🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-11-1444 ᴴ | 07-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-11-1444 ᴴ | 07-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
فقیہ عصر حضرت مولانا مفتی قاسم یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاد الاساتذہ ، فقیہ عصر ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم یاسینی بن استاد العلماء حضرت علامہ محمد ہاشم یاسینی ۱۶، ربیع الاخر ۱۳۰۵ھ بروز اتوار صبح کو تولد ہوئے۔ ’’صدر اعظم ‘‘ سے ان کی تاریخ ولادت نکلتی ہے:
پرمش از میلاد او کردم سروش
’’صدر اعظم‘‘ گفت تاریخش بگوش
۱۳۰۵ھ
تعلیم و تربیت:
مفتی محمد قاسم صاحب نے اپنے والد ماجد علامہ محمد ہاشم یاسینی کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی۔ اعلیٰ تعلیم اور فتویٰ نویسی کے لئے بر صغیر کے فقیہ اعظم ، امام اہل سنت، علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ الاقدس کی خدمت عالیہ میں ہمایون شریف میں رہ کر مہارت تامہ حاصل کی۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی ( ٹکھہڑ ضلع حید رآباد) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر سلوک کی منازل طے کی۔
درس و تدریس:
مولوی دین محمد وفائی لکھتا ہے: فقیر نے طالب علمی کے زمانہ میں ان سے کافیۃ النجو کے اسباق پڑھے تھے ۔ مولانا محمد قاسم صاحب علم و ادب اور عربیت کے بہت بڑے عالم تھے کہ سندھ میں ان کے ہمعصر علماء میں کوئی ان کے مرتبہ کا نہیں تھا۔ فقہ کے مسائل کو حل کرنا اور فتویٰ نویسی میں زیاد ہ سے زیادہ استعد اد اور مہارت تھی۔ علامہ ہمایونی کی وفات کے بعد وہ بلوچستان اور شمالی سندھ کے عوام الناس کا مرجع تھے فتاوی لئے جاتے تھے اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا مشغلہ بھی جاری تھا ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ )
تصنیف وتالیف:
٭ فتاویٰ قاسمیہ جلد اول ( فارسی ) مرتبہ : مفتی محمد صاحبداد جمالی سلطان کوٹی طبع اول لاہور طبع ثانی قندھار ( افغانستان ) میں شائع ہوا۔
٭ رسالہ اہل سنت عقائد نامہ ( سندھی ) طبع ثانی جماعت اہل سنت پاکستان سکھر ۱۳۸۹ھ
٭ عمدۃ الاثار فی ذکر اخیار الکتبار ( مطبوعہ )
مشائخ درگاہ کٹبار شریف کے متعلق ہے۔
٭ دربارہ تقلید ۔
٭ الفاظ القرآن بامعنی فارسی ( نامکمل )
٭ مجموعہ اشعار ( قلمی ) وغیرہ وغیرہ
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں بہت سارے علماء کے نام آتے ہیں ، ان میں بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :
٭ مولانا مفتی حافظ محمد ابراہیم یاسینی برادر اصغر
٭ مفتی اعظم پاکستان علامہ محمد صاحبداد خان ناصح جمالی سلطان کوٹ
٭ مولانا احمد صاحب قاضی مکران بلوچستان
٭ مولانا ناولی محمد صاحب قاضی مٹھڑی بلوچستان
٭ مولانا محمد حسین صاحب کھاوڑ مدیر الحنیف جیکب آباد
٭ مولانا عبدالحکیم صاحب شاہل سدایو
