شیخ الادب مولانا تاج محمد آریجوی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی:مولانا تاج محمد۔لقب: شیخ الادب۔والد کااسم گرامی:میر خان کھوکھر۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1323ھ مطابق 1905ء کو گوٹھ’’خیر محمد آریجہ‘‘تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ سندھ پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم خلیفہ اللہ رکھیہ میر بحر اور خلیفہ خدا بخش میر بحر سے حاصل کی۔ تحصیل قمبر (ضلع لاڑکانہ) کے گوٹھ ٹھوڑھو میں مولانا کریم داد چانڈیو کے پاس فارسی کا اغاز کیا۔ اس کے بعد سندھ کی عظیم دینی درسگاہ ’’دارالفیض‘‘ گوٹھ سونہ جتوئی (ضلع لاڑکانہ) میں باقاعدہ داخلہ لے کر تعلیم کا آغاز کیا۔ وہیں درس نظامی کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔علم منطق کبریٰ، فلسفہ، حکمت اور علم ادب کے حصول کیلئے لاہور کی نامور دینی و قدیم درسگاہ دارالعلوم نعمانیہ میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں دیگر وزیر آباد (گجرات) اور ضلع گجرات (پنجاب) کے گوٹھ کٹھالہ شیحان، ضلع شاہ پو رکے گوٹھ بکھربار میں نامور حکیم مولانا عبدالرسول کے پاس میزان طب، طب اکبر، قانونچہ، موجز نفیسی اور شرح اسباب جیسی طبی کتب کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد گھر واپس لوٹے۔
بیعت وخلافت: علامہ تاج محمد نے دوران حج مسجد الحرام کے صحن میں حضرت مولانا رحمت اللہ صدیقی قریشی خانقاہ اتمانزئی شریف تحصیل چار سدہ ضلع پشاور) کی زیارت سے باریاب ہوئے۔ مولانا پیر صاحب سے بہت متاثر ہو کر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دستِ بیعت ہوئے۔ پیر صاحب نے مولانا کو خلافت اور اوراد و وظائف کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔
سیرت وخصائص: شیخ الادب،ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ،حضرت علامہ مولانا تاج محمد آریجوی۔آپنےدینِ متین کی خدمت ،مسلک حق اہل سنت کی اشاعت میں تمام زندگی صرف فرمائی۔آپایک متحرک شخصیت تھے۔جہاں جس کام کی ضرورت محسوس کرتے،فوراً وہ انجام دیتے۔بالخصوص بعد از فراغت اپنےگوٹھ خیر محمد آریجہ میں 14/ شوال المعظم 1347ھ کو’’مدرسہ شمس العلوم‘‘کی بنیادرکھی،ایک استاد کو مدرس مقرر کرکے خود حصول علم کےلئے پنجاب کا رخ کیا، وہیں سے بعد فراغت مدرسہ میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔
حرمین شریفین کا سفر: مولانا تاج محمد نےحج بیت اللہ اور روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی نیت سے حرمین شریفین کا سفر اختیار کیا۔حج و زیارت کے بعد مدینہ منورہ میں علامہ عبدالرؤف مدنی ازہری،علامہ عبدالعزیز جرمونی اور علامہ عمر حمدان (صدر مدرس مدرسہ صولتیہ مکہ) سے صحاح ستہ کا درس لیا۔ اور علامہ عبدالباقی لکھنوی مہاجر مدنی سے علمی سندیں حاصل کیں۔ شیخ القراء قاری حسن شاعر مدنی سے علم تجوید حاصل کیا اور مکہ مکرمہ میں بھی قاری اسحاق (مدیر مدرسہ عثمانیہ) قاری امین کتبی (مدیر مدرسہ الفلاح) اور قاری احمد حجازی سے بھی تجوید کی تعلیم حاصل کی۔وہاں رہ کر خوب علمی استفاددہ کیا،اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے تمام کومتاثر کیا۔
جامعہ ازہر کا علمی دورہ: مولانا تاج محمد نے علمی دورہ کیلئے مصر کا سفر اختیار کیا اور قاہرہ کی بین الاقوامی درسگاہ ’’جامعۃ الازہر‘‘ میں چھ ماہ کا علمی دورہ کیا۔وہاں بھی اپنی اعلیٰ ذہانت کے نقش چھوڑے ہیں، جامعہ کے منتظمین آپ سے بہت متاثر ہوئے اور معلم کی حیثیت سے خدمات حاصل کرنا چاہیں لیکن آپ نے معذرت کرلی اور وطن واپس آگئے۔
سیاسی بصیرت ومطالبہ نفاذِ نظامِ مصطفیٰﷺ: علامہ تاج محمد نے عملی سیاست میں حصہ تو نہیں لیا لیکن وقت بوقت پاکستان کے حکمرانوں تک اللہ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کا پیغام پہنچایا کرتے تھے۔ مولانا نے ’’جماعت نور الاسلام‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی تھی جس کے وہ صدر تھے۔ جس کے تحت 5/ اکتوبر 1947ء کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام ایک خط تحریر کیا جس مین بانی پاکستان نظام مصطفیٰﷺ کے نفاذ کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ 14/ اکتوبر 1947ء کو قائد اعظم کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری کی جانب سے مولانا کو جواب موصول ہوا جس میں اطمینان دلایا گیا، اسی طرح گونرجنرل ناظم الدین کے نام بھی مولانا نے تفصیلی خط تحریر کیا جس میں ملک میں نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس تفصیلی خط میں ارکان اسلام کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی پابندی،چوری کی سزا، قصاص کو جاری کرنا ، بے حیائی و عریانیت کا سدباب اور شراب ، جوا ، رشوت کے مکمل خاتمہ کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اس خط کے آخر میں مولانا تاج محمدرقم طراز ہیں: ’’جب تک مذکورہ باتوں پر عمل نہ ہوگا تب تک پاکستان اسم بامسمٰی نہ ہوگا یعنی اس کے قیام کا اصل مقصد حاصل نہ ہوسکے گا۔‘‘ یہ خط خوشخطی اور ڈیزائن کا بھی اعلیٰ نمونہ ہے ، مولانا نے اپنے قلم سے خوشخط بنایا (کتابت کی) اور 6/ صفر المظفر 1368ھ/1948ء کو چھپوا کر عام کیا۔اس طرح قیام پاکستان کے بعد مولانا تاج محمد پہلے سنی عالم ہیں جنہوں نے پاکستان میں نظام مصطفیٰﷺ کے نفاذ کا سب سے پہلے مطالبہ کیاتھا۔(قیام ِ پاکستان کوسترسال ہوگئے،شروع سےلےکر اب تک علماء اہل
نام ونسب: اسم گرامی:مولانا تاج محمد۔لقب: شیخ الادب۔والد کااسم گرامی:میر خان کھوکھر۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1323ھ مطابق 1905ء کو گوٹھ’’خیر محمد آریجہ‘‘تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ سندھ پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم خلیفہ اللہ رکھیہ میر بحر اور خلیفہ خدا بخش میر بحر سے حاصل کی۔ تحصیل قمبر (ضلع لاڑکانہ) کے گوٹھ ٹھوڑھو میں مولانا کریم داد چانڈیو کے پاس فارسی کا اغاز کیا۔ اس کے بعد سندھ کی عظیم دینی درسگاہ ’’دارالفیض‘‘ گوٹھ سونہ جتوئی (ضلع لاڑکانہ) میں باقاعدہ داخلہ لے کر تعلیم کا آغاز کیا۔ وہیں درس نظامی کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔علم منطق کبریٰ، فلسفہ، حکمت اور علم ادب کے حصول کیلئے لاہور کی نامور دینی و قدیم درسگاہ دارالعلوم نعمانیہ میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں دیگر وزیر آباد (گجرات) اور ضلع گجرات (پنجاب) کے گوٹھ کٹھالہ شیحان، ضلع شاہ پو رکے گوٹھ بکھربار میں نامور حکیم مولانا عبدالرسول کے پاس میزان طب، طب اکبر، قانونچہ، موجز نفیسی اور شرح اسباب جیسی طبی کتب کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد گھر واپس لوٹے۔
بیعت وخلافت: علامہ تاج محمد نے دوران حج مسجد الحرام کے صحن میں حضرت مولانا رحمت اللہ صدیقی قریشی خانقاہ اتمانزئی شریف تحصیل چار سدہ ضلع پشاور) کی زیارت سے باریاب ہوئے۔ مولانا پیر صاحب سے بہت متاثر ہو کر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دستِ بیعت ہوئے۔ پیر صاحب نے مولانا کو خلافت اور اوراد و وظائف کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔
سیرت وخصائص: شیخ الادب،ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ،حضرت علامہ مولانا تاج محمد آریجوی۔آپنےدینِ متین کی خدمت ،مسلک حق اہل سنت کی اشاعت میں تمام زندگی صرف فرمائی۔آپایک متحرک شخصیت تھے۔جہاں جس کام کی ضرورت محسوس کرتے،فوراً وہ انجام دیتے۔بالخصوص بعد از فراغت اپنےگوٹھ خیر محمد آریجہ میں 14/ شوال المعظم 1347ھ کو’’مدرسہ شمس العلوم‘‘کی بنیادرکھی،ایک استاد کو مدرس مقرر کرکے خود حصول علم کےلئے پنجاب کا رخ کیا، وہیں سے بعد فراغت مدرسہ میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔
حرمین شریفین کا سفر: مولانا تاج محمد نےحج بیت اللہ اور روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی نیت سے حرمین شریفین کا سفر اختیار کیا۔حج و زیارت کے بعد مدینہ منورہ میں علامہ عبدالرؤف مدنی ازہری،علامہ عبدالعزیز جرمونی اور علامہ عمر حمدان (صدر مدرس مدرسہ صولتیہ مکہ) سے صحاح ستہ کا درس لیا۔ اور علامہ عبدالباقی لکھنوی مہاجر مدنی سے علمی سندیں حاصل کیں۔ شیخ القراء قاری حسن شاعر مدنی سے علم تجوید حاصل کیا اور مکہ مکرمہ میں بھی قاری اسحاق (مدیر مدرسہ عثمانیہ) قاری امین کتبی (مدیر مدرسہ الفلاح) اور قاری احمد حجازی سے بھی تجوید کی تعلیم حاصل کی۔وہاں رہ کر خوب علمی استفاددہ کیا،اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے تمام کومتاثر کیا۔
