🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-11-1444 ᴴ | 17-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-11-1444 ᴴ | 17-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
خواجہ علی رامتینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و لقب:
آپ کا اسمِ گرامی علی ، لقب غریزاں ہے ۔آپ غریزاں علی کے نام سے مشہور و معروف ہیں ۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی پیدائش موضع رامتین (بخارا شہرر سے چھ میل دور) 591 ھ میں ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی قدس سرہ کے دست پر بیعت ہوئے اور آپ ہی سے خلافت بھی حاصل کی ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے مقاماتِ عالیہ اور کراماتِ عجیبہ بہت ہیں۔آپ ضعتِ بافندگی میں مشغول و مصروف رہا کرتے تھے۔ عارف جامی رحمۃ اللہ علیہ نےاپنی شہرتِ عام اور بقائے دوام کی حامل کتاب نفحات الانس میں لکھا ہے کہ: میں نے بعض اکابر سے یوں سنا ہے کہ حضرت مولانا جلال الدین رومی قدس سرہ کے شعرِ ذیل میں خواجہ غریزاں علی ہی کی طرف اشارہ ہے۔
گرنہ علمِ حال فوق قال بودے کے شدے
بندہ اعیانِ بخارا خواجۂ نساج را
ترجمہ:
علمِ حال اگر قال سے بہتر نہ ہوتا توسردارانِ بخارا خواجہ نساج (بافندہ) کے کب غلام بنتے
آپ رامتین میں دین کی تبلیغ و اشاعت کے بعد باورد میں تشریف لے آئے اور ایک مدت تک یہاں کے لوگوں کوراہِ خدا بتاتے رہے۔ بعدِ ازاں خوارزم شہر میں مقیم ہوگئے اور حسبِ معمول ہدایتِ خلق اور ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے۔ خوارزم میں بہت سے لوگ آپ کے سلسلے میں داخل ہوئے۔
آپ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی قدس سرہ کے خلفائے کبار میں سے ہیں۔ جب حضرت خواجہ محمود الخیر کا وقتِ آخر قریب پہنچاتو انہوں نے اپنی خلافت اور جمیع اصحاب آپ کے سپرد کر دیئے۔ آپ حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت دار تھےاور انہی کے اشارے سے ہی خواجہ محمود فغنوی کے مرید ہوئے۔
وصال:
آپ کا وصال 28 ذو القعدہ 721ھ بمطابق 22 فروری 1321ء کو خوارزم میں میں ہوا اور وہی آخری آرام گاہ بنی۔
ماخذ و مراجع: تاریخِ مشائخِ نقشبند
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ali-ramteeni
نام و لقب:
آپ کا اسمِ گرامی علی ، لقب غریزاں ہے ۔آپ غریزاں علی کے نام سے مشہور و معروف ہیں ۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی پیدائش موضع رامتین (بخارا شہرر سے چھ میل دور) 591 ھ میں ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی قدس سرہ کے دست پر بیعت ہوئے اور آپ ہی سے خلافت بھی حاصل کی ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے مقاماتِ عالیہ اور کراماتِ عجیبہ بہت ہیں۔آپ ضعتِ بافندگی میں مشغول و مصروف رہا کرتے تھے۔ عارف جامی رحمۃ اللہ علیہ نےاپنی شہرتِ عام اور بقائے دوام کی حامل کتاب نفحات الانس میں لکھا ہے کہ: میں نے بعض اکابر سے یوں سنا ہے کہ حضرت مولانا جلال الدین رومی قدس سرہ کے شعرِ ذیل میں خواجہ غریزاں علی ہی کی طرف اشارہ ہے۔
گرنہ علمِ حال فوق قال بودے کے شدے
بندہ اعیانِ بخارا خواجۂ نساج را
ترجمہ:
علمِ حال اگر قال سے بہتر نہ ہوتا توسردارانِ بخارا خواجہ نساج (بافندہ) کے کب غلام بنتے
آپ رامتین میں دین کی تبلیغ و اشاعت کے بعد باورد میں تشریف لے آئے اور ایک مدت تک یہاں کے لوگوں کوراہِ خدا بتاتے رہے۔ بعدِ ازاں خوارزم شہر میں مقیم ہوگئے اور حسبِ معمول ہدایتِ خلق اور ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے۔ خوارزم میں بہت سے لوگ آپ کے سلسلے میں داخل ہوئے۔
آپ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی قدس سرہ کے خلفائے کبار میں سے ہیں۔ جب حضرت خواجہ محمود الخیر کا وقتِ آخر قریب پہنچاتو انہوں نے اپنی خلافت اور جمیع اصحاب آپ کے سپرد کر دیئے۔ آپ حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت دار تھےاور انہی کے اشارے سے ہی خواجہ محمود فغنوی کے مرید ہوئے۔
وصال:
آپ کا وصال 28 ذو القعدہ 721ھ بمطابق 22 فروری 1321ء کو خوارزم میں میں ہوا اور وہی آخری آرام گاہ بنی۔
ماخذ و مراجع: تاریخِ مشائخِ نقشبند
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ali-ramteeni
scholars.pk
Hazrat Khawaja Ali Ramteeni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ حسن بن میاں جیون رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نام حسن بن شاہ میاں جیون بن شیخ نصیر الدین شیخ امجد الدین بن شیخ سراج الدین بن کمال الدین قدس سرہم ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ روحانی طورپرشیخ جمال الدین المعروف شیخ جمن کے مرید تھے۔ شیخ جمن شیخ محمد المعروف شیخ راجن کے وہ شیخ علم الدین کے اور وہ شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی قد س سرہم کے مرید تھے۔
