🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حافظ قاری ممتاز احمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: قاری ممتاز احمد ۔ لقب: رحمانی ۔ سلسلۂ نسب: قاری ممتاز احمد بن سراج الدین بن صلاح الدین ۔ (علہم الرحمہ) آپ کے آباؤ اجداد عرب شریف سے نقل مکانی کر کے ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں سکونت اختیار کی ۔ آپ کا ددھیال قریشی اور ننھیال صدیقی ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک 1345ھ، بمطابق 25 فروری 1929ء ، بروز پیر بوقتِ فجر (محلہ پہاڑ گنج دہلی انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حکیم حافظ افتخار احمد نقشبندی سے ۹ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ مسجد فتح پوری دہلی کے مدرسہ میں قاری حامد حسین دہلوی سے قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی عربی فارسی اور چند درس نظامی کی کتب حضرت مولانا قاضی زین العابدین دہلوی سے پڑھیں ۔
بیعت و خلافت:
شیخ طریقت حضرت پیر محمد فاروق رحمانی رحمۃ اللہ علیہ (آستانہ فاروقیہ جہانگیر روڈ) سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابر یہ رحمانیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں1962ء کو خلافت سے نواز ے گئے ۔ حضرت پیر فاروق صاحب ، سلسلہ رحمانیہ کے بانی حضرت انعام الرحمن قدوسی سہارنپوری سے فیض یاب تھے۔
سیرت و خصائص:
حضرت حافظ قاری پیر ممتاز احمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ باعمل حافظِ قرٓان تھے ۔ دینِ متین کی تبلیغ کیلئے ہر وقت کوشاں رہتے تھے ۔ آپ شیخِ کامل تھے، لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح پیری مریدی کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا بلکہ زرگرری کا کام سیکھ کر صرافہ بازار میں تجارت کرتے تھے ۔ 1959ء سے قبل مدینہ مسجد بی ایریا ملیر میں صوفی احمد حسین امامت کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ کو مقرر کیا گیا۔ آپ مندر اسٹاپ ملیر سٹی سے ملیر بی ایریا مدینہ مسجد سائیکل پر آتے جاتے تھے۔ مدینہ مسجد کو آپ نے مرکزی حیثیت عطا کی، صبح کو حفظ و ناظرہ کا مدرسہ "مکتب رحمانی" خود پڑھاتے، ظہر تا شام سائلین کو دم درود و تعویذ دیتے تھے اور رات میں حلقہ ذکر مراقبہ محفل نعت وغیرہ برپا کرتے،آپ کے سارے کام فی سبیل اللہ ہوتے تھے، اور شب و روز مسجد شریف میں دین اسلام اور دکھی انسانیت کی خدمت میں بسر ہوتے ۔ مسجد کے متصل مدرسہ ، لائبریری وغیرہ آپ کی یاد گار ہیں ۔ جمعہ کے رو ز خود وعظ کیا کرتے تھے۔ وسیع حلقہ آپ سے ارادت و عقیدت رکھتا ہے۔ آپ کے مدرسہ کی شاخیں ملیر میں پھیلی ہوئی ہیں۔"اشاعت قرآن " کی خوب خدمات سر انجام دیں ۔ آپ قرآن پاک کی جب قرأت کرتے تو اجتماع پر سکوت طاری ہو جاتا۔ سوزو گداز سے بھری ہوئی آواز سے مسلمانوں کے قلوب دھل جاتے تھے، اور محفل پر ایک روحانی کیفیت کا سماں ہوتا تھا۔ گناہوں کے مرض میں مبتلا آپ کے روحانی شفاخانہ سے شفاء پاتے تھے ، اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کے سچے غلام بن جاتے تھے۔
وصال:
17 ذو القعدہ 1410ھ، بمطابق 11 جون 1990ء، بروز پیر بوقت عشاء 63 سال کی عمر میں واصل الی اللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار مدینہ مسجد بی ایریا ملیر کراچی کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-qari-mumtaz-ahmad-rehmani
نام و نسب:
اسمِ گرامی: قاری ممتاز احمد ۔ لقب: رحمانی ۔ سلسلۂ نسب: قاری ممتاز احمد بن سراج الدین بن صلاح الدین ۔ (علہم الرحمہ) آپ کے آباؤ اجداد عرب شریف سے نقل مکانی کر کے ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں سکونت اختیار کی ۔ آپ کا ددھیال قریشی اور ننھیال صدیقی ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک 1345ھ، بمطابق 25 فروری 1929ء ، بروز پیر بوقتِ فجر (محلہ پہاڑ گنج دہلی انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حکیم حافظ افتخار احمد نقشبندی سے ۹ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ مسجد فتح پوری دہلی کے مدرسہ میں قاری حامد حسین دہلوی سے قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی عربی فارسی اور چند درس نظامی کی کتب حضرت مولانا قاضی زین العابدین دہلوی سے پڑھیں ۔
بیعت و خلافت:
شیخ طریقت حضرت پیر محمد فاروق رحمانی رحمۃ اللہ علیہ (آستانہ فاروقیہ جہانگیر روڈ) سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابر یہ رحمانیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں1962ء کو خلافت سے نواز ے گئے ۔ حضرت پیر فاروق صاحب ، سلسلہ رحمانیہ کے بانی حضرت انعام الرحمن قدوسی سہارنپوری سے فیض یاب تھے۔
سیرت و خصائص:
حضرت حافظ قاری پیر ممتاز احمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ باعمل حافظِ قرٓان تھے ۔ دینِ متین کی تبلیغ کیلئے ہر وقت کوشاں رہتے تھے ۔ آپ شیخِ کامل تھے، لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح پیری مریدی کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا بلکہ زرگرری کا کام سیکھ کر صرافہ بازار میں تجارت کرتے تھے ۔ 1959ء سے قبل مدینہ مسجد بی ایریا ملیر میں صوفی احمد حسین امامت کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ کو مقرر کیا گیا۔ آپ مندر اسٹاپ ملیر سٹی سے ملیر بی ایریا مدینہ مسجد سائیکل پر آتے جاتے تھے۔ مدینہ مسجد کو آپ نے مرکزی حیثیت عطا کی، صبح کو حفظ و ناظرہ کا مدرسہ "مکتب رحمانی" خود پڑھاتے، ظہر تا شام سائلین کو دم درود و تعویذ دیتے تھے اور رات میں حلقہ ذکر مراقبہ محفل نعت وغیرہ برپا کرتے،آپ کے سارے کام فی سبیل اللہ ہوتے تھے، اور شب و روز مسجد شریف میں دین اسلام اور دکھی انسانیت کی خدمت میں بسر ہوتے ۔ مسجد کے متصل مدرسہ ، لائبریری وغیرہ آپ کی یاد گار ہیں ۔ جمعہ کے رو ز خود وعظ کیا کرتے تھے۔ وسیع حلقہ آپ سے ارادت و عقیدت رکھتا ہے۔ آپ کے مدرسہ کی شاخیں ملیر میں پھیلی ہوئی ہیں۔"اشاعت قرآن " کی خوب خدمات سر انجام دیں ۔ آپ قرآن پاک کی جب قرأت کرتے تو اجتماع پر سکوت طاری ہو جاتا۔ سوزو گداز سے بھری ہوئی آواز سے مسلمانوں کے قلوب دھل جاتے تھے، اور محفل پر ایک روحانی کیفیت کا سماں ہوتا تھا۔ گناہوں کے مرض میں مبتلا آپ کے روحانی شفاخانہ سے شفاء پاتے تھے ، اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کے سچے غلام بن جاتے تھے۔
