🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
و قتل کردیا جاتا تھا۔ شیخ یعقوب نے بادشاہ سے ملاقات کرنا چاہی اور اپنی کرامات اور خوارق کے اظہار سے بادشاہ کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ آپ نے شاہ طہما سپ کو اس بات پہ آمادہ کیا کہ وہ سنّیوں کے بے دریغ قتل سے اپنا ہاتھ روک لے۔ چنانچہ آپ کی نصیحت کا بڑا خوشگوار اثر ہوا۔ دور دراز ممالک کے سفر کے بعد آپ دوبار خطۂ کشمیر میں وارد ہوئے یہ وہ زمانہ تھا کہ وادی کشمیر میں مذہبی اور نظریاتی کش مکش زوروں پر تھی۔ مختلف علاقوں کے حکمران آپس میں جنگ و جدل میں مصروف رہتے تھے۔ مذہبی تعصّب سے ملک کا سکون تباہ ہوچکا تھا۔ آپ نے کوشش کی کہ ان حالات کو بدلا جائے اور حالات کو معمول پر لایا جائے۔ آپ کی کوششوں سے تمام کشمیر پر اکبر بادشاہ کا تسلّط ہوگیا۔ یعقوب خان جو بڑا متعصب رافضی تھا گرفتار ہوگیا۔مغل حکمرانوں کے عمل دخل نے کشمیر میں امن قائم کیا۔ خانہ جنگی ختم ہوگئی اور باہمی اتفاق کی فضاء قائم ہوئی۔ آپ تیسری بار خطۂ کشمیر سے نکلے اور حرمین الشریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ ایک سال بعد ایک بہت بڑا کتب خانہ جس میں احادیث اور تفاسیر کا خزینہ تھا اپنے ساتھ لائے خلق خدا کو پھر زیور علم و عرفان سے مالا مال کرنے لگے۔آپ کےکتب خانے میں پینسٹھ ہزار اہم مخطوطات اب بھی موجود ہیں۔آپ﷫نےپچیس سال کی عمر میں نکاح کیا،اور آپ کاایک فرزندمحمد یوسف نامی تولد ہوا،جو عہد شباب میں ہی رحلت کرگیا۔

امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی﷫ کی عقیدت: حضرت مجدد الفِ ثانی﷫کو آپ سےبہت عقیدت تھی،اور انہوں نےآپ سےکتبِ حدیث کا درس لیا،سند لی،اور آپ نےسلسلہ کبرویہ میں اجازت عطاء فرمائی[7]۔اسی سےآپ کی عظمت وعلمی مقام کااندازہ کیاجاسکتاہے،کہ حضرت امام ربانی جیسی عظیم شخصیت آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔

مولانا عبدالقادر بدایونی﷫اکابر علماء میں سےتھے۔اکبر بادشاہ کےقریب تھے۔’’منتخب التواریخ‘‘ کتاب مشہور ِزمانہ ہے۔مولانا بدایونی آپ کےہم عصر تھے۔وہ فرماتےہیں: حضرت صرفی﷫ اپنے وقت کی ممتاز ترین شخصیتوں سےمیں سےایک تھے۔تمام علوم،تفسیر ،حدیث، اور تصوف میں یگانۂ روزگارتھے۔بادشاہ اکبر اور ہمایوں دونوں شیخ صرفی﷫سےپوری عقیدت تھی،اور بہت تعظیم کیاکرتےتھے[8]۔

اسی طرح تمام مؤرخین،اور فضلاء متفق الرائے ہیں کہ حضرت شیخ صرفی﷫ کےپایۂ کا دوسرا فاضل، سرزمینِ کشمیر میں پیدانہیں ہوا۔آپ نےتصانیف کی صورت میں ایک اہم ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے۔جن میں سے تفسیر قرآن شریف نا مکمل،شرح صحیح بخاری،مغازی النبیﷺ،حاشیہ توضیح و تلویح،مسلک الاخیار،کتاب مناسکِ حج،روائح،وامق و عذرا، رسالہ اذکار،لیلیٰ مجنوں، مقاماتِ مرشد، جواہرِ خمسہ،شرح رباعیات،پنج گنج،خمسہ نظامی،کنزالجواہر،تفسیرپارۂ تبارک وعم،دیوانِ صرفی وغیرہ مشہور و معروف ہیں[9]۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروزجمعرات بعد نماز عشاء،12/ذیقعدہ1003ھ،مطابق 20/جولائی1595ءکوہوا۔آپ کامزار پرانوار محلہ’’ایشاں صاحب،سری نگر،مقبوضہ کشمیر‘‘میں مرجعِ خلائق ہے۔

[1] کشمیرمیں عام لوگ آپ کو’’حضرت ایشاں‘‘ کےنام سےجانتے ہیں۔آپ نے ایک عرصہ ترکستان میں گزارا وہاں یہ لفظ بطورِ تعظیم استعمال ہوتا ہے۔
[2] گنِائی عالم وفاضل شخص کو کہتےہیں۔
[3] مقدمہ دیوانِ صرفی
[4] خزینۃ الاصفیاء:323
[5] خزینۃ الاصفیاء:324/حدائق الحنفیہ:416
[6] خزینۃ الاصفیاء:324
[7] مقدمہ دیوانِ صرفی/سیرت مجدد الفِ ثانی۔از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد﷫
[8] مقدمہ دیوان صرفی۔
[9] حدائق الحنفیہ:415/خزینۃ الاصفیاء:325