سیرت و خصائص:
شیخ حسن بن میاں جیون قدس سرہ ایک بڑے جلیل القدر اور اپنے زمانے کے مایہ ناز گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر ہی سے حاصل کی، مزید علوم کے حصول کے لئے کئی مقامات کا سفر کرکے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ متبحر اور وسیع العلم علماء میں سے ہوگئے۔ حصولِ علم سے فراغت کے بعد آپ مخلوق کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت شروع کی۔ آپ کے حلقۂ ارادت سے کافی لوگوں نے فائدہ حاصل کیا۔آپ اپنے اوراد و وظائف کے پابند اور اپنے وقت کی بہت قدر کیا کرتے تھے۔ آپ کا وقت وعظ و نصیحت اور اشاعتِ علم میں گزرتا۔
وصال:
آپ 28 ذو القعدہ 980 ھ/ بمطابق31 مارچ 1573ء میں واصل کا بحق ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hasan-muhammad-bin-miyan-jeewan
نام و نسب:
آپ کا نام حسن بن شاہ میاں جیون بن شیخ نصیر الدین شیخ امجد الدین بن شیخ سراج الدین بن کمال الدین قدس سرہم ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ روحانی طورپرشیخ جمال الدین المعروف شیخ جمن کے مرید تھے۔ شیخ جمن شیخ محمد المعروف شیخ راجن کے وہ شیخ علم الدین کے اور وہ شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی قد س سرہم کے مرید تھے۔
سیرت و خصائص:
شیخ حسن بن میاں جیون قدس سرہ ایک بڑے جلیل القدر اور اپنے زمانے کے مایہ ناز گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر ہی سے حاصل کی، مزید علوم کے حصول کے لئے کئی مقامات کا سفر کرکے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ متبحر اور وسیع العلم علماء میں سے ہوگئے۔ حصولِ علم سے فراغت کے بعد آپ مخلوق کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت شروع کی۔ آپ کے حلقۂ ارادت سے کافی لوگوں نے فائدہ حاصل کیا۔آپ اپنے اوراد و وظائف کے پابند اور اپنے وقت کی بہت قدر کیا کرتے تھے۔ آپ کا وقت وعظ و نصیحت اور اشاعتِ علم میں گزرتا۔
وصال:
آپ 28 ذو القعدہ 980 ھ/ بمطابق31 مارچ 1573ء میں واصل کا بحق ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hasan-muhammad-bin-miyan-jeewan
scholars.pk
Hazrat Sheikh Hasan Muhammad Bin Miyan Jeewan
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔لقب: استاذالاساتذہ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
مولانا حکیم احمد الدین چشتی بن مولانا غلام حسین چشتی چکوالی بن قاضی محمد احسن بن محمد حنیف بن محمد بن نور محمد۔علیہم الرحمہ
خاندانی تعلق قطب شاہی اعوان سے ہے۔آپ کے والد گرامی حضرت مولانا غلام حسین چکوالی اپنے زمانےکےامام الفضلاء تھے۔انہوں نے علوم متداولہ کی تحصیل وتکمیل حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسےکی۔علاوہ ازیں حضرت شیخ احمد سعید مجددی دہلوی،شیخ عبدالغنی مجددی دہلوی اور مفتی صدرالدین سےبھی علمی استفادہ کیا۔بیعت حضرت شمس العارفین سیالویسےتھی۔
آپ کاوصال 28 جمادی الثانی 1305ھ کو چکوال میں ہوا۔مزار شریف چکوال میں ہے۔(فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول :570)
تاریخِ ولادت:
2/رمضان المبارک 1268ھ مطابق 8/جولائی 1852ء کوموضع’’بولہ‘‘ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔بعد میں آبائی گاؤں سے منتقل ہوکر چکوال شہر میں مقیم ہوگئے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)
تحصیلِ علم:
24/ محرم الحرام 1274ھ کو باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔تمام علوم اپنے والد گرامی سےحاصل کرکےسند فراغ حاصل کی۔1298ھ میں حرمین شریفین کا قصد کیا۔وہاں پر اپنے والد ماجد کےاستاد حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسے علم التوقیت حاصل کیا۔علاوہ ازیں شیخ عبداللہ سراج مفتیِ مکہ اور شیخ احمد بن زینی دحلان محدث مکہ سے حدیث قرأت، ہئیت، ریبع مجیب اور ربع مقظر وغیرہ علوم وہاں کے جید اساتذہ سے حاصل کرکے تعلیم و تدریس کی اعلیٰ سندیں حاصل کرکے واپس ہوئے۔1872ء کو (یعنی بیس سال کی عمر میں) انگریز حکومت نے علماء کا انٹر ویو لیا، جس میں اول آنے پر آپ کو پچاس روپے(50) نقد اور پندرہ روپے ماہانہ کا وظیفہ مقرر کیا تاکہ اورینٹل کالج لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں لیکن آپ کالج پہنچ کر واپس آگئے کیوں کہ وہاں کا معیار تعلیم بہت پست تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے کہ ایک عربی خاتون نے فرمایا کہ یہ پنجابی قرآن کتنا غلط پڑھ رہاہے۔اس خاتون کے انتباہ پر آپ نےحضرت قاری عبداللہ مکی سے قرات وتجوید حاصل کی۔فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کادرس غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑویسےلیا۔(فوزالمقال: 571)
بیعت و خلافت:
1280ھ کو والد ماجد کے ہمراہ شیخ طریقت حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔ 1310ھ کو بلاد مقدسہ کی زیارت کیلئے سفر کیا اور بغداد شریف میں حضرت نقیب سلمان کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص:
استاذا لاساتذہ،مرجع الفضلاء،امام المعقول والمنقول،عالم، حکیم،شاعر، مدرس ،مفکر،منتظم،حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔آپ کا خاندانی تعلق ایک علمی وروحانی خانوادے سے ہے۔آپ خلفِ رشید تھے۔تمام علوم وفنون پر مہارت رکھتے تھے۔اولیاء کرام اور بالخصوص حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی سےنہایت عقیدت رکھتےتھے۔ایک مرتبہ مسجد میں بوقت اشراق اوراد وظائف میں مشغول تھےکہ کسی نے پوچھ لیا کہ حضرت شمس العارفین کےحسن وجمال اور حلیہ کے بارے میں دریافت کیا۔آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ میرے شمس اس آسمانی شمس سے زیادہ نورانی ومنور ہیں۔دیرتک آپ پر کیف ووجدان کی حالت طاری رہی۔(فوزالمقال)
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی دراز قامت،درمیانی جسامت،سرخ وسفید رنگت،صورت وسیرت میں بے حد حسین وجمیل تھے۔اسی طرح لباس بھی نفیس استعمال کرتےتھے۔کرتا شلوار،کندھے پر چادر،سر پر عمامہ ۔لباس سفید رنگ کا استعمال کرتےتھے۔غذاقلیل استعمال کرتےتھے۔
آپ کےروز مرہ معمولات میں درس وتدریس،امامت فتویٰ نویسی،وعظ ونصیحت،اور اوراد و وظائف چشتیہ کی تلاوت وغیرہ شامل تھی۔جمعۃ المبارک کا خطبے میں مسلمانوں کو عمل ِ صالح کی ترغیب دیتےتھے۔
آپبڑے پارسا،پابندِ شریعت، اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔بڑے مستجاب الدعوات،خود دار،اور صابر وشاکر تھے۔جید عالم کےساتھ حاذق حکیم بھی تھے۔مریضوں کا علاج مفت کرتےتھے۔شاعری اور تاریخ گوئی میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔بڑے ذہین وفطین تھے۔پہلے حافظ نہیں تھے بعد میں شوق ہوا تو قرآن کریم حفظ کرکےتراویح میں سنایا کرتےتھے۔بڑی بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔چکوال میں رہتےہوئے اپنی پوری زندگی نہ بازار گئے اور نہ ہی بازار دیکھا۔بڑے حق گو اور بےباک عالم دین تھے۔فقہ،تصوف اور علوم اسلامی سے ان کا سینہ منور تھا۔اکابرین شہر اور حکام آپ کی بہت قدر ومنزلت کرتےتھے۔فرق ِ باطلہ کے سخت مخالف تھے۔ساری زندگی درس وتدریس وعظ ونصیحت اور ذکر الہی میں بسر کی۔قدرت نے آپ کو شاعرانہ طبیعت ودیعت فرمائی تھی۔عربی،فارسی،اور اردو،پنجابی میں بے تکلف شاعرکہتے تھے۔لیکن زیادہ توجہ شاعری ک
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔لقب: استاذالاساتذہ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
مولانا حکیم احمد الدین چشتی بن مولانا غلام حسین چشتی چکوالی بن قاضی محمد احسن بن محمد حنیف بن محمد بن نور محمد۔علیہم الرحمہ
خاندانی تعلق قطب شاہی اعوان سے ہے۔آپ کے والد گرامی حضرت مولانا غلام حسین چکوالی اپنے زمانےکےامام الفضلاء تھے۔انہوں نے علوم متداولہ کی تحصیل وتکمیل حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسےکی۔علاوہ ازیں حضرت شیخ احمد سعید مجددی دہلوی،شیخ عبدالغنی مجددی دہلوی اور مفتی صدرالدین سےبھی علمی استفادہ کیا۔بیعت حضرت شمس العارفین سیالویسےتھی۔
آپ کاوصال 28 جمادی الثانی 1305ھ کو چکوال میں ہوا۔مزار شریف چکوال میں ہے۔(فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول :570)
تاریخِ ولادت:
2/رمضان المبارک 1268ھ مطابق 8/جولائی 1852ء کوموضع’’بولہ‘‘ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔بعد میں آبائی گاؤں سے منتقل ہوکر چکوال شہر میں مقیم ہوگئے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)
تحصیلِ علم:
24/ محرم الحرام 1274ھ کو باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔تمام علوم اپنے والد گرامی سےحاصل کرکےسند فراغ حاصل کی۔1298ھ میں حرمین شریفین کا قصد کیا۔وہاں پر اپنے والد ماجد کےاستاد حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسے علم التوقیت حاصل کیا۔علاوہ ازیں شیخ عبداللہ سراج مفتیِ مکہ اور شیخ احمد بن زینی دحلان محدث مکہ سے حدیث قرأت، ہئیت، ریبع مجیب اور ربع مقظر وغیرہ علوم وہاں کے جید اساتذہ سے حاصل کرکے تعلیم و تدریس کی اعلیٰ سندیں حاصل کرکے واپس ہوئے۔1872ء کو (یعنی بیس سال کی عمر میں) انگریز حکومت نے علماء کا انٹر ویو لیا، جس میں اول آنے پر آپ کو پچاس روپے(50) نقد اور پندرہ روپے ماہانہ کا وظیفہ مقرر کیا تاکہ اورینٹل کالج لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں لیکن آپ کالج پہنچ کر واپس آگئے کیوں کہ وہاں کا معیار تعلیم بہت پست تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے کہ ایک عربی خاتون نے فرمایا کہ یہ پنجابی قرآن کتنا غلط پڑھ رہاہے۔اس خاتون کے انتباہ پر آپ نےحضرت قاری عبداللہ مکی سے قرات وتجوید حاصل کی۔فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کادرس غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑویسےلیا۔(فوزالمقال: 571)
