🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-11-1444 ᴴ | 03-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-11-1444 ᴴ | 03-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-11-1444 ᴴ | 03-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-11-1444 ᴴ | 03-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
پیر محمد ہاشم جان سر ہندی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: پیر محمد ہاشم جان سرہندی ۔ لقب: شیخ المشائخ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر محمد ہاشم جان سرہندی بن شیخِ طریقت حضرت خواجہ محمد حسن جان سرہندی بن خواجہ عبد الرحمن بن خواجہ عبد القیوم بن شاہ فضل اللہ سرہندی بن شاہ غلام نبی ۔

سلسلہ نسب تیرہویں پشت میں حضرت مجدد الف ثانی سے ملتا ہے ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (سندھ کے صوفیاء نقشبند ص:152)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ ذیقدہ 1322ھ، مطابق 1904ء کو ٹنڈو سائیں داد ضلع حیدر آباد سندھ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم ٹنڈو سائیں داد میں حاصل کی ۔ حفظ قرآن اور مہارت تجوید کیلئے حافظ احمد قادری کی خدمات حاصل کی گئی ۔ تیرہ سال کی عمر میں ’’حفظ قرآن ‘‘ کی سعادت حاصل کی اور حسن قراٗت میں نمایاں مقام پر فائزہوئے ۔ بقول حکیم عبدالعزیز سر ہندی ، اسد ملت حضرت علامہ سید اسد اللہ شاہ فدا ٹکھڑ والے نے ’’حافظ ہاشم ‘‘ سے حفظ قرآن کا مادہ تاریخ ( 1335ھ) نکالا۔ حافظ قرآن ہونے کے بعد عربی فارسی کی مزید تعلیم ٹنڈو سائیں داد میں والد ماجد کی زیر نگرانی حاصل کی ۔ اس کے بعد والد ماجد نے اعلیٰ تعلیم کے لئے اجمیر شریف بھیج دیا جہاں آپ نے علامۃ الہند مولانا معین الدین اجمیری کے ’’دارالعلوم معینیہ عثمانیہ ‘‘ سے درس نظامی کی تحصیل اور سند حاصل کی ۔ موصوف خیر آباد کے علمی خانوادہ کے ’’ارکان اربعہ ‘‘یا ’’اسطوانات اربعہ ‘‘ میں سے رابع تھے۔ امام الہند علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ کے شاگرد ارشد و فرزند ار جمند علامہ عبد الحق خیر آبادی اور ان کے شاگرد رشید حکیم الامت علامہ سید برکات احمد ٹونکی اور ان کے فاضل شاگرد علامہ معین الدین اجمیری تھے۔ مذکورہ ’’علماء اربعہ ‘‘ میں سے ہر ایک اپنے اپنے وقت میں علوم عقلیہ و نقلیہ میں ہندوستان کے افق پر ہزاروں علماء کی موجودگی میں بدور بازغہ کی طرح چمک رہا تھا۔ حکمت و طب :درس نظامی سے فراغت کے بعد آپ نے مولانا اجمیری کے بھا ئی شفاء الملک حکیم نظام الدین سے فن طب و طریق علاج میں سند حاصل کی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ ص: 823)

بیعت و خلافت:
اپنے والد محترم حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت تھے اور حضرت محمد یعقوب بھو پالی مجددی سر ہندی قدس سرہ کی صحبت اختیا ر کی اور حضرت قبلہ محمد صادق مجددی سر ہندی کابلی مہاجر مدنی سے سلوک طے کیا ۔ (ایضاً)