وصال:
17 ذو القعدہ 1410ھ، بمطابق 11 جون 1990ء، بروز پیر بوقت عشاء 63 سال کی عمر میں واصل الی اللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار مدینہ مسجد بی ایریا ملیر کراچی کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-qari-mumtaz-ahmad-rehmani
scholars.pk
Hazrat Hafiz Qari Mumtaz Ahmad Rehmani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت شیخ سید محمد بن قطب عالم سہروردی الملقب بہ شاہ عالم احمد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ قطبِ عالم کے بیٹے تھے، آپ کا نام شاہ منجھن لقب شاہ عالم تھا ۔ آپ کی قبر احمد آباد میں ہے ۔ آپ کا روضہ اس علاقہ کے رہنے والے لوگوں کی زیارت گاہ ہے اور ایک ایسے پاکیزہ، بلند لطیف اور نظیف علاقہ میں واقع ہے جو بہت کشادہ اور وسیع خطہ ہے، جمعرات کو شہر کے اچھے اور بُرے سبھی لوگ آپ کے مزار پر جاتے اور رات بھر وہیں رہتے ہیں ۔
مشہور ہے کہ شاہ عالم کی تصوف اور سلوک میں کچھ عجیب سی حالت تھی، اکثر اوقات آپ پر مستی کا عالم چھایا رہتا تھا کبھی کبھی ریشمی لباس بھی پہن لیا کرتے تھے اور ملامتیہ فرقے کے پیرو کار نظر آتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ کی ولایت پر کھلے اور واضح دلائل موجود تھے اور شیخ احمد کھتو آپ کی تربیت و ارشاد کے ذمہ دار تھے، آپ کثیر الکرامات بزرگوں میں تھے، ۸۸۰ھ میں آپ نے وفات پائی جس کے عدد کو لفظ فخر ظاہر کرتا ہے ۔ شیخ قطب عالم اور شاہ عالم کے کچھ خلفاء بھی احمدآباد میں مدفون ہیں ۔
گجرات کے مشہور شہر پٹن میں خاص طور پر شیخ نظام الدین اولیاء کے مشہور خلیفہ شیخ حسام الدین ملتانی کا مزار بہت مشہور ہے جن کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے۔ یہ علاقہ ایسا ہے کہ یہاں سے عشق و محبت کی خوشبو آتی ہے اور اس کے جنگلوں اور کھنڈروں سے ولایت کی برکت کے انوار درخشاں معلوم ہوتے ہیں، یہ شہر ہمیشہ اہلِ دل کی آماج گاہ ہے اس لیے آج بھی اس میں اہل دل بستے ہیں ۔
آپ اپنے وقت کے علماء اور مقبول لان درگاہ رب العزت لوگوں میں سے تھے اور آپ کی برکات کے اثرات اب تک اس شہر میں نظر آتے ہیں ۔ اخبار الاخیار
حضرت شاہ عالم (رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت شاہ عالم سے عالم کی زینت ہے۔
خاندانی حالات:
آپ مخدوم جہانیاں جہانیاں گشت کے بیٹے سید جلال الدین بخاری کے پر پوتے ہیں ۔
والد:
آپ کے والد کا نام سید برہان الدین ہے، جو قطب عالم کے لقب سے مشہور ہیں ۔
نام:
آپ کا نام مجھن ہے ۔
لقب:
آپ کا لقب شاہ عالم ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد حضرت قطب عالم کے مرید اور خلیفہ ہیں ۔ آپ نے حضرت شیخ احمد کھٹو سے بھی فیض پایا تھا اور نعمت سے مالا مال ہوئے تھے ۔
وفات:
آپ ۸۸۰ھ میں جوار رحمت میں داخل ہوئے ۔ ۱؎مزار احمد آباد میں ہے ۔
سیرت:
آپ استغراق میں محو رہتے تھے، اکثر قیمتی لباس زیب تن فرماتے تھے ۔ آپ اپنے کو لوگوں سے چھپانے کی کوشش کرتے تھے، مشرب آپ کا ملا متیہ تھا، آپ صاحب کرامت بزرگ تھے ۔ ۱؎
