حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ غلام فرید ۔ القاب: ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قدوۃ العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید بن حضرت خواجہ خدا بخش بن حضرت خواجہ احمد علی بن حضرت قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلہ عالم مہاروی) بن مخدوم محمد شریف بن مخدوم یعقوب بن مخدوم نور محمد ۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز منگل 26 ذیقعدہ 1261ھ، مطابق 25 نومبر 1845ء کو " چاچڑاں شریف " میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اسی دوران آپ کے والد ماجد کا وصال ہو گیا ۔ ظاہری و باطنی علوم و معارف اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاں غلام فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر جید علماء سے حاصل کئے اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے برادرِ اکبر حضرت خواجہ فخر جہاں قدس سرہ سے بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان، غزالیِ گلستانِ الوہیت، رازیِ گلشنِ نبوت، بحرِ معرفت و شریعت، قدوۃ العاشقین، زبدۃ العارفین، رئیس الموحدین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی نظامی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت خواجہ صاحب ایک ہمہ جہت اور عبقری شخصیت کے مالک تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ خواجہ صاحب کے وصال کے بعد اس خطے میں ایسی نامور، جامع اور مؤثر شخصیت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ خواجہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سرائیکی زبان کے ملک الشعراء تھے ۔ آپ کے وجد آفریں کلام میں بلا کا سوز ہے ۔ آپ کی کافیاں آج بھی اثر آفرینی میں جواب نہیں رکھتیں ۔ عوام و خواص کے لئے کیف و سرور کا خزینہ اور عشق و عرفان کا سر چشمہ ہیں ۔
اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:
" جس قوم میں خواجہ فرید اور اس کی شاعری موجود ہے، اس قوم میں عشق و محبت کا موجود نہ ہونا تعجب انگیز ہے " ۔ چونکہ آپ مسئلہ وحدۃ الوجود کے بہت بڑے حامی تھے، اس لئے آپ کے کلام میں اس مسئلہ کی نمایاں ترجمانی پائی جاتی ہے ۔ آپ نے اردو ، فارسی ، سندھی ، اور سرائیکی وغیرہ زبانوں اظہار خیال کیا ہے ۔ آپ کے مطبوعہ دیوان کے مطالعہ سے قدرتِ بیان، جودتِ طبع اور بلندی ِتخیل کا پتہ چلتا ہے ۔ آپ شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ پر سختی سے کار بند تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے، رسوم بد کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ اپنے زمانہ کی عورتوں اور مردوں کے نا زیبا افعال پر سخت نا پسندید گی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
" عورتیں غیر مردوں کے سامنے اوڑھنی کندھے پر ڈال کر جلوہ گر ہوتی ہیں اور اسے باعثِ فخر سمجھتی ہیں، شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی بُری رسمیں پیدا ہو گئی ہیں مثلاً مرد عورتیں حلقہ باندھ کر رقص کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، اور حلقہ کے درمیان نقارہ بجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور کئی ممنوع اور مہلک امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ ناہنجار کافروں کے کاموں کو مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے اگر انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں جس کام پر ہمارے باپ دادا تھے ہمیں وہی کافی ہے"۔
جود و سخا کی کوئی انتہا نہ تھی، دور و نزدیک کے کثیر التعداد غرباء و مساکین کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے ۔ بہت سے یتیم اور بیوہ عورتیں آپ کے زیر سایہ خوشحالی سے زندگی گزارتے، کبھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے ۔ آپ نے سجادۂ فقر پر فائز ہونے کے باوجود علوم باطنی کے علاوہ علومِ ظاہری کا درس بھی جاری رکھا، خاص طور پر حدیث شریف اور تصوف کی کتب کا درس ہمیشہ جاری رہتا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ِخدمت رہتے لیکن جب آپ کسی مسئلہ پر اظہار خیال فرماتے اور تائید میں عقلی نقلی دلائل کے انبار لگاتے تو انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرنا پڑتا ۔ آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد شاکر ڈیروی صاحب علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور مدرس تھے، انھیں بھی خواجہ صاحب سے اکتسابِ علم کا موقع ملا ۔ ایک دن کسی دوست نے پوچھا مولانا! اب تک کتنا علم حاصل کیا؟ مولانا کہنے لگے: جس وقت حضرت نے " لا الہ الا للہ " کی تشریح فرمائی، تو میں نے اپنے آپ کو طفلِ مکتب سمجھا، اور ابھی اسی کلمۂ پاک کی توضیح ختم نہیں ہوئی ۔ (انسائیکلوپیڈیا ، ج:4، ص:233) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ غلام فرید ۔ القاب: ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قدوۃ العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید بن حضرت خواجہ خدا بخش بن حضرت خواجہ احمد علی بن حضرت قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلہ عالم مہاروی) بن مخدوم محمد شریف بن مخدوم یعقوب بن مخدوم نور محمد ۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز منگل 26 ذیقعدہ 1261ھ، مطابق 25 نومبر 1845ء کو " چاچڑاں شریف " میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اسی دوران آپ کے والد ماجد کا وصال ہو گیا ۔ ظاہری و باطنی علوم و معارف اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاں غلام فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر جید علماء سے حاصل کئے اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے برادرِ اکبر حضرت خواجہ فخر جہاں قدس سرہ سے بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان، غزالیِ گلستانِ الوہیت، رازیِ گلشنِ نبوت، بحرِ معرفت و شریعت، قدوۃ العاشقین، زبدۃ العارفین، رئیس الموحدین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی نظامی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت خواجہ صاحب ایک ہمہ جہت اور عبقری شخصیت کے مالک تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ خواجہ صاحب کے وصال کے بعد اس خطے میں ایسی نامور، جامع اور مؤثر شخصیت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ خواجہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سرائیکی زبان کے ملک الشعراء تھے ۔ آپ کے وجد آفریں کلام میں بلا کا سوز ہے ۔ آپ کی کافیاں آج بھی اثر آفرینی میں جواب نہیں رکھتیں ۔ عوام و خواص کے لئے کیف و سرور کا خزینہ اور عشق و عرفان کا سر چشمہ ہیں ۔
اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:
" جس قوم میں خواجہ فرید اور اس کی شاعری موجود ہے، اس قوم میں عشق و محبت کا موجود نہ ہونا تعجب انگیز ہے " ۔ چونکہ آپ مسئلہ وحدۃ الوجود کے بہت بڑے حامی تھے، اس لئے آپ کے کلام میں اس مسئلہ کی نمایاں ترجمانی پائی جاتی ہے ۔ آپ نے اردو ، فارسی ، سندھی ، اور سرائیکی وغیرہ زبانوں اظہار خیال کیا ہے ۔ آپ کے مطبوعہ دیوان کے مطالعہ سے قدرتِ بیان، جودتِ طبع اور بلندی ِتخیل کا پتہ چلتا ہے ۔ آپ شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ پر سختی سے کار بند تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے، رسوم بد کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ اپنے زمانہ کی عورتوں اور مردوں کے نا زیبا افعال پر سخت نا پسندید گی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
" عورتیں غیر مردوں کے سامنے اوڑھنی کندھے پر ڈال کر جلوہ گر ہوتی ہیں اور اسے باعثِ فخر سمجھتی ہیں، شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی بُری رسمیں پیدا ہو گئی ہیں مثلاً مرد عورتیں حلقہ باندھ کر رقص کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، اور حلقہ کے درمیان نقارہ بجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور کئی ممنوع اور مہلک امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ ناہنجار کافروں کے کاموں کو مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے اگر انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں جس کام پر ہمارے باپ دادا تھے ہمیں وہی کافی ہے"۔
جود و سخا کی کوئی انتہا نہ تھی، دور و نزدیک کے کثیر التعداد غرباء و مساکین کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے ۔ بہت سے یتیم اور بیوہ عورتیں آپ کے زیر سایہ خوشحالی سے زندگی گزارتے، کبھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے ۔ آپ نے سجادۂ فقر پر فائز ہونے کے باوجود علوم باطنی کے علاوہ علومِ ظاہری کا درس بھی جاری رکھا، خاص طور پر حدیث شریف اور تصوف کی کتب کا درس ہمیشہ جاری رہتا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ِخدمت رہتے لیکن جب آپ کسی مسئلہ پر اظہار خیال فرماتے اور تائید میں عقلی نقلی دلائل کے انبار لگاتے تو انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرنا پڑتا ۔ آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد شاکر ڈیروی صاحب علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور مدرس تھے، انھیں بھی خواجہ صاحب سے اکتسابِ علم کا موقع ملا ۔ ایک دن کسی دوست نے پوچھا مولانا! اب تک کتنا علم حاصل کیا؟ مولانا کہنے لگے: جس وقت حضرت نے " لا الہ الا للہ " کی تشریح فرمائی، تو میں نے اپنے آپ کو طفلِ مکتب سمجھا، اور ابھی اسی کلمۂ پاک کی توضیح ختم نہیں ہوئی ۔ (انسائیکلوپیڈیا ، ج:4، ص:233) ـ
❤1
شوال 1302ھ / 1885ءمیں جب مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے " براہین قاطعہ " کی بعض عبارات پر گرفت کی اور مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے ان عبارات پر مناظرہ کیا تو اس مجلس کے جج نواب آف بہاول پور نواب محمد صادق عباسی کے پیر و مرشد حضرت خواجہ صاحب ہی تھے ۔ آپ نے فیصلہ دیا تھا کہ " متنازعہ فیہا عبارات وہابیت کی ترجمانی کرتی ہیں اور مسلکِ اہلِ سنت کے خلاف ہیں " ۔ آپ کے فیصلے کی بناء پر مولوی انبیٹھوی کو گستاخانہ عبارات کی وجہ سے ریاست بہاولپور نکال دیا گیا تھا ۔ (تقدیس الوکیل) ـ
حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کے مریدین و معتقد ین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ عوام و خواص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفیض ہوتے ۔ بڑے بڑے نواب و امراء آپ کی نسبت ارادت اور خدمت کواپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ۔آپ کے درس ِتوحید و ہدایت سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد مستفید ہوئے اور متعدد حضرات منازل سلوک طے کر کے صاحبِ کمال ہوئے ۔ خلافت عطا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیتے ، فرماتے تھے :جب تک کل منازلِ سلوک طے نہ ہو جائیں شیخ کو لازم ہے کہ مرید کو خرقہ ٔخلافت نہ دے ۔
حضرت خواجہ صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی، بلکہ آپ " فنافی الرسول ﷺ " کے مقام پر فائز تھے ۔ آپ نے اپنے کلام میں اس کا جا بجا اظہار فرمایا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:
میڈا عشق وی توں میڈایار وی توں
میڈا جسم وی توں، میڈی روح وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں
میڈا زہد عبادت طاعت تقویٰ
میڈا دین وی توں ایمان وی توں
میڈا قلب وی توں، جند جان وی توں
صوم صلوٰۃ آذان وی توں
