🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-11-1444 ᴴ | 15-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-11-1444 ᴴ | 15-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-11-1444 ᴴ | 15-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-11-1444 ᴴ | 15-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
استاذ العلماء مولانا مفتی نجم الدین یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

استاد العلماء مفتی محمد نجم الدین بن میاں امام بخش سومرو ۲۶ رجب المرجب ۱۳۲۶ھ کو سندھ کے علمی و ادبی شہر گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے ۔

مفتی نجم الدین مفتی محمد قاسم و مفتی محمد ابراہیم یاسینی کے بہنوئی تھے ۔

تعلیم و تربیت:
آپ نے قرآن مجید ناظرہ اپنے سالے مولانا حافظ محمد ابراہیم کے پاس پڑھا۔ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب کے پاس فارسی میں سکندرنامہ تک صرف و نحو میں کافیہ تک منطق میں مرقاۃ تک ، فقہ میں کنز تک حدیث میں مشکوٰۃ تک، اصول فقہ میں اصول الشاشی اور ترجمہ قرآن پاک پڑھا۔ ابھی تعلیم جاری تھی کہ حضرت مولانا محمد قاسم کا ۱۸ ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ کو انتقال ہوگیا ۔ ان کے وصال کے بعد بقیہ نصابی کتب (درس نظامی) حضرت مولانا محمد ابراہیم کے پاس پڑھیں ، ان میں جلالین ، شرح تہذیب شرح وقایہ، ہدایہ مکمل ، جامی مطول، توضیح تلویخ ، بیضاوی سورہ بقر اور صحاح ستہ بھی شامل ہیں۔ نصابی کتب کی تکمیل کے بعد ۱۸ ، ذوالقعدہ ۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ء کو گڑھی یاسین کے دارالعلوم ہاشمیہ قاسمیہ سے دستار فضیلت اور سند حاصل کی۔

درس و تدریس:
مولانا نجم الدین طالب علمی کے دوران متبدی طلباء کو اپنے اساتذہ کی نگرانی میں درس دیا کرتے تھے جس کے سبب ان میں خوب استعداد پیدا ہوئی اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد با قاعدگی سے درس و تدریس کا سلسلہ مادر علمی میں شروع کیا اور درس نظامی کی تمام کتب بغیر کسی رکاوٹ کے خود پڑھاتے تھے۔ ۱۹۴۷ء قیام پاکستان کے وقت بعض مسائل کی بنا پر آپ نے مادر علمی کو الوداع کہا اور جیکب آباد کے ہائی اسکول میں عربی کے استاد مقرر ہوئے ، دو سال وہیں پڑھایا ۔ اس کے بعد مادر علمی کی جانب واپس آئے اور بقیہ زندگی وہیں دارالعلوم قاسمیہ میں درس و تدریس میں گزاری۔

بیعت:
مفتی نجم الدین سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت آغا عبداللہ جان سر ہندی علیہ الرحمۃ (ٹنڈو سائینداد) کے دست بیعت ہوئے۔

اولاد:
آپ کے دو بیٹے تولد ہوئے۔

۱۔ مولانا مفتی محمد قاسم اویسی مدرس مدرسہ قاسمیہ و پیش امام جامع مسجد گڑھی یاسین

۲۔ مولانا حکیم محدم عاصم سو مرو بی۔ اے

تصنیف:
٭ مجموعہ فتاویٰ

٭ آغاز فارسی

٭ سوانح حیات حضرت مولانا محمد ابراہیم یاسینی

نشر و اشاعت:
مولانا نجم الدین نے متحرک زندگی گزاری بعض دینی کتابوں کو شائع کیا، مناظرے کروائے، عوام الناس کی رہنمائی کیلئے ہندوستان کے نامور سنی علماء کو مدعو کرکے اپنے علاقوں میں جلسے منعقد کراتے تھے۔ آپ نے وقت کے نامور علماء سے ملاقاتین کیں اور فقہی تحقیقات میں تبادلہ خیالات پر مشتمل محافل کا انعقاد کیا۔ ایک انٹرویو میں اس کی تفصیل یوں بتاتے ہیں۔

۱۔ فتاویٰ ہمایونی (دو حصے سندھی مترجم مفتی محمد ابارہیم

۲۔ مامریداں (فارسی نظم) مصنف مفتی محمد ابراہیم۔ یہ رسالہ تقلید شخصی کے جوا زمیں ہے۔

۳۔ الحجۃ الکافیہ فی جواز الجماعۃ الثانیہ (عربی و فارسی ) مفتی محمد ابراہیم

۴۔ بیاض واحدی(فارسی) مصنف حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب جلد اول وغیرہ شائع کروائی۔