جامعہ ازہر کا علمی دورہ: مولانا تاج محمد نے علمی دورہ کیلئے مصر کا سفر اختیار کیا اور قاہرہ کی بین الاقوامی درسگاہ ’’جامعۃ الازہر‘‘ میں چھ ماہ کا علمی دورہ کیا۔وہاں بھی اپنی اعلیٰ ذہانت کے نقش چھوڑے ہیں، جامعہ کے منتظمین آپ سے بہت متاثر ہوئے اور معلم کی حیثیت سے خدمات حاصل کرنا چاہیں لیکن آپ نے معذرت کرلی اور وطن واپس آگئے۔
سیاسی بصیرت ومطالبہ نفاذِ نظامِ مصطفیٰﷺ: علامہ تاج محمد نے عملی سیاست میں حصہ تو نہیں لیا لیکن وقت بوقت پاکستان کے حکمرانوں تک اللہ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کا پیغام پہنچایا کرتے تھے۔ مولانا نے ’’جماعت نور الاسلام‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی تھی جس کے وہ صدر تھے۔ جس کے تحت 5/ اکتوبر 1947ء کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام ایک خط تحریر کیا جس مین بانی پاکستان نظام مصطفیٰﷺ کے نفاذ کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ 14/ اکتوبر 1947ء کو قائد اعظم کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری کی جانب سے مولانا کو جواب موصول ہوا جس میں اطمینان دلایا گیا، اسی طرح گونرجنرل ناظم الدین کے نام بھی مولانا نے تفصیلی خط تحریر کیا جس میں ملک میں نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس تفصیلی خط میں ارکان اسلام کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی پابندی،چوری کی سزا، قصاص کو جاری کرنا ، بے حیائی و عریانیت کا سدباب اور شراب ، جوا ، رشوت کے مکمل خاتمہ کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اس خط کے آخر میں مولانا تاج محمدرقم طراز ہیں: ’’جب تک مذکورہ باتوں پر عمل نہ ہوگا تب تک پاکستان اسم بامسمٰی نہ ہوگا یعنی اس کے قیام کا اصل مقصد حاصل نہ ہوسکے گا۔‘‘ یہ خط خوشخطی اور ڈیزائن کا بھی اعلیٰ نمونہ ہے ، مولانا نے اپنے قلم سے خوشخط بنایا (کتابت کی) اور 6/ صفر المظفر 1368ھ/1948ء کو چھپوا کر عام کیا۔اس طرح قیام پاکستان کے بعد مولانا تاج محمد پہلے سنی عالم ہیں جنہوں نے پاکستان میں نظام مصطفیٰﷺ کے نفاذ کا سب سے پہلے مطالبہ کیاتھا۔(قیام ِ پاکستان کوسترسال ہوگئے،شروع سےلےکر اب تک علماء اہل
❤1👍1
سنت اپنے اس دیرینہ مطالبےسے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے،اور قائد ملت اسلامیہ حضرت علامہ امام شاہ احمد نورانی صدیقیکی اس سلسلےمیں بڑی خدمات ہیں،آپ نےنوجوانوں کونیا جذبہ ٔ ایمانی دیا۔پاکستان اسلام کےنام پر وجود میں آیا اور اس کی بقاء کی ضمانت نظامِ مصطفیٰﷺکانفاذ ہے)۔
تصنیف و تالیف:
مولانا تاج محمد آریجوی کو تصنیف و تالیف سے بھی دلچسپی تھی اسلئے درج ذیل کتابیں تحریر کیں، لیکن اکثر کتابیں ابھی تک قلمی صورت میں ان کے ورثا کے پاس ہیں:1۔تحفہ حسینی اس وقت کے کلیکٹر (آج کے ڈی سی ) سید الطاف ترمذی کے استفسار پر سندھ کے اہم موضوع کاروکاری پر تحریر کیا۔ 2۔کواکب دریۃ در نظم فارسی رسالہ جزریہ (قلمی) تجوید و قرأت پر ۔3۔سیف الرسول ۔4۔نور البصر (سندھی قلمی) استمداد کے موضوع پر وہابیت کا رد بلیغ۔5۔فیض پیر سائیں روضے دھنی قدس سرہ الاقدس ۔6۔حاشیہ تفسیر جلالین(سندھی، قلمی)7۔شربت حسین (اردو، قلمی) اکابر وہابیہ مولوی احتشام الحق تھانوی اور مفتی شفیع دیوبندی (کراچی ) کے فتویٰ کا مدلل ردتحریر کیا،اوریہی کتاب بعد میں’’شہید صداقت‘‘کے نام سے شائع کی گئی۔8۔راہنما عربی (قلمی)۔9۔رہبر فارسی۔10تحریر القوال فی تردید الطلاق المھوال (موضوع طلاق قلمی)11۔سبب ایجاب اربع رکعات بعد فرض الجمعۃ مرۃ بعد مرۃ ۔12تاج الفتاویٰ دو جلدیں۔
تاریخِ وصال:
علامہ تاج آریجوی1 ذوالقعدہ 1382ھ مطابق 1963ء کو واصل باللہ ہوئے۔ آخری آرام گاہ گوٹھ خیر محمد آریجہ (ضلع لاڑکانہ) کی جامع مسجد کے زیر سایہ کامل ولی اللہ حضرت مخدوم شہاب الدین منگریو علیہ الرحمۃ کے گنبد میں واقع ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوارعلمائے اہل سنت سندھ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-taj-muhammad-aarejwi
تصنیف و تالیف:
مولانا تاج محمد آریجوی کو تصنیف و تالیف سے بھی دلچسپی تھی اسلئے درج ذیل کتابیں تحریر کیں، لیکن اکثر کتابیں ابھی تک قلمی صورت میں ان کے ورثا کے پاس ہیں:1۔تحفہ حسینی اس وقت کے کلیکٹر (آج کے ڈی سی ) سید الطاف ترمذی کے استفسار پر سندھ کے اہم موضوع کاروکاری پر تحریر کیا۔ 2۔کواکب دریۃ در نظم فارسی رسالہ جزریہ (قلمی) تجوید و قرأت پر ۔3۔سیف الرسول ۔4۔نور البصر (سندھی قلمی) استمداد کے موضوع پر وہابیت کا رد بلیغ۔5۔فیض پیر سائیں روضے دھنی قدس سرہ الاقدس ۔6۔حاشیہ تفسیر جلالین(سندھی، قلمی)7۔شربت حسین (اردو، قلمی) اکابر وہابیہ مولوی احتشام الحق تھانوی اور مفتی شفیع دیوبندی (کراچی ) کے فتویٰ کا مدلل ردتحریر کیا،اوریہی کتاب بعد میں’’شہید صداقت‘‘کے نام سے شائع کی گئی۔8۔راہنما عربی (قلمی)۔9۔رہبر فارسی۔10تحریر القوال فی تردید الطلاق المھوال (موضوع طلاق قلمی)11۔سبب ایجاب اربع رکعات بعد فرض الجمعۃ مرۃ بعد مرۃ ۔12تاج الفتاویٰ دو جلدیں۔
تاریخِ وصال:
علامہ تاج آریجوی1 ذوالقعدہ 1382ھ مطابق 1963ء کو واصل باللہ ہوئے۔ آخری آرام گاہ گوٹھ خیر محمد آریجہ (ضلع لاڑکانہ) کی جامع مسجد کے زیر سایہ کامل ولی اللہ حضرت مخدوم شہاب الدین منگریو علیہ الرحمۃ کے گنبد میں واقع ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوارعلمائے اہل سنت سندھ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-taj-muhammad-aarejwi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Taj Muhammad Aarejwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولانا نصر اللہ افغانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ نصر اللہ ۔ لقب: ابو الفتح ، ابو المنصور ۔ وطنِ اصلی افغانستان کی نسبت سے "افغانی" کہلاتے تھے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الحدیث علامہ نصر اللہ افغانی، بن حضرت خوش کیار خاں المعروف ہوشیار خاں افغانی ، بن حاکم خان،بن شادی خان ۔(علیم الرحمہ)
وطنِ اصلی:
قیام پاکستان سے قبل آپ کا قیام یوپی (انڈیا) کے شہر الہ آباد کے قریب ریوا اسٹیٹ میں رہا۔ آپ کے آباؤاجداد افغانستان میں غزنی کے قریب ایک قریہ سرِ روضہ کے رہنے والے تھے۔ اور ان کا تعلق پختونوں کے"خروتی" قبیلہ سے تھا۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ کاشمار زمانۂ طالب علمی میں محنتی ،اورقابل طلباء میں ہوتا تھا۔ آپ اپنے سبق کی مکمل تیاری کرکے اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔آپ کی ایک خوبی یہ بھی ہے جوکہ بہت کم لوگوں کونصیب ہوتی ہے ،آپ اپنے سے کم درجے والے طلباءکواسباق کا درس دیتے تھے،جس سے آپ کے علم میں مزید پختگی ہوگئی اور زمانۂ طالب علمی سے آپ کو تدریس کا تجربہ ہوگیا۔
آپ نے اپنے وقت کے جید اساتذہ ٔکرام،اور نابغۂ روزگار ہستیوں سے تحصیلِ علم کیا۔جن میں محدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا سردارِ احمد صاحب،مجاہدِ ملت حضرت علامہ مولانا حبیب الرحمٰن صاحب اڑیسوی ،صدر المدر سین علامہ مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی ، شمس العلما ءعلامہ مولانا محمد نظام الدین سہسرامی، حضرت علامہ مولانا شبیر احمد غوری، علامہ مولانا قاضی عیاض علی خاں، مولانا سید محمد عاقل، ایڈوکیٹ، الہٰ آباد ہائی کورٹ،مولوی ظہور عالم صاحب،استاذ ریاضی اسلامیہ کالج۔(الہ آباد، یوپی، انڈیا)، پروفیسر سید رفیق احمد، استاذ شعبۂ عربی، الہٰ آباد یونیورسٹی۔(رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم)۔ آپ نے درسِ نظامی کے علاوہ مولوی، عالم، فاضلِ دینیات کے امتحانات بھی الہٰ آباد بورڈ سے سند اعلیٰ سے پاس کیے غرضیکہ آپ نے پوری زندگی حصولِ علم نافع اور مدارس و جامعات دینیہ میں درس و تدریس میں بسر فرمائی۔
بیعت و خلافت:
مجاہدِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ حبیب الرحمن اڑیسوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔
سیرت و خصائص:
جامع المعقول والمنقول حاوی الفروعِ والا صول شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولانا ابو الفتح نصر اللہ خاں افغانی رحمۃاللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ یادگارِ اسلاف تھے، آپ مشائخِ عظام کے علومِ کےوارثِ کامل تھے۔ایسی باکمال علمی و روحانی شخصیت کا اہل سنت و جماعت کی صفوں سے اٹھ جانا ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ علومِ اسلامیہ کے فروع و اصول پر آپ کو حیرت انگیز دسترس حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے آپ کا شمار پاکستان کے درس نظامی کے نہایت پختہ کار اور کامیاب اساتذہ کرام میں ہوتا تھا۔ آپ پاکستان کے علما ءکرام کے اس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جن کا مطالعہ نہایت وسیع اور عمیق تھا اور اہم علمی وفکری اور اصولی معاملات میں قولِ فیصل صادر کرنے کی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ آپ حسنِ اخلاق میں اعلیٰ انسانی اقدار کے حامل اور اسوۂ حسنہ کے عامل تھے ۔آپ کے انہی علمی، روحانی خصوصیات اور فراستِ ایمانی کو دیکھتے ہوئے افغانستان میں روسی شکست کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کے صدر جناب مجددی صاحب نے آپ کو پاکستان (کراچی)سے خصوصی دعوت پر کابل بلایا اور افغانستان کے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا۔ عبوری حکومت کے خاتمہ تک آپ اس اعلیٰ منصب پر فائز رہے۔ اس دوران آپ نے وہاں کے محکمۂ قضاء اور دارالافتا ءمیں دوررس اصلاحات کیں۔
مولانا موصوف پشتو ،فارسی، عربی، اردو، ہندی اور انگریزی کی لسان و لغت پر کمال دسترس رکھتے تھے ،اور اس میں روانی سے بلاتکلف گفتگو کرلیاکرتے تھے۔اسی طرح آپ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے۔پشتو اور فارسی میں آپ کے اشعار ملتے ہیں۔ معروف فارسی اور عربی شعراء کے نعتیہ دیوان آپ کے مطالعہ میں تھے۔ لیکن اعلیٰ حضرت عظیم البرکت رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ کلام کےآپ عاشق تھے۔ "حدائقِ بخشش" کی بے شمار نعتیں آپ کو ازبر یاد تھیں جنہیں وجد و ترنم سے پڑھا کرتے تھے۔ آپ کو اس بات کا بڑا قلق تھا نعت خواں حضرات ہی نہیں بلکہ بعض عالم حضرات بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے اشعار صحیح تلفظ اور اعراب کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے۔چنانچہ آپ نے نہ صرف یہ کہ حدائقِ بخشش (حصہ اول، دوم) کے ہر شعر پر اعراب لگائے بلکہ کتابت کی غلطیوں کی تصحیح بھی فرمائی۔ شیخ الحدیث علامہ نصر اللہ خاں علیہ الرحمہ نے اپنی پوری زندگی علوم اسلامیہ کے حصول،اور ان کی ترویج و اشاعت اور تدریس میں گذاردی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں کانزول فرمائے۔(آمین)
وصال:
آپ کا وصال13 ذیقعد، 1436ھ، بمطابق 27 اگست 2015ء کو ہوا ۔ آپ کی تدفین جامع مسجد و مدرسہ محمدی گلستانِ جوہر (کراچی)کے ایک حجرہ میں ہوئی۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ عید میلاد النبی ﷺ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-nasrullah-afghani
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ نصر اللہ ۔ لقب: ابو الفتح ، ابو المنصور ۔ وطنِ اصلی افغانستان کی نسبت سے "افغانی" کہلاتے تھے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الحدیث علامہ نصر اللہ افغانی، بن حضرت خوش کیار خاں المعروف ہوشیار خاں افغانی ، بن حاکم خان،بن شادی خان ۔(علیم الرحمہ)
وطنِ اصلی:
قیام پاکستان سے قبل آپ کا قیام یوپی (انڈیا) کے شہر الہ آباد کے قریب ریوا اسٹیٹ میں رہا۔ آپ کے آباؤاجداد افغانستان میں غزنی کے قریب ایک قریہ سرِ روضہ کے رہنے والے تھے۔ اور ان کا تعلق پختونوں کے"خروتی" قبیلہ سے تھا۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ کاشمار زمانۂ طالب علمی میں محنتی ،اورقابل طلباء میں ہوتا تھا۔ آپ اپنے سبق کی مکمل تیاری کرکے اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔آپ کی ایک خوبی یہ بھی ہے جوکہ بہت کم لوگوں کونصیب ہوتی ہے ،آپ اپنے سے کم درجے والے طلباءکواسباق کا درس دیتے تھے،جس سے آپ کے علم میں مزید پختگی ہوگئی اور زمانۂ طالب علمی سے آپ کو تدریس کا تجربہ ہوگیا۔
