🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-11-1444 ᴴ | 04-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-11-1444 ᴴ | 05-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-11-1444 ᴴ | 05-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-11-1444 ᴴ | 05-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا سیدشاہ ظہور الحق پھلواری رحمہ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید شاہ ظہور الحق ۔ لقب: سلسلہ عمادیہ کی نسبت سے "عمادی" اور پھلواری کی نسبت سے "پھلواری" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید شاہ ظہور الحق، بن مولانا شاہ نورالحق المعروف طپاں ابدال، بن حضرت شاہ مجیب اللہ پھلواری ۔ (رحمۃاللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
بروز اتوار 27 محرم الحرام 1185ھ، بمطابق 1771ء کو بوقتِ چاشت ولادت ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے مکمل قرآنِ مجید اپنے جد امجد شاہ نجیب اللہ پھلواری رحمۃ اللہ علیہ سے حفظ کیا، اور درسیات کی ابتدائی کتابوں سے لے کر متوسطات تک اپنے والد بزرگوار حضرت محی السالکین مولانا شاہ محمد نور الحق علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔ بقیہ کتابیں مولانا جلال الدین ساکن ڈہری مقیم پٹنہ عظیم آباد سے پڑھ کر 1200ھ میں 15 برس کی عمر میں فاتحہ فراغ ہوئی، اور 1230ھ تک حصنِ حصین، صحیح بخاری، اور صحیح مسلم کے حفظ سے فراغت پائی۔ آپ نے بذریعہ خط خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے سند حدیث حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ 1200ھ کو اپنے والدِ گرامی حضرت مولانا شاہ نور الحق المعروف طپاں سے بیعت ہوئے، اور 20 جمادی الاول 1211ھ کو عرس کے موقع پر اجازت و خلافت و عصاء تسبیح و مصلیٰ دے کر بہ حضور جمیع المشائخ قرب و جوار سجاد پر بٹھا دیا ۔ اس وقت آپ کی عمر چھبیس برس کئی ما ہ کی تھی ۔
سیرت و خصائص:
خاتم المحدثین امامِ اہلسنت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے آپ کو ایک خط میں ان القابات سے یاد فرمایا: "صاحبزادہ عالی مرتبت، مجمع فضائل و مناقب، جلالۃ الاکابر و المعاصر، نتیجہ ارباب المحاسن و المحامد، ذوالمجد و المعالی، بہحۃ الایام و اللیالی حضرت مولانا شاہ ظہورالحق محدث پھلواری رحمۃ اللہ علیہ" ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر، اور جمیع علومِ عقلیہ ونقلیہ کی جامع اور باکمال شخصیت کے مالک تھے ۔ عربی و فارسی ادب پر مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ آپ کے جد امجد ولیِ کامل حضرت مولانا شاہ مجیب اللہ رحمۃ اللہ علیہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔ آخری وقت آپ کوبہت سی دعاؤں سے نوازا ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے والدِ گرامی کی حیات میں ہی اطراف وکناف میں علم وفضل کے اعتبار مشہور ہوگئے تھے۔اس وجہ سے آپ کی سجادہ نشینی کے ساتھ ہی زیادہ تر لوگ آپ سے رجوع کر نے لگے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے رؤسا،امراء، علماء و صلحاءنے آپ کی طرف رجوع کیا۔ پٹنہ کے بہت بڑے رئیس راجہ جھاؤ لال جن کے نام سے آج تک پٹنہ میں محلہ جھاؤ گنج مشہور ہے ،آپ کے دست حق پرست پر مسلمان ہوئے اور غلام ثامن جوبہت بڑے منطقی اور علامہ روزگار تھے اور صوبہ بہار کے کسی عالم کو اپنی نگاہ میں نہیں لاتے تھے عقائد میں دہریت آگئی تھی۔ آپ سے دوچارہی باتوں میں ایسے گرویدہ ہوگئے کہ جب تک زندہ رہے خانقاہ کا آستانہ نہ چھوڑا۔ مناظرے کا آپ کو بہت شوق تھا۔ ہمیشہ اپنے حریف پر غالب رہے۔ آپ تدریس کے ساتھ تصنیف کا بھی شغف رکھتے تھے۔آپ کی تصانیف کی تعداد سو کےقریب ہےجن میں سے اکثر کتابیں خانقاہ کے کتب خانے میں موجود ہیں۔ ہرکام میں سنتِ مصطفیٰ ﷺ کواولین ترجیح تھی،مریدین،اورتلامذہ کو اتباعِ شریعتِ محمدیہ کی سختی سےتلقین کرتے تھے۔