علم وی توں عرفان وی توں
وصال:
آپ کا وصال 7 ربیع الثانی 1319ھ، مطابق جولائی 1901ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " (ڈیرہ غازی خان ڈویژن) میں مرجعِ خلائقِ ہے ۔
وقتِ وصال کلمہ طیبہ
سے پہلے یہ رباعی پڑھتے رہے:
گزریا وقت ہَسَن کھِلن دا
اوکھا پینڈا یار ملن دا
آیا وقت فرید چلن دا
ہن جان لباں تے آئی اے
ماخذ و مراجع:
خواجہ غلام فرید ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ghulam-farid-farooqi-chishti
حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کے مریدین و معتقد ین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ عوام و خواص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفیض ہوتے ۔ بڑے بڑے نواب و امراء آپ کی نسبت ارادت اور خدمت کواپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ۔آپ کے درس ِتوحید و ہدایت سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد مستفید ہوئے اور متعدد حضرات منازل سلوک طے کر کے صاحبِ کمال ہوئے ۔ خلافت عطا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیتے ، فرماتے تھے :جب تک کل منازلِ سلوک طے نہ ہو جائیں شیخ کو لازم ہے کہ مرید کو خرقہ ٔخلافت نہ دے ۔
حضرت خواجہ صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی، بلکہ آپ " فنافی الرسول ﷺ " کے مقام پر فائز تھے ۔ آپ نے اپنے کلام میں اس کا جا بجا اظہار فرمایا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:
میڈا عشق وی توں میڈایار وی توں
میڈا جسم وی توں، میڈی روح وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں
میڈا زہد عبادت طاعت تقویٰ
میڈا دین وی توں ایمان وی توں
میڈا قلب وی توں، جند جان وی توں
صوم صلوٰۃ آذان وی توں
علم وی توں عرفان وی توں
وصال:
آپ کا وصال 7 ربیع الثانی 1319ھ، مطابق جولائی 1901ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " (ڈیرہ غازی خان ڈویژن) میں مرجعِ خلائقِ ہے ۔
وقتِ وصال کلمہ طیبہ
سے پہلے یہ رباعی پڑھتے رہے:
گزریا وقت ہَسَن کھِلن دا
اوکھا پینڈا یار ملن دا
آیا وقت فرید چلن دا
ہن جان لباں تے آئی اے
ماخذ و مراجع:
خواجہ غلام فرید ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ghulam-farid-farooqi-chishti
scholars.pk
Hazrat Khawaja Ghulam Farid Farooqi Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت مولانا فضل حق رام پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فضلِ حق رام پوری۔لقب: فخرالعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مولانا فضلِ حق رام پوری بن مولانا حافظ عبد الحق علیہما الرحمہ۔آپ کے والد گرامی مولانا حافظ عبدالحق باعمل حافظ قرآن تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور:317)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1278ھ مطابق 1861ءکو’’رام پور‘‘(انڈیا) میں ہوئی۔ یہ حُسن اتفاق ہی تو تھاکہ ایک فضلِ حق (خیر آبادی) 1278ھ میں دُنیا سےاُٹھا، اسی سن میں دوسرا فضل حق(صاحبِ ترجمہ) رونق افزاہوا۔گویا اللہ تعالیٰ نےمرحوم کاعلمی وفکری جانشین سالِ رحلت پیدا کردیا۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:/312تذکرہ کاملان رام پور:317)
تحصیلِ علم: حفظ قرآن مجید کی ابتداء اپنے والد ماجد سےکی۔والد گرامی بسلسلہ تدریس نوا کھالی بنگال چلے گئےتو شہر کےدوسرے حفاظ سےدس سال کی عمر میں تکمیل فرمائی۔فارسی حکیم احسن ساکن محلہ کھاری کنواں رام پور سے پڑھی۔صرف ونحو اور منطق کی ابتدائی کتب مولانا عبد الرحمن قندھاروی اور مولانا عبدالعزیز سہارنپوی سےپڑھیں۔فقہ شرح وقایہ تک اور ملا حسن،مولانا عبدالکریم رام پوری سےبھیکن پور میں پڑھیں۔علی گڑھ میں استاذ الکل مولانا لطف اللہ علی گڑھیسےمعقول ومنقول اور ریاضی کی تکمیل کی۔شرح اشارات،حدیث، اور تفسیر حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی (تلمیذ علامہ مولانا فضل حق خیرآبادی) سےپڑھ کر بیس سال کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی۔
بیعت وخلافت : سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں غوث الاسلام،فاتحِ قادیانیت،حضرت علامہ سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی سےشرفِ بیعت رکھتے تھے۔مولانا فیض احمد فیض لکھتے ہیں: مولانا فضلِ حق رام پوری حضرت قبلۂ عالم قدس سرہ کی خدمت میں بیعت کےلئے عریضہ لکھاتھا۔جس کےجواب میں آپ نےایک رومالروانہ فرماکر اورادو وظائف کی اجازت بخشی اور ارشاد فرمایا کہ آپ کی یہی بیعت کافی ہے۔ زیادہ سفر کی تکلیف نہ فرمائیں۔ مولانا موصوف پکے وحدت الجودی تھے اورحضرت کی تصنیف ’’تحقیق الحق‘‘ سےبے حد متأثر تھے۔
مولانا فیض احمد فیض مزید لکھتےہیں: ہندوستان کے مشہور مفتی اور عالم ریاست رام پور میں مدرسہ عالیہ رام پور کے پرنسپل مولانا فضلِ حق را م پورینےایک سال اجمیرشریف میں عرس کےموقع پر حضرت بابوجی سےحضرت قبلہ ٔ عالم قدسر سرہ کی تصنیف کے متعلق ذکر کرتےہوئے فرمایا تھا کہ یوں تو حضرت کےکمالات بہت بیان ہوتےہیں۔ لیکن میں تو اس دماغ کا شیدائی ہوں جس سے ’’سیف چشتیائی‘‘ ظہور میں آئی ہے۔(مہر منیر:251)
سیرت وخصائص: استاذالعلماء،مرجع الفضلاء،فخر العلماء،جامع المعقول والمنقول،مجمع البحرین،محبوب الطرفین حضرت علامہ مولانا فضل حق رام پوری۔آپ اپنے وقت کےفاضلِ متبحر اور عالم اکمل تھے۔آپ کی شہرت آپ کی زندگی میں ہی اطرافِ عالم میں پھیل گئی تھی۔آپ ایک عدیم النظیر عالم،بلند پایہ مدرس،عظیم الشان مصنف،اور جلیل القدر صوفی تھے۔دین ومذہب کی محبت رگ و پے میں جاری تھی۔خوش خلق، خوش مزاج،ملنسار اور مہمان نواز تھے۔آپ کی علمی فضیلت فضلاء دہر میں مسلم تھی۔سلسلہ خیر آبادی کی ایک روشن کڑی تھے۔کثیر الفیض علماء ہند میں فردِ وحید تھے۔آپ سے ایک جہاں فیض یاب ہوا۔
