🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-11-1444 ᴴ | 15-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-11-1444 ᴴ | 15-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
استاذ العلماء مولانا مفتی نجم الدین یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاد العلماء مفتی محمد نجم الدین بن میاں امام بخش سومرو ۲۶ رجب المرجب ۱۳۲۶ھ کو سندھ کے علمی و ادبی شہر گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے ۔
مفتی نجم الدین مفتی محمد قاسم و مفتی محمد ابراہیم یاسینی کے بہنوئی تھے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے قرآن مجید ناظرہ اپنے سالے مولانا حافظ محمد ابراہیم کے پاس پڑھا۔ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب کے پاس فارسی میں سکندرنامہ تک صرف و نحو میں کافیہ تک منطق میں مرقاۃ تک ، فقہ میں کنز تک حدیث میں مشکوٰۃ تک، اصول فقہ میں اصول الشاشی اور ترجمہ قرآن پاک پڑھا۔ ابھی تعلیم جاری تھی کہ حضرت مولانا محمد قاسم کا ۱۸ ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ کو انتقال ہوگیا ۔ ان کے وصال کے بعد بقیہ نصابی کتب (درس نظامی) حضرت مولانا محمد ابراہیم کے پاس پڑھیں ، ان میں جلالین ، شرح تہذیب شرح وقایہ، ہدایہ مکمل ، جامی مطول، توضیح تلویخ ، بیضاوی سورہ بقر اور صحاح ستہ بھی شامل ہیں۔ نصابی کتب کی تکمیل کے بعد ۱۸ ، ذوالقعدہ ۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ء کو گڑھی یاسین کے دارالعلوم ہاشمیہ قاسمیہ سے دستار فضیلت اور سند حاصل کی۔
درس و تدریس:
مولانا نجم الدین طالب علمی کے دوران متبدی طلباء کو اپنے اساتذہ کی نگرانی میں درس دیا کرتے تھے جس کے سبب ان میں خوب استعداد پیدا ہوئی اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد با قاعدگی سے درس و تدریس کا سلسلہ مادر علمی میں شروع کیا اور درس نظامی کی تمام کتب بغیر کسی رکاوٹ کے خود پڑھاتے تھے۔ ۱۹۴۷ء قیام پاکستان کے وقت بعض مسائل کی بنا پر آپ نے مادر علمی کو الوداع کہا اور جیکب آباد کے ہائی اسکول میں عربی کے استاد مقرر ہوئے ، دو سال وہیں پڑھایا ۔ اس کے بعد مادر علمی کی جانب واپس آئے اور بقیہ زندگی وہیں دارالعلوم قاسمیہ میں درس و تدریس میں گزاری۔
بیعت:
مفتی نجم الدین سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت آغا عبداللہ جان سر ہندی علیہ الرحمۃ (ٹنڈو سائینداد) کے دست بیعت ہوئے۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے تولد ہوئے۔
۱۔ مولانا مفتی محمد قاسم اویسی مدرس مدرسہ قاسمیہ و پیش امام جامع مسجد گڑھی یاسین
۲۔ مولانا حکیم محدم عاصم سو مرو بی۔ اے
تصنیف:
٭ مجموعہ فتاویٰ
٭ آغاز فارسی
٭ سوانح حیات حضرت مولانا محمد ابراہیم یاسینی
نشر و اشاعت:
مولانا نجم الدین نے متحرک زندگی گزاری بعض دینی کتابوں کو شائع کیا، مناظرے کروائے، عوام الناس کی رہنمائی کیلئے ہندوستان کے نامور سنی علماء کو مدعو کرکے اپنے علاقوں میں جلسے منعقد کراتے تھے۔ آپ نے وقت کے نامور علماء سے ملاقاتین کیں اور فقہی تحقیقات میں تبادلہ خیالات پر مشتمل محافل کا انعقاد کیا۔ ایک انٹرویو میں اس کی تفصیل یوں بتاتے ہیں۔
۱۔ فتاویٰ ہمایونی (دو حصے سندھی مترجم مفتی محمد ابارہیم
۲۔ مامریداں (فارسی نظم) مصنف مفتی محمد ابراہیم۔ یہ رسالہ تقلید شخصی کے جوا زمیں ہے۔
۳۔ الحجۃ الکافیہ فی جواز الجماعۃ الثانیہ (عربی و فارسی ) مفتی محمد ابراہیم
۴۔ بیاض واحدی(فارسی) مصنف حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب جلد اول وغیرہ شائع کروائی۔
اس کے علاوہ مولانا نجم الدین نے سفیر اسلام ، عالمی مبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی مدنی علیہ الرحمۃ (والد مولانا شاہ احمد نورانی) کو مدعو کیا اور شکار پور شہر میںجلسہ میں خطاب کروایا، شکار پور وہابیت کا مرکز تھا لیکن کسی مخالف کو علامہ صاحب سے مناظرہ کرنے کی ہمت نہ ہوسکی اسی طرح مناظرہ اسلام ، شیر اہل سنت حضرت علامہ محمد عمر صدیقی اچھروی علیہ الرحمۃ (والد مولانا عبد التواب صدیقی لاہور) کو بھی شکار پور مناظرہ کیلئے مدعو کیا مگر وہابی آپ کا نام سن کر سن ہوگئے اور میدان میں آنے کی کسی کو جرأت نہ ہوسکی۔ مولانا محمدہاشم فاضل شمسی پروانشل لائبریری کی طرف سے گڑھی یاسین میں مولانا نجم الدین کا خاندانی کتب خانہ دیکھنے آئے تھے ۔ وقت کے نامور خطیب و صوفی بزرگ مولانا محمد یار چشتی گڑھی ختیار خان (ضلع رحیم یار خان) کو بھی دعوت دے کر گڑھی یاسین بلوایا تھا۔ حضرت مولانا احمد یار مہر خان گڑہ شریف والے کی زیارت کی تھی۔ انہوں نے مشکوٰۃ المصابیح کا سندھی ترجمہ و حاشیہ لکھا تھا، جس کو مفتی محمد ابراہیم صاحب نے شائع کیا تھا۔
۱۔ مولانا محمد خان چانڈیو (دڑی ضلع جیکب آباد )
۲۔ مولانا قاضی حبیب اللہ (رتو ڈیرو)
۳۔ مولانا حکیم عبدالرحمن گوٹھ بھائی خان گھانگھرو تحصیل رتو ڈیرو ، دارالعلوم قاسمیہ کے فاضل علماء میں سے تھے۔
استاد العلماء مفتی محمد نجم الدین بن میاں امام بخش سومرو ۲۶ رجب المرجب ۱۳۲۶ھ کو سندھ کے علمی و ادبی شہر گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے ۔