٭ مولانا غلام صدیق خجکی خجک سبی
٭ مولانا محمد حسن صاحب مکرانی
٭ مولانا صدر الدین صحبت پوری
٭ مولانا صاحبڈ نہ صاحب قرانی
٭ مولانا عبدالرحمن صاحب بلوچستانی ثم جیکب آبادی
٭ مولانا فضل محمد صاحب واعظ گڑھی یاسین
٭ مولانا حافظ محمد ہاشم صاحب اسھاق دیرائی
٭ مولانا محمد عابد صاحب اوستوی
٭ مولانا عبداللطیف اوستوی
٭ مولانا نصیر الدین صاحب سجادہ نشین درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ
٭ مخدوم مولانا شفیع محمد صدیقی پاٹ شریف
٭ مولانا قمر الدین مہیسر دگانو مھیسر
٭ مولانا حافظ محمد موسیٰ امام مسجد بخاری جیکب آباد
٭ مولانا میاں فخر الدین سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف
٭ صاحبزادہ عبدالغفار جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
٭ صاحبزادہ غلام احمد جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
شعر و شاعری:
مولانا صاحب طالب علمی کے زمانہ سے جب فارسی پڑھتے تھے ان دنوں سے شعر کہتے تھے، آپ کا شعر نہایت شستہ اور بر جستہ ہے۔ عارف کامل حضرت مولانا سید احمد خالد شامی ؒ جو خود بھی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے، مولانا کا شعر سن کر داد دیتے تھے۔ عربی زبان نہایت فصاحت و بلاغت سے بولتے تھے اور خود اہل عرب بھی ان کے معترف تھے۔ ’’قاسم ‘‘ تخلص ہے سندھی مادری زبان کے علاوہ عربی اور فارسی میں شاعری کی ہے ۔ ان کے فارسی اشعار کا ذخیرہ کافی ہے جو غزلیات، تواریخ ، قطعات ، منظومات ، مناجات اور قصائد پر مشتمل ہے۔
وصال:
حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب ۴۴ سال کی عمر میں ۱۸، ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ؍۱۹۲۹ء کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کی مزار شریف گڑھی یاسین (ضلع شکار پور سندھ ) کے قبرستان میں ایک کمرے میں زیارت گاہ خلق اللہ ہے ۔ آپ کو ’’صاحب تکبیر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے وہ اس طرح کہ جب آپ کی نماز جنازہ پڑھی جارہی تھی تو جیسے ہی امام نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی اسی وقت مفتی صاحب کے جنازہ سے بھی تکبیر کی آواز جا ری ہوئی ۔
عالِم کی موت اصل میں عالَم کی موت ہے، آپ کے وصال پر علماء و مشائخ کو نہایت افسوس ہوا انہوں نے اپنے جذبات کو نظم میں قلمبند کیا۔ ان حضرات کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ شیخ الدلائل حضرت مولانا سید عبدالفتاح رضوانی صاحب
استاد الاساتذہ ، فقیہ عصر ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم یاسینی بن استاد العلماء حضرت علامہ محمد ہاشم یاسینی ۱۶، ربیع الاخر ۱۳۰۵ھ بروز اتوار صبح کو تولد ہوئے۔ ’’صدر اعظم ‘‘ سے ان کی تاریخ ولادت نکلتی ہے:
پرمش از میلاد او کردم سروش
’’صدر اعظم‘‘ گفت تاریخش بگوش
۱۳۰۵ھ
تعلیم و تربیت:
مفتی محمد قاسم صاحب نے اپنے والد ماجد علامہ محمد ہاشم یاسینی کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی۔ اعلیٰ تعلیم اور فتویٰ نویسی کے لئے بر صغیر کے فقیہ اعظم ، امام اہل سنت، علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ الاقدس کی خدمت عالیہ میں ہمایون شریف میں رہ کر مہارت تامہ حاصل کی۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی ( ٹکھہڑ ضلع حید رآباد) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر سلوک کی منازل طے کی۔
درس و تدریس:
مولوی دین محمد وفائی لکھتا ہے: فقیر نے طالب علمی کے زمانہ میں ان سے کافیۃ النجو کے اسباق پڑھے تھے ۔ مولانا محمد قاسم صاحب علم و ادب اور عربیت کے بہت بڑے عالم تھے کہ سندھ میں ان کے ہمعصر علماء میں کوئی ان کے مرتبہ کا نہیں تھا۔ فقہ کے مسائل کو حل کرنا اور فتویٰ نویسی میں زیاد ہ سے زیادہ استعد اد اور مہارت تھی۔ علامہ ہمایونی کی وفات کے بعد وہ بلوچستان اور شمالی سندھ کے عوام الناس کا مرجع تھے فتاوی لئے جاتے تھے اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا مشغلہ بھی جاری تھا ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ )
تصنیف وتالیف:
٭ فتاویٰ قاسمیہ جلد اول ( فارسی ) مرتبہ : مفتی محمد صاحبداد جمالی سلطان کوٹی طبع اول لاہور طبع ثانی قندھار ( افغانستان ) میں شائع ہوا۔
٭ رسالہ اہل سنت عقائد نامہ ( سندھی ) طبع ثانی جماعت اہل سنت پاکستان سکھر ۱۳۸۹ھ
٭ عمدۃ الاثار فی ذکر اخیار الکتبار ( مطبوعہ )
مشائخ درگاہ کٹبار شریف کے متعلق ہے۔
٭ دربارہ تقلید ۔
٭ الفاظ القرآن بامعنی فارسی ( نامکمل )
٭ مجموعہ اشعار ( قلمی ) وغیرہ وغیرہ
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں بہت سارے علماء کے نام آتے ہیں ، ان میں بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :
٭ مولانا مفتی حافظ محمد ابراہیم یاسینی برادر اصغر
٭ مفتی اعظم پاکستان علامہ محمد صاحبداد خان ناصح جمالی سلطان کوٹ
٭ مولانا احمد صاحب قاضی مکران بلوچستان
٭ مولانا ناولی محمد صاحب قاضی مٹھڑی بلوچستان
٭ مولانا محمد حسین صاحب کھاوڑ مدیر الحنیف جیکب آباد
٭ مولانا عبدالحکیم صاحب شاہل سدایو
٭ مولانا غلام صدیق خجکی خجک سبی
٭ مولانا محمد حسن صاحب مکرانی
٭ مولانا صدر الدین صحبت پوری
٭ مولانا صاحبڈ نہ صاحب قرانی
٭ مولانا عبدالرحمن صاحب بلوچستانی ثم جیکب آبادی
٭ مولانا فضل محمد صاحب واعظ گڑھی یاسین
٭ مولانا حافظ محمد ہاشم صاحب اسھاق دیرائی
٭ مولانا محمد عابد صاحب اوستوی
٭ مولانا عبداللطیف اوستوی
٭ مولانا نصیر الدین صاحب سجادہ نشین درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ
٭ مخدوم مولانا شفیع محمد صدیقی پاٹ شریف
٭ مولانا قمر الدین مہیسر دگانو مھیسر
٭ مولانا حافظ محمد موسیٰ امام مسجد بخاری جیکب آباد
٭ مولانا میاں فخر الدین سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف
٭ صاحبزادہ عبدالغفار جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
٭ صاحبزادہ غلام احمد جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
شعر و شاعری:
مولانا صاحب طالب علمی کے زمانہ سے جب فارسی پڑھتے تھے ان دنوں سے شعر کہتے تھے، آپ کا شعر نہایت شستہ اور بر جستہ ہے۔ عارف کامل حضرت مولانا سید احمد خالد شامی ؒ جو خود بھی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے، مولانا کا شعر سن کر داد دیتے تھے۔ عربی زبان نہایت فصاحت و بلاغت سے بولتے تھے اور خود اہل عرب بھی ان کے معترف تھے۔ ’’قاسم ‘‘ تخلص ہے سندھی مادری زبان کے علاوہ عربی اور فارسی میں شاعری کی ہے ۔ ان کے فارسی اشعار کا ذخیرہ کافی ہے جو غزلیات، تواریخ ، قطعات ، منظومات ، مناجات اور قصائد پر مشتمل ہے۔
وصال:
حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب ۴۴ سال کی عمر میں ۱۸، ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ؍۱۹۲۹ء کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کی مزار شریف گڑھی یاسین (ضلع شکار پور سندھ ) کے قبرستان میں ایک کمرے میں زیارت گاہ خلق اللہ ہے ۔ آپ کو ’’صاحب تکبیر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے وہ اس طرح کہ جب آپ کی نماز جنازہ پڑھی جارہی تھی تو جیسے ہی امام نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی اسی وقت مفتی صاحب کے جنازہ سے بھی تکبیر کی آواز جا ری ہوئی ۔
عالِم کی موت اصل میں عالَم کی موت ہے، آپ کے وصال پر علماء و مشائخ کو نہایت افسوس ہوا انہوں نے اپنے جذبات کو نظم میں قلمبند کیا۔ ان حضرات کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ شیخ الدلائل حضرت مولانا سید عبدالفتاح رضوانی صاحب
❤2
مسجد نبوی شریف ، مدینہ منورہ
٭ پیر محمد اسماعیل جان ’’روشن ‘‘ سر ہندی ( صاحب دیوان روشن فارسی ) سامار و ضلع عمر کوٹ
٭ مولانا حکیم مطیع الرحمن صاحب مطیع ضلع فیض آباد انڈیا
٭ مفتی محمد صاحبداد خان ناصح جمالی ( جامع فتاویٰ قاسمیہ
٭ مولانا محمد عظیم ’’شیدا ‘‘ سولنگی
(مصنف سیرت مصطفی سندھی ) نصیر آباد
٭ مولانا قمر الدین مہیسر صاحب مدیر مہیسر
دگانو مہیسر
٭ قاضی محمد ابراہیم صاحب
شہداد کوٹ
٭ ماسٹر جان محمد صاحب محسن
٭ مولوی نزیر حسین جتوئی
رتودیرو
ان میں سے چند قطعات درج ذیل ہیں:
مفتی محمد صاحبداد خان ’’ناصح ‘‘ جمالی :
آن امام محمد قاسم
کہ بحسن خصال بود فرید
کس نظیرش ندید در عالم
خلق حق را بخلق نیک خرید
گفت ’’ناصح‘‘ سنش بزیب جلوس
’’طائر روح او بعرش پرید‘‘
۱۳۴۹ھ
قاضی محمد ابراہیم کارڑائی شہداد کوٹ:
آن فقید المثیل و حبر امین
مفتی عصر فاضل یاسین
بے سر وقف گفتش تاریخ
’’فخر احناف زیب زمرہٗ دین‘‘
۱۳۴۹ھ
پیر محمد اسماعیل روشن سر ہندی:
محمد قاسم آں علامہ دہر
نکو رو و نکو خو و نکو نام
ہزاراں طالبان نردش رسانید
نصاب علم حقانی بانجام
زوصلش گفت ’’روشن‘‘ باصد آہ !
