سیرت و خصائص:
سراج المفسرین، فخر المحدثین، زبدۃ العارفین، فقیہ الاسلام، تاج الاسلام، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، وارثِ علوم ِ مجددِ دین و ملّت، مظہر حجۃ الاسلام، شہزداۂ مفسرِ اعظم، جانشینِ مفتیِ اعظم،قاضی القضاۃ فی الہند، شیخ العربِ والعجم، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری محدث بریلوی اہلِ سنّت وجماعت کے ممتاز ترین صاحبِ علم و بصیرت، اور باقیاتِ صالحین میں سے ایک تھے ۔ آپ حقیقتاً امامِ اہلِ سنّت شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کے خلفِ صادق، جانشینِ کامل، حجۃ الاسلام کے عکسِ جمیل، مفتیِ اعظم ہند اور مفسر اعظم ہند کے علوم و معارف کے وارثِ اکمل تھے۔ ذکاوتِ طبع اور قوتِ اتقان، وسعتِ مطالعہ میں اپنی مثال آپ تھے۔ درس و تدریس، فقہ و افتاء، قراءت و تجوید، منطق و فلسفہ، ریاضی، علم جفر و تکسیر،اور علم ہیئت و توقیت میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔
مفتی عبدالرحیم بستوی فرماتے ہیں:
’’سب ہی (خاندانی) حضرات ِ گرامی کے کمالات ِ علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملاہے۔فہم و ذکا، قوتِ حافظہ و تقویٰ سیّدی اعلیٰ حضرت سے، جودتِ طبع و مہارتِ تامّہ (عربی ادب) حضور حجۃ الاسلام سے، فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتی اعظم ہند سے،قوتِ خطابت و بیان والدِ ذی وقار مفسر اعظم ہند سے۔یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کو وراثتاً حاصل ہیں جن کی رہبرِ شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے ۔ (سوانح تاج الشریعہ)
آپ علیہ الرحمہ کثیر کتب کے مصنّف تھے ۔ فنی موضوعات پر علمی زبان استعمال کرتے، لیکن اس کے باوجود آپ کی تحریرات سے ثقالت و اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی،آپ ہر موضوع پر ادیبانہ اُسلوب اختیار کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔آپ کی تحریروں میں سلاست و روانی، ایجاز و اختصار، تشبیہات و استعارات، فصاحت و بلاغت، پائی جاتی ہے؛بالخصوص فقہ و افتاء میں خصوصی مہارت حاصل تھی، فقہی جزئیات ،اور علمی استدلال میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت کی جھلک پائی جاتی تھی ۔
آپ کے فتاوٰی علم کے خزینے، اور مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہیں۔اسی طرح آپ کو عربی، فارسی،اردو، ہندی،ادب پر دسترس حاصل تھی۔اعلیٰ حضرت کی طرح جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا، اسی میں جواب دیتے تھے ۔ آپ کی تدریسی اور بحیثیت مفتی دارالافتاء منظر اسلام میں اکیاون (51) سالہ خدمات ہیں،جس میں دنیا بھر سے ہزاروں فتاوٰی جات کے جوابات، مختلف موضوعات اور مختلف زبانوں پر علمی تحریرات اس کے علاوہ ہیں۔
یہ سب مفتی اعظم ہند کا فیضان تھا، حضرت مفتی اعظم نے دارالافتاء کی عظیم ذمّے داری آپ کوسونپتے ہوئے ارشاد فرمایاتھا:
’’اختر میاں!
اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، کبھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتے، اب تم اس کام کوانجام دو، میں تمھارے سپرد کرتاہوں۔‘‘
پھر لوگوں سے مخاطب ہوکرفرمایا:
’’آپ لوگ اب اخترمیاں سَلَّمَہٗ سےرجوع کریں، انہیں کو میراقائم مقام اور جانشیں جانیں۔‘‘
تاج الشریعہ نے اس مسند افتاء کاایسا حق اداکیا کہ اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام اور مفتی اعظم ہند کی یاد تازہ ہوگئی، اور دنیامیں ’’تاج الشریعہ‘‘ کےلقب سے ملقب ہوئے، اوریہ لقب ایسا سجا کہ جیسے اعلیٰ حضرت سنتے ہی ذہن فوراً امام احمد رضا خاں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے،اسی طرح ’’تاج الشریعہ‘‘ سے ذہن مفتی اختررضاخاں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے آپ کوذوقِ سخن سے بھی وافر حصّہ عطا فرمایاتھا۔عربی، فارسی، اور اردو تینوں زبانوں میں آپ کی نعتیہ شاعری موجود ہے۔آپ کا مجموعۂ کلام ’’سفینۂ بخشش‘‘ کے نام سے متعدد بار شائع ہوکر اَرباب ِ سخن سے دادِ تحسین حاصل کرچکا ہے۔جہاں آپ کے نثری شہ پارے ادبی حیثیت کے حامل ہیں،وہیں آپ کی شاعری بھی آپ کی قادر الکلامی پر شاہد و عادل ہے۔
اللہ ربّ العزّت نے جانشینِ مفتیِ اعظم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو جن گوناگوں صفات سے متصف کیا تھا، اُن صفات میں سے ایک حق گوئی اور بے باکی بھی ہے۔ آپ نے کبھی بھی صداقت و حقانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ چاہے کتنے ہی مصلحت کے تقاضے کیوں نہ ہوں، چاہے کتنے ہی قیدو بند، مصائب وآلام اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہننا پڑیں کبھی کسی کو خوش کرنے کے لیے اس کی منشا کے مطابق فتویٰ تحریر نہیں فرمایا۔ جب کبھی کوئی فتویٰ تحریر فرمایا تو اپنے اَسلاف، اپنے آبا و اَجداد کے قدم بَہ قدم ہوکرتحریر فرمایا۔ جس طرح جدِّ امجد امام احمد رضا فاضل بریلوی اور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری نے بے خوف و خطر فتاوٰی تحریر فرمائےاُسی طرح اپنے اَجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جانشینِ مفتیِ اعظم نظر آتے ہیں۔ اِس حق گوئی کے شواہد آج آپ کے ہزاروں فتاوٰی ہیں جو ملک اور بیرونِ ملک میں پھیلےہوئے ہیں۔
اسی طرح تصلّب فی الدین اور مسلکِ اعلیٰ حضرت، اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ پوری دنیا میں تبلیغی دورے فرماتے تھے، لیکن صلح کلیت کے بالکل خلاف تھے۔
سراج المفسرین، فخر المحدثین، زبدۃ العارفین، فقیہ الاسلام، تاج الاسلام، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، وارثِ علوم ِ مجددِ دین و ملّت، مظہر حجۃ الاسلام، شہزداۂ مفسرِ اعظم، جانشینِ مفتیِ اعظم،قاضی القضاۃ فی الہند، شیخ العربِ والعجم، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری محدث بریلوی اہلِ سنّت وجماعت کے ممتاز ترین صاحبِ علم و بصیرت، اور باقیاتِ صالحین میں سے ایک تھے ۔ آپ حقیقتاً امامِ اہلِ سنّت شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کے خلفِ صادق، جانشینِ کامل، حجۃ الاسلام کے عکسِ جمیل، مفتیِ اعظم ہند اور مفسر اعظم ہند کے علوم و معارف کے وارثِ اکمل تھے۔ ذکاوتِ طبع اور قوتِ اتقان، وسعتِ مطالعہ میں اپنی مثال آپ تھے۔ درس و تدریس، فقہ و افتاء، قراءت و تجوید، منطق و فلسفہ، ریاضی، علم جفر و تکسیر،اور علم ہیئت و توقیت میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔
مفتی عبدالرحیم بستوی فرماتے ہیں:
’’سب ہی (خاندانی) حضرات ِ گرامی کے کمالات ِ علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملاہے۔فہم و ذکا، قوتِ حافظہ و تقویٰ سیّدی اعلیٰ حضرت سے، جودتِ طبع و مہارتِ تامّہ (عربی ادب) حضور حجۃ الاسلام سے، فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتی اعظم ہند سے،قوتِ خطابت و بیان والدِ ذی وقار مفسر اعظم ہند سے۔یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کو وراثتاً حاصل ہیں جن کی رہبرِ شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے ۔ (سوانح تاج الشریعہ)
آپ علیہ الرحمہ کثیر کتب کے مصنّف تھے ۔ فنی موضوعات پر علمی زبان استعمال کرتے، لیکن اس کے باوجود آپ کی تحریرات سے ثقالت و اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی،آپ ہر موضوع پر ادیبانہ اُسلوب اختیار کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔آپ کی تحریروں میں سلاست و روانی، ایجاز و اختصار، تشبیہات و استعارات، فصاحت و بلاغت، پائی جاتی ہے؛بالخصوص فقہ و افتاء میں خصوصی مہارت حاصل تھی، فقہی جزئیات ،اور علمی استدلال میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت کی جھلک پائی جاتی تھی ۔
آپ کے فتاوٰی علم کے خزینے، اور مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہیں۔اسی طرح آپ کو عربی، فارسی،اردو، ہندی،ادب پر دسترس حاصل تھی۔اعلیٰ حضرت کی طرح جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا، اسی میں جواب دیتے تھے ۔ آپ کی تدریسی اور بحیثیت مفتی دارالافتاء منظر اسلام میں اکیاون (51) سالہ خدمات ہیں،جس میں دنیا بھر سے ہزاروں فتاوٰی جات کے جوابات، مختلف موضوعات اور مختلف زبانوں پر علمی تحریرات اس کے علاوہ ہیں۔
یہ سب مفتی اعظم ہند کا فیضان تھا، حضرت مفتی اعظم نے دارالافتاء کی عظیم ذمّے داری آپ کوسونپتے ہوئے ارشاد فرمایاتھا:
’’اختر میاں!
اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، کبھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتے، اب تم اس کام کوانجام دو، میں تمھارے سپرد کرتاہوں۔‘‘
پھر لوگوں سے مخاطب ہوکرفرمایا:
’’آپ لوگ اب اخترمیاں سَلَّمَہٗ سےرجوع کریں، انہیں کو میراقائم مقام اور جانشیں جانیں۔‘‘
تاج الشریعہ نے اس مسند افتاء کاایسا حق اداکیا کہ اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام اور مفتی اعظم ہند کی یاد تازہ ہوگئی، اور دنیامیں ’’تاج الشریعہ‘‘ کےلقب سے ملقب ہوئے، اوریہ لقب ایسا سجا کہ جیسے اعلیٰ حضرت سنتے ہی ذہن فوراً امام احمد رضا خاں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے،اسی طرح ’’تاج الشریعہ‘‘ سے ذہن مفتی اختررضاخاں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے آپ کوذوقِ سخن سے بھی وافر حصّہ عطا فرمایاتھا۔عربی، فارسی، اور اردو تینوں زبانوں میں آپ کی نعتیہ شاعری موجود ہے۔آپ کا مجموعۂ کلام ’’سفینۂ بخشش‘‘ کے نام سے متعدد بار شائع ہوکر اَرباب ِ سخن سے دادِ تحسین حاصل کرچکا ہے۔جہاں آپ کے نثری شہ پارے ادبی حیثیت کے حامل ہیں،وہیں آپ کی شاعری بھی آپ کی قادر الکلامی پر شاہد و عادل ہے۔
اللہ ربّ العزّت نے جانشینِ مفتیِ اعظم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو جن گوناگوں صفات سے متصف کیا تھا، اُن صفات میں سے ایک حق گوئی اور بے باکی بھی ہے۔ آپ نے کبھی بھی صداقت و حقانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ چاہے کتنے ہی مصلحت کے تقاضے کیوں نہ ہوں، چاہے کتنے ہی قیدو بند، مصائب وآلام اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہننا پڑیں کبھی کسی کو خوش کرنے کے لیے اس کی منشا کے مطابق فتویٰ تحریر نہیں فرمایا۔ جب کبھی کوئی فتویٰ تحریر فرمایا تو اپنے اَسلاف، اپنے آبا و اَجداد کے قدم بَہ قدم ہوکرتحریر فرمایا۔ جس طرح جدِّ امجد امام احمد رضا فاضل بریلوی اور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری نے بے خوف و خطر فتاوٰی تحریر فرمائےاُسی طرح اپنے اَجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جانشینِ مفتیِ اعظم نظر آتے ہیں۔ اِس حق گوئی کے شواہد آج آپ کے ہزاروں فتاوٰی ہیں جو ملک اور بیرونِ ملک میں پھیلےہوئے ہیں۔
اسی طرح تصلّب فی الدین اور مسلکِ اعلیٰ حضرت، اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ پوری دنیا میں تبلیغی دورے فرماتے تھے، لیکن صلح کلیت کے بالکل خلاف تھے۔
❤2
امّتِ مسلمہ کی زبوں حالی، اور بابری مسجد کی شہادت و پامالی پر لوگوں نے آنسو بہاتے دیکھا، اور اسی طرح مسلمانانِ ہند پر ہنود کے مظالم پر کبھی خاموش نہ رہے، ساری زندگی حق کی آواز بلند فرماتے رہے ۔ ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ۔ اس میں اپنے پرائے کی کبھی پر واہ نہ کی ۔ اس آواز کو منصب و عہدے کا لالچ دےکر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، تو آپ نے اپنے جدِّ امجد کی آواز میں یہ جواب دیا:
؏: میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں
یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء میں وزیرِ اعظم ہند 7 گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اُس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا، لیکن حضرت نے یہ کہہ کر ملاقات سے صاف انکار کر دیا:
’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کر سکتا، جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں ۔ ‘‘ (سوانح تاج الشریعہ، ص 72) ـ
اہلِ سنّت وجماعت کی موجودہ صورتِ حال جس میں بالعموم پاک وہند کے سنّی علمائے کرام کا پوری دنیا کے سنّی علما و شیوخ سےکوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیا کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علما و صوفیا کی نظر میں ہماری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔یہ حضرت تاج الشریعہ کی ذاتِ گرامی تھی کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا ۔
عرب کے جیّد علما و صوفیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عرب دنیاکے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پرحضرت کےوصال کی خبرایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی ۔
بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا ۔ حضرت تاج الشریعہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت کو پوری دنیا میں عام کیا ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقۂ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
وصال پر ملال:
7 ذوالقعدہ 1439ھ مطابق 20 جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ اذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے ۔
تدفین:
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف (ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں ۔
قطعۂ تاریخِ وصال:
کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی
جہاں میں بٹ رہا ہے فیضِ اختر
بڑھو لینے کو حصّہ چاہیے گر
امام احمد رضا کے، مفتی اختر
نبیرہ تھے، نسب ہے اُن کا اَطہر
ہے پیارا سا لقب ’’تاج الشریعہ‘‘
یہ جچتا ہے اُنھی کی شخصیت پر
وہ شہ اختر رضا تاج الشریعہ
رہے پاکیزہ طینت زندگی بھر
جو مغرب کی اذاں کی ابتدا میں
مؤذّن نے کہا ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘
وہیں ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہتے کہتے
ہوئے دنیا سے رخصت مفتی اختر
ضیائے طیبہ غم گین و حزیں ہے
گئے اختر رضا سب کو رُلا کر
ضیائے طیبہ کرتی ہے دعا یہ
رہیں اختر رضا، جنّت کے اندر
’’چلے فردوس کو تاج الشریعہ‘‘ (۱۴۳۹ھ)
نؔدیم! اس سالِ رحلت کو عیاں کر
نؔدیم! اِس دل میں ہیں تاج الشریعہ
جسے ملنا ہو، آئے دل کے اندر
مآخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور اُن کے خلفاء ۔ سوانح تاج الشریعہ ۔ تذکرۂ تاج الشریعہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-o-shariyah-hazrat-allamah-mufti-muahammad-akhtar-raza-khan-barelwi
؏: میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں
یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء میں وزیرِ اعظم ہند 7 گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اُس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا، لیکن حضرت نے یہ کہہ کر ملاقات سے صاف انکار کر دیا:
’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کر سکتا، جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں ۔ ‘‘ (سوانح تاج الشریعہ، ص 72) ـ
اہلِ سنّت وجماعت کی موجودہ صورتِ حال جس میں بالعموم پاک وہند کے سنّی علمائے کرام کا پوری دنیا کے سنّی علما و شیوخ سےکوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیا کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علما و صوفیا کی نظر میں ہماری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔یہ حضرت تاج الشریعہ کی ذاتِ گرامی تھی کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا ۔
عرب کے جیّد علما و صوفیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عرب دنیاکے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پرحضرت کےوصال کی خبرایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی ۔
بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا ۔ حضرت تاج الشریعہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت کو پوری دنیا میں عام کیا ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقۂ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
وصال پر ملال:
7 ذوالقعدہ 1439ھ مطابق 20 جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ اذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے ۔
تدفین:
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف (ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں ۔
قطعۂ تاریخِ وصال:
کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی
جہاں میں بٹ رہا ہے فیضِ اختر
بڑھو لینے کو حصّہ چاہیے گر
امام احمد رضا کے، مفتی اختر
نبیرہ تھے، نسب ہے اُن کا اَطہر
ہے پیارا سا لقب ’’تاج الشریعہ‘‘
یہ جچتا ہے اُنھی کی شخصیت پر
وہ شہ اختر رضا تاج الشریعہ
رہے پاکیزہ طینت زندگی بھر
جو مغرب کی اذاں کی ابتدا میں
مؤذّن نے کہا ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘
وہیں ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہتے کہتے
ہوئے دنیا سے رخصت مفتی اختر
ضیائے طیبہ غم گین و حزیں ہے
گئے اختر رضا سب کو رُلا کر
ضیائے طیبہ کرتی ہے دعا یہ
رہیں اختر رضا، جنّت کے اندر
’’چلے فردوس کو تاج الشریعہ‘‘ (۱۴۳۹ھ)
نؔدیم! اس سالِ رحلت کو عیاں کر
نؔدیم! اِس دل میں ہیں تاج الشریعہ
جسے ملنا ہو، آئے دل کے اندر
مآخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور اُن کے خلفاء ۔ سوانح تاج الشریعہ ۔ تذکرۂ تاج الشریعہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-o-shariyah-hazrat-allamah-mufti-muahammad-akhtar-raza-khan-barelwi
scholars.pk
Taj o Shariyah Hazrat Allamah Mufti Muahammad Akhtar Raza Khan Barelwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-11-1444 ᴴ | 03-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-11-1444 ᴴ | 04-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-11-1444 ᴴ | 04-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-11-1444 ᴴ | 04-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1