Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا الحاج محمد یوسف میمن رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
محمد یوسف بن میاں خمیسو میمن
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ تحصیل میر پور بھٹو، ضلع ٹھٹھہ، پاکستان میں 1305 ھ/ بمطابق 1885 ء کو تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا عبد اللہ ولہاری علیہ الرحمہ سے حاصل کی۔ تفسیرِ جلالین کے آخری اسباق حضرت علامہ مفتی حامد اللہ میمن سے پڑھے۔ بعد میں گھر والےڈرو سے سجاول کے نزد گجو منتقل ہوئے۔جہاں آپ کے چچا حاجی محمد اسحاق میمن نے مدرسہ قائم کیااور اپنے ہونہار بھتیجے مولانا محمد یوسف کی تعلیم کے لئے مولانا قاضی فتح علی اصغرجتوئی کواسی مدرسے میں مدرس مقرر کیا۔مفتی محمد یوسف اسی مدرسہ میں درسِ نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
عالیہ، نقشبندیہ، مجددیہ میں شیخِ طریقت حضرت خواجہ محمد حسن جانسرہندی رحمۃ اللہ علیہ سے دست بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
گجو میں مادرِ علمی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اس کے بعد تحصیل جاتی، نزد آمری گوٹھ، مڑھی بولان خان میں مستقل رہائش اختیارکی۔ وہی مدرسہ و مسجد شریف تعمیر کروایااور درس و تدریس و فتاویٰ نویسی میں مصروف ہوگئے۔اسی طرح پوری زندگی شریعت و طریقت کی تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت میں بسر فرمائی۔
وصال:
مولانا محمد مفتی یوسف میمن نے 25 ذو القعدہ1398 ھ بمطابق28 اکتوبر 1978 ء کو 93 سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف مڑھی بولان خان (تحصیل جاتی، ضلع ٹھٹھہ) میں واقع ہے۔ جہاں ہر سال آپ کے عرس کی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-mufti-muhammad-yusuf-memon
نام ونسب:
محمد یوسف بن میاں خمیسو میمن
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ تحصیل میر پور بھٹو، ضلع ٹھٹھہ، پاکستان میں 1305 ھ/ بمطابق 1885 ء کو تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا عبد اللہ ولہاری علیہ الرحمہ سے حاصل کی۔ تفسیرِ جلالین کے آخری اسباق حضرت علامہ مفتی حامد اللہ میمن سے پڑھے۔ بعد میں گھر والےڈرو سے سجاول کے نزد گجو منتقل ہوئے۔جہاں آپ کے چچا حاجی محمد اسحاق میمن نے مدرسہ قائم کیااور اپنے ہونہار بھتیجے مولانا محمد یوسف کی تعلیم کے لئے مولانا قاضی فتح علی اصغرجتوئی کواسی مدرسے میں مدرس مقرر کیا۔مفتی محمد یوسف اسی مدرسہ میں درسِ نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
عالیہ، نقشبندیہ، مجددیہ میں شیخِ طریقت حضرت خواجہ محمد حسن جانسرہندی رحمۃ اللہ علیہ سے دست بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
گجو میں مادرِ علمی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اس کے بعد تحصیل جاتی، نزد آمری گوٹھ، مڑھی بولان خان میں مستقل رہائش اختیارکی۔ وہی مدرسہ و مسجد شریف تعمیر کروایااور درس و تدریس و فتاویٰ نویسی میں مصروف ہوگئے۔اسی طرح پوری زندگی شریعت و طریقت کی تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت میں بسر فرمائی۔
وصال:
مولانا محمد مفتی یوسف میمن نے 25 ذو القعدہ1398 ھ بمطابق28 اکتوبر 1978 ء کو 93 سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف مڑھی بولان خان (تحصیل جاتی، ضلع ٹھٹھہ) میں واقع ہے۔ جہاں ہر سال آپ کے عرس کی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-mufti-muhammad-yusuf-memon
scholars.pk
Molana Mufti Muhammad Yusuf Memon
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ
عظیم مفسر ،محدث ، فقیہ ، شاعر اور ادیب ۔ (پیدائش،1802ء بمطابق 1217ھ وفات -1854ء بمطابق 1270ھ). ابو الثناءشہاب الدین محمود بن عبداللہ الحسینی الٓالوسی بغداد میں پیدا ہوئے 1217ھ آپ کی تاریخ پیدائش ہے۔