اس کے علاوہ مولانا نجم الدین نے سفیر اسلام ، عالمی مبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی مدنی علیہ الرحمۃ (والد مولانا شاہ احمد نورانی) کو مدعو کیا اور شکار پور شہر میںجلسہ میں خطاب کروایا، شکار پور وہابیت کا مرکز تھا لیکن کسی مخالف کو علامہ صاحب سے مناظرہ کرنے کی ہمت نہ ہوسکی اسی طرح مناظرہ اسلام ، شیر اہل سنت حضرت علامہ محمد عمر صدیقی اچھروی علیہ الرحمۃ (والد مولانا عبد التواب صدیقی لاہور) کو بھی شکار پور مناظرہ کیلئے مدعو کیا مگر وہابی آپ کا نام سن کر سن ہوگئے اور میدان میں آنے کی کسی کو جرأت نہ ہوسکی۔ مولانا محمدہاشم فاضل شمسی پروانشل لائبریری کی طرف سے گڑھی یاسین میں مولانا نجم الدین کا خاندانی کتب خانہ دیکھنے آئے تھے ۔ وقت کے نامور خطیب و صوفی بزرگ مولانا محمد یار چشتی گڑھی ختیار خان (ضلع رحیم یار خان) کو بھی دعوت دے کر گڑھی یاسین بلوایا تھا۔ حضرت مولانا احمد یار مہر خان گڑہ شریف والے کی زیارت کی تھی۔ انہوں نے مشکوٰۃ المصابیح کا سندھی ترجمہ و حاشیہ لکھا تھا، جس کو مفتی محمد ابراہیم صاحب نے شائع کیا تھا۔

۱۔ مولانا محمد خان چانڈیو (دڑی ضلع جیکب آباد )

۲۔ مولانا قاضی حبیب اللہ (رتو ڈیرو)

۳۔ مولانا حکیم عبدالرحمن گوٹھ بھائی خان گھانگھرو تحصیل رتو ڈیرو ، دارالعلوم قاسمیہ کے فاضل علماء میں سے تھے۔
1
حضرت پیر سید تراب علی شاہ راشدی (قمبر) کے توسل سے عارف کامل ، عاشق رسول حضرت مولانا سید احمد شامی سے ۱۳۲۲ھ/ ۱۹۰۴ء کو جب وہ ہندوستان تشریف لائے تو ان کی زیارت ہوئی وہ گڑھی یاسین بھی تشریف لائے تھے۔ مولانا سید احمدخالد شامی کے نانا کے بھائی مفتی اعظم شام علامہ سید محمد امین بن عابدین علیہ الرحمۃ (صاحب رد المحتار) تھے۔

مولانا سید محمد شاہ اور مولانا محمد ابراہیم کا ایک فقہی مسئلہ میں اختلاف ہوا تو (۱۳)ا علماء اہلسنت کا اجلاس ہوا ، دونوں حضرات نے ان میں سے مندرجہ ذیل تین علماء کو امین مقرر کیا۔

۱۔ حضرت مولان اپیر گل حسن قادری سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف

۲۔ مولانا مفتی عبدالباقی ہمایوں شریف

۳۔ حضرت مولانا نذرمحمد ساکن بھونگ تحصیل صادق آباد

مولانا تاج محدم عاریجوی اور مولانا عطا محمد مہیسر اپنے علاقہ کے مانے ہوئے علماء تھے۔ مولانا قمر الدین مہیسر (گوٹھ درگانو مہیسر تصحصیل میرو خان) ’’المھیر‘‘ نام سے ایک مجلہ کے ایڈیٹر بھی تھے اور یہ مجلہ اہل سنت جماعت کا بے باک ترجمان تھا جو اپنے گوٹھ سے شائع فرماتے تھے۔ مولانا محدم حسن کھاڑو مدیر و مالک اخبار ’’الحنیف‘‘ جیکب آباد (جس کے ممبر اس وقت کے نامور علماء تھے) اخبار، اہل سنت احناف کے تعاون سے شائع ہوتی تھی اور ان کے پاس اپنی پریس تھی وہ بھی ’’الحنیف‘‘ کے نام سے موسوم تھی۔

وہابی مولویوں سے بھی بحث مباحثہ ہوتے رہے جس میں مولوی محمد ہاشم (گوٹھ رک اسٹیشن) مولوی نبی بخش عودی اور مولوی عبدالکریم چشتی شکار پوری وغیرہ شامل ہیں۔

