پڑھتے اور قصیدہ بردہ شریف کا ختم فرماتے ۔
سراج العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی ؒ ( کوٹ مٹھن شریف ) کے خلیفہ ، عاشق رسول ، بلبل چمن رسالت مولانا محمد یار گڑھی شریف والے مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب کے اوصاف بیان کرتے ہیں :
خلیل وقت ابراہیم نامے
امامے حجت ہر خاص دعائے
اولاد:
آپ کو اکلوتا بیٹا حاجی محمد احسان سومرو پیدا ہوا، ان کا آپ کی زندگی میں ۱۹۶۰ء کو انتقال ہوا۔
وصال:
مفتی محمد ابراہیم نے ۷، شعبان المعظم ۱۳۸۴ھ بمطابق ۱۲، دسمبر ۱۹۶۴ء کو ۷۷ سال کی عمر میں ندائے ارجعی کو لبیک کہہ کر واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزار شریف گڑھی یسین میں زائرین کیلئے حصول برکت کا ذریعہ ہے ۔آپ نے اپنے وصال سے قبل خود اپنا قطعہ تاریخ وصال کہاجو کہ درج ذیل ہے: (مفتی محمد قاسم یاسینی اویسی کے ارسال کردہ مواد سے ماخوذ ہے)
ہرچہ آن دوست نمودہ است ہمہ دان کہ نکواست
باشد پسندیدہ دل آنچہ پسندیدہ اوست
خود بگفتا بدم آخر باطبع پاک
حمد اللہ کہ نمردیم رسیدیم بدوست
۱۲۷۷۔۱۰۷۔ ۱۳۸۴ھ
(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-qasim-yasini
سراج العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی ؒ ( کوٹ مٹھن شریف ) کے خلیفہ ، عاشق رسول ، بلبل چمن رسالت مولانا محمد یار گڑھی شریف والے مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب کے اوصاف بیان کرتے ہیں :
خلیل وقت ابراہیم نامے
امامے حجت ہر خاص دعائے
اولاد:
آپ کو اکلوتا بیٹا حاجی محمد احسان سومرو پیدا ہوا، ان کا آپ کی زندگی میں ۱۹۶۰ء کو انتقال ہوا۔
وصال:
مفتی محمد ابراہیم نے ۷، شعبان المعظم ۱۳۸۴ھ بمطابق ۱۲، دسمبر ۱۹۶۴ء کو ۷۷ سال کی عمر میں ندائے ارجعی کو لبیک کہہ کر واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزار شریف گڑھی یسین میں زائرین کیلئے حصول برکت کا ذریعہ ہے ۔آپ نے اپنے وصال سے قبل خود اپنا قطعہ تاریخ وصال کہاجو کہ درج ذیل ہے: (مفتی محمد قاسم یاسینی اویسی کے ارسال کردہ مواد سے ماخوذ ہے)
ہرچہ آن دوست نمودہ است ہمہ دان کہ نکواست
باشد پسندیدہ دل آنچہ پسندیدہ اوست
خود بگفتا بدم آخر باطبع پاک
حمد اللہ کہ نمردیم رسیدیم بدوست
۱۲۷۷۔۱۰۷۔ ۱۳۸۴ھ
(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-qasim-yasini
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Qasim Yasini
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Faqeeh Asr Hazrat Molana Mufti Qasim Yasini
❤1
مفتی محمد امین قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مفتی محمد امین قادری ۔لقب: شاہینِ ختمِ نبوت ۔
سلسلۂ نسب:
مولانا مفتی محمد امین قادری بن محمد حسین بن محمد ابراہیم واڈی والا ۔ آپ کا نسبی تعلق ’’ کتیانہ میمن‘‘ جماعت سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 22 رجب المرجب 1392ھ مطابق 7 نومبر 1972ء کو ’’کھارا در‘‘ کراچیج پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
میٹرک کتیانہ میمن اسکول ککری گراؤنڈ کھارادر سے کی۔ بی کام سندھ مسلم کامرس کالج کراچی اور ایم اے اسلامیات کراچی یونیورسٹی سے کیا۔دعوت اسلامی کے ماحول نے متاثر کیا تو اس میں شامل ہوگئے پھر دینی تعلیم کا شوق پیدا ہوا تو مولانا محمد جاوید میمن مینگھرانی سے ابتداء کی پھر نور مسجد کاغذی بازار میں مولانا محمد عثمان برکاتی سے رات میں تعلیمی سفر جاری رکھا۔
اکثر کتابیں وہیں پڑھیں اس کے بعد دارالعلوم امجدیہ میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی مدظلہ العالی(مبارکپور) شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی اور امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس قادری زید مجدہ اور دیگر صد ہا علماء کرام کی موجودگی میں آپ کی دستارِ فضیلت ہوئی۔
بیعت وخلافت:
آپ 1985ء کو جامع مسجد گلزار حبیب میں سلسلہ قادریہ عطاریہ میں امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری سے دست بیعت ہوئے۔ شیخ العرب والعجم محمد بن علوی مالکی مکی، شیخ زکریا بخاری مدنی ، شیخ ابو بکر صدیق الجزائری، شیخ حبیب العالی یمنی کے علاوہ ہندو پاک کے کئی علماء و مشائخ نے خلافتیں سندیں اور اورادو ظائف کی اجازتیں عطا فرمائیں۔ قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:117)
سیرت وخصائص:
مفتیِ اہل سنت، محسنِ ملت، پروانۂ شمعِ رسالت، شاہینِ ختمِ نبوت، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین قادری۔ آپ جہدِ مسلسل کےذریعے دینِ متین کی خدمت کرنےوالے انسان تھے۔آپ کاکردار اس افرا تفری اور نفسا نفسی کےدور میں قابلِ تحسین اور قابل ِ تقلید ہے۔قلیل عرصے میں بہت بڑا کام انجام دیا۔زمانہ ٔ طالب علمی سے ہی دین کاجذبہ رکھتےتھے۔دن جیسے جیسے گزرتے گئے اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔درس وتدریس،وعظ ونصیحت،اور تصنیف وتالیف آپ کامقصدِ حیات تھا۔ہمہ وقت کسی نہ کسی دینی- کام میں مصروف نظر آتے۔اسی طرح خوش مزاجی، باوقار، اور ملنسار طبیعت ، ناصحانہ اندازِ گفتگو ، تلقین آمیز تقاریر ، جمعہ کے خطبات میں مسائل پر گہری نظر ، درس و تدریس ، افتاء کا منصب ، احیاء سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی سے وابستگی ، دین متین کے لئے جذبہ قربانی سے سرشاری ،کتب بینی کا جنونی شوق ، فرائض و سنن پر مداومت، یہ وہ صفات اور حالات تھے جنہوں نے مرحوم کو محبوب ِعام و خاص کردیا تھا ۔ اکابرین بزرگانِ دین سے کئی و ظائف کی اجازت بھی حاصل تھی جن میں اکثر آپ کے معمولات میں رہے۔ آپ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا بہت آسان انداز میں جواب دیتے مسائل کا حل چاہنے والوں کا اکثر اوقات تانتا بندھا ررہتا تھا۔ علمی مذاکرات ، حج اور عمرہ تربیتی پروگرامز اور دیگر اہم دینی موضوعات پر تقاریر کیلئے مدعو کئے جاتے۔ آپ کی تقاریر تحقیقی اورپر مغز ہوتیں۔ بیک وقت تشنگانِ علم کو سیراب اور متلا شیانِ علم کو مالا مال کرتیں۔(شاہینِ ختمِ نبوت:2)
درس و تدریس:
دوران تعلیم ہی رات میں تدریس کا مشغلہ جاری رکھا۔ نور مسجد (کاغذی بازار) سے تدریس کا آغاز کیا۔ بعد میں انوار مدینہ مسجد ، اسماعیل اور آرائیں مسجد (جمشید روڈ) میں فرائض تدریس انجام دیتے رہے، اس کے علاوہ آپ نے دارالعلوم غوثیہ فاروق آباد پرانی سبزی منڈی کراچی میں کئی سال تک تدریس کے ساتھ فتاویٰ نویسی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔اپنے گھر کے قریب جامع مسجد اسماعیل گیگا جمشید روڈ کراچی میں جمع کو خطابت فرماتے تھے۔ مرکز فیضان مدینہ سبزی منڈی میں کئی مرتبہ اور دعوت اسلامی کے سالانہ مرکزی اجتماع ملتان شریف میں درس قرآن و حدیث دیا۔
سفر حرمین شریفین:
آپ نے تین بار حج بیت اللہ اور کئی بار عمرے کی سعادت حاصل کی، اس طرح کئی بار روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی1990ء میں مفتی وقار الدین قادری (رئیس الافتاء دارالعلوم امجدیہ کراچی) کی رفاقت میں بغداد شریف، کربلا معلیٰ، اور نجف اشرف میں مولائے کائنات امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ، سید الشہداء سید نا امام حسین ، سید التابعین امام اعظم ابو حنیفہ ت اور سرکار غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانی ٗ مع دیگر مزارات مقدسہ پر حاضری کی سعادت اور انوار و برکات کی دولت سے مشرف ہوئے۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مفتی محمد امین قادری ۔لقب: شاہینِ ختمِ نبوت ۔
سلسلۂ نسب:
مولانا مفتی محمد امین قادری بن محمد حسین بن محمد ابراہیم واڈی والا ۔ آپ کا نسبی تعلق ’’ کتیانہ میمن‘‘ جماعت سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 22 رجب المرجب 1392ھ مطابق 7 نومبر 1972ء کو ’’کھارا در‘‘ کراچیج پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
میٹرک کتیانہ میمن اسکول ککری گراؤنڈ کھارادر سے کی۔ بی کام سندھ مسلم کامرس کالج کراچی اور ایم اے اسلامیات کراچی یونیورسٹی سے کیا۔دعوت اسلامی کے ماحول نے متاثر کیا تو اس میں شامل ہوگئے پھر دینی تعلیم کا شوق پیدا ہوا تو مولانا محمد جاوید میمن مینگھرانی سے ابتداء کی پھر نور مسجد کاغذی بازار میں مولانا محمد عثمان برکاتی سے رات میں تعلیمی سفر جاری رکھا۔
اکثر کتابیں وہیں پڑھیں اس کے بعد دارالعلوم امجدیہ میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی مدظلہ العالی(مبارکپور) شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی اور امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس قادری زید مجدہ اور دیگر صد ہا علماء کرام کی موجودگی میں آپ کی دستارِ فضیلت ہوئی۔
بیعت وخلافت:
آپ 1985ء کو جامع مسجد گلزار حبیب میں سلسلہ قادریہ عطاریہ میں امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری سے دست بیعت ہوئے۔ شیخ العرب والعجم محمد بن علوی مالکی مکی، شیخ زکریا بخاری مدنی ، شیخ ابو بکر صدیق الجزائری، شیخ حبیب العالی یمنی کے علاوہ ہندو پاک کے کئی علماء و مشائخ نے خلافتیں سندیں اور اورادو ظائف کی اجازتیں عطا فرمائیں۔ قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:117)
سیرت وخصائص:
مفتیِ اہل سنت، محسنِ ملت، پروانۂ شمعِ رسالت، شاہینِ ختمِ نبوت، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین قادری۔ آپ جہدِ مسلسل کےذریعے دینِ متین کی خدمت کرنےوالے انسان تھے۔آپ کاکردار اس افرا تفری اور نفسا نفسی کےدور میں قابلِ تحسین اور قابل ِ تقلید ہے۔قلیل عرصے میں بہت بڑا کام انجام دیا۔زمانہ ٔ طالب علمی سے ہی دین کاجذبہ رکھتےتھے۔دن جیسے جیسے گزرتے گئے اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔درس وتدریس،وعظ ونصیحت،اور تصنیف وتالیف آپ کامقصدِ حیات تھا۔ہمہ وقت کسی نہ کسی دینی- کام میں مصروف نظر آتے۔اسی طرح خوش مزاجی، باوقار، اور ملنسار طبیعت ، ناصحانہ اندازِ گفتگو ، تلقین آمیز تقاریر ، جمعہ کے خطبات میں مسائل پر گہری نظر ، درس و تدریس ، افتاء کا منصب ، احیاء سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی سے وابستگی ، دین متین کے لئے جذبہ قربانی سے سرشاری ،کتب بینی کا جنونی شوق ، فرائض و سنن پر مداومت، یہ وہ صفات اور حالات تھے جنہوں نے مرحوم کو محبوب ِعام و خاص کردیا تھا ۔ اکابرین بزرگانِ دین سے کئی و ظائف کی اجازت بھی حاصل تھی جن میں اکثر آپ کے معمولات میں رہے۔ آپ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا بہت آسان انداز میں جواب دیتے مسائل کا حل چاہنے والوں کا اکثر اوقات تانتا بندھا ررہتا تھا۔ علمی مذاکرات ، حج اور عمرہ تربیتی پروگرامز اور دیگر اہم دینی موضوعات پر تقاریر کیلئے مدعو کئے جاتے۔ آپ کی تقاریر تحقیقی اورپر مغز ہوتیں۔ بیک وقت تشنگانِ علم کو سیراب اور متلا شیانِ علم کو مالا مال کرتیں۔(شاہینِ ختمِ نبوت:2)
درس و تدریس:
دوران تعلیم ہی رات میں تدریس کا مشغلہ جاری رکھا۔ نور مسجد (کاغذی بازار) سے تدریس کا آغاز کیا۔ بعد میں انوار مدینہ مسجد ، اسماعیل اور آرائیں مسجد (جمشید روڈ) میں فرائض تدریس انجام دیتے رہے، اس کے علاوہ آپ نے دارالعلوم غوثیہ فاروق آباد پرانی سبزی منڈی کراچی میں کئی سال تک تدریس کے ساتھ فتاویٰ نویسی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔اپنے گھر کے قریب جامع مسجد اسماعیل گیگا جمشید روڈ کراچی میں جمع کو خطابت فرماتے تھے۔ مرکز فیضان مدینہ سبزی منڈی میں کئی مرتبہ اور دعوت اسلامی کے سالانہ مرکزی اجتماع ملتان شریف میں درس قرآن و حدیث دیا۔
سفر حرمین شریفین:
آپ نے تین بار حج بیت اللہ اور کئی بار عمرے کی سعادت حاصل کی، اس طرح کئی بار روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی1990ء میں مفتی وقار الدین قادری (رئیس الافتاء دارالعلوم امجدیہ کراچی) کی رفاقت میں بغداد شریف، کربلا معلیٰ، اور نجف اشرف میں مولائے کائنات امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ، سید الشہداء سید نا امام حسین ، سید التابعین امام اعظم ابو حنیفہ ت اور سرکار غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانی ٗ مع دیگر مزارات مقدسہ پر حاضری کی سعادت اور انوار و برکات کی دولت سے مشرف ہوئے۔
❤1
عقیدہ ختم نبوت کےتحفظ میں شاندار خدمات: آپ کی زندگی کا اہم منفرد اور دلچسپ کارنامہ ہے ختم نبوت کے حوالے سے تقریباً ایک صدی کے تناظرمیں علماء و مشائخ اہل سنت احناف نے جو گراں قدر کام کیا ہے ۔ گردشِ زمانہ کےپیشِ نظر ان کی دوبارہ شاعت نہ ہوسکی۔اس لیے دیگر اہم کتب کی طرح ان کےنایاب ناپید ہونے کاخطرہ پیدا ہوگیا تھا۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے شاہینِ ختم نبوت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین قادری کوانہوں نے تمام نادر و نایاب کتب و رسائل کو جمع و تدوین کا منفرد کام سر انجام دیا۔یہ وہ عظیم و منفرد کام ہے جو کہ مفتی امین کو ہمیشہ زندہ رکھے گا۔، جب کام سامنے آئے گا تو آپ کی محنت شاقہ، کھوجنا، تلاش ، جستجو ، ذوق و شوق کا اندازہ ہوگا کہ آپ نے کہاں کہاں اور کس قدر مسافت کے سفر اختیار کئے، کن کن لائبریریوں میں راتیں جاگ کر اجالا کیا، کن کن شخصیات سے رابطہ کرکے خانہ تلاشی کا کام کیا، قلمی و بیاض سے کیسی کیسی تحریریں برآمد کیں۔اس حوالے سے مفتی صاحب خود رقم طراز ہیں کہ:
”آج سے تقریباً تین سال قبل عزیزی توفیق قادری ضیائی حنفی نے ایک ملاقات میں فقیر سے کہا کہ ختم نبوت کے موضوع پر علمائے اہل سنّت کی کتب کو شائع کیا جائے۔ یہ تقریباً سوا صدی پر محیط علماء و مشائخ اہل سنّت کی علمی جدوجہد پر مشتمل منتشر کام کو یکجا کرنا تھا، بزرگوں کی دعاؤں اور سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے وصف خاص ختم نبوت کے ادنیٰ فدائیوں میں اپنا نام لکھوانے کی غرض سے کمر ہمت باندھی‘‘۔(روشن دریچے:38