فراغت کے بعد ساری زندگی درس وتدریس، اور تصنیف وتالیف میں مصروف رہے۔ابتداء ً مدرسہ طالبیہ بریلی میں علوم دینیہ کی تدریس شروع کی اور صبح تاشام تیس،بتیس اسباق مختلف علوم وفنون کےپڑھاتے۔نواب عرش آشیاں مشتاق علی خان کےعہد 1304ھ میں مدرسہ عالیہ کےنظام میں توسیع ہوئی تو مولانا ہدایت علی بریلوی اول مدرس اور آپ مدرس سوم مقرر ہوئے۔مولوی عبدالجبار وزیر ریاست بھوپال کی درخواست پر مدرسہ سلیمانیہ بھوپال میں ایک سال صدر مدرس رہے۔طلبہ کی ایک کثیر جماعت بھی آپ کےساتھ بھوپال گئی۔بھوپال کےمشہور عالم حسین بن محسن یمنی سے تبرکاً اجازت حدیث حاصل کی۔شیخ نےآپ کی سند پر یہ الفاظ لکھے: ’’وھو فی الحقیقۃ بحر نبار وحباب ذخار کما یعلم ذلک من حالہ ومقالہ‘‘۔پھر سال کےآخر میں واپس رام پور آگئے۔
جب شمس العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالحق خیرآبادی مدرسہ عالیہ رام پور کےصدر مدرس مقرر ہوئےتوآپ نےمدرس ہونے کےباوجود ان سے علمی استفادہ کیا۔شرح سلم،شمس بازغہ،حواشی زاہدیہ علیٰ شرح المواقف،شرح سلم قاضی گوپاموی اور شرح تجرید پڑھی اور علمی ذوق کے تسکین اور استفادے کاحق ادا کردیا۔مولانا خیر آبادی اپنے تلامذہ میں سےآپ کی بہت تعریف اور قدر کرتےتھے۔مولانا عبدالحق خیر آبادی کے مدرسہ عالیہ سےجانے کےبعد آپ اول مدرس ہوئے۔1909ء میں حکومت کی درخواست پر ایک سال مدرسہ عالیہ کلکتہ میں اول مدرس کےمنصب پر فائز رہے۔
سالانہ تعطیلات میں جب رام پور آئے تو نواب حامد علی خان باصرار روک لیا۔چنانچہ مصطفیٰ علی سیکرٹری تعلیم اور نجم الحسن ڈائریکٹر تعلیم کی کوشش سے مدرسہ عالیہ رام پور کےدوبارہ صدرالمدرسین منتخب ہوئے۔طلبہ کو پڑھانے میں بڑی محنت کرتے۔مدرسہ کے اوقات کے علاوہ رات گی
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فضلِ حق رام پوری۔لقب: فخرالعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مولانا فضلِ حق رام پوری بن مولانا حافظ عبد الحق علیہما الرحمہ۔آپ کے والد گرامی مولانا حافظ عبدالحق باعمل حافظ قرآن تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور:317)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1278ھ مطابق 1861ءکو’’رام پور‘‘(انڈیا) میں ہوئی۔ یہ حُسن اتفاق ہی تو تھاکہ ایک فضلِ حق (خیر آبادی) 1278ھ میں دُنیا سےاُٹھا، اسی سن میں دوسرا فضل حق(صاحبِ ترجمہ) رونق افزاہوا۔گویا اللہ تعالیٰ نےمرحوم کاعلمی وفکری جانشین سالِ رحلت پیدا کردیا۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:/312تذکرہ کاملان رام پور:317)
تحصیلِ علم: حفظ قرآن مجید کی ابتداء اپنے والد ماجد سےکی۔والد گرامی بسلسلہ تدریس نوا کھالی بنگال چلے گئےتو شہر کےدوسرے حفاظ سےدس سال کی عمر میں تکمیل فرمائی۔فارسی حکیم احسن ساکن محلہ کھاری کنواں رام پور سے پڑھی۔صرف ونحو اور منطق کی ابتدائی کتب مولانا عبد الرحمن قندھاروی اور مولانا عبدالعزیز سہارنپوی سےپڑھیں۔فقہ شرح وقایہ تک اور ملا حسن،مولانا عبدالکریم رام پوری سےبھیکن پور میں پڑھیں۔علی گڑھ میں استاذ الکل مولانا لطف اللہ علی گڑھیسےمعقول ومنقول اور ریاضی کی تکمیل کی۔شرح اشارات،حدیث، اور تفسیر حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی (تلمیذ علامہ مولانا فضل حق خیرآبادی) سےپڑھ کر بیس سال کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی۔
بیعت وخلافت : سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں غوث الاسلام،فاتحِ قادیانیت،حضرت علامہ سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی سےشرفِ بیعت رکھتے تھے۔مولانا فیض احمد فیض لکھتے ہیں: مولانا فضلِ حق رام پوری حضرت قبلۂ عالم قدس سرہ کی خدمت میں بیعت کےلئے عریضہ لکھاتھا۔جس کےجواب میں آپ نےایک رومالروانہ فرماکر اورادو وظائف کی اجازت بخشی اور ارشاد فرمایا کہ آپ کی یہی بیعت کافی ہے۔ زیادہ سفر کی تکلیف نہ فرمائیں۔ مولانا موصوف پکے وحدت الجودی تھے اورحضرت کی تصنیف ’’تحقیق الحق‘‘ سےبے حد متأثر تھے۔
مولانا فیض احمد فیض مزید لکھتےہیں: ہندوستان کے مشہور مفتی اور عالم ریاست رام پور میں مدرسہ عالیہ رام پور کے پرنسپل مولانا فضلِ حق را م پورینےایک سال اجمیرشریف میں عرس کےموقع پر حضرت بابوجی سےحضرت قبلہ ٔ عالم قدسر سرہ کی تصنیف کے متعلق ذکر کرتےہوئے فرمایا تھا کہ یوں تو حضرت کےکمالات بہت بیان ہوتےہیں۔ لیکن میں تو اس دماغ کا شیدائی ہوں جس سے ’’سیف چشتیائی‘‘ ظہور میں آئی ہے۔(مہر منیر:251)
سیرت وخصائص: استاذالعلماء،مرجع الفضلاء،فخر العلماء،جامع المعقول والمنقول،مجمع البحرین،محبوب الطرفین حضرت علامہ مولانا فضل حق رام پوری۔آپ اپنے وقت کےفاضلِ متبحر اور عالم اکمل تھے۔آپ کی شہرت آپ کی زندگی میں ہی اطرافِ عالم میں پھیل گئی تھی۔آپ ایک عدیم النظیر عالم،بلند پایہ مدرس،عظیم الشان مصنف،اور جلیل القدر صوفی تھے۔دین ومذہب کی محبت رگ و پے میں جاری تھی۔خوش خلق، خوش مزاج،ملنسار اور مہمان نواز تھے۔آپ کی علمی فضیلت فضلاء دہر میں مسلم تھی۔سلسلہ خیر آبادی کی ایک روشن کڑی تھے۔کثیر الفیض علماء ہند میں فردِ وحید تھے۔آپ سے ایک جہاں فیض یاب ہوا۔
فراغت کے بعد ساری زندگی درس وتدریس، اور تصنیف وتالیف میں مصروف رہے۔ابتداء ً مدرسہ طالبیہ بریلی میں علوم دینیہ کی تدریس شروع کی اور صبح تاشام تیس،بتیس اسباق مختلف علوم وفنون کےپڑھاتے۔نواب عرش آشیاں مشتاق علی خان کےعہد 1304ھ میں مدرسہ عالیہ کےنظام میں توسیع ہوئی تو مولانا ہدایت علی بریلوی اول مدرس اور آپ مدرس سوم مقرر ہوئے۔مولوی عبدالجبار وزیر ریاست بھوپال کی درخواست پر مدرسہ سلیمانیہ بھوپال میں ایک سال صدر مدرس رہے۔طلبہ کی ایک کثیر جماعت بھی آپ کےساتھ بھوپال گئی۔بھوپال کےمشہور عالم حسین بن محسن یمنی سے تبرکاً اجازت حدیث حاصل کی۔شیخ نےآپ کی سند پر یہ الفاظ لکھے: ’’وھو فی الحقیقۃ بحر نبار وحباب ذخار کما یعلم ذلک من حالہ ومقالہ‘‘۔پھر سال کےآخر میں واپس رام پور آگئے۔