وصال:
آپ کاوصال 16 ذوالقعدہ 1234ھ، بمطابق 1819ء، بروز منگل بوقتِ ظہر آپ کا انتقال ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "پھلواری"( ضلع پٹنہ، صوبہ بہار، انڈیا) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ انوار الاولیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-zahoor-ul-haq-phulwari
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید شاہ ظہور الحق ۔ لقب: سلسلہ عمادیہ کی نسبت سے "عمادی" اور پھلواری کی نسبت سے "پھلواری" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید شاہ ظہور الحق، بن مولانا شاہ نورالحق المعروف طپاں ابدال، بن حضرت شاہ مجیب اللہ پھلواری ۔ (رحمۃاللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
بروز اتوار 27 محرم الحرام 1185ھ، بمطابق 1771ء کو بوقتِ چاشت ولادت ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے مکمل قرآنِ مجید اپنے جد امجد شاہ نجیب اللہ پھلواری رحمۃ اللہ علیہ سے حفظ کیا، اور درسیات کی ابتدائی کتابوں سے لے کر متوسطات تک اپنے والد بزرگوار حضرت محی السالکین مولانا شاہ محمد نور الحق علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔ بقیہ کتابیں مولانا جلال الدین ساکن ڈہری مقیم پٹنہ عظیم آباد سے پڑھ کر 1200ھ میں 15 برس کی عمر میں فاتحہ فراغ ہوئی، اور 1230ھ تک حصنِ حصین، صحیح بخاری، اور صحیح مسلم کے حفظ سے فراغت پائی۔ آپ نے بذریعہ خط خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے سند حدیث حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ 1200ھ کو اپنے والدِ گرامی حضرت مولانا شاہ نور الحق المعروف طپاں سے بیعت ہوئے، اور 20 جمادی الاول 1211ھ کو عرس کے موقع پر اجازت و خلافت و عصاء تسبیح و مصلیٰ دے کر بہ حضور جمیع المشائخ قرب و جوار سجاد پر بٹھا دیا ۔ اس وقت آپ کی عمر چھبیس برس کئی ما ہ کی تھی ۔
سیرت و خصائص:
خاتم المحدثین امامِ اہلسنت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے آپ کو ایک خط میں ان القابات سے یاد فرمایا: "صاحبزادہ عالی مرتبت، مجمع فضائل و مناقب، جلالۃ الاکابر و المعاصر، نتیجہ ارباب المحاسن و المحامد، ذوالمجد و المعالی، بہحۃ الایام و اللیالی حضرت مولانا شاہ ظہورالحق محدث پھلواری رحمۃ اللہ علیہ" ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر، اور جمیع علومِ عقلیہ ونقلیہ کی جامع اور باکمال شخصیت کے مالک تھے ۔ عربی و فارسی ادب پر مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ آپ کے جد امجد ولیِ کامل حضرت مولانا شاہ مجیب اللہ رحمۃ اللہ علیہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔ آخری وقت آپ کوبہت سی دعاؤں سے نوازا ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے والدِ گرامی کی حیات میں ہی اطراف وکناف میں علم وفضل کے اعتبار مشہور ہوگئے تھے۔اس وجہ سے آپ کی سجادہ نشینی کے ساتھ ہی زیادہ تر لوگ آپ سے رجوع کر نے لگے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے رؤسا،امراء، علماء و صلحاءنے آپ کی طرف رجوع کیا۔ پٹنہ کے بہت بڑے رئیس راجہ جھاؤ لال جن کے نام سے آج تک پٹنہ میں محلہ جھاؤ گنج مشہور ہے ،آپ کے دست حق پرست پر مسلمان ہوئے اور غلام ثامن جوبہت بڑے منطقی اور علامہ روزگار تھے اور صوبہ بہار کے کسی عالم کو اپنی نگاہ میں نہیں لاتے تھے عقائد میں دہریت آگئی تھی۔ آپ سے دوچارہی باتوں میں ایسے گرویدہ ہوگئے کہ جب تک زندہ رہے خانقاہ کا آستانہ نہ چھوڑا۔ مناظرے کا آپ کو بہت شوق تھا۔ ہمیشہ اپنے حریف پر غالب رہے۔ آپ تدریس کے ساتھ تصنیف کا بھی شغف رکھتے تھے۔آپ کی تصانیف کی تعداد سو کےقریب ہےجن میں سے اکثر کتابیں خانقاہ کے کتب خانے میں موجود ہیں۔ ہرکام میں سنتِ مصطفیٰ ﷺ کواولین ترجیح تھی،مریدین،اورتلامذہ کو اتباعِ شریعتِ محمدیہ کی سختی سےتلقین کرتے تھے۔