بگو کل گشت ’’شمع اہل اسلام‘‘
۱۳۴۹ھ
حکیم مطیع الرحمن ’’مطیع‘‘:
جو محمد قاسم اہل فیض تھے
عالم بے مثل یکتائے جہاں
دے کے داغ غم مہ ذیقعد میں
چل بسے وہ جانب باغ جناں
سال رحلت تم سناوٗ اے ’’مطیع‘‘
’’واصل رب ہو گیا فخر زماں‘‘
( ماخوذ :۔ تذکرہ مشاہیر سندھ ۔ مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء ۔ روشن صبح سندھی ۔ مختصر سوانح حیات سندھی طبع قدیم مرتبہ : مولانا محمد حسین کھاوڑ ایڈیٹر الحنیف)
قطعہ تاریخ وصال:
ضیائی قدر مولانا ضیائی
کہ بودش با محمد خوش دعائی
سر سرمایہ علم و ادب بود
معلی یایہ علم و ادب بود
منا جاتی اجل آمد برمن
بجنت رفست روح جلد ترمن
زمر من جھانے شد یراز غم
کہ موت عالم آمد موت عالم
بخلق احسن و فرخندہ روئی
ازیش عالم بخود بردہ نکوئی
چو بانگ ارجعی درگوش من رفت
زفرط شادمانی ھوش من رفت
رواں جانم بہ جنت شد شتابی
بہ نعمتھائی حق شد بھریابی
بحمد اللہ کہ بودش رحم برمن
کہ اعلیٰ یایہ شد کرم برمن
کہ بود بسیت ھشتم ماہ صفر
ختم شد زندگی من باالمظفر
زصبح روز خمس جاں ازیں رفت
’’سن او سوئے فردوس بریں رفت‘‘
۱۳۹۷ھ
’’ضیائی‘‘ درحتش داعی است ھر دم
کہ در جنست بودبس شاد و خرم
مولانا مفتی محمد ابراہیم ’’ناظم ‘‘یاسینی
حضرت مولانا حافظ مفتی محمد ابراہیم بن حضرت مولانامفتی محمد ہاشم گڑھی یاسین ( ضلع شکار پور سندھ ) میں ۱۳۰۷ھ بمطابق ۱۸۹۰ء کو تولد ہوئے۔ آپ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم یاسینی ( صاحب فتاویٰ قاسمیہ ) کے چھوٹے بھائی تھے ۔
تعلیم و تربیت:
مفتی محمد ابراہیم نے ناظرہ قرآن مجید اور فارسی کتب کا درس اپنے والد ماجد سے لیا۔ اس کے بعد والد ماجد کے شاگرد قاری حافظ نور محمد کے یہاں قرآن مجید حفظ کیا۔ والد ماجد کے انتقال کے بعد اسکول کی تعلیم مکمل کر کے عربی علوم و فنون کی تعلیم اپنے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد قاسم یاسینی سے حاصل کی اور مدرسہ ہاشمیہ قاسمیہ گڑھی یاسین سے فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
آپ سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی کے والد حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی ؒ ( درگاہ ٹنڈو سائینداد) سے بیعت تھے اور سلسلہ قادریہ میں اویسی تھے۔
درس و تدریس:
آپ تعلیم و تدریس کو خدمت دین بلکہ عبادت سمجھتے تھے۔ رحلت سے تقریبا ایک برس قبل ایک بار بیمار ہوئے بخار کی شدت سے جسم تپ رہا تھا۔ غالبا کمزوری کی وجہ سے لرزہ بھی طاری تھا۔ تکیوں کے سہارے بھی چین کے ساتھ بیٹھ یا لیٹ نہیں سکتے تھے ۔ اس حال میں بھی درس دے رہے تھے۔ اس وقت آپ کے ایک شاگرد حافظ خیر محمد اوحدی بھی موجود تھے۔ انہوں نے غرض کیا کہ ایسی کیفیت میں درس دینا ضروری نہیں ہے۔ آپ آرام کیجئے ۔ طلبہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ’’یہ امید لے کر میرے پاس آتے ہیں میں ان کو ناامید کیسے کروں ‘‘حدیث شریف کا درس دیتے ہوئے عقیدت و احترام کے تمام لوازمات کو ملحوظ رکھتے تھے اور درس دیتے ہوئے اکثر اوقات روتے رہتے ۔