آپ نے اپنے وقت کے جید اساتذہ ٔکرام،اور نابغۂ روزگار ہستیوں سے تحصیلِ علم کیا۔جن میں محدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا سردارِ احمد صاحب،مجاہدِ ملت حضرت علامہ مولانا حبیب الرحمٰن صاحب اڑیسوی ،صدر المدر سین علامہ مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی ، شمس العلما ءعلامہ مولانا محمد نظام الدین سہسرامی، حضرت علامہ مولانا شبیر احمد غوری، علامہ مولانا قاضی عیاض علی خاں، مولانا سید محمد عاقل، ایڈوکیٹ، الہٰ آباد ہائی کورٹ،مولوی ظہور عالم صاحب،استاذ ریاضی اسلامیہ کالج۔(الہ آباد، یوپی، انڈیا)، پروفیسر سید رفیق احمد، استاذ شعبۂ عربی، الہٰ آباد یونیورسٹی۔(رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم)۔ آپ نے درسِ نظامی کے علاوہ مولوی، عالم، فاضلِ دینیات کے امتحانات بھی الہٰ آباد بورڈ سے سند اعلیٰ سے پاس کیے غرضیکہ آپ نے پوری زندگی حصولِ علم نافع اور مدارس و جامعات دینیہ میں درس و تدریس میں بسر فرمائی۔
بیعت و خلافت:
مجاہدِ ملت حضرت علامہ مولانا شاہ حبیب الرحمن اڑیسوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔
سیرت و خصائص:
جامع المعقول والمنقول حاوی الفروعِ والا صول شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولانا ابو الفتح نصر اللہ خاں افغانی رحمۃاللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ یادگارِ اسلاف تھے، آپ مشائخِ عظام کے علومِ کےوارثِ کامل تھے۔ایسی باکمال علمی و روحانی شخصیت کا اہل سنت و جماعت کی صفوں سے اٹھ جانا ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ علومِ اسلامیہ کے فروع و اصول پر آپ کو حیرت انگیز دسترس حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے آپ کا شمار پاکستان کے درس نظامی کے نہایت پختہ کار اور کامیاب اساتذہ کرام میں ہوتا تھا۔ آپ پاکستان کے علما ءکرام کے اس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جن کا مطالعہ نہایت وسیع اور عمیق تھا اور اہم علمی وفکری اور اصولی معاملات میں قولِ فیصل صادر کرنے کی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ آپ حسنِ اخلاق میں اعلیٰ انسانی اقدار کے حامل اور اسوۂ حسنہ کے عامل تھے ۔آپ کے انہی علمی، روحانی خصوصیات اور فراستِ ایمانی کو دیکھتے ہوئے افغانستان میں روسی شکست کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کے صدر جناب مجددی صاحب نے آپ کو پاکستان (کراچی)سے خصوصی دعوت پر کابل بلایا اور افغانستان کے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا۔ عبوری حکومت کے خاتمہ تک آپ اس اعلیٰ منصب پر فائز رہے۔ اس دوران آپ نے وہاں کے محکمۂ قضاء اور دارالافتا ءمیں دوررس اصلاحات کیں۔
مولانا موصوف پشتو ،فارسی، عربی، اردو، ہندی اور انگریزی کی لسان و لغت پر کمال دسترس رکھتے تھے ،اور اس میں روانی سے بلاتکلف گفتگو کرلیاکرتے تھے۔اسی طرح آپ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے۔پشتو اور فارسی میں آپ کے اشعار ملتے ہیں۔ معروف فارسی اور عربی شعراء کے نعتیہ دیوان آپ کے مطالعہ میں تھے۔ لیکن اعلیٰ حضرت عظیم البرکت رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ کلام کےآپ عاشق تھے۔ "حدائقِ بخشش" کی بے شمار نعتیں آپ کو ازبر یاد تھیں جنہیں وجد و ترنم سے پڑھا کرتے تھے۔ آپ کو اس بات کا بڑا قلق تھا نعت خواں حضرات ہی نہیں بلکہ بعض عالم حضرات بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے اشعار صحیح تلفظ اور اعراب کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے۔چنانچہ آپ نے نہ صرف یہ کہ حدائقِ بخشش (حصہ اول، دوم) کے ہر شعر پر اعراب لگائے بلکہ کتابت کی غلطیوں کی تصحیح بھی فرمائی۔ شیخ الحدیث علامہ نصر اللہ خاں علیہ الرحمہ نے اپنی پوری زندگی علوم اسلامیہ کے حصول،اور ان کی ترویج و اشاعت اور تدریس میں گذاردی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں کانزول فرمائے۔(آمین)
وصال:
آپ کا وصال13 ذیقعد، 1436ھ، بمطابق 27 اگست 2015ء کو ہوا ۔ آپ کی تدفین جامع مسجد و مدرسہ محمدی گلستانِ جوہر (کراچی)کے ایک حجرہ میں ہوئی۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ عید میلاد النبی ﷺ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-nasrullah-afghani
scholars.pk
Hazrat Allama Nasrullah Afghani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
❤1
حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد قاسم ۔ لقب: اواجی ۔ علاقہ موہڑہ شریف کی نسبت سے "موہڑوی"کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: جناب سلطان جیو خان علیہ الرحمہ ۔ آپ کا نسب سلاطینِ ایران کے کیانی خاندان سے ملتا ہے ۔ آپ کے جد امجد عہد عالمگیرمیں بر صغیر تشریف لائے ۔ آپ کے جد امجد اور والد گرامی کا معمول تھا کہ پنجاب سے سامان تجارت لے کر کشمیر جاتے اور راستے میں پہاڑی علاقوں میں تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرتے رہتے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کا سنِ ولادت تقریباً 1845ء ہے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت خواجہ صاحب کے والد ماجد بچپن میں ہی داغ مفارقت دے گئےتھے۔ہوش سنبھالنے پر والدہ ماجدہ نے تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا اور علوم دینیہ کی تحصیل کے لئے ہندوستان بھیجا جہاں آپ نے اس دور کے مشہور فضلاء سے استفادہ کیا اور تقریباً 1276ھ؍ 1860ء میں تکمیلِ علوم کے بعد واپس تشریف لائے اور راولپنڈی کے قریب موضع جگیوٹ میں دینی مدرسہ قائم کر کے تشنگانِ علوم دینیہ کو سیراب کرنے لگے۔آپ کا شمار اپنے وقت کےجیدعلماءِ کرام میں ہوتاتھا۔
بیعت وخلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں شیخِ کامل حضرت خواجہ نظام الدین نقشبندی کیانوی(کیاں شریف، آزاد کشمیر) کے دستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور خلافت سے سرفرازہوئے۔ آپ کا سلسلۂ طریقت بارہ واسطوں سے حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔
سیرت و خصائص:
ولیِ کامل،مرشدِ خلائق،عارفِ باللہ،غوثِ زماں ،قطبِ دوراں، تاجدارِ نقشبندیت، امیرِ شریعت، پیرِ طریقت حضرت خواجہ محمد قاسم نقشبندی موہڑوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ کشادہ پیشانی، نورانی چہرہ، بارعب شخصیت، اور چہرہ پر ایسی نورانیت کہ کوئی نگاہ بھردیکھنے کی تاب نہ رکھتاتھا۔انتہائی منکسرالمزاج اورخلیق تھے۔آپ رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے کامل نمونہ تھے۔آپ کاکوئی بھی عمل خلافِ سنت نہ ہوتا تھا۔اپنے مریدین ومتوسلین کی ایسی تربیت کرتے تھےکہ وہ بھی متبع شریعت بن جاتےتھے۔سینکڑوں ہند وا ورسکھ آپ کے اخلاقِ کریمانہ سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اور بے شمارفسق و فجور میں مبتلا افراد آپ کے فیض صحبت سے تقویٰ و پرہیز گاری کے پیکر بن گئے۔
مرشد کامل نے بیعت کے بعد خلافت سے نوازا اور موہڑہ شریف جیسے گنجان اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ میں قیام کا حکم دیا۔حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی قدس سرہ نے شیخ کے ارشاد کی تعمیل اس طرح کی ستر سال کا طویل عرصہ اسی جگہ عبادت و ریاضت اور خلق خدا کی راہنمائی میں بسر کیا اور سال میں ایک دفعہ مرشد کی خدمت میں حاضری دینے کے علاوہ کسی طرف رخ نہ کیا۔دور افتادہ مقام میں قیام کے باوجود ہزاروں افراد آپ کی خدمت میں حاضری دیتے اوردلی مقصد حاصل کر کے واپس لوٹتے۔ سینکڑوں راہ ِطریقت کے سالک رتبۂ کمال کو پہنچے،خلعت خلافت سے مشرف ہوئے اور پھر پاک و ہند کے مختلف مقامات پر تبلیغ دین اور رشد و ہدایت کے کام پر مامور ہوئے۔آج بھی لاکھوں افراد آپ کے فیوض و برکات سے مستفید ہو رہے ہیں۔بڑھاپے میں بھی عبادت وریاضت کایہ عالم تھاکہ آپ ہر وقت یہاں تک کہ رات کو بھی جُبہ زیبِ تن رکھتے تھے۔ کسی نے سبب پوچھا تو فرمایا :"جِس طرح ملازم باوردی ڈیوٹی پر ہوتا ہے میں چاہتا ہوں کہ میرا ہر لمحہ یادِ خدا اور مخلوقِ خدا کی ہدایت میں باوردی لکھا جائے"۔
جانشین کو وصیت:
آپ نےوصال کے وقت اپنے جانشین خواجہ نظیر احمد نقشبندی کو وصیت فرمائی تھی کہ امیر اور غریب دونوں آپ کے پاس آئیں گے،اگر غریبوں کو باہر نکال دیا اورامیروں کو ترجیح دی تو میرا دل دُکھے گا، دونوں سے برابر سلوک کرنا۔
وصال:
آپ کاوصال بروز ہفتہ، 13 ذوالقعدہ 1361ھ، بمطابق 21 نومبر 1942ء، 120سال کی عمرمیں ہوا۔آپ کا مزار پر انوار "موہڑہ شریف" نزد کوہِ مری،ضلع راولپنڈی (پاکستان)میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-qasim-moharwi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد قاسم ۔ لقب: اواجی ۔ علاقہ موہڑہ شریف کی نسبت سے "موہڑوی"کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: جناب سلطان جیو خان علیہ الرحمہ ۔ آپ کا نسب سلاطینِ ایران کے کیانی خاندان سے ملتا ہے ۔ آپ کے جد امجد عہد عالمگیرمیں بر صغیر تشریف لائے ۔ آپ کے جد امجد اور والد گرامی کا معمول تھا کہ پنجاب سے سامان تجارت لے کر کشمیر جاتے اور راستے میں پہاڑی علاقوں میں تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرتے رہتے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کا سنِ ولادت تقریباً 1845ء ہے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت خواجہ صاحب کے والد ماجد بچپن میں ہی داغ مفارقت دے گئےتھے۔ہوش سنبھالنے پر والدہ ماجدہ نے تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا اور علوم دینیہ کی تحصیل کے لئے ہندوستان بھیجا جہاں آپ نے اس دور کے مشہور فضلاء سے استفادہ کیا اور تقریباً 1276ھ؍ 1860ء میں تکمیلِ علوم کے بعد واپس تشریف لائے اور راولپنڈی کے قریب موضع جگیوٹ میں دینی مدرسہ قائم کر کے تشنگانِ علوم دینیہ کو سیراب کرنے لگے۔آپ کا شمار اپنے وقت کےجیدعلماءِ کرام میں ہوتاتھا۔
بیعت وخلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں شیخِ کامل حضرت خواجہ نظام الدین نقشبندی کیانوی(کیاں شریف، آزاد کشمیر) کے دستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور خلافت سے سرفرازہوئے۔ آپ کا سلسلۂ طریقت بارہ واسطوں سے حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔
سیرت و خصائص:
ولیِ کامل،مرشدِ خلائق،عارفِ باللہ،غوثِ زماں ،قطبِ دوراں، تاجدارِ نقشبندیت، امیرِ شریعت، پیرِ طریقت حضرت خواجہ محمد قاسم نقشبندی موہڑوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ کشادہ پیشانی، نورانی چہرہ، بارعب شخصیت، اور چہرہ پر ایسی نورانیت کہ کوئی نگاہ بھردیکھنے کی تاب نہ رکھتاتھا۔انتہائی منکسرالمزاج اورخلیق تھے۔آپ رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے کامل نمونہ تھے۔آپ کاکوئی بھی عمل خلافِ سنت نہ ہوتا تھا۔اپنے مریدین ومتوسلین کی ایسی تربیت کرتے تھےکہ وہ بھی متبع شریعت بن جاتےتھے۔سینکڑوں ہند وا ورسکھ آپ کے اخلاقِ کریمانہ سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اور بے شمارفسق و فجور میں مبتلا افراد آپ کے فیض صحبت سے تقویٰ و پرہیز گاری کے پیکر بن گئے۔
مرشد کامل نے بیعت کے بعد خلافت سے نوازا اور موہڑہ شریف جیسے گنجان اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ میں قیام کا حکم دیا۔حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی قدس سرہ نے شیخ کے ارشاد کی تعمیل اس طرح کی ستر سال کا طویل عرصہ اسی جگہ عبادت و ریاضت اور خلق خدا کی راہنمائی میں بسر کیا اور سال میں ایک دفعہ مرشد کی خدمت میں حاضری دینے کے علاوہ کسی طرف رخ نہ کیا۔دور افتادہ مقام میں قیام کے باوجود ہزاروں افراد آپ کی خدمت میں حاضری دیتے اوردلی مقصد حاصل کر کے واپس لوٹتے۔ سینکڑوں راہ ِطریقت کے سالک رتبۂ کمال کو پہنچے،خلعت خلافت سے مشرف ہوئے اور پھر پاک و ہند کے مختلف مقامات پر تبلیغ دین اور رشد و ہدایت کے کام پر مامور ہوئے۔آج بھی لاکھوں افراد آپ کے فیوض و برکات سے مستفید ہو رہے ہیں۔بڑھاپے میں بھی عبادت وریاضت کایہ عالم تھاکہ آپ ہر وقت یہاں تک کہ رات کو بھی جُبہ زیبِ تن رکھتے تھے۔ کسی نے سبب پوچھا تو فرمایا :"جِس طرح ملازم باوردی ڈیوٹی پر ہوتا ہے میں چاہتا ہوں کہ میرا ہر لمحہ یادِ خدا اور مخلوقِ خدا کی ہدایت میں باوردی لکھا جائے"۔
جانشین کو وصیت:
آپ نےوصال کے وقت اپنے جانشین خواجہ نظیر احمد نقشبندی کو وصیت فرمائی تھی کہ امیر اور غریب دونوں آپ کے پاس آئیں گے،اگر غریبوں کو باہر نکال دیا اورامیروں کو ترجیح دی تو میرا دل دُکھے گا، دونوں سے برابر سلوک کرنا۔
وصال:
آپ کاوصال بروز ہفتہ، 13 ذوالقعدہ 1361ھ، بمطابق 21 نومبر 1942ء، 120سال کی عمرمیں ہوا۔آپ کا مزار پر انوار "موہڑہ شریف" نزد کوہِ مری،ضلع راولپنڈی (پاکستان)میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-qasim-moharwi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Qasim Moharwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-11-1444 ᴴ | 02-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-11-1444 ᴴ | 03-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1