🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا حکیم سید سخاوت حسین سہسوانی انصاری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا حکیم سید سخاوت حسین انصاری ۔ تاریخی نام: فضل الرحمن ۔ آپ کا تعلق خاندانِ ساداتِ کرام سے ہے ۔ خاندان میں عظیم اولیاء اللہ گزرے ہیں ۔ حضرت خواجہ سید ابو یوسف مودود چشتی سلسلہ عالیہ چشتیہ کے ایک نامور شیخ تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:83)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1240ھ مطابق 1825ء کو سہسوان ضلع بدایوں (انڈیا) میں ہوئی ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:95)

تحصیلِ علم:
آپ تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کےجامع تھے۔بالخصوص اپنےعصرمیں فن صرف ونحو اور مناظرہ کےامام تھے۔جب کسی وہابی سےمناظرہ ہوتا توحسنِ تدبیرسےمسائل صرف ونحو میں لاکر زِیر فرمالیا کرتے تھے ۔ اسی طرح فن ِطبابت میں خاص ادراک حاصل تھا۔آدمی کاچہرہ دیکھ کرصحیح کیفیت منکشف ہوجاتی تھی۔ایک مرتبہ اپنے مطب میں تشریف فرماتھے کہ سامنےسے ایک شخص سر پر بوری رکھے ہوئے گزرا۔ حاضرین سے فرمایا: دیکھو مردہ جا رہا ہے ۔ تھوڑی دور جاکر وہ گرا اور فوت ہوگیا ۔ (مقدمہ بشیرالقاری :14)

بیعت وخلافت:
قدوۃ الاولیاء زبدۃ الاصفیاء شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید حافظ محمد علی شاہ خیر آبادی (مرید وخلیفہ غوث زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی) کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئےاورخلافت سےمشرف ہوئے۔

سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، قدوۃ العارفین، عارف اسرار قاب قوسین، استاذ العلماء، امام العرفاء، جامع شریعت و طریقت، حامیِ سنت،ماحیِ بدعت، قاطعِ وہابیت، حضرت علامہ مولانا حکیم سید سخاوت حسین سہسوانی انصاری ۔ آپ اپنےوقت کےعالم متبحر اور عارف ِ کامل تھے ۔ درس وتدریس اور وعظ ونصیحت سےخاص شغف تھا ۔ فنِ صرف ونحوکےتو گُویاامام تھے ۔ باقی تمام علوم پر کامل دسترس حاصل تھی۔مناظرے میں مدمقابل کو عربی عبارات کی صرفی ونحوی اصطلاحات میں ہی شکست دیدیتے۔یہی وجہ ہےکہ بڑے بڑے وہابی آپ کا سامنا کرنے سے گھبراتےتھے ۔

اعلیٰ حضرت مجدد اسلام مولانا امام احمد رضاخان فاضل بریلوی کی آپ سے عقیدت:

آپ کا تعلق ان علمائے شریعت سے تھا جن کی زیارت کو حدیث شریف میں عبادت قرار دیا گیا ہے ۔ اسی لئے مجدد اسلام امام احمد رضاخاں قادری کی مجلس مبارکہ میں جب آپ کا ذکرِ خیر ہوتا تو اعلیٰ حضرت آپ کا نام مبارک سن کر تعظیماً سینے پرہاتھ رکھ لیا کرتے تھے۔(مقدمہ بشیر القاری شرح صحیح البخاری:14)

تحریکِ آزادی میں کردار:
مجاہدینِ تحریکِ آزادی میں آپ کانام سرِ فہرست تھا۔ آپ ہرلحاظ سےمجاہدین کی معاونت کرتےتھے۔ اسی جرم کی پاداش میں 1857ء کے غدرمیں آپ کا نام بھی باغیوں کی فہرست میں درج کیاگیاتھا۔اسی بناء پر آپ کی جائیداد ظبط کی گئی۔گرفتارکرنےکےلیے جب انگریز فوج آئی توآپ مسجد خطیب واقع محلہ قاضی سہسوان میں تشریف فرماتھے۔آپ کو دیکھ کرفوج کا انگریز افسرکہنےلگایہ پادری (مذہبی آدمی) ہے۔بغیر گرفتار کیے چلے گئے ۔ آپ کے بھائی اور دیگر اعزا کو گرفتار کرکے شہید کر دیا گیا ۔ (ایضا:14)