مفتی نجم الدین مفتی محمد قاسم و مفتی محمد ابراہیم یاسینی کے بہنوئی تھے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے قرآن مجید ناظرہ اپنے سالے مولانا حافظ محمد ابراہیم کے پاس پڑھا۔ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب کے پاس فارسی میں سکندرنامہ تک صرف و نحو میں کافیہ تک منطق میں مرقاۃ تک ، فقہ میں کنز تک حدیث میں مشکوٰۃ تک، اصول فقہ میں اصول الشاشی اور ترجمہ قرآن پاک پڑھا۔ ابھی تعلیم جاری تھی کہ حضرت مولانا محمد قاسم کا ۱۸ ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ کو انتقال ہوگیا ۔ ان کے وصال کے بعد بقیہ نصابی کتب (درس نظامی) حضرت مولانا محمد ابراہیم کے پاس پڑھیں ، ان میں جلالین ، شرح تہذیب شرح وقایہ، ہدایہ مکمل ، جامی مطول، توضیح تلویخ ، بیضاوی سورہ بقر اور صحاح ستہ بھی شامل ہیں۔ نصابی کتب کی تکمیل کے بعد ۱۸ ، ذوالقعدہ ۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ء کو گڑھی یاسین کے دارالعلوم ہاشمیہ قاسمیہ سے دستار فضیلت اور سند حاصل کی۔
درس و تدریس:
مولانا نجم الدین طالب علمی کے دوران متبدی طلباء کو اپنے اساتذہ کی نگرانی میں درس دیا کرتے تھے جس کے سبب ان میں خوب استعداد پیدا ہوئی اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد با قاعدگی سے درس و تدریس کا سلسلہ مادر علمی میں شروع کیا اور درس نظامی کی تمام کتب بغیر کسی رکاوٹ کے خود پڑھاتے تھے۔ ۱۹۴۷ء قیام پاکستان کے وقت بعض مسائل کی بنا پر آپ نے مادر علمی کو الوداع کہا اور جیکب آباد کے ہائی اسکول میں عربی کے استاد مقرر ہوئے ، دو سال وہیں پڑھایا ۔ اس کے بعد مادر علمی کی جانب واپس آئے اور بقیہ زندگی وہیں دارالعلوم قاسمیہ میں درس و تدریس میں گزاری۔
بیعت:
مفتی نجم الدین سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت آغا عبداللہ جان سر ہندی علیہ الرحمۃ (ٹنڈو سائینداد) کے دست بیعت ہوئے۔
اولاد:
آپ کے دو بیٹے تولد ہوئے۔
۱۔ مولانا مفتی محمد قاسم اویسی مدرس مدرسہ قاسمیہ و پیش امام جامع مسجد گڑھی یاسین
۲۔ مولانا حکیم محدم عاصم سو مرو بی۔ اے
تصنیف:
٭ مجموعہ فتاویٰ
٭ آغاز فارسی
٭ سوانح حیات حضرت مولانا محمد ابراہیم یاسینی
نشر و اشاعت:
مولانا نجم الدین نے متحرک زندگی گزاری بعض دینی کتابوں کو شائع کیا، مناظرے کروائے، عوام الناس کی رہنمائی کیلئے ہندوستان کے نامور سنی علماء کو مدعو کرکے اپنے علاقوں میں جلسے منعقد کراتے تھے۔ آپ نے وقت کے نامور علماء سے ملاقاتین کیں اور فقہی تحقیقات میں تبادلہ خیالات پر مشتمل محافل کا انعقاد کیا۔ ایک انٹرویو میں اس کی تفصیل یوں بتاتے ہیں۔
۱۔ فتاویٰ ہمایونی (دو حصے سندھی مترجم مفتی محمد ابارہیم
۲۔ مامریداں (فارسی نظم) مصنف مفتی محمد ابراہیم۔ یہ رسالہ تقلید شخصی کے جوا زمیں ہے۔
۳۔ الحجۃ الکافیہ فی جواز الجماعۃ الثانیہ (عربی و فارسی ) مفتی محمد ابراہیم
۴۔ بیاض واحدی(فارسی) مصنف حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب جلد اول وغیرہ شائع کروائی۔
اس کے علاوہ مولانا نجم الدین نے سفیر اسلام ، عالمی مبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی مدنی علیہ الرحمۃ (والد مولانا شاہ احمد نورانی) کو مدعو کیا اور شکار پور شہر میںجلسہ میں خطاب کروایا، شکار پور وہابیت کا مرکز تھا لیکن کسی مخالف کو علامہ صاحب سے مناظرہ کرنے کی ہمت نہ ہوسکی اسی طرح مناظرہ اسلام ، شیر اہل سنت حضرت علامہ محمد عمر صدیقی اچھروی علیہ الرحمۃ (والد مولانا عبد التواب صدیقی لاہور) کو بھی شکار پور مناظرہ کیلئے مدعو کیا مگر وہابی آپ کا نام سن کر سن ہوگئے اور میدان میں آنے کی کسی کو جرأت نہ ہوسکی۔ مولانا محمدہاشم فاضل شمسی پروانشل لائبریری کی طرف سے گڑھی یاسین میں مولانا نجم الدین کا خاندانی کتب خانہ دیکھنے آئے تھے ۔ وقت کے نامور خطیب و صوفی بزرگ مولانا محمد یار چشتی گڑھی ختیار خان (ضلع رحیم یار خان) کو بھی دعوت دے کر گڑھی یاسین بلوایا تھا۔ حضرت مولانا احمد یار مہر خان گڑہ شریف والے کی زیارت کی تھی۔ انہوں نے مشکوٰۃ المصابیح کا سندھی ترجمہ و حاشیہ لکھا تھا، جس کو مفتی محمد ابراہیم صاحب نے شائع کیا تھا۔
۱۔ مولانا محمد خان چانڈیو (دڑی ضلع جیکب آباد )
۲۔ مولانا قاضی حبیب اللہ (رتو ڈیرو)
۳۔ مولانا حکیم عبدالرحمن گوٹھ بھائی خان گھانگھرو تحصیل رتو ڈیرو ، دارالعلوم قاسمیہ کے فاضل علماء میں سے تھے۔
❤1
حضرت پیر سید تراب علی شاہ راشدی (قمبر) کے توسل سے عارف کامل ، عاشق رسول حضرت مولانا سید احمد شامی سے ۱۳۲۲ھ/ ۱۹۰۴ء کو جب وہ ہندوستان تشریف لائے تو ان کی زیارت ہوئی وہ گڑھی یاسین بھی تشریف لائے تھے۔ مولانا سید احمدخالد شامی کے نانا کے بھائی مفتی اعظم شام علامہ سید محمد امین بن عابدین علیہ الرحمۃ (صاحب رد المحتار) تھے۔
مولانا سید محمد شاہ اور مولانا محمد ابراہیم کا ایک فقہی مسئلہ میں اختلاف ہوا تو (۱۳)ا علماء اہلسنت کا اجلاس ہوا ، دونوں حضرات نے ان میں سے مندرجہ ذیل تین علماء کو امین مقرر کیا۔
۱۔ حضرت مولان اپیر گل حسن قادری سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف
۲۔ مولانا مفتی عبدالباقی ہمایوں شریف
۳۔ حضرت مولانا نذرمحمد ساکن بھونگ تحصیل صادق آباد
مولانا تاج محدم عاریجوی اور مولانا عطا محمد مہیسر اپنے علاقہ کے مانے ہوئے علماء تھے۔ مولانا قمر الدین مہیسر (گوٹھ درگانو مہیسر تصحصیل میرو خان) ’’المھیر‘‘ نام سے ایک مجلہ کے ایڈیٹر بھی تھے اور یہ مجلہ اہل سنت جماعت کا بے باک ترجمان تھا جو اپنے گوٹھ سے شائع فرماتے تھے۔ مولانا محدم حسن کھاڑو مدیر و مالک اخبار ’’الحنیف‘‘ جیکب آباد (جس کے ممبر اس وقت کے نامور علماء تھے) اخبار، اہل سنت احناف کے تعاون سے شائع ہوتی تھی اور ان کے پاس اپنی پریس تھی وہ بھی ’’الحنیف‘‘ کے نام سے موسوم تھی۔