اس عظیم الشان کام کے لیے آپ نے پاکستان بھر کی بیشتر لائبریریوں کی خاک چھانی اور بہت کم وقت میں عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے علماء اہل سنّت کی کتابوں، مضامین اور تحریری کام کو جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مفتی صاحب نے عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق مواد کو کئی جلدوں میں جمع کیا ہے اور ابتدائی چھ جلدوں پر مقدمہ مدینہ شریف میں بیٹھ کر مکمل کیا۔ ابھی کچھ جلدیں ہی زیور طباعت سے آراستہ ہوئی تھیں کہ آپ فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آپ کے بعد اس مشن کو ”ادارہ تحفظ عقائد اسلام“ نے جاری رکھا۔ الحمدللہ 2013ء تک اس ادارہ نے’’ انسائیکلوپیڈیا عقیدۂ ختم نبوت‘‘ کی پندرہ جلدیں شائع کر دی ہیں ۔15/جلدیں کے اس مجموعے میں کل تیس (30) علماء اہل سنّت کی باسٹھ (62) کتابوں اور رسائل کو 7674 (سات ہزار چھ چوہتر) صفحات میں ایک جگہ جمع کر کے شائع کیا گیا ہے، ابھی مزید کئی جلدوں پر کام جاری ہے۔اس کے علاوہ مفتی صاحب نے پہلی بادارالعلوم امجدیہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلے میں 15/ روزہ تربیتی کورس شیخ الحدیث علامہ منظور احمد فیضی کے ذریعے حضرت مفتی محمد ظفر علی نعمانی کی نگرانی میں کروایا۔ کورس کے اختتام پر اسناد بھی جاری کی گئیں۔ آپ ہر سال 7 ستمبر کو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں اکابرین امت کی مدلل تحریروں سے مزین پوسٹر بھی شائع کرتے رہے۔
تصنیف و تالیف:
آپ نے دار العلوم امجدیہ میں دوران تعلیم سالنامہ ’’رفیق علم‘‘ کا اجراء کروایا۔ امجدیہ کے پچاس سال پورے ہونے پر ’’رفیق علم کا گولڈن جوبلی‘‘ نمبر شائع کروانے میں بھی کامیاب ہوئے۔’’وفا کے پیکر‘‘ (تحریک پاکستان میں علمائے اہل سنت کا کردار)۔اردو زبان میں بیس حصوں پر مشتمل فقہ حنفی کا مشہور انسائیکلو پیڈیا یعنی بہار شریعت کے مکمل بیس حصے کمپوز کروا کر ایک کمپیوٹر سوفٹ ویئر سی ڈی تیار کرائی جو ایک ادارے کے زیر نگرانی خوبصورت کتابی شکل میں پر نٹ ہوکر مارکیٹ میں دستیاب ہے۔امام احمد رضا فاضل بریلی کےفتا ویٰ رضویہ کی سوفٹ ویئر سی ڈی بنا نے کے لئے اکثر جلدوں کی کمپوزنگ مکمل کروائی جو مصنف جامع الاحادیث حضرت علامہ حنیف صاحب دام ظلہ العالیٰ کے زیر نگرانی تحریج اور تسہیل کے مراحل سے گزر دخراجِ تحسین وصول کرچکی ہے۔(شاہینِ ختمِ نبوت:3)۔آپ نے ایک شادی کی جس سے ایک بیٹی تولد ہوئی۔آپ کے وصال کے پندرہ دن بعد آپ کے گھر ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام محمد علقمہ رکھا گیا۔
تاریخِ وصال:
18 ذوالقعدہ 1426ھ ،20/دسمبر 2005ء، بروز بدھ، وقتِ نماز مغرب فقط چھتیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔میوہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ روشن دریچے ۔ شاہین ختم نبوت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-ameen-qadri-attari
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے شاہینِ ختم نبوت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین قادری کوانہوں نے تمام نادر و نایاب کتب و رسائل کو جمع و تدوین کا منفرد کام سر انجام دیا۔یہ وہ عظیم و منفرد کام ہے جو کہ مفتی امین کو ہمیشہ زندہ رکھے گا۔، جب کام سامنے آئے گا تو آپ کی محنت شاقہ، کھوجنا، تلاش ، جستجو ، ذوق و شوق کا اندازہ ہوگا کہ آپ نے کہاں کہاں اور کس قدر مسافت کے سفر اختیار کئے، کن کن لائبریریوں میں راتیں جاگ کر اجالا کیا، کن کن شخصیات سے رابطہ کرکے خانہ تلاشی کا کام کیا، قلمی و بیاض سے کیسی کیسی تحریریں برآمد کیں۔اس حوالے سے مفتی صاحب خود رقم طراز ہیں کہ:
”آج سے تقریباً تین سال قبل عزیزی توفیق قادری ضیائی حنفی نے ایک ملاقات میں فقیر سے کہا کہ ختم نبوت کے موضوع پر علمائے اہل سنّت کی کتب کو شائع کیا جائے۔ یہ تقریباً سوا صدی پر محیط علماء و مشائخ اہل سنّت کی علمی جدوجہد پر مشتمل منتشر کام کو یکجا کرنا تھا، بزرگوں کی دعاؤں اور سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے وصف خاص ختم نبوت کے ادنیٰ فدائیوں میں اپنا نام لکھوانے کی غرض سے کمر ہمت باندھی‘‘۔(روشن دریچے:38
اس عظیم الشان کام کے لیے آپ نے پاکستان بھر کی بیشتر لائبریریوں کی خاک چھانی اور بہت کم وقت میں عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے علماء اہل سنّت کی کتابوں، مضامین اور تحریری کام کو جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مفتی صاحب نے عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق مواد کو کئی جلدوں میں جمع کیا ہے اور ابتدائی چھ جلدوں پر مقدمہ مدینہ شریف میں بیٹھ کر مکمل کیا۔ ابھی کچھ جلدیں ہی زیور طباعت سے آراستہ ہوئی تھیں کہ آپ فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آپ کے بعد اس مشن کو ”ادارہ تحفظ عقائد اسلام“ نے جاری رکھا۔ الحمدللہ 2013ء تک اس ادارہ نے’’ انسائیکلوپیڈیا عقیدۂ ختم نبوت‘‘ کی پندرہ جلدیں شائع کر دی ہیں ۔