سیرت و خصائص:
عالم ربانی، عارف اسرار رحمانی، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، پیر ھدیٰ، محسن اہل سنت حضرت علامہ مولانا پیر محمد ہاشم جان سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ سرہندی مجددی خاندان کے ایک روشن آفتاب و ماہتاب تھے ۔ اپنے آباؤ اجداد یعنی حضرت عمر بن خطاب اور حضرت امام ربانی کے محاسن صوری و معنوی کےآئینہ دار تھے ۔ صورت ایسی کہ نظر اٹھانے کو جی نہ چاہے ماور سیرت و صحبت ایسی کہ وہاں سے ہٹنے کو جی نہ چاہے ۔ علم و معرفت میں بحرِ ذخار، لیکن تواضع اور خوش خلقی ایسی جیسے ابر نو بہار ۔ آپ علیہ الرحمہ کو عربی فارسی اردو سندھی اور پشتو پر مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔

آپ بے حد حسین و جمیل تھے ۔ چہرہ پرنور اور متبسم ، حافظہ بے مثال، قد مناسب، خوبصورت داڑھی، ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح گلابی اور نازک، دانت موتی کی لڑیاں، ہونٹوں پر دائمی مسکراہٹ، پان کھائے ہوئے غنچہ دہن سے جب گفتگو فرماتے تو فضا خوشبو سے مہک جاتی، کسی کا دل نہ دکھاتے، وضع داری، صاف گوئی، اور بہت ہی اعلیٰ صفات کے مالک تھے ۔ منقولات و معقولات میں یکساں مہارت تھی ۔ آپ کی تقریر عالمانہ وفا ضلانہ ہوا کرتی تھی ایک بار لاڑکانہ شہر میں سفید مسجد علی گوہر آباد میں سورہ کوثر پر تین گھنٹہ تقریر فرمائی۔ ہمیشہ تبلیغ ووعظ کا فریضہ فی سبیل اللہ ادا کیا۔

تحریک پاکستان کا غلغلہ بلند ہوا تو آپ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور اپنی تمام تر قوتوں کو مسلم لیگ کے لئے وقف کر دیا۔ کمیونسٹ بلاک اورسوشلزم کے خلاف تحریر و تقریر کے ذریعے مقابلہ کیا اور عوام الناس کو ان کے فریب و مکر سے بچانے کی سعی کی۔ آپ کے متبسم اور پر نور چہرہ دیکھ کر خدایا د آجاتا تھا۔ گوٹھ سائینداد، نارتھ ناظم آباد کراچی اور شابو کلہ ( کوئٹہ ) میں اکثر قیام کرتے تھے اور تینوں مقامات پر کتابوں کا ذخیرہ جمع کرایا تھا جو کہ آپ کے شوق مطالعہ و کتب بنیی کا مظہر ہے۔ لباس ، خوراک اور جائے رہائش امیر ا نہ تھی اور وضع قطع اور نشست و برخاست فقیر انہ تھی ۔ آپ کے وجود میں امیری اور فقیری آپس میں ہم آغوش نظر آتی تھی جو کہ امیری و فقیری کا حسین امتزاج کا درجہ رکھتے تھے۔
امام الانبیاء سید المرسلین ﷺ کی ذات گرامی سے بے انتہا عقیدت تھی ۔ آپ کا عشق کمال کی حدتک پہنچا ہوا تھا ۔ اکثر وبیشتر  درود شریف آپ کے ورد زبان ہوتا تھا ۔ جب ذات اقدس ﷺ کا نام نامی اسم گرامی زبان پر آتا یا کسی سے سن لیتے تو آپ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی۔آپ کی تقریر  اور وعظ کا اکثر موضوع محبت و عشق مصطفیٰﷺ اور سیرت ِ مبارکہ ہوتا تھا ۔ رسولِ اکرم ﷺ کی آپ پر خاص نظرِ کرم تھی ۔ جب کوئٹہ میں آپ سخت علیل ہوگئے تو سرور عالم ﷺ نے اپنے دیدار سے مشرف فرمایا ۔ جس سے اس عاشق ِ صادق کو قرار مل گیا،اورطبیعت سنبھل گئی ۔ آپ کا اکثر وقت علمی ودینی خدمات میں گزرتاتھا۔قیام کوئٹہ کےدوران ہر جمعہ اور ہفتہ کو پولیس لائن اور فوجی چھاؤنی فوجیوں سے خطاب فرماتے تھے۔آپ پولیس اور افواج پاکستان کی اسلامی تربیت لازمی سمجھتے تھے ۔ تحریکِ خلافت تحریکِ پاکستان میں بھر پور کردار ادا کیا ۔ نیشلسٹوں، سوشلزم اور نسل وقوم پرستوں کے خلاف سندھ میں آپ نے بہت بڑا جہاد کیا۔