وہابی مولویوں سے بھی بحث مباحثہ ہوتے رہے جس میں مولوی محمد ہاشم (گوٹھ رک اسٹیشن) مولوی نبی بخش عودی اور مولوی عبدالکریم چشتی شکار پوری وغیرہ شامل ہیں۔
(مولانا نجم الدین یاسینی کے انٹریو سے مضمون اخذ کیا گیا ہے الراشد صفر ۱۳۹۷ھ)
تلامذہ:
٭ مولانا محمد قاسم اویسی یاسینی امام جامع مسجد گڑھی یاسین
٭ مولانا مفتی احمد صدیق سمیجو نقشبندی عمر کوٹ
وصال:
مفتی نجم الدین نجم یاسینی نے ۲۶ ذوالقعدہ ۱۳۹۹ھ بمطابق ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۹ ء شب جمع کو ۷۳ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کی آخری آرامگاہ آپ کے استاد محترم حضرت مفتی محدم قاسم یاسینی قدس سرہ کی مزار کے برابر میں گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں ہے فاضل امجد حافظ خیر محدم اوحدی شکار پوری نے درج ذیل قطعہ تاریخ وصال کہا:
چون ندائے ارجعی در گوش نجم الدین رسید
رخت بربست از جہاں بے مدارو بے بقا
خندہ رو رفت و مسرت در دل اموجزن
دراعز او احبا گریہ و ماتم بپا
شیوۂ او ذکر و فکر و شغل او علم و عمل
مدعائے او نجات و قربت و وصل خدا
قلب او معمور تراز عظمت رب جلیل
جان زار او فدائے ذات پاک مصطفی
سیرت و کردار او بے داغ بودو بے مثال
عمر خود کردہ بسر در خدمت دین ہدی
عشق او شد مستفیض از جلوہ حسن ازل
شوق بردش چون بزیر سایہ عرش علا
باسر زہداست تاریخ الوداعیش ’’اوحدی‘‘
وصل رب شادان نمودہ روح نجم الدین را
۱۳۹۲۔۔۔۔۱۳۹۹
[قطعہ تاریخ وصال جناب محمد سلام صاحب سومرو نے گڑھی یاسین سے ارسال فرمایا]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-najamuddin-yaseeni
مولانا سید محمد شاہ اور مولانا محمد ابراہیم کا ایک فقہی مسئلہ میں اختلاف ہوا تو (۱۳)ا علماء اہلسنت کا اجلاس ہوا ، دونوں حضرات نے ان میں سے مندرجہ ذیل تین علماء کو امین مقرر کیا۔
۱۔ حضرت مولان اپیر گل حسن قادری سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف
۲۔ مولانا مفتی عبدالباقی ہمایوں شریف
۳۔ حضرت مولانا نذرمحمد ساکن بھونگ تحصیل صادق آباد
مولانا تاج محدم عاریجوی اور مولانا عطا محمد مہیسر اپنے علاقہ کے مانے ہوئے علماء تھے۔ مولانا قمر الدین مہیسر (گوٹھ درگانو مہیسر تصحصیل میرو خان) ’’المھیر‘‘ نام سے ایک مجلہ کے ایڈیٹر بھی تھے اور یہ مجلہ اہل سنت جماعت کا بے باک ترجمان تھا جو اپنے گوٹھ سے شائع فرماتے تھے۔ مولانا محدم حسن کھاڑو مدیر و مالک اخبار ’’الحنیف‘‘ جیکب آباد (جس کے ممبر اس وقت کے نامور علماء تھے) اخبار، اہل سنت احناف کے تعاون سے شائع ہوتی تھی اور ان کے پاس اپنی پریس تھی وہ بھی ’’الحنیف‘‘ کے نام سے موسوم تھی۔
وہابی مولویوں سے بھی بحث مباحثہ ہوتے رہے جس میں مولوی محمد ہاشم (گوٹھ رک اسٹیشن) مولوی نبی بخش عودی اور مولوی عبدالکریم چشتی شکار پوری وغیرہ شامل ہیں۔
(مولانا نجم الدین یاسینی کے انٹریو سے مضمون اخذ کیا گیا ہے الراشد صفر ۱۳۹۷ھ)
تلامذہ:
٭ مولانا محمد قاسم اویسی یاسینی امام جامع مسجد گڑھی یاسین
٭ مولانا مفتی احمد صدیق سمیجو نقشبندی عمر کوٹ
وصال:
مفتی نجم الدین نجم یاسینی نے ۲۶ ذوالقعدہ ۱۳۹۹ھ بمطابق ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۹ ء شب جمع کو ۷۳ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کی آخری آرامگاہ آپ کے استاد محترم حضرت مفتی محدم قاسم یاسینی قدس سرہ کی مزار کے برابر میں گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں ہے فاضل امجد حافظ خیر محدم اوحدی شکار پوری نے درج ذیل قطعہ تاریخ وصال کہا:
چون ندائے ارجعی در گوش نجم الدین رسید
رخت بربست از جہاں بے مدارو بے بقا
خندہ رو رفت و مسرت در دل اموجزن
دراعز او احبا گریہ و ماتم بپا
شیوۂ او ذکر و فکر و شغل او علم و عمل
مدعائے او نجات و قربت و وصل خدا
قلب او معمور تراز عظمت رب جلیل
جان زار او فدائے ذات پاک مصطفی
سیرت و کردار او بے داغ بودو بے مثال
عمر خود کردہ بسر در خدمت دین ہدی
عشق او شد مستفیض از جلوہ حسن ازل
شوق بردش چون بزیر سایہ عرش علا
باسر زہداست تاریخ الوداعیش ’’اوحدی‘‘
وصل رب شادان نمودہ روح نجم الدین را
۱۳۹۲۔۔۔۔۱۳۹۹
[قطعہ تاریخ وصال جناب محمد سلام صاحب سومرو نے گڑھی یاسین سے ارسال فرمایا]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-najamuddin-yaseeni
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Najamuddin Yaseeni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
استاذ العلماء مولانا مفتی نجم الدین یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاد العلماء مفتی محمد نجم الدین بن میاں امام بخش سومرو ۲۶ رجب المرجب ۱۳۲۶ھ کو سندھ کے علمی و ادبی شہر گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے ۔ مفتی نجم الدین مفتی محمد قاسم و مفتی محمد ابراہیم…
#یوم_ولادت_ماہ_رجب_المرجب
#یوم_وصال_ماہ_ذو_القعدہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/52453
یوم ولادت 26 رجب 1326 ھ
#یوم_وصال_ماہ_ذو_القعدہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/52453
یوم ولادت 26 رجب 1326 ھ
❤1
حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ غلام فرید ۔ القاب: ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قدوۃ العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید بن حضرت خواجہ خدا بخش بن حضرت خواجہ احمد علی بن حضرت قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلہ عالم مہاروی) بن مخدوم محمد شریف بن مخدوم یعقوب بن مخدوم نور محمد ۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز منگل 26 ذیقعدہ 1261ھ، مطابق 25 نومبر 1845ء کو " چاچڑاں شریف " میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اسی دوران آپ کے والد ماجد کا وصال ہو گیا ۔ ظاہری و باطنی علوم و معارف اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاں غلام فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر جید علماء سے حاصل کئے اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے برادرِ اکبر حضرت خواجہ فخر جہاں قدس سرہ سے بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان، غزالیِ گلستانِ الوہیت، رازیِ گلشنِ نبوت، بحرِ معرفت و شریعت، قدوۃ العاشقین، زبدۃ العارفین، رئیس الموحدین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی نظامی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت خواجہ صاحب ایک ہمہ جہت اور عبقری شخصیت کے مالک تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ خواجہ صاحب کے وصال کے بعد اس خطے میں ایسی نامور، جامع اور مؤثر شخصیت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ خواجہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سرائیکی زبان کے ملک الشعراء تھے ۔ آپ کے وجد آفریں کلام میں بلا کا سوز ہے ۔ آپ کی کافیاں آج بھی اثر آفرینی میں جواب نہیں رکھتیں ۔ عوام و خواص کے لئے کیف و سرور کا خزینہ اور عشق و عرفان کا سر چشمہ ہیں ۔
اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:
" جس قوم میں خواجہ فرید اور اس کی شاعری موجود ہے، اس قوم میں عشق و محبت کا موجود نہ ہونا تعجب انگیز ہے " ۔ چونکہ آپ مسئلہ وحدۃ الوجود کے بہت بڑے حامی تھے، اس لئے آپ کے کلام میں اس مسئلہ کی نمایاں ترجمانی پائی جاتی ہے ۔ آپ نے اردو ، فارسی ، سندھی ، اور سرائیکی وغیرہ زبانوں اظہار خیال کیا ہے ۔ آپ کے مطبوعہ دیوان کے مطالعہ سے قدرتِ بیان، جودتِ طبع اور بلندی ِتخیل کا پتہ چلتا ہے ۔ آپ شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ پر سختی سے کار بند تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے، رسوم بد کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ اپنے زمانہ کی عورتوں اور مردوں کے نا زیبا افعال پر سخت نا پسندید گی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
" عورتیں غیر مردوں کے سامنے اوڑھنی کندھے پر ڈال کر جلوہ گر ہوتی ہیں اور اسے باعثِ فخر سمجھتی ہیں، شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی بُری رسمیں پیدا ہو گئی ہیں مثلاً مرد عورتیں حلقہ باندھ کر رقص کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، اور حلقہ کے درمیان نقارہ بجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور کئی ممنوع اور مہلک امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ ناہنجار کافروں کے کاموں کو مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے اگر انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں جس کام پر ہمارے باپ دادا تھے ہمیں وہی کافی ہے"۔
جود و سخا کی کوئی انتہا نہ تھی، دور و نزدیک کے کثیر التعداد غرباء و مساکین کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے ۔ بہت سے یتیم اور بیوہ عورتیں آپ کے زیر سایہ خوشحالی سے زندگی گزارتے، کبھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے ۔ آپ نے سجادۂ فقر پر فائز ہونے کے باوجود علوم باطنی کے علاوہ علومِ ظاہری کا درس بھی جاری رکھا، خاص طور پر حدیث شریف اور تصوف کی کتب کا درس ہمیشہ جاری رہتا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ِخدمت رہتے لیکن جب آپ کسی مسئلہ پر اظہار خیال فرماتے اور تائید میں عقلی نقلی دلائل کے انبار لگاتے تو انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرنا پڑتا ۔ آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد شاکر ڈیروی صاحب علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور مدرس تھے، انھیں بھی خواجہ صاحب سے اکتسابِ علم کا موقع ملا ۔ ایک دن کسی دوست نے پوچھا مولانا! اب تک کتنا علم حاصل کیا؟ مولانا کہنے لگے: جس وقت حضرت نے " لا الہ الا للہ " کی تشریح فرمائی، تو میں نے اپنے آپ کو طفلِ مکتب سمجھا، اور ابھی اسی کلمۂ پاک کی توضیح ختم نہیں ہوئی ۔ (انسائیکلوپیڈیا ، ج:4، ص:233) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ غلام فرید ۔ القاب: ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قدوۃ العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید بن حضرت خواجہ خدا بخش بن حضرت خواجہ احمد علی بن حضرت قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلہ عالم مہاروی) بن مخدوم محمد شریف بن مخدوم یعقوب بن مخدوم نور محمد ۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز منگل 26 ذیقعدہ 1261ھ، مطابق 25 نومبر 1845ء کو " چاچڑاں شریف " میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اسی دوران آپ کے والد ماجد کا وصال ہو گیا ۔ ظاہری و باطنی علوم و معارف اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاں غلام فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر جید علماء سے حاصل کئے اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے برادرِ اکبر حضرت خواجہ فخر جہاں قدس سرہ سے بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان، غزالیِ گلستانِ الوہیت، رازیِ گلشنِ نبوت، بحرِ معرفت و شریعت، قدوۃ العاشقین، زبدۃ العارفین، رئیس الموحدین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی نظامی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت خواجہ صاحب ایک ہمہ جہت اور عبقری شخصیت کے مالک تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ خواجہ صاحب کے وصال کے بعد اس خطے میں ایسی نامور، جامع اور مؤثر شخصیت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ خواجہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سرائیکی زبان کے ملک الشعراء تھے ۔ آپ کے وجد آفریں کلام میں بلا کا سوز ہے ۔ آپ کی کافیاں آج بھی اثر آفرینی میں جواب نہیں رکھتیں ۔ عوام و خواص کے لئے کیف و سرور کا خزینہ اور عشق و عرفان کا سر چشمہ ہیں ۔
اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:
" جس قوم میں خواجہ فرید اور اس کی شاعری موجود ہے، اس قوم میں عشق و محبت کا موجود نہ ہونا تعجب انگیز ہے " ۔ چونکہ آپ مسئلہ وحدۃ الوجود کے بہت بڑے حامی تھے، اس لئے آپ کے کلام میں اس مسئلہ کی نمایاں ترجمانی پائی جاتی ہے ۔ آپ نے اردو ، فارسی ، سندھی ، اور سرائیکی وغیرہ زبانوں اظہار خیال کیا ہے ۔ آپ کے مطبوعہ دیوان کے مطالعہ سے قدرتِ بیان، جودتِ طبع اور بلندی ِتخیل کا پتہ چلتا ہے ۔ آپ شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ پر سختی سے کار بند تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے، رسوم بد کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ اپنے زمانہ کی عورتوں اور مردوں کے نا زیبا افعال پر سخت نا پسندید گی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
" عورتیں غیر مردوں کے سامنے اوڑھنی کندھے پر ڈال کر جلوہ گر ہوتی ہیں اور اسے باعثِ فخر سمجھتی ہیں، شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی بُری رسمیں پیدا ہو گئی ہیں مثلاً مرد عورتیں حلقہ باندھ کر رقص کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، اور حلقہ کے درمیان نقارہ بجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور کئی ممنوع اور مہلک امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ ناہنجار کافروں کے کاموں کو مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے اگر انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں جس کام پر ہمارے باپ دادا تھے ہمیں وہی کافی ہے"۔
جود و سخا کی کوئی انتہا نہ تھی، دور و نزدیک کے کثیر التعداد غرباء و مساکین کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے ۔ بہت سے یتیم اور بیوہ عورتیں آپ کے زیر سایہ خوشحالی سے زندگی گزارتے، کبھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے ۔ آپ نے سجادۂ فقر پر فائز ہونے کے باوجود علوم باطنی کے علاوہ علومِ ظاہری کا درس بھی جاری رکھا، خاص طور پر حدیث شریف اور تصوف کی کتب کا درس ہمیشہ جاری رہتا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ِخدمت رہتے لیکن جب آپ کسی مسئلہ پر اظہار خیال فرماتے اور تائید میں عقلی نقلی دلائل کے انبار لگاتے تو انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرنا پڑتا ۔ آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد شاکر ڈیروی صاحب علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور مدرس تھے، انھیں بھی خواجہ صاحب سے اکتسابِ علم کا موقع ملا ۔ ایک دن کسی دوست نے پوچھا مولانا! اب تک کتنا علم حاصل کیا؟ مولانا کہنے لگے: جس وقت حضرت نے " لا الہ الا للہ " کی تشریح فرمائی، تو میں نے اپنے آپ کو طفلِ مکتب سمجھا، اور ابھی اسی کلمۂ پاک کی توضیح ختم نہیں ہوئی ۔ (انسائیکلوپیڈیا ، ج:4، ص:233) ـ
❤1
شوال 1302ھ / 1885ءمیں جب مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے " براہین قاطعہ " کی بعض عبارات پر گرفت کی اور مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے ان عبارات پر مناظرہ کیا تو اس مجلس کے جج نواب آف بہاول پور نواب محمد صادق عباسی کے پیر و مرشد حضرت خواجہ صاحب ہی تھے ۔ آپ نے فیصلہ دیا تھا کہ " متنازعہ فیہا عبارات وہابیت کی ترجمانی کرتی ہیں اور مسلکِ اہلِ سنت کے خلاف ہیں " ۔ آپ کے فیصلے کی بناء پر مولوی انبیٹھوی کو گستاخانہ عبارات کی وجہ سے ریاست بہاولپور نکال دیا گیا تھا ۔ (تقدیس الوکیل) ـ
حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کے مریدین و معتقد ین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ عوام و خواص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفیض ہوتے ۔ بڑے بڑے نواب و امراء آپ کی نسبت ارادت اور خدمت کواپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ۔آپ کے درس ِتوحید و ہدایت سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد مستفید ہوئے اور متعدد حضرات منازل سلوک طے کر کے صاحبِ کمال ہوئے ۔ خلافت عطا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیتے ، فرماتے تھے :جب تک کل منازلِ سلوک طے نہ ہو جائیں شیخ کو لازم ہے کہ مرید کو خرقہ ٔخلافت نہ دے ۔
