🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
فقیہ عصر حضرت مولانا مفتی قاسم یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

استاد الاساتذہ ، فقیہ عصر ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم یاسینی بن استاد العلماء حضرت علامہ محمد ہاشم یاسینی ۱۶، ربیع الاخر ۱۳۰۵ھ بروز اتوار صبح کو تولد ہوئے۔ ’’صدر اعظم ‘‘ سے ان کی تاریخ ولادت نکلتی ہے:

پرمش از میلاد او کردم سروش
’’صدر اعظم‘‘ گفت تاریخش بگوش
۱۳۰۵ھ

تعلیم و تربیت:
مفتی محمد قاسم صاحب نے اپنے والد ماجد علامہ محمد ہاشم یاسینی کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی۔ اعلیٰ تعلیم اور فتویٰ نویسی کے لئے بر صغیر کے فقیہ اعظم ، امام اہل سنت، علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ الاقدس کی خدمت عالیہ میں ہمایون شریف میں رہ کر مہارت تامہ حاصل کی۔

بیعت:
حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی ( ٹکھہڑ ضلع حید رآباد) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر سلوک کی منازل طے کی۔

درس و تدریس:
مولوی دین محمد وفائی لکھتا ہے: فقیر نے طالب علمی کے زمانہ میں ان سے کافیۃ النجو کے اسباق پڑھے تھے ۔ مولانا محمد قاسم صاحب علم و ادب اور عربیت کے بہت بڑے عالم تھے کہ سندھ میں ان کے ہمعصر علماء میں کوئی ان کے مرتبہ کا نہیں تھا۔ فقہ کے مسائل کو حل کرنا اور فتویٰ نویسی میں زیاد ہ سے زیادہ استعد اد اور مہارت تھی۔ علامہ ہمایونی کی وفات کے بعد وہ بلوچستان اور شمالی سندھ کے عوام الناس کا مرجع تھے فتاوی لئے جاتے تھے اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا مشغلہ بھی جاری تھا ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ )

تصنیف وتالیف:
٭ فتاویٰ قاسمیہ جلد اول ( فارسی ) مرتبہ : مفتی محمد صاحبداد جمالی سلطان کوٹی طبع اول لاہور طبع ثانی قندھار ( افغانستان ) میں شائع ہوا۔
٭ رسالہ اہل سنت عقائد نامہ ( سندھی ) طبع ثانی جماعت اہل سنت پاکستان سکھر ۱۳۸۹ھ
٭ عمدۃ الاثار فی ذکر اخیار الکتبار ( مطبوعہ )

مشائخ درگاہ کٹبار شریف کے متعلق ہے۔

٭ دربارہ تقلید ۔
٭ الفاظ القرآن بامعنی فارسی ( نامکمل )
٭ مجموعہ اشعار ( قلمی ) وغیرہ وغیرہ

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں بہت سارے علماء کے نام آتے ہیں ، ان میں بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :

٭ مولانا مفتی حافظ محمد ابراہیم یاسینی برادر اصغر
٭ مفتی اعظم پاکستان علامہ محمد صاحبداد خان ناصح جمالی سلطان کوٹ
٭ مولانا احمد صاحب قاضی مکران بلوچستان
٭ مولانا ناولی محمد صاحب قاضی مٹھڑی بلوچستان
٭ مولانا محمد حسین صاحب کھاوڑ مدیر الحنیف جیکب آباد
٭ مولانا عبدالحکیم صاحب شاہل سدایو
٭ مولانا غلام صدیق خجکی خجک سبی
٭ مولانا محمد حسن صاحب مکرانی
٭ مولانا صدر الدین صحبت پوری
٭ مولانا صاحبڈ نہ صاحب قرانی
٭ مولانا عبدالرحمن صاحب بلوچستانی ثم جیکب آبادی
٭ مولانا فضل محمد صاحب واعظ گڑھی یاسین
٭ مولانا حافظ محمد ہاشم صاحب اسھاق دیرائی
٭ مولانا محمد عابد صاحب اوستوی
٭ مولانا عبداللطیف اوستوی
٭ مولانا نصیر الدین صاحب سجادہ نشین درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ
٭ مخدوم مولانا شفیع محمد صدیقی پاٹ شریف
٭ مولانا قمر الدین مہیسر دگانو مھیسر
٭ مولانا حافظ محمد موسیٰ امام مسجد بخاری جیکب آباد
٭ مولانا میاں فخر الدین سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف
٭ صاحبزادہ عبدالغفار جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
٭ صاحبزادہ غلام احمد جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان

شعر و شاعری:
مولانا صاحب طالب علمی کے زمانہ سے جب فارسی پڑھتے تھے ان دنوں سے شعر کہتے تھے، آپ کا شعر نہایت شستہ اور بر جستہ ہے۔ عارف کامل حضرت مولانا سید احمد خالد شامی ؒ جو خود بھی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے، مولانا کا شعر سن کر داد دیتے تھے۔ عربی زبان نہایت فصاحت و بلاغت سے بولتے تھے اور خود اہل عرب بھی ان کے معترف تھے۔ ’’قاسم ‘‘ تخلص ہے سندھی مادری زبان کے علاوہ عربی اور فارسی میں شاعری کی ہے ۔ ان کے فارسی اشعار کا ذخیرہ کافی ہے جو غزلیات، تواریخ ، قطعات ، منظومات ، مناجات اور قصائد پر مشتمل ہے۔

وصال:
حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب ۴۴ سال کی عمر میں ۱۸، ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ؍۱۹۲۹ء کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کی مزار شریف گڑھی یاسین (ضلع شکار پور سندھ ) کے قبرستان میں ایک کمرے میں زیارت گاہ خلق اللہ ہے ۔ آپ کو ’’صاحب تکبیر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے وہ اس طرح کہ جب آپ کی نماز جنازہ پڑھی جارہی تھی تو جیسے ہی امام نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی اسی وقت مفتی صاحب کے جنازہ سے بھی تکبیر کی آواز جا ری ہوئی ۔

عالِم کی موت اصل میں عالَم کی موت ہے، آپ کے وصال پر علماء و مشائخ کو نہایت افسوس ہوا انہوں نے اپنے جذبات کو نظم میں قلمبند کیا۔ ان حضرات کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:

٭ شیخ الدلائل حضرت مولانا سید عبدالفتاح رضوانی صاحب
2
مسجد نبوی شریف ، مدینہ منورہ

٭ پیر محمد اسماعیل جان ’’روشن ‘‘ سر ہندی ( صاحب دیوان روشن فارسی ) سامار و ضلع عمر کوٹ
٭ مولانا حکیم مطیع الرحمن صاحب مطیع ضلع فیض آباد انڈیا
٭ مفتی محمد صاحبداد خان ناصح جمالی ( جامع فتاویٰ قاسمیہ
٭ مولانا محمد عظیم ’’شیدا ‘‘ سولنگی
(مصنف سیرت مصطفی سندھی ) نصیر آباد
٭ مولانا قمر الدین مہیسر صاحب مدیر مہیسر
دگانو مہیسر
٭ قاضی محمد ابراہیم صاحب
شہداد کوٹ
٭ ماسٹر جان محمد صاحب محسن
٭ مولوی نزیر حسین جتوئی

رتودیرو

ان میں سے چند قطعات درج ذیل ہیں:

مفتی محمد صاحبداد خان ’’ناصح ‘‘ جمالی :

آن امام محمد قاسم
کہ بحسن خصال بود فرید

کس نظیرش ندید در عالم
خلق حق را بخلق نیک خرید

گفت ’’ناصح‘‘ سنش بزیب جلوس
’’طائر روح او بعرش پرید‘‘
۱۳۴۹ھ

قاضی محمد ابراہیم کارڑائی شہداد کوٹ:

آن فقید المثیل و حبر امین
مفتی عصر فاضل یاسین

بے سر وقف گفتش تاریخ
’’فخر احناف زیب زمرہٗ دین‘‘
۱۳۴۹ھ

پیر محمد اسماعیل روشن سر ہندی:

محمد قاسم آں علامہ دہر
نکو رو و نکو خو و نکو نام

ہزاراں طالبان نردش رسانید
نصاب علم حقانی بانجام

زوصلش گفت ’’روشن‘‘ باصد آہ !
بگو کل گشت ’’شمع اہل اسلام‘‘

۱۳۴۹ھ

حکیم مطیع الرحمن ’’مطیع‘‘:

جو محمد قاسم اہل فیض تھے
عالم بے مثل یکتائے جہاں

دے کے داغ غم مہ ذیقعد میں
چل بسے وہ جانب باغ جناں

سال رحلت تم سناوٗ اے ’’مطیع‘‘
’’واصل رب ہو گیا فخر زماں‘‘

( ماخوذ :۔ تذکرہ مشاہیر سندھ ۔ مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء ۔ روشن صبح سندھی ۔ مختصر سوانح حیات سندھی طبع قدیم مرتبہ : مولانا محمد حسین کھاوڑ ایڈیٹر الحنیف)

قطعہ تاریخ وصال:

ضیائی قدر مولانا ضیائی
کہ بودش با محمد خوش دعائی

سر سرمایہ علم و ادب بود
معلی یایہ علم و ادب بود

منا جاتی اجل آمد برمن
بجنت رفست روح جلد ترمن

زمر من جھانے شد یراز غم
کہ موت عالم آمد موت عالم

بخلق احسن و فرخندہ روئی
ازیش عالم بخود بردہ نکوئی

چو بانگ ارجعی درگوش من رفت
زفرط شادمانی ھوش من رفت

رواں جانم بہ جنت شد شتابی
بہ نعمتھائی حق شد بھریابی

بحمد اللہ کہ بودش رحم برمن
کہ اعلیٰ یایہ شد کرم برمن

کہ بود بسیت ھشتم ماہ صفر
ختم شد زندگی من باالمظفر

زصبح روز خمس جاں ازیں رفت
’’سن او سوئے فردوس بریں رفت‘‘
۱۳۹۷ھ

’’ضیائی‘‘ درحتش داعی است ھر دم
کہ در جنست بودبس شاد و خرم

مولانا مفتی محمد ابراہیم ’’ناظم ‘‘یاسینی

حضرت مولانا حافظ مفتی محمد ابراہیم بن حضرت مولانامفتی محمد ہاشم گڑھی یاسین ( ضلع شکار پور سندھ ) میں ۱۳۰۷ھ بمطابق ۱۸۹۰ء کو تولد ہوئے۔ آپ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم یاسینی ( صاحب فتاویٰ قاسمیہ ) کے چھوٹے بھائی تھے ۔

تعلیم و تربیت:
مفتی محمد ابراہیم نے ناظرہ قرآن مجید اور فارسی کتب کا درس اپنے والد ماجد سے لیا۔ اس کے بعد والد ماجد کے شاگرد قاری حافظ نور محمد کے یہاں قرآن مجید حفظ کیا۔ والد ماجد کے انتقال کے بعد اسکول کی تعلیم مکمل کر کے عربی علوم و فنون کی تعلیم اپنے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد قاسم یاسینی سے حاصل کی اور مدرسہ ہاشمیہ قاسمیہ گڑھی یاسین سے فارغ التحصیل ہوئے۔

بیعت:
آپ سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی کے والد حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی ؒ ( درگاہ ٹنڈو سائینداد) سے بیعت تھے اور سلسلہ قادریہ میں اویسی تھے۔

درس و تدریس:
آپ تعلیم و تدریس کو خدمت دین بلکہ عبادت سمجھتے تھے۔ رحلت سے تقریبا ایک برس قبل ایک بار بیمار ہوئے بخار کی شدت سے جسم تپ رہا تھا۔ غالبا کمزوری کی وجہ سے لرزہ بھی طاری تھا۔ تکیوں کے سہارے بھی چین کے ساتھ بیٹھ یا لیٹ نہیں سکتے تھے ۔ اس حال میں بھی درس دے رہے تھے۔ اس وقت آپ کے ایک شاگرد حافظ خیر محمد اوحدی بھی موجود تھے۔ انہوں نے غرض کیا کہ ایسی کیفیت میں درس دینا ضروری نہیں ہے۔ آپ آرام کیجئے ۔ طلبہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ’’یہ امید لے کر میرے پاس آتے ہیں میں ان کو ناامید کیسے کروں ‘‘حدیث شریف کا درس دیتے ہوئے عقیدت و احترام کے تمام لوازمات کو ملحوظ رکھتے تھے اور درس دیتے ہوئے اکثر اوقات روتے رہتے ۔

تصنیف و تالیف:
درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی سے آپ کو اگر چہ کم فرصت ملی تاہم تیس ( ۳۰) کے قریب آپ کی اہم تصانیف موجود ہیں جو کہ مختلف زبانوں میں ہیں ۔ ان میں سے بعض مطبوعہ اور اکثر غیر مطبوعہ ہیں ۔

٭ ترجمہ مشکوٰۃ ربع اول ( سندھی )
٭ ازالۃ الارتیاب عن الاحکام الصلوۃ الی القبور و القاب
٭ القول الصواب فی تحقیق قبور قبات
٭ البینات الواضحات فی حکم اعطاء الصدقات الی الشرفاء والسادات( سید وں کو زکوٰۃ دینے کے جواز میں )
٭ تمیز الحلال من الحرام الدفع اوھام الجھال والعوام ۔ ( مطبوعہ رفاہ عام اسٹیسم پریس لاہور ۱۳۴۰ھ؍ ۱۹۲۲ء )
٭ ھدایۃ العباد فیما یتعلق بالضاد ( سندھی )
٭ مامریدان (منظوم فارسی )
٭ دیوان ناظم ( فارسی )
٭ مجموعہ تاریخ
٭ قوت ایمان ( سندھی )
٭ مناس
1
ک حج ( سندھی )
٭ لباس البنی ﷺسندھی ( کتابچہ )
٭ تعلیم المسلمین ( سندھی )
٭ فتاویٰ ناظم ( قلمی ، غیر مرتب)
٭ سیف اللہ علیٰ من المنکر نداء بیارسول اللہ
٭ نجات المومنین فی حکم عرس النبی الامین
٭ کشف الغمہ فی امداد النبی الامہ
٭ کشف القناع عن حکم السماع
٭ النظم المقبول فی آداب الرسول ( منظوم فارسی )
٭ جمع القرآن فی زمان سید الانس والجان
٭ القول المبین فی عدم رفع الصوت الامین
٭ توضیح مااحل اللہ مما اھل بہ لغیر اللہ
٭ تفسیر حنفی پارہ الم وعم ( سندھی )
٭ الحجۃ الکافیہ فی جواز الجماعۃ الثانیہ
٭ نھج الانصاف فی حکم مونو گراف
٭ فصل الخطاب فی حکم الغراب
٭ نوری نبی ﷺ
٭ فتاویٰ ہمایونی کا سندھی ترجمہ مع خلاصہ
٭ میلاد نامہ ( منظوم سندھی ) صفحات ۲۱