فنا فی الشیخ:
آپ فنافی الشیخ کے مرتبے پر فائز تھے ۔اپنےپیر و مرشد سے عقیدت کی ایسی مثال کم ہی ملےگی ۔ آپ کو حضرت سید محمد علی شاہ خیر آبادی سے خلافت حاصل تھی، اور ان کے سجادہ نشین راہنمائے کاملین، سید العارفین حضرت سید محمد اسلم خیرآبادی صاحبِ سجادہ اور زینتِ مسند تھے ۔ لوگ آپ کے پاس مرید ہونے کے لئے حاضر ہوتےآپ ادباًمرید نہ فرماتے،بلکہ اُنہیں کی جانب رجوع کرنےکی تلقین فرمایا کرتےتھے۔ایک بھینس ضرور رکھتے ۔

جس کاگھی اپنے مرشد کے عرس کے لئے تھوڑا تھوڑا جمع فرماتے رہتے یہاں تک کہ ایک کنسترمکمل ہوجاتا۔اس زمانےمیں سیتاپور تک ریلوےلائن تھی،اور وہاں سےخیرآباد شریف تک یکوں، وغیرہ سواری سےسفر طےہوتاتھایا پیدل۔مگرآپ سیتاپور سےخیرآباد تک گھی کاکنستر سرپر رکھ کرپاپیادہ حاضر ہوتے،اور جب تک وہاں قیام رہتا ادباً برہنہ سر،اور برہنہ پارہتےتھے،اور جب کبھی مرشد کےحلاق(حجام)سےخط بنوانےکا اتفاق ہوتاتو ادباً اس کو سرہانےاور خود پائنتی کی جانب بیٹھتے ۔ (ایضا:15)

عادتِ کریمہ یہ تھی کہ بزرگانِ دین کے آستانوں کی حاضری کے لئے پاپیادہ سفر فرماتےتھے ۔ جس زمانے میں دارالخیر اجمیر شریف تک ریلوےلائن نہ تھی، سواری ہونے کے باوجود پیدل سفر فرمایا ۔ تلامذہ کی جماعت ہمراہ تھی۔راستے میں سلسلۂ تدریس بھی جاری تھا۔ ان تلامذہ میں آپ کےحقیقی خالہ زاد بھائی فخر العلماء سندالفضلاء واقفِ اسرار حقیقت، دانائے رموزطریقت،حافظ ِ کلام الہی وحافظِ بخاری مولانا سید عبد الصمد پھپھوندی علیہ الرحمہ بھی تھے ۔
3
آپ نےاس سفر کےحالات کاذکر کرتےہوئے بیان فرمایاکہ جب چلتےچلتے ریاست کشن گڑھ کےعلاقےمیں پہنچے تواستاذ مکرم کوٹھوکر لگی جس سےپیر کاانگوٹھا پھٹ گیا،اور آپ عالم کیف ومستی میں آگئے،کافی دیر تک وجد فرماتےرہے،اور زبان پر یہ شعر جاری تھا۔؏:آرزو یہ ہے کہ تیری راہ میں ٹھوکریں کھاتاہوا یہ سرچلے۔۔۔۔آپ کےاس عمل یہ ثابت ہوا کہ زخم لگنےسےبھی راحت حاصل ہوجاتی ہے۔کیونکہ عالم کیف ومستی میں رقص اسی وقت ہوتاہے کہ جب فرط،سرو،کثرتِ راحت سے قلب مملو ہوجائے ۔ (ایضا:)

واقعۂ وفات:
خیرآباد شریف میں آپ کی وفات اس طرح ہوئی کہ وقتِ قل شریف فرمایا کہ میری چارپائی درگاہ شریف میں لےجاکر مرشد برحق کےمواجہ شریف میں بچھادو،اور بموجبِ ارشاد امیر خسرو﷫؏:ہرقوم راست ملت ہرملتے پناہے۔۔۔۔من قبلہ راست کردم ہرسمت کج کلاہے۔۔۔۔وہاں پہنچ کرمزارشریف کی رخ کرکےلیٹ گئے۔ادھر قل شریف ختم ہوا،ادھرداعی اجل کولبیک کہتےہوئےواصل بحق ہوگئے،اور یہ تمنا پوری ہوگئی۔بقول۔؏: آرزو یہ ہےکہ نکلےدم تمھارےسامنے۔۔۔تم ہمارے سامنےہوہم تمھارےسامنے۔(ایضا:15)

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 19/ذی القعدہ 1299ھ مطابق آخرماہ ستمبر/1882ءکوہوا۔خیرآباد(انڈیا)میں مزراشریف حضرت خواجہ محمد علی خیرآبادی﷫کےبرابرباغ میں مدفون ہیں۔آپ کےتلامذہ میں نامور علمائےکرام اور مشائخ عظام کےنام آتےہیں۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ مقدمہ بشیر القاری شرح صحیح البخاری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sakhawat-hussain
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-11-1444 ᴴ | 08-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-11-1444 ᴴ | 09-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-11-1444 ᴴ | 09-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-11-1444 ᴴ | 09-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1