🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-11-1444 ᴴ | 11-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-11-1444 ᴴ | 11-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-11-1444 ᴴ | 11-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-11-1444 ᴴ | 11-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت سید عبد الرزاق شاہ چراغ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
سید عبد الرزاق بن عبد الوہاب بن سید عبد القادر ثالث بن سید محمد غوث بالا پیربن زین العابدین ابن سید عبد القادر ثانی بن سید محمد غوث اوچی گیلانی رحمہم اللہ۔
سیرت و خصائص:
آپ اعظم اولیائے قادریہ سے اور علومِ ظاہری وباطنی میں جامع تھے۔ آپ اپنے والد کے مرید تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے دادا نے فرمایا کہ ہمارے گھر چراغ پیدا ہوا ہے ، اُسی روز سے آپ شاہ چراغ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ بہت بڑے سیاح تھے۔مشائخ حرمین سے بہت ہم صحبت رہ کراستفادہ اٹھایا۔حضرت شاہ جہان آپ کے بہت معتقد تھے۔
وصال:
آپ کی وفات 22 ذیقعدہ 1068 ھ بمطابق 20 اگست 1658 ء میں ہوئی ۔ آپ کا مزار آپ کے والد کے مزار سے متصل لاہور میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علمائے برِ صغیر پاک و ہند
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-razzaq-al-maroof
نام و نسب:
سید عبد الرزاق بن عبد الوہاب بن سید عبد القادر ثالث بن سید محمد غوث بالا پیربن زین العابدین ابن سید عبد القادر ثانی بن سید محمد غوث اوچی گیلانی رحمہم اللہ۔
سیرت و خصائص:
آپ اعظم اولیائے قادریہ سے اور علومِ ظاہری وباطنی میں جامع تھے۔ آپ اپنے والد کے مرید تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے دادا نے فرمایا کہ ہمارے گھر چراغ پیدا ہوا ہے ، اُسی روز سے آپ شاہ چراغ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ بہت بڑے سیاح تھے۔مشائخ حرمین سے بہت ہم صحبت رہ کراستفادہ اٹھایا۔حضرت شاہ جہان آپ کے بہت معتقد تھے۔
وصال:
آپ کی وفات 22 ذیقعدہ 1068 ھ بمطابق 20 اگست 1658 ء میں ہوئی ۔ آپ کا مزار آپ کے والد کے مزار سے متصل لاہور میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علمائے برِ صغیر پاک و ہند
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-razzaq-al-maroof
scholars.pk
Hazrat Syed Abdul Razzaq Al-Maroof
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ مولانا مخدوم یار محمد صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت علامہ مخدوم یار محمد صدیقی ۔ لقب: خانوادۂ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " مخدوم صدیقی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مخدوم یار محمد صدیقی بن مخدوم محمد قاسم صدیقی نقشبندی بن شیخ مخدوم محمد کبیر صدیقی ۔ نو شہرو فیروز سے تقریباً 30 میل دور جانب سکھر قومی شاہراہ پر گوٹھ " کوٹری کبیر " واقع ہے ۔
یہ گوٹھ مشہور زمانہ بزرگ حضرت مخدوم شیخ محمد کبیر علیہ الرحمۃ کے نام سے موسوم ہے ۔ ان کے جد امجد حضرت اسحاق بن قیس اسدی صدیقی فاتح سندھ مجاہد اسلام غازی محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کے ساتھ سندھ میں آئے تھے ۔