وصال:
آپ کاوصال 16 ذوالقعدہ 1234ھ، بمطابق 1819ء، بروز منگل بوقتِ ظہر آپ کا انتقال ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "پھلواری"( ضلع پٹنہ، صوبہ بہار، انڈیا) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ انوار الاولیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-zahoor-ul-haq-phulwari
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Zahoor ul Haq Phulwari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی چشتی نظامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
عالمِ کبیر محدثِ جلیل خواجہ فیض محمد شاہ جمالی بن مولانا نور الدین علیہما الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
16 ذیقعدہ 1290ھ 5 جنوری بمطابق 1874ء بروز جمعرات بوقتِ سحر اپنے وقت کے ممتاز عالم و عارف حضرت مولانا نور الدین علیہ الرحمتہ کے گھر قصبہ شاہ جمال (ڈیرہ غازی خان) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم قر آنِ پاک اور ابتدائی درسی کتب اپنے والد گرامی سے حاصل کی، اس کے بعد علوم متد اولہ کی کتب حضرت مولانا نصیر بخش چشتی سے پڑھیں ۔ بعدازاں مولانا خلیل احمد (قصبہ روہیلا انوالی) ضلع مظفر گڑھ ،اور حضرت حافظ صاحب سیلا نوالی ضلع میانوالی سے دیگر کتب متداولہ اور درس حدیث شریف کی تحصیل و تکمیل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ عبد الرحمن ملتانی چشتی نظامی علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت سے سر فراز ہو ئے اور انہیں سے خرقہ خلافت حاصل کرکے صاحبِ ارشاد ہوئے ۔ اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ نے بھی اُن کو خلافت عطا کی ۔
سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ عالم باعمل، فاضل بے بدل، غوثِ یگانہ، مرشدِ زمانہ، پیکر علم و عرفان، محد ث و جد و پیمان، استاذ العلماء اور قدوۃ الاخیار ہیں ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ساری زندگی درس و تدریس، قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا ورد فرماتے رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اس علاقے میں رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب، اور علومِ نبویہ کے وارثِ کامل تھے ۔ آپکی ساری زندگی اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی پیکر تھی ۔ آپ کی تعلیم و تربیت اور رشد و ہدایت، وعظ ونصیحت ، اور مجالسِ خیر میں رسول اللہ ﷺ کے عشق و محبت کے جام پلائے جاتے تھے ۔ آپ اپنے مریدین و متوسلین اور عوامِ اہلسنت کوبد مذہبوں کی صحبت و مجالس سے سختی سے منع فرماتے تھے۔
حضرت مولانا مفتی محمد ظریف صاحب فیضی فرماتے ہیں:
ایک سال کا واقعہ ہے کہ مرشدنا حضرت قبلہ شاہجمالی "حاجی پور شریف" حضرت خواجہ نور محمد نارو والے علیہ الرحمہ کے عرس پہ تشریف لے گئے تو سجادہ نشین میاں اللہ ڈیوایا صاحب سے حضرت قبلہ شاہجمالی کی رہائش اور کھانے کا انتظام نہ ہو سکا، رات کو میاں اللہ ڈیوایا صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ کے زیارت ہوئی، دیکھا کہ حضرت شاہجمالی سرکار ﷺ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جن کے صدقہ میں تمہیں سب کچھ مل رہا ہے ان سے بے پرواہی کی ہے؟" میاں اللہ ڈیوایا نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! ان کے متعلق مولوی صاحبان(دیوبندی،وہابی) کہتے ہیں کہ یہ بدعتی ہے ،حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : "جو مولوی ان پہ اعتراض کرتے ہیں وہ ان کے شاگردوں کے برابر بھی نہیں" ۔ (درج اللالی فی حیاتِ خواجہ شاہجمالی، ص:54)
وصال:
آپ کا وصال 8 رجب المرجب 1364 ہجری، 11 جون بمطابق 1945 بروز پیر کو ہوا، مزار پر انوار" سند یلہ شریف "ضلع ڈیرہ غازی خان میں مرجع خاص وعام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-faiz-muhammad-shah-jamali