15/جلدیں کے اس مجموعے میں کل تیس (30) علماء اہل سنّت کی باسٹھ (62) کتابوں اور رسائل کو 7674 (سات ہزار چھ چوہتر) صفحات میں ایک جگہ جمع کر کے شائع کیا گیا ہے، ابھی مزید کئی جلدوں پر کام جاری ہے۔اس کے علاوہ مفتی صاحب نے پہلی بادارالعلوم امجدیہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلے میں 15/ روزہ تربیتی کورس شیخ الحدیث علامہ منظور احمد فیضی کے ذریعے حضرت مفتی محمد ظفر علی نعمانی کی نگرانی میں کروایا۔ کورس کے اختتام پر اسناد بھی جاری کی گئیں۔ آپ ہر سال 7 ستمبر کو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں اکابرین امت کی مدلل تحریروں سے مزین پوسٹر بھی شائع کرتے رہے۔
تصنیف و تالیف:
آپ نے دار العلوم امجدیہ میں دوران تعلیم سالنامہ ’’رفیق علم‘‘ کا اجراء کروایا۔ امجدیہ کے پچاس سال پورے ہونے پر ’’رفیق علم کا گولڈن جوبلی‘‘ نمبر شائع کروانے میں بھی کامیاب ہوئے۔’’وفا کے پیکر‘‘ (تحریک پاکستان میں علمائے اہل سنت کا کردار)۔اردو زبان میں بیس حصوں پر مشتمل فقہ حنفی کا مشہور انسائیکلو پیڈیا یعنی بہار شریعت کے مکمل بیس حصے کمپوز کروا کر ایک کمپیوٹر سوفٹ ویئر سی ڈی تیار کرائی جو ایک ادارے کے زیر نگرانی خوبصورت کتابی شکل میں پر نٹ ہوکر مارکیٹ میں دستیاب ہے۔امام احمد رضا فاضل بریلی کےفتا ویٰ رضویہ کی سوفٹ ویئر سی ڈی بنا نے کے لئے اکثر جلدوں کی کمپوزنگ مکمل کروائی جو مصنف جامع الاحادیث حضرت علامہ حنیف صاحب دام ظلہ العالیٰ کے زیر نگرانی تحریج اور تسہیل کے مراحل سے گزر دخراجِ تحسین وصول کرچکی ہے۔(شاہینِ ختمِ نبوت:3)۔آپ نے ایک شادی کی جس سے ایک بیٹی تولد ہوئی۔آپ کے وصال کے پندرہ دن بعد آپ کے گھر ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام محمد علقمہ رکھا گیا۔
تاریخِ وصال:
18 ذوالقعدہ 1426ھ ،20/دسمبر 2005ء، بروز بدھ، وقتِ نماز مغرب فقط چھتیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔میوہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ روشن دریچے ۔ شاہین ختم نبوت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-ameen-qadri-attari
scholars.pk
Hazrat Mufti Muhammad Ameen Qadri Attari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
محمد بن عبد الستار بن محمد کردری عمادی ۔ کنیت: ابو الوجد ۔ لقب: شمس الائمہ تھا ۔
تایخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 18 ذو القعدہ559 ھ میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
شمس الائمہ کردری رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ ادب پہلے ناصر الدین مطرزی صاحب پڑھا۔شمس الائمہ بکر بن محمد زرنجری سے فقہ پڑھا،حدیث کوسنااور دیگر اساتذہ سے مختلف علوم فنون حاصل کئے۔حسن بن منصور قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ علی بن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہما سے بھی آپ نے علم حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام محقق، فاضلِ مدقق، فقیہ و محدث،عارفِ مذاہب، محیی اصول فقہ تھے۔ آپ نے اس طرح اخلاص و سنجیدگی سے علم حاصل کیا کہ آپ متعدد و علوم میں فائق ہوئے اور اپنے اقران پر غالب آئے اور اہل زمان نے آپ کے فضل و تقدم کا اقرار کیا حتی کہ آپ کے حق میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ نے بعد" زید دبوسی" کے علمِ اصول و فروع کو زندہ کیا۔
درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں جن سے عالم اسلام فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کی ترویج و اشاعت آپ کا خاص مطمعِ نظر تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ بدمذہنوں کا رد لسانی وتحریری طور پر فرماکر لوگوں کو بدمذہبوں کے پاس جانے سے روکتے اور عوام کے عقائدِ حقہ کو بچانے کی بہت جد وجہد فرماتے۔سرج الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکار تھے۔
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر اگر کوئی اعتراض کرتا تو بھر پور طریقے سے جوابی کروائی فرماتے اور یہ ثابت کرتے کہ جو مذہب امام اعظم علیہ الرحمہ نے اختیار فرمایا ہے وہ عین قرآن وحدیث کے مطابق ہے ۔
وصال:
آپ نے 9 محرم الحرام 642 ھ بمطابق جون 1244ء میں بخارا میں جمعہ کے روز وفات پائی ۔
ماخذ و مراجع:
سیر اعلام النبلاء ۔ حدائق الحنفیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shams-ul-ayima-muhammad-bin-abdul-sattar
اسمِ گرامی:
محمد بن عبد الستار بن محمد کردری عمادی ۔ کنیت: ابو الوجد ۔ لقب: شمس الائمہ تھا ۔
تایخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 18 ذو القعدہ559 ھ میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
