روانہ ہوئے،وہاں شیخ منجھلے تھے۔جومنصور ِ زماں مسعود بک کے خلیفہ تھے۔ان کی خدمت میں رہ کر چلہ کشی کی۔یہاں سےآپ کو خرقۂ خلافت عطاء ہوا۔(ایضا:214)
پھر غیب سےایسی قبولیت حاصل ہوئی کہ ہرطرف سےمخلوق خدا حاضر ہونے لگی۔مخلوق سےدل اکتایا،پھر آٹھ سال تک خلوت میں چلہ کشی کی،اور شہر سےچلےگئے۔اس کےبعد دیرینہ فرمان کی تعمیل عمل میں آئی جو برہان پور کی نسبت تھا۔برہان پور کےقریب نواحی موضع خان پور میں قیام کیا،جب مشائخ کرام اور حاکم وقت کو ان کی آمد کی اطلا ع ہوئی تو بصد اکرام و اعزاز ان کوشہر لائے، اور ان کےلئےایک مسجد، خانقاہ، اور خوابگاہ (گھر) تعمیر کروائے۔پھر بقیہ عمر یہیں لوگوں کی تربیت کرتےہوئے گزاری،اسی مقام پر انتقال ہوا۔
اردو زبان کے پہلے ادیب:
اردو زبان کی ابتدائی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے فروغ میں صوفیائے کرام کا نمایاں کردار تھا۔ زبان کے تشکیلی مراحل سے اس کی ترقی تک صوفیا کرام کے مختلف سلسلوں نے اس کو اختیار کیا اور اس سے قربت کا محرک بنے۔ اگرچہ صوفیا کرام کا اصل مقصد تبلیغ و اصلاح تھامگر بندگان خدا تک ترسیل و ابلاغ کے ایک ذریعے کے طور پر انھوں نے اس زبان کو اختیار کیا۔ کچھ تو ان کا خلوص اور جدوجہد اور کچھ اردو زبان کا عوامی لہجہ دونوں نے مل کر ایک دوسرے کو تقویت بخشی۔ واقعہ یہ ہے کہ صوفیائے کرام ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں منہمک تھے جہاں دنیا داری کا شائبہ تک نہیں تھا بلکہ ایثار و اخلاص کی کارفرمائی تھی۔ اثیارواخلاص کے اسی ماحول میں اردو زبان نے اپنا سفرشروع کیا۔
شمس الرحمن فاروقیؔ نے’’اردو کا ابتدائی زمانہ،ادبی تہذیب وتاریخی پہلو ‘‘ میں شیخ بہاء الدین باجن کو اردو کا پہلا باقاعدہ ’’ادیب ‘‘ قرار دیا ہے۔ شیخ باجن نے ’’خزائن رحمت اللہ‘‘ کے نام سے اپنا فارسی اور ہندی کلام کا مجموعہ مرتب کیا۔ اس میں صوفیا کی معروف ومقبول صنف سخن جکری بھی شامل تھی۔ ’’خزائن رحمت اللہ ‘‘میں شیخ نے ایک عرصۂ طویل کے لیے اردو زبان اور ادب کے حدود اربعہ بیان کردیے ۔ اس کی زبان ہندی ہے، اس کی بحریں ہندوستانی بھی ہیں اور فارسی بھی۔ اس کے مضامین مذہبی صوفیانہ بھی ہیں اور دنیاوی بھی۔ اس شاعری کی جڑیں عوام میں گہری ہیں۔ اور ہردلعزیز بن جانے کی صفت اس میں پوری طرح موجود ہے۔ اس کے معاملات میں زہد، روحانی اور صوفیانہ پاکیزگی نمایاں ہے۔ وطن کی محبت بھی ایک نمایاں وصف ہے۔ (ارود کا ابتدائی زمانہ: 70۔ 69)
انسان دوستی اور وطن سے غیر معمولی محبت نے ہی صوفیا کے آستانوں کو مرجع خلائق بنا دیا تھا۔ ان کے یہاں خویش و بیگانے کا لفظ ہی نہیں تھا۔ عام انسانوں کی بھلائی اور رہنمائی کے جذبے کے تحت ہی صوفیا نے ان زبانوں کو اختیار کیا جس کا دائرہ وسیع تھا۔ اور جس میں اتنی قوت تھی کہ اس سے پیغام رسانی ممکن ہو سکے۔ مخلوط زبانوں کا معیار خصوصا مقامی بولیوں اورمخلوط زبان فارسی صوفیا کے یہاں زیادہ ملتی ہے۔ ’’خزائن رحمت اللہ‘‘ نامی مجموعہ شیخ باجن کی یادگار ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے پیر حضرت شاہ رحمت اللہ کے ارشادات، دوسرے بزرگوں کے اقوال وغیرہ جمع کیےتھے۔ جابجا اپنے اشعار اور دوہے بھی نقل کیے ہیں۔ کل آٹھ خزانے ہیں۔ زبان بالعموم سادہ اور آسان ہے۔ ان کا کلام اردو ادب کے اولین نقوش میں نمایاں مقام کا حامل ہے۔ صدافسوس کہ پاک وہند میں ’’اردو ادب‘‘ کی ترقی ونشریات کےکئی ادارے موجود ہیں،لیکن اردو ادب کے ادیبِ اول پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ان کی شاعری کا مجموعہ دستیاب ہے۔
آپکےجانشین آپ کے صاحبزادے حضرت شیخ عبد الحکیم باجن ہوئے۔ ’’صاحبِ کنز العمال‘‘ حضرت شیخ علی متقی ان کے مریدین و خلفاء میں سے ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 ذوالقعدہ 912ھ مطابق آخرِ مارچ 1507ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار برہان پور انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت 790 ھ میں ہوئی اور وصال14 ذی القعدہ 912 ھ کوہوا۔
ماخذ و مراجع:
گلزار ابرار ۔ اردو کا ابتدائی زمانہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-bahauddin-bajan-burhan-puri
پھر غیب سےایسی قبولیت حاصل ہوئی کہ ہرطرف سےمخلوق خدا حاضر ہونے لگی۔مخلوق سےدل اکتایا،پھر آٹھ سال تک خلوت میں چلہ کشی کی،اور شہر سےچلےگئے۔اس کےبعد دیرینہ فرمان کی تعمیل عمل میں آئی جو برہان پور کی نسبت تھا۔برہان پور کےقریب نواحی موضع خان پور میں قیام کیا،جب مشائخ کرام اور حاکم وقت کو ان کی آمد کی اطلا ع ہوئی تو بصد اکرام و اعزاز ان کوشہر لائے، اور ان کےلئےایک مسجد، خانقاہ، اور خوابگاہ (گھر) تعمیر کروائے۔پھر بقیہ عمر یہیں لوگوں کی تربیت کرتےہوئے گزاری،اسی مقام پر انتقال ہوا۔
اردو زبان کے پہلے ادیب:
اردو زبان کی ابتدائی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے فروغ میں صوفیائے کرام کا نمایاں کردار تھا۔ زبان کے تشکیلی مراحل سے اس کی ترقی تک صوفیا کرام کے مختلف سلسلوں نے اس کو اختیار کیا اور اس سے قربت کا محرک بنے۔ اگرچہ صوفیا کرام کا اصل مقصد تبلیغ و اصلاح تھامگر بندگان خدا تک ترسیل و ابلاغ کے ایک ذریعے کے طور پر انھوں نے اس زبان کو اختیار کیا۔ کچھ تو ان کا خلوص اور جدوجہد اور کچھ اردو زبان کا عوامی لہجہ دونوں نے مل کر ایک دوسرے کو تقویت بخشی۔ واقعہ یہ ہے کہ صوفیائے کرام ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں منہمک تھے جہاں دنیا داری کا شائبہ تک نہیں تھا بلکہ ایثار و اخلاص کی کارفرمائی تھی۔ اثیارواخلاص کے اسی ماحول میں اردو زبان نے اپنا سفرشروع کیا۔