٭ معراج نامہ ( منظوم سندھی ) صفحات ۱۰( دونوں کتابچہ گڑھی یاسین سے شائع ہوئی ہیں )

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی فہرست بڑی طویل ہے جن میں سے کئی ایک نے بڑی ناموری حاصل کی اور اپنے فضل و کمال کی وجہ سے بلند ترین مقام پر فائز ہوئے۔

٭ مولانا مفتی عبدالباقی ہمایونی سجادہ نشین درگاہ ہمایون شریف

٭ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد صاحبداد خان سلطان کوٹی ( سابق شیخ الحدیث جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ )

٭ نامور ادیب و شاعر مولانا حافظ خیر محمد اوحدی شکارپور

٭ مولانا تاج محمد کٹبار شریف ۔ مولانا عبدالعزیز اوڈھو صدر مدرس مدرسہ مجددیہ ، مولانا محمد حسین کھاوڑ، ایڈیٹر الحنیف جیکب آباد ( تذکرہ شعراء سکھر ص ۲۶۸)

عہدۂ قضاء:
آپ ۱۳۶۵ھ میں ریاست قلات کے عہدہ قضاء پر بھی فائز ہوئے اور کافی عرصہ تک افتاء کے ساتھ قضاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

سفر حرمین شریفین:
آپ ۱۳۵۵ھ میں حرمین شریفین کی زیارت سے سعادت افروز ہوئے۔ حج کے بعد بلاد اسلامیہ کی سیاحت کی۔

عراق میں قیام:
عراق میں کافی عرصہ قیام کیا۔ بغداد شریف کے ایک عالم و ادیب شیخ صالح کرد کے مہمان تھے اور انہی کی دعوت اور مسلسل اصرار پر عراق تشریف لے گئے تھے۔ شیخ صالح ، شاہ عراق الفیصل اول کے مصاحب تھے۔ مولانا محمد ابراہیم سے ان کی ملاقات کراچی میں ہوئی تھی ۔ پھر دونوں کے درمیان ایک عرصہ تک خط و کتابت ہوتی رہی ۔ شیخ صالح نے مولانا کے خطوط اپنے حلقہ احباب کے عراقی علماء اور ادیبوں کو دکھائے۔ انہوں نے خطوط دیکھ کر یہ بات ماننے سے انکار کر دیاکہ یہ کسی عجمی نے لکھے ہیں کہ عجمی اتنی فصاحت و بلاغت اور بے تکلفی کے ساتھ عربی نہیں لکھ سکتا اور نہ ہی اس کی تحریر کردہ عربی میں اتنی گیرائی و گہرائی اور ادبیت ہو سکتی ہے یہ ضرور کوئی اہل عرب ہیں جو عرب سے نقل مکانی کر کے سندھ میں جاکر سکونت پذیر ہو گئے ہیں ۔ اسی وجہ سے شیخ صالح اصرار کرتے رہتے تھے کہ آپ ایک بار عراق ضرور تشریف لائیں تا کہ یہاں کے اہل علم و ادب کے ساتھ آپ کی ملاقات کرائی جائے اور میری بات کی تصدیق ہو سکے ۔ علمائے عراق کے ساتھ مولانامحمد ابراہیم کی بڑی پر لطف اور یاد گار صحبتیں ہوئیں ۔ قیام عراق کے دوران نجف اشرف، کربلا معلی، اور دیگر مزارات مقدسہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ ، شیخ معروف کرخی ، شیخ سری سقطی، شیخ جنید بغدادی ، شیخ شبلی اور حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مزارات کی زیارت سے شرف اندوز ہوئے۔

