🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-11-1444 ᴴ | 11-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-11-1444 ᴴ | 11-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید عبد الرزاق شاہ چراغ رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
سید عبد الرزاق بن عبد الوہاب بن سید عبد القادر ثالث بن سید محمد غوث بالا پیربن زین العابدین ابن سید عبد القادر ثانی بن سید محمد غوث اوچی گیلانی رحمہم اللہ۔

سیرت و خصائص:
آپ اعظم اولیائے قادریہ سے اور علومِ ظاہری وباطنی میں جامع تھے۔ آپ اپنے والد کے مرید تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے دادا نے فرمایا کہ ہمارے گھر چراغ پیدا ہوا ہے ، اُسی روز سے آپ شاہ چراغ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ بہت بڑے سیاح تھے۔مشائخ حرمین سے بہت ہم صحبت رہ کراستفادہ اٹھایا۔حضرت شاہ جہان آپ کے بہت معتقد تھے۔

وصال:
آپ کی وفات 22 ذیقعدہ 1068 ھ بمطابق 20 اگست 1658 ء میں ہوئی ۔ آپ کا مزار آپ کے والد کے مزار سے متصل لاہور میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علمائے برِ صغیر پاک و ہند

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-razzaq-al-maroof
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت علامہ مولانا مخدوم یار محمد صدیقی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت علامہ مخدوم یار محمد صدیقی ۔ لقب: خانوادۂ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " مخدوم صدیقی " کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مخدوم یار محمد صدیقی بن مخدوم محمد قاسم صدیقی نقشبندی بن شیخ مخدوم محمد کبیر صدیقی ۔ نو شہرو فیروز سے تقریباً 30 میل دور جانب سکھر قومی شاہراہ پر گوٹھ " کوٹری کبیر " واقع ہے ۔

یہ گوٹھ مشہور زمانہ بزرگ حضرت مخدوم شیخ محمد کبیر علیہ الرحمۃ کے نام سے موسوم ہے ۔ ان کے جد امجد حضرت اسحاق بن قیس اسدی صدیقی فاتح سندھ مجاہد اسلام غازی محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کے ساتھ سندھ میں آئے تھے ۔

حضرت محمد بن قاسم نے اسے فتح کرکے " اروڑ " کا رخ کیا اور اس علاقے کی فتح کے بعد اسحاق بن قیس اسدی صدیقی کو اس علاقہ کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا ۔ اسحاق بن قیس کو خلیفہ خالد ولید بن عبدالملک کی طرف سے " نواب " کا لقب عطا کیا گیا مگر ان کے لائق فرزند حضرت ہارون بن اسحاق نے جاگیر اور نوابی کو مسترد کرکے فقیری اختیار کی ۔ حضرت ہارون بن اسحاق بن قیس کا مزار شریف " سوا لاکھ " قبرستان میں ہے ۔ لوح کی تختی پر سن وفات 171ھ درج ہے ۔ ان کی آٹھویں پشت میں مخدوم محمد کبیر پیدا ہوئے ۔ علامہ محمد کبیر بلند پایہ عالم و عارف باللہ تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ اس عظیم علمی و روحانی خانوادہ میں 19 ذوالقعدہ 1149ھ،بمطابق مارچ 1737ء کو " کوٹری کبیر " میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ کے جد امجد مخدوم علامہ محمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے " کوٹری کبیر " میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا جہاں دسویں صدی ہجری کی ابتدا سے تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا۔اسی مدرسے میں مخدوم یار محمد نے اپنے والد ماجد سے تمام علوم ظاہری و باطنی حاصل کرکے 1167ھ کو فارغ التحصیل ہوئے۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد ماجد حضرت مخدوم محمد قاسم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔

سیرت و خصائص:
مخدوم یار محمد بعد فراغت مادر علمی درسگاہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کے دور میں مدرسہ عروج پر پہنچا۔ ملک و بیرون ملک سے بے شمار تشنگان ِعلم آپ کے حضور زانوئے تلمذ طے کرتے اور فیضیاب ہو کر جاتے۔ مخدوم یار محمد جلیل القد رعالم دین، قابل فخر مدرس، بے مثال مفتی، شاعر اور کامل اکمل ولی اللہ تھے۔ آپ 51 برس مسند تدریس پر رونق افروز ہوئے۔ امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد پیر صاحب روضے دھنی درگاہ راشدیہ ۔ اس ادرے کےفاضل اور آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔آپ دن رات درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ طلباء کی آسانی کیلئے درسی کتب کے کئی نسخے اپنے قلم سے تیار کئے تھے اور مشکل مقامات پر حواشی بھی رقم فرمائی تھی۔ شرعی فتاویٰ بھی جاری فرماتے تھے۔ لیکن تمام تحریرات اب محفوظ نہیں البتہ آپ کے موجودہ سجادہ نشین میاں غوث محمد گوہر کے پاس ایک قلمی بیاض ہے جس میں بعض تحریرات کا نمونہ عربی و فارسی اور شاعری کی صورت میں دستیاب ہے۔ مخدوم صاحب نبی کریم ﷺ کے سچے عاشق تھے۔حضور پور نور ﷺ کی محبت و سوز میں عربی و فارسی میں شعر کہتے تھے۔ تبرکاً ایک فارسی قطعہ درج کیا جاتا ہے، جس میں نعت اور خلفائے راشدین اور حسنین کریمین اور سیدہ خاتون جنت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مناقب بیان کئے گئے ہیں:

بحق سروری زو شرف لولاک
بقدرت قادر صانع فلک و فاک
بخدمت راشدین خلفاء و حسنین

کہ آمد علتی تکوینی افلاک
نضادرۃ بخش زاغ و باغ غمناک
ببرکۃ فاطمہ زہراء تن پاک

وصال:
حضرت مخدوم یار محمد صدیقی نے کوٹری کبیر میں 22 ذوالقعدہ 1219ھ، بمطابق ماہ فروری 1805ء بروز اتوار 70 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کا روضہ اقدس "کوٹری کبیر" (تحصیل محراب پور ،ضلع نوشہرو فیروز، صوبہ سندھ، پاکستان) میں مرجع خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-makhdoom-yaar-muhammad-siddiqui
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قدوۃ العارفین حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی: مولانا غلام محی الدین قصوری۔ لقب:امام الفضلاء ،مرجع العرفاء،دائم الحضوری،قصور کی نسبت سے "قصوری" کہلاتے ہیں۔ سلسلہ نسب اسطرح ہے: حضرت مولانا خواجہ غلام محی الدین قصوری بن حضرت مولانا غلام مصطفی ٰبن حضرت مولانا غلام مرتضیٰ (رحمہم اللہ تعالیٰ)۔ آپ کے والد ماجد اور جد امجد اپنے وقت کےبلند پایہ ولی اور متبحر عالمِ دین تھے۔ پنجابی زبان کے مشہورشاعر پیر وارث شاہ اور حضرت بابا پیربلھے شاہ قدس سرہما آپ کے جد امجدمولانا غلام مرتضیٰ علیہ الرحمہ ہی کے شاگرد اور فیض یافتہ تھے۔آپ کا شجرۂ نسب خلیفۂ اول یارِ غارومزار حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کے اجداد عرب سے ہجرت کر کے پہلے سندھ تشریف لائے ، پھر سند ھ سے آکر قصور کو اپنا مسکن بنالیا۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت/ 1202ھ،بمطابق 1778ء کو "قصور" (پنجاب،پاکستان) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: ابھی حضرت خواجہ قصوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی عمر بمشکل ایک سال تھی کہ والد ماجد کا ظاہری سایہ سر سے اٹھ گیا اور آپ کی تربیت کا ذمہ آپ کے عم بزرگو ار حضرت خواجہ شیخ محمد علیہ الرحمہ نے اٹھایا ۔ تمام علوم متداولہ معقول و منقول کی تحصیل وتکمیل عم بزرگو ار سے ہوئی، اور انہی سے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہو کر خلافت حاصل کی ۔ عم محترم کے علاوہ دیگر اساتذہ سے بھی اکتساب فیض کیا جن میں سے مولانا با ب اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا اسم گرامی ملتا ہے۔ آپ نے علمِ حدیث خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ سے پڑھا اور علم حدیث پڑھانے کی باقاعدہ سند حاصل کی ۔

