری مہارت حاصل کی۔ عربی اور فارسی خط (نسخ ونستعلیق) میں کمال حاصل کیا۔ علومِ دینیہ تفسیر، حدیث، فقہِ حنفیہ، عقائدِ اصلیہ و مسائلِ فرعیہ، کتبِ طریقت مثلاً: احیاء العلوم، کیمیاء سعادت، کشف المحجوب اور کثیر کتب کا مطالعہ بچپن میں کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ فنونِ حربیہ، ملکی آئین، طریقِ جہانبانی و دستورِ فرمانروائی کا وہ بہترین سلیقہ اس قلیل عمر میں مکمل کر لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمگیر کے زمانے میں درس و تدریس کو جو ترقی ملی ایسا کسی عہد میں نہیں ہوا۔

حافظِ قرآن :
حفظِ قرآنِ مجید کی سعادت 43 سال کی عمر میں ہوئی۔ اس موقع پر ایک شاعر نے کہا تھا۔ ؎

تو حامیِ شرع و حامیِ تو شارع
تو حافظِ قرآن و خدا حافظِ تو

بیعت و خلافت:
شیخ سیف الدین نبیرہ حضرت مجدد الفِ ثانی ، اور خواجہ محمد سعید خلف الرشید حضرت مجدد الفِ ثانی نے روحانی تربیت فرمائی ،اور حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی بن مجد الفِ ثانی کے ذریعے تکمیل ہوئی۔ (علیہم الرحمۃ رحمۃ ًواسعۃً)۔

حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی نے آپ کے بارے میں فرمایا: میں نے بادشاہ (عالمگیر) کے معاملات میں نظر کی ہے۔ ان کا ظاہر تو امورِ سلطنت میں مصروف ہے ، مگر ان کا باطن اللہ جل جلالہ کے ذکر میں مصروف ہے۔ (مکتوب :220)

؎دست بکار کن، ودل بیارکن۔

سیرت و خصائص:
سلطان المعظم، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، دین پرور ، محی الملۃ والدین، حامیِ شرع متین، صاحبِ اوصافِ کثیرہ محی الدین ابوالمظفر سلطان محمد اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ۔

بارہویں صدی کے مجدد:
آپ کی دین پروری ،دینداری ،تقویٰ و پرہیزگاری ،علم و فضل، عدل و مساوات، علم دوستی ،"خدمتِ دین" اور عظیم کارناموں کی وجہ سے آپ کو "بارہویں صدی کا مجدد کہا جاتا ہے"۔

اتنی وسیع سلطنت کے سلطان ہونے کے باوجود آپ نے کبھی بھی عبادت و ریاضت میں کمی نہیں آنے دی۔ آپ ہر وقت با وضو رہتے تھے۔ کلمہ طیبہ اور ادعیہ ماثورہ درود شریف اور ذکر اللہ سے زبان تر رہتی تھی۔ نماز صفِ اول میں باجماعت ادا کرتے تھے۔ تمام سنن و نوافل اور مستحبات خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ شب زندہ دار تھے۔

سال کے اکثر حصے میں روزے سے رہتےتھے۔ ڈاکٹر برنیز نے 1665 میں آپ کو دیکھا تھا۔ وہ لکھتا ہے: "اس کی زندگی بالکل سادی اور زاہدانہ تھی۔ اس کا جسم نحیف ہو گیا تھا، اور اس لاغری و کمزوری میں اس کی روزہ داری نے اور اضافہ کر دیا تھا"۔ نمازِ جمعہ و عیدین عام مسلمانوں کے ساتھ بغیر کسی شاہی پروٹوکول کے ادا کرتے تھے۔

اہل اللہ کی صحبت کو پسند کرتے تھے۔ رمضان المبارک کے عشرہ اخیرہ میں معتکف رہتے تھے۔ آپ نے امورِ سلطنت سنبھالتے ہی ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسمیں ختم کیں، اور فحاشی کا انسداد کیا اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ قوال ، نجومی ، شاعر موقوف کر دئیے گئے۔ شراب ، افیون اور بھنگ بند کر دی ۔

درشن جھروکا کی رسم ختم کی، اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔ سجدہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا موقوف ہوا۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہر قسم کے محصول ہٹا دیے۔ آپ کے دورِ حکومت میں حکمرانوں اور عمالوں کی نگہبانی کا بہترین نظام تھا۔

قومی خزانے سے ذاتی خرچ کے لیے ایک پائی بھی نہ لی ۔ قرآن مجید لکھ کر ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے۔ نظامِ سلطنت چلانے کے لیے ایک مجموعہ فتاوٰی تصنیف کیا گیاجسے " فتاویٰ عالمگیری " کہا جاتا ہے۔ فتاویٰ عالم گیری فقہ اسلامی میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔
1
آپ کے زمانے میں علم بیچا نہیں جاتا تھا، تعلیم جیسے مقدس شعبے کی تجارت نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ ہر شہر اور ہر قصبے میں سرکاری مدارس کی بنیاد رکھی جہاں ہر قسم کی تعلیم فری ہوتی اور اس کے ساتھ علماء و طلباء کو وظائف اور روزینے مقرر تھے۔ جس کی وجہ سے مطمئن ہو کر تعلیم و تعلم میں مشغول رہتے تھے۔

وصیت:
آپ نے تجہیز و تکفین سے متعلق یہ وصیت فرمائی تھی:"چار روپیہ، دو آنےجو ٹوپیوں کی سلائی سے حاصل ہوئے، ان سے میری تجہیز و تکفین ہو۔ تین سو پانچ روپے قرآن نویسی کی اجرت کے محفوظ ہیں، وفات کے دن مساکین میں تقسیم کر دئیےجائیں"۔ (آپ کے تحریر کردہ قرآن مجید کے چھ نسخے اور ایک پنج سورہ مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ آپ جس کلامِ مجید میں تلاوت کرتے تھے، وہ اس وقت کولمبیا یونیورسٹی (امریکہ) کے قبضے میں ہے)۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی:557)

وصال:
بروز جمعۃ المبارک، 28 ذیقعدہ 1118ھ، بمطابق 20 فروری 1707ء ، بوقتِ صبح، 90 سال کی عمر میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے ـ

مزار شریف:
خلدآباد، ضلع اورنگ آباد، صوبہ مہاراشٹر (انڈیا) احاطہ درگاہ حضرت زین الدین علیہ الرحمہ میں مدفون ہیں۔

ماخذ و مراجع:
علماء ہند کا شاندار ماضی ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-aurangzeb-alamgir
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-11-1444 ᴴ | 17-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-11-1444 ᴴ | 18-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نابالغ بچوں کے لئے وضو کرنا ...
https://t.me/islaamic_Knowledge/52593
کلمات اذان میں اللہ اکبر کی ر کو جزم پڑھیں ... اللہ اکبر کی ر پر پیش پڑھنا خلاف سنت ہے ـ فتاوی اترا کھنڈ جلد¹ صفحہ¹⁰¹-¹⁰²
https://t.me/islaamic_Knowledge/52596
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1