شخصیت:
آپ نہ صرف مدرس ، مفتی اورقاضی تھے بلکہ ادیب ، شاعر، محقق مصنف اور حاضر جواب مناظر تھے۔ عربی و فارسی زبان اور شعر و ادب پر اس قدر دسترس رکھتے تھے جس قدر اپنی مادری زبان سندھی پر اور اس کے شعر و ادب پر رکھتے تھے۔ زندہ دلی ، شگفتگی ، سخن فہمی اور نکتہ رسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ مزاج میں بے انتہا خود داری اور خود اعتمادی تھی ۔ کتب متداولہ کا عمر بھر درس دیا ان کی امتیاز ی خصوصیت یہ تھی کہ فقہ اور اصول فقہ میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ ان کے بے شمار فتاویٰ موجود ہیں جو انہوں نے وقتا فوقتا ہر مسئلہ پر تحریر کئے ہیں ۔ آپ کا ہر فتویٰ مدلل اور مستند حوالہ جات سے مزین ہوتا تھا۔ آپ اہل سنت و جماعت کے قابل فخر سر مایہ تھے ۔ اہل سنت و جماعت سندھ کی تنظیم ’’جمعیت الاحناف سندھ ‘‘ جو کہ سندھ کے نامور علماء نے فرقہ جدیدہ وہابیت دیوبند یت کے اصل کردار کر واضح کرنے اور عوام الناس کو ان کے عقائد باطلہ سے بچانے کے لئے بناتی تھی آپ اس تنظیم کے ناظم تھے اسی لئے اپنا پہلا تخلص ’’حافظ ‘‘ترک کر کے ’’ناظم ‘‘ تخلص اختیار کیا۔

مولانا محمد ابراہیم انتہائی نیکو کار، متقی اور عبادت گذار تھے۔ سنت نبوی کے تابع اور حضور اکرم ﷺ کے عاشق زار، گھر کے قریب مسجد تھی نصف شب کے بعد مسجد میں جاتے تہجد ادا کر کے پہلے ذکر و فکر میں مشغول ہوتے اور پھر کھڑ ے ہو کر ہاتھ باندھ کر قصیدہ بردہ شریف پڑھنے اور جب اس شعر پر پہنچتے تو بار بار اس کی تکرار کرتے کہ:

ھو الحبیب الذی ترجیٰ شفاعتہ
لکل ھول من الاھوال مقتحم

اور زار وقطار روتے ہوئے اور اسی کیفیت میں
1
پڑھتے اور قصیدہ بردہ شریف کا ختم فرماتے ۔

سراج العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی ؒ ( کوٹ مٹھن شریف ) کے خلیفہ ، عاشق رسول ، بلبل چمن رسالت مولانا محمد یار گڑھی شریف والے مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب کے اوصاف بیان کرتے ہیں :

خلیل وقت ابراہیم نامے
امامے حجت ہر خاص دعائے

اولاد:
آپ کو اکلوتا بیٹا حاجی محمد احسان سومرو پیدا ہوا، ان کا آپ کی زندگی میں ۱۹۶۰ء کو انتقال ہوا۔

وصال:
مفتی محمد ابراہیم نے ۷، شعبان المعظم ۱۳۸۴ھ بمطابق ۱۲، دسمبر ۱۹۶۴ء کو ۷۷ سال کی عمر میں ندائے ارجعی کو لبیک کہہ کر واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزار شریف گڑھی یسین میں زائرین کیلئے حصول برکت کا ذریعہ ہے ۔آپ نے اپنے وصال سے قبل خود اپنا قطعہ تاریخ وصال کہاجو کہ درج ذیل ہے: (مفتی محمد قاسم یاسینی اویسی کے ارسال کردہ مواد سے ماخوذ ہے)

ہرچہ آن دوست نمودہ است ہمہ دان کہ نکواست
باشد پسندیدہ دل آنچہ پسندیدہ اوست

خود بگفتا بدم آخر باطبع پاک
حمد اللہ کہ نمردیم رسیدیم بدوست

۱۲۷۷۔۱۰۷۔ ۱۳۸۴ھ

(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-qasim-yasini
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مفتی محمد امین قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مفتی محمد امین قادری ۔لقب: شاہینِ ختمِ نبوت ۔

سلسلۂ نسب:
مولانا مفتی محمد امین قادری بن محمد حسین بن محمد ابراہیم واڈی والا ۔ آپ کا نسبی تعلق ’’ کتیانہ میمن‘‘ جماعت سے ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 22 رجب المرجب 1392ھ مطابق 7 نومبر 1972ء کو ’’کھارا در‘‘ کراچیج پاکستان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
میٹرک کتیانہ میمن اسکول ککری گراؤنڈ کھارادر سے کی۔ بی کام سندھ مسلم کامرس کالج کراچی اور ایم اے اسلامیات کراچی یونیورسٹی سے کیا۔دعوت اسلامی کے ماحول نے متاثر کیا تو اس میں شامل ہوگئے پھر دینی تعلیم کا شوق پیدا ہوا تو مولانا محمد جاوید میمن مینگھرانی سے ابتداء کی پھر نور مسجد کاغذی بازار میں مولانا محمد عثمان برکاتی سے رات میں تعلیمی سفر جاری رکھا۔

اکثر کتابیں وہیں پڑھیں اس کے بعد دارالعلوم امجدیہ میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی مدظلہ العالی(مبارکپور) شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی ﷫اور امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس قادری زید مجدہ اور دیگر صد ہا علماء کرام کی موجودگی میں آپ کی دستارِ فضیلت ہوئی۔