بیعت وخلافت: ابتداء میں اپنے عمِ محترم حضرت خواجہ شیخ محمد قادری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے اور انہی سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں خلافت حاصل کی،عم مکرم کے وصال کے بعد قطب الاقطاب حضرت خواجہ شاہ غلام علی دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور گیارہ ماہ شیخ کی خدمت میں رہنے کے بعد سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ ،قادریہ، چشتیہ ،اور سہر وردیہ میں ماذون و مجاز ہوئے ، حضرت شاہ صاحب نے بیعت کے بعد آپ کا ہاتھ ہوا میں لہرادیااور فرمایا:"تمہارا ہاتھ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دیا ،وہ تمہارے ہر کام دینی و نیوی میں ممدو معاون ہوں گے"حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ آپ پر نہایت مہربان تھے، گاہے بگاہے ان کی عنایات کا ظہور ہوتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ خان نجیب الدین خاں قصوری حاضر تھےحضرت شاہ صاحب نے بہ طور انبساط فرمایا:"مولانا غلام محی الدین کو کس جگہ کا پیر بنایا جائے؟" خاں صاحب نے کہا :" انہیں قصور کا پیر بنادیجئے"اس پر حضرت شاہ صاحب جوش میں آگئے اور فرمایا:"تم بہت کم ہمت ہو، ہم انہیں سارے پنجاب کا پیر بنائیں گے "۔(انوار محی الدین:50)

سیرت وخصائص: شیخ المشائخ ، امام الفضلاء، مرجع العرفاء،عارف باللہ،ولیِ کامل،مجمع البحرین،شیخِ طریقت ،امامِ شریعت حضرت علامہ مولانا خواجہ غلام محی الدین قصوری دائم الحضور ی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ جامع الکمالات شخصیت کے مالک تھے۔تحصیلِ علوم وخلافت و فراغت کے بعد آپ نے اپنے آبائی مسکن قصور کو رشد و ہدایت کا مرکز بنایا اور اپنے شیخ کے حکم سے دور و دراز کا سفر کیا اور درس توحید معرفت کو عام کیا، ہزاروں افراد آپ کی تربیت اور راہنمائی سے راہ راست پر آئے ۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب پر سکھوں کے تسلط نے ہر شخص کو ہراساں کر رکھا تھا ۔ آپ اخلاق کریمہ ، اخلاق ِنبویﷺ کا بہترین نمونہ تھے۔ لباس، خوراک ، گفتگو ، نشست و برخاست ،غرض ہر کام میں سنت مطہرہ کے اتباع کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔بزرگان دین خاص طور پر حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کمال عقیدت و محبت رکھتے تھے۔آپ ہمیشہ ملاقات کرنے والوں کو اتباع شریعت کی تلقین ، علماء سوء اور انگریز سے دور رہنے کا درس دیا کرتے تھے، چنانچہ نواب شیر محمد خاں ٹوانہ کو فرمایا:علماء سوء کے وعظ میں شرکت نہ کرنا ، شریعت کے احکام کی پابندی کرنا ، فرنگی حکام سے نفرت رکھنا ۔

