🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
فخر الأماثل حضرت سید شاہ مہدی حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادتِ مبارکہ:
آپ کی ولادت 1287ھ، 71-1870ء میں مارہرہ شریف میں ہوئی۔

والد ماجد:
حضرت سید شاہ ظہور حسین عرف چھٹو میاں ابن خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی قدس سرہما۔

آپ خاندان برکات میں کس شیخ کی گدی کے وارث تھے؟

حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں قدس سرہٗ کے۔

رسم بسم اللہ خوانی:
آپ کی رسمِ بسم اللہ خوانی حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ادا فرمائی۔

مجدد برکاتیت حضرت شاہ ابو القاسم سے آپ کا کیا رشتہ تھا؟

آپ ان کے داماد تھے۔

زوجہ محترمہ:
پہلا عقد بنیادی بیگم بنت حضرت سید حسین سے اور دوسرا عقد سجادی بیگم بنت حضرت ابوالقاسم سید اسماعیل حسن سے۔

اولادِ امجاد:
صرف ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ تھیں۔

حضرت نوری میاں قدس سرہٗ سےرشتہ:

ان کے چچازاد بھائی تھے۔

حضرت مجدد برکاتیت کی صاحبزادی سے آپ کا نکاح کب ہوا؟

29؍ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ ، ۱۸۹۵ء کو۔

اوصاف اور کارنامے:
آپ کا سب سے نمایاں وصف سخاوت تھا، آپ نے پوری زندگی درویشی میں گزاردی، خانقاہ برکاتیہ میں عرس برکاتی نوری بہت دھوم دھام سے منعقد کرایا کرتے تھے۔ آپ کی ذات سے اور ملک گیر پیمانے پر وسیع تعلقات سے اس دور میں خانقاہ برکاتیہ کا خوب تعارف ہوا۔

وصالِ پُر ملال:
18؍ ذی قعدہ 1361ھ، نومبر 1952ء کوآپ کا وصال ہوا اور خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں مدفون ہوئے۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-mehdi-hasan
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شہزادۂ غوث الاعظم، حضرت سید عبد الرزاق جیلانی رضی الله تعالیٰ عنہما

نام و نسب:
اسم گرامی: سید عبد الرزاق ۔کنیت: عبد الرحمٰن، ابو الفرح ۔ لقب: تاج الدین ـ

سلسلۂ نسب:
آپ علیہ الرحمہ حضور قطب ربانی، شہباز لامکانی، قندیل نورانی، حضرت سیدنا محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے فرزند ارجمند ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 18 ذیقعد 528ھ مطابق 9 ستمبر 1134ء کو بغداد میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
اپنے والد بزرگوار سے تفقہ حاصل کیا، اور حدیث سنی، اس کے علاوہ ابو الحسن محمد بن الصّائغ ، قاضی ابو الفضل محمد الاموی، ابو القاسم سعید بن البَنّا ، حافظ ابو الفضل محمد بن ناصر ، ابو بکر محمد بن الزّاغوانی، ابو المظفر محمد الہاشمی، ابو المعانی احمد بن علی السّمین ، ابو الفتح محمد بن البطر رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ شیوخ سے بھی حدیث سنی ۔

صاحب روض الزّاھر کا بیان ہے کہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ و ابن النجار رحمۃ اللہ علیہ و عبد الطیف رحمۃ اللہ علیہ و تقی البلدانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بہت سے مشاہیر نے ان سے روایت کی ہے۔ اور شیخ شمس الدین عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ کمال عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ اور احمد شیبان رحمۃ اللہ علیہ اور خدیجہ بنت شہاب رحمۃ اللہ علیہ اور اسمٰعیل عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کو انہوں نے اجازتِ حدیث دی ہے ۔ وقت کے بہت بڑے محدث اور نامور مدرس تھے ۔

بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی غوث صمدانی حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلسلۂ عالیہ قادریہ میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
محدث، مفسر، متکلم، فقیہ، جامع شریعت و طریقت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت تاج الدین عبد الرزاق جیلانی بن سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہما الرحمہ ۔

آپ علیہ الرحمہ مفتیِ عراق، اور جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے ۔ تمام عمر درس و تدریس وعظ و نصیحت میں مصروف رہے ۔ ثقاہت و صداقت، تواضع و انکساری میں مشہور تھے ۔ صبر و شکر و اخلاق حسنہ و عفت شعاری میں معروف تھے ۔ زہد و خاموشی اِن کا شیوہ تھا، عموماً لوگوں سے کنارہ کش رہتے، سوائے ضرورت دینی کے گھر سے نہ نکلتے ۔ کتاب جلاء الخواطر ملفوظات حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه انہوں نے ترتیب دی ہے ۔

ایک مرتبہ آپ علیہ الرحمہ اپنے والد گرامی حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کی محفل میں شریک تھے ۔اچانک آپ علیہ الرحمہ نے اوپر کی طرف نگاہ اٹھائی تو ڈر گئے حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه نے فرمایا ڈرو مت یہ رجال الغیب ہیں، اور تم بھی انہیں میں سے ہو ۔

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ میں اپنے والد گرامی حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ کر آ رہے تھے، اور میرے دو بھائی بھی ساتھ تھے ۔ خلیفۂ بغداد کے لئے شراب کے مٹکے اس کے سپاہی لے کر جا رہے تھے ۔ آپ نے انہیں روکا وہ نہیں رُکے بلکہ سواری اور تیز کر دی آپ نے سواری سے فرمایا رُک جا وہ رُک گئی ۔ ملازمین درد قولنج میں تڑپنے لگے، جب انھوں نے معافی طلب کی تو آپ نے معاف فرما دیا اور شراب کے مٹکوں کو سرکے میں تبدیل کر دیا ۔ پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ۔ جب خلیفہ تک یہ با ت پہنچی تو آپ کی خدمت حاضر ہو کر تائب ہوا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ، 6 شوال المکرم 603ھ مطابق 5/1207ء کو ہوا ۔ بغداد باب الحرب میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع: شریف التواریخ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-bakr-tajuddin-abdul-razzaq-bin-ghous-e-azam
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-11-1444 ᴴ | 07-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-11-1444 ᴴ | 08-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-11-1444 ᴴ | 08-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-11-1444 ᴴ | 08-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1