حضرت محمد بن قاسم نے اسے فتح کرکے " اروڑ " کا رخ کیا اور اس علاقے کی فتح کے بعد اسحاق بن قیس اسدی صدیقی کو اس علاقہ کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا ۔ اسحاق بن قیس کو خلیفہ خالد ولید بن عبدالملک کی طرف سے " نواب " کا لقب عطا کیا گیا مگر ان کے لائق فرزند حضرت ہارون بن اسحاق نے جاگیر اور نوابی کو مسترد کرکے فقیری اختیار کی ۔ حضرت ہارون بن اسحاق بن قیس کا مزار شریف " سوا لاکھ " قبرستان میں ہے ۔ لوح کی تختی پر سن وفات 171ھ درج ہے ۔ ان کی آٹھویں پشت میں مخدوم محمد کبیر پیدا ہوئے ۔ علامہ محمد کبیر بلند پایہ عالم و عارف باللہ تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ اس عظیم علمی و روحانی خانوادہ میں 19 ذوالقعدہ 1149ھ،بمطابق مارچ 1737ء کو " کوٹری کبیر " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے جد امجد مخدوم علامہ محمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے " کوٹری کبیر " میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا جہاں دسویں صدی ہجری کی ابتدا سے تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا۔اسی مدرسے میں مخدوم یار محمد نے اپنے والد ماجد سے تمام علوم ظاہری و باطنی حاصل کرکے 1167ھ کو فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد ماجد حضرت مخدوم محمد قاسم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
مخدوم یار محمد بعد فراغت مادر علمی درسگاہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کے دور میں مدرسہ عروج پر پہنچا۔ ملک و بیرون ملک سے بے شمار تشنگان ِعلم آپ کے حضور زانوئے تلمذ طے کرتے اور فیضیاب ہو کر جاتے۔ مخدوم یار محمد جلیل القد رعالم دین، قابل فخر مدرس، بے مثال مفتی، شاعر اور کامل اکمل ولی اللہ تھے۔ آپ 51 برس مسند تدریس پر رونق افروز ہوئے۔ امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد پیر صاحب روضے دھنی درگاہ راشدیہ ۔ اس ادرے کےفاضل اور آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔آپ دن رات درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ طلباء کی آسانی کیلئے درسی کتب کے کئی نسخے اپنے قلم سے تیار کئے تھے اور مشکل مقامات پر حواشی بھی رقم فرمائی تھی۔ شرعی فتاویٰ بھی جاری فرماتے تھے۔ لیکن تمام تحریرات اب محفوظ نہیں البتہ آپ کے موجودہ سجادہ نشین میاں غوث محمد گوہر کے پاس ایک قلمی بیاض ہے جس میں بعض تحریرات کا نمونہ عربی و فارسی اور شاعری کی صورت میں دستیاب ہے۔ مخدوم صاحب نبی کریم ﷺ کے سچے عاشق تھے۔حضور پور نور ﷺ کی محبت و سوز میں عربی و فارسی میں شعر کہتے تھے۔ تبرکاً ایک فارسی قطعہ درج کیا جاتا ہے، جس میں نعت اور خلفائے راشدین اور حسنین کریمین اور سیدہ خاتون جنت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مناقب بیان کئے گئے ہیں:
بحق سروری زو شرف لولاک
بقدرت قادر صانع فلک و فاک
بخدمت راشدین خلفاء و حسنین
کہ آمد علتی تکوینی افلاک
نضادرۃ بخش زاغ و باغ غمناک
ببرکۃ فاطمہ زہراء تن پاک
وصال:
حضرت مخدوم یار محمد صدیقی نے کوٹری کبیر میں 22 ذوالقعدہ 1219ھ، بمطابق ماہ فروری 1805ء بروز اتوار 70 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کا روضہ اقدس "کوٹری کبیر" (تحصیل محراب پور ،ضلع نوشہرو فیروز، صوبہ سندھ، پاکستان) میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-makhdoom-yaar-muhammad-siddiqui
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت علامہ مخدوم یار محمد صدیقی ۔ لقب: خانوادۂ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " مخدوم صدیقی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مخدوم یار محمد صدیقی بن مخدوم محمد قاسم صدیقی نقشبندی بن شیخ مخدوم محمد کبیر صدیقی ۔ نو شہرو فیروز سے تقریباً 30 میل دور جانب سکھر قومی شاہراہ پر گوٹھ " کوٹری کبیر " واقع ہے ۔
یہ گوٹھ مشہور زمانہ بزرگ حضرت مخدوم شیخ محمد کبیر علیہ الرحمۃ کے نام سے موسوم ہے ۔ ان کے جد امجد حضرت اسحاق بن قیس اسدی صدیقی فاتح سندھ مجاہد اسلام غازی محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کے ساتھ سندھ میں آئے تھے ۔