بیعت و خلافت:
1280ھ کو والد ماجد کے ہمراہ شیخ طریقت حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔ 1310ھ کو بلاد مقدسہ کی زیارت کیلئے سفر کیا اور بغداد شریف میں حضرت نقیب سلمان کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص:
استاذا لاساتذہ،مرجع الفضلاء،امام المعقول والمنقول،عالم، حکیم،شاعر، مدرس ،مفکر،منتظم،حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔آپ کا خاندانی تعلق ایک علمی وروحانی خانوادے سے ہے۔آپ خلفِ رشید تھے۔تمام علوم وفنون پر مہارت رکھتے تھے۔اولیاء کرام اور بالخصوص حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی سےنہایت عقیدت رکھتےتھے۔ایک مرتبہ مسجد میں بوقت اشراق اوراد وظائف میں مشغول تھےکہ کسی نے پوچھ لیا کہ حضرت شمس العارفین کےحسن وجمال اور حلیہ کے بارے میں دریافت کیا۔آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ میرے شمس اس آسمانی شمس سے زیادہ نورانی ومنور ہیں۔دیرتک آپ پر کیف ووجدان کی حالت طاری رہی۔(فوزالمقال)
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی دراز قامت،درمیانی جسامت،سرخ وسفید رنگت،صورت وسیرت میں بے حد حسین وجمیل تھے۔اسی طرح لباس بھی نفیس استعمال کرتےتھے۔کرتا شلوار،کندھے پر چادر،سر پر عمامہ ۔لباس سفید رنگ کا استعمال کرتےتھے۔غذاقلیل استعمال کرتےتھے۔
آپ کےروز مرہ معمولات میں درس وتدریس،امامت فتویٰ نویسی،وعظ ونصیحت،اور اوراد و وظائف چشتیہ کی تلاوت وغیرہ شامل تھی۔جمعۃ المبارک کا خطبے میں مسلمانوں کو عمل ِ صالح کی ترغیب دیتےتھے۔
آپبڑے پارسا،پابندِ شریعت، اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔بڑے مستجاب الدعوات،خود دار،اور صابر وشاکر تھے۔جید عالم کےساتھ حاذق حکیم بھی تھے۔مریضوں کا علاج مفت کرتےتھے۔شاعری اور تاریخ گوئی میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔بڑے ذہین وفطین تھے۔پہلے حافظ نہیں تھے بعد میں شوق ہوا تو قرآن کریم حفظ کرکےتراویح میں سنایا کرتےتھے۔بڑی بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔چکوال میں رہتےہوئے اپنی پوری زندگی نہ بازار گئے اور نہ ہی بازار دیکھا۔بڑے حق گو اور بےباک عالم دین تھے۔فقہ،تصوف اور علوم اسلامی سے ان کا سینہ منور تھا۔اکابرین شہر اور حکام آپ کی بہت قدر ومنزلت کرتےتھے۔فرق ِ باطلہ کے سخت مخالف تھے۔ساری زندگی درس وتدریس وعظ ونصیحت اور ذکر الہی میں بسر کی۔قدرت نے آپ کو شاعرانہ طبیعت ودیعت فرمائی تھی۔عربی،فارسی،اور اردو،پنجابی میں بے تکلف شاعرکہتے تھے۔لیکن زیادہ توجہ شاعری ک
❤1
ی طرف نہ تھی۔اسی طرح تاریخی مادے بحساب ابجد نکالنے میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔عربی فارسی کلاموں میں تضمین آپ کےلئے کوئی مشکل کام نہ تھا۔’’الداعی‘‘ تخلص تھا۔زیادہ تر کلام فارسی میں ہے۔
درس وتدریس: جب آپ نے چکوال میں مسند تدریس بچھائی تو آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی۔کشمیر،سرحد،اور کابل وقندھار تک کےطلبہ تعلیم حاصل کرتےتھے۔خاص طور پر مثنوی شریف،ربع مجیب،اور ربع مقنطرہ وغیرہ علوم پڑھنے کےلئے دور دراز سے علماء حاضر ہوتے اور شرفِ تلمذ حاصل کرتے۔قدوۃ المحققین حضرت علامہ غلام محمود پپلانوی(محشی تکملہ ومصنف نجم الرحمن) آپ کے ارشد تلامذہ میں سےتھے۔حضرت مفتی دین محمد رتوی نے فقہ، اصول فقہ،طب کی تعلیم آپ سے حاصل کی۔حضرت مولانا عبداللہ کھڈہ مارکیٹ کراچی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم کراچی۔مولوی محمد صادق دیوبندی کانگریسی کھڈہ کراچی۔نامور تلامذہ ہیں۔جنات بھی آپ کے درس میں شریک ہوتےتھے۔
مدرسہ مظہر العلوم کا بانی کون؟: کھڈہ مارکیٹ لیاری کراچی کے دارالعلوم مظہر العلوم کا بانی کون اور قبضہ کس کا؟ کے متعلق درج ذیل مضمون میں اختصار کے ساتھ دلائل درج کئے جارہے ہیں تاکہ تاریخ کے طالب علم پراصل حقائق واضح ہوں۔ مولانا اشرف صاحب لکھتے ہیں:’’مولانا حمد دین چکوالی1298ھ کو حرمین شریفین سے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرکے واپسی پر کراچی کے محلہ کھڈہ میں مولاناعبداللہ کے پاس کچھ عرصہ قیام کیا اور وہاں ایک دینی مدرسہ مظہر العلوم قائم کیا جو آج بھی موجود ہے‘‘ (تذکرہ اکابر اہل سنت :44)
