🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-11-1444 ᴴ | 08-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-11-1444 ᴴ | 08-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمہید ایمان 📖 تمہید الایمان
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمہید ایمان 📖 تمہید الایمان
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت علامہ مولانا مخدوم یار محمد صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت علامہ مخدوم یار محمد صدیقی ۔ لقب: خانوادۂ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " مخدوم صدیقی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مخدوم یار محمد صدیقی بن مخدوم محمد قاسم صدیقی نقشبندی بن شیخ مخدوم محمد کبیر صدیقی ۔ نو شہرو فیروز سے تقریباً 30 میل دور جانب سکھر قومی شاہراہ پر گوٹھ " کوٹری کبیر " واقع ہے ۔
یہ گوٹھ مشہور زمانہ بزرگ حضرت مخدوم شیخ محمد کبیر علیہ الرحمۃ کے نام سے موسوم ہے ۔ ان کے جد امجد حضرت اسحاق بن قیس اسدی صدیقی فاتح سندھ مجاہد اسلام غازی محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کے ساتھ سندھ میں آئے تھے ۔
حضرت محمد بن قاسم نے اسے فتح کرکے " اروڑ " کا رخ کیا اور اس علاقے کی فتح کے بعد اسحاق بن قیس اسدی صدیقی کو اس علاقہ کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا ۔ اسحاق بن قیس کو خلیفہ خالد ولید بن عبدالملک کی طرف سے " نواب " کا لقب عطا کیا گیا مگر ان کے لائق فرزند حضرت ہارون بن اسحاق نے جاگیر اور نوابی کو مسترد کرکے فقیری اختیار کی ۔ حضرت ہارون بن اسحاق بن قیس کا مزار شریف " سوا لاکھ " قبرستان میں ہے ۔ لوح کی تختی پر سن وفات 171ھ درج ہے ۔ ان کی آٹھویں پشت میں مخدوم محمد کبیر پیدا ہوئے ۔ علامہ محمد کبیر بلند پایہ عالم و عارف باللہ تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ اس عظیم علمی و روحانی خانوادہ میں 19 ذوالقعدہ 1149ھ،بمطابق مارچ 1737ء کو " کوٹری کبیر " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے جد امجد مخدوم علامہ محمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے " کوٹری کبیر " میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا جہاں دسویں صدی ہجری کی ابتدا سے تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا۔اسی مدرسے میں مخدوم یار محمد نے اپنے والد ماجد سے تمام علوم ظاہری و باطنی حاصل کرکے 1167ھ کو فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد ماجد حضرت مخدوم محمد قاسم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
مخدوم یار محمد بعد فراغت مادر علمی درسگاہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کے دور میں مدرسہ عروج پر پہنچا۔ ملک و بیرون ملک سے بے شمار تشنگان ِعلم آپ کے حضور زانوئے تلمذ طے کرتے اور فیضیاب ہو کر جاتے۔ مخدوم یار محمد جلیل القد رعالم دین، قابل فخر مدرس، بے مثال مفتی، شاعر اور کامل اکمل ولی اللہ تھے۔ آپ 51 برس مسند تدریس پر رونق افروز ہوئے۔ امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد پیر صاحب روضے دھنی درگاہ راشدیہ ۔ اس ادرے کےفاضل اور آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔آپ دن رات درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ طلباء کی آسانی کیلئے درسی کتب کے کئی نسخے اپنے قلم سے تیار کئے تھے اور مشکل مقامات پر حواشی بھی رقم فرمائی تھی۔ شرعی فتاویٰ بھی جاری فرماتے تھے۔ لیکن تمام تحریرات اب محفوظ نہیں البتہ آپ کے موجودہ سجادہ نشین میاں غوث محمد گوہر کے پاس ایک قلمی بیاض ہے جس میں بعض تحریرات کا نمونہ عربی و فارسی اور شاعری کی صورت میں دستیاب ہے۔ مخدوم صاحب نبی کریم ﷺ کے سچے عاشق تھے۔حضور پور نور ﷺ کی محبت و سوز میں عربی و فارسی میں شعر کہتے تھے۔ تبرکاً ایک فارسی قطعہ درج کیا جاتا ہے، جس میں نعت اور خلفائے راشدین اور حسنین کریمین اور سیدہ خاتون جنت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مناقب بیان کئے گئے ہیں:
بحق سروری زو شرف لولاک
بقدرت قادر صانع فلک و فاک
بخدمت راشدین خلفاء و حسنین
کہ آمد علتی تکوینی افلاک
نضادرۃ بخش زاغ و باغ غمناک
ببرکۃ فاطمہ زہراء تن پاک
وصال:
حضرت مخدوم یار محمد صدیقی نے کوٹری کبیر میں 22 ذوالقعدہ 1219ھ، بمطابق ماہ فروری 1805ء بروز اتوار 70 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کا روضہ اقدس "کوٹری کبیر" (تحصیل محراب پور ،ضلع نوشہرو فیروز، صوبہ سندھ، پاکستان) میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-makhdoom-yaar-muhammad-siddiqui