شمس الرحمن فاروقیؔ نے’’اردو کا ابتدائی زمانہ،ادبی تہذیب وتاریخی پہلو ‘‘ میں شیخ بہاء الدین باجن کو اردو کا پہلا باقاعدہ ’’ادیب ‘‘ قرار دیا ہے۔ شیخ باجن نے ’’خزائن رحمت اللہ‘‘ کے نام سے اپنا فارسی اور ہندی کلام کا مجموعہ مرتب کیا۔ اس میں صوفیا کی معروف ومقبول صنف سخن جکری بھی شامل تھی۔ ’’خزائن رحمت اللہ ‘‘میں شیخ نے ایک عرصۂ طویل کے لیے اردو زبان اور ادب کے حدود اربعہ بیان کردیے ۔ اس کی زبان ہندی ہے، اس کی بحریں ہندوستانی بھی ہیں اور فارسی بھی۔ اس کے مضامین مذہبی صوفیانہ بھی ہیں اور دنیاوی بھی۔ اس شاعری کی جڑیں عوام میں گہری ہیں۔ اور ہردلعزیز بن جانے کی صفت اس میں پوری طرح موجود ہے۔ اس کے معاملات میں زہد، روحانی اور صوفیانہ پاکیزگی نمایاں ہے۔ وطن کی محبت بھی ایک نمایاں وصف ہے۔ (ارود کا ابتدائی زمانہ: 70۔ 69)
انسان دوستی اور وطن سے غیر معمولی محبت نے ہی صوفیا کے آستانوں کو مرجع خلائق بنا دیا تھا۔ ان کے یہاں خویش و بیگانے کا لفظ ہی نہیں تھا۔ عام انسانوں کی بھلائی اور رہنمائی کے جذبے کے تحت ہی صوفیا نے ان زبانوں کو اختیار کیا جس کا دائرہ وسیع تھا۔ اور جس میں اتنی قوت تھی کہ اس سے پیغام رسانی ممکن ہو سکے۔ مخلوط زبانوں کا معیار خصوصا مقامی بولیوں اورمخلوط زبان فارسی صوفیا کے یہاں زیادہ ملتی ہے۔ ’’خزائن رحمت اللہ‘‘ نامی مجموعہ شیخ باجن کی یادگار ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے پیر حضرت شاہ رحمت اللہ کے ارشادات، دوسرے بزرگوں کے اقوال وغیرہ جمع کیےتھے۔ جابجا اپنے اشعار اور دوہے بھی نقل کیے ہیں۔ کل آٹھ خزانے ہیں۔ زبان بالعموم سادہ اور آسان ہے۔ ان کا کلام اردو ادب کے اولین نقوش میں نمایاں مقام کا حامل ہے۔ صدافسوس کہ پاک وہند میں ’’اردو ادب‘‘ کی ترقی ونشریات کےکئی ادارے موجود ہیں،لیکن اردو ادب کے ادیبِ اول پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ان کی شاعری کا مجموعہ دستیاب ہے۔
آپکےجانشین آپ کے صاحبزادے حضرت شیخ عبد الحکیم باجن ہوئے۔ ’’صاحبِ کنز العمال‘‘ حضرت شیخ علی متقی ان کے مریدین و خلفاء میں سے ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 ذوالقعدہ 912ھ مطابق آخرِ مارچ 1507ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار برہان پور انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت 790 ھ میں ہوئی اور وصال14 ذی القعدہ 912 ھ کوہوا۔
ماخذ و مراجع:
گلزار ابرار ۔ اردو کا ابتدائی زمانہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-bahauddin-bajan-burhan-puri
scholars.pk
Hazrat Shah Bahauddin Bajan Burhan Puri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت میر سید فضل اللہ کالپوی
نام و نسب:
اسمِ گرامی: میر سید فضل اللہ ۔ کالپی شریف کی نسبت سے "کالپوی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
میر سید فضل اللہ کالپوی، بن میر سیدا حمد کالپوی، بن میر سید محمد کالپوی، بن سید شیخ ابو سعید ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ آپ کا تعلق "ترمذی سادات" سے ہے ۔ سب سےپہلے آپ کے جدامجد میر سید محمد کالپوی رحمۃ اللہ علیہ نے کالپی شریف میں فیض عام کیا۔
مقامِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ "کالپی شریف" ضلع جلاؤں، صوبہ اتر پردیش (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی۔ آپ کاشمار اپنے وقت کےجید علمائے کرام میں ہوتا تھا۔
بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والدِ گرامی شیخ الوقت،ولی کامل، عارف باللہ حضرت میر سید احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے،اور انہیں سے خرقہ خلافت حاصل کرکے صاحب ِارشاد ہو ئے۔
سیرت و خصائص:
عارف باللہ، واصل الی اللہ، نور العارفین حضرت میر سید فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت، علم وعمل، رشد و ہدایت، وعظ و نصیحت میں ممتاز اور مشائخِ عصر میں معزز ومقبول تھے۔اس وقت کے خاص وعام آپ کی ذات کی طرف متوجہ ہوتے تھے،اوراپنے مسائل کاحل پاتےتھے۔یہی وجہ ہے: کہ جب سلطان العاشقین صاحب البرکات حضرت شاہ برکت اللہ مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم وحکمت و سلوک ومعرفت کا شہرہ سنا توکالپی شریف جانے کا رختِ سفر باندھا ۔ کالپی شریف اس وقت علم وحکمت تہذیب وتمدنِ اسلامی کا قبلہ تھا ۔آپ سفر کی صعوبتیں اٹھا کر نور العارفین حضرت سید شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگا عالی وقار میں پہنچے تو انہوں نے تین بار فرمایا:"دریا بدریا پیوست" یعنی دریا دریا میں مل گیا۔صرف اسی کلمے ہی سے حضرت سید میر شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سلوک وتصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرادی ۔حالانکہ حضرت صاحب البرکات علیہ الرحمہ سلاسلِ خمسہ میں مجاز،اور اپنے والدِ گرامی کے تربیت یافتہ تھے۔ اس واقعہ سے حضرت شاہ فضل اللہ علیہ الرحمہ کے فضل وشان کااندازاہ لگایا جاسکتا ہے۔
