یہ گفتگو ہورہی تھی کہ مولوی کرامت علی صاحب بھی گاڑی میں آگئے، اور گاڑی جلسہ گاہ میں دروازے پر رُکی، مگر وہ گاڑی سےاترے نہیں، لوگوں سے پوچھا کہ جن سے مناظرہ ہونے والا ہے، وہکون ہیں، اور کہاں ہیں؟ لوگوں نےحضرت شیخ العارفین کی طرف اشارہ کیا۔مولوی کرامت علی نےآپ کودیکھا اور دیکھتے ہی رہ گئے، اور گاڑی میں بیٹھے ہی بیٹھےکہا گاڑی واپس کی جائے۔یہ حضرت کارعب وہیبت تھا کہ ایسے خائف ہوئے کہ جلسہ گاہ میں قدم نہ رکھ سکے۔(سیرت فخرالعارفین جلداول:7)
آپ کی شخصیت کارعب ودبدبہ اس قدرتھاکہ مخالف مناظرکتابیں چھوڑکرفرارمیں عافیت سمجھتا۔آپ نےبدنامِ زمانہ کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘ کےردمیں ’’شرح الصدور‘‘تحریرفرمائی اور مولوی اسماعیل قتیل کاردبلیغ کیا۔یہ حقیقت ہےاسلامیانِ ہندمیں فرقہ واریت کی یہ سب سےپہلی اینٹ تھی،جس کےبعدمسلمان فرقہ واریت کی دلدل میں پھنستےگئے۔
آپیادگاراسلاف تھے۔آپ کوددیکھ کراکابرین اولیاء کی زندگی کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔آپ نے فرائض واجبات،سنن،مستحبات،نوافل کی ادائیگی میں کبھی سستی نہیں کی۔آپاکثردعافرماتےتھےکہ اےاللہ ایسی تونگری سےبچاناجوغفلت میں ڈال دے،اور ایسی غریبی سےبچانا جوتیر ی یاد سےغافل کردے۔آپ ہمیشہ سُستی وکاہلی کواپنےقریب نہیں آنےدیتےتھے۔فرماتےتھے کہ غفلت وسستی شریفوں کاشعار نہیں ہے۔شرافت ونجابت کی بقاء محنت وچُستی میں ہے۔سنتِ مصطفیٰﷺکاخاص اہتمام تھا۔پوری زندگی میں آپ سےکسی نےقہقہہ کی آواز نہیں سنی۔قدم ہمیشہ جماکر چلتےگویا کہ آپ کاچلنابھی ذکرفکرسےخالی نہیں ہوتاتھا۔
آپصاحبِ کشف وکرامات تھے۔بالخصوص لاعلاج مریض آپ کی دعاسےشفاء یاب ہوجایاکرتےتھے۔ آپ کاکشف ایسےہوتاتھاجیسےایک انسان دیکھ کربیان کرتاہے۔آپنےاپنی موت کادن وقت سب کچھ بیان کردیاتھا۔ایک دن فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کےحبیبﷺکاوصال ِ ظاہری پیر کےدن ہوا۔لہذا ہماراوصال بھی اتباع ِ حبیبﷺ میں پیرکےدن ہوگا۔یہی وجہ ہےکہ آپ نےوصال ِ باکمال سےقبل اپنےسفر ِ آخرت کےتمام انتظامات اور اس کااخراجات کابندوبست پہلےسےہی کردیاتھا۔کچھ دن قبل فرمایا ہمارا وقت قریب ہےمیری قبر خانقاہ کےساتھ والےتالاب کےشمالی گوشےمیں بنانا تاکہ آنےجانےوالوں کی خبر گیری کرتارہوں۔میرےبیٹے عبدالحی کی تعلیم ابھی نامکمل ہے،ان کوتعلیم مکمل کرنےدینا۔(کاش ! یہی فکرآج کےسجادگان کونصیب ہوتی، اب توحالات ایسےابترہیں کہ پیرصاحب کافرزند پیدا ہوتےہی ’’ولی عہد‘‘ بن جاتاہے،یہ ایک نئی اصطلاح نئی رائج ہوئی ہے۔اس کےلیےنہ علم کی ضرورت، اورنہ ہی عمل کی، پھرایسے’’مادرزاد‘‘اپنی جہالت پر پردہ ڈالنےکےلئےاپنی مجالس میں علم اور علماء کامذاق اڑاتےہیں۔اس وقت بڑی بڑی خانقاہوں کامشاہدہ کریں،جہاں ایک وقت میں قال اللہ،اور قال رسول اللہ کی صدائیں آتی تھیں،آج ان محلوں سےکتےبھونکنےکی آوازیں آتی ہیں،کمال ہےان عقیدت مندوں کے ایمان پر جوسب کچھ دین کے نام پرہوتا دیکھ کرپِیرکےپَیراور ہاتھ چوم رہے ہوتے ہیں، اورنذرانہ دےکران کی عیاشیوں کےسامان فراہم کررہےہوتےہیں۔اکابرین اولیاء اللہ تو اہل کواپنی مسند پربٹھاتےتھے،اس میں موروثی سلسلےکاتصور بھی نہیں ہے۔تونسویؔ غفرلہ)
آپنےایک دن فرمایاچھوٹےمیاں(صاحبزادہ عبدالحی)آج کل لکھنؤمیں مولانا فرنگی محل کےپاس تعلیم حاصل کررہےہیں، ہمارےوصال کےبعدہماراسجادہ،قلمدان،گدی شریف،عصاء،اورکتابیں وغیرہ ان کودےدینا،اوران سےکہ دیناکہ ہمارےمریدین کی خبرگیری کرتےرہیں۔ (مولاناکےاورصاحبزادےبھی موجودتھے،اگراپنےبیٹےکوہی سجادہ نشین منتخب کرنامقصودتھاتو انہیں کرلیتے،لیکن وہ اس معیارپرپورےنہیں اترتےتھے،