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت علامہ مخدوم یار محمد صدیقی ۔ لقب: خانوادۂ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " مخدوم صدیقی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مخدوم یار محمد صدیقی بن مخدوم محمد قاسم صدیقی نقشبندی بن شیخ مخدوم محمد کبیر صدیقی ۔ نو شہرو فیروز سے تقریباً 30 میل دور جانب سکھر قومی شاہراہ پر گوٹھ " کوٹری کبیر " واقع ہے ۔
یہ گوٹھ مشہور زمانہ بزرگ حضرت مخدوم شیخ محمد کبیر علیہ الرحمۃ کے نام سے موسوم ہے ۔ ان کے جد امجد حضرت اسحاق بن قیس اسدی صدیقی فاتح سندھ مجاہد اسلام غازی محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کے ساتھ سندھ میں آئے تھے ۔
حضرت محمد بن قاسم نے اسے فتح کرکے " اروڑ " کا رخ کیا اور اس علاقے کی فتح کے بعد اسحاق بن قیس اسدی صدیقی کو اس علاقہ کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا ۔ اسحاق بن قیس کو خلیفہ خالد ولید بن عبدالملک کی طرف سے " نواب " کا لقب عطا کیا گیا مگر ان کے لائق فرزند حضرت ہارون بن اسحاق نے جاگیر اور نوابی کو مسترد کرکے فقیری اختیار کی ۔ حضرت ہارون بن اسحاق بن قیس کا مزار شریف " سوا لاکھ " قبرستان میں ہے ۔ لوح کی تختی پر سن وفات 171ھ درج ہے ۔ ان کی آٹھویں پشت میں مخدوم محمد کبیر پیدا ہوئے ۔ علامہ محمد کبیر بلند پایہ عالم و عارف باللہ تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ اس عظیم علمی و روحانی خانوادہ میں 19 ذوالقعدہ 1149ھ،بمطابق مارچ 1737ء کو " کوٹری کبیر " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے جد امجد مخدوم علامہ محمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے " کوٹری کبیر " میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا جہاں دسویں صدی ہجری کی ابتدا سے تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا۔اسی مدرسے میں مخدوم یار محمد نے اپنے والد ماجد سے تمام علوم ظاہری و باطنی حاصل کرکے 1167ھ کو فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد ماجد حضرت مخدوم محمد قاسم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
مخدوم یار محمد بعد فراغت مادر علمی درسگاہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کے دور میں مدرسہ عروج پر پہنچا۔ ملک و بیرون ملک سے بے شمار تشنگان ِعلم آپ کے حضور زانوئے تلمذ طے کرتے اور فیضیاب ہو کر جاتے۔ مخدوم یار محمد جلیل القد رعالم دین، قابل فخر مدرس، بے مثال مفتی، شاعر اور کامل اکمل ولی اللہ تھے۔ آپ 51 برس مسند تدریس پر رونق افروز ہوئے۔ امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد پیر صاحب روضے دھنی درگاہ راشدیہ ۔ اس ادرے کےفاضل اور آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔آپ دن رات درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ طلباء کی آسانی کیلئے درسی کتب کے کئی نسخے اپنے قلم سے تیار کئے تھے اور مشکل مقامات پر حواشی بھی رقم فرمائی تھی۔ شرعی فتاویٰ بھی جاری فرماتے تھے۔ لیکن تمام تحریرات اب محفوظ نہیں البتہ آپ کے موجودہ سجادہ نشین میاں غوث محمد گوہر کے پاس ایک قلمی بیاض ہے جس میں بعض تحریرات کا نمونہ عربی و فارسی اور شاعری کی صورت میں دستیاب ہے۔ مخدوم صاحب نبی کریم ﷺ کے سچے عاشق تھے۔حضور پور نور ﷺ کی محبت و سوز میں عربی و فارسی میں شعر کہتے تھے۔ تبرکاً ایک فارسی قطعہ درج کیا جاتا ہے، جس میں نعت اور خلفائے راشدین اور حسنین کریمین اور سیدہ خاتون جنت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مناقب بیان کئے گئے ہیں:
بحق سروری زو شرف لولاک
بقدرت قادر صانع فلک و فاک
بخدمت راشدین خلفاء و حسنین
کہ آمد علتی تکوینی افلاک
نضادرۃ بخش زاغ و باغ غمناک
ببرکۃ فاطمہ زہراء تن پاک
وصال:
حضرت مخدوم یار محمد صدیقی نے کوٹری کبیر میں 22 ذوالقعدہ 1219ھ، بمطابق ماہ فروری 1805ء بروز اتوار 70 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کا روضہ اقدس "کوٹری کبیر" (تحصیل محراب پور ،ضلع نوشہرو فیروز، صوبہ سندھ، پاکستان) میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-makhdoom-yaar-muhammad-siddiqui
scholars.pk
Allama Makhdoom Yaar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celaebrity / Personality (Religious Scholar).