جب سندھ میں جی ایم سید نے لسانیت وعلاقیت کا نعرہ بلند کیا اور یہ کہا کہ ہم پہلےسندھی اور بعد میں مسلمان ہیں۔تو آپ نے اس کی خوب خبر لی اس کے خلاف کتابچے ، مضامین شائع کیے اور اس فتنے کے سدباب کے لئے پورے سندھ کے درورے فرمائے ۔ ایک مرتبہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس وقت پاکستان مختلف فتنوں میں گھرا ہوا ہے آپ کے نزدیک سب سےبڑا فتنہ کون سا ہے؟تو آپ نے فرمایا یہاں لادینیت سب سے بڑا فتنہ ہے۔اس کی پرورش کرنے والے جی ایم سید اور شیخ ایاز ہیں۔یہ قادیانیت سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔یہ قومیت ولسانیت پر امت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔(سندھ کے صوفیائے نقشبند:158)

تاریخِ وصال:
مولانا پیر محمد ہاشم جان سر ہندی 21 رمضان المبارک 1395ھ بمطابق 28 ستمبر 1975ء کو 73 سال کی عمر میں شابو کلہ نزد کوئٹہ میں انتقال کیا۔ آخری آرامگاہ سر ہندیوں کے خاندانی قبرستان مقبرہ شریف خواجہ عبدالرحمن سر ہندی قدس سرہ کوہ گنجہ (ضلع حیدرآباد سندھ) کے باہر بر آمدہ میں جنوب کی جانب سے واقع ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند ۔ اکابر تحریک پاکستان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-peer-muhammad-hashim-jan-sarhandi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت شاہ بہاءالدین باجن برہان پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی:شاہ بہاء الدین۔تخلص:باجن۔لقب:ادیبِ اول اردو،صاحبِ علم وعرفاں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت شیخ بہاء الدین شاہ باجن بن حاجی معزالدین بن علاء الدین بن شہاب الدین بن شیخ ملک بن مولانا احمد خطابی مدنی علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب﷜ کےبھائی ہبل بن خطاب کی نسل سےہیں۔آپ کےجد اعلیٰ حضرت شیخ احمد خطابی مدنی﷫حضرت ابو مدین ﷫کےمریدین میں سےتھے۔ علوم ِ دینیہ میں تبحر حاصل تھا۔ علم ِ حدیث کےتو گویا امام تھے۔ حدیث کی اکثر مشکلات صاحبِ حدیث علیہ السلام سےحل کراتےتھے۔ ہمیشہ آدھی رات کے وقت جب روضۂ رسولﷺ کی آستانہ بوسی کےلئےحاضر ہوتے، تو آپ کے لیے حرم محترم کےدروازے خود بخود کھل جاتے تھے، بارگاہِ حبیبﷺمیں رازو نیاز کی باتیں کرتےپھرواپس آجاتے۔(گلزار ابرار:212)