جب شمس العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالحق خیرآبادی مدرسہ عالیہ رام پور کےصدر مدرس مقرر ہوئےتوآپ نےمدرس ہونے کےباوجود ان سے علمی استفادہ کیا۔شرح سلم،شمس بازغہ،حواشی زاہدیہ علیٰ شرح المواقف،شرح سلم قاضی گوپاموی اور شرح تجرید پڑھی اور علمی ذوق کے تسکین اور استفادے کاحق ادا کردیا۔مولانا خیر آبادی اپنے تلامذہ میں سےآپ کی بہت تعریف اور قدر کرتےتھے۔مولانا عبدالحق خیر آبادی کے مدرسہ عالیہ سےجانے کےبعد آپ اول مدرس ہوئے۔1909ء میں حکومت کی درخواست پر ایک سال مدرسہ عالیہ کلکتہ میں اول مدرس کےمنصب پر فائز رہے۔
سالانہ تعطیلات میں جب رام پور آئے تو نواب حامد علی خان باصرار روک لیا۔چنانچہ مصطفیٰ علی سیکرٹری تعلیم اور نجم الحسن ڈائریکٹر تعلیم کی کوشش سے مدرسہ عالیہ رام پور کےدوبارہ صدرالمدرسین منتخب ہوئے۔طلبہ کو پڑھانے میں بڑی محنت کرتے۔مدرسہ کے اوقات کے علاوہ رات گی
❤1👍1
ارہ بجے تک پڑھاتے اور طریقۂ تعلیم ایسا تھا کہ غبی سے غبی طالب علم کو بھی مطالب ذہن نشین ہوجاتے۔ہندو پاک کے علاوہ افغانستان،ایران، اور خراسان تک طلبہ شریک ِدرس ہوتے۔بعض تلامذہ کےاسماء گرامی: امام المناطقہ مولانا دین محمد بدھوی۔شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی۔مولانا غلام جیلانی ہزاروی۔مولانا مفتی عطاء محمد ضلع چکوال۔مولانا عبدالعزیز۔مولانا صدیق قندھاروی۔مولانا سیف اللہ ہراتی۔مولانا محمد مسلم جون پوری۔مولانا عبدالکریم لکھنوی وغیرہ۔آپ کا ہر شاگرد علم کی دنیا میں نیر تاباں تھا۔ہر ایک سےایک جہاں منور وفیض یاب ہوا۔(مہر انور:720)
تصانیف: آپ نے تدریسی مصروفیات کے باوجود تصنیف وتالیف کی طرف بھی خاصی توجہ دی اور ایک بڑا علمی ذخیرہ یادگار چھوڑا۔۔الظفر الحامدی۔شرح میر ایسا غوجی۔حاشیہ حمد اللہ۔ حاشیہ میر زاہد۔حاشیہ تلویح۔حاشیہ دروس البلاغہ۔ افضل التحقیقات فی مسئلۃ الصفات۔یادگار ہیں۔ آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا افضال الحق رام پوری بڑےفاضل عالم اور آپ کےبعد مدرسہ عالیہ رام پور کےپرنسپل ہوئے۔حضرت مجدد گولڑی کےارادت مندوں میں سےتھے۔(ایضا:721)
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 26/ذالقعدہ 1358ھ مطابق 7/جنوری 1940ء بروز اتوارکو ہوا۔محلہ مردان خان رام پور کے قبرستان میں مدرسہ مطلع العلوم کے نزدیک دفن ہوئے۔(ایضا:721)
ماخذ ومراجع: تذکرہ علمائے اہل سنت۔ تذکرہ کاملان رام پور۔مہر منیر۔مہر انور۔تذکرہ علمائے ہند۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-fazal-haq-hanafi-rampuri
تصانیف: آپ نے تدریسی مصروفیات کے باوجود تصنیف وتالیف کی طرف بھی خاصی توجہ دی اور ایک بڑا علمی ذخیرہ یادگار چھوڑا۔۔الظفر الحامدی۔شرح میر ایسا غوجی۔حاشیہ حمد اللہ۔ حاشیہ میر زاہد۔حاشیہ تلویح۔حاشیہ دروس البلاغہ۔ افضل التحقیقات فی مسئلۃ الصفات۔یادگار ہیں۔ آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا افضال الحق رام پوری بڑےفاضل عالم اور آپ کےبعد مدرسہ عالیہ رام پور کےپرنسپل ہوئے۔حضرت مجدد گولڑی کےارادت مندوں میں سےتھے۔(ایضا:721)
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 26/ذالقعدہ 1358ھ مطابق 7/جنوری 1940ء بروز اتوارکو ہوا۔محلہ مردان خان رام پور کے قبرستان میں مدرسہ مطلع العلوم کے نزدیک دفن ہوئے۔(ایضا:721)
ماخذ ومراجع: تذکرہ علمائے اہل سنت۔ تذکرہ کاملان رام پور۔مہر منیر۔مہر انور۔تذکرہ علمائے ہند۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-fazal-haq-hanafi-rampuri
www.scholars.pk
Hazrat Allama Fazal Haq Hanafi Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:اسمِ گرامی:سیدپیرجماعت علی شاہ۔لقب:امیرِ ملت،ابوالعرب،سنوسیِ ہند۔ سلسلہ نسب اسطرح ہے۔پیرسیدجماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبدالرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔آپ "نجیب الطرفین سید "اور ساداتِ شیراز سے آپ کاتعلق ہے۔آپ کاسلسلہ نسب 38واسطوں سے امیرالمؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتاہے۔(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1257ھ،بمطابق 1841ء کو علی پورسیداں ضلع سیالکوٹ(پنجاب،پاکستان)میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:آپ نےعلی پورسیداں میں حافظ قاری شہاب الدین کشمیری سے قرآن پاک حفظ کیا۔ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتب میاں عبدالرشید علی پوری سے پڑھ کر مولانا عبدالوہاب امر تسری سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ بعد ازاں لاہور جاکر مولانا غلام قادربھیروی اور مولانا مفتی محمد عبداللہ ٹونکی (پرو فیسر اورنٹیل کالج لاہور)سے مولوی عالم اور مولوی فاضل کے درسیات پڑھے۔ اس کے بعد سہار نپور جا کر مولانا محمد مظہر سہار نپوری اور مولانا فیض الحسن سہا نپوری سے استفادہ کیا۔ مگر تشنگیِ علم ہنوز باقی تھی۔ چنانچہ یہ تشنگی کشاں کشاں آپ کو مولانا سید محمد علی مونگیری ناظم دارالعلوم ندوہ، مولانا احمد حسن کانپوری ، مولانا میر محمد عبداللہ مولانا ارشاد حسین رامپوری ، مولانا شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا شاہ عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی، مولانا قاری عبدالرحمٰن محدث پانی پتی اور حضرت علامہ محمدعمر ضیاء الدین استنبولی کی خدمت میں لے گئی اور تمام علوم متداولہ عقلیہ و نقلیہ پر دسترس اور مہارتِ تامہ حاصل کر کے اسناد حاصل کیں۔ حضرت شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی نے تو اپنی کُلاہ مبارک اتارکر آپ کے سرِ اقدس پر رکھ دی اور اپنا پس خوردہ پانی پلا کر بہت سے اوراد و وظائف اور سندِ حدیث کی اجازت عنایت فر ماکررخصت کیا۔(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