شمس الائمہ کردری رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ ادب پہلے ناصر الدین مطرزی صاحب پڑھا۔شمس الائمہ بکر بن محمد زرنجری سے فقہ پڑھا،حدیث کوسنااور دیگر اساتذہ سے مختلف علوم فنون حاصل کئے۔حسن بن منصور قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ علی بن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہما سے بھی آپ نے علم حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام محقق، فاضلِ مدقق، فقیہ و محدث،عارفِ مذاہب، محیی اصول فقہ تھے۔ آپ نے اس طرح اخلاص و سنجیدگی سے علم حاصل کیا کہ آپ متعدد و علوم میں فائق ہوئے اور اپنے اقران پر غالب آئے اور اہل زمان نے آپ کے فضل و تقدم کا اقرار کیا حتی کہ آپ کے حق میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ نے بعد" زید دبوسی" کے علمِ اصول و فروع کو زندہ کیا۔
درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں جن سے عالم اسلام فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کی ترویج و اشاعت آپ کا خاص مطمعِ نظر تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ بدمذہنوں کا رد لسانی وتحریری طور پر فرماکر لوگوں کو بدمذہبوں کے پاس جانے سے روکتے اور عوام کے عقائدِ حقہ کو بچانے کی بہت جد وجہد فرماتے۔سرج الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکار تھے۔
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر اگر کوئی اعتراض کرتا تو بھر پور طریقے سے جوابی کروائی فرماتے اور یہ ثابت کرتے کہ جو مذہب امام اعظم علیہ الرحمہ نے اختیار فرمایا ہے وہ عین قرآن وحدیث کے مطابق ہے ۔
وصال:
آپ نے 9 محرم الحرام 642 ھ بمطابق جون 1244ء میں بخارا میں جمعہ کے روز وفات پائی ۔
ماخذ و مراجع:
سیر اعلام النبلاء ۔ حدائق الحنفیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shams-ul-ayima-muhammad-bin-abdul-sattar
scholars.pk
Hazrat Shams-ul-Aima Muhammad Bin Abdul Sattar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
فخر الأماثل حضرت سید شاہ مہدی حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادتِ مبارکہ:
آپ کی ولادت 1287ھ، 71-1870ء میں مارہرہ شریف میں ہوئی۔
والد ماجد:
حضرت سید شاہ ظہور حسین عرف چھٹو میاں ابن خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی قدس سرہما۔
آپ خاندان برکات میں کس شیخ کی گدی کے وارث تھے؟
حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں قدس سرہٗ کے۔
رسم بسم اللہ خوانی:
آپ کی رسمِ بسم اللہ خوانی حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ادا فرمائی۔
مجدد برکاتیت حضرت شاہ ابو القاسم سے آپ کا کیا رشتہ تھا؟
آپ ان کے داماد تھے۔
زوجہ محترمہ:
پہلا عقد بنیادی بیگم بنت حضرت سید حسین سے اور دوسرا عقد سجادی بیگم بنت حضرت ابوالقاسم سید اسماعیل حسن سے۔
اولادِ امجاد:
صرف ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ تھیں۔
حضرت نوری میاں قدس سرہٗ سےرشتہ:
ان کے چچازاد بھائی تھے۔
حضرت مجدد برکاتیت کی صاحبزادی سے آپ کا نکاح کب ہوا؟
29؍ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ ، ۱۸۹۵ء کو۔
اوصاف اور کارنامے:
آپ کا سب سے نمایاں وصف سخاوت تھا، آپ نے پوری زندگی درویشی میں گزاردی، خانقاہ برکاتیہ میں عرس برکاتی نوری بہت دھوم دھام سے منعقد کرایا کرتے تھے۔ آپ کی ذات سے اور ملک گیر پیمانے پر وسیع تعلقات سے اس دور میں خانقاہ برکاتیہ کا خوب تعارف ہوا۔
وصالِ پُر ملال:
18؍ ذی قعدہ 1361ھ، نومبر 1952ء کوآپ کا وصال ہوا اور خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں مدفون ہوئے۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-mehdi-hasan
ولادتِ مبارکہ:
آپ کی ولادت 1287ھ، 71-1870ء میں مارہرہ شریف میں ہوئی۔
والد ماجد:
حضرت سید شاہ ظہور حسین عرف چھٹو میاں ابن خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی قدس سرہما۔
آپ خاندان برکات میں کس شیخ کی گدی کے وارث تھے؟
حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں قدس سرہٗ کے۔
رسم بسم اللہ خوانی:
آپ کی رسمِ بسم اللہ خوانی حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ادا فرمائی۔
مجدد برکاتیت حضرت شاہ ابو القاسم سے آپ کا کیا رشتہ تھا؟
آپ ان کے داماد تھے۔
زوجہ محترمہ:
پہلا عقد بنیادی بیگم بنت حضرت سید حسین سے اور دوسرا عقد سجادی بیگم بنت حضرت ابوالقاسم سید اسماعیل حسن سے۔
اولادِ امجاد:
صرف ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ تھیں۔
حضرت نوری میاں قدس سرہٗ سےرشتہ:
ان کے چچازاد بھائی تھے۔
