Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-11-1444 ᴴ | 12-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-11-1444 ᴴ | 12-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: تاج العلماء۔ والد کااسمِ گرامی: محمد صدیق مرادآبادی علیہ الرحمہ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 27 ربیع الثانی 1311ھ،بمطابق اکتوبر 1893ء کو بمقام مرادآباد (صوبہ اترپردیش،انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم جناب منشی شمس الدین سے حاصل کی،قرآن مجید الحاج حافظ محمد حسین سے پڑھا۔فارسی اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں مولانا نظام الدین سے پڑھیں، پھر درس نظامی کے لیے حضرت صدر الافاضل مفسر قرآن مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے بقیہ درس نظامی کی مکمل تعلیم صدر الافاضل ہی سے حاصل کی، 1324ھ، بمطابق 1906ء میں سند فضیلت حاصل کی۔ آپ اپنے اساتذہ کا بے حد ادب فرماتے تھے۔ یہ آپ کی خوش قسمتی تھی کہ آپ کی رسمِ دستاربندی امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوئی،اور اس وقت کی قابلِ فخر شخصیات نے شرکت فرمائی۔ استاد محترم کے ارشاد کے مطابق آپ نے انہی کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں تدریس شروع کی اور نصف صدی تک علم و عرفان کے جام لٹاتے رہے۔
بیعت وخلافت:
1325ھ،بمطابق 1907ء کو شیخ المشائخ حضرت سید علی حسین اشرفی رحمۃاللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور 1329ھ کو اجازت وخلافت سے مشرف ہوئے۔ بقول مفتی محمد اطہر نعیمی زید مجدہ آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سےبھی خلافت حاصل تھی۔(تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ:159)
سیرت وخصائص:
محسنِ ملت،فقیہِ امت،کامل مفسر ومحدث،تاج العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ۔ درمیانہ قد،کشادہ پیشانی،صاف رنگ،خوبصورت چہرہ،سراپا علم وفضل،پیکرِ زہدوتقویٰ،مجسمۂ اخلاق ومروت،عظیم محدث وفقیہ، مفسروادیب، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺپر ہمہ وقت عمل پیرارہنے والی شخصیت تھے۔ آپ علیہ الرحمہ ہر لحاظ سےیادگارِ اسلاف تھے۔
آپ حضرت صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے ہونہار اورقابلِ فخر تلامذہ میں سے تھے۔آپ قیام مراد آباد کے دوران 1919ء میں نہایت اہم ماہنامہ" السواد الاعظم" صدرالافاضل علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں جاری کیا۔یہ جریدہ ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک علوم اسلامیہ اور سنیت کا سرگرم نقیب رہا۔حالات حاضرہ اور ملکی سیاست پر زبر دست تنقید و تبصرہ کے علاوہ دینی نقطۂ نظر سے راہنمائی کے فرائض بھی انجام دیتا رہا۔مفتی صاحب نے "آل انڈیا سنی کانفرنس" کے نائب ناظم کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں 1946ء میں بنارس کے تاریخی اجلاس میں تحریک پاکستان کی پر زور تائید فرمائی۔
کنزالایمان کی طباعتِ اول:
مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی نمایاں دینی وعلمی خدمات میں امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا ترجمۂ قرآن بنام"کنزالایمان" کی پہلی اشاعت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا۔اس کے بعد تفسیری حاشیہ "خزائن العرفان" کی املاء اور کتابت،پروف ریڈنگ، پیسٹنگ،جلدسازی اور اشاعت کے سلسلے میں اہلِ خیر حضرات سے رابطہ کرنا ،اور مجلہ "السوادالاعظم"کے لئے مضامین کی فراہمی اور اس کی اشاعت ،"آل انڈیا سنی کانفرنس"کے ذریعےمسلمانانِ ہند کی بیداری ،اور تحریکِ پاکستان کے مخالفین کو منہ توڑجواب دینا ۔یہ سب آپ نے صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کے ہمراہ انجام دیے۔(ایضاً:173)