وصال:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال مبارک، بروز جمعرات شام کے وقت 14 ذوالقعدہ 1111ھ، بمطابق 2 مئی 1700ء، میں ہوا ۔ مزار مبارک کالپی شہر میں زیارت گا ہِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ
مجلس شعبہ ضیائی دار التحقیق ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-fazlullah-kalpvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: میر سید فضل اللہ ۔ کالپی شریف کی نسبت سے "کالپوی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
میر سید فضل اللہ کالپوی، بن میر سیدا حمد کالپوی، بن میر سید محمد کالپوی، بن سید شیخ ابو سعید ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ آپ کا تعلق "ترمذی سادات" سے ہے ۔ سب سےپہلے آپ کے جدامجد میر سید محمد کالپوی رحمۃ اللہ علیہ نے کالپی شریف میں فیض عام کیا۔
مقامِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ "کالپی شریف" ضلع جلاؤں، صوبہ اتر پردیش (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی۔ آپ کاشمار اپنے وقت کےجید علمائے کرام میں ہوتا تھا۔
بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والدِ گرامی شیخ الوقت،ولی کامل، عارف باللہ حضرت میر سید احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے،اور انہیں سے خرقہ خلافت حاصل کرکے صاحب ِارشاد ہو ئے۔
سیرت و خصائص:
عارف باللہ، واصل الی اللہ، نور العارفین حضرت میر سید فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت، علم وعمل، رشد و ہدایت، وعظ و نصیحت میں ممتاز اور مشائخِ عصر میں معزز ومقبول تھے۔اس وقت کے خاص وعام آپ کی ذات کی طرف متوجہ ہوتے تھے،اوراپنے مسائل کاحل پاتےتھے۔یہی وجہ ہے: کہ جب سلطان العاشقین صاحب البرکات حضرت شاہ برکت اللہ مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم وحکمت و سلوک ومعرفت کا شہرہ سنا توکالپی شریف جانے کا رختِ سفر باندھا ۔ کالپی شریف اس وقت علم وحکمت تہذیب وتمدنِ اسلامی کا قبلہ تھا ۔آپ سفر کی صعوبتیں اٹھا کر نور العارفین حضرت سید شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگا عالی وقار میں پہنچے تو انہوں نے تین بار فرمایا:"دریا بدریا پیوست" یعنی دریا دریا میں مل گیا۔صرف اسی کلمے ہی سے حضرت سید میر شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سلوک وتصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرادی ۔حالانکہ حضرت صاحب البرکات علیہ الرحمہ سلاسلِ خمسہ میں مجاز،اور اپنے والدِ گرامی کے تربیت یافتہ تھے۔ اس واقعہ سے حضرت شاہ فضل اللہ علیہ الرحمہ کے فضل وشان کااندازاہ لگایا جاسکتا ہے۔
وصال:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال مبارک، بروز جمعرات شام کے وقت 14 ذوالقعدہ 1111ھ، بمطابق 2 مئی 1700ء، میں ہوا ۔ مزار مبارک کالپی شہر میں زیارت گا ہِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ
مجلس شعبہ ضیائی دار التحقیق ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-fazlullah-kalpvi
scholars.pk
Hazrat Syed Fazlullah Kalpvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضور تاج الشریعہ، حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری برکاتی رضوی بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد اسماعیل رضا ـ عرفیت: اختر رضا ۔ تخلص: اختر ۔ لقب: تاج الشریعہ ، ازہری میاں ، قاضی القضاۃ فی الہند ـ
نسب نامہ:
تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری بریلوی کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں بن مفسراعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں بن شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بن رئیس الاتقیا مولانا نقی علی خاں بن امام العلما مولانا رضا علی خاں بن مولانا شاہ محمد اعظم خاں بن مولانا حافظ کاظم علی خاں بن محمد سعادت یار خاں بن شجاعت جنگ سعید اللہ خاں قندھاری۔(مفتی اعظم اوراُن کے خلفاء، ص145)
حضرت تاج الشریعہ مفسرِ اعظم مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی میاں کے صاحبزادے، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں کے پوتے، مفتیِ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضاخاں کے نواسے اور شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کے پڑ پوتے تھے۔
ولادت:
آپ کی تاریخِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں:
14 ذوالقعدہ 1361ھ مطابق 23 نومبر 1942ء، بروز منگل ۔
24 ذوالقعدہ 1362ھ مطابق 23 نومبر 1943ء ۔
25 محرم الحرام 1362ھ مطابق یکم فروری 1943ء ۔
25؍ صفر 1361ھ / 1942ء ۔
صاحبِ سوانحِ تاج الشریعہ کے بقول اوّل الذکر راجح ہے ۔ (سوانحِ تاج الشریعہ، ص:18)
تحصیلِ علم:
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی عمر شریف جب 4 ؍سال، 4؍ماہ اور 4؍ دن ہوئی تو آپ کے والدِ ماجد مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی نے تقریب بِسْمِ اللہ خوانی منعقد فرمائی ۔ اِس تقریبِ سعید میں دارالعلوم منظر الاسلام کے تمام طلبہ کو دعوت دی گئی۔رسم بِسْمِ اللہ ناناجان حضرت مفتیِ اعظم ہند نے کرائی۔قرآنِ مجید والدۂ ماجدہ سے گھر پر مکمل کیا۔ والدِ ماجد سے ابتدائی اردو کتب پڑھیں، اس کے بعد والدِ ماجد نے دارالعلوم منظرِ اسلام میں داخل کرادیا۔ درسِ نظامی کی تکمیل دارالعلوم منظر ِ اسلام سےکی۔ تاج الشریعہ بچپن ہی سے ذہانت و فطانت اور قوتِ حافظہ کے مالک ، اور عربی ادب کے دل دادہ تھے۔ درسِ نظامی کی تکمیل کےبعد 1963ء میں جامعۃ الازہر قاہرہ تشریف لے گئے۔وہاں آپ نے ’’کلیۃ اصول الدین‘‘ میں داخلہ لیااور مسلسل تین سال تک جامعۃ الازہر مصر میں فن تفسیر و حدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔ جامعہ ازہر مصر میں داخلے کے بعد جب آپ کی جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ سے گفتگو ہوتی تو وہ آپ کی بے تکلف فصیح وبلیغ عربی سن کرمحوِ حیرت ہوجاتے اور کہتے کہ ایک عجمی النسل ہندوستانی عربی النسل اہلِ علم حضرات سے گفتگو کرنے میں کوئی تکلّف محسوس نہیں کرتا۔ حضرت تاج الشریعہ 1966ء /1386ھ کو جامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے ۔ جامعۃ الازہر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر ’’ جامعۃ الازہر ایوارڈ ‘‘ سے نوازے گئے۔آپ تمام علوم ِقدیمہ اور جدیدہ پر مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ قراءاتِ عشرہ کےماہر تھے، بالخصوص جب مصری لہجے میں تلاوت فرماتےتو سامعین جھوم جھاتے، حضرت تاج الشریعہ کو چھتیس علوم پر مہارت، اور عربی، اردو، فارسی، اور انگلش زبانوں پرمکمل عبور حاصل تھا۔ان کے علاوہ، علاقائی زبانوں میں بھی بات چیت فرمایا کرتےتھے۔
آپ کے اساتذہ میں
قابلِ ذکر اساتذۂ کرام یہ ہیں:
مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا خاں، بحر العلوم مفتی سیّد محمد افضل حسین مونگیری، مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی، فضیلۃ الشیخ علامہ محمد سماحی، شیخ الحدیث والتفسیر جامعہ ازہر حضرت علامہ محمود عبدالغفار، استاذ الحدیث جامعہ ازہر ، ریحانِ ملّت مولانا محمد ریحان رضا خاں رحمانی میاں،استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں اعظمی۔(مفتیِ اعظم ہند اور آپ کے خلفاء، ص150)
بیعت و خلافت:
حضور تاج الشریعہ کو بیعت و خلافت کا شرف سرکارمفتیِ اعظم سے حاصل ہے۔ حضرت مُفتیِ اعظم ہندنے بچپن میں آپ کو بیعت کاشرف عطا فرمادیا تھا، اور صرف 19؍ سال کی عمر میں 15؍جنوری 1962ء/1381ھ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ علاوہ ازیں خلیفۂ اعلیٰ حضرت برہانِ ملّت مفتی برہان الحق جبل پوری، سیّد العلماء شاہ آلِ مصطفیٰ برکاتی، احسن العلماء سیّد حیدر حسن میاں برکاتی، والدِ ماجدمفسر اعظم مفتی ابراہیم رضاخاں سے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل تھی۔(مفتیِ اعظم ہند اور آپ کے خلفاء، ص160)
حضور تاج الشریعہ پر بچپن میں آثارِسعادت و ولایت ظاہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ مفتی اعظم کو آپ کے بچپن سے ہی بے انتہاتوقعات وابستہ تھیں، جس کااندازہ آپ کےان ارشادات عالیہ سےلگایا جاسکتاہےجو مختلف مواقع پر آپ نے ارشاد فرمائے:
’’اس لڑکے (حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ) سے بہت امید ہے۔‘‘ (تذکرہ تاج الشریعہ، ص4)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد اسماعیل رضا ـ عرفیت: اختر رضا ۔ تخلص: اختر ۔ لقب: تاج الشریعہ ، ازہری میاں ، قاضی القضاۃ فی الہند ـ
نسب نامہ:
تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری بریلوی کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں بن مفسراعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں بن شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بن رئیس الاتقیا مولانا نقی علی خاں بن امام العلما مولانا رضا علی خاں بن مولانا شاہ محمد اعظم خاں بن مولانا حافظ کاظم علی خاں بن محمد سعادت یار خاں بن شجاعت جنگ سعید اللہ خاں قندھاری۔(مفتی اعظم اوراُن کے خلفاء، ص145)
حضرت تاج الشریعہ مفسرِ اعظم مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی میاں کے صاحبزادے، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں کے پوتے، مفتیِ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضاخاں کے نواسے اور شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کے پڑ پوتے تھے۔
ولادت:
آپ کی تاریخِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں:
14 ذوالقعدہ 1361ھ مطابق 23 نومبر 1942ء، بروز منگل ۔
24 ذوالقعدہ 1362ھ مطابق 23 نومبر 1943ء ۔
25 محرم الحرام 1362ھ مطابق یکم فروری 1943ء ۔
25؍ صفر 1361ھ / 1942ء ۔
صاحبِ سوانحِ تاج الشریعہ کے بقول اوّل الذکر راجح ہے ۔ (سوانحِ تاج الشریعہ، ص:18)
تحصیلِ علم:
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی عمر شریف جب 4 ؍سال، 4؍ماہ اور 4؍ دن ہوئی تو آپ کے والدِ ماجد مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی نے تقریب بِسْمِ اللہ خوانی منعقد فرمائی ۔ اِس تقریبِ سعید میں دارالعلوم منظر الاسلام کے تمام طلبہ کو دعوت دی گئی۔رسم بِسْمِ اللہ ناناجان حضرت مفتیِ اعظم ہند نے کرائی۔قرآنِ مجید والدۂ ماجدہ سے گھر پر مکمل کیا۔ والدِ ماجد سے ابتدائی اردو کتب پڑھیں، اس کے بعد والدِ ماجد نے دارالعلوم منظرِ اسلام میں داخل کرادیا۔ درسِ نظامی کی تکمیل دارالعلوم منظر ِ اسلام سےکی۔ تاج الشریعہ بچپن ہی سے ذہانت و فطانت اور قوتِ حافظہ کے مالک ، اور عربی ادب کے دل دادہ تھے۔ درسِ نظامی کی تکمیل کےبعد 1963ء میں جامعۃ الازہر قاہرہ تشریف لے گئے۔وہاں آپ نے ’’کلیۃ اصول الدین‘‘ میں داخلہ لیااور مسلسل تین سال تک جامعۃ الازہر مصر میں فن تفسیر و حدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔ جامعہ ازہر مصر میں داخلے کے بعد جب آپ کی جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ سے گفتگو ہوتی تو وہ آپ کی بے تکلف فصیح وبلیغ عربی سن کرمحوِ حیرت ہوجاتے اور کہتے کہ ایک عجمی النسل ہندوستانی عربی النسل اہلِ علم حضرات سے گفتگو کرنے میں کوئی تکلّف محسوس نہیں کرتا۔ حضرت تاج الشریعہ 1966ء /1386ھ کو جامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے ۔ جامعۃ الازہر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر ’’ جامعۃ الازہر ایوارڈ ‘‘ سے نوازے گئے۔آپ تمام علوم ِقدیمہ اور جدیدہ پر مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ قراءاتِ عشرہ کےماہر تھے، بالخصوص جب مصری لہجے میں تلاوت فرماتےتو سامعین جھوم جھاتے، حضرت تاج الشریعہ کو چھتیس علوم پر مہارت، اور عربی، اردو، فارسی، اور انگلش زبانوں پرمکمل عبور حاصل تھا۔ان کے علاوہ، علاقائی زبانوں میں بھی بات چیت فرمایا کرتےتھے۔
آپ کے اساتذہ میں
قابلِ ذکر اساتذۂ کرام یہ ہیں:
مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا خاں، بحر العلوم مفتی سیّد محمد افضل حسین مونگیری، مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی، فضیلۃ الشیخ علامہ محمد سماحی، شیخ الحدیث والتفسیر جامعہ ازہر حضرت علامہ محمود عبدالغفار، استاذ الحدیث جامعہ ازہر ، ریحانِ ملّت مولانا محمد ریحان رضا خاں رحمانی میاں،استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں اعظمی۔(مفتیِ اعظم ہند اور آپ کے خلفاء، ص150)
بیعت و خلافت:
حضور تاج الشریعہ کو بیعت و خلافت کا شرف سرکارمفتیِ اعظم سے حاصل ہے۔ حضرت مُفتیِ اعظم ہندنے بچپن میں آپ کو بیعت کاشرف عطا فرمادیا تھا، اور صرف 19؍ سال کی عمر میں 15؍جنوری 1962ء/1381ھ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ علاوہ ازیں خلیفۂ اعلیٰ حضرت برہانِ ملّت مفتی برہان الحق جبل پوری، سیّد العلماء شاہ آلِ مصطفیٰ برکاتی، احسن العلماء سیّد حیدر حسن میاں برکاتی، والدِ ماجدمفسر اعظم مفتی ابراہیم رضاخاں سے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل تھی۔(مفتیِ اعظم ہند اور آپ کے خلفاء، ص160)
حضور تاج الشریعہ پر بچپن میں آثارِسعادت و ولایت ظاہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ مفتی اعظم کو آپ کے بچپن سے ہی بے انتہاتوقعات وابستہ تھیں، جس کااندازہ آپ کےان ارشادات عالیہ سےلگایا جاسکتاہےجو مختلف مواقع پر آپ نے ارشاد فرمائے:
’’اس لڑکے (حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ) سے بہت امید ہے۔‘‘ (تذکرہ تاج الشریعہ، ص4)
❤2
سیرت و خصائص:
سراج المفسرین، فخر المحدثین، زبدۃ العارفین، فقیہ الاسلام، تاج الاسلام، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، وارثِ علوم ِ مجددِ دین و ملّت، مظہر حجۃ الاسلام، شہزداۂ مفسرِ اعظم، جانشینِ مفتیِ اعظم،قاضی القضاۃ فی الہند، شیخ العربِ والعجم، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری محدث بریلوی اہلِ سنّت وجماعت کے ممتاز ترین صاحبِ علم و بصیرت، اور باقیاتِ صالحین میں سے ایک تھے ۔ آپ حقیقتاً امامِ اہلِ سنّت شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کے خلفِ صادق، جانشینِ کامل، حجۃ الاسلام کے عکسِ جمیل، مفتیِ اعظم ہند اور مفسر اعظم ہند کے علوم و معارف کے وارثِ اکمل تھے۔ ذکاوتِ طبع اور قوتِ اتقان، وسعتِ مطالعہ میں اپنی مثال آپ تھے۔ درس و تدریس، فقہ و افتاء، قراءت و تجوید، منطق و فلسفہ، ریاضی، علم جفر و تکسیر،اور علم ہیئت و توقیت میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔
مفتی عبدالرحیم بستوی فرماتے ہیں:
’’سب ہی (خاندانی) حضرات ِ گرامی کے کمالات ِ علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملاہے۔فہم و ذکا، قوتِ حافظہ و تقویٰ سیّدی اعلیٰ حضرت سے، جودتِ طبع و مہارتِ تامّہ (عربی ادب) حضور حجۃ الاسلام سے، فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتی اعظم ہند سے،قوتِ خطابت و بیان والدِ ذی وقار مفسر اعظم ہند سے۔یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کو وراثتاً حاصل ہیں جن کی رہبرِ شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے ۔ (سوانح تاج الشریعہ)
آپ علیہ الرحمہ کثیر کتب کے مصنّف تھے ۔ فنی موضوعات پر علمی زبان استعمال کرتے، لیکن اس کے باوجود آپ کی تحریرات سے ثقالت و اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی،آپ ہر موضوع پر ادیبانہ اُسلوب اختیار کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔آپ کی تحریروں میں سلاست و روانی، ایجاز و اختصار، تشبیہات و استعارات، فصاحت و بلاغت، پائی جاتی ہے؛بالخصوص فقہ و افتاء میں خصوصی مہارت حاصل تھی، فقہی جزئیات ،اور علمی استدلال میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت کی جھلک پائی جاتی تھی ۔