حواشی:
ا؎ اخبار الاخیار (اردوترجمہ) ص۳۲۵
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-muhammad-shah-alam-ahmadabadi-soharwardi
آپ قطبِ عالم کے بیٹے تھے، آپ کا نام شاہ منجھن لقب شاہ عالم تھا ۔ آپ کی قبر احمد آباد میں ہے ۔ آپ کا روضہ اس علاقہ کے رہنے والے لوگوں کی زیارت گاہ ہے اور ایک ایسے پاکیزہ، بلند لطیف اور نظیف علاقہ میں واقع ہے جو بہت کشادہ اور وسیع خطہ ہے، جمعرات کو شہر کے اچھے اور بُرے سبھی لوگ آپ کے مزار پر جاتے اور رات بھر وہیں رہتے ہیں ۔
مشہور ہے کہ شاہ عالم کی تصوف اور سلوک میں کچھ عجیب سی حالت تھی، اکثر اوقات آپ پر مستی کا عالم چھایا رہتا تھا کبھی کبھی ریشمی لباس بھی پہن لیا کرتے تھے اور ملامتیہ فرقے کے پیرو کار نظر آتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ کی ولایت پر کھلے اور واضح دلائل موجود تھے اور شیخ احمد کھتو آپ کی تربیت و ارشاد کے ذمہ دار تھے، آپ کثیر الکرامات بزرگوں میں تھے، ۸۸۰ھ میں آپ نے وفات پائی جس کے عدد کو لفظ فخر ظاہر کرتا ہے ۔ شیخ قطب عالم اور شاہ عالم کے کچھ خلفاء بھی احمدآباد میں مدفون ہیں ۔
گجرات کے مشہور شہر پٹن میں خاص طور پر شیخ نظام الدین اولیاء کے مشہور خلیفہ شیخ حسام الدین ملتانی کا مزار بہت مشہور ہے جن کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے۔ یہ علاقہ ایسا ہے کہ یہاں سے عشق و محبت کی خوشبو آتی ہے اور اس کے جنگلوں اور کھنڈروں سے ولایت کی برکت کے انوار درخشاں معلوم ہوتے ہیں، یہ شہر ہمیشہ اہلِ دل کی آماج گاہ ہے اس لیے آج بھی اس میں اہل دل بستے ہیں ۔
آپ اپنے وقت کے علماء اور مقبول لان درگاہ رب العزت لوگوں میں سے تھے اور آپ کی برکات کے اثرات اب تک اس شہر میں نظر آتے ہیں ۔ اخبار الاخیار
حضرت شاہ عالم (رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت شاہ عالم سے عالم کی زینت ہے۔
خاندانی حالات:
آپ مخدوم جہانیاں جہانیاں گشت کے بیٹے سید جلال الدین بخاری کے پر پوتے ہیں ۔
والد:
آپ کے والد کا نام سید برہان الدین ہے، جو قطب عالم کے لقب سے مشہور ہیں ۔
نام:
آپ کا نام مجھن ہے ۔
لقب:
آپ کا لقب شاہ عالم ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد حضرت قطب عالم کے مرید اور خلیفہ ہیں ۔ آپ نے حضرت شیخ احمد کھٹو سے بھی فیض پایا تھا اور نعمت سے مالا مال ہوئے تھے ۔
وفات:
آپ ۸۸۰ھ میں جوار رحمت میں داخل ہوئے ۔ ۱؎مزار احمد آباد میں ہے ۔
سیرت:
آپ استغراق میں محو رہتے تھے، اکثر قیمتی لباس زیب تن فرماتے تھے ۔ آپ اپنے کو لوگوں سے چھپانے کی کوشش کرتے تھے، مشرب آپ کا ملا متیہ تھا، آپ صاحب کرامت بزرگ تھے ۔ ۱؎
حواشی:
ا؎ اخبار الاخیار (اردوترجمہ) ص۳۲۵
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-muhammad-shah-alam-ahmadabadi-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Syed Muhammad Shah Alam Ahmadabadi Soharwardi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-11-1444 ᴴ | 07-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1