"آلوس"ایک گاؤں تھا جو بغداد اور شام کے درمیان کے راستے میں ایک مقام پر واقع تھا، جس میں آپ کی پیدائش اس گاؤں کی وجہِ شہرت بنی۔
آپ اپنے زمانے کے امام بنے، زندگی کا زیادہ عرصہ تالیف و تدریس میں گذارا۔مفسر،محدث، اديب،اورمجددين میں سے تھے۔ مشہورعربی تفسیر"روح المعانی"کے مؤلف۔جو عرصہ 15 سال میں تحریر کی آپ کی متعدد تصنیفات و تالیفات ہیں۔
علامہ آلوسی اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے،اورعلم و فضل میں کمال کے باعث دوردرازسے طالبان علم آپ کی طرف مقناطیس کی طرح کھنچے چلے آتے تھے، اورایک حلقہ سا ہر وقت آپ کے یمین و یساررہتا تھا۔فقہ و اصول فقہ،تفسیر،حدیث،علم ہیئت اور صرف و نحوپرآپ کو مکمل عبورحاصل تھا ۔منقولات و معقولات پرکمال دسترس رکھنے میں آپ کا ثانی کوئی نہیں تھا۔صبح کو اہل علم اور شام کے اوقات میں مطالعہ کی ہم رکابی آپ کا معمول ہواکرتاتھا۔
وصال:
25 ذوالقعدہ 1270 کو آپ خالق حقیقی سے جا ملے اس طرح کم و بیش ستاون برس کی کل عمر پائی۔"کرخ"کے مقامی قبرستان میں مدفون ہوئے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ibne-alosi
عظیم مفسر ،محدث ، فقیہ ، شاعر اور ادیب ۔ (پیدائش،1802ء بمطابق 1217ھ وفات -1854ء بمطابق 1270ھ). ابو الثناءشہاب الدین محمود بن عبداللہ الحسینی الٓالوسی بغداد میں پیدا ہوئے 1217ھ آپ کی تاریخ پیدائش ہے۔
"آلوس"ایک گاؤں تھا جو بغداد اور شام کے درمیان کے راستے میں ایک مقام پر واقع تھا، جس میں آپ کی پیدائش اس گاؤں کی وجہِ شہرت بنی۔
آپ اپنے زمانے کے امام بنے، زندگی کا زیادہ عرصہ تالیف و تدریس میں گذارا۔مفسر،محدث، اديب،اورمجددين میں سے تھے۔ مشہورعربی تفسیر"روح المعانی"کے مؤلف۔جو عرصہ 15 سال میں تحریر کی آپ کی متعدد تصنیفات و تالیفات ہیں۔
علامہ آلوسی اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے،اورعلم و فضل میں کمال کے باعث دوردرازسے طالبان علم آپ کی طرف مقناطیس کی طرح کھنچے چلے آتے تھے، اورایک حلقہ سا ہر وقت آپ کے یمین و یساررہتا تھا۔فقہ و اصول فقہ،تفسیر،حدیث،علم ہیئت اور صرف و نحوپرآپ کو مکمل عبورحاصل تھا ۔منقولات و معقولات پرکمال دسترس رکھنے میں آپ کا ثانی کوئی نہیں تھا۔صبح کو اہل علم اور شام کے اوقات میں مطالعہ کی ہم رکابی آپ کا معمول ہواکرتاتھا۔
وصال:
25 ذوالقعدہ 1270 کو آپ خالق حقیقی سے جا ملے اس طرح کم و بیش ستاون برس کی کل عمر پائی۔"کرخ"کے مقامی قبرستان میں مدفون ہوئے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ibne-alosi
scholars.pk
Ibne Alosi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت مولانا حکیم حبیب علی علوی کاکوروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی ۔لقب:علوی،کاکوروی۔ والد کااسمِ گرامی:حکیم مشتاق علی علیہ الرحمہ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 5/جمادی الاول 1264ھ، بمطابق اپریل/1848ء کو "کاکوری"(ضلع لکھنؤ،اترپردیش ،انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے مولانا مفتی عنایت احمد، مولانا مفتی لطف اللہ علی گڈھی، مولانا شاہ علی اکبر کاکوروی سے درسیات پڑھی، 17 برس کی عمر میں درسیات تمام کر کے سند فضیلت حاصل کی۔طب والد سے پڑھی۔
بیعت و خلافت:
آپ مولانا شاہ حیدر علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقولِ والمعقول،حضرت علامہ مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علماء حقہ میں سے ہیں،آپ کا تعلق ان وارثانِ منبرومحراب سے ہے،جن کونائبِ مصطفیٰ ﷺکہا جاتا ہے۔آپ نے باطل کا مقابلہ،اور حق کا ساتھ دیا۔ابتداءً آپ "مجلس ندوۃ العلماء "کے رکنِ خاص تھے۔لیکن جب ان کے مقاصد معلوم ہوئے، جوکہ سراسر اہلیانِ اسلام کےخلاف اور اسلامی تعلیمات سے متصادم تھے،تو آپ نے علماء حقہ کا ساتھ دیتے ہوئے ان سے علیحدگی اختیارکرلی تھی۔آپ کی ساری زندگی شریعتِ اسلامیہ کی ترویج میں گزری۔