آپ کے فتاوٰی علم کے خزینے، اور مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہیں۔اسی طرح آپ کو عربی، فارسی،اردو، ہندی،ادب پر دسترس حاصل تھی۔اعلیٰ حضرت کی طرح جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا، اسی میں جواب دیتے تھے ۔ آپ کی تدریسی اور بحیثیت مفتی دارالافتاء منظر اسلام میں اکیاون (51) سالہ خدمات ہیں،جس میں دنیا بھر سے ہزاروں فتاوٰی جات کے جوابات، مختلف موضوعات اور مختلف زبانوں پر علمی تحریرات اس کے علاوہ ہیں۔
یہ سب مفتی اعظم ہند کا فیضان تھا، حضرت مفتی اعظم نے دارالافتاء کی عظیم ذمّے داری آپ کوسونپتے ہوئے ارشاد فرمایاتھا:
’’اختر میاں!
اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، کبھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتے، اب تم اس کام کوانجام دو، میں تمھارے سپرد کرتاہوں۔‘‘
پھر لوگوں سے مخاطب ہوکرفرمایا:
’’آپ لوگ اب اخترمیاں سَلَّمَہٗ سےرجوع کریں، انہیں کو میراقائم مقام اور جانشیں جانیں۔‘‘
تاج الشریعہ نے اس مسند افتاء کاایسا حق اداکیا کہ اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام اور مفتی اعظم ہند کی یاد تازہ ہوگئی، اور دنیامیں ’’تاج الشریعہ‘‘ کےلقب سے ملقب ہوئے، اوریہ لقب ایسا سجا کہ جیسے اعلیٰ حضرت سنتے ہی ذہن فوراً امام احمد رضا خاں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے،اسی طرح ’’تاج الشریعہ‘‘ سے ذہن مفتی اختررضاخاں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے آپ کوذوقِ سخن سے بھی وافر حصّہ عطا فرمایاتھا۔عربی، فارسی، اور اردو تینوں زبانوں میں آپ کی نعتیہ شاعری موجود ہے۔آپ کا مجموعۂ کلام ’’سفینۂ بخشش‘‘ کے نام سے متعدد بار شائع ہوکر اَرباب ِ سخن سے دادِ تحسین حاصل کرچکا ہے۔جہاں آپ کے نثری شہ پارے ادبی حیثیت کے حامل ہیں،وہیں آپ کی شاعری بھی آپ کی قادر الکلامی پر شاہد و عادل ہے۔
اللہ ربّ العزّت نے جانشینِ مفتیِ اعظم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو جن گوناگوں صفات سے متصف کیا تھا، اُن صفات میں سے ایک حق گوئی اور بے باکی بھی ہے۔ آپ نے کبھی بھی صداقت و حقانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ چاہے کتنے ہی مصلحت کے تقاضے کیوں نہ ہوں، چاہے کتنے ہی قیدو بند، مصائب وآلام اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہننا پڑیں کبھی کسی کو خوش کرنے کے لیے اس کی منشا کے مطابق فتویٰ تحریر نہیں فرمایا۔ جب کبھی کوئی فتویٰ تحریر فرمایا تو اپنے اَسلاف، اپنے آبا و اَجداد کے قدم بَہ قدم ہوکرتحریر فرمایا۔ جس طرح جدِّ امجد امام احمد رضا فاضل بریلوی اور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری نے بے خوف و خطر فتاوٰی تحریر فرمائےاُسی طرح اپنے اَجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جانشینِ مفتیِ اعظم نظر آتے ہیں۔ اِس حق گوئی کے شواہد آج آپ کے ہزاروں فتاوٰی ہیں جو ملک اور بیرونِ ملک میں پھیلےہوئے ہیں۔
اسی طرح تصلّب فی الدین اور مسلکِ اعلیٰ حضرت، اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ پوری دنیا میں تبلیغی دورے فرماتے تھے، لیکن صلح کلیت کے بالکل خلاف تھے۔
سراج المفسرین، فخر المحدثین، زبدۃ العارفین، فقیہ الاسلام، تاج الاسلام، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، وارثِ علوم ِ مجددِ دین و ملّت، مظہر حجۃ الاسلام، شہزداۂ مفسرِ اعظم، جانشینِ مفتیِ اعظم،قاضی القضاۃ فی الہند، شیخ العربِ والعجم، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری محدث بریلوی اہلِ سنّت وجماعت کے ممتاز ترین صاحبِ علم و بصیرت، اور باقیاتِ صالحین میں سے ایک تھے ۔ آپ حقیقتاً امامِ اہلِ سنّت شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کے خلفِ صادق، جانشینِ کامل، حجۃ الاسلام کے عکسِ جمیل، مفتیِ اعظم ہند اور مفسر اعظم ہند کے علوم و معارف کے وارثِ اکمل تھے۔ ذکاوتِ طبع اور قوتِ اتقان، وسعتِ مطالعہ میں اپنی مثال آپ تھے۔ درس و تدریس، فقہ و افتاء، قراءت و تجوید، منطق و فلسفہ، ریاضی، علم جفر و تکسیر،اور علم ہیئت و توقیت میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔
مفتی عبدالرحیم بستوی فرماتے ہیں:
’’سب ہی (خاندانی) حضرات ِ گرامی کے کمالات ِ علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملاہے۔فہم و ذکا، قوتِ حافظہ و تقویٰ سیّدی اعلیٰ حضرت سے، جودتِ طبع و مہارتِ تامّہ (عربی ادب) حضور حجۃ الاسلام سے، فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتی اعظم ہند سے،قوتِ خطابت و بیان والدِ ذی وقار مفسر اعظم ہند سے۔یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کو وراثتاً حاصل ہیں جن کی رہبرِ شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے ۔ (سوانح تاج الشریعہ)
آپ علیہ الرحمہ کثیر کتب کے مصنّف تھے ۔ فنی موضوعات پر علمی زبان استعمال کرتے، لیکن اس کے باوجود آپ کی تحریرات سے ثقالت و اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی،آپ ہر موضوع پر ادیبانہ اُسلوب اختیار کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔آپ کی تحریروں میں سلاست و روانی، ایجاز و اختصار، تشبیہات و استعارات، فصاحت و بلاغت، پائی جاتی ہے؛بالخصوص فقہ و افتاء میں خصوصی مہارت حاصل تھی، فقہی جزئیات ،اور علمی استدلال میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت کی جھلک پائی جاتی تھی ۔
