🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حافظ قاری ممتاز احمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: قاری ممتاز احمد ۔ لقب: رحمانی ۔ سلسلۂ نسب: قاری ممتاز احمد بن سراج الدین بن صلاح الدین ۔ (علہم الرحمہ) آپ کے آباؤ اجداد عرب شریف سے نقل مکانی کر کے ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں سکونت اختیار کی ۔ آپ کا ددھیال قریشی اور ننھیال صدیقی ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک 1345ھ، بمطابق 25 فروری 1929ء ، بروز پیر بوقتِ فجر (محلہ پہاڑ گنج دہلی انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
حکیم حافظ افتخار احمد نقشبندی سے ۹ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ مسجد فتح پوری دہلی کے مدرسہ میں قاری حامد حسین دہلوی سے قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی عربی فارسی اور چند درس نظامی کی کتب حضرت مولانا قاضی زین العابدین دہلوی سے پڑھیں ۔

بیعت و خلافت:
شیخ طریقت حضرت پیر محمد فاروق رحمانی رحمۃ اللہ علیہ (آستانہ فاروقیہ جہانگیر روڈ) سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابر یہ رحمانیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں1962ء کو خلافت سے نواز ے گئے ۔ حضرت پیر فاروق صاحب ، سلسلہ رحمانیہ کے بانی حضرت انعام الرحمن قدوسی سہارنپوری سے فیض یاب تھے۔

سیرت و خصائص:
حضرت حافظ قاری پیر ممتاز احمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ باعمل حافظِ قرٓان تھے ۔ دینِ متین کی تبلیغ کیلئے ہر وقت کوشاں رہتے تھے ۔ آپ شیخِ کامل تھے، لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح پیری مریدی کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا بلکہ زرگرری کا کام سیکھ کر صرافہ بازار میں تجارت کرتے تھے ۔ 1959ء سے قبل مدینہ مسجد بی ایریا ملیر میں صوفی احمد حسین امامت کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ کو مقرر کیا گیا۔ آپ مندر اسٹاپ ملیر سٹی سے ملیر بی ایریا مدینہ مسجد سائیکل پر آتے جاتے تھے۔ مدینہ مسجد کو آپ نے مرکزی حیثیت عطا کی، صبح کو حفظ و ناظرہ کا مدرسہ "مکتب رحمانی" خود پڑھاتے، ظہر تا شام سائلین کو دم درود و تعویذ دیتے تھے اور رات میں حلقہ ذکر مراقبہ محفل نعت وغیرہ برپا کرتے،آپ کے سارے کام فی سبیل اللہ ہوتے تھے، اور شب و روز مسجد شریف میں دین اسلام اور دکھی انسانیت کی خدمت میں بسر ہوتے ۔ مسجد کے متصل مدرسہ ، لائبریری وغیرہ آپ کی یاد گار ہیں ۔ جمعہ کے رو ز خود وعظ کیا کرتے تھے۔ وسیع حلقہ آپ سے ارادت و عقیدت رکھتا ہے۔ آپ کے مدرسہ کی شاخیں ملیر میں پھیلی ہوئی ہیں۔"اشاعت قرآن " کی خوب خدمات سر انجام دیں ۔ آپ قرآن پاک کی جب قرأت کرتے تو اجتماع پر سکوت طاری ہو جاتا۔ سوزو گداز سے بھری ہوئی آواز سے مسلمانوں کے قلوب دھل جاتے تھے، اور محفل پر ایک روحانی کیفیت کا سماں ہوتا تھا۔ گناہوں کے مرض میں مبتلا آپ کے روحانی شفاخانہ سے شفاء پاتے تھے ، اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کے سچے غلام بن جاتے تھے۔

وصال:
17 ذو القعدہ 1410ھ، بمطابق 11 جون 1990ء، بروز پیر بوقت عشاء 63 سال کی عمر میں واصل الی اللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار مدینہ مسجد بی ایریا ملیر کراچی کے احاطے میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-qari-mumtaz-ahmad-rehmani
1👍1