(مولانا نجم الدین یاسینی کے انٹریو سے مضمون اخذ کیا گیا ہے الراشد صفر ۱۳۹۷ھ)

تلامذہ:
٭ مولانا محمد قاسم اویسی یاسینی امام جامع مسجد گڑھی یاسین

٭ مولانا مفتی احمد صدیق سمیجو نقشبندی عمر کوٹ

وصال:
مفتی نجم الدین نجم یاسینی نے ۲۶ ذوالقعدہ ۱۳۹۹ھ بمطابق ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۹ ء شب جمع کو ۷۳ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کی آخری آرامگاہ آپ کے استاد محترم حضرت مفتی محدم قاسم یاسینی قدس سرہ کی مزار کے برابر میں گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں ہے فاضل امجد حافظ خیر محدم اوحدی شکار پوری نے درج ذیل قطعہ تاریخ وصال کہا:

چون ندائے ارجعی در گوش نجم الدین رسید
رخت بربست از جہاں بے مدارو بے بقا

خندہ رو رفت و مسرت در دل اموجزن
دراعز او احبا گریہ و ماتم بپا

شیوۂ او ذکر و فکر و شغل او علم و عمل
مدعائے او نجات و قربت و وصل خدا

قلب او معمور تراز عظمت رب جلیل
جان زار او فدائے ذات پاک مصطفی

سیرت و کردار او بے داغ بودو بے مثال
عمر خود کردہ بسر در خدمت دین ہدی

عشق او شد مستفیض از جلوہ حسن ازل
شوق بردش چون بزیر سایہ عرش علا

باسر زہداست تاریخ الوداعیش ’’اوحدی‘‘
وصل رب شادان نمودہ روح نجم الدین را

۱۳۹۲۔۔۔۔۱۳۹۹

[قطعہ تاریخ وصال جناب محمد سلام صاحب سومرو نے گڑھی یاسین سے ارسال فرمایا]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-najamuddin-yaseeni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ غلام فرید ۔ القاب: ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قدوۃ العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید بن حضرت خواجہ خدا بخش بن حضرت خواجہ احمد علی بن حضرت قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلہ عالم مہاروی) بن مخدوم محمد شریف بن مخدوم یعقوب بن مخدوم نور محمد ۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز منگل 26 ذیقعدہ 1261ھ، مطابق 25 نومبر 1845ء کو " چاچڑاں شریف " میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اسی دوران آپ کے والد ماجد کا وصال ہو گیا ۔ ظاہری و باطنی علوم و معارف اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاں غلام فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر جید علماء سے حاصل کئے اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے برادرِ اکبر حضرت خواجہ فخر جہاں قدس سرہ سے بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان، غزالیِ گلستانِ الوہیت، رازیِ گلشنِ نبوت، بحرِ معرفت و شریعت، قدوۃ العاشقین، زبدۃ العارفین، رئیس الموحدین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی نظامی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔

حضرت خواجہ صاحب ایک ہمہ جہت اور عبقری شخصیت کے مالک تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ خواجہ صاحب کے وصال کے بعد اس خطے میں ایسی نامور، جامع اور مؤثر شخصیت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ خواجہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سرائیکی زبان کے ملک الشعراء تھے ۔ آپ کے وجد آفریں کلام میں بلا کا سوز ہے ۔ آپ کی کافیاں آج بھی اثر آفرینی میں جواب نہیں رکھتیں ۔ عوام و خواص کے لئے کیف و سرور کا خزینہ اور عشق و عرفان کا سر چشمہ ہیں ۔

اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:
" جس قوم میں خواجہ فرید اور اس کی شاعری موجود ہے، اس قوم میں عشق و محبت کا موجود نہ ہونا تعجب انگیز ہے " ۔ چونکہ آپ مسئلہ وحدۃ الوجود کے بہت بڑے حامی تھے، اس لئے آپ کے کلام میں اس مسئلہ کی نمایاں ترجمانی پائی جاتی ہے ۔ آپ نے اردو ، فارسی ، سندھی ، اور سرائیکی وغیرہ زبانوں اظہار خیال کیا ہے ۔ آپ کے مطبوعہ دیوان کے مطالعہ سے قدرتِ بیان، جودتِ طبع اور بلندی ِتخیل کا پتہ چلتا ہے ۔ آپ شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ پر سختی سے کار بند تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے، رسوم بد کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ اپنے زمانہ کی عورتوں اور مردوں کے نا زیبا افعال پر سخت نا پسندید گی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