پھر یکایک دل میں سیر وسیاحت کی آرزو پیدا ہوئی،تو اپنےفرزند ارجمند شیخ ملک کوبھی ہمرا ہ لیا۔کچھ طلباء بھی ساتھ ہوگئے،اور مدینۃ المنورہ سےچلے،عراق،خراسان،ماوراء النہر،اور سندھ کی سیر کرتےہوئے دہلی پہنچے۔یہاں آپ سےلوگ بڑی محبت سےپیش آئے۔آپ کی اور آپ کےطلباء کی خوب خدمت کی۔جب بادشاہ کوآپ کی اطلاع کی آمد ہوئی تووہ بھی حاضر خدمت ہوا اور شدید خواہش کی کہ آپ ہمارے ملک میں رہیں،اور اپنےفیوضات وبرکات سےمستفید فرمائیں۔ پھر سلطان نے اپنی بیٹی کانکاح آپ کےصاحبزادے ’’شیخ ملک‘‘ سے کردیا۔کچھ عرصے کےلئے شیخ دہلی رونق افروز رہے۔کثیر مخلوقِ خدا نے استفادہ کیا۔کچھ عرصہ بعد اپنےوطن مالوف کی یاد تازہ ہوئی،اور مدینۃ المنورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔پھر مدینہ طیبہ میں بقیہ زندگی گزاری اور وہیں کی خاک پاک میں آرام فرماہوئے۔(ایضا:213)

آپ کےصاحبزادے شیخ ملک دہلی میں قیام پذیرہوگئے۔ان کی اولاد کاسلسلہ جاری ہوگیا۔سب کے سب علم وفضل میں اپنی مثال تھے۔حضرت شیخ باجن﷫کےوالد گرامی مخدوم حاجی معزالدین﷫ حضرت مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری ﷫ کےجید خلیفہ تھے۔ان کی عمر ایک سو چالیس ہوئی۔سات مرتبہ حرمین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کو اپنے خاندان کی ملاقات ودیدار کاشوق ہوا۔اس کےلئے حجاز کےسفر کاارادہ کیا۔جب احمد آباد گجرات(ہند) پہنچےتو عقیدت مندوں نے یہاں رہنے پہ مجبور کردیا۔پھر یہیں رہائش پذیر ہوگئے۔ان کی اولاد کاسلسلہ یہیں سےشروع ہوا۔(ایضا:)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 790ھ مطابق 1388ء کواحمد آباد گجرات (ہند) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: آپ﷫ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔گھر کا ماحول شروع سے ہی مذہبی تھا۔اس لیے بچپن میں ہی دین کی طرف لگاؤ پیدا ہوگیا تھا۔چار سال کی عمر تھی کہ والد کاسایہ سر سے اٹھ گیا۔ان کو شہید کردیا گیا۔آپ کی تعلیم وتربیت کی ساری ذمہ داری آپ کی والدہ محترمہ پر آگئی۔انہوں نے یہ ذمہ دار خوب نبھائی۔آپ کی والدہ کی خواہش تھی کہ حضرت شاہ برہان الدین کی خدمت میں رہ کر تعلیم وتربیت حاصل کریں،

اور شاہ صاحب نے آپ کوئی خاص توجہ نہیں کی۔ پھر ایک دن وہ اپنے چچا زاد بھائی شیخ میاں کی معرفت شیخ رحمت اللہ کی خدمت میں پہنچے،خانقاہ میں تعلیمی سلسلہ شروع کیا،اور وہیں پہ تکمیل ہوئی۔

بیعت وخلافت: دورانِ تعلیم آپ حضرت شاہ رحمت اللہ ﷫ کو قریب سے دیکھا،اور متأثر ہوکر دستِ بیعت ہوئے۔اکیس سال ان کی خدمت میں گزارے۔ یہاں تک کہ ولایت کے درجے کو پہنچے۔