❤2
شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید حافظ محمد علی شاہ خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محرم علی، المعروف محمد علی شاہ ۔ خیر آباد کی نسبت سے "خیرآبادی" کہلاتے تھے ۔ لقب: شیخ الاسلام ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا شاہ شمس الدین خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ حضرت مخدوم سید نظام الدین معروف بہ مخدوم اللہ دیا خیر آبادی قدس سرہ اور حضرت شیخ سعد خیر آبادی قدس سرہ کی نسل سے تھے ۔ آپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1192ھ،بمطابق 1779ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر سے ہوئی ۔ قرآنِ مجید حفظ کیا ۔ پھرحضرت مولانا عبدالوالی نبیرۂ حاجی صفت اللہ محدث خیر آبادی سےابتدائی کتب پڑھ کر شاہجہانپور کاسفر کیا اور وہاں کے علماء سے تحصیلِ علم کیا، دہلی میں حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے حدیث اور "فصوص الحکم" پڑھی، اور غوث وقت حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ سے "صحیح مسلم " کا درس لیا ۔ حرمین شریفین میں "صحیح بخاری " کا درس لیا۔ آپ کا شمار اپنےوقت کے اجلہ علماءکرام میں سے ہوتا تھا۔یہی وجہ ہےکہ مجاہدِ تحریک آزدی امام المناطقہ حضرت مولانا فضلِ حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ"فصوص الحکم" کادرس لینےکیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (خیرآبادیت:105)
بیعت و خلافت:
آپ غوث الوقت حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے مجاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقولِ والمعقول، حاوی الاصولِ والفروع، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، حامیِ سنت، سلطان الواصلین، برہان الکاملین، شیخ الاسلام حضرت خواجہ حافظ سید محمد علی خیرآبادی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے کاملین میں سے تھے ۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں مرید ہونے کے بعد (پاک و ہند) کے تمام اکابرین کے مزارات پر حاضری دی، اور فیوض وبرکات حاصل کیے ۔ پھر حرمین شریفین حج کے لئے تشریف لے گئے، وہاں دس سال قیام رہا سرزمینِ حجاز کے کچھ حضرات آپ کے مرید ہوئے۔حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کا فیض عرب میں سید محمد مدنی اور دکن،اودھ اور مشرقی پنجاب میں آپ کے ذریعے پہنچا۔ آپ نے راہ ِسلوک میں ایسی مشقتیں برداشت کیں جس کی مثال متأخرین میں مشکل سے ملے گی۔ حضرت قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے آستانہ پر جب حاضرتھے تو آنے جانے والوں کو خود مشک سے پانی بھرکر پلاتے ،اور شب میں مزار کی دیوار پر ایک ہاتھ رکھ کر ختم کلام پاک فرماتے۔اسی طرح اجمیر شریف میں جھالرہ (کنوئیں کے قریب والی جگہ جہاں پانی جمع ہوکر آبادی کی طرف جاتا ہے) کی مرمت میں بغیر اجرت مزدوروں کی صف میں شامل ہوکر کام کیا۔درس وتدریس کاسلسلہ اپنی خانقاہ پہ شروع کیا جس میں بے شمار شائقینِ علوم دوردراز علاقوں سے سفر کرکے حاضر ہونے لگے ،یہاں تک کی امام فضلِ حق خیرآبا دی علیہ الرحمہ "فصوص الحکم" کادرس لینے کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
آپ کی مجالس میں شریعت کے علاوہ کوئی موضوع سخن نہ ہوتا تھا۔اتباعِ سنت ِ مصطفیٰ ﷺپر بہت زور دیتے تھے۔اسی طرح بادشاہوں اور امیروں سے دور رہتے تھے،اگر وہ ملاقات کے متمنی ہوتے تو آپ منع کردیتے تھے ۔ ایک مرتبہ بہادر شاہ ظفر ملاقات کیلئے حاضر ہواجب وہ ایک دروازے سے داخل ہوا تو آپ دوسرے دروازے باہر نکل گئے ۔ (چشتی خانقاہیں اور سر براہانِ برصغیر:169) ۔
سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی آپ سے عقیدت:
جب مولانا شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کے لیے ریاست حیدر آباد سے (17 روپے یومیہ) وظیفہ مقررہواتو آپ نے اس میں سے 6/روپے یومیہ وظیفہ حضرت شیخ الاسلام محمد علی خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ کو نذر کر دیا جسےا ٓپ نے قبول فرمالیا۔ جوبعد میں مستقل طور پر "خانقاہ خیر آباد " کے نام مستقل ہو گیا ۔ (خیر آبادیات، ص: 103)
آپ علیہ الرحمہ انگریز حکومت کے زبردست مخالف تھے ۔ اسی طرح انگریزی لباس وتہذیب میں جس مسلمان کو دیکھتے سخت ناراض ہوتےتھے۔شادی بیاہ کی بری رسومات ، بدعات،اور فضول خرچی سے منع فرماتے، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل کی تلقین کرتے۔ آخری عمر میں فالج کا حملہ ہوا اور رفتہ رفتہ مرض میں اضافہ ہوتا گیا ۔ بیماری اور کمزوری کی وجہ جسم نے ساتھ دینا چھوڑ دیا، اور عبادت میں دقت کا سامنا کرنا پڑا تو آپ نے ارشاد فرمایا :"جسم بھاڑے کا ٹٹوتھا آخر ساتھ نہ دیا"۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کانزول فرمائے ۔ (آمین)
وصال:
آپ کا وصال 19 ذوالقعدہ 1266ھ، بمطابق ستمبر 1850ء کو ہوا ۔ مزار شریف محلہ میاں سرائے خیرآباد (انڈیا) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت ۔ چشتی خانقاہیں اور سر براہانِ بر صغیر ۔ خیرآبادیات ۔مناقبِ حافظیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-ali-shah-kheerabadi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محرم علی، المعروف محمد علی شاہ ۔ خیر آباد کی نسبت سے "خیرآبادی" کہلاتے تھے ۔ لقب: شیخ الاسلام ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا شاہ شمس الدین خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ حضرت مخدوم سید نظام الدین معروف بہ مخدوم اللہ دیا خیر آبادی قدس سرہ اور حضرت شیخ سعد خیر آبادی قدس سرہ کی نسل سے تھے ۔ آپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1192ھ،بمطابق 1779ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر سے ہوئی ۔ قرآنِ مجید حفظ کیا ۔ پھرحضرت مولانا عبدالوالی نبیرۂ حاجی صفت اللہ محدث خیر آبادی سےابتدائی کتب پڑھ کر شاہجہانپور کاسفر کیا اور وہاں کے علماء سے تحصیلِ علم کیا، دہلی میں حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے حدیث اور "فصوص الحکم" پڑھی، اور غوث وقت حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ سے "صحیح مسلم " کا درس لیا ۔ حرمین شریفین میں "صحیح بخاری " کا درس لیا۔ آپ کا شمار اپنےوقت کے اجلہ علماءکرام میں سے ہوتا تھا۔یہی وجہ ہےکہ مجاہدِ تحریک آزدی امام المناطقہ حضرت مولانا فضلِ حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ"فصوص الحکم" کادرس لینےکیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (خیرآبادیت:105)
بیعت و خلافت:
آپ غوث الوقت حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے مجاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقولِ والمعقول، حاوی الاصولِ والفروع، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، حامیِ سنت، سلطان الواصلین، برہان الکاملین، شیخ الاسلام حضرت خواجہ حافظ سید محمد علی خیرآبادی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے کاملین میں سے تھے ۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں مرید ہونے کے بعد (پاک و ہند) کے تمام اکابرین کے مزارات پر حاضری دی، اور فیوض وبرکات حاصل کیے ۔ پھر حرمین شریفین حج کے لئے تشریف لے گئے، وہاں دس سال قیام رہا سرزمینِ حجاز کے کچھ حضرات آپ کے مرید ہوئے۔حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کا فیض عرب میں سید محمد مدنی اور دکن،اودھ اور مشرقی پنجاب میں آپ کے ذریعے پہنچا۔ آپ نے راہ ِسلوک میں ایسی مشقتیں برداشت کیں جس کی مثال متأخرین میں مشکل سے ملے گی۔ حضرت قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے آستانہ پر جب حاضرتھے تو آنے جانے والوں کو خود مشک سے پانی بھرکر پلاتے ،اور شب میں مزار کی دیوار پر ایک ہاتھ رکھ کر ختم کلام پاک فرماتے۔اسی طرح اجمیر شریف میں جھالرہ (کنوئیں کے قریب والی جگہ جہاں پانی جمع ہوکر آبادی کی طرف جاتا ہے) کی مرمت میں بغیر اجرت مزدوروں کی صف میں شامل ہوکر کام کیا۔درس وتدریس کاسلسلہ اپنی خانقاہ پہ شروع کیا جس میں بے شمار شائقینِ علوم دوردراز علاقوں سے سفر کرکے حاضر ہونے لگے ،یہاں تک کی امام فضلِ حق خیرآبا دی علیہ الرحمہ "فصوص الحکم" کادرس لینے کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
آپ کی مجالس میں شریعت کے علاوہ کوئی موضوع سخن نہ ہوتا تھا۔اتباعِ سنت ِ مصطفیٰ ﷺپر بہت زور دیتے تھے۔اسی طرح بادشاہوں اور امیروں سے دور رہتے تھے،اگر وہ ملاقات کے متمنی ہوتے تو آپ منع کردیتے تھے ۔ ایک مرتبہ بہادر شاہ ظفر ملاقات کیلئے حاضر ہواجب وہ ایک دروازے سے داخل ہوا تو آپ دوسرے دروازے باہر نکل گئے ۔ (چشتی خانقاہیں اور سر براہانِ برصغیر:169) ۔
سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی آپ سے عقیدت:
جب مولانا شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کے لیے ریاست حیدر آباد سے (17 روپے یومیہ) وظیفہ مقررہواتو آپ نے اس میں سے 6/روپے یومیہ وظیفہ حضرت شیخ الاسلام محمد علی خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ کو نذر کر دیا جسےا ٓپ نے قبول فرمالیا۔ جوبعد میں مستقل طور پر "خانقاہ خیر آباد " کے نام مستقل ہو گیا ۔ (خیر آبادیات، ص: 103)
آپ علیہ الرحمہ انگریز حکومت کے زبردست مخالف تھے ۔ اسی طرح انگریزی لباس وتہذیب میں جس مسلمان کو دیکھتے سخت ناراض ہوتےتھے۔شادی بیاہ کی بری رسومات ، بدعات،اور فضول خرچی سے منع فرماتے، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل کی تلقین کرتے۔ آخری عمر میں فالج کا حملہ ہوا اور رفتہ رفتہ مرض میں اضافہ ہوتا گیا ۔ بیماری اور کمزوری کی وجہ جسم نے ساتھ دینا چھوڑ دیا، اور عبادت میں دقت کا سامنا کرنا پڑا تو آپ نے ارشاد فرمایا :"جسم بھاڑے کا ٹٹوتھا آخر ساتھ نہ دیا"۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کانزول فرمائے ۔ (آمین)
وصال:
آپ کا وصال 19 ذوالقعدہ 1266ھ، بمطابق ستمبر 1850ء کو ہوا ۔ مزار شریف محلہ میاں سرائے خیرآباد (انڈیا) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت ۔ چشتی خانقاہیں اور سر براہانِ بر صغیر ۔ خیرآبادیات ۔مناقبِ حافظیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-ali-shah-kheerabadi
❤3
حضرت مولانا حکیم سید سخاوت حسین سہسوانی انصاری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا حکیم سید سخاوت حسین انصاری ۔ تاریخی نام: فضل الرحمن ۔ آپ کا تعلق خاندانِ ساداتِ کرام سے ہے ۔ خاندان میں عظیم اولیاء اللہ گزرے ہیں ۔ حضرت خواجہ سید ابو یوسف مودود چشتی سلسلہ عالیہ چشتیہ کے ایک نامور شیخ تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:83)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1240ھ مطابق 1825ء کو سہسوان ضلع بدایوں (انڈیا) میں ہوئی ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:95)
تحصیلِ علم:
آپ تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کےجامع تھے۔بالخصوص اپنےعصرمیں فن صرف ونحو اور مناظرہ کےامام تھے۔جب کسی وہابی سےمناظرہ ہوتا توحسنِ تدبیرسےمسائل صرف ونحو میں لاکر زِیر فرمالیا کرتے تھے ۔ اسی طرح فن ِطبابت میں خاص ادراک حاصل تھا۔آدمی کاچہرہ دیکھ کرصحیح کیفیت منکشف ہوجاتی تھی۔ایک مرتبہ اپنے مطب میں تشریف فرماتھے کہ سامنےسے ایک شخص سر پر بوری رکھے ہوئے گزرا۔ حاضرین سے فرمایا: دیکھو مردہ جا رہا ہے ۔ تھوڑی دور جاکر وہ گرا اور فوت ہوگیا ۔ (مقدمہ بشیرالقاری :14)
