آپ کے زمانے میں علم بیچا نہیں جاتا تھا، تعلیم جیسے مقدس شعبے کی تجارت نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ ہر شہر اور ہر قصبے میں سرکاری مدارس کی بنیاد رکھی جہاں ہر قسم کی تعلیم فری ہوتی اور اس کے ساتھ علماء و طلباء کو وظائف اور روزینے مقرر تھے۔ جس کی وجہ سے مطمئن ہو کر تعلیم و تعلم میں مشغول رہتے تھے۔
وصیت:
آپ نے تجہیز و تکفین سے متعلق یہ وصیت فرمائی تھی:"چار روپیہ، دو آنےجو ٹوپیوں کی سلائی سے حاصل ہوئے، ان سے میری تجہیز و تکفین ہو۔ تین سو پانچ روپے قرآن نویسی کی اجرت کے محفوظ ہیں، وفات کے دن مساکین میں تقسیم کر دئیےجائیں"۔ (آپ کے تحریر کردہ قرآن مجید کے چھ نسخے اور ایک پنج سورہ مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ آپ جس کلامِ مجید میں تلاوت کرتے تھے، وہ اس وقت کولمبیا یونیورسٹی (امریکہ) کے قبضے میں ہے)۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی:557)
وصال:
بروز جمعۃ المبارک، 28 ذیقعدہ 1118ھ، بمطابق 20 فروری 1707ء ، بوقتِ صبح، 90 سال کی عمر میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے ـ
مزار شریف:
خلدآباد، ضلع اورنگ آباد، صوبہ مہاراشٹر (انڈیا) احاطہ درگاہ حضرت زین الدین علیہ الرحمہ میں مدفون ہیں۔
ماخذ و مراجع:
علماء ہند کا شاندار ماضی ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-aurangzeb-alamgir
Copyright © Zia-e-Taiba
وصیت:
آپ نے تجہیز و تکفین سے متعلق یہ وصیت فرمائی تھی:"چار روپیہ، دو آنےجو ٹوپیوں کی سلائی سے حاصل ہوئے، ان سے میری تجہیز و تکفین ہو۔ تین سو پانچ روپے قرآن نویسی کی اجرت کے محفوظ ہیں، وفات کے دن مساکین میں تقسیم کر دئیےجائیں"۔ (آپ کے تحریر کردہ قرآن مجید کے چھ نسخے اور ایک پنج سورہ مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ آپ جس کلامِ مجید میں تلاوت کرتے تھے، وہ اس وقت کولمبیا یونیورسٹی (امریکہ) کے قبضے میں ہے)۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی:557)
وصال:
بروز جمعۃ المبارک، 28 ذیقعدہ 1118ھ، بمطابق 20 فروری 1707ء ، بوقتِ صبح، 90 سال کی عمر میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے ـ
مزار شریف:
خلدآباد، ضلع اورنگ آباد، صوبہ مہاراشٹر (انڈیا) احاطہ درگاہ حضرت زین الدین علیہ الرحمہ میں مدفون ہیں۔
ماخذ و مراجع:
علماء ہند کا شاندار ماضی ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-aurangzeb-alamgir
Copyright © Zia-e-Taiba
scholars.pk
Hazrat Mohiuddin Aurangzeb Alamgir
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
بارہویں صدی کے مجدد ، شہنشاہ ہندوستان ابو المظفر محی الدین سلطان اورنگ زیب بہادر عالمگیر بادشاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: اورنگ زیب عالمگیر ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: محی الدین ، سلطان المعظم ، سلطان الہند ۔ پورا نام: سلطان المعظم ابو المظفر…
ابوالمظفر محی الدین سلطان محمد
اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ الله علیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 15 ذی القعدہ 1027ھ
وصال: 28 ذو القعدہ 1118ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_القعدہ
#یوم_وصال_ماہ_ذو_القعدہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/51843
اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ الله علیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 15 ذی القعدہ 1027ھ
وصال: 28 ذو القعدہ 1118ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_القعدہ
#یوم_وصال_ماہ_ذو_القعدہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/51843
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما)
تاریخ و مقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے بریلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہو کر تکمیلِ سلوک کیا ۔
اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کر دی ۔
سیرت و خصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ ـ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے ۔
آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم و ناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام " فرش پر عرش " طبع ہو چکی ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: " شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو " ۔ تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا ۔ چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی و تعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ۔
علمائے اہل سنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے ۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے ۔ اہلسنت کی نشر و اشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد و جہد سے کام لیا ، سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا ۔ آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا ۔
تاریخِ وصال:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ / بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما)
تاریخ و مقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے بریلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہو کر تکمیلِ سلوک کیا ۔
اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کر دی ۔
سیرت و خصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ ـ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے ۔
آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم و ناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام " فرش پر عرش " طبع ہو چکی ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: " شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو " ۔ تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا ۔ چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی و تعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ۔
علمائے اہل سنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے ۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے ۔ اہلسنت کی نشر و اشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد و جہد سے کام لیا ، سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا ۔ آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا ۔
تاریخِ وصال:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ / بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
scholars.pk
Hazrat Muhaddith-e-Azam Syed Muhammad Kachochavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم نام و نسب: اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما) تاریخ و مقامِ ولادت: محدثِ…
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 15 ذی القعدہ 1311ھ
وصال: 17 ذو رجب المرجب 1383ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_القعدہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_رجب_المرجب
https://t.me/islaamic_Knowledge/51847
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 15 ذی القعدہ 1311ھ
وصال: 17 ذو رجب المرجب 1383ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_القعدہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_رجب_المرجب
https://t.me/islaamic_Knowledge/51847
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-11-1444 ᴴ | 04-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-11-1444 ᴴ | 05-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-11-1444 ᴴ | 05-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-11-1444 ᴴ | 05-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1