حضرت خواجہ صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی، بلکہ آپ " فنافی الرسول ﷺ " کے مقام پر فائز تھے ۔ آپ نے اپنے کلام میں اس کا جا بجا اظہار فرمایا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:
میڈا عشق وی توں میڈایار وی توں
میڈا جسم وی توں، میڈی روح وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں
میڈا زہد عبادت طاعت تقویٰ
میڈا دین وی توں ایمان وی توں
میڈا قلب وی توں، جند جان وی توں
صوم صلوٰۃ آذان وی توں
علم وی توں عرفان وی توں
وصال:
آپ کا وصال 7 ربیع الثانی 1319ھ، مطابق جولائی 1901ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " (ڈیرہ غازی خان ڈویژن) میں مرجعِ خلائقِ ہے ۔
وقتِ وصال کلمہ طیبہ
سے پہلے یہ رباعی پڑھتے رہے:
گزریا وقت ہَسَن کھِلن دا
اوکھا پینڈا یار ملن دا
آیا وقت فرید چلن دا
ہن جان لباں تے آئی اے
ماخذ و مراجع:
خواجہ غلام فرید ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ghulam-farid-farooqi-chishti
حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کے مریدین و معتقد ین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ عوام و خواص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفیض ہوتے ۔ بڑے بڑے نواب و امراء آپ کی نسبت ارادت اور خدمت کواپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ۔آپ کے درس ِتوحید و ہدایت سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد مستفید ہوئے اور متعدد حضرات منازل سلوک طے کر کے صاحبِ کمال ہوئے ۔ خلافت عطا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیتے ، فرماتے تھے :جب تک کل منازلِ سلوک طے نہ ہو جائیں شیخ کو لازم ہے کہ مرید کو خرقہ ٔخلافت نہ دے ۔
حضرت خواجہ صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی، بلکہ آپ " فنافی الرسول ﷺ " کے مقام پر فائز تھے ۔ آپ نے اپنے کلام میں اس کا جا بجا اظہار فرمایا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:
میڈا عشق وی توں میڈایار وی توں
میڈا جسم وی توں، میڈی روح وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں
میڈا زہد عبادت طاعت تقویٰ
میڈا دین وی توں ایمان وی توں
میڈا قلب وی توں، جند جان وی توں
صوم صلوٰۃ آذان وی توں
علم وی توں عرفان وی توں
وصال:
آپ کا وصال 7 ربیع الثانی 1319ھ، مطابق جولائی 1901ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " (ڈیرہ غازی خان ڈویژن) میں مرجعِ خلائقِ ہے ۔
وقتِ وصال کلمہ طیبہ
سے پہلے یہ رباعی پڑھتے رہے:
گزریا وقت ہَسَن کھِلن دا
اوکھا پینڈا یار ملن دا
آیا وقت فرید چلن دا
ہن جان لباں تے آئی اے
ماخذ و مراجع:
خواجہ غلام فرید ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ghulam-farid-farooqi-chishti
scholars.pk
Hazrat Khawaja Ghulam Farid Farooqi Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت مولانا فضل حق رام پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فضلِ حق رام پوری۔لقب: فخرالعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مولانا فضلِ حق رام پوری بن مولانا حافظ عبد الحق علیہما الرحمہ۔آپ کے والد گرامی مولانا حافظ عبدالحق باعمل حافظ قرآن تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور:317)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1278ھ مطابق 1861ءکو’’رام پور‘‘(انڈیا) میں ہوئی۔ یہ حُسن اتفاق ہی تو تھاکہ ایک فضلِ حق (خیر آبادی) 1278ھ میں دُنیا سےاُٹھا، اسی سن میں دوسرا فضل حق(صاحبِ ترجمہ) رونق افزاہوا۔گویا اللہ تعالیٰ نےمرحوم کاعلمی وفکری جانشین سالِ رحلت پیدا کردیا۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:/312تذکرہ کاملان رام پور:317)
تحصیلِ علم: حفظ قرآن مجید کی ابتداء اپنے والد ماجد سےکی۔والد گرامی بسلسلہ تدریس نوا کھالی بنگال چلے گئےتو شہر کےدوسرے حفاظ سےدس سال کی عمر میں تکمیل فرمائی۔فارسی حکیم احسن ساکن محلہ کھاری کنواں رام پور سے پڑھی۔صرف ونحو اور منطق کی ابتدائی کتب مولانا عبد الرحمن قندھاروی اور مولانا عبدالعزیز سہارنپوی سےپڑھیں۔فقہ شرح وقایہ تک اور ملا حسن،مولانا عبدالکریم رام پوری سےبھیکن پور میں پڑھیں۔علی گڑھ میں استاذ الکل مولانا لطف اللہ علی گڑھیسےمعقول ومنقول اور ریاضی کی تکمیل کی۔شرح اشارات،حدیث، اور تفسیر حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی (تلمیذ علامہ مولانا فضل حق خیرآبادی) سےپڑھ کر بیس سال کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی۔
بیعت وخلافت : سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں غوث الاسلام،فاتحِ قادیانیت،حضرت علامہ سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی سےشرفِ بیعت رکھتے تھے۔مولانا فیض احمد فیض لکھتے ہیں: مولانا فضلِ حق رام پوری حضرت قبلۂ عالم قدس سرہ کی خدمت میں بیعت کےلئے عریضہ لکھاتھا۔جس کےجواب میں آپ نےایک رومالروانہ فرماکر اورادو وظائف کی اجازت بخشی اور ارشاد فرمایا کہ آپ کی یہی بیعت کافی ہے۔ زیادہ سفر کی تکلیف نہ فرمائیں۔ مولانا موصوف پکے وحدت الجودی تھے اورحضرت کی تصنیف ’’تحقیق الحق‘‘ سےبے حد متأثر تھے۔