بیعت وخلافت:
قدوۃ الاولیاء زبدۃ الاصفیاء شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید حافظ محمد علی شاہ خیر آبادی (مرید وخلیفہ غوث زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی) کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئےاورخلافت سےمشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، قدوۃ العارفین، عارف اسرار قاب قوسین، استاذ العلماء، امام العرفاء، جامع شریعت و طریقت، حامیِ سنت،ماحیِ بدعت، قاطعِ وہابیت، حضرت علامہ مولانا حکیم سید سخاوت حسین سہسوانی انصاری ۔ آپ اپنےوقت کےعالم متبحر اور عارف ِ کامل تھے ۔ درس وتدریس اور وعظ ونصیحت سےخاص شغف تھا ۔ فنِ صرف ونحوکےتو گُویاامام تھے ۔ باقی تمام علوم پر کامل دسترس حاصل تھی۔مناظرے میں مدمقابل کو عربی عبارات کی صرفی ونحوی اصطلاحات میں ہی شکست دیدیتے۔یہی وجہ ہےکہ بڑے بڑے وہابی آپ کا سامنا کرنے سے گھبراتےتھے ۔
اعلیٰ حضرت مجدد اسلام مولانا امام احمد رضاخان فاضل بریلوی کی آپ سے عقیدت:
آپ کا تعلق ان علمائے شریعت سے تھا جن کی زیارت کو حدیث شریف میں عبادت قرار دیا گیا ہے ۔ اسی لئے مجدد اسلام امام احمد رضاخاں قادری کی مجلس مبارکہ میں جب آپ کا ذکرِ خیر ہوتا تو اعلیٰ حضرت آپ کا نام مبارک سن کر تعظیماً سینے پرہاتھ رکھ لیا کرتے تھے۔(مقدمہ بشیر القاری شرح صحیح البخاری:14)
تحریکِ آزادی میں کردار:
مجاہدینِ تحریکِ آزادی میں آپ کانام سرِ فہرست تھا۔ آپ ہرلحاظ سےمجاہدین کی معاونت کرتےتھے۔ اسی جرم کی پاداش میں 1857ء کے غدرمیں آپ کا نام بھی باغیوں کی فہرست میں درج کیاگیاتھا۔اسی بناء پر آپ کی جائیداد ظبط کی گئی۔گرفتارکرنےکےلیے جب انگریز فوج آئی توآپ مسجد خطیب واقع محلہ قاضی سہسوان میں تشریف فرماتھے۔آپ کو دیکھ کرفوج کا انگریز افسرکہنےلگایہ پادری (مذہبی آدمی) ہے۔بغیر گرفتار کیے چلے گئے ۔ آپ کے بھائی اور دیگر اعزا کو گرفتار کرکے شہید کر دیا گیا ۔ (ایضا:14)
فنا فی الشیخ:
آپ فنافی الشیخ کے مرتبے پر فائز تھے ۔اپنےپیر و مرشد سے عقیدت کی ایسی مثال کم ہی ملےگی ۔ آپ کو حضرت سید محمد علی شاہ خیر آبادی سے خلافت حاصل تھی، اور ان کے سجادہ نشین راہنمائے کاملین، سید العارفین حضرت سید محمد اسلم خیرآبادی صاحبِ سجادہ اور زینتِ مسند تھے ۔ لوگ آپ کے پاس مرید ہونے کے لئے حاضر ہوتےآپ ادباًمرید نہ فرماتے،بلکہ اُنہیں کی جانب رجوع کرنےکی تلقین فرمایا کرتےتھے۔ایک بھینس ضرور رکھتے ۔
جس کاگھی اپنے مرشد کے عرس کے لئے تھوڑا تھوڑا جمع فرماتے رہتے یہاں تک کہ ایک کنسترمکمل ہوجاتا۔اس زمانےمیں سیتاپور تک ریلوےلائن تھی،اور وہاں سےخیرآباد شریف تک یکوں، وغیرہ سواری سےسفر طےہوتاتھایا پیدل۔مگرآپ سیتاپور سےخیرآباد تک گھی کاکنستر سرپر رکھ کرپاپیادہ حاضر ہوتے،اور جب تک وہاں قیام رہتا ادباً برہنہ سر،اور برہنہ پارہتےتھے،اور جب کبھی مرشد کےحلاق(حجام)سےخط بنوانےکا اتفاق ہوتاتو ادباً اس کو سرہانےاور خود پائنتی کی جانب بیٹھتے ۔ (ایضا:15)