کوئی ایسا کام جو خلاف شریعت ہوتا آپ اس کوناقابلِ برداشت سمجھتے، یہی وجہ ہے کہ اٹاوہ اورمین پوری میں احکام شریعت کی پابندی آپ کی ذات سے بہت ہوئی تھی۔ مسلمانوں کو شریعت پر سختی سےعمل کی تلقین کرتے ،اور اغیار کی تقلید سے منع کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل صرف اورصرف شریعتِ اسلامیہ پر عمل پیراہونے میں ہے،اس کے ماسوامیں ذلت ہی ذلت ہے۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجدد دین وملت علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں تاریخ ِوفات کہی ہے:
محب، حبیب اللہ یعلو فمن ھنا
حبیب علیٍّ کان خادم سُنۃ
حبیب لبیب بالذکاء ذکی
یقول أسیً فی عام رحلۃ الرضا
حبیب علیٍّ بالحبیب علیٍ
وھادم بدعاتِ وذاک جلی
سمی مُنًی بالسناء بھی
حبیب علی فی الولا لرضی
وصال:
آپ کا وصال 64 برس کی عمر میں فالج کے مرض سے بروز ہفتہ 25 /ذیقعدہ 1330ھ، بمطابق نومبر 1912ء کو ہوا۔
ماخذومراجع: تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-habib-ali-alvi-kakorvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی ۔لقب:علوی،کاکوروی۔ والد کااسمِ گرامی:حکیم مشتاق علی علیہ الرحمہ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 5/جمادی الاول 1264ھ، بمطابق اپریل/1848ء کو "کاکوری"(ضلع لکھنؤ،اترپردیش ،انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے مولانا مفتی عنایت احمد، مولانا مفتی لطف اللہ علی گڈھی، مولانا شاہ علی اکبر کاکوروی سے درسیات پڑھی، 17 برس کی عمر میں درسیات تمام کر کے سند فضیلت حاصل کی۔طب والد سے پڑھی۔
بیعت و خلافت:
آپ مولانا شاہ حیدر علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقولِ والمعقول،حضرت علامہ مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علماء حقہ میں سے ہیں،آپ کا تعلق ان وارثانِ منبرومحراب سے ہے،جن کونائبِ مصطفیٰ ﷺکہا جاتا ہے۔آپ نے باطل کا مقابلہ،اور حق کا ساتھ دیا۔ابتداءً آپ "مجلس ندوۃ العلماء "کے رکنِ خاص تھے۔لیکن جب ان کے مقاصد معلوم ہوئے، جوکہ سراسر اہلیانِ اسلام کےخلاف اور اسلامی تعلیمات سے متصادم تھے،تو آپ نے علماء حقہ کا ساتھ دیتے ہوئے ان سے علیحدگی اختیارکرلی تھی۔آپ کی ساری زندگی شریعتِ اسلامیہ کی ترویج میں گزری۔کوئی ایسا کام جو خلاف شریعت ہوتا آپ اس کوناقابلِ برداشت سمجھتے، یہی وجہ ہے کہ اٹاوہ اورمین پوری میں احکام شریعت کی پابندی آپ کی ذات سے بہت ہوئی تھی۔ مسلمانوں کو شریعت پر سختی سےعمل کی تلقین کرتے ،اور اغیار کی تقلید سے منع کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل صرف اورصرف شریعتِ اسلامیہ پر عمل پیراہونے میں ہے،اس کے ماسوامیں ذلت ہی ذلت ہے۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجدد دین وملت علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں تاریخ ِوفات کہی ہے:
محب، حبیب اللہ یعلو فمن ھنا
حبیب علیٍّ کان خادم سُنۃ
حبیب لبیب بالذکاء ذکی
یقول أسیً فی عام رحلۃ الرضا
حبیب علیٍّ بالحبیب علیٍ
وھادم بدعاتِ وذاک جلی
سمی مُنًی بالسناء بھی
حبیب علی فی الولا لرضی
وصال:
آپ کا وصال 64 برس کی عمر میں فالج کے مرض سے بروز ہفتہ 25 /ذیقعدہ 1330ھ، بمطابق نومبر 1912ء کو ہوا۔
ماخذومراجع: تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-habib-ali-alvi-kakorvi