بیعت وخلافت:سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ فقیر محمدنقشبندی چوراہی رحمۃ اللہ علیہ (چورہ شریف)کے مرید ہوئے اور قلیل مدت کے بعد خلافت و اجازت سےمشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص: آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اطاعتِ خداوندی اور غلامئِ مصطفےٰ ﷺ میں بسر ہوا ہے۔ آپ بعداز نماز فجر تا اشراق اور بعدازعصر تا مغرب دنیاوی بات بالکل نہیں کرتے تھے اور بعدنمازِ عصر ختم شریف حضرت خواجہ محمد معصوم ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ تہجد کی نماز کبھی قضا نہیں ہوئی۔ تمام یارانِ طریقت کو بھی تہجد پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ طالب علموں کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ جب کوئی بزرگ آپ کے پاس آتا تو اسے اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ جب آپ کسی بزرگ کے پاس جاتے تو دوزانو ہوکر بیٹھتے تھے۔ حق گوئی وبےباکی آپ کا طرۂامتیاز تھا۔
آپ کا قد مبارک موزوں، قدرے بلند، جوانی میں اعضاء مضبوط، سڈول ومتناسب تھے۔ مگر ضعیفی میں لاغرونحیف ہوگئےتھے۔ رنگ گندم گوں مائل بہ سفیدی مگر چہرۂ مبارک عالمِ شباب میں سرخ انار کی طرح چمکتا تھا۔ سر بڑا، پیشانی کشادہ وبلند اور اس پر ہلکا سا سجدوں کا نشان۔ آنکھیں بڑی اور روشن۔ پُتلی سُرخی مائل، کبھی کبھی ایک آنکھ دباکر دیکھتے تھے۔ بینی مبارک بلند وباریک، لب سُرخ وپتلے۔ دہن مبارک متوسط و خوبصورت۔ دندان مبارک سفید موزوں گویا موتیوں کی لڑی، مسکراتے وقت نہایت بھلے معلوم ہوتے تھے۔ مسکراہٹ آپ کی ہنسی تھی۔ کھلکھلا کر کبھی نہیں ہنستے تھے۔ نوے سال کی عمر تک تمام دانت موجود تھے اور مضبوط ایسے خود گنے چھیل کر کھاتے۔ ریش مبارک کثیر اور اس پر حنائی رنگ۔ داڑھی اور سر پر ہمیشہ مہندی لگاتے۔ سرکے بال ہمیشہ مقصر رکھتے۔ شانے کشادہ، ہاتھ لمبے، انگلیاں پتلی ودراز، سینہ فیض گنجینہ کشادہ، کمر پتلی، پاؤں مضبوط مگر آخری عمر میں چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے۔ آواز بلند، تقریر دلپذیر جس کا ایک ایک لفظ سمجھا جاسکتا تھا۔ تقریر میں امثال و مشاہدات زیادہ بیان فرماتے۔ آنجناب کے چہرۂ اقدس سے ایسا رعب وادب نمایاں تھا کہ حاضرین ہمیشہ اس وجہ سے با ادب و خائف رہتے تھے۔ آپ کی آمد پر بڑے بڑے آدمی تعظیم کےلیے کھڑے ہوجاتے تھے۔گوشۂ کرامت کو یہ کہ کر واضح کرتا ہوں کہ آپ کی سب سے بڑی کرامت سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع اور دینِ اسلام پر قربان ہونے کا وہ لازوال جذبہ تھا جس نے عمر بھر آپ کو مجاہدانہ کردار پر کمر بستہ رکھا۔
آپ نے تبلیغ اسلام کے سلسلے میں گرا نقدر خدمات انجام دیں ، اسلام کا پیغام متحدہ ہندوستان ( پاک وہند) کے کونے کونے تک پہنچا یا ۔ عیسائی مشنریوں اور آریہ سماج کی ریشہ دوانیوں کو ناکام بنایا، ہزار ہا عیسائیوں اور ہندؤں کو مشرف بہ اسلام کیا ، شدھی تحریک (مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک )کے خلاف بھر پور جدو جہد ی اور آگرہ میں تبلیغی مرکز قائم کرکے طوفانی دورے کئے۔ مرزا قادیانی کےعقائدباطلہ کی زبر دست تر
نام ونسب:اسمِ گرامی:سیدپیرجماعت علی شاہ۔لقب:امیرِ ملت،ابوالعرب،سنوسیِ ہند۔ سلسلہ نسب اسطرح ہے۔پیرسیدجماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبدالرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔آپ "نجیب الطرفین سید "اور ساداتِ شیراز سے آپ کاتعلق ہے۔آپ کاسلسلہ نسب 38واسطوں سے امیرالمؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتاہے۔(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1257ھ،بمطابق 1841ء کو علی پورسیداں ضلع سیالکوٹ(پنجاب،پاکستان)میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:آپ نےعلی پورسیداں میں حافظ قاری شہاب الدین کشمیری سے قرآن پاک حفظ کیا۔ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتب میاں عبدالرشید علی پوری سے پڑھ کر مولانا عبدالوہاب امر تسری سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ بعد ازاں لاہور جاکر مولانا غلام قادربھیروی اور مولانا مفتی محمد عبداللہ ٹونکی (پرو فیسر اورنٹیل کالج لاہور)سے مولوی عالم اور مولوی فاضل کے درسیات پڑھے۔ اس کے بعد سہار نپور جا کر مولانا محمد مظہر سہار نپوری اور مولانا فیض الحسن سہا نپوری سے استفادہ کیا۔ مگر تشنگیِ علم ہنوز باقی تھی۔ چنانچہ یہ تشنگی کشاں کشاں آپ کو مولانا سید محمد علی مونگیری ناظم دارالعلوم ندوہ، مولانا احمد حسن کانپوری ، مولانا میر محمد عبداللہ مولانا ارشاد حسین رامپوری ، مولانا شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا شاہ عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی، مولانا قاری عبدالرحمٰن محدث پانی پتی اور حضرت علامہ محمدعمر ضیاء الدین استنبولی کی خدمت میں لے گئی اور تمام علوم متداولہ عقلیہ و نقلیہ پر دسترس اور مہارتِ تامہ حاصل کر کے اسناد حاصل کیں۔ حضرت شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی نے تو اپنی کُلاہ مبارک اتارکر آپ کے سرِ اقدس پر رکھ دی اور اپنا پس خوردہ پانی پلا کر بہت سے اوراد و وظائف اور سندِ حدیث کی اجازت عنایت فر ماکررخصت کیا۔(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