عادتِ کریمہ یہ تھی کہ بزرگانِ دین کے آستانوں کی حاضری کے لئے پاپیادہ سفر فرماتےتھے ۔ جس زمانے میں دارالخیر اجمیر شریف تک ریلوےلائن نہ تھی، سواری ہونے کے باوجود پیدل سفر فرمایا ۔ تلامذہ کی جماعت ہمراہ تھی۔راستے میں سلسلۂ تدریس بھی جاری تھا۔ ان تلامذہ میں آپ کےحقیقی خالہ زاد بھائی فخر العلماء سندالفضلاء واقفِ اسرار حقیقت، دانائے رموزطریقت،حافظ ِ کلام الہی وحافظِ بخاری مولانا سید عبد الصمد پھپھوندی علیہ الرحمہ بھی تھے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا حکیم سید سخاوت حسین انصاری ۔ تاریخی نام: فضل الرحمن ۔ آپ کا تعلق خاندانِ ساداتِ کرام سے ہے ۔ خاندان میں عظیم اولیاء اللہ گزرے ہیں ۔ حضرت خواجہ سید ابو یوسف مودود چشتی سلسلہ عالیہ چشتیہ کے ایک نامور شیخ تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:83)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1240ھ مطابق 1825ء کو سہسوان ضلع بدایوں (انڈیا) میں ہوئی ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:95)
تحصیلِ علم:
آپ تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کےجامع تھے۔بالخصوص اپنےعصرمیں فن صرف ونحو اور مناظرہ کےامام تھے۔جب کسی وہابی سےمناظرہ ہوتا توحسنِ تدبیرسےمسائل صرف ونحو میں لاکر زِیر فرمالیا کرتے تھے ۔ اسی طرح فن ِطبابت میں خاص ادراک حاصل تھا۔آدمی کاچہرہ دیکھ کرصحیح کیفیت منکشف ہوجاتی تھی۔ایک مرتبہ اپنے مطب میں تشریف فرماتھے کہ سامنےسے ایک شخص سر پر بوری رکھے ہوئے گزرا۔ حاضرین سے فرمایا: دیکھو مردہ جا رہا ہے ۔ تھوڑی دور جاکر وہ گرا اور فوت ہوگیا ۔ (مقدمہ بشیرالقاری :14)
بیعت وخلافت:
قدوۃ الاولیاء زبدۃ الاصفیاء شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید حافظ محمد علی شاہ خیر آبادی (مرید وخلیفہ غوث زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی) کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئےاورخلافت سےمشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، قدوۃ العارفین، عارف اسرار قاب قوسین، استاذ العلماء، امام العرفاء، جامع شریعت و طریقت، حامیِ سنت،ماحیِ بدعت، قاطعِ وہابیت، حضرت علامہ مولانا حکیم سید سخاوت حسین سہسوانی انصاری ۔ آپ اپنےوقت کےعالم متبحر اور عارف ِ کامل تھے ۔ درس وتدریس اور وعظ ونصیحت سےخاص شغف تھا ۔ فنِ صرف ونحوکےتو گُویاامام تھے ۔ باقی تمام علوم پر کامل دسترس حاصل تھی۔مناظرے میں مدمقابل کو عربی عبارات کی صرفی ونحوی اصطلاحات میں ہی شکست دیدیتے۔یہی وجہ ہےکہ بڑے بڑے وہابی آپ کا سامنا کرنے سے گھبراتےتھے ۔
اعلیٰ حضرت مجدد اسلام مولانا امام احمد رضاخان فاضل بریلوی کی آپ سے عقیدت:
آپ کا تعلق ان علمائے شریعت سے تھا جن کی زیارت کو حدیث شریف میں عبادت قرار دیا گیا ہے ۔ اسی لئے مجدد اسلام امام احمد رضاخاں قادری کی مجلس مبارکہ میں جب آپ کا ذکرِ خیر ہوتا تو اعلیٰ حضرت آپ کا نام مبارک سن کر تعظیماً سینے پرہاتھ رکھ لیا کرتے تھے۔(مقدمہ بشیر القاری شرح صحیح البخاری:14)
تحریکِ آزادی میں کردار:
مجاہدینِ تحریکِ آزادی میں آپ کانام سرِ فہرست تھا۔ آپ ہرلحاظ سےمجاہدین کی معاونت کرتےتھے۔ اسی جرم کی پاداش میں 1857ء کے غدرمیں آپ کا نام بھی باغیوں کی فہرست میں درج کیاگیاتھا۔اسی بناء پر آپ کی جائیداد ظبط کی گئی۔گرفتارکرنےکےلیے جب انگریز فوج آئی توآپ مسجد خطیب واقع محلہ قاضی سہسوان میں تشریف فرماتھے۔آپ کو دیکھ کرفوج کا انگریز افسرکہنےلگایہ پادری (مذہبی آدمی) ہے۔بغیر گرفتار کیے چلے گئے ۔ آپ کے بھائی اور دیگر اعزا کو گرفتار کرکے شہید کر دیا گیا ۔ (ایضا:14)
فنا فی الشیخ:
آپ فنافی الشیخ کے مرتبے پر فائز تھے ۔اپنےپیر و مرشد سے عقیدت کی ایسی مثال کم ہی ملےگی ۔ آپ کو حضرت سید محمد علی شاہ خیر آبادی سے خلافت حاصل تھی، اور ان کے سجادہ نشین راہنمائے کاملین، سید العارفین حضرت سید محمد اسلم خیرآبادی صاحبِ سجادہ اور زینتِ مسند تھے ۔ لوگ آپ کے پاس مرید ہونے کے لئے حاضر ہوتےآپ ادباًمرید نہ فرماتے،بلکہ اُنہیں کی جانب رجوع کرنےکی تلقین فرمایا کرتےتھے۔ایک بھینس ضرور رکھتے ۔