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Habib Ali Alvi Kakorvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شہزادۂ غوث الاعظم، حضرت سید ابو اسحاق ابراہیم بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد ابراہیم ۔ کنیت: ابو اسحاق ۔ لقب: جیلانی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید ابو اسحاق ابراہیم بن غوث الاعظم بن سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست بن ابو عبد اللہ ۔الیٰ آخرہ ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 527ھ، بمطابق 1132ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم ،اور تمام علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ گرامی حضرت محبوبِ سبحانی سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور دیگر شیوخ سے ہوئی۔ حدیث تفسیر تصوف اور فقہ میں اپنے والدِ گرامی سے خصوصی درس لیےاور مہارتِ تامہ حاصل کی۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء ومشائخ میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے بیعت و خلافت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
سلطان الکاملین، برہان العارفین، حجۃ الواصلین امام الاصفیاء حضرت سید ابو اسحاق ابراہیم بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ علم وعمل کے اعتبار سے حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کاپرتو تھے۔اپنے زمانے کے اولیاء و اتقیاء کے سردار تھے۔ زہدوتقویٰ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔صاحبِ اذواق و مواجید اور اہل سرّو ولولہ تھے۔ رات کا وقت توبہ و استغفار و گریہ و زاری میں گذارتے۔شریعت کے علاوہ اور کوئی کلام آپ سےکبھی نہ سنا گیا۔شرم و حیا ءکی وجہ سے تیس سال تک سر اوپر نہ کیا۔بہت سے حضرات آپ کے ذریعےمرتبہ ولایت کو پہنچے۔ آخری عمر "واسط" تشریف لےگئے تھے، اور وہیں پر آپ کاوصال ہوا۔
وصال:
آپ کا وصال 25 ذیقعدہ 592ھ، بمطابق اکتوبر 1196ء کو ہوا ۔ "شریف التواریخ " کی تحقیق کے مطابق آپ کا مزار "واسط" (یہ بصرہ اور بغداد کے درمیان واقع ہے) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ۔ خزینۃ الاصفیاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-ishaq-ibrahim-bin-ghous-e-azam
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد ابراہیم ۔ کنیت: ابو اسحاق ۔ لقب: جیلانی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید ابو اسحاق ابراہیم بن غوث الاعظم بن سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست بن ابو عبد اللہ ۔الیٰ آخرہ ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 527ھ، بمطابق 1132ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم ،اور تمام علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ گرامی حضرت محبوبِ سبحانی سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور دیگر شیوخ سے ہوئی۔ حدیث تفسیر تصوف اور فقہ میں اپنے والدِ گرامی سے خصوصی درس لیےاور مہارتِ تامہ حاصل کی۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء ومشائخ میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے بیعت و خلافت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
سلطان الکاملین، برہان العارفین، حجۃ الواصلین امام الاصفیاء حضرت سید ابو اسحاق ابراہیم بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ علم وعمل کے اعتبار سے حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کاپرتو تھے۔اپنے زمانے کے اولیاء و اتقیاء کے سردار تھے۔ زہدوتقویٰ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔صاحبِ اذواق و مواجید اور اہل سرّو ولولہ تھے۔ رات کا وقت توبہ و استغفار و گریہ و زاری میں گذارتے۔شریعت کے علاوہ اور کوئی کلام آپ سےکبھی نہ سنا گیا۔شرم و حیا ءکی وجہ سے تیس سال تک سر اوپر نہ کیا۔بہت سے حضرات آپ کے ذریعےمرتبہ ولایت کو پہنچے۔ آخری عمر "واسط" تشریف لےگئے تھے، اور وہیں پر آپ کاوصال ہوا۔
وصال:
آپ کا وصال 25 ذیقعدہ 592ھ، بمطابق اکتوبر 1196ء کو ہوا ۔ "شریف التواریخ " کی تحقیق کے مطابق آپ کا مزار "واسط" (یہ بصرہ اور بغداد کے درمیان واقع ہے) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ۔ خزینۃ الاصفیاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-ishaq-ibrahim-bin-ghous-e-azam