آخری عمر میں آپ فرقہ ضالہ وہابیہ ودیابنہ کی بہت مذمت کرتے تھے،اپنے مریدین ومتوسلین کو ان کے کیدومکر سے آگاہ کرتے تھے،اور ان کی مجلس سے منع فرماتے تھے۔ ان کے رد میں ایک رسالہ بنام"رسالہ دررد فرقہ ضالہ وہابیہ"تحریر فرمایا۔ اپنے خلیفہ حضرت للہی کو ایک مکتوب میں نصیحت فرماتے ہیں: " کہ ذکرواذکار کےساتھ تدریس کا شغل جاری رکھیےکہ دونوں ضروری ہیں"۔ایک اورمقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ شریعت اصل ہے باقی طریقت اور حقیقت وغیرہ فرع ہیں جو شریعت پر عمل پیرانہ ہو وہ پیرنہیں بلکہ "زندیق"ہے۔حضرت غوث الاعظم نے فرمایا:"کل حقیقۃ ردتھا الشریعۃ فھی زندقۃ"یعنی ہروہ حقیقت جسے شریعت رد کردے وہ گمراہی ہے۔آپ تبلیغ کے علاوہ تدریس پر بھی کافی توجہ صرف فرماتے تھے ، تشنگان علوم ، ظاہری اور
1
باطنی علوم کے فیض سے سر شار ہوتے تھے۔آپ تمام متدا ولہ علوم میں مہارت کا ملہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شعر و سخن کا بہترین ذوق بھی رکھتے تھے۔آپ عربی ، فارسی اردو اور پنجابی میں بے تکلف اظہا رخیال فرماتے تھے۔ آپ کے کلامیں روانی ، قوت بیان،کیف سرور اور استاد انہ پر کاری کے جوہر بدرجۂ اتم موجود ہیں۔آپ فرماتے ہیں:

؏طریقم قادری عرفم قریشی حنفی مشربم مولد قصوری

غلام غوث اعظم محی الدینم طفیلش یافتم ہردم حضوری

وصال: 22/ذوالقعدہ 1270ھ،بمطابق اگست 1757ء کو وصال ہوا،آپ کامزار شریف قصور کے قبرستان میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khuwaja-ghulam-muhiyuddin-qusoori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
صوفی مشتاق احمد چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ
نام : آپ کا نام صوفی مشتاق احمد چشتی صابری سراجی جالندھری لاہوری اور آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ سراجیہ میں حضرت مولانا خواجہ شاہ محمدسراج الحق گوردارسپوری چشتی صابری علیہ الرحمہ کے مرید تھے۔

آپ کی قوم و مقامِ ولادت: آپ قوم سے قصاب اور بستی شیخ درویش جالندھر، مشرقی پنجاب، انڈیا میں پیدا ہوئے۔

سیرت و خصائص: جامع الحسنات و الکمالات، منبعِ فیوض وبرکات، صاحبِ اسرارِ علمِ لدنی حضرت صوفی مشتاق احمد چشتی صابری علیہ الرحمہ مست و مستغرق وبحر توحیدومعرفت ہیں۔آپ کے بارے میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ ہندوپاک کا شاید کوئی دربار ہو جہاں آپ نے اعتکاف نہ کیا ہو۔آپ بڑے وجیہہ، دراز قد، بھاری بھرکم جسم کے مالک اورعشق و مستی کا بحربیکنار تھے۔ اکثر طبیعت پرجذب غالب رہتاتھا۔آپ کے مریدین کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز کرگئی تھی۔ایک مرتبہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمہ کے مزارِپرانوار کی حاضری کے وقت آپ نے فرمایا کہ چشتی اور قادری سلسلہ میں سوا لاکھ مرید کرنے کی اجازت ہے،فقیر نے ایک لاکھ مرید کرلیے ہیں،پچیس ہزار کی کمی ہے،ان شاء اللہ وہ بھی پوری ہوجائےگی۔1960ء میں جامع مسجد وزیر خان میں انجمن حزب الاحناف کے زیرِ اہتمام آپ نے سالانہ جلسے کی صدارت کی۔آپ سے کئی علماء بہت متاثر تھے۔

محفلِ میلاد: آپ کو نعت سننے کا بڑا شوق تھا۔عموماً نعت سننے پرچشم پُر نم ہوجاتے۔کیونکہ آپ کے دل میں عشقِ مصطفےٰ کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا۔ اس لئے رسولِ اکرم ﷺ کے نام پر آپ بے خود ہوجاتے۔آپ کو رسولِ اکرم ﷺ کی ذات سے والہانہ عقیدت تھی یہی وجہ ہے کہ آپ ہر مہینےاپنے مکان پر پانچ مرتبہ محفلِ میلاد کا اہتمام کرواتے۔ آپ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا کلام بڑے شوق سے سنا کرتے تھےاور خاص کر جناب حیات وارثیؔ مرحوم کا یہ شعر بہت پسند تھا۔