بیعت وخلافت:
آپ 1985ء کو جامع مسجد گلزار حبیب میں سلسلہ قادریہ عطاریہ میں امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری سے دست بیعت ہوئے۔ شیخ العرب والعجم محمد بن علوی مالکی مکی، شیخ زکریا بخاری مدنی ، شیخ ابو بکر صدیق الجزائری، شیخ حبیب العالی یمنی کے علاوہ ہندو پاک کے کئی علماء و مشائخ نے خلافتیں سندیں اور اورادو ظائف کی اجازتیں عطا فرمائیں۔ قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی﷫ سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:117)

سیرت وخصائص:
مفتیِ اہل سنت، محسنِ ملت، پروانۂ شمعِ رسالت، شاہینِ ختمِ نبوت، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین قادری﷫۔ آپ﷫ جہدِ مسلسل کےذریعے دینِ متین کی خدمت کرنےوالے انسان تھے۔آپ کاکردار اس افرا تفری اور نفسا نفسی کےدور میں قابلِ تحسین اور قابل ِ تقلید ہے۔قلیل عرصے میں بہت بڑا کام انجام دیا۔زمانہ ٔ طالب علمی سے ہی دین کاجذبہ رکھتےتھے۔دن جیسے جیسے گزرتے گئے اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔درس وتدریس،وعظ ونصیحت،اور تصنیف وتالیف آپ کامقصدِ حیات تھا۔ہمہ وقت کسی نہ کسی دینی- کام میں مصروف نظر آتے۔اسی طرح خوش مزاجی، باوقار، اور ملنسار طبیعت ، ناصحانہ اندازِ گفتگو ، تلقین آمیز تقاریر ، جمعہ کے خطبات میں مسائل پر گہری نظر ، درس و تدریس ، افتاء کا منصب ، احیاء سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی سے وابستگی ، دین متین کے لئے جذبہ قربانی سے سرشاری ،کتب بینی کا جنونی شوق ، فرائض و سنن پر مداومت، یہ وہ صفات اور حالات تھے جنہوں نے مرحوم کو محبوب ِعام و خاص کردیا تھا ۔ اکابرین بزرگانِ دین سے کئی و ظائف کی اجازت بھی حاصل تھی جن میں اکثر آپ کے معمولات میں رہے۔ آپ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا بہت آسان انداز میں جواب دیتے مسائل کا حل چاہنے والوں کا اکثر اوقات تانتا بندھا ررہتا تھا۔ علمی مذاکرات ، حج اور عمرہ تربیتی پروگرامز اور دیگر اہم دینی موضوعات پر تقاریر کیلئے مدعو کئے جاتے۔ آپ کی تقاریر تحقیقی اورپر مغز ہوتیں۔ بیک وقت تشنگانِ علم کو سیراب اور متلا شیانِ علم کو مالا مال کرتیں۔(شاہینِ ختمِ نبوت:2)

درس و تدریس:
دوران تعلیم ہی رات میں تدریس کا مشغلہ جاری رکھا۔ نور مسجد (کاغذی بازار) سے تدریس کا آغاز کیا۔ بعد میں انوار مدینہ مسجد ، اسماعیل اور آرائیں مسجد (جمشید روڈ) میں فرائض تدریس انجام دیتے رہے، اس کے علاوہ آپ نے دارالعلوم غوثیہ فاروق آباد پرانی سبزی منڈی کراچی میں کئی سال تک تدریس کے ساتھ فتاویٰ نویسی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔اپنے گھر کے قریب جامع مسجد اسماعیل گیگا جمشید روڈ کراچی میں جمع کو خطابت فرماتے تھے۔ مرکز فیضان مدینہ سبزی منڈی میں کئی مرتبہ اور دعوت اسلامی کے سالانہ مرکزی اجتماع ملتان شریف میں درس قرآن و حدیث دیا۔

سفر حرمین شریفین:
آپ نے تین بار حج بیت اللہ اور کئی بار عمرے کی سعادت حاصل کی، اس طرح کئی بار روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی1990ء میں مفتی وقار الدین قادری (رئیس الافتاء دارالعلوم امجدیہ کراچی) کی رفاقت میں بغداد شریف، کربلا معلیٰ، اور نجف اشرف میں مولائے کائنات امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ، سید الشہداء سید نا امام حسین ﷜، سید التابعین امام اعظم ابو حنیفہ ت﷜ اور سرکار غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانی ﷜ٗ مع دیگر مزارات مقدسہ پر حاضری کی سعادت اور انوار و برکات کی دولت سے مشرف ہوئے۔
1
عقیدہ ختم نبوت کےتحفظ میں شاندار خدمات: آپ کی زندگی کا اہم منفرد اور دلچسپ کارنامہ ہے ختم نبوت کے حوالے سے تقریباً ایک صدی کے تناظرمیں علماء و مشائخ اہل سنت احناف نے جو گراں قدر کام کیا ہے ۔ گردشِ زمانہ کےپیشِ نظر ان کی دوبارہ شاعت نہ ہوسکی۔اس لیے دیگر اہم کتب کی طرح ان کےنایاب ناپید ہونے کاخطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے شاہینِ ختم نبوت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین قادری﷫ کوانہوں نے تمام نادر و نایاب کتب و رسائل کو جمع و تدوین کا منفرد کام سر انجام دیا۔یہ وہ عظیم و منفرد کام ہے جو کہ مفتی امین کو ہمیشہ زندہ رکھے گا۔، جب کام سامنے آئے گا تو آپ کی محنت شاقہ، کھوجنا، تلاش ، جستجو ، ذوق و شوق کا اندازہ ہوگا کہ آپ نے کہاں کہاں اور کس قدر مسافت کے سفر اختیار کئے، کن کن لائبریریوں میں راتیں جاگ کر اجالا کیا، کن کن شخصیات سے رابطہ کرکے خانہ تلاشی کا کام کیا، قلمی و بیاض سے کیسی کیسی تحریریں برآمد کیں۔اس حوالے سے مفتی صاحب خود رقم طراز ہیں کہ:

”آج سے تقریباً تین سال قبل عزیزی توفیق قادری ضیائی حنفی نے ایک ملاقات میں فقیر سے کہا کہ ختم نبوت کے موضوع پر علمائے اہل سنّت کی کتب کو شائع کیا جائے۔ یہ تقریباً سوا صدی پر محیط علماء و مشائخ اہل سنّت کی علمی جدوجہد پر مشتمل منتشر کام کو یکجا کرنا تھا، بزرگوں کی دعاؤں اور سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے وصف خاص ختم نبوت کے ادنیٰ فدائیوں میں اپنا نام لکھوانے کی غرض سے کمر ہمت باندھی‘‘۔(روشن دریچے:38

اس عظیم الشان کام کے لیے آپ نے پاکستان بھر کی بیشتر لائبریریوں کی خاک چھانی اور بہت کم وقت میں عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے علماء اہل سنّت کی کتابوں، مضامین اور تحریری کام کو جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مفتی صاحب نے عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق مواد کو کئی جلدوں میں جمع کیا ہے اور ابتدائی چھ جلدوں پر مقدمہ مدینہ شریف میں بیٹھ کر مکمل کیا۔ ابھی کچھ جلدیں ہی زیور طباعت سے آراستہ ہوئی تھیں کہ آپ فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آپ کے بعد اس مشن کو ”ادارہ تحفظ عقائد اسلام“ نے جاری رکھا۔ الحمدللہ 2013ء تک اس ادارہ نے’’ انسائیکلوپیڈیا عقیدۂ ختم نبوت‘‘ کی پندرہ جلدیں شائع کر دی ہیں ۔15/جلدیں کے اس مجموعے میں کل تیس (30) علماء اہل سنّت کی باسٹھ (62) کتابوں اور رسائل کو 7674 (سات ہزار چھ چوہتر) صفحات میں ایک جگہ جمع کر کے شائع کیا گیا ہے، ابھی مزید کئی جلدوں پر کام جاری ہے۔اس کے علاوہ مفتی صاحب نے پہلی بادارالعلوم امجدیہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلے میں 15/ روزہ تربیتی کورس شیخ الحدیث علامہ منظور احمد فیضی ﷫ کے ذریعے حضرت مفتی محمد ظفر علی نعمانی﷫ کی نگرانی میں کروایا۔ کورس کے اختتام پر اسناد بھی جاری کی گئیں۔ آپ ہر سال 7 ستمبر کو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں اکابرین امت کی مدلل تحریروں سے مزین پوسٹر بھی شائع کرتے رہے۔

تصنیف و تالیف:
آپ نے دار العلوم امجدیہ میں دوران تعلیم سالنامہ ’’رفیق علم‘‘ کا اجراء کروایا۔ امجدیہ کے پچاس سال پورے ہونے پر ’’رفیق علم کا گولڈن جوبلی‘‘ نمبر شائع کروانے میں بھی کامیاب ہوئے۔’’وفا کے پیکر‘‘ (تحریک پاکستان میں علمائے اہل سنت کا کردار)۔اردو زبان میں بیس حصوں پر مشتمل فقہ حنفی کا مشہور انسائیکلو پیڈیا یعنی بہار شریعت کے مکمل بیس حصے کمپوز کروا کر ایک کمپیوٹر سوفٹ ویئر سی ڈی تیار کرائی جو ایک ادارے کے زیر نگرانی خوبصورت کتابی شکل میں پر نٹ ہوکر مارکیٹ میں دستیاب ہے۔امام احمد رضا فاضل بریلی﷫ کےفتا ویٰ رضویہ کی سوفٹ ویئر سی ڈی بنا نے کے لئے اکثر جلدوں کی کمپوزنگ مکمل کروائی جو مصنف جامع الاحادیث حضرت علامہ حنیف صاحب دام ظلہ العالیٰ کے زیر نگرانی تحریج اور تسہیل کے مراحل سے گزر دخراجِ تحسین وصول کرچکی ہے۔(شاہینِ ختمِ نبوت:3)۔آپ نے ایک شادی کی جس سے ایک بیٹی تولد ہوئی۔آپ کے وصال کے پندرہ دن بعد آپ کے گھر ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام محمد علقمہ رکھا گیا۔