تصنیف و تالیف:
درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی سے آپ کو اگر چہ کم فرصت ملی تاہم تیس ( ۳۰) کے قریب آپ کی اہم تصانیف موجود ہیں جو کہ مختلف زبانوں میں ہیں ۔ ان میں سے بعض مطبوعہ اور اکثر غیر مطبوعہ ہیں ۔
٭ ترجمہ مشکوٰۃ ربع اول ( سندھی )
٭ ازالۃ الارتیاب عن الاحکام الصلوۃ الی القبور و القاب
٭ القول الصواب فی تحقیق قبور قبات
٭ البینات الواضحات فی حکم اعطاء الصدقات الی الشرفاء والسادات( سید وں کو زکوٰۃ دینے کے جواز میں )
٭ تمیز الحلال من الحرام الدفع اوھام الجھال والعوام ۔ ( مطبوعہ رفاہ عام اسٹیسم پریس لاہور ۱۳۴۰ھ؍ ۱۹۲۲ء )
٭ ھدایۃ العباد فیما یتعلق بالضاد ( سندھی )
٭ مامریدان (منظوم فارسی )
٭ دیوان ناظم ( فارسی )
٭ مجموعہ تاریخ
٭ قوت ایمان ( سندھی )
٭ مناس
٭ پیر محمد اسماعیل جان ’’روشن ‘‘ سر ہندی ( صاحب دیوان روشن فارسی ) سامار و ضلع عمر کوٹ
٭ مولانا حکیم مطیع الرحمن صاحب مطیع ضلع فیض آباد انڈیا
٭ مفتی محمد صاحبداد خان ناصح جمالی ( جامع فتاویٰ قاسمیہ
٭ مولانا محمد عظیم ’’شیدا ‘‘ سولنگی
(مصنف سیرت مصطفی سندھی ) نصیر آباد
٭ مولانا قمر الدین مہیسر صاحب مدیر مہیسر
دگانو مہیسر
٭ قاضی محمد ابراہیم صاحب
شہداد کوٹ
٭ ماسٹر جان محمد صاحب محسن
٭ مولوی نزیر حسین جتوئی
رتودیرو
ان میں سے چند قطعات درج ذیل ہیں:
مفتی محمد صاحبداد خان ’’ناصح ‘‘ جمالی :
آن امام محمد قاسم
کہ بحسن خصال بود فرید
کس نظیرش ندید در عالم
خلق حق را بخلق نیک خرید
گفت ’’ناصح‘‘ سنش بزیب جلوس
’’طائر روح او بعرش پرید‘‘
۱۳۴۹ھ
قاضی محمد ابراہیم کارڑائی شہداد کوٹ:
آن فقید المثیل و حبر امین
مفتی عصر فاضل یاسین
بے سر وقف گفتش تاریخ
’’فخر احناف زیب زمرہٗ دین‘‘
۱۳۴۹ھ
پیر محمد اسماعیل روشن سر ہندی:
محمد قاسم آں علامہ دہر
نکو رو و نکو خو و نکو نام
ہزاراں طالبان نردش رسانید
نصاب علم حقانی بانجام
زوصلش گفت ’’روشن‘‘ باصد آہ !
بگو کل گشت ’’شمع اہل اسلام‘‘
۱۳۴۹ھ
حکیم مطیع الرحمن ’’مطیع‘‘:
جو محمد قاسم اہل فیض تھے
عالم بے مثل یکتائے جہاں
دے کے داغ غم مہ ذیقعد میں
چل بسے وہ جانب باغ جناں
سال رحلت تم سناوٗ اے ’’مطیع‘‘
’’واصل رب ہو گیا فخر زماں‘‘
( ماخوذ :۔ تذکرہ مشاہیر سندھ ۔ مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء ۔ روشن صبح سندھی ۔ مختصر سوانح حیات سندھی طبع قدیم مرتبہ : مولانا محمد حسین کھاوڑ ایڈیٹر الحنیف)
قطعہ تاریخ وصال:
ضیائی قدر مولانا ضیائی
کہ بودش با محمد خوش دعائی
سر سرمایہ علم و ادب بود
معلی یایہ علم و ادب بود
منا جاتی اجل آمد برمن
بجنت رفست روح جلد ترمن
زمر من جھانے شد یراز غم
کہ موت عالم آمد موت عالم
بخلق احسن و فرخندہ روئی
ازیش عالم بخود بردہ نکوئی
چو بانگ ارجعی درگوش من رفت
زفرط شادمانی ھوش من رفت
رواں جانم بہ جنت شد شتابی
بہ نعمتھائی حق شد بھریابی
