🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-11-1444 ᴴ | 17-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-11-1444 ᴴ | 17-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-11-1444 ᴴ | 17-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-11-1444 ᴴ | 17-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خواجہ علی رامتینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و لقب:
آپ کا اسمِ گرامی علی ، لقب غریزاں ہے ۔آپ غریزاں علی کے نام سے مشہور و معروف ہیں ۔

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی پیدائش موضع رامتین (بخارا شہرر سے چھ میل دور) 591 ھ میں ہوئی ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی قدس سرہ کے دست پر بیعت ہوئے اور آپ ہی سے خلافت بھی حاصل کی ۔

سیرت و خصائص:
آپ کے مقاماتِ عالیہ اور کراماتِ عجیبہ بہت ہیں۔آپ ضعتِ بافندگی میں مشغول و مصروف رہا کرتے تھے۔ عارف جامی رحمۃ اللہ علیہ نےاپنی شہرتِ عام اور بقائے دوام کی حامل کتاب نفحات الانس میں لکھا ہے کہ: میں نے بعض اکابر سے یوں سنا ہے کہ حضرت مولانا جلال الدین رومی قدس سرہ کے شعرِ ذیل میں خواجہ غریزاں علی ہی کی طرف اشارہ ہے۔

گرنہ علمِ حال فوق قال بودے کے شدے
بندہ اعیانِ بخارا خواجۂ نساج را

ترجمہ:
علمِ حال اگر قال سے بہتر نہ ہوتا توسردارانِ بخارا خواجہ نساج (بافندہ) کے کب غلام بنتے

آپ رامتین میں دین کی تبلیغ و اشاعت کے بعد باورد میں تشریف لے آئے اور ایک مدت تک یہاں کے لوگوں کوراہِ خدا بتاتے رہے۔ بعدِ ازاں خوارزم شہر میں مقیم ہوگئے اور حسبِ معمول ہدایتِ خلق اور ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے۔ خوارزم میں بہت سے لوگ آپ کے سلسلے میں داخل ہوئے۔

آپ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی قدس سرہ کے خلفائے کبار میں سے ہیں۔ جب حضرت خواجہ محمود الخیر کا وقتِ آخر قریب پہنچاتو انہوں نے اپنی خلافت اور جمیع اصحاب آپ کے سپرد کر دیئے۔ آپ حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت دار تھےاور انہی کے اشارے سے ہی خواجہ محمود فغنوی کے مرید ہوئے۔

وصال:
آپ کا وصال 28 ذو القعدہ 721ھ بمطابق 22 فروری 1321ء کو خوارزم میں میں ہوا اور وہی آخری آرام گاہ بنی۔

ماخذ و مراجع: تاریخِ مشائخِ نقشبند

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ali-ramteeni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ حسن بن میاں جیون رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام حسن بن شاہ میاں جیون بن شیخ نصیر الدین شیخ امجد الدین بن شیخ سراج الدین بن کمال الدین قدس سرہم ہے۔

بیعت و خلافت:
آپ روحانی طورپرشیخ جمال الدین المعروف شیخ جمن کے مرید تھے۔ شیخ جمن شیخ محمد المعروف شیخ راجن کے وہ شیخ علم الدین کے اور وہ شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی قد س سرہم کے مرید تھے۔

سیرت و خصائص:
شیخ حسن بن میاں جیون قدس سرہ ایک بڑے جلیل القدر اور اپنے زمانے کے مایہ ناز گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر ہی سے حاصل کی، مزید علوم کے حصول کے لئے کئی مقامات کا سفر کرکے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ متبحر اور وسیع العلم علماء میں سے ہوگئے۔ حصولِ علم سے فراغت کے بعد آپ مخلوق کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت شروع کی۔ آپ کے حلقۂ ارادت سے کافی لوگوں نے فائدہ حاصل کیا۔آپ اپنے اوراد و وظائف کے پابند اور اپنے وقت کی بہت قدر کیا کرتے تھے۔ آپ کا وقت وعظ و نصیحت اور اشاعتِ علم میں گزرتا۔

وصال:
آپ 28 ذو القعدہ 980 ھ/ بمطابق31 مارچ 1573ء میں واصل کا بحق ہوئے۔

ماخذ و مراجع:
انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hasan-muhammad-bin-miyan-jeewan
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1