حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی ۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے واسطے سے حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے، اس لئے آپ "صدیقی" ہیں ۔
آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے تھیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1060ھ، بمطابق 1650ء کو "قصبہ نگراؤں" شہر کاکوری ضلع لکھنؤ ہندوستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے وطن میں ہوئی ۔ دہلی کے اہلِ علم کا شہرہ سن کر آپ بقصد انصرام بقیہ تحصیل علم دہلی تشریف لائے ۔ دہلی میں آپ نے حضرت شیخ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا شہرہ فضل و کمال سنا، آپ نے چاہا کہ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے فیوض و برکات حاصل کروں، ایک دن آپ حضرت شیخ کی خانقاہ میں حاضر ہوئے ۔ دروازہ پر دستک دی، اس وقت مجلس سماع گرم تھی ۔ دروازہ بند تھا ۔
حضرت کا یہ دستور تھا کہ اجنبی شخص کو مجلس سماع میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ دستک کی آواز سن کر حضرت شیخ نے حاضرین میں سے ایک کو حکم دیا کہ دروازہ پر جا کر دیکھے کہ کون ہے، اس شخص نے آپ کا نام نامی و احوال گرامی معلوم کر کے حضرت شیخ سے جاکر عرض کیا، حضرت نے آپ کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ حاضرین کو تعجب ہوا، انہوں نے حضرت شیخ سے عرض کیا: "دخل اجنبی در مجلس سماع دستور حضور نیست" ۔ (اجنبی کو مجلس سماع میں داخل کرنا حضور کا دستور نہیں ہے) ۔ "ایں مرد عزیز است اجنبی نیست" ۔ (یہ شخص عزیز (آشنا) ہے غیر نہیں ہے) ۔
آپ جب حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آداب بجا لائے، حضرت شیخ نے آپ کے سلام کا جواب دیا اور آپ سے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، آپ نے عرض کیا کہ "تحصیل علم کی خواہش حضور کے قدموں میں لائی ہے" حضرت شیخ نے آپ کی درخواست منظور فرمائی اور آپ کو خدمت عالی میں رہنے کی اجازت دی ۔
بقیہ علوم کی تحصیل وتکمیل حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ سے ہوئی ۔
آپ کا شمار اپنے وقت کے عظیم اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
منبعِ علم و عرفاں، محدثِ وجد و پیماں، رازیِ گلستانِ نبوت، عمدۃ السالکین، امام العاشقین، برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کچھ عرصہ تک حضرت شیخ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری سے فارغ ہوئے ۔ پھر ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے اور بہت جلد درجۂ کمال کو پہنچے ـ
آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی نے دکن کی ولایت آپ کے سپرد فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اورنگ آباد میں جاکر مستقل سکونت اختیار کریں ۔
آپ اورنگ آباد میں تشریف لائے اور ذکر و فکر و مراقبہ میں مشغول رہے، تا دم واپسی رشد و ہدایت کرتے رہے ۔
آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے ۔ سنت رسول ﷺ کے سخت پابند تھے ۔ریاضت، مجاہدہ اور مراقبہ میں مشغول رہتےتھے ۔ جب آپ استغراق میں ہوتے تھے تو کسی بھی بے شغل شخص کو چاہے وہ آپ کا مرید ہی کیوں نہ ہو، نہیں پہچانتے تھے ۔ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔ ہر آنے والے کی کھڑے ہو کر تعظیم کرتے تھے ـ
آپ کا لباس سادہ اور معمولی ہوتا تھا ۔قیمتی کپڑا زیب تن نہیں فرماتے تھے ۔اکثر کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے ۔خوراک بہت کم تھی ۔ معمولی غذا پر اکتفا کرتے تھے ۔
ہر شخص کی جہاں تک ممکن ہوتا، حاجت پوری کرتے تھے ۔ چلتے وقت ہر شخص کو کچھ نہ کچھ دیتے جاتے، جمعہ کے علاوہ جو نذرانہ آتا، وہ آپ محتاجوں کو دے دیتے تھے ۔
علمی ذوق:
آپ نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں "نظام القلوب" آپ کی مشہور تصنیف ہے ۔ آپ کی انگوٹھی پر یہ عبارت کنداں تھی ۔ "ذکر مولیٰ از ہمہ اولیٰ "۔
وصال:
آپ کا وصال 12 ذوالقعدہ 1142ھ، بمطابق 28 مئی 1730ء بعمر 82 برس، بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار اورنگ آباد (انڈیا) میں مرجعِ عام و خاص ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیاء پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nizam-uddin-aorangh-abadi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی ۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے واسطے سے حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے، اس لئے آپ "صدیقی" ہیں ۔
آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے تھیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1060ھ، بمطابق 1650ء کو "قصبہ نگراؤں" شہر کاکوری ضلع لکھنؤ ہندوستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے وطن میں ہوئی ۔ دہلی کے اہلِ علم کا شہرہ سن کر آپ بقصد انصرام بقیہ تحصیل علم دہلی تشریف لائے ۔ دہلی میں آپ نے حضرت شیخ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا شہرہ فضل و کمال سنا، آپ نے چاہا کہ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے فیوض و برکات حاصل کروں، ایک دن آپ حضرت شیخ کی خانقاہ میں حاضر ہوئے ۔ دروازہ پر دستک دی، اس وقت مجلس سماع گرم تھی ۔ دروازہ بند تھا ۔
حضرت کا یہ دستور تھا کہ اجنبی شخص کو مجلس سماع میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ دستک کی آواز سن کر حضرت شیخ نے حاضرین میں سے ایک کو حکم دیا کہ دروازہ پر جا کر دیکھے کہ کون ہے، اس شخص نے آپ کا نام نامی و احوال گرامی معلوم کر کے حضرت شیخ سے جاکر عرض کیا، حضرت نے آپ کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ حاضرین کو تعجب ہوا، انہوں نے حضرت شیخ سے عرض کیا: "دخل اجنبی در مجلس سماع دستور حضور نیست" ۔ (اجنبی کو مجلس سماع میں داخل کرنا حضور کا دستور نہیں ہے) ۔ "ایں مرد عزیز است اجنبی نیست" ۔ (یہ شخص عزیز (آشنا) ہے غیر نہیں ہے) ۔
آپ جب حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آداب بجا لائے، حضرت شیخ نے آپ کے سلام کا جواب دیا اور آپ سے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، آپ نے عرض کیا کہ "تحصیل علم کی خواہش حضور کے قدموں میں لائی ہے" حضرت شیخ نے آپ کی درخواست منظور فرمائی اور آپ کو خدمت عالی میں رہنے کی اجازت دی ۔
بقیہ علوم کی تحصیل وتکمیل حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ سے ہوئی ۔
آپ کا شمار اپنے وقت کے عظیم اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
منبعِ علم و عرفاں، محدثِ وجد و پیماں، رازیِ گلستانِ نبوت، عمدۃ السالکین، امام العاشقین، برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کچھ عرصہ تک حضرت شیخ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری سے فارغ ہوئے ۔ پھر ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے اور بہت جلد درجۂ کمال کو پہنچے ـ
آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی نے دکن کی ولایت آپ کے سپرد فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اورنگ آباد میں جاکر مستقل سکونت اختیار کریں ۔
آپ اورنگ آباد میں تشریف لائے اور ذکر و فکر و مراقبہ میں مشغول رہے، تا دم واپسی رشد و ہدایت کرتے رہے ۔
آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے ۔ سنت رسول ﷺ کے سخت پابند تھے ۔ریاضت، مجاہدہ اور مراقبہ میں مشغول رہتےتھے ۔ جب آپ استغراق میں ہوتے تھے تو کسی بھی بے شغل شخص کو چاہے وہ آپ کا مرید ہی کیوں نہ ہو، نہیں پہچانتے تھے ۔ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔ ہر آنے والے کی کھڑے ہو کر تعظیم کرتے تھے ـ
آپ کا لباس سادہ اور معمولی ہوتا تھا ۔قیمتی کپڑا زیب تن نہیں فرماتے تھے ۔اکثر کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے ۔خوراک بہت کم تھی ۔ معمولی غذا پر اکتفا کرتے تھے ۔
ہر شخص کی جہاں تک ممکن ہوتا، حاجت پوری کرتے تھے ۔ چلتے وقت ہر شخص کو کچھ نہ کچھ دیتے جاتے، جمعہ کے علاوہ جو نذرانہ آتا، وہ آپ محتاجوں کو دے دیتے تھے ۔
علمی ذوق:
آپ نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں "نظام القلوب" آپ کی مشہور تصنیف ہے ۔ آپ کی انگوٹھی پر یہ عبارت کنداں تھی ۔ "ذکر مولیٰ از ہمہ اولیٰ "۔
وصال:
آپ کا وصال 12 ذوالقعدہ 1142ھ، بمطابق 28 مئی 1730ء بعمر 82 برس، بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار اورنگ آباد (انڈیا) میں مرجعِ عام و خاص ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیاء پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nizam-uddin-aorangh-abadi
scholars.pk
Sheikh Nizam Uddin Aorangh Abadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-11-1444 ᴴ | 02-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-11-1444 ᴴ | 02-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-11-1444 ᴴ | 02-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1