بحمد اللہ کہ بودش رحم برمن
کہ اعلیٰ یایہ شد کرم برمن
کہ بود بسیت ھشتم ماہ صفر
ختم شد زندگی من باالمظفر
زصبح روز خمس جاں ازیں رفت
’’سن او سوئے فردوس بریں رفت‘‘
۱۳۹۷ھ
’’ضیائی‘‘ درحتش داعی است ھر دم
کہ در جنست بودبس شاد و خرم
مولانا مفتی محمد ابراہیم ’’ناظم ‘‘یاسینی
حضرت مولانا حافظ مفتی محمد ابراہیم بن حضرت مولانامفتی محمد ہاشم گڑھی یاسین ( ضلع شکار پور سندھ ) میں ۱۳۰۷ھ بمطابق ۱۸۹۰ء کو تولد ہوئے۔ آپ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم یاسینی ( صاحب فتاویٰ قاسمیہ ) کے چھوٹے بھائی تھے ۔
تعلیم و تربیت:
مفتی محمد ابراہیم نے ناظرہ قرآن مجید اور فارسی کتب کا درس اپنے والد ماجد سے لیا۔ اس کے بعد والد ماجد کے شاگرد قاری حافظ نور محمد کے یہاں قرآن مجید حفظ کیا۔ والد ماجد کے انتقال کے بعد اسکول کی تعلیم مکمل کر کے عربی علوم و فنون کی تعلیم اپنے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد قاسم یاسینی سے حاصل کی اور مدرسہ ہاشمیہ قاسمیہ گڑھی یاسین سے فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
آپ سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی کے والد حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی ؒ ( درگاہ ٹنڈو سائینداد) سے بیعت تھے اور سلسلہ قادریہ میں اویسی تھے۔
درس و تدریس:
آپ تعلیم و تدریس کو خدمت دین بلکہ عبادت سمجھتے تھے۔ رحلت سے تقریبا ایک برس قبل ایک بار بیمار ہوئے بخار کی شدت سے جسم تپ رہا تھا۔ غالبا کمزوری کی وجہ سے لرزہ بھی طاری تھا۔ تکیوں کے سہارے بھی چین کے ساتھ بیٹھ یا لیٹ نہیں سکتے تھے ۔ اس حال میں بھی درس دے رہے تھے۔ اس وقت آپ کے ایک شاگرد حافظ خیر محمد اوحدی بھی موجود تھے۔ انہوں نے غرض کیا کہ ایسی کیفیت میں درس دینا ضروری نہیں ہے۔ آپ آرام کیجئے ۔ طلبہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ’’یہ امید لے کر میرے پاس آتے ہیں میں ان کو ناامید کیسے کروں ‘‘حدیث شریف کا درس دیتے ہوئے عقیدت و احترام کے تمام لوازمات کو ملحوظ رکھتے تھے اور درس دیتے ہوئے اکثر اوقات روتے رہتے ۔
تصنیف و تالیف:
درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی سے آپ کو اگر چہ کم فرصت ملی تاہم تیس ( ۳۰) کے قریب آپ کی اہم تصانیف موجود ہیں جو کہ مختلف زبانوں میں ہیں ۔ ان میں سے بعض مطبوعہ اور اکثر غیر مطبوعہ ہیں ۔
٭ ترجمہ مشکوٰۃ ربع اول ( سندھی )
٭ ازالۃ الارتیاب عن الاحکام الصلوۃ الی القبور و القاب
٭ القول الصواب فی تحقیق قبور قبات
٭ البینات الواضحات فی حکم اعطاء الصدقات الی الشرفاء والسادات( سید وں کو زکوٰۃ دینے کے جواز میں )
٭ تمیز الحلال من الحرام الدفع اوھام الجھال والعوام ۔ ( مطبوعہ رفاہ عام اسٹیسم پریس لاہور ۱۳۴۰ھ؍ ۱۹۲۲ء )
٭ ھدایۃ العباد فیما یتعلق بالضاد ( سندھی )
٭ مامریدان (منظوم فارسی )
٭ دیوان ناظم ( فارسی )
٭ مجموعہ تاریخ
٭ قوت ایمان ( سندھی )
٭ مناس
❤1