تاریخِ وصال:
18 ذوالقعدہ 1426ھ ،20/دسمبر 2005ء، بروز بدھ، وقتِ نماز مغرب فقط چھتیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔میوہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ روشن دریچے ۔ شاہین ختم نبوت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-muhammad-ameen-qadri-attari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
محمد بن عبد الستار بن محمد کردری عمادی ۔ کنیت: ابو الوجد ۔ لقب: شمس الائمہ تھا ۔

تایخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 18 ذو القعدہ559 ھ میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
شمس الائمہ کردری رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ ادب پہلے ناصر الدین مطرزی صاحب پڑھا۔شمس الائمہ بکر بن محمد زرنجری سے فقہ پڑھا،حدیث کوسنااور دیگر اساتذہ سے مختلف علوم فنون حاصل کئے۔حسن بن منصور قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ علی بن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہما سے بھی آپ نے علم حاصل کیا۔

سیرت و خصائص:
شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام محقق، فاضلِ مدقق، فقیہ و محدث،عارفِ مذاہب، محیی اصول فقہ تھے۔ آپ نے اس طرح اخلاص و سنجیدگی سے علم حاصل کیا کہ آپ متعدد و علوم میں فائق ہوئے اور اپنے اقران پر غالب آئے اور اہل زمان نے آپ کے فضل و تقدم کا اقرار کیا حتی کہ آپ کے حق میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ نے بعد" زید دبوسی" کے علمِ اصول و فروع کو زندہ کیا۔

درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں جن سے عالم اسلام فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کی ترویج و اشاعت آپ کا خاص مطمعِ نظر تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ بدمذہنوں کا رد لسانی وتحریری طور پر فرماکر لوگوں کو بدمذہبوں کے پاس جانے سے روکتے اور عوام کے عقائدِ حقہ کو بچانے کی بہت جد وجہد فرماتے۔سرج الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکار تھے۔

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر اگر کوئی اعتراض کرتا تو بھر پور طریقے سے جوابی کروائی فرماتے اور یہ ثابت کرتے کہ جو مذہب امام اعظم علیہ الرحمہ نے اختیار فرمایا ہے وہ عین قرآن وحدیث کے مطابق ہے ۔

وصال:
آپ نے 9 محرم الحرام 642 ھ بمطابق جون 1244ء میں بخارا میں جمعہ کے روز وفات پائی ۔

ماخذ و مراجع:
سیر اعلام النبلاء ۔ حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shams-ul-ayima-muhammad-bin-abdul-sattar
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
فخر الأماثل حضرت سید شاہ مہدی حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادتِ مبارکہ:
آپ کی ولادت 1287ھ، 71-1870ء میں مارہرہ شریف میں ہوئی۔

والد ماجد:
حضرت سید شاہ ظہور حسین عرف چھٹو میاں ابن خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی قدس سرہما۔

آپ خاندان برکات میں کس شیخ کی گدی کے وارث تھے؟

حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں قدس سرہٗ کے۔

رسم بسم اللہ خوانی:
آپ کی رسمِ بسم اللہ خوانی حضرت سید شاہ آل رسول احمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ادا فرمائی۔

مجدد برکاتیت حضرت شاہ ابو القاسم سے آپ کا کیا رشتہ تھا؟

آپ ان کے داماد تھے۔

زوجہ محترمہ:
پہلا عقد بنیادی بیگم بنت حضرت سید حسین سے اور دوسرا عقد سجادی بیگم بنت حضرت ابوالقاسم سید اسماعیل حسن سے۔

اولادِ امجاد:
صرف ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ تھیں۔

حضرت نوری میاں قدس سرہٗ سےرشتہ:

ان کے چچازاد بھائی تھے۔

حضرت مجدد برکاتیت کی صاحبزادی سے آپ کا نکاح کب ہوا؟

29؍ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ ، ۱۸۹۵ء کو۔

اوصاف اور کارنامے:
آپ کا سب سے نمایاں وصف سخاوت تھا، آپ نے پوری زندگی درویشی میں گزاردی، خانقاہ برکاتیہ میں عرس برکاتی نوری بہت دھوم دھام سے منعقد کرایا کرتے تھے۔ آپ کی ذات سے اور ملک گیر پیمانے پر وسیع تعلقات سے اس دور میں خانقاہ برکاتیہ کا خوب تعارف ہوا۔

وصالِ پُر ملال:
18؍ ذی قعدہ 1361ھ، نومبر 1952ء کوآپ کا وصال ہوا اور خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں مدفون ہوئے۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-mehdi-hasan
1