حبِّ احمد ازل ہی سے سینے میں ہے

میں یہاں ہو میرا دل مدینے میں ہے

تصحیح: تذکرہ اولیائے لاہور،مؤلفہ عالم فقری مرحوم،مطبوعہ شبیر برادرز لاہور،صفحہ نمبر496پر مذکورہ شعر کی نسبت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی طرف تسامحاً کی گئی ہے۔یہ شعر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا نہیں ہے، بلکہ جناب حیات وارثیؔ مرحوم کا ہے۔(فقیر تونسوی ؔ غفرلہ)

وصالِ باکمال: آپ کا وصالِ باکمال 22 ذیقعدہ1384 ھ/بمطابق 26 مارچ 1965 ء کو ہوا۔

مزار پرانوار: آپ کامزارِپرانوار رائل پارک، میلا رام مل بازار، داتا گنج بخش روڈ،نزد پرانی برف خانہ، لاہور میں مرجعِ خلائق ہے۔ جہاں اہلِ عقیدت ومحبت حاضری دےکراپنے قلوب و اذہان کو منور کرتے ہیں۔

ماخذ مراجع: انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام۔تذکرۂ اولیائے لاہور

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufi-muhammad-mushtaq-chishti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا حافظ شاہ محمد مسعود احمد چشتی صابری دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد مسعود احمد ۔ لقب: چشتی صابری ۔ دہلی کی نسبت سے "دہلوی" کہلاتے ہیں ۔ والد کااسمِ گرامی: شاہ محمد کرامت اللہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ قبلہ شاہ صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔

تارریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1325ھ، بمطابق 1907ء کو شاہ محمد کرامت اللہ علیہ الرحمہ کے گھر دہلی(انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
حضرت مولانا حافظ محمدمسعود احمد صاحب چشتی صابری علیہ الرحمۃکے اساتذہ کرام میں مندرجہ ذیل نامی گرامی اکابر ہیں۔ جن سے آپ نے حفظ اور علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی۔ حافظ و قاری عبد الرحیم دہلوی علیہ الرحمۃ، حضرت صدر الفاضل مناظر اسلام مولانا سید محمد نعیم الدین صاحب مراد آبادی علیہ الرحمۃ، شیخ التفسیر والحدیث حضرت علامہ مولانا سید ابو البرکات صاحب قادری رضوی علیہ الرحمۃ، تاج العلماء حضرت علامہ مفتی محمد عمر صاحب نعیمی اشرفی علیہ الرحمۃ ابتداء میں کچھ اپنے والد ماجد فاضل جلیل حضرت مولانا حافظ قاری الشاہ محمد کرامت اللہ خان صاحب چشتی صابری علیہ الرحمۃ سے بھی علمی و عملی اور روحانی فیوض و برکات حاصل کیے ہیں۔ لاہورکے زمانہ تعلیم میں حضرت مولانا محمد مسعود احمد صاحب چشتی علیہ الرحمۃ کے مشہور و معروف ساتھیوں میں واعظ شیریں بیاں خطیب ذیشان مناظر اسلام حضرت مولانا ابو النور محمد بشیر صاحب سیالکوٹی علیہ الرحمۃ بھی ہیں۔

بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی پیرِ طریقت رہبرِ شریعت حضرت مولانا شاہ محمد کرامت اللہ چشتی صابری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے اور بعد میں سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں مجاز ہوئے۔