سیرت وخصائص: جامع الفضائل والکمالاتِ علمیہ وعملیہ،صاحبِ اوصافِ کثیرہ،حضرت شیخ بہاء الدین باجن برہان پوری﷫۔آپ﷫ اپنے وقت کےنام ور عالم دین،صوفی شاعر،اور ولی کامل تھے۔اپنے اکابرین کی اعلیٰ صفات کے حامل ،ان کی امانتوں کے وارثِ کامل تھے۔اپنے پیر ومرشد کی خدمت میں اکیس سال گزارے،اور پھر ان کی اجازت سے خشکی کے راستے سفرحجاز پر روانہ ہوئے۔ دہلی سے خراسان پہنچے۔ وہاں سے کعبہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے۔ مراقبہ میں دیکھا کہ حضورسرورکائناتﷺ حج کی قبولیت کا مژدہ سنا رہے ہیں اور برہان پور کی طرف مراجعت کی ہدایت فرما رہے ہیں۔اسی طرح خواب میں آپﷺنےآپ کے پیر ومرشدسے فرمایا کہ اپنے مرید سے کہ دو کہ خیال ِ حج جو تم نےکیا تھا وہ قبول ہوا۔اب لوٹ خراسان سےبرہان واپس آجائے،اور وہیں قیام کرے،لوگوں کودین کی طرف بلائے،اور ان کا تزکیہ کرے۔ا س کی تعبیر آپ نےاپنے پیر ومرشد کےوصال سے کی۔چنانچہ نفس الامر میں ایسا ہی ہوا۔شیخ رحمت اللہ کا کوئی فرزند نہیں تھا،لہذا انہوں نےاپنے بھتیجے کوشیخ احمدعطاء اللہ بن شیخ شہر اللہ کواپنا جانشین مقرر کیا،اور وصیت کی کہ یہ خاص خرقہ شیخ باجن کےسپرد کردینا جو خراسان سےواپس آرہے ہیں۔آپ مرقدِ شیخ پہ حاضر ہوئے۔امانتی خرقہ لیا۔ پھر چند سال شیخ کے سجادہ نشین شیخ عطاء اللہ کی خدمت میں گزارے۔پھر اشارۂ غیبی سے دکن کی طرف روانہ ہوئے۔دولت آباد میں پہنچ کر سلطان برہان الدین غریب نواز کےمرقد مبارک پر حاضر ہوئے،اور علو ہمتی کی درخواست کی،یہاں سےشہر بیدر کی طرف
2
روانہ ہوئے،وہاں شیخ منجھلے تھے۔جومنصور ِ زماں مسعود بک کے خلیفہ تھے۔ان کی خدمت میں رہ کر چلہ کشی کی۔یہاں سےآپ کو خرقۂ خلافت عطاء ہوا۔(ایضا:214)

پھر غیب سےایسی قبولیت حاصل ہوئی کہ ہرطرف سےمخلوق خدا حاضر ہونے لگی۔مخلوق سےدل اکتایا،پھر آٹھ سال تک خلوت میں چلہ کشی کی،اور شہر سےچلےگئے۔اس کےبعد دیرینہ فرمان کی تعمیل عمل میں آئی جو برہان پور کی نسبت تھا۔برہان پور کےقریب نواحی موضع خان پور میں قیام کیا،جب مشائخ کرام اور حاکم وقت کو ان کی آمد کی اطلا ع ہوئی تو بصد اکرام و اعزاز ان کوشہر لائے، اور ان کےلئےایک مسجد، خانقاہ، اور خوابگاہ (گھر) تعمیر کروائے۔پھر بقیہ عمر یہیں لوگوں کی تربیت کرتےہوئے گزاری،اسی مقام پر انتقال ہوا۔

اردو زبان کے پہلے ادیب:
اردو زبان کی ابتدائی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے فروغ میں صوفیائے کرام کا نمایاں کردار تھا۔ زبان کے تشکیلی مراحل سے اس کی ترقی تک صوفیا کرام کے مختلف سلسلوں نے اس کو اختیار کیا اور اس سے قربت کا محرک بنے۔ اگرچہ صوفیا کرام کا اصل مقصد تبلیغ و اصلاح تھامگر بندگان خدا تک ترسیل و ابلاغ کے ایک ذریعے کے طور پر انھوں نے اس زبان کو اختیار کیا۔ کچھ تو ان کا خلوص اور جدوجہد اور کچھ اردو زبان کا عوامی لہجہ دونوں نے مل کر ایک دوسرے کو تقویت بخشی۔ واقعہ یہ ہے کہ صوفیائے کرام ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں منہمک تھے جہاں دنیا داری کا شائبہ تک نہیں تھا بلکہ ایثار و اخلاص کی کارفرمائی تھی۔ اثیارواخلاص کے اسی ماحول میں اردو زبان نے اپنا سفرشروع کیا۔