حضرت مجدد برکاتیت کی صاحبزادی سے آپ کا نکاح کب ہوا؟
29؍ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ ، ۱۸۹۵ء کو۔
اوصاف اور کارنامے:
آپ کا سب سے نمایاں وصف سخاوت تھا، آپ نے پوری زندگی درویشی میں گزاردی، خانقاہ برکاتیہ میں عرس برکاتی نوری بہت دھوم دھام سے منعقد کرایا کرتے تھے۔ آپ کی ذات سے اور ملک گیر پیمانے پر وسیع تعلقات سے اس دور میں خانقاہ برکاتیہ کا خوب تعارف ہوا۔
وصالِ پُر ملال:
18؍ ذی قعدہ 1361ھ، نومبر 1952ء کوآپ کا وصال ہوا اور خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں مدفون ہوئے۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-mehdi-hasan
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Mehdi Hasan
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شہزادۂ غوث الاعظم، حضرت سید عبد الرزاق جیلانی رضی الله تعالیٰ عنہما
نام و نسب:
اسم گرامی: سید عبد الرزاق ۔کنیت: عبد الرحمٰن، ابو الفرح ۔ لقب: تاج الدین ـ
سلسلۂ نسب:
آپ علیہ الرحمہ حضور قطب ربانی، شہباز لامکانی، قندیل نورانی، حضرت سیدنا محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے فرزند ارجمند ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 18 ذیقعد 528ھ مطابق 9 ستمبر 1134ء کو بغداد میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
اپنے والد بزرگوار سے تفقہ حاصل کیا، اور حدیث سنی، اس کے علاوہ ابو الحسن محمد بن الصّائغ ، قاضی ابو الفضل محمد الاموی، ابو القاسم سعید بن البَنّا ، حافظ ابو الفضل محمد بن ناصر ، ابو بکر محمد بن الزّاغوانی، ابو المظفر محمد الہاشمی، ابو المعانی احمد بن علی السّمین ، ابو الفتح محمد بن البطر رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ شیوخ سے بھی حدیث سنی ۔
صاحب روض الزّاھر کا بیان ہے کہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ و ابن النجار رحمۃ اللہ علیہ و عبد الطیف رحمۃ اللہ علیہ و تقی البلدانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بہت سے مشاہیر نے ان سے روایت کی ہے۔ اور شیخ شمس الدین عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ کمال عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ اور احمد شیبان رحمۃ اللہ علیہ اور خدیجہ بنت شہاب رحمۃ اللہ علیہ اور اسمٰعیل عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کو انہوں نے اجازتِ حدیث دی ہے ۔ وقت کے بہت بڑے محدث اور نامور مدرس تھے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی غوث صمدانی حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلسلۂ عالیہ قادریہ میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
محدث، مفسر، متکلم، فقیہ، جامع شریعت و طریقت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت تاج الدین عبد الرزاق جیلانی بن سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہما الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ مفتیِ عراق، اور جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے ۔ تمام عمر درس و تدریس وعظ و نصیحت میں مصروف رہے ۔ ثقاہت و صداقت، تواضع و انکساری میں مشہور تھے ۔ صبر و شکر و اخلاق حسنہ و عفت شعاری میں معروف تھے ۔ زہد و خاموشی اِن کا شیوہ تھا، عموماً لوگوں سے کنارہ کش رہتے، سوائے ضرورت دینی کے گھر سے نہ نکلتے ۔ کتاب جلاء الخواطر ملفوظات حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه انہوں نے ترتیب دی ہے ۔
ایک مرتبہ آپ علیہ الرحمہ اپنے والد گرامی حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کی محفل میں شریک تھے ۔اچانک آپ علیہ الرحمہ نے اوپر کی طرف نگاہ اٹھائی تو ڈر گئے حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه نے فرمایا ڈرو مت یہ رجال الغیب ہیں، اور تم بھی انہیں میں سے ہو ۔
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ میں اپنے والد گرامی حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ کر آ رہے تھے، اور میرے دو بھائی بھی ساتھ تھے ۔ خلیفۂ بغداد کے لئے شراب کے مٹکے اس کے سپاہی لے کر جا رہے تھے ۔ آپ نے انہیں روکا وہ نہیں رُکے بلکہ سواری اور تیز کر دی آپ نے سواری سے فرمایا رُک جا وہ رُک گئی ۔ ملازمین درد قولنج میں تڑپنے لگے، جب انھوں نے معافی طلب کی تو آپ نے معاف فرما دیا اور شراب کے مٹکوں کو سرکے میں تبدیل کر دیا ۔ پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ۔ جب خلیفہ تک یہ با ت پہنچی تو آپ کی خدمت حاضر ہو کر تائب ہوا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ، 6 شوال المکرم 603ھ مطابق 5/1207ء کو ہوا ۔ بغداد باب الحرب میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع: شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-bakr-tajuddin-abdul-razzaq-bin-ghous-e-azam