سیرت و خصائص:
حافظ القرآن، خطیبِ اسلام، مقرر شیریں بیان، مخزنِ شریعت، معدنِ طریقت و حقیقت حضرت علامہ مولانا حافظ محمد مسعود احمد چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے ۔ آپ حسین و جمیل اور شکیل ہونے کے ساتھ ذہانت و فطانت کا پیکر بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ظاہری حسن و جمال کے ساتھ حسنِ اخلاق کی دولت سے بھی نوازا تھا۔ آپ کے تین بھائی اور تین بہنیں تھیں، آپ سب سے چھوٹے تھے، لہذا والدین اور بہن بھائیوں کے لاڈلے بھی ہوئے۔حضرت مولانا محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمۃ جامعہ نعیمیہ مراد آباد سے سند فراغ حاصل کرنے کے بعد واپس دہلی تشریف لے آئے اور اپنے والد ماجد کے وصال کے بعد امامت و خطابت، تحریر و تقریر کی صورت میں دینی خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں۔ نہ صرف وعظ و تقریر کے لیے آپ نے کلکتہ بمبئی کے علاوہ دیگر شہروں کے دورے شروع کیے بلکہ" الرسالت "کے نام سے ایک ماہنامے کا آغاز بھی کیا۔ جس میں بدمذہبوں کے اعتراضات کے جوابات او رعوامِ اہلسنت کے عقائد کی حفاظت ان کا مقصدِ عظیم تھا۔نیز یہ کہ نذر و نیاز، ایصالِ ثواب، عقائد اور معمولات اہلسنّت پر مخالفین سے مناظرے بھی کیے۔ اللہ کے فضل و کرم اور حضور اکرمﷺ کے صدقے سے کامیاب رہے۔ پاک و ہند کی تقسیم کے بعد کچھ عرصہ آپ نے لاہور میں قیام فرمایا۔ پھر کراچی تشریف لائے،کیونکہ اکثر عزیز و اقارب اور مریدین و متوسلین کراچی میں تھے، اس لیے مستقل قیام کراچی میں فرمایا۔ اس کے بعد کراچی کے مشہور و معروف علاقہ" رنچھوڑ لائن "میں صابری مسجد کی بنیاد رکھی گئی اور اس میں امامت و خطابت، وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ حضرت موصوف کو شروع میں بعض حضرات کی مخالفت و مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعدہٗ مولائے کریم کے کرم اور رسول اللہﷺ کی نظر کرم سے مخالفین جھاگ کی طرح بیٹھ گئے ۔
1
کراچی میں حضرت کے محرم شریف کے وعظ کی بڑی شہرت تھی۔ پنجاب کے بڑے بڑے مشہور  و معروف علمائے کرام کے وعظ اپنی جگہ لیکن محرم شریف میں حضرت کی تقریر کا انداز ہی مختلف تھا، جو اپنے اندر سوز و گداز لیے ہوئے  ہوتا اور یہ محرم شریف کی محافل و مجالس دس روز نہیں بلکہ چالیس روز تک جاری رہتی تھیں، جس میں توحید و رسالت، شان اہل بیت اطہار و مقام صحابہ کبار کے علاوہ اولیائے ابرار  کے فضائل و مناقب بھی بیان  ہوتے تھے۔جناح اسٹریٹ میں ایک طرف الفاروق ہوٹل اور دوسری طرف گوشت مارکیٹ تک سرہی سر نظر آتے تھے۔ خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریکِ درس ہوتی تھی۔ آپ ساری زندگی خلوص کے ساتھ دینِ متین کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔اب آپ کے مشن کو آپ کے داماد وخلیفہ جمیل العلماء مفتی محمد جمیل احمد نعیمی چشتی صابری (اطال اللہ عمرہ ) احسن انداز میں نئی نسل تک منتقل فرمارہے ہیں،آپ یادگارِ اسلاف ہیں اللہ اتعالیٰ آپ کی عمر میں مزید برکت عطاء فرمائے،اور اہلسنت وجماعت پر آپ کا سایہ تادیر قائم فرمائے۔(آمین)

وصال:
حضرت مولانا حافظ محمد مسعود احمد صاحب چشتی صابری علیہ الرحمۃ ایک بھر پور زندگی گزارنے کے بعد اندازاً پچاسی (85) سال کی عمر میں  22 ذوالقعدہ 1402ھ، بمطابق 28 جولائی 1986ء کو وصال فرما گئے ۔ آپ کا مزار شریف 6 نمبر قبرستان نیو کراچی میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ) ۔ روشن دریچے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-muhammad-masood-ahmad-chishti-dehlvi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-11-1444 ᴴ | 11-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-11-1444 ᴴ | 12-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1