شمس الرحمن فاروقی­ؔ نے’’اردو کا ابتدائی زمانہ،ادبی تہذیب وتاریخی پہلو ‘‘ میں شیخ بہاء الدین باجن ﷫ کو اردو کا پہلا باقاعدہ ’’ادیب ‘‘ قرار دیا ہے۔ شیخ باجن نے ’’خزائن رحمت اللہ‘‘ کے نام سے اپنا فارسی اور ہندی کلام کا مجموعہ مرتب کیا۔ اس میں صوفیا کی معروف ومقبول صنف سخن جکری بھی شامل تھی۔ ’’خزائن رحمت اللہ ‘‘میں شیخ نے ایک عرصۂ طویل کے لیے اردو زبان اور ادب کے حدود اربعہ بیان کردیے ۔ اس کی زبان ہندی ہے، اس کی بحریں ہندوستانی بھی ہیں اور فارسی بھی۔ اس کے مضامین مذہبی صوفیانہ بھی ہیں اور دنیاوی بھی۔ اس شاعری کی جڑیں عوام میں گہری ہیں۔ اور ہردلعزیز بن جانے کی صفت اس میں پوری طرح موجود ہے۔ اس کے معاملات میں زہد، روحانی اور صوفیانہ پاکیزگی نمایاں ہے۔ وطن کی محبت بھی ایک نمایاں وصف ہے۔ (ارود کا ابتدائی زمانہ: 70۔ 69)

انسان دوستی اور وطن سے غیر معمولی محبت نے ہی صوفیا کے آستانوں کو مرجع خلائق بنا دیا تھا۔ ان کے یہاں خویش و بیگانے کا لفظ ہی نہیں تھا۔ عام انسانوں کی بھلائی اور رہنمائی کے جذبے کے تحت ہی صوفیا نے ان زبانوں کو اختیار کیا جس کا دائرہ وسیع تھا۔ اور جس میں اتنی قوت تھی کہ اس سے پیغام رسانی ممکن ہو سکے۔ مخلوط زبانوں کا معیار خصوصا مقامی بولیوں اورمخلوط زبان فارسی صوفیا کے یہاں زیادہ ملتی ہے۔ ’’خزائن رحمت اللہ‘‘ نامی مجموعہ شیخ باجن کی یادگار ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے پیر حضرت شاہ رحمت اللہ کے ارشادات، دوسرے بزرگوں کے اقوال وغیرہ جمع کیےتھے۔ جابجا اپنے اشعار اور دوہے بھی نقل کیے ہیں۔ کل آٹھ خزانے ہیں۔ زبان بالعموم سادہ اور آسان ہے۔ ان کا کلام اردو ادب کے اولین نقوش میں نمایاں مقام کا حامل ہے۔ صدافسوس کہ پاک وہند میں ’’اردو ادب‘‘ کی ترقی ونشریات کےکئی ادارے موجود ہیں،لیکن اردو ادب کے ادیبِ اول پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ان کی شاعری کا مجموعہ دستیاب ہے۔

آپ﷫کےجانشین آپ کے صاحبزادے حضرت شیخ عبد الحکیم باجن﷫ ہوئے۔ ’’صاحبِ کنز العمال‘‘ حضرت شیخ علی متقی﷫ ان کے مریدین و خلفاء میں سے ہیں ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 ذوالقعدہ 912ھ مطابق آخرِ مارچ 1507ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار برہان پور انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت 790 ھ میں ہوئی اور وصال14 ذی القعدہ 912 ھ کوہوا۔

ماخذ و مراجع:
گلزار ابرار ۔ اردو کا ابتدائی زمانہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-bahauddin-bajan-burhan-puri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1