تقسیم ملک کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ ہندوستان میں عافیت سے رہنا مشکل ہے (کیونکہ تحریکِ پاکستان میں بھرپور کوشش کی وجہ سے مرادآباد اور قرب وجوار کے ہندو آپ کے سخت مخالف ہوگئے تھے)تو ہجرت کر کے بغداد شریف جانے کے ارادے سےکراچی تشریف لائے اور مبلغ اسلام مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ کے اصرار پر کراچی ہی میں قیام پذیر ہو گئے"دار العلوم مخزن علوم عربیہ "جاری کیا اور جامع مسجد آرام باغ میں اعزازی طور پر خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
جب 1953ء میں "تحریک ختم نبوت" چلی تو ملک کے طول وعرض سے علماء و عوام اہل سنت سر بکف میدان عمل میں داخل ہوگئے، کراچی میں مفتی صاحب نے ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر بے مثال جدو جہد کی اور بالآ خر آپ کو جیل میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں، جو ہمیشہ اہل اللہ کا مقدر رہی ہیں۔بس جرم یہی تھا۔۔۔۔
؏:خون نہ کردہ ام کسے رانہ کشتہ ام
جرم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ ام
وصال:
23 ذیقعدہ 1385ھ، بمطابق مارچ 1966ء کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف مسجد دار الصلوٰۃ ناظم آباد کراچی میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تذکرہ اولیاءِ سندھ۔روشن دریچے۔تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-ul-ulama-hazrat-allama-mufti-muhammad-umar-naeemi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: تاج العلماء۔ والد کااسمِ گرامی: محمد صدیق مرادآبادی علیہ الرحمہ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 27 ربیع الثانی 1311ھ،بمطابق اکتوبر 1893ء کو بمقام مرادآباد (صوبہ اترپردیش،انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم جناب منشی شمس الدین سے حاصل کی،قرآن مجید الحاج حافظ محمد حسین سے پڑھا۔فارسی اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں مولانا نظام الدین سے پڑھیں، پھر درس نظامی کے لیے حضرت صدر الافاضل مفسر قرآن مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے بقیہ درس نظامی کی مکمل تعلیم صدر الافاضل ہی سے حاصل کی، 1324ھ، بمطابق 1906ء میں سند فضیلت حاصل کی۔ آپ اپنے اساتذہ کا بے حد ادب فرماتے تھے۔ یہ آپ کی خوش قسمتی تھی کہ آپ کی رسمِ دستاربندی امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوئی،اور اس وقت کی قابلِ فخر شخصیات نے شرکت فرمائی۔ استاد محترم کے ارشاد کے مطابق آپ نے انہی کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں تدریس شروع کی اور نصف صدی تک علم و عرفان کے جام لٹاتے رہے۔
بیعت وخلافت:
1325ھ،بمطابق 1907ء کو شیخ المشائخ حضرت سید علی حسین اشرفی رحمۃاللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور 1329ھ کو اجازت وخلافت سے مشرف ہوئے۔ بقول مفتی محمد اطہر نعیمی زید مجدہ آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سےبھی خلافت حاصل تھی۔(تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ:159)
