🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی چشتی نظامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
عالمِ کبیر محدثِ جلیل خواجہ فیض محمد شاہ جمالی بن مولانا نور الدین علیہما الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
16 ذیقعدہ 1290ھ 5 جنوری بمطابق 1874ء بروز جمعرات بوقتِ سحر اپنے وقت کے ممتاز عالم و عارف حضرت مولانا نور الدین علیہ الرحمتہ کے گھر قصبہ شاہ جمال (ڈیرہ غازی خان) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم قر آنِ پاک اور ابتدائی درسی کتب اپنے والد گرامی سے حاصل کی، اس کے بعد علوم متد اولہ کی کتب حضرت مولانا نصیر بخش چشتی سے پڑھیں ۔ بعدازاں مولانا خلیل احمد (قصبہ روہیلا انوالی) ضلع مظفر گڑھ ،اور حضرت حافظ صاحب سیلا نوالی ضلع میانوالی سے دیگر کتب متداولہ اور درس حدیث شریف کی تحصیل و تکمیل کی ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ عبد الرحمن ملتانی چشتی نظامی علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت سے سر فراز ہو ئے اور انہیں سے خرقہ خلافت حاصل کرکے صاحبِ ارشاد ہوئے ۔ اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ نے بھی اُن کو خلافت عطا کی ۔

سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ عالم باعمل، فاضل بے بدل، غوثِ یگانہ، مرشدِ زمانہ، پیکر علم و عرفان، محد ث و جد و پیمان، استاذ العلماء اور قدوۃ الاخیار ہیں ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ساری زندگی درس و تدریس، قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا ورد فرماتے رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اس علاقے میں رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب، اور علومِ نبویہ کے وارثِ کامل تھے ۔ آپکی ساری زندگی اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی پیکر تھی ۔ آپ کی تعلیم و تربیت اور رشد و ہدایت، وعظ ونصیحت ، اور مجالسِ خیر میں رسول اللہ ﷺ کے عشق و محبت کے جام پلائے جاتے تھے ۔ آپ اپنے مریدین و متوسلین اور عوامِ اہلسنت کوبد مذہبوں کی صحبت و مجالس سے سختی سے منع فرماتے تھے۔

حضرت مولانا مفتی محمد ظریف صاحب فیضی فرماتے ہیں:

ایک سال کا واقعہ ہے کہ مرشدنا حضرت قبلہ شاہجمالی "حاجی پور شریف" حضرت خواجہ نور محمد نارو والے علیہ الرحمہ کے عرس پہ تشریف لے گئے تو سجادہ نشین میاں اللہ ڈیوایا صاحب سے حضرت قبلہ شاہجمالی کی رہائش اور کھانے کا انتظام نہ ہو سکا، رات کو میاں اللہ ڈیوایا صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ کے زیارت ہوئی، دیکھا کہ حضرت شاہجمالی سرکار ﷺ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جن کے صدقہ میں تمہیں سب کچھ مل رہا ہے ان سے بے پرواہی کی ہے؟" میاں اللہ ڈیوایا نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! ان کے متعلق مولوی صاحبان(دیوبندی،وہابی) کہتے ہیں کہ یہ بدعتی ہے ،حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : "جو مولوی ان پہ اعتراض کرتے ہیں وہ ان کے شاگردوں کے برابر بھی نہیں" ۔ (درج اللالی فی حیاتِ خواجہ شاہجمالی، ص:54)

وصال:
آپ کا وصال 8 رجب المرجب 1364 ہجری، 11 جون بمطابق 1945 بروز پیر کو ہوا، مزار پر انوار" سند یلہ شریف "ضلع ڈیرہ غازی خان میں مرجع خاص وعام ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-faiz-muhammad-shah-jamali
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی:
محمد۔ کنیت: ابوالفتح ۔القاب: صدر الدین، ولی الاکبر، الصادق، اور زیادہ " خواجہ بندہ نواز گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہیں ۔

والد کا اسمِ گرامی:
سید یوسف حسینی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے، اور حضرت خواجہ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض سے بھی مستفید ہوئے تھے ۔ سید راجہ کہلاتے تھے ۔

آپ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے ۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کی وجہ سے دکن میں " راجو قتال " مشہور ہوئے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین کے توسط سے مولائے کائنات سے جاکر ملتا ہے ۔ اس لحاظ سے آپ حسینی سید ہیں ۔

گیسو دراز کہلانے کی وجہ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ایک دن اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اپنے پیر و مرشد شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پالکی اٹھائے دہلی کے پر رونق بازار سے گزر رہے تھے ۔