scholars.pk
Hazrat Syed Abu Ishaq Ibrahim Bin Ghous e Azam
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شہزادۂ غوث الاعظم، حضرت ابو الفضل سید محمد بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد ۔ کنیت: ابو الفضل ۔ لقب: الجیلانی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ابوالفضل سیدمحمد بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ بن سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست بن ابو عبد اللہ ۔الیٰ آخرہ ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
مقامِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ بغدادِ معلیٰ (عراق) میں حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم ،اور تمام علوم نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی حضرت محبوبِ سبحانی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور شیخ سعید بن البنار ،شیخ ابو الوقت اور دیگر شیوخ (علیہم الرحمہ) سے ہوئی۔
حدیث تفسیر تصوف اور فقہ میں اپنے والدِ گرامی سے خصوصی درس لیےاور مہارتِ تامہ حاصل کی۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء و اولیاء میں ہوتا تھا۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے بیعت وخلافت حاصل تھی۔
سیرت و خصائص:
آپ رحمۃ اللہ علیہ علم وعمل، زہدوتقویٰ میں بے مثال تھے۔اس وقت کے عوام وخواص آپ کی ذات کی طرف متوجہ ہوتے تھے،اور اپنی مرادیں پاتے تھے۔ہروقت وعظ ونصیحت اور درس وتدریس میں مصروف رہتے تھے۔آپ کی تربیت اور فیض سے بہت سے حضرات واصل باللہ اورکامل و اکمل ہوئے۔
وصال:
25/ذوالقعدہ 600ھ، بمطابق جولائی 1204ء کو آپ کا وصال ہوا۔آپ مقبرہ حلبیہ بغداد میں مدفون ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abul-fazal-muhammad-bin-ghous-e-azam
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد ۔ کنیت: ابو الفضل ۔ لقب: الجیلانی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ابوالفضل سیدمحمد بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ بن سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست بن ابو عبد اللہ ۔الیٰ آخرہ ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
مقامِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ بغدادِ معلیٰ (عراق) میں حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم ،اور تمام علوم نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی حضرت محبوبِ سبحانی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور شیخ سعید بن البنار ،شیخ ابو الوقت اور دیگر شیوخ (علیہم الرحمہ) سے ہوئی۔
حدیث تفسیر تصوف اور فقہ میں اپنے والدِ گرامی سے خصوصی درس لیےاور مہارتِ تامہ حاصل کی۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء و اولیاء میں ہوتا تھا۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے بیعت وخلافت حاصل تھی۔
سیرت و خصائص:
آپ رحمۃ اللہ علیہ علم وعمل، زہدوتقویٰ میں بے مثال تھے۔اس وقت کے عوام وخواص آپ کی ذات کی طرف متوجہ ہوتے تھے،اور اپنی مرادیں پاتے تھے۔ہروقت وعظ ونصیحت اور درس وتدریس میں مصروف رہتے تھے۔آپ کی تربیت اور فیض سے بہت سے حضرات واصل باللہ اورکامل و اکمل ہوئے۔
وصال:
25/ذوالقعدہ 600ھ، بمطابق جولائی 1204ء کو آپ کا وصال ہوا۔آپ مقبرہ حلبیہ بغداد میں مدفون ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abul-fazal-muhammad-bin-ghous-e-azam
scholars.pk
Hazrat Syed Abul Fazal Muhammad Bin Ghous e Azam
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-11-1444 ᴴ | 14-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-11-1444 ᴴ | 15-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1