سیرت وخصائص:
محسنِ ملت،فقیہِ امت،کامل مفسر ومحدث،تاج العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ۔ درمیانہ قد،کشادہ پیشانی،صاف رنگ،خوبصورت چہرہ،سراپا علم وفضل،پیکرِ زہدوتقویٰ،مجسمۂ اخلاق ومروت،عظیم محدث وفقیہ، مفسروادیب، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺپر ہمہ وقت عمل پیرارہنے والی شخصیت تھے۔ آپ علیہ الرحمہ ہر لحاظ سےیادگارِ اسلاف تھے۔
آپ حضرت صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے ہونہار اورقابلِ فخر تلامذہ میں سے تھے۔آپ قیام مراد آباد کے دوران 1919ء میں نہایت اہم ماہنامہ" السواد الاعظم" صدرالافاضل علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں جاری کیا۔یہ جریدہ ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک علوم اسلامیہ اور سنیت کا سرگرم نقیب رہا۔حالات حاضرہ اور ملکی سیاست پر زبر دست تنقید و تبصرہ کے علاوہ دینی نقطۂ نظر سے راہنمائی کے فرائض بھی انجام دیتا رہا۔مفتی صاحب نے "آل انڈیا سنی کانفرنس" کے نائب ناظم کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں 1946ء میں بنارس کے تاریخی اجلاس میں تحریک پاکستان کی پر زور تائید فرمائی۔
کنزالایمان کی طباعتِ اول:
مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی نمایاں دینی وعلمی خدمات میں امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا ترجمۂ قرآن بنام"کنزالایمان" کی پہلی اشاعت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا۔اس کے بعد تفسیری حاشیہ "خزائن العرفان" کی املاء اور کتابت،پروف ریڈنگ، پیسٹنگ،جلدسازی اور اشاعت کے سلسلے میں اہلِ خیر حضرات سے رابطہ کرنا ،اور مجلہ "السوادالاعظم"کے لئے مضامین کی فراہمی اور اس کی اشاعت ،"آل انڈیا سنی کانفرنس"کے ذریعےمسلمانانِ ہند کی بیداری ،اور تحریکِ پاکستان کے مخالفین کو منہ توڑجواب دینا ۔یہ سب آپ نے صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کے ہمراہ انجام دیے۔(ایضاً:173)
تقسیم ملک کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ ہندوستان میں عافیت سے رہنا مشکل ہے (کیونکہ تحریکِ پاکستان میں بھرپور کوشش کی وجہ سے مرادآباد اور قرب وجوار کے ہندو آپ کے سخت مخالف ہوگئے تھے)تو ہجرت کر کے بغداد شریف جانے کے ارادے سےکراچی تشریف لائے اور مبلغ اسلام مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ کے اصرار پر کراچی ہی میں قیام پذیر ہو گئے"دار العلوم مخزن علوم عربیہ "جاری کیا اور جامع مسجد آرام باغ میں اعزازی طور پر خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
جب 1953ء میں "تحریک ختم نبوت" چلی تو ملک کے طول وعرض سے علماء و عوام اہل سنت سر بکف میدان عمل میں داخل ہوگئے، کراچی میں مفتی صاحب نے ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر بے مثال جدو جہد کی اور بالآ خر آپ کو جیل میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں، جو ہمیشہ اہل اللہ کا مقدر رہی ہیں۔بس جرم یہی تھا۔۔۔۔
؏:خون نہ کردہ ام کسے رانہ کشتہ ام
جرم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ ام
وصال:
23 ذیقعدہ 1385ھ، بمطابق مارچ 1966ء کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف مسجد دار الصلوٰۃ ناظم آباد کراچی میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تذکرہ اولیاءِ سندھ۔روشن دریچے۔تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-ul-ulama-hazrat-allama-mufti-muhammad-umar-naeemi