مولانا عبداللہ سنی حنفی صحیح العقیدہ تھے، مولانا احمد دین کے دوست اور ایک روایت کے مطابق شاگرد بھی تھے اور کراچی کے مشہور قاری حافظ غلام رسول قادری (متوفی1391ھ) کی نماز جنازہ جہانگیر پارک صدر میں مولانا عبداللہ نے پڑھائی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے علماء و مشائخ بھی شریک تھے ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی دیوبندی یا وہابی سے اہل سنت کے عالم و پیر کے جنازے کی امامت جانتے بوجھتے کرائی جائے۔ معلوم یہ ہوا کہ حضرت مولانا عبداللہ اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے تھے مگر آپ کے صاحبزادے اہل سنت سے منحرف ہو کر دیو بندی ہوگئے۔ حضرت مولانا عبداللہ کا لڑکا ’’مولوی محمد صادق‘‘نے والد ماجد کے عقیدے و نظریے سے غداری کرکے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے پکے دیوبندی وہابی بنے، سندھ واپس آکر دیوبندیت کا نگریسیت سے شہرت حاصل کی، متحدہ قومیت(ہندو مسلم اتحاد) کے مبلغ بنے، تحریک ہجرت و کانگریس میں بھر پور کام کیا۔ اس طرح اہل سنت کے مدرسہ پر وہابیت کا نہ فقط قبضہ ہوا بلکہ آج تک مرکز بنا ہوا ہے۔ مولوی صادق کی نسبت سے مدرسے سے پرچہ ’’الصادق‘‘ آج تک جاری ہے۔
ایک اور اہم انشاف یہ سامنے آیا کہ 1907ء کو مدرسہ مظہر العلوم میں ’’دارالافتاء‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کے صدر مفتی مولانا عبداللہ مرحوم تھے اور اس کے نائب مفتی حضرت علامہ عبدالکریم درس تھے جب کہ کراچی کے متعدد مفتی صاحبان مولانا محمد صدیق، مولانا عبدالحق ہالائی، مولانا احمد بخاری وغیرہ اس کے باضابطہ ممبر تھے۔مولانا حکیم احمد الدین کے دو صاحبزادے ان کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے۔۱۔ مولانا حافظ علاء الدین 21 سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔2۔ مولانا حافظ قاضی ضیاء الدین ایم ۔ اے بی ایڈ۔ ڈسٹرکٹ انسپکٹر اسکولز، صحیح العقیدہ سنی تھے، ملازمت کے دوران ایک حادثہ کا شکار ہوگئے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:107)
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 28/ذوالقعدہ 1347ھ مطابق 8/مئی 1929ء کو صبح صادق سے پہلےہوا۔چکوال میں آبائی قبرستان میں مدفون ہیں۔
ماخذ ومراجع: تذکرہ اکابر اہل سنت۔انوار علمائے اہلسنت سندھ۔فوزالمقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-ahmeduddin-chishti
درس وتدریس: جب آپ نے چکوال میں مسند تدریس بچھائی تو آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی۔کشمیر،سرحد،اور کابل وقندھار تک کےطلبہ تعلیم حاصل کرتےتھے۔خاص طور پر مثنوی شریف،ربع مجیب،اور ربع مقنطرہ وغیرہ علوم پڑھنے کےلئے دور دراز سے علماء حاضر ہوتے اور شرفِ تلمذ حاصل کرتے۔قدوۃ المحققین حضرت علامہ غلام محمود پپلانوی(محشی تکملہ ومصنف نجم الرحمن) آپ کے ارشد تلامذہ میں سےتھے۔حضرت مفتی دین محمد رتوی نے فقہ، اصول فقہ،طب کی تعلیم آپ سے حاصل کی۔حضرت مولانا عبداللہ کھڈہ مارکیٹ کراچی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم کراچی۔مولوی محمد صادق دیوبندی کانگریسی کھڈہ کراچی۔نامور تلامذہ ہیں۔جنات بھی آپ کے درس میں شریک ہوتےتھے۔
مدرسہ مظہر العلوم کا بانی کون؟: کھڈہ مارکیٹ لیاری کراچی کے دارالعلوم مظہر العلوم کا بانی کون اور قبضہ کس کا؟ کے متعلق درج ذیل مضمون میں اختصار کے ساتھ دلائل درج کئے جارہے ہیں تاکہ تاریخ کے طالب علم پراصل حقائق واضح ہوں۔ مولانا اشرف صاحب لکھتے ہیں:’’مولانا حمد دین چکوالی1298ھ کو حرمین شریفین سے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرکے واپسی پر کراچی کے محلہ کھڈہ میں مولاناعبداللہ کے پاس کچھ عرصہ قیام کیا اور وہاں ایک دینی مدرسہ مظہر العلوم قائم کیا جو آج بھی موجود ہے‘‘ (تذکرہ اکابر اہل سنت :44)
مولانا عبداللہ سنی حنفی صحیح العقیدہ تھے، مولانا احمد دین کے دوست اور ایک روایت کے مطابق شاگرد بھی تھے اور کراچی کے مشہور قاری حافظ غلام رسول قادری (متوفی1391ھ) کی نماز جنازہ جہانگیر پارک صدر میں مولانا عبداللہ نے پڑھائی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے علماء و مشائخ بھی شریک تھے ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی دیوبندی یا وہابی سے اہل سنت کے عالم و پیر کے جنازے کی امامت جانتے بوجھتے کرائی جائے۔ معلوم یہ ہوا کہ حضرت مولانا عبداللہ اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے تھے مگر آپ کے صاحبزادے اہل سنت سے منحرف ہو کر دیو بندی ہوگئے۔ حضرت مولانا عبداللہ کا لڑکا ’’مولوی محمد صادق‘‘نے والد ماجد کے عقیدے و نظریے سے غداری کرکے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے پکے دیوبندی وہابی بنے، سندھ واپس آکر دیوبندیت کا نگریسیت سے شہرت حاصل کی، متحدہ قومیت(ہندو مسلم اتحاد) کے مبلغ بنے، تحریک ہجرت و کانگریس میں بھر پور کام کیا۔ اس طرح اہل سنت کے مدرسہ پر وہابیت کا نہ فقط قبضہ ہوا بلکہ آج تک مرکز بنا ہوا ہے۔ مولوی صادق کی نسبت سے مدرسے سے پرچہ ’’الصادق‘‘ آج تک جاری ہے۔