آپ کے فتاوٰی علم کے خزینے، اور مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہیں۔اسی طرح آپ کو عربی، فارسی،اردو، ہندی،ادب پر دسترس حاصل تھی۔اعلیٰ حضرت کی طرح جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا، اسی میں جواب دیتے تھے ۔ آپ کی تدریسی اور بحیثیت مفتی دارالافتاء منظر اسلام میں اکیاون (51) سالہ خدمات ہیں،جس میں دنیا بھر سے ہزاروں فتاوٰی جات کے جوابات، مختلف موضوعات اور مختلف زبانوں پر علمی تحریرات اس کے علاوہ ہیں۔
یہ سب مفتی اعظم ہند کا فیضان تھا، حضرت مفتی اعظم نے دارالافتاء کی عظیم ذمّے داری آپ کوسونپتے ہوئے ارشاد فرمایاتھا:
’’اختر میاں!
اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، کبھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتے، اب تم اس کام کوانجام دو، میں تمھارے سپرد کرتاہوں۔‘‘
پھر لوگوں سے مخاطب ہوکرفرمایا:
’’آپ لوگ اب اخترمیاں سَلَّمَہٗ سےرجوع کریں، انہیں کو میراقائم مقام اور جانشیں جانیں۔‘‘
تاج الشریعہ نے اس مسند افتاء کاایسا حق اداکیا کہ اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام اور مفتی اعظم ہند کی یاد تازہ ہوگئی، اور دنیامیں ’’تاج الشریعہ‘‘ کےلقب سے ملقب ہوئے، اوریہ لقب ایسا سجا کہ جیسے اعلیٰ حضرت سنتے ہی ذہن فوراً امام احمد رضا خاں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے،اسی طرح ’’تاج الشریعہ‘‘ سے ذہن مفتی اختررضاخاں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے آپ کوذوقِ سخن سے بھی وافر حصّہ عطا فرمایاتھا۔عربی، فارسی، اور اردو تینوں زبانوں میں آپ کی نعتیہ شاعری موجود ہے۔آپ کا مجموعۂ کلام ’’سفینۂ بخشش‘‘ کے نام سے متعدد بار شائع ہوکر اَرباب ِ سخن سے دادِ تحسین حاصل کرچکا ہے۔جہاں آپ کے نثری شہ پارے ادبی حیثیت کے حامل ہیں،وہیں آپ کی شاعری بھی آپ کی قادر الکلامی پر شاہد و عادل ہے۔
اللہ ربّ العزّت نے جانشینِ مفتیِ اعظم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو جن گوناگوں صفات سے متصف کیا تھا، اُن صفات میں سے ایک حق گوئی اور بے باکی بھی ہے۔ آپ نے کبھی بھی صداقت و حقانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ چاہے کتنے ہی مصلحت کے تقاضے کیوں نہ ہوں، چاہے کتنے ہی قیدو بند، مصائب وآلام اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہننا پڑیں کبھی کسی کو خوش کرنے کے لیے اس کی منشا کے مطابق فتویٰ تحریر نہیں فرمایا۔ جب کبھی کوئی فتویٰ تحریر فرمایا تو اپنے اَسلاف، اپنے آبا و اَجداد کے قدم بَہ قدم ہوکرتحریر فرمایا۔ جس طرح جدِّ امجد امام احمد رضا فاضل بریلوی اور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری نے بے خوف و خطر فتاوٰی تحریر فرمائےاُسی طرح اپنے اَجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جانشینِ مفتیِ اعظم نظر آتے ہیں۔ اِس حق گوئی کے شواہد آج آپ کے ہزاروں فتاوٰی ہیں جو ملک اور بیرونِ ملک میں پھیلےہوئے ہیں۔
اسی طرح تصلّب فی الدین اور مسلکِ اعلیٰ حضرت، اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ پوری دنیا میں تبلیغی دورے فرماتے تھے، لیکن صلح کلیت کے بالکل خلاف تھے۔
❤2
امّتِ مسلمہ کی زبوں حالی، اور بابری مسجد کی شہادت و پامالی پر لوگوں نے آنسو بہاتے دیکھا، اور اسی طرح مسلمانانِ ہند پر ہنود کے مظالم پر کبھی خاموش نہ رہے، ساری زندگی حق کی آواز بلند فرماتے رہے ۔ ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ۔ اس میں اپنے پرائے کی کبھی پر واہ نہ کی ۔ اس آواز کو منصب و عہدے کا لالچ دےکر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، تو آپ نے اپنے جدِّ امجد کی آواز میں یہ جواب دیا:
؏: میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں
یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء میں وزیرِ اعظم ہند 7 گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اُس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا، لیکن حضرت نے یہ کہہ کر ملاقات سے صاف انکار کر دیا:
’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کر سکتا، جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں ۔ ‘‘ (سوانح تاج الشریعہ، ص 72) ـ
اہلِ سنّت وجماعت کی موجودہ صورتِ حال جس میں بالعموم پاک وہند کے سنّی علمائے کرام کا پوری دنیا کے سنّی علما و شیوخ سےکوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیا کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علما و صوفیا کی نظر میں ہماری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔یہ حضرت تاج الشریعہ کی ذاتِ گرامی تھی کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا ۔
عرب کے جیّد علما و صوفیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عرب دنیاکے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پرحضرت کےوصال کی خبرایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی ۔
بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا ۔ حضرت تاج الشریعہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت کو پوری دنیا میں عام کیا ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقۂ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
وصال پر ملال:
7 ذوالقعدہ 1439ھ مطابق 20 جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ اذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے ۔
تدفین:
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف (ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں ۔
قطعۂ تاریخِ وصال:
کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی
جہاں میں بٹ رہا ہے فیضِ اختر
بڑھو لینے کو حصّہ چاہیے گر
امام احمد رضا کے، مفتی اختر
نبیرہ تھے، نسب ہے اُن کا اَطہر
ہے پیارا سا لقب ’’تاج الشریعہ‘‘
یہ جچتا ہے اُنھی کی شخصیت پر
وہ شہ اختر رضا تاج الشریعہ
رہے پاکیزہ طینت زندگی بھر
جو مغرب کی اذاں کی ابتدا میں
مؤذّن نے کہا ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘
وہیں ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہتے کہتے
ہوئے دنیا سے رخصت مفتی اختر
ضیائے طیبہ غم گین و حزیں ہے
گئے اختر رضا سب کو رُلا کر
ضیائے طیبہ کرتی ہے دعا یہ
رہیں اختر رضا، جنّت کے اندر
’’چلے فردوس کو تاج الشریعہ‘‘ (۱۴۳۹ھ)
نؔدیم! اس سالِ رحلت کو عیاں کر
نؔدیم! اِس دل میں ہیں تاج الشریعہ
جسے ملنا ہو، آئے دل کے اندر
مآخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور اُن کے خلفاء ۔ سوانح تاج الشریعہ ۔ تذکرۂ تاج الشریعہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-o-shariyah-hazrat-allamah-mufti-muahammad-akhtar-raza-khan-barelwi
؏: میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں
یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء میں وزیرِ اعظم ہند 7 گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اُس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا، لیکن حضرت نے یہ کہہ کر ملاقات سے صاف انکار کر دیا:
’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کر سکتا، جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں ۔ ‘‘ (سوانح تاج الشریعہ، ص 72) ـ
اہلِ سنّت وجماعت کی موجودہ صورتِ حال جس میں بالعموم پاک وہند کے سنّی علمائے کرام کا پوری دنیا کے سنّی علما و شیوخ سےکوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیا کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علما و صوفیا کی نظر میں ہماری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔یہ حضرت تاج الشریعہ کی ذاتِ گرامی تھی کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا ۔
عرب کے جیّد علما و صوفیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عرب دنیاکے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پرحضرت کےوصال کی خبرایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی ۔
بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا ۔ حضرت تاج الشریعہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت کو پوری دنیا میں عام کیا ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقۂ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
وصال پر ملال:
7 ذوالقعدہ 1439ھ مطابق 20 جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ اذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے ۔
تدفین:
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف (ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں ۔
قطعۂ تاریخِ وصال:
کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی
جہاں میں بٹ رہا ہے فیضِ اختر
بڑھو لینے کو حصّہ چاہیے گر
امام احمد رضا کے، مفتی اختر
نبیرہ تھے، نسب ہے اُن کا اَطہر
ہے پیارا سا لقب ’’تاج الشریعہ‘‘
یہ جچتا ہے اُنھی کی شخصیت پر
وہ شہ اختر رضا تاج الشریعہ
رہے پاکیزہ طینت زندگی بھر
جو مغرب کی اذاں کی ابتدا میں
مؤذّن نے کہا ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘
وہیں ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہتے کہتے
ہوئے دنیا سے رخصت مفتی اختر
ضیائے طیبہ غم گین و حزیں ہے
گئے اختر رضا سب کو رُلا کر
ضیائے طیبہ کرتی ہے دعا یہ
رہیں اختر رضا، جنّت کے اندر
’’چلے فردوس کو تاج الشریعہ‘‘ (۱۴۳۹ھ)
نؔدیم! اس سالِ رحلت کو عیاں کر
نؔدیم! اِس دل میں ہیں تاج الشریعہ
جسے ملنا ہو، آئے دل کے اندر
مآخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور اُن کے خلفاء ۔ سوانح تاج الشریعہ ۔ تذکرۂ تاج الشریعہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-o-shariyah-hazrat-allamah-mufti-muahammad-akhtar-raza-khan-barelwi
scholars.pk
Taj o Shariyah Hazrat Allamah Mufti Muahammad Akhtar Raza Khan Barelwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-11-1444 ᴴ | 03-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-11-1444 ᴴ | 04-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1