نام و نسب:
عالمِ کبیر محدثِ جلیل خواجہ فیض محمد شاہ جمالی بن مولانا نور الدین علیہما الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
16 ذیقعدہ 1290ھ 5 جنوری بمطابق 1874ء بروز جمعرات بوقتِ سحر اپنے وقت کے ممتاز عالم و عارف حضرت مولانا نور الدین علیہ الرحمتہ کے گھر قصبہ شاہ جمال (ڈیرہ غازی خان) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم قر آنِ پاک اور ابتدائی درسی کتب اپنے والد گرامی سے حاصل کی، اس کے بعد علوم متد اولہ کی کتب حضرت مولانا نصیر بخش چشتی سے پڑھیں ۔ بعدازاں مولانا خلیل احمد (قصبہ روہیلا انوالی) ضلع مظفر گڑھ ،اور حضرت حافظ صاحب سیلا نوالی ضلع میانوالی سے دیگر کتب متداولہ اور درس حدیث شریف کی تحصیل و تکمیل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ عبد الرحمن ملتانی چشتی نظامی علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت سے سر فراز ہو ئے اور انہیں سے خرقہ خلافت حاصل کرکے صاحبِ ارشاد ہوئے ۔ اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ نے بھی اُن کو خلافت عطا کی ۔
سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ عالم باعمل، فاضل بے بدل، غوثِ یگانہ، مرشدِ زمانہ، پیکر علم و عرفان، محد ث و جد و پیمان، استاذ العلماء اور قدوۃ الاخیار ہیں ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ساری زندگی درس و تدریس، قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا ورد فرماتے رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اس علاقے میں رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب، اور علومِ نبویہ کے وارثِ کامل تھے ۔ آپکی ساری زندگی اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی پیکر تھی ۔ آپ کی تعلیم و تربیت اور رشد و ہدایت، وعظ ونصیحت ، اور مجالسِ خیر میں رسول اللہ ﷺ کے عشق و محبت کے جام پلائے جاتے تھے ۔ آپ اپنے مریدین و متوسلین اور عوامِ اہلسنت کوبد مذہبوں کی صحبت و مجالس سے سختی سے منع فرماتے تھے۔
حضرت مولانا مفتی محمد ظریف صاحب فیضی فرماتے ہیں:
ایک سال کا واقعہ ہے کہ مرشدنا حضرت قبلہ شاہجمالی "حاجی پور شریف" حضرت خواجہ نور محمد نارو والے علیہ الرحمہ کے عرس پہ تشریف لے گئے تو سجادہ نشین میاں اللہ ڈیوایا صاحب سے حضرت قبلہ شاہجمالی کی رہائش اور کھانے کا انتظام نہ ہو سکا، رات کو میاں اللہ ڈیوایا صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ کے زیارت ہوئی، دیکھا کہ حضرت شاہجمالی سرکار ﷺ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جن کے صدقہ میں تمہیں سب کچھ مل رہا ہے ان سے بے پرواہی کی ہے؟" میاں اللہ ڈیوایا نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! ان کے متعلق مولوی صاحبان(دیوبندی،وہابی) کہتے ہیں کہ یہ بدعتی ہے ،حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : "جو مولوی ان پہ اعتراض کرتے ہیں وہ ان کے شاگردوں کے برابر بھی نہیں" ۔ (درج اللالی فی حیاتِ خواجہ شاہجمالی، ص:54)
وصال:
آپ کا وصال 8 رجب المرجب 1364 ہجری، 11 جون بمطابق 1945 بروز پیر کو ہوا، مزار پر انوار" سند یلہ شریف "ضلع ڈیرہ غازی خان میں مرجع خاص وعام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-faiz-muhammad-shah-jamali
scholars.pk
Hazrat Khawaja Faiz Muhammad Shah Jamali
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: محمد۔ کنیت: ابوالفتح ۔القاب: صدر الدین، ولی الاکبر، الصادق، اور زیادہ " خواجہ بندہ نواز گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہیں ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید یوسف حسینی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے، اور حضرت خواجہ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض سے بھی مستفید ہوئے تھے ۔ سید راجہ کہلاتے تھے ۔