" عورتیں غیر مردوں کے سامنے اوڑھنی کندھے پر ڈال کر جلوہ گر ہوتی ہیں اور اسے باعثِ فخر سمجھتی ہیں، شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی بُری رسمیں پیدا ہو گئی ہیں مثلاً مرد عورتیں حلقہ باندھ کر رقص کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، اور حلقہ کے درمیان نقارہ بجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور کئی ممنوع اور مہلک امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ ناہنجار کافروں کے کاموں کو مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے اگر انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں جس کام پر ہمارے باپ دادا تھے ہمیں وہی کافی ہے"۔

جود و سخا کی کوئی انتہا نہ تھی، دور و نزدیک کے کثیر التعداد غرباء و مساکین کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے ۔ بہت سے یتیم اور بیوہ عورتیں آپ کے زیر سایہ خوشحالی سے زندگی گزارتے، کبھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے ۔ آپ نے سجادۂ فقر پر فائز ہونے کے باوجود علوم باطنی کے علاوہ علومِ ظاہری کا درس بھی جاری رکھا، خاص طور پر حدیث شریف اور تصوف کی کتب کا درس ہمیشہ جاری رہتا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ِخدمت رہتے لیکن جب آپ کسی مسئلہ پر اظہار خیال فرماتے اور تائید میں عقلی نقلی دلائل کے انبار لگاتے تو انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرنا پڑتا ۔ آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد شاکر ڈیروی صاحب علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور مدرس تھے، انھیں بھی خواجہ صاحب سے اکتسابِ علم کا موقع ملا ۔ ایک دن کسی دوست نے پوچھا مولانا! اب تک کتنا علم حاصل کیا؟ مولانا کہنے لگے: جس وقت حضرت نے " لا الہ الا للہ " کی تشریح فرمائی، تو میں نے اپنے آپ کو طفلِ مکتب سمجھا، اور ابھی اسی کلمۂ پاک کی توضیح ختم نہیں ہوئی ۔ (انسائیکلوپیڈیا ، ج:4، ص:233) ـ
1
شوال 1302ھ / 1885ءمیں جب مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے " براہین قاطعہ " کی بعض عبارات پر گرفت کی اور مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے ان عبارات پر مناظرہ کیا تو اس مجلس کے جج نواب آف بہاول پور نواب محمد صادق عباسی کے پیر و مرشد حضرت خواجہ صاحب ہی تھے ۔ آپ نے فیصلہ دیا تھا کہ " متنازعہ فیہا عبارات وہابیت  کی ترجمانی کرتی ہیں اور مسلکِ اہلِ سنت کے خلاف ہیں " ۔ آپ کے فیصلے کی بناء پر مولوی انبیٹھوی کو گستاخانہ عبارات کی وجہ سے ریاست بہاولپور نکال دیا گیا تھا ۔ (تقدیس الوکیل) ـ

حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کے مریدین و معتقد ین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ عوام و خواص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفیض ہوتے ۔ بڑے بڑے نواب و امراء آپ کی نسبت ارادت اور خدمت کواپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ۔آپ کے درس ِتوحید و ہدایت سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد مستفید ہوئے اور متعدد حضرات منازل سلوک طے کر کے صاحبِ کمال ہوئے ۔ خلافت عطا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیتے ، فرماتے تھے :جب تک کل منازلِ سلوک طے نہ ہو جائیں شیخ کو لازم ہے کہ مرید کو خرقہ ٔخلافت نہ دے ۔

حضرت خواجہ صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی، بلکہ آپ " فنافی الرسول ﷺ " کے مقام پر فائز تھے ۔ آپ نے اپنے کلام میں اس کا جا بجا اظہار فرمایا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:

میڈا عشق وی توں میڈایار وی توں
میڈا جسم وی توں، میڈی روح وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں
میڈا زہد عبادت طاعت تقویٰ

میڈا دین وی توں ایمان وی توں
میڈا قلب وی توں، جند جان وی توں
صوم صلوٰۃ آذان وی توں
علم وی توں عرفان وی توں

وصال:
آپ کا وصال 7 ربیع الثانی 1319ھ، مطابق جولائی 1901ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " (ڈیرہ غازی خان ڈویژن) میں مرجعِ خلائقِ ہے ۔

وقتِ وصال کلمہ طیبہ
سے پہلے یہ رباعی پڑھتے رہے:

گزریا وقت ہَسَن کھِلن دا
اوکھا پینڈا یار ملن دا

آیا وقت فرید چلن دا
ہن جان لباں تے آئی اے

ماخذ و مراجع:
خواجہ غلام فرید ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ghulam-farid-farooqi-chishti
1👍1