scholars.pk
Taj ul Ulama Hazrat Allama Mufti Muhammad Umer Naeemi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
پروفیسر ڈاکٹر سید محمد امین میاں برکاتی قادری مارہروی المعروف: حضور امین ملت، سید امین میاں مدظلہ العالی صاحبِ سجادہ، خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ ـ
ولادت با سعادت:
حضرت امین ملت دام ظلہ کی ولادت 23؍ ذوالقعدۃ 1371ھ بمطابق 15؍ اگست 1952ء کو قصبہ کاسگنج کے ’’ مشن‘‘ اسپتال میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی پی۔ ایچ۔ڈی، میر تقی میر پر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
حضور تاج العلماء نے بچپن ہی میں آپ کو بیعت و خلافت سے نواز دیا تھا۔ والد ماجد حضور احسن العلماء نے 1956ء میں اپنی سجادہ نشینی کے روز اجازت و خلافت سے سرفراز کیانیز عرس رضوی کے موقع پر حضور مفتی اعظم ہند نے ایک دن میں تین بار خلافت عطا کی۔
زوجہ محترمہ:
آپ کی زوجہ کا نام سیدہ آمنہ خاتون نقوی بنت جناب سید عابد علی مرحوم۔
اولاد و امجاد:
دو صاحبزادے: مولانا سید محمد امان قادری مصباحی، سید محمد عثمان قادری ـ اور ایک صاحبزادی سیدہ ایمن ۔
تصانیف:
(۱) سید شاہ برکت اللہ حیات اور علمی کارنامے (۲) ترجمہ اردو سراج العوارف (۳) ترجمہ اردو آداب السالکین (۴) ترجمہ رسالہ چہار انواع (۵) میر تقی میر (۶) ادب، ادیب اور اصناف (۷) قائم چاند پوری حالات اور علمی کارنامے (۸) شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن مجید کی جدید انداز میں ترتیب ۔
تدریسی مصروفیات:
اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں سینئر پروفیسر ہیں ۔
لقب:
حضور امین ملت کے لقب سے مشہور ہیں۔
اہم خدمات:
(۱) ۲۰۰۴ میں جامعہ البرکات کا قیام (۲) ۱۹۹۹ء میں مجلس برکات کا قیام (۳)جامعہ اشرفیہ میں ۲۰۰۴ میں مجلس شرعی کا احیا (۴) ۲۰۱۲ء میں مارہرہ شریف میں جامعہ احسن البرکات کا قیام۔
بین الاقوامی اعزاز:
حضرت امین ملت کو امریکہ اور جارڈن اسلامک اسٹڈیز سینٹر کے باہمی اشتراک سے ہوئے سروے میں پوری دنیا کے ۵۰۰ مشاہیر مسلمانوں میں ۴۴ واں مقام دیا گیا اور آپ پچھلے کئی سالوں سے عالمی مشاہیر کی اس فہرست میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔
خلفاء:
(۱)سید شاہ نجیب حیدر نوری (۲) سید محمد امان قادری (۳) سید محمد عثمان قادری (۴) سید حسن حیدر نوری (۵) سید شاہ گلزار اسماعیلی، واسطی، مسولوی(۶) امام علم و فن خواجہ مظفر حسین رحمۃ اللہ علیہ (۷) بحر العلوم مفتی عبد المنان رحمۃ اللہ علیہ (۸) مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب، جامعہ اشرفیہ (۹) مولانا محمد احمد مصباحی صاحب، جامعہ اشرفیہ(۱۰) مفتی سید عارف علی صاحب (۱۱) مولانا شہاب الدین صاحب، لکھیم پور کھیری (۱۲) مولانا محمد عبد المبین نعمانی صاحب (۱۳) مفتی عبد الحلیم نوری، چھپرہ (۱۴) مفتی حبیب یار خاں، اندور (۱۵) مولانا عسجد رضا خاں (۱۶) قاری اسحاق محمد، انجینئر، جودھ پور (۱۷) مفتی ولی محمد ناگوری (۱۸) حاجی محمد عارف پردیسی (۱۹) سید نور اللہ شاہ بخاری ، سہلاو شریف، راجستھان (۲۰) علامہ عبد الستار ہمدانی، پوربندر (۲۱) سید عبد الجلیل صاحب، بمبئی (۲۲) مفتی محمد محمود اختر ، ممبئی (۲۳) مولوی محمد حنیف صاحب ، ناگور (۲۴) بابا عبد النبی صدیقی، ممبئی وغیرہم ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/ameen-e-millat-professor-dr-syed-ameen-miyan-barkati