آپ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے ۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کی وجہ سے دکن میں " راجو قتال " مشہور ہوئے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین کے توسط سے مولائے کائنات سے جاکر ملتا ہے ۔ اس لحاظ سے آپ حسینی سید ہیں ۔
گیسو دراز کہلانے کی وجہ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ایک دن اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اپنے پیر و مرشد شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پالکی اٹھائے دہلی کے پر رونق بازار سے گزر رہے تھے ۔
آپ کے "گیسو" (زلفیں) پالکی کے نیچے پھنس گئے ۔ آپ ادب و احترام کے پیش نظر ان بالوں کو نکالنے کی بجائے پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، اور ایک لمبا فاصلہ طے کر گئے ۔ حضرت شیخ چراغ دہلوی کو آپ کی اس کیفیت کا علم ہوا تو آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت گیسو دراز کی اس جانثاری اور ادب پر یہ شعر کہا ۔
؏: ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد،
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد
اسی دن سے آپ " گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہو گئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 رجب المرجب 720ھ، بمطابق 9 اگست 1320ء، بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد اور نانا کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ نے قرآن شریف حفظ کیا، اس کے علاوہ خلد آباد کے قیام کے زمانے میں آپ نے علومِ دینیہ کی تحصیل شروع کر دی تھی ـ
جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی آئے تو آپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے میں کافی محنت و کوشش کی ۔ آپ کو مولانا شرف الدین کیتھلی، مولانا تاج الدین بہادر، اور قاضی عبد المقتدر سے علوم متداولہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں ۔ علومِ دینیہ کی تحصیل سے انیس ۱۹ سال کی عمر میں فراغت پائی ۔علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ 16 رجب 736ھ، کو شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ مدت کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام العاشقین، زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین، شیخِ کامل، عارف باللہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ سیادت علم و ولایت کے جامع تھے ۔ آپ اعلیٰ شان کے مالک تھے ۔ آپ کا رتبہ سچ ، احوال قوی، مشرب وسیع، بلند ہمت، عارفانہ کلام، صوفیانہ احوال، اور شیریں مقال رکھتے تھے ۔ مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں آپ کا مشرب خاص، اور رموزِ حقیقت کے بیان میں آپ کا طریقہ مخصوص ہے ۔ آپ زہد و تقویٰ، تحمل و برد باری، سخاوت و فیاضی، عطاء و بخشش، قناعت و توکل، ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات میں یگانۂ عَصر تھے ۔
آپ کو اپنے پیر و مرشد شیخ الاسلام حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلی سے والہانہ محبت تھی ۔ حضرت چراغ دہلی رحمۃ اللہ علیہ جو حکم فرماتے تھے، آپ اس کو بجا لاتے ۔ آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے ۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے ۔ تمام سنن و نوافل ادا کرتے تھے ۔ کم سونا، کم کھانا، کم پینا، اور ہر وقت ذکر و فکر، مراقبۂ و مشاہدہ، اور مریدین کو وعظ و نصیحت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔
نام ونسب:
اسمِ گرامی: محمد۔ کنیت: ابوالفتح ۔القاب: صدر الدین، ولی الاکبر، الصادق، اور زیادہ " خواجہ بندہ نواز گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہیں ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید یوسف حسینی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے، اور حضرت خواجہ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض سے بھی مستفید ہوئے تھے ۔ سید راجہ کہلاتے تھے ۔
آپ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے ۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کی وجہ سے دکن میں " راجو قتال " مشہور ہوئے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین کے توسط سے مولائے کائنات سے جاکر ملتا ہے ۔ اس لحاظ سے آپ حسینی سید ہیں ۔
گیسو دراز کہلانے کی وجہ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ایک دن اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اپنے پیر و مرشد شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پالکی اٹھائے دہلی کے پر رونق بازار سے گزر رہے تھے ۔
آپ کے "گیسو" (زلفیں) پالکی کے نیچے پھنس گئے ۔ آپ ادب و احترام کے پیش نظر ان بالوں کو نکالنے کی بجائے پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، اور ایک لمبا فاصلہ طے کر گئے ۔ حضرت شیخ چراغ دہلوی کو آپ کی اس کیفیت کا علم ہوا تو آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت گیسو دراز کی اس جانثاری اور ادب پر یہ شعر کہا ۔
؏: ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد،
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد
اسی دن سے آپ " گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہو گئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 رجب المرجب 720ھ، بمطابق 9 اگست 1320ء، بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد اور نانا کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ نے قرآن شریف حفظ کیا، اس کے علاوہ خلد آباد کے قیام کے زمانے میں آپ نے علومِ دینیہ کی تحصیل شروع کر دی تھی ـ
جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی آئے تو آپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے میں کافی محنت و کوشش کی ۔ آپ کو مولانا شرف الدین کیتھلی، مولانا تاج الدین بہادر، اور قاضی عبد المقتدر سے علوم متداولہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں ۔ علومِ دینیہ کی تحصیل سے انیس ۱۹ سال کی عمر میں فراغت پائی ۔علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ 16 رجب 736ھ، کو شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ مدت کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام العاشقین، زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین، شیخِ کامل، عارف باللہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ سیادت علم و ولایت کے جامع تھے ۔ آپ اعلیٰ شان کے مالک تھے ۔ آپ کا رتبہ سچ ، احوال قوی، مشرب وسیع، بلند ہمت، عارفانہ کلام، صوفیانہ احوال، اور شیریں مقال رکھتے تھے ۔ مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں آپ کا مشرب خاص، اور رموزِ حقیقت کے بیان میں آپ کا طریقہ مخصوص ہے ۔ آپ زہد و تقویٰ، تحمل و برد باری، سخاوت و فیاضی، عطاء و بخشش، قناعت و توکل، ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات میں یگانۂ عَصر تھے ۔
آپ کو اپنے پیر و مرشد شیخ الاسلام حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلی سے والہانہ محبت تھی ۔ حضرت چراغ دہلی رحمۃ اللہ علیہ جو حکم فرماتے تھے، آپ اس کو بجا لاتے ۔ آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے ۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے ۔ تمام سنن و نوافل ادا کرتے تھے ۔ کم سونا، کم کھانا، کم پینا، اور ہر وقت ذکر و فکر، مراقبۂ و مشاہدہ، اور مریدین کو وعظ و نصیحت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔
❤2