جس کاگھی اپنے مرشد کے عرس کے لئے تھوڑا تھوڑا جمع فرماتے رہتے یہاں تک کہ ایک کنسترمکمل ہوجاتا۔اس زمانےمیں سیتاپور تک ریلوےلائن تھی،اور وہاں سےخیرآباد شریف تک یکوں، وغیرہ سواری سےسفر طےہوتاتھایا پیدل۔مگرآپ سیتاپور سےخیرآباد تک گھی کاکنستر سرپر رکھ کرپاپیادہ حاضر ہوتے،اور جب تک وہاں قیام رہتا ادباً برہنہ سر،اور برہنہ پارہتےتھے،اور جب کبھی مرشد کےحلاق(حجام)سےخط بنوانےکا اتفاق ہوتاتو ادباً اس کو سرہانےاور خود پائنتی کی جانب بیٹھتے ۔ (ایضا:15)
عادتِ کریمہ یہ تھی کہ بزرگانِ دین کے آستانوں کی حاضری کے لئے پاپیادہ سفر فرماتےتھے ۔ جس زمانے میں دارالخیر اجمیر شریف تک ریلوےلائن نہ تھی، سواری ہونے کے باوجود پیدل سفر فرمایا ۔ تلامذہ کی جماعت ہمراہ تھی۔راستے میں سلسلۂ تدریس بھی جاری تھا۔ ان تلامذہ میں آپ کےحقیقی خالہ زاد بھائی فخر العلماء سندالفضلاء واقفِ اسرار حقیقت، دانائے رموزطریقت،حافظ ِ کلام الہی وحافظِ بخاری مولانا سید عبد الصمد پھپھوندی علیہ الرحمہ بھی تھے ۔
❤3
آپ نےاس سفر کےحالات کاذکر کرتےہوئے بیان فرمایاکہ جب چلتےچلتے ریاست کشن گڑھ کےعلاقےمیں پہنچے تواستاذ مکرم کوٹھوکر لگی جس سےپیر کاانگوٹھا پھٹ گیا،اور آپ عالم کیف ومستی میں آگئے،کافی دیر تک وجد فرماتےرہے،اور زبان پر یہ شعر جاری تھا۔؏:آرزو یہ ہے کہ تیری راہ میں ٹھوکریں کھاتاہوا یہ سرچلے۔۔۔۔آپ کےاس عمل یہ ثابت ہوا کہ زخم لگنےسےبھی راحت حاصل ہوجاتی ہے۔کیونکہ عالم کیف ومستی میں رقص اسی وقت ہوتاہے کہ جب فرط،سرو،کثرتِ راحت سے قلب مملو ہوجائے ۔ (ایضا:)
واقعۂ وفات:
خیرآباد شریف میں آپ کی وفات اس طرح ہوئی کہ وقتِ قل شریف فرمایا کہ میری چارپائی درگاہ شریف میں لےجاکر مرشد برحق کےمواجہ شریف میں بچھادو،اور بموجبِ ارشاد امیر خسرو؏:ہرقوم راست ملت ہرملتے پناہے۔۔۔۔من قبلہ راست کردم ہرسمت کج کلاہے۔۔۔۔وہاں پہنچ کرمزارشریف کی رخ کرکےلیٹ گئے۔ادھر قل شریف ختم ہوا،ادھرداعی اجل کولبیک کہتےہوئےواصل بحق ہوگئے،اور یہ تمنا پوری ہوگئی۔بقول۔؏: آرزو یہ ہےکہ نکلےدم تمھارےسامنے۔۔۔تم ہمارے سامنےہوہم تمھارےسامنے۔(ایضا:15)
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 19/ذی القعدہ 1299ھ مطابق آخرماہ ستمبر/1882ءکوہوا۔خیرآباد(انڈیا)میں مزراشریف حضرت خواجہ محمد علی خیرآبادیکےبرابرباغ میں مدفون ہیں۔آپ کےتلامذہ میں نامور علمائےکرام اور مشائخ عظام کےنام آتےہیں۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ مقدمہ بشیر القاری شرح صحیح البخاری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sakhawat-hussain
واقعۂ وفات:
خیرآباد شریف میں آپ کی وفات اس طرح ہوئی کہ وقتِ قل شریف فرمایا کہ میری چارپائی درگاہ شریف میں لےجاکر مرشد برحق کےمواجہ شریف میں بچھادو،اور بموجبِ ارشاد امیر خسرو؏:ہرقوم راست ملت ہرملتے پناہے۔۔۔۔من قبلہ راست کردم ہرسمت کج کلاہے۔۔۔۔وہاں پہنچ کرمزارشریف کی رخ کرکےلیٹ گئے۔ادھر قل شریف ختم ہوا،ادھرداعی اجل کولبیک کہتےہوئےواصل بحق ہوگئے،اور یہ تمنا پوری ہوگئی۔بقول۔؏: آرزو یہ ہےکہ نکلےدم تمھارےسامنے۔۔۔تم ہمارے سامنےہوہم تمھارےسامنے۔(ایضا:15)
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 19/ذی القعدہ 1299ھ مطابق آخرماہ ستمبر/1882ءکوہوا۔خیرآباد(انڈیا)میں مزراشریف حضرت خواجہ محمد علی خیرآبادیکےبرابرباغ میں مدفون ہیں۔آپ کےتلامذہ میں نامور علمائےکرام اور مشائخ عظام کےنام آتےہیں۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ مقدمہ بشیر القاری شرح صحیح البخاری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sakhawat-hussain
scholars.pk
Hazrat Molana Sakhawat Hussain
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-11-1444 ᴴ | 08-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-11-1444 ᴴ | 09-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1