ایک اور اہم انشاف یہ سامنے آیا کہ 1907ء کو مدرسہ مظہر العلوم میں ’’دارالافتاء‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کے صدر مفتی مولانا عبداللہ مرحوم تھے اور اس کے نائب مفتی حضرت علامہ عبدالکریم درس تھے جب کہ کراچی کے متعدد مفتی صاحبان مولانا محمد صدیق، مولانا عبدالحق ہالائی، مولانا احمد بخاری وغیرہ اس کے باضابطہ ممبر تھے۔مولانا حکیم احمد الدین کے دو صاحبزادے ان کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے۔۱۔ مولانا حافظ علاء الدین 21 سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔2۔ مولانا حافظ قاضی ضیاء الدین ایم ۔ اے بی ایڈ۔ ڈسٹرکٹ انسپکٹر اسکولز، صحیح العقیدہ سنی تھے، ملازمت کے دوران ایک حادثہ کا شکار ہوگئے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:107)
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 28/ذوالقعدہ 1347ھ مطابق 8/مئی 1929ء کو صبح صادق سے پہلےہوا۔چکوال میں آبائی قبرستان میں مدفون ہیں۔
ماخذ ومراجع: تذکرہ اکابر اہل سنت۔انوار علمائے اہلسنت سندھ۔فوزالمقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-ahmeduddin-chishti
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Ahmeduddin Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا سراج الحق بدایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نام سراج الحق والد کا نام فیض احمد بدایونی، آپ کا تاریخی ناماظہار الحق ہے۔
تاریخ ولادت:
آپ 20 رمضان المبارک 1246ھ بدایوں میں پیدا ہوئے۔
بیعت:
آپ علیہ الرحمہ حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ کے دست پر مرید ہوئے۔
سیرت و خصائص:
آپ نے اکثر کتبِ مروجہ اپنے والد سے پڑھیں، والدِ ماجد کے بعد استاذ العلماء نور احمد قدس سرہ سے درسیات کی تکمیل کی۔
والد کے ماموں حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ سے عملاً طب حاصل کی۔ اکثر دان پور، دھرم پور میں قیام رہتا تھا۔ دستِ شفا کی خاص شہرت تھی۔
عربی ادب میں والد صاحب کی طرح ماہر تھے۔ نظم و نثر دونوں پر قدرت تھی۔ دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔مخلوق کے افاضہ و افادہ میں ہمہ تی مصروف رہتے تھے۔
اس وقت جب علم کتابوں میں اور علماء اپنے مزاروں میں تھے اس وقت ان کی ذات کو غنیمت تصور کیا جاتا تھا۔ تصانیف میں علمِ میراث اور علمِ کلام سے خصوصی شغف تھا۔ باطل مذاہب خصوصاً وہابیہ کی رد میں کئی رسائل لکھے۔
وصال:
آپ کا وصال 28 ذو القعدہ 1322ھ / بمطابق 2 فروری 1905ء میں بمقام دان پور وقتِ سحر واصل الی اللہ ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علائے ہند، تذکرۂ علمائے اہلِ سنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-siraj-ul-haq-badayuni
نام و نسب:
آپ کا نام سراج الحق والد کا نام فیض احمد بدایونی، آپ کا تاریخی ناماظہار الحق ہے۔
تاریخ ولادت:
آپ 20 رمضان المبارک 1246ھ بدایوں میں پیدا ہوئے۔
بیعت:
آپ علیہ الرحمہ حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ کے دست پر مرید ہوئے۔
سیرت و خصائص:
آپ نے اکثر کتبِ مروجہ اپنے والد سے پڑھیں، والدِ ماجد کے بعد استاذ العلماء نور احمد قدس سرہ سے درسیات کی تکمیل کی۔
والد کے ماموں حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول قدس سرہ سے عملاً طب حاصل کی۔ اکثر دان پور، دھرم پور میں قیام رہتا تھا۔ دستِ شفا کی خاص شہرت تھی۔
عربی ادب میں والد صاحب کی طرح ماہر تھے۔ نظم و نثر دونوں پر قدرت تھی۔ دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔مخلوق کے افاضہ و افادہ میں ہمہ تی مصروف رہتے تھے۔
اس وقت جب علم کتابوں میں اور علماء اپنے مزاروں میں تھے اس وقت ان کی ذات کو غنیمت تصور کیا جاتا تھا۔ تصانیف میں علمِ میراث اور علمِ کلام سے خصوصی شغف تھا۔ باطل مذاہب خصوصاً وہابیہ کی رد میں کئی رسائل لکھے۔
وصال:
آپ کا وصال 28 ذو القعدہ 1322ھ / بمطابق 2 فروری 1905ء میں بمقام دان پور وقتِ سحر واصل الی اللہ ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علائے ہند، تذکرۂ علمائے اہلِ سنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-siraj-ul-haq-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Siraj-ul-Haq Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
بارہویں صدی کے مجدد ، شہنشاہ ہندوستان ابو المظفر محی الدین سلطان اورنگ زیب بہادر عالمگیر بادشاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: اورنگ زیب عالمگیر ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: محی الدین ، سلطان المعظم ، سلطان الہند ۔ پورا نام: سلطان المعظم ابو المظفر محی الملۃ والدین محمد اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
سلطان اورنگ زیب عالمگیر، بن سلطان شاہ جہاں، بن نورالدین جہانگیر۔
تاریخِ ولادت:
بروز ہفتہ، 15 ذیقعدہ /1027ھ، بمطابق 24/اکتوبر 1618ء کو "مالوہ" اور گجرات کی آخری سرحد پر "دوحد" کے مقام پر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ سلاطینِ مغلیہ میں سے واحد شخصیت ہیں ، جوحافظِ قرآن تھے۔ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کو اپنے وقت کے جید مشائخ اور اساتذہ کی صحبت کا موقع ملا جن میں شیخِ جلیل شیخ محمد معصوم سرہندی بن مجد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی، اور شیخ احمد معروف بہ ملا جیون (صاحبِ تفسیراتِ احمدیہ) ۔ ان کے علاوہ میر محمد ہاشم گیلانی، ملا موہن بہاری، علامۂ زمان سعد اللہ وزیرِ اعظم شاہجہاں بادشاہ، مولانا سید محمد قنوجی، دانشمند خان (علیہم الرحمہ)۔ 3 ذوالحج 1045ھ کو 18 سال ؛ 10 دن کی عمر میں تمام علومِ مکتسبہ و فنونِ متعارفہ، عربی، فارسی، ترکی اور ہندی زبانوں میں پوری مہارت حاصل کی۔ عربی اور فارسی خط (نسخ ونستعلیق) میں کمال حاصل کیا۔ علومِ دینیہ تفسیر، حدیث، فقہِ حنفیہ، عقائدِ اصلیہ و مسائلِ فرعیہ، کتبِ طریقت مثلاً: احیاء العلوم، کیمیاء سعادت، کشف المحجوب اور کثیر کتب کا مطالعہ بچپن میں کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ فنونِ حربیہ، ملکی آئین، طریقِ جہانبانی و دستورِ فرمانروائی کا وہ بہترین سلیقہ اس قلیل عمر میں مکمل کر لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمگیر کے زمانے میں درس و تدریس کو جو ترقی ملی ایسا کسی عہد میں نہیں ہوا۔
حافظِ قرآن :
حفظِ قرآنِ مجید کی سعادت 43 سال کی عمر میں ہوئی۔ اس موقع پر ایک شاعر نے کہا تھا۔ ؎
تو حامیِ شرع و حامیِ تو شارع
تو حافظِ قرآن و خدا حافظِ تو
بیعت و خلافت:
شیخ سیف الدین نبیرہ حضرت مجدد الفِ ثانی ، اور خواجہ محمد سعید خلف الرشید حضرت مجدد الفِ ثانی نے روحانی تربیت فرمائی ،اور حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی بن مجد الفِ ثانی کے ذریعے تکمیل ہوئی۔ (علیہم الرحمۃ رحمۃ ًواسعۃً)۔
حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی نے آپ کے بارے میں فرمایا: میں نے بادشاہ (عالمگیر) کے معاملات میں نظر کی ہے۔ ان کا ظاہر تو امورِ سلطنت میں مصروف ہے ، مگر ان کا باطن اللہ جل جلالہ کے ذکر میں مصروف ہے۔ (مکتوب :220)
؎دست بکار کن، ودل بیارکن۔
سیرت و خصائص:
سلطان المعظم، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، دین پرور ، محی الملۃ والدین، حامیِ شرع متین، صاحبِ اوصافِ کثیرہ محی الدین ابوالمظفر سلطان محمد اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ۔
بارہویں صدی کے مجدد:
آپ کی دین پروری ،دینداری ،تقویٰ و پرہیزگاری ،علم و فضل، عدل و مساوات، علم دوستی ،"خدمتِ دین" اور عظیم کارناموں کی وجہ سے آپ کو "بارہویں صدی کا مجدد کہا جاتا ہے"۔
اتنی وسیع سلطنت کے سلطان ہونے کے باوجود آپ نے کبھی بھی عبادت و ریاضت میں کمی نہیں آنے دی۔ آپ ہر وقت با وضو رہتے تھے۔ کلمہ طیبہ اور ادعیہ ماثورہ درود شریف اور ذکر اللہ سے زبان تر رہتی تھی۔ نماز صفِ اول میں باجماعت ادا کرتے تھے۔ تمام سنن و نوافل اور مستحبات خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ شب زندہ دار تھے۔
سال کے اکثر حصے میں روزے سے رہتےتھے۔ ڈاکٹر برنیز نے 1665 میں آپ کو دیکھا تھا۔ وہ لکھتا ہے: "اس کی زندگی بالکل سادی اور زاہدانہ تھی۔ اس کا جسم نحیف ہو گیا تھا، اور اس لاغری و کمزوری میں اس کی روزہ داری نے اور اضافہ کر دیا تھا"۔ نمازِ جمعہ و عیدین عام مسلمانوں کے ساتھ بغیر کسی شاہی پروٹوکول کے ادا کرتے تھے۔
اہل اللہ کی صحبت کو پسند کرتے تھے۔ رمضان المبارک کے عشرہ اخیرہ میں معتکف رہتے تھے۔ آپ نے امورِ سلطنت سنبھالتے ہی ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسمیں ختم کیں، اور فحاشی کا انسداد کیا اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ قوال ، نجومی ، شاعر موقوف کر دئیے گئے۔ شراب ، افیون اور بھنگ بند کر دی ۔
درشن جھروکا کی رسم ختم کی، اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔ سجدہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا موقوف ہوا۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہر قسم کے محصول ہٹا دیے۔ آپ کے دورِ حکومت میں حکمرانوں اور عمالوں کی نگہبانی کا بہترین نظام تھا۔
قومی خزانے سے ذاتی خرچ کے لیے ایک پائی بھی نہ لی ۔ قرآن مجید لکھ کر ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے۔ نظامِ سلطنت چلانے کے لیے ایک مجموعہ فتاوٰی تصنیف کیا گیاجسے " فتاویٰ عالمگیری " کہا جاتا ہے۔ فتاویٰ عالم گیری فقہ اسلامی میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: اورنگ زیب عالمگیر ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: محی الدین ، سلطان المعظم ، سلطان الہند ۔ پورا نام: سلطان المعظم ابو المظفر محی الملۃ والدین محمد اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اسطرح ہے:
سلطان اورنگ زیب عالمگیر، بن سلطان شاہ جہاں، بن نورالدین جہانگیر۔
تاریخِ ولادت:
بروز ہفتہ، 15 ذیقعدہ /1027ھ، بمطابق 24/اکتوبر 1618ء کو "مالوہ" اور گجرات کی آخری سرحد پر "دوحد" کے مقام پر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ سلاطینِ مغلیہ میں سے واحد شخصیت ہیں ، جوحافظِ قرآن تھے۔ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کو اپنے وقت کے جید مشائخ اور اساتذہ کی صحبت کا موقع ملا جن میں شیخِ جلیل شیخ محمد معصوم سرہندی بن مجد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی، اور شیخ احمد معروف بہ ملا جیون (صاحبِ تفسیراتِ احمدیہ) ۔ ان کے علاوہ میر محمد ہاشم گیلانی، ملا موہن بہاری، علامۂ زمان سعد اللہ وزیرِ اعظم شاہجہاں بادشاہ، مولانا سید محمد قنوجی، دانشمند خان (علیہم الرحمہ)۔ 3 ذوالحج 1045ھ کو 18 سال ؛ 10 دن کی عمر میں تمام علومِ مکتسبہ و فنونِ متعارفہ، عربی، فارسی، ترکی اور ہندی زبانوں میں پوری مہارت حاصل کی۔ عربی اور فارسی خط (نسخ ونستعلیق) میں کمال حاصل کیا۔ علومِ دینیہ تفسیر، حدیث، فقہِ حنفیہ، عقائدِ اصلیہ و مسائلِ فرعیہ، کتبِ طریقت مثلاً: احیاء العلوم، کیمیاء سعادت، کشف المحجوب اور کثیر کتب کا مطالعہ بچپن میں کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ فنونِ حربیہ، ملکی آئین، طریقِ جہانبانی و دستورِ فرمانروائی کا وہ بہترین سلیقہ اس قلیل عمر میں مکمل کر لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمگیر کے زمانے میں درس و تدریس کو جو ترقی ملی ایسا کسی عہد میں نہیں ہوا۔
حافظِ قرآن :
حفظِ قرآنِ مجید کی سعادت 43 سال کی عمر میں ہوئی۔ اس موقع پر ایک شاعر نے کہا تھا۔ ؎
تو حامیِ شرع و حامیِ تو شارع
تو حافظِ قرآن و خدا حافظِ تو
بیعت و خلافت:
شیخ سیف الدین نبیرہ حضرت مجدد الفِ ثانی ، اور خواجہ محمد سعید خلف الرشید حضرت مجدد الفِ ثانی نے روحانی تربیت فرمائی ،اور حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی بن مجد الفِ ثانی کے ذریعے تکمیل ہوئی۔ (علیہم الرحمۃ رحمۃ ًواسعۃً)۔
حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی نے آپ کے بارے میں فرمایا: میں نے بادشاہ (عالمگیر) کے معاملات میں نظر کی ہے۔ ان کا ظاہر تو امورِ سلطنت میں مصروف ہے ، مگر ان کا باطن اللہ جل جلالہ کے ذکر میں مصروف ہے۔ (مکتوب :220)
؎دست بکار کن، ودل بیارکن۔
سیرت و خصائص:
سلطان المعظم، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، دین پرور ، محی الملۃ والدین، حامیِ شرع متین، صاحبِ اوصافِ کثیرہ محی الدین ابوالمظفر سلطان محمد اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ۔
بارہویں صدی کے مجدد:
آپ کی دین پروری ،دینداری ،تقویٰ و پرہیزگاری ،علم و فضل، عدل و مساوات، علم دوستی ،"خدمتِ دین" اور عظیم کارناموں کی وجہ سے آپ کو "بارہویں صدی کا مجدد کہا جاتا ہے"۔
اتنی وسیع سلطنت کے سلطان ہونے کے باوجود آپ نے کبھی بھی عبادت و ریاضت میں کمی نہیں آنے دی۔ آپ ہر وقت با وضو رہتے تھے۔ کلمہ طیبہ اور ادعیہ ماثورہ درود شریف اور ذکر اللہ سے زبان تر رہتی تھی۔ نماز صفِ اول میں باجماعت ادا کرتے تھے۔ تمام سنن و نوافل اور مستحبات خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ شب زندہ دار تھے۔
سال کے اکثر حصے میں روزے سے رہتےتھے۔ ڈاکٹر برنیز نے 1665 میں آپ کو دیکھا تھا۔ وہ لکھتا ہے: "اس کی زندگی بالکل سادی اور زاہدانہ تھی۔ اس کا جسم نحیف ہو گیا تھا، اور اس لاغری و کمزوری میں اس کی روزہ داری نے اور اضافہ کر دیا تھا"۔ نمازِ جمعہ و عیدین عام مسلمانوں کے ساتھ بغیر کسی شاہی پروٹوکول کے ادا کرتے تھے۔
اہل اللہ کی صحبت کو پسند کرتے تھے۔ رمضان المبارک کے عشرہ اخیرہ میں معتکف رہتے تھے۔ آپ نے امورِ سلطنت سنبھالتے ہی ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسمیں ختم کیں، اور فحاشی کا انسداد کیا اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ قوال ، نجومی ، شاعر موقوف کر دئیے گئے۔ شراب ، افیون اور بھنگ بند کر دی ۔
درشن جھروکا کی رسم ختم کی، اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔ سجدہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا موقوف ہوا۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہر قسم کے محصول ہٹا دیے۔ آپ کے دورِ حکومت میں حکمرانوں اور عمالوں کی نگہبانی کا بہترین نظام تھا۔
قومی خزانے سے ذاتی خرچ کے لیے ایک پائی بھی نہ لی ۔ قرآن مجید لکھ کر ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے۔ نظامِ سلطنت چلانے کے لیے ایک مجموعہ فتاوٰی تصنیف کیا گیاجسے " فتاویٰ عالمگیری " کہا جاتا ہے۔ فتاویٰ عالم گیری فقہ اسلامی میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔
❤1