بیعت وخلافت:سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ فقیر محمدنقشبندی چوراہی رحمۃ اللہ علیہ (چورہ شریف)کے مرید ہوئے اور قلیل مدت کے بعد خلافت و اجازت سےمشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص: آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اطاعتِ خداوندی اور غلامئِ مصطفےٰ ﷺ میں بسر ہوا ہے۔ آپ بعداز نماز فجر تا اشراق اور بعدازعصر تا مغرب دنیاوی بات بالکل نہیں کرتے تھے اور بعدنمازِ عصر ختم شریف حضرت خواجہ محمد معصوم ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ تہجد کی نماز کبھی قضا نہیں ہوئی۔ تمام یارانِ طریقت کو بھی تہجد پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ طالب علموں کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ جب کوئی بزرگ آپ کے پاس آتا تو اسے اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ جب آپ کسی بزرگ کے پاس جاتے تو دوزانو ہوکر بیٹھتے تھے۔ حق گوئی وبےباکی آپ کا طرۂامتیاز تھا۔
آپ کا قد مبارک موزوں، قدرے بلند، جوانی میں اعضاء مضبوط، سڈول ومتناسب تھے۔ مگر ضعیفی میں لاغرونحیف ہوگئےتھے۔ رنگ گندم گوں مائل بہ سفیدی مگر چہرۂ مبارک عالمِ شباب میں سرخ انار کی طرح چمکتا تھا۔ سر بڑا، پیشانی کشادہ وبلند اور اس پر ہلکا سا سجدوں کا نشان۔ آنکھیں بڑی اور روشن۔ پُتلی سُرخی مائل، کبھی کبھی ایک آنکھ دباکر دیکھتے تھے۔ بینی مبارک بلند وباریک، لب سُرخ وپتلے۔ دہن مبارک متوسط و خوبصورت۔ دندان مبارک سفید موزوں گویا موتیوں کی لڑی، مسکراتے وقت نہایت بھلے معلوم ہوتے تھے۔ مسکراہٹ آپ کی ہنسی تھی۔ کھلکھلا کر کبھی نہیں ہنستے تھے۔ نوے سال کی عمر تک تمام دانت موجود تھے اور مضبوط ایسے خود گنے چھیل کر کھاتے۔ ریش مبارک کثیر اور اس پر حنائی رنگ۔ داڑھی اور سر پر ہمیشہ مہندی لگاتے۔ سرکے بال ہمیشہ مقصر رکھتے۔ شانے کشادہ، ہاتھ لمبے، انگلیاں پتلی ودراز، سینہ فیض گنجینہ کشادہ، کمر پتلی، پاؤں مضبوط مگر آخری عمر میں چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے۔ آواز بلند، تقریر دلپذیر جس کا ایک ایک لفظ سمجھا جاسکتا تھا۔ تقریر میں امثال و مشاہدات زیادہ بیان فرماتے۔ آنجناب کے چہرۂ اقدس سے ایسا رعب وادب نمایاں تھا کہ حاضرین ہمیشہ اس وجہ سے با ادب و خائف رہتے تھے۔ آپ کی آمد پر بڑے بڑے آدمی تعظیم کےلیے کھڑے ہوجاتے تھے۔گوشۂ کرامت کو یہ کہ کر واضح کرتا ہوں کہ آپ کی سب سے بڑی کرامت سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع اور دینِ اسلام پر قربان ہونے کا وہ لازوال جذبہ تھا جس نے عمر بھر آپ کو مجاہدانہ کردار پر کمر بستہ رکھا۔
آپ نے تبلیغ اسلام کے سلسلے میں گرا نقدر خدمات انجام دیں ، اسلام کا پیغام متحدہ ہندوستان ( پاک وہند) کے کونے کونے تک پہنچا یا ۔ عیسائی مشنریوں اور آریہ سماج کی ریشہ دوانیوں کو ناکام بنایا، ہزار ہا عیسائیوں اور ہندؤں کو مشرف بہ اسلام کیا ، شدھی تحریک (مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک )کے خلاف بھر پور جدو جہد ی اور آگرہ میں تبلیغی مرکز قائم کرکے طوفانی دورے کئے۔ مرزا قادیانی کےعقائدباطلہ کی زبر دست تر
دید کی ، شاہی مسجد ، لاہور میں مرزا کی موت کی پیش گوئی کی جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی ۔آپ کی سیاسی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ۔ تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت (1920۔21 )کے نقصانات سے مسلمانوں کو پوری طرح باخبر کیا ۔ 1935ء میں مسجد شہید گنج کی تحریک کے وقت شاہی مسجد لاہور میں دلولہ انگیز تقریری کی جس کی بنا پر آپ کو" امیر ملت "کا خطاب دیا گیا آپ کے لاکھوں مریدین پاک و ہند اور دیگر ممالک میں پھیلے ہوئیں ہیں۔
تحریکِ پاکستان میں آپ کی خدمات:آپ نے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا اور تمام مریدین کو مسلم لیگ کی حمایت کرنے کی پرزور تلقین کی ۔ 1939ء میں جب کا نگر س وزارت سےمستعفی ہوئی تو قائد اعظم نے جمہ 23، ستمبر(1357ھ/ 1939ء) کو" یوم نجات" منانے کی اپیل کی ، اس موقع پر آپ نے نماز جمعہ کے بعد علی پور سیداں میں دوران تقریر فرمایا:"دو جھنڈے ہیں ایک اسلام کا ، دوسرا کفر کا ۔ مسلمانو!تم کس جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو گے ؟ حاضرین نےباآواز بلند جواب دیا کہ اسلام کے ، پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ جو کفر کے جھنڈے تلے کھڑا ہو تو کیا تم اس کے جنازہ کی نماز پڑھوگے؟ حاضرین نے انکار کیا ۔ پھر آپ نے استفسار فرمایا کہ کیا تم اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کروگے ؟ حاضرین نے بالا تفاق کہا نہیں ہر گز نہیں ! اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اس وقت اسلامی جھنڈا مسلم لیگ کا ہے ، ہم مسلم لیگ کے ساتھ ہیں اور سب مسلمانوں کو مسلم لیگ میں شامل ہونا چاہئے"۔(صدافسوس!فی زمانہ مسلم لیگ اسلام اور مسلمانوں کی بنسبت غیروں کی زیادہ بہی خواہ ہے،اور نام "مسلم لیگ"ہے لیکن اس میں عیسائی،مرزائی،سکھ،ہندو سب ہیں۔یہ کیسی مسلم لیگ ہے)۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے اسلامی آئین کے نفاذ کی پوری پوری کوشش کی جگہ جگہ جلسوں اور یاد داشتوں کے ذریعے حکومت کو مقامِ مصطفےٰ ﷺ کے تحفظ اور نظامِ ﷺ کے نفاذ کا وعدہ یاددلایا۔ حضرت پیر صاحب مانکی شریف پیر امین الحسنات اورضیغم اسلام مجاہد ملت حضرت مولانا محمد عبدالستار خاں نیازی نے آپ کی ہمنوائی میں ملک بھر کا دورہ کیا مگر افسوس کہ حکومت نے وعدہ پورا نہ کیا جس کا آپ کو تادمِ زیست صدمہ رہا۔
دینی مدارس کی امداد اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے 1910ء میں سلطان عبد الحمید کی اپیل پر آپ نے حجاز ریلوے فنڈ میں اپنے متوسلین کی طرف سے چھ لاکھ روپے جمع کرائے ۔ 1911ء میں علیگڑھ کالج کو یونیورسٹی بنانے کی عرض سے نواب وقار الملک نے امداد کی اپیل کی اور یقین دلایا کہ انگریزی کے ساتھ دینیات کی تعلیم لازمی ہوگی اور یونیورسٹی کی مساجد میں پنجوقتہ نمازوں کی حاضری تمام طلبہ پر لازمی ہوگی ، آپ نے کئی لاکھ روپیہ اپنے حلقۂ ارادات سے جمع کرادیا۔ علامہ محمد اقبال آپ کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ایک موقع پر پیر صاحب نے علامہ اقبال سے سے ازراہِ عنایت فرمایا:آپ کا یہ شعر ہمیں بھی یادہے۔
