🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-11-1444 ᴴ | 07-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-11-1444 ᴴ | 07-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
فقیہ عصر حضرت مولانا مفتی قاسم یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاد الاساتذہ ، فقیہ عصر ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم یاسینی بن استاد العلماء حضرت علامہ محمد ہاشم یاسینی ۱۶، ربیع الاخر ۱۳۰۵ھ بروز اتوار صبح کو تولد ہوئے۔ ’’صدر اعظم ‘‘ سے ان کی تاریخ ولادت نکلتی ہے:
پرمش از میلاد او کردم سروش
’’صدر اعظم‘‘ گفت تاریخش بگوش
۱۳۰۵ھ
تعلیم و تربیت:
مفتی محمد قاسم صاحب نے اپنے والد ماجد علامہ محمد ہاشم یاسینی کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی۔ اعلیٰ تعلیم اور فتویٰ نویسی کے لئے بر صغیر کے فقیہ اعظم ، امام اہل سنت، علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ الاقدس کی خدمت عالیہ میں ہمایون شریف میں رہ کر مہارت تامہ حاصل کی۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی ( ٹکھہڑ ضلع حید رآباد) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر سلوک کی منازل طے کی۔
درس و تدریس:
مولوی دین محمد وفائی لکھتا ہے: فقیر نے طالب علمی کے زمانہ میں ان سے کافیۃ النجو کے اسباق پڑھے تھے ۔ مولانا محمد قاسم صاحب علم و ادب اور عربیت کے بہت بڑے عالم تھے کہ سندھ میں ان کے ہمعصر علماء میں کوئی ان کے مرتبہ کا نہیں تھا۔ فقہ کے مسائل کو حل کرنا اور فتویٰ نویسی میں زیاد ہ سے زیادہ استعد اد اور مہارت تھی۔ علامہ ہمایونی کی وفات کے بعد وہ بلوچستان اور شمالی سندھ کے عوام الناس کا مرجع تھے فتاوی لئے جاتے تھے اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا مشغلہ بھی جاری تھا ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ )
تصنیف وتالیف:
٭ فتاویٰ قاسمیہ جلد اول ( فارسی ) مرتبہ : مفتی محمد صاحبداد جمالی سلطان کوٹی طبع اول لاہور طبع ثانی قندھار ( افغانستان ) میں شائع ہوا۔
٭ رسالہ اہل سنت عقائد نامہ ( سندھی ) طبع ثانی جماعت اہل سنت پاکستان سکھر ۱۳۸۹ھ
٭ عمدۃ الاثار فی ذکر اخیار الکتبار ( مطبوعہ )
مشائخ درگاہ کٹبار شریف کے متعلق ہے۔
٭ دربارہ تقلید ۔
٭ الفاظ القرآن بامعنی فارسی ( نامکمل )
٭ مجموعہ اشعار ( قلمی ) وغیرہ وغیرہ
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں بہت سارے علماء کے نام آتے ہیں ، ان میں بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :
٭ مولانا مفتی حافظ محمد ابراہیم یاسینی برادر اصغر
٭ مفتی اعظم پاکستان علامہ محمد صاحبداد خان ناصح جمالی سلطان کوٹ
٭ مولانا احمد صاحب قاضی مکران بلوچستان
٭ مولانا ناولی محمد صاحب قاضی مٹھڑی بلوچستان
٭ مولانا محمد حسین صاحب کھاوڑ مدیر الحنیف جیکب آباد
٭ مولانا عبدالحکیم صاحب شاہل سدایو
٭ مولانا غلام صدیق خجکی خجک سبی
٭ مولانا محمد حسن صاحب مکرانی
٭ مولانا صدر الدین صحبت پوری
٭ مولانا صاحبڈ نہ صاحب قرانی
٭ مولانا عبدالرحمن صاحب بلوچستانی ثم جیکب آبادی
٭ مولانا فضل محمد صاحب واعظ گڑھی یاسین
٭ مولانا حافظ محمد ہاشم صاحب اسھاق دیرائی
٭ مولانا محمد عابد صاحب اوستوی
٭ مولانا عبداللطیف اوستوی
٭ مولانا نصیر الدین صاحب سجادہ نشین درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ
٭ مخدوم مولانا شفیع محمد صدیقی پاٹ شریف
٭ مولانا قمر الدین مہیسر دگانو مھیسر