ولادت با سعادت:
حضرت امین ملت دام ظلہ کی ولادت 23؍ ذوالقعدۃ 1371ھ بمطابق 15؍ اگست 1952ء کو قصبہ کاسگنج کے ’’ مشن‘‘ اسپتال میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی پی۔ ایچ۔ڈی، میر تقی میر پر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
حضور تاج العلماء نے بچپن ہی میں آپ کو بیعت و خلافت سے نواز دیا تھا۔ والد ماجد حضور احسن العلماء نے 1956ء میں اپنی سجادہ نشینی کے روز اجازت و خلافت سے سرفراز کیانیز عرس رضوی کے موقع پر حضور مفتی اعظم ہند نے ایک دن میں تین بار خلافت عطا کی۔
زوجہ محترمہ:
آپ کی زوجہ کا نام سیدہ آمنہ خاتون نقوی بنت جناب سید عابد علی مرحوم۔
اولاد و امجاد:
دو صاحبزادے: مولانا سید محمد امان قادری مصباحی، سید محمد عثمان قادری ـ اور ایک صاحبزادی سیدہ ایمن ۔
تصانیف:
(۱) سید شاہ برکت اللہ حیات اور علمی کارنامے (۲) ترجمہ اردو سراج العوارف (۳) ترجمہ اردو آداب السالکین (۴) ترجمہ رسالہ چہار انواع (۵) میر تقی میر (۶) ادب، ادیب اور اصناف (۷) قائم چاند پوری حالات اور علمی کارنامے (۸) شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن مجید کی جدید انداز میں ترتیب ۔
تدریسی مصروفیات:
اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں سینئر پروفیسر ہیں ۔
لقب:
حضور امین ملت کے لقب سے مشہور ہیں۔
اہم خدمات:
(۱) ۲۰۰۴ میں جامعہ البرکات کا قیام (۲) ۱۹۹۹ء میں مجلس برکات کا قیام (۳)جامعہ اشرفیہ میں ۲۰۰۴ میں مجلس شرعی کا احیا (۴) ۲۰۱۲ء میں مارہرہ شریف میں جامعہ احسن البرکات کا قیام۔
بین الاقوامی اعزاز:
حضرت امین ملت کو امریکہ اور جارڈن اسلامک اسٹڈیز سینٹر کے باہمی اشتراک سے ہوئے سروے میں پوری دنیا کے ۵۰۰ مشاہیر مسلمانوں میں ۴۴ واں مقام دیا گیا اور آپ پچھلے کئی سالوں سے عالمی مشاہیر کی اس فہرست میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔
خلفاء:
(۱)سید شاہ نجیب حیدر نوری (۲) سید محمد امان قادری (۳) سید محمد عثمان قادری (۴) سید حسن حیدر نوری (۵) سید شاہ گلزار اسماعیلی، واسطی، مسولوی(۶) امام علم و فن خواجہ مظفر حسین رحمۃ اللہ علیہ (۷) بحر العلوم مفتی عبد المنان رحمۃ اللہ علیہ (۸) مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب، جامعہ اشرفیہ (۹) مولانا محمد احمد مصباحی صاحب، جامعہ اشرفیہ(۱۰) مفتی سید عارف علی صاحب (۱۱) مولانا شہاب الدین صاحب، لکھیم پور کھیری (۱۲) مولانا محمد عبد المبین نعمانی صاحب (۱۳) مفتی عبد الحلیم نوری، چھپرہ (۱۴) مفتی حبیب یار خاں، اندور (۱۵) مولانا عسجد رضا خاں (۱۶) قاری اسحاق محمد، انجینئر، جودھ پور (۱۷) مفتی ولی محمد ناگوری (۱۸) حاجی محمد عارف پردیسی (۱۹) سید نور اللہ شاہ بخاری ، سہلاو شریف، راجستھان (۲۰) علامہ عبد الستار ہمدانی، پوربندر (۲۱) سید عبد الجلیل صاحب، بمبئی (۲۲) مفتی محمد محمود اختر ، ممبئی (۲۳) مولوی محمد حنیف صاحب ، ناگور (۲۴) بابا عبد النبی صدیقی، ممبئی وغیرہم ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/ameen-e-millat-professor-dr-syed-ameen-miyan-barkati
scholars.pk
Ameen e Millat Professor Dr. Syed Ameen Miyan Barkati
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-11-1444 ᴴ | 12-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-11-1444 ᴴ | 13-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1