؏:کوئی اندازہ کر سکتا ہے ان کے زور بازوکا،نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔
اس پر علامہ اقبال نے کہا :"میر ی نجات کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ کو میرا یہ شعر یاد ہے"۔آپ نے بے شمار حج کئے ، کم و بیش پچاس مرتبہ دربار رسالت میں حاضری دی ، سینکڑوں مسجدیں تعمیر کرائیں ، متعدد مدرسے جاری کئے ۔ 1904 ء میں" انجمن خدام الصوفیہ "کی بنیاد لاہور میں رکھی ، اس انجمن نے ماہنامہ انوار الصوفیہ لاہور ( جو ان دنوں قصور سے شائع ہوتا ہے ) اور ماہنامہ "لمعات الصوفیہ "سیالکوٹ پر آپ کی خاص نظر عنایت تھی، اس دور میں یہ رسائل بڑے وقیع مضامین پر مشتمل ہوتے تھے۔آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں بحیثیت سر پرست شریک ہوئے ۔آپ کی سخاوت اور دریا دلی کا ایک عالم میں چر چا تھا ، کوئی سائل آپ کے دربار سے خالی نہ جاتا تھا ، خاص طور پر عربو ں کی بہت عزت و تکریم کرتے چنانچہ اہل عرب آپ کو "ابو العرب "کے لقب سے یاد کرتے تھے ۔
وصال:
آپ کی وفات حسرت آیات 26 ذیقعد 1370ھ / 30 اگست1951ء بروز جمعرات ایک سو دس برس کی عمر میں ہوئی اور" علی پورسیداں" میں آخری آرام گاہ بنی۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-peer-jamat-ali-shah-ali-puri
تحریکِ پاکستان میں آپ کی خدمات:آپ نے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا اور تمام مریدین کو مسلم لیگ کی حمایت کرنے کی پرزور تلقین کی ۔ 1939ء میں جب کا نگر س وزارت سےمستعفی ہوئی تو قائد اعظم نے جمہ 23، ستمبر(1357ھ/ 1939ء) کو" یوم نجات" منانے کی اپیل کی ، اس موقع پر آپ نے نماز جمعہ کے بعد علی پور سیداں میں دوران تقریر فرمایا:"دو جھنڈے ہیں ایک اسلام کا ، دوسرا کفر کا ۔ مسلمانو!تم کس جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو گے ؟ حاضرین نےباآواز بلند جواب دیا کہ اسلام کے ، پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ جو کفر کے جھنڈے تلے کھڑا ہو تو کیا تم اس کے جنازہ کی نماز پڑھوگے؟ حاضرین نے انکار کیا ۔ پھر آپ نے استفسار فرمایا کہ کیا تم اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کروگے ؟ حاضرین نے بالا تفاق کہا نہیں ہر گز نہیں ! اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اس وقت اسلامی جھنڈا مسلم لیگ کا ہے ، ہم مسلم لیگ کے ساتھ ہیں اور سب مسلمانوں کو مسلم لیگ میں شامل ہونا چاہئے"۔(صدافسوس!فی زمانہ مسلم لیگ اسلام اور مسلمانوں کی بنسبت غیروں کی زیادہ بہی خواہ ہے،اور نام "مسلم لیگ"ہے لیکن اس میں عیسائی،مرزائی،سکھ،ہندو سب ہیں۔یہ کیسی مسلم لیگ ہے)۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے اسلامی آئین کے نفاذ کی پوری پوری کوشش کی جگہ جگہ جلسوں اور یاد داشتوں کے ذریعے حکومت کو مقامِ مصطفےٰ ﷺ کے تحفظ اور نظامِ ﷺ کے نفاذ کا وعدہ یاددلایا۔ حضرت پیر صاحب مانکی شریف پیر امین الحسنات اورضیغم اسلام مجاہد ملت حضرت مولانا محمد عبدالستار خاں نیازی نے آپ کی ہمنوائی میں ملک بھر کا دورہ کیا مگر افسوس کہ حکومت نے وعدہ پورا نہ کیا جس کا آپ کو تادمِ زیست صدمہ رہا۔
دینی مدارس کی امداد اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے 1910ء میں سلطان عبد الحمید کی اپیل پر آپ نے حجاز ریلوے فنڈ میں اپنے متوسلین کی طرف سے چھ لاکھ روپے جمع کرائے ۔ 1911ء میں علیگڑھ کالج کو یونیورسٹی بنانے کی عرض سے نواب وقار الملک نے امداد کی اپیل کی اور یقین دلایا کہ انگریزی کے ساتھ دینیات کی تعلیم لازمی ہوگی اور یونیورسٹی کی مساجد میں پنجوقتہ نمازوں کی حاضری تمام طلبہ پر لازمی ہوگی ، آپ نے کئی لاکھ روپیہ اپنے حلقۂ ارادات سے جمع کرادیا۔ علامہ محمد اقبال آپ کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ایک موقع پر پیر صاحب نے علامہ اقبال سے سے ازراہِ عنایت فرمایا:آپ کا یہ شعر ہمیں بھی یادہے۔
؏:کوئی اندازہ کر سکتا ہے ان کے زور بازوکا،نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔
اس پر علامہ اقبال نے کہا :"میر ی نجات کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ کو میرا یہ شعر یاد ہے"۔آپ نے بے شمار حج کئے ، کم و بیش پچاس مرتبہ دربار رسالت میں حاضری دی ، سینکڑوں مسجدیں تعمیر کرائیں ، متعدد مدرسے جاری کئے ۔ 1904 ء میں" انجمن خدام الصوفیہ "کی بنیاد لاہور میں رکھی ، اس انجمن نے ماہنامہ انوار الصوفیہ لاہور ( جو ان دنوں قصور سے شائع ہوتا ہے ) اور ماہنامہ "لمعات الصوفیہ "سیالکوٹ پر آپ کی خاص نظر عنایت تھی، اس دور میں یہ رسائل بڑے وقیع مضامین پر مشتمل ہوتے تھے۔آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں بحیثیت سر پرست شریک ہوئے ۔آپ کی سخاوت اور دریا دلی کا ایک عالم میں چر چا تھا ، کوئی سائل آپ کے دربار سے خالی نہ جاتا تھا ، خاص طور پر عربو ں کی بہت عزت و تکریم کرتے چنانچہ اہل عرب آپ کو "ابو العرب "کے لقب سے یاد کرتے تھے ۔
وصال:
آپ کی وفات حسرت آیات 26 ذیقعد 1370ھ / 30 اگست1951ء بروز جمعرات ایک سو دس برس کی عمر میں ہوئی اور" علی پورسیداں" میں آخری آرام گاہ بنی۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-peer-jamat-ali-shah-ali-puri
scholars.pk
Hazrat Molana Peer Jamat Ali Shah Ali Puri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
👍2❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-11-1444 ᴴ | 15-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-11-1444 ᴴ | 16-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1