مولانا فیض احمد فیض مزید لکھتےہیں: ہندوستان کے مشہور مفتی اور عالم ریاست رام پور میں مدرسہ عالیہ رام پور کے پرنسپل مولانا فضلِ حق را م پورینےایک سال اجمیرشریف میں عرس کےموقع پر حضرت بابوجی سےحضرت قبلہ ٔ عالم قدسر سرہ کی تصنیف کے متعلق ذکر کرتےہوئے فرمایا تھا کہ یوں تو حضرت کےکمالات بہت بیان ہوتےہیں۔ لیکن میں تو اس دماغ کا شیدائی ہوں جس سے ’’سیف چشتیائی‘‘ ظہور میں آئی ہے۔(مہر منیر:251)
سیرت وخصائص: استاذالعلماء،مرجع الفضلاء،فخر العلماء،جامع المعقول والمنقول،مجمع البحرین،محبوب الطرفین حضرت علامہ مولانا فضل حق رام پوری۔آپ اپنے وقت کےفاضلِ متبحر اور عالم اکمل تھے۔آپ کی شہرت آپ کی زندگی میں ہی اطرافِ عالم میں پھیل گئی تھی۔آپ ایک عدیم النظیر عالم،بلند پایہ مدرس،عظیم الشان مصنف،اور جلیل القدر صوفی تھے۔دین ومذہب کی محبت رگ و پے میں جاری تھی۔خوش خلق، خوش مزاج،ملنسار اور مہمان نواز تھے۔آپ کی علمی فضیلت فضلاء دہر میں مسلم تھی۔سلسلہ خیر آبادی کی ایک روشن کڑی تھے۔کثیر الفیض علماء ہند میں فردِ وحید تھے۔آپ سے ایک جہاں فیض یاب ہوا۔
فراغت کے بعد ساری زندگی درس وتدریس، اور تصنیف وتالیف میں مصروف رہے۔ابتداء ً مدرسہ طالبیہ بریلی میں علوم دینیہ کی تدریس شروع کی اور صبح تاشام تیس،بتیس اسباق مختلف علوم وفنون کےپڑھاتے۔نواب عرش آشیاں مشتاق علی خان کےعہد 1304ھ میں مدرسہ عالیہ کےنظام میں توسیع ہوئی تو مولانا ہدایت علی بریلوی اول مدرس اور آپ مدرس سوم مقرر ہوئے۔مولوی عبدالجبار وزیر ریاست بھوپال کی درخواست پر مدرسہ سلیمانیہ بھوپال میں ایک سال صدر مدرس رہے۔طلبہ کی ایک کثیر جماعت بھی آپ کےساتھ بھوپال گئی۔بھوپال کےمشہور عالم حسین بن محسن یمنی سے تبرکاً اجازت حدیث حاصل کی۔شیخ نےآپ کی سند پر یہ الفاظ لکھے: ’’وھو فی الحقیقۃ بحر نبار وحباب ذخار کما یعلم ذلک من حالہ ومقالہ‘‘۔پھر سال کےآخر میں واپس رام پور آگئے۔
جب شمس العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالحق خیرآبادی مدرسہ عالیہ رام پور کےصدر مدرس مقرر ہوئےتوآپ نےمدرس ہونے کےباوجود ان سے علمی استفادہ کیا۔شرح سلم،شمس بازغہ،حواشی زاہدیہ علیٰ شرح المواقف،شرح سلم قاضی گوپاموی اور شرح تجرید پڑھی اور علمی ذوق کے تسکین اور استفادے کاحق ادا کردیا۔مولانا خیر آبادی اپنے تلامذہ میں سےآپ کی بہت تعریف اور قدر کرتےتھے۔مولانا عبدالحق خیر آبادی کے مدرسہ عالیہ سےجانے کےبعد آپ اول مدرس ہوئے۔1909ء میں حکومت کی درخواست پر ایک سال مدرسہ عالیہ کلکتہ میں اول مدرس کےمنصب پر فائز رہے۔
سالانہ تعطیلات میں جب رام پور آئے تو نواب حامد علی خان باصرار روک لیا۔چنانچہ مصطفیٰ علی سیکرٹری تعلیم اور نجم الحسن ڈائریکٹر تعلیم کی کوشش سے مدرسہ عالیہ رام پور کےدوبارہ صدرالمدرسین منتخب ہوئے۔طلبہ کو پڑھانے میں بڑی محنت کرتے۔مدرسہ کے اوقات کے علاوہ رات گی
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فضلِ حق رام پوری۔لقب: فخرالعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مولانا فضلِ حق رام پوری بن مولانا حافظ عبد الحق علیہما الرحمہ۔آپ کے والد گرامی مولانا حافظ عبدالحق باعمل حافظ قرآن تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور:317)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1278ھ مطابق 1861ءکو’’رام پور‘‘(انڈیا) میں ہوئی۔ یہ حُسن اتفاق ہی تو تھاکہ ایک فضلِ حق (خیر آبادی) 1278ھ میں دُنیا سےاُٹھا، اسی سن میں دوسرا فضل حق(صاحبِ ترجمہ) رونق افزاہوا۔گویا اللہ تعالیٰ نےمرحوم کاعلمی وفکری جانشین سالِ رحلت پیدا کردیا۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:/312تذکرہ کاملان رام پور:317)
تحصیلِ علم: حفظ قرآن مجید کی ابتداء اپنے والد ماجد سےکی۔والد گرامی بسلسلہ تدریس نوا کھالی بنگال چلے گئےتو شہر کےدوسرے حفاظ سےدس سال کی عمر میں تکمیل فرمائی۔فارسی حکیم احسن ساکن محلہ کھاری کنواں رام پور سے پڑھی۔صرف ونحو اور منطق کی ابتدائی کتب مولانا عبد الرحمن قندھاروی اور مولانا عبدالعزیز سہارنپوی سےپڑھیں۔فقہ شرح وقایہ تک اور ملا حسن،مولانا عبدالکریم رام پوری سےبھیکن پور میں پڑھیں۔علی گڑھ میں استاذ الکل مولانا لطف اللہ علی گڑھیسےمعقول ومنقول اور ریاضی کی تکمیل کی۔شرح اشارات،حدیث، اور تفسیر حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی (تلمیذ علامہ مولانا فضل حق خیرآبادی) سےپڑھ کر بیس سال کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی۔
بیعت وخلافت : سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں غوث الاسلام،فاتحِ قادیانیت،حضرت علامہ سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی سےشرفِ بیعت رکھتے تھے۔مولانا فیض احمد فیض لکھتے ہیں: مولانا فضلِ حق رام پوری حضرت قبلۂ عالم قدس سرہ کی خدمت میں بیعت کےلئے عریضہ لکھاتھا۔جس کےجواب میں آپ نےایک رومالروانہ فرماکر اورادو وظائف کی اجازت بخشی اور ارشاد فرمایا کہ آپ کی یہی بیعت کافی ہے۔ زیادہ سفر کی تکلیف نہ فرمائیں۔ مولانا موصوف پکے وحدت الجودی تھے اورحضرت کی تصنیف ’’تحقیق الحق‘‘ سےبے حد متأثر تھے۔