آپ کے "گیسو" (زلفیں) پالکی کے نیچے پھنس گئے ۔ آپ ادب و احترام کے پیش نظر ان بالوں کو نکالنے کی بجائے پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، اور ایک لمبا فاصلہ طے کر گئے ۔ حضرت شیخ چراغ دہلوی کو آپ کی اس کیفیت کا علم ہوا تو آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت گیسو دراز کی اس جانثاری اور ادب پر یہ شعر کہا ۔

؏: ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد،
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد

اسی دن سے آپ " گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہو گئے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 رجب المرجب 720ھ، بمطابق 9 اگست 1320ء، بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد اور نانا کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ نے قرآن شریف حفظ کیا، اس کے علاوہ خلد آباد کے قیام کے زمانے میں آپ نے علومِ دینیہ کی تحصیل شروع کر دی تھی ـ

جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی آئے تو آپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے میں کافی محنت و کوشش کی ۔ آپ کو مولانا شرف الدین کیتھلی، مولانا تاج الدین بہادر، اور قاضی عبد المقتدر سے علوم متداولہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں ۔ علومِ دینیہ کی تحصیل سے انیس ۱۹ سال کی عمر میں فراغت پائی ۔علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ 16 رجب 736ھ، کو شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ مدت کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
امام العاشقین، زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین، شیخِ کامل، عارف باللہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ سیادت علم و ولایت کے جامع تھے ۔ آپ اعلیٰ شان کے مالک تھے ۔ آپ کا رتبہ سچ ، احوال قوی، مشرب وسیع، بلند ہمت، عارفانہ کلام، صوفیانہ احوال، اور شیریں مقال رکھتے تھے ۔ مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں آپ کا مشرب خاص، اور رموزِ حقیقت کے بیان میں آپ کا طریقہ مخصوص ہے ۔ آپ زہد و تقویٰ، تحمل و برد باری، سخاوت و فیاضی، عطاء و بخشش، قناعت و توکل، ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات میں یگانۂ عَصر تھے ۔

آپ کو اپنے پیر و مرشد شیخ الاسلام حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلی سے والہانہ محبت تھی ۔ حضرت چراغ دہلی رحمۃ اللہ علیہ جو حکم فرماتے تھے، آپ اس کو بجا لاتے ۔ آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے ۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے ۔ تمام سنن و نوافل ادا کرتے تھے ۔ کم سونا، کم کھانا، کم پینا، اور ہر وقت ذکر و فکر، مراقبۂ و مشاہدہ، اور مریدین کو وعظ و نصیحت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔
2
آپ کو تمام علوم پر مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔ قرآن وحدیث اور تصوف و فقہ پر آپ درس دیا کرتے تھے ۔ آپ نے مختلف موضوعات پر عربی اور فارسی زبان میں تقریباً ایک سو پانچ کتب تصنیف فرمائی ہیں، اور کچھ کتب کے حواشی اور شروح بھی تحریر فرمائے ہیں، جیسے "شرح رسالہ قشیریہ" شرح فقہ الاکبر"اور قرآنِ مجید کے پانچ پاروں کی تفسیر بھی لکھی ہے ۔

آپ کے ایک مرید نے آپ کے ملفوظات "جوامع الکلم" کے نام سے جمع کیے ہیں ۔مشائخِ چشتیہ میں ان ملفوظات کی بہت اہمیت ہے ۔ آپ کے نزدیک شریعت کی پاسداری سب سے مقدم ہے ۔ آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں: "یہ عقیدہ نہ رکھو کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ (فی زمانہ جس طرح جاہل پیر کہتے پھرتے ہیں) بلکہ ایک ہیں ۔ دیکھو بادام کے اندر تین چیزیں ہیں ۔ پوست،مغز اور روغن، تینوں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا خلاصہ ہیں ۔ یعنی پوست کا خلاصہ مغز ہے اور مغز کا خلاصہ روغن، اسی طرح شریعت کا خلاصہ طریقت اور طریقت کا خلاصہ حقیقت ہے " ۔ آپ کے نزدیک وقت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہ تھی ۔ اس لئے آپ وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اپنے مریدین کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے، کہ تمھارا ایک لمحہ بھی غفلت میں نہ گزرے، بلکہ اللہ جل شانہ کی یاد میں گزرے ۔

وصال:
آپ نے 16 ذیقعدہ 825ھ، بمطابق 1422ء کو اس عالم سے پردہ فرمایا ۔

مزار مبارک:
مزار گلبرگہ (دکن، انڈیا) میں قبلہ حاجات خلائق ہے، بوقت وفات آپ کی عمر ایک سو پانچ سال تھی ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ بزرگانِ چشت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-meer-syed-muhamamd-gaisu-daraz
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-11-1444 ᴴ | 05-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-11-1444 ᴴ | 06-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1