حضرت محمد بن قاسم نے اسے فتح کرکے " اروڑ " کا رخ کیا اور اس علاقے کی فتح کے بعد اسحاق بن قیس اسدی صدیقی کو اس علاقہ کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا ۔ اسحاق بن قیس کو خلیفہ خالد ولید بن عبدالملک کی طرف سے " نواب " کا لقب عطا کیا گیا مگر ان کے لائق فرزند حضرت ہارون بن اسحاق نے جاگیر اور نوابی کو مسترد کرکے فقیری اختیار کی ۔ حضرت ہارون بن اسحاق بن قیس کا مزار شریف " سوا لاکھ " قبرستان میں ہے ۔ لوح کی تختی پر سن وفات 171ھ درج ہے ۔ ان کی آٹھویں پشت میں مخدوم محمد کبیر پیدا ہوئے ۔ علامہ محمد کبیر بلند پایہ عالم و عارف باللہ تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ اس عظیم علمی و روحانی خانوادہ میں 19 ذوالقعدہ 1149ھ،بمطابق مارچ 1737ء کو " کوٹری کبیر " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے جد امجد مخدوم علامہ محمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے " کوٹری کبیر " میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا جہاں دسویں صدی ہجری کی ابتدا سے تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا۔اسی مدرسے میں مخدوم یار محمد نے اپنے والد ماجد سے تمام علوم ظاہری و باطنی حاصل کرکے 1167ھ کو فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد ماجد حضرت مخدوم محمد قاسم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
مخدوم یار محمد بعد فراغت مادر علمی درسگاہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کے دور میں مدرسہ عروج پر پہنچا۔ ملک و بیرون ملک سے بے شمار تشنگان ِعلم آپ کے حضور زانوئے تلمذ طے کرتے اور فیضیاب ہو کر جاتے۔ مخدوم یار محمد جلیل القد رعالم دین، قابل فخر مدرس، بے مثال مفتی، شاعر اور کامل اکمل ولی اللہ تھے۔ آپ 51 برس مسند تدریس پر رونق افروز ہوئے۔ امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد پیر صاحب روضے دھنی درگاہ راشدیہ ۔ اس ادرے کےفاضل اور آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔آپ دن رات درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ طلباء کی آسانی کیلئے درسی کتب کے کئی نسخے اپنے قلم سے تیار کئے تھے اور مشکل مقامات پر حواشی بھی رقم فرمائی تھی۔ شرعی فتاویٰ بھی جاری فرماتے تھے۔ لیکن تمام تحریرات اب محفوظ نہیں البتہ آپ کے موجودہ سجادہ نشین میاں غوث محمد گوہر کے پاس ایک قلمی بیاض ہے جس میں بعض تحریرات کا نمونہ عربی و فارسی اور شاعری کی صورت میں دستیاب ہے۔ مخدوم صاحب نبی کریم ﷺ کے سچے عاشق تھے۔حضور پور نور ﷺ کی محبت و سوز میں عربی و فارسی میں شعر کہتے تھے۔ تبرکاً ایک فارسی قطعہ درج کیا جاتا ہے، جس میں نعت اور خلفائے راشدین اور حسنین کریمین اور سیدہ خاتون جنت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مناقب بیان کئے گئے ہیں:
بحق سروری زو شرف لولاک
بقدرت قادر صانع فلک و فاک
بخدمت راشدین خلفاء و حسنین
کہ آمد علتی تکوینی افلاک
نضادرۃ بخش زاغ و باغ غمناک
ببرکۃ فاطمہ زہراء تن پاک
وصال:
حضرت مخدوم یار محمد صدیقی نے کوٹری کبیر میں 22 ذوالقعدہ 1219ھ، بمطابق ماہ فروری 1805ء بروز اتوار 70 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کا روضہ اقدس "کوٹری کبیر" (تحصیل محراب پور ،ضلع نوشہرو فیروز، صوبہ سندھ، پاکستان) میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-makhdoom-yaar-muhammad-siddiqui
scholars.pk
Allama Makhdoom Yaar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celaebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1👍1