نام و نسب:
اسم گرامی: سید عبد الرزاق ۔کنیت: عبد الرحمٰن، ابو الفرح ۔ لقب: تاج الدین ـ
سلسلۂ نسب:
آپ علیہ الرحمہ حضور قطب ربانی، شہباز لامکانی، قندیل نورانی، حضرت سیدنا محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے فرزند ارجمند ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 18 ذیقعد 528ھ مطابق 9 ستمبر 1134ء کو بغداد میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
اپنے والد بزرگوار سے تفقہ حاصل کیا، اور حدیث سنی، اس کے علاوہ ابو الحسن محمد بن الصّائغ ، قاضی ابو الفضل محمد الاموی، ابو القاسم سعید بن البَنّا ، حافظ ابو الفضل محمد بن ناصر ، ابو بکر محمد بن الزّاغوانی، ابو المظفر محمد الہاشمی، ابو المعانی احمد بن علی السّمین ، ابو الفتح محمد بن البطر رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ شیوخ سے بھی حدیث سنی ۔
صاحب روض الزّاھر کا بیان ہے کہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ و ابن النجار رحمۃ اللہ علیہ و عبد الطیف رحمۃ اللہ علیہ و تقی البلدانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بہت سے مشاہیر نے ان سے روایت کی ہے۔ اور شیخ شمس الدین عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ کمال عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ اور احمد شیبان رحمۃ اللہ علیہ اور خدیجہ بنت شہاب رحمۃ اللہ علیہ اور اسمٰعیل عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کو انہوں نے اجازتِ حدیث دی ہے ۔ وقت کے بہت بڑے محدث اور نامور مدرس تھے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی غوث صمدانی حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلسلۂ عالیہ قادریہ میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
محدث، مفسر، متکلم، فقیہ، جامع شریعت و طریقت، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت تاج الدین عبد الرزاق جیلانی بن سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہما الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ مفتیِ عراق، اور جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے ۔ تمام عمر درس و تدریس وعظ و نصیحت میں مصروف رہے ۔ ثقاہت و صداقت، تواضع و انکساری میں مشہور تھے ۔ صبر و شکر و اخلاق حسنہ و عفت شعاری میں معروف تھے ۔ زہد و خاموشی اِن کا شیوہ تھا، عموماً لوگوں سے کنارہ کش رہتے، سوائے ضرورت دینی کے گھر سے نہ نکلتے ۔ کتاب جلاء الخواطر ملفوظات حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه انہوں نے ترتیب دی ہے ۔
ایک مرتبہ آپ علیہ الرحمہ اپنے والد گرامی حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کی محفل میں شریک تھے ۔اچانک آپ علیہ الرحمہ نے اوپر کی طرف نگاہ اٹھائی تو ڈر گئے حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه نے فرمایا ڈرو مت یہ رجال الغیب ہیں، اور تم بھی انہیں میں سے ہو ۔
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ میں اپنے والد گرامی حضرت غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنه کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ کر آ رہے تھے، اور میرے دو بھائی بھی ساتھ تھے ۔ خلیفۂ بغداد کے لئے شراب کے مٹکے اس کے سپاہی لے کر جا رہے تھے ۔ آپ نے انہیں روکا وہ نہیں رُکے بلکہ سواری اور تیز کر دی آپ نے سواری سے فرمایا رُک جا وہ رُک گئی ۔ ملازمین درد قولنج میں تڑپنے لگے، جب انھوں نے معافی طلب کی تو آپ نے معاف فرما دیا اور شراب کے مٹکوں کو سرکے میں تبدیل کر دیا ۔ پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ۔ جب خلیفہ تک یہ با ت پہنچی تو آپ کی خدمت حاضر ہو کر تائب ہوا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ، 6 شوال المکرم 603ھ مطابق 5/1207ء کو ہوا ۔ بغداد باب الحرب میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع: شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-bakr-tajuddin-abdul-razzaq-bin-ghous-e-azam
scholars.pk
Hazrat Syed Abu Bakr Tajuddin Abdul Razzaq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Syed Abu Bakr Tajuddin Abdul Razzaq Bin Ghous e Azam
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-11-1444 ᴴ | 07-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-11-1444 ᴴ | 08-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1