٭ مولانا حافظ محمد موسیٰ امام مسجد بخاری جیکب آباد
٭ مولانا میاں فخر الدین سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف
٭ صاحبزادہ عبدالغفار جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
٭ صاحبزادہ غلام احمد جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
شعر و شاعری:
مولانا صاحب طالب علمی کے زمانہ سے جب فارسی پڑھتے تھے ان دنوں سے شعر کہتے تھے، آپ کا شعر نہایت شستہ اور بر جستہ ہے۔ عارف کامل حضرت مولانا سید احمد خالد شامی ؒ جو خود بھی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے، مولانا کا شعر سن کر داد دیتے تھے۔ عربی زبان نہایت فصاحت و بلاغت سے بولتے تھے اور خود اہل عرب بھی ان کے معترف تھے۔ ’’قاسم ‘‘ تخلص ہے سندھی مادری زبان کے علاوہ عربی اور فارسی میں شاعری کی ہے ۔ ان کے فارسی اشعار کا ذخیرہ کافی ہے جو غزلیات، تواریخ ، قطعات ، منظومات ، مناجات اور قصائد پر مشتمل ہے۔
وصال:
حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب ۴۴ سال کی عمر میں ۱۸، ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ؍۱۹۲۹ء کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کی مزار شریف گڑھی یاسین (ضلع شکار پور سندھ ) کے قبرستان میں ایک کمرے میں زیارت گاہ خلق اللہ ہے ۔ آپ کو ’’صاحب تکبیر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے وہ اس طرح کہ جب آپ کی نماز جنازہ پڑھی جارہی تھی تو جیسے ہی امام نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی اسی وقت مفتی صاحب کے جنازہ سے بھی تکبیر کی آواز جا ری ہوئی ۔
عالِم کی موت اصل میں عالَم کی موت ہے، آپ کے وصال پر علماء و مشائخ کو نہایت افسوس ہوا انہوں نے اپنے جذبات کو نظم میں قلمبند کیا۔ ان حضرات کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ شیخ الدلائل حضرت مولانا سید عبدالفتاح رضوانی صاحب
استاد الاساتذہ ، فقیہ عصر ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم یاسینی بن استاد العلماء حضرت علامہ محمد ہاشم یاسینی ۱۶، ربیع الاخر ۱۳۰۵ھ بروز اتوار صبح کو تولد ہوئے۔ ’’صدر اعظم ‘‘ سے ان کی تاریخ ولادت نکلتی ہے:
پرمش از میلاد او کردم سروش
’’صدر اعظم‘‘ گفت تاریخش بگوش
۱۳۰۵ھ
تعلیم و تربیت:
مفتی محمد قاسم صاحب نے اپنے والد ماجد علامہ محمد ہاشم یاسینی کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی۔ اعلیٰ تعلیم اور فتویٰ نویسی کے لئے بر صغیر کے فقیہ اعظم ، امام اہل سنت، علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ الاقدس کی خدمت عالیہ میں ہمایون شریف میں رہ کر مہارت تامہ حاصل کی۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی ( ٹکھہڑ ضلع حید رآباد) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر سلوک کی منازل طے کی۔
درس و تدریس:
مولوی دین محمد وفائی لکھتا ہے: فقیر نے طالب علمی کے زمانہ میں ان سے کافیۃ النجو کے اسباق پڑھے تھے ۔ مولانا محمد قاسم صاحب علم و ادب اور عربیت کے بہت بڑے عالم تھے کہ سندھ میں ان کے ہمعصر علماء میں کوئی ان کے مرتبہ کا نہیں تھا۔ فقہ کے مسائل کو حل کرنا اور فتویٰ نویسی میں زیاد ہ سے زیادہ استعد اد اور مہارت تھی۔ علامہ ہمایونی کی وفات کے بعد وہ بلوچستان اور شمالی سندھ کے عوام الناس کا مرجع تھے فتاوی لئے جاتے تھے اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا مشغلہ بھی جاری تھا ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ )
تصنیف وتالیف:
٭ فتاویٰ قاسمیہ جلد اول ( فارسی ) مرتبہ : مفتی محمد صاحبداد جمالی سلطان کوٹی طبع اول لاہور طبع ثانی قندھار ( افغانستان ) میں شائع ہوا۔
٭ رسالہ اہل سنت عقائد نامہ ( سندھی ) طبع ثانی جماعت اہل سنت پاکستان سکھر ۱۳۸۹ھ
٭ عمدۃ الاثار فی ذکر اخیار الکتبار ( مطبوعہ )
مشائخ درگاہ کٹبار شریف کے متعلق ہے۔
٭ دربارہ تقلید ۔
٭ الفاظ القرآن بامعنی فارسی ( نامکمل )
٭ مجموعہ اشعار ( قلمی ) وغیرہ وغیرہ
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں بہت سارے علماء کے نام آتے ہیں ، ان میں بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :
٭ مولانا مفتی حافظ محمد ابراہیم یاسینی برادر اصغر
٭ مفتی اعظم پاکستان علامہ محمد صاحبداد خان ناصح جمالی سلطان کوٹ
٭ مولانا احمد صاحب قاضی مکران بلوچستان
٭ مولانا ناولی محمد صاحب قاضی مٹھڑی بلوچستان
٭ مولانا محمد حسین صاحب کھاوڑ مدیر الحنیف جیکب آباد
٭ مولانا عبدالحکیم صاحب شاہل سدایو
٭ مولانا غلام صدیق خجکی خجک سبی
٭ مولانا محمد حسن صاحب مکرانی
٭ مولانا صدر الدین صحبت پوری
٭ مولانا صاحبڈ نہ صاحب قرانی
٭ مولانا عبدالرحمن صاحب بلوچستانی ثم جیکب آبادی
٭ مولانا فضل محمد صاحب واعظ گڑھی یاسین
٭ مولانا حافظ محمد ہاشم صاحب اسھاق دیرائی
٭ مولانا محمد عابد صاحب اوستوی
٭ مولانا عبداللطیف اوستوی
٭ مولانا نصیر الدین صاحب سجادہ نشین درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ
٭ مخدوم مولانا شفیع محمد صدیقی پاٹ شریف
٭ مولانا قمر الدین مہیسر دگانو مھیسر
٭ مولانا حافظ محمد موسیٰ امام مسجد بخاری جیکب آباد
٭ مولانا میاں فخر الدین سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف
٭ صاحبزادہ عبدالغفار جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
٭ صاحبزادہ غلام احمد جان سر ہندی ٹنڈو محمد خان
شعر و شاعری:
مولانا صاحب طالب علمی کے زمانہ سے جب فارسی پڑھتے تھے ان دنوں سے شعر کہتے تھے، آپ کا شعر نہایت شستہ اور بر جستہ ہے۔ عارف کامل حضرت مولانا سید احمد خالد شامی ؒ جو خود بھی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے، مولانا کا شعر سن کر داد دیتے تھے۔ عربی زبان نہایت فصاحت و بلاغت سے بولتے تھے اور خود اہل عرب بھی ان کے معترف تھے۔ ’’قاسم ‘‘ تخلص ہے سندھی مادری زبان کے علاوہ عربی اور فارسی میں شاعری کی ہے ۔ ان کے فارسی اشعار کا ذخیرہ کافی ہے جو غزلیات، تواریخ ، قطعات ، منظومات ، مناجات اور قصائد پر مشتمل ہے۔
وصال:
حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب ۴۴ سال کی عمر میں ۱۸، ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ؍۱۹۲۹ء کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کی مزار شریف گڑھی یاسین (ضلع شکار پور سندھ ) کے قبرستان میں ایک کمرے میں زیارت گاہ خلق اللہ ہے ۔ آپ کو ’’صاحب تکبیر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے وہ اس طرح کہ جب آپ کی نماز جنازہ پڑھی جارہی تھی تو جیسے ہی امام نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی اسی وقت مفتی صاحب کے جنازہ سے بھی تکبیر کی آواز جا ری ہوئی ۔
عالِم کی موت اصل میں عالَم کی موت ہے، آپ کے وصال پر علماء و مشائخ کو نہایت افسوس ہوا انہوں نے اپنے جذبات کو نظم میں قلمبند کیا۔ ان حضرات کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ شیخ الدلائل حضرت مولانا سید عبدالفتاح رضوانی صاحب
❤2