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-yaqoob-sufi-kashmiri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی ۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے واسطے سے حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے، اس لئے آپ "صدیقی" ہیں ۔

آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے تھیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1060ھ، بمطابق 1650ء کو "قصبہ نگراؤں" شہر کاکوری ضلع لکھنؤ ہندوستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے وطن میں ہوئی ۔ دہلی کے اہلِ علم کا شہرہ سن کر آپ بقصد انصرام بقیہ تحصیل علم دہلی تشریف لائے ۔ دہلی میں آپ نے حضرت شیخ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا شہرہ فضل و کمال سنا، آپ نے چاہا کہ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے فیوض و برکات حاصل کروں، ایک دن آپ حضرت شیخ کی خانقاہ میں حاضر ہوئے ۔ دروازہ پر دستک دی، اس وقت مجلس سماع گرم تھی ۔ دروازہ بند تھا ۔

حضرت کا یہ دستور تھا کہ اجنبی شخص کو مجلس سماع میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ دستک کی آواز سن کر حضرت شیخ نے حاضرین میں سے ایک کو حکم دیا کہ دروازہ پر جا کر دیکھے کہ کون ہے، اس شخص نے آپ کا نام نامی و احوال گرامی معلوم کر کے حضرت شیخ سے جاکر عرض کیا، حضرت نے آپ کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ حاضرین کو تعجب ہوا، انہوں نے حضرت شیخ سے عرض کیا: "دخل اجنبی در مجلس سماع دستور حضور نیست" ۔ (اجنبی کو مجلس سماع میں داخل کرنا حضور کا دستور نہیں ہے) ۔ "ایں مرد عزیز است اجنبی نیست" ۔ (یہ شخص عزیز (آشنا) ہے غیر نہیں ہے) ۔

آپ جب حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آداب بجا لائے، حضرت شیخ نے آپ کے سلام کا جواب دیا اور آپ سے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، آپ نے عرض کیا کہ "تحصیل علم کی خواہش حضور کے قدموں میں لائی ہے" حضرت شیخ نے آپ کی درخواست منظور فرمائی اور آپ کو خدمت عالی میں رہنے کی اجازت دی ۔

بقیہ علوم کی تحصیل وتکمیل حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ سے ہوئی ۔

آپ کا شمار اپنے وقت کے عظیم اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
منبعِ علم و عرفاں، محدثِ وجد و پیماں، رازیِ گلستانِ نبوت، عمدۃ السالکین، امام العاشقین، برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کچھ عرصہ تک حضرت شیخ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری سے فارغ ہوئے ۔ پھر ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے اور بہت جلد درجۂ کمال کو پہنچے ـ

آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی نے دکن کی ولایت آپ کے سپرد فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اورنگ آباد میں جاکر مستقل سکونت اختیار کریں ۔

آپ اورنگ آباد میں تشریف لائے اور ذکر و فکر و مراقبہ میں مشغول رہے، تا دم واپسی رشد و ہدایت کرتے رہے ۔

آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے ۔ سنت رسول ﷺ کے سخت پابند تھے ۔ریاضت، مجاہدہ اور مراقبہ میں مشغول رہتےتھے ۔ جب آپ استغراق میں ہوتے تھے تو کسی بھی بے شغل شخص کو چاہے وہ آپ کا مرید ہی کیوں نہ ہو، نہیں پہچانتے تھے ۔ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔ ہر آنے والے کی کھڑے ہو کر تعظیم کرتے تھے ـ

آپ کا لباس سادہ اور معمولی ہوتا تھا ۔قیمتی کپڑا زیب تن نہیں فرماتے تھے ۔اکثر کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے ۔خوراک بہت کم تھی ۔ معمولی غذا پر اکتفا کرتے تھے ۔

ہر شخص کی جہاں تک ممکن ہوتا، حاجت پوری کرتے تھے ۔ چلتے وقت ہر شخص کو کچھ نہ کچھ دیتے جاتے، جمعہ کے علاوہ جو نذرانہ آتا، وہ آپ محتاجوں کو دے دیتے تھے ۔

علمی ذوق:
آپ نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں "نظام القلوب" آپ کی مشہور تصنیف ہے ۔ آپ کی انگوٹھی پر یہ عبارت کنداں تھی ۔ "ذکر مولیٰ از ہمہ اولیٰ "۔

وصال:
آپ کا وصال 12 ذوالقعدہ 1142ھ، بمطابق 28 مئی 1730ء بعمر 82 برس، بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار اورنگ آباد (انڈیا) میں مرجعِ عام و خاص ہے ۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیاء پاک و ہند ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nizam-uddin-aorangh-abadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-11-1444 ᴴ | 02-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-11-1444 ᴴ | 02-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-11-1444 ᴴ | 02-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1