مولانا فیض احمد فیض مزید لکھتےہیں: ہندوستان کے مشہور مفتی اور عالم ریاست رام پور میں مدرسہ عالیہ رام پور کے پرنسپل مولانا فضلِ حق را م پورینےایک سال اجمیرشریف میں عرس کےموقع پر حضرت بابوجی سےحضرت قبلہ ٔ عالم قدسر سرہ کی تصنیف کے متعلق ذکر کرتےہوئے فرمایا تھا کہ یوں تو حضرت کےکمالات بہت بیان ہوتےہیں۔ لیکن میں تو اس دماغ کا شیدائی ہوں جس سے ’’سیف چشتیائی‘‘ ظہور میں آئی ہے۔(مہر منیر:251)
سیرت وخصائص: استاذالعلماء،مرجع الفضلاء،فخر العلماء،جامع المعقول والمنقول،مجمع البحرین،محبوب الطرفین حضرت علامہ مولانا فضل حق رام پوری۔آپ اپنے وقت کےفاضلِ متبحر اور عالم اکمل تھے۔آپ کی شہرت آپ کی زندگی میں ہی اطرافِ عالم میں پھیل گئی تھی۔آپ ایک عدیم النظیر عالم،بلند پایہ مدرس،عظیم الشان مصنف،اور جلیل القدر صوفی تھے۔دین ومذہب کی محبت رگ و پے میں جاری تھی۔خوش خلق، خوش مزاج،ملنسار اور مہمان نواز تھے۔آپ کی علمی فضیلت فضلاء دہر میں مسلم تھی۔سلسلہ خیر آبادی کی ایک روشن کڑی تھے۔کثیر الفیض علماء ہند میں فردِ وحید تھے۔آپ سے ایک جہاں فیض یاب ہوا۔
فراغت کے بعد ساری زندگی درس وتدریس، اور تصنیف وتالیف میں مصروف رہے۔ابتداء ً مدرسہ طالبیہ بریلی میں علوم دینیہ کی تدریس شروع کی اور صبح تاشام تیس،بتیس اسباق مختلف علوم وفنون کےپڑھاتے۔نواب عرش آشیاں مشتاق علی خان کےعہد 1304ھ میں مدرسہ عالیہ کےنظام میں توسیع ہوئی تو مولانا ہدایت علی بریلوی اول مدرس اور آپ مدرس سوم مقرر ہوئے۔مولوی عبدالجبار وزیر ریاست بھوپال کی درخواست پر مدرسہ سلیمانیہ بھوپال میں ایک سال صدر مدرس رہے۔طلبہ کی ایک کثیر جماعت بھی آپ کےساتھ بھوپال گئی۔بھوپال کےمشہور عالم حسین بن محسن یمنی سے تبرکاً اجازت حدیث حاصل کی۔شیخ نےآپ کی سند پر یہ الفاظ لکھے: ’’وھو فی الحقیقۃ بحر نبار وحباب ذخار کما یعلم ذلک من حالہ ومقالہ‘‘۔پھر سال کےآخر میں واپس رام پور آگئے۔
جب شمس العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالحق خیرآبادی مدرسہ عالیہ رام پور کےصدر مدرس مقرر ہوئےتوآپ نےمدرس ہونے کےباوجود ان سے علمی استفادہ کیا۔شرح سلم،شمس بازغہ،حواشی زاہدیہ علیٰ شرح المواقف،شرح سلم قاضی گوپاموی اور شرح تجرید پڑھی اور علمی ذوق کے تسکین اور استفادے کاحق ادا کردیا۔مولانا خیر آبادی اپنے تلامذہ میں سےآپ کی بہت تعریف اور قدر کرتےتھے۔مولانا عبدالحق خیر آبادی کے مدرسہ عالیہ سےجانے کےبعد آپ اول مدرس ہوئے۔1909ء میں حکومت کی درخواست پر ایک سال مدرسہ عالیہ کلکتہ میں اول مدرس کےمنصب پر فائز رہے۔
سالانہ تعطیلات میں جب رام پور آئے تو نواب حامد علی خان باصرار روک لیا۔چنانچہ مصطفیٰ علی سیکرٹری تعلیم اور نجم الحسن ڈائریکٹر تعلیم کی کوشش سے مدرسہ عالیہ رام پور کےدوبارہ صدرالمدرسین منتخب ہوئے۔طلبہ کو پڑھانے میں بڑی محنت کرتے۔مدرسہ کے اوقات کے علاوہ رات گی
❤1👍1
ارہ بجے تک پڑھاتے اور طریقۂ تعلیم ایسا تھا کہ غبی سے غبی طالب علم کو بھی مطالب ذہن نشین ہوجاتے۔ہندو پاک کے علاوہ افغانستان،ایران، اور خراسان تک طلبہ شریک ِدرس ہوتے۔بعض تلامذہ کےاسماء گرامی: امام المناطقہ مولانا دین محمد بدھوی۔شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی۔مولانا غلام جیلانی ہزاروی۔مولانا مفتی عطاء محمد ضلع چکوال۔مولانا عبدالعزیز۔مولانا صدیق قندھاروی۔مولانا سیف اللہ ہراتی۔مولانا محمد مسلم جون پوری۔مولانا عبدالکریم لکھنوی وغیرہ۔آپ کا ہر شاگرد علم کی دنیا میں نیر تاباں تھا۔ہر ایک سےایک جہاں منور وفیض یاب ہوا۔(مہر انور:720)
تصانیف: آپ نے تدریسی مصروفیات کے باوجود تصنیف وتالیف کی طرف بھی خاصی توجہ دی اور ایک بڑا علمی ذخیرہ یادگار چھوڑا۔۔الظفر الحامدی۔شرح میر ایسا غوجی۔حاشیہ حمد اللہ۔ حاشیہ میر زاہد۔حاشیہ تلویح۔حاشیہ دروس البلاغہ۔ افضل التحقیقات فی مسئلۃ الصفات۔یادگار ہیں۔ آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا افضال الحق رام پوری بڑےفاضل عالم اور آپ کےبعد مدرسہ عالیہ رام پور کےپرنسپل ہوئے۔حضرت مجدد گولڑی کےارادت مندوں میں سےتھے۔(ایضا:721)
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 26/ذالقعدہ 1358ھ مطابق 7/جنوری 1940ء بروز اتوارکو ہوا۔محلہ مردان خان رام پور کے قبرستان میں مدرسہ مطلع العلوم کے نزدیک دفن ہوئے۔(ایضا:721)
ماخذ ومراجع: تذکرہ علمائے اہل سنت۔ تذکرہ کاملان رام پور۔مہر منیر۔مہر انور۔تذکرہ علمائے ہند۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-fazal-haq-hanafi-rampuri
تصانیف: آپ نے تدریسی مصروفیات کے باوجود تصنیف وتالیف کی طرف بھی خاصی توجہ دی اور ایک بڑا علمی ذخیرہ یادگار چھوڑا۔۔الظفر الحامدی۔شرح میر ایسا غوجی۔حاشیہ حمد اللہ۔ حاشیہ میر زاہد۔حاشیہ تلویح۔حاشیہ دروس البلاغہ۔ افضل التحقیقات فی مسئلۃ الصفات۔یادگار ہیں۔ آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا افضال الحق رام پوری بڑےفاضل عالم اور آپ کےبعد مدرسہ عالیہ رام پور کےپرنسپل ہوئے۔حضرت مجدد گولڑی کےارادت مندوں میں سےتھے۔(ایضا:721)
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 26/ذالقعدہ 1358ھ مطابق 7/جنوری 1940ء بروز اتوارکو ہوا۔محلہ مردان خان رام پور کے قبرستان میں مدرسہ مطلع العلوم کے نزدیک دفن ہوئے۔(ایضا:721)
ماخذ ومراجع: تذکرہ علمائے اہل سنت۔ تذکرہ کاملان رام پور۔مہر منیر۔مہر انور۔تذکرہ علمائے ہند۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-fazal-haq-hanafi-rampuri
www.scholars.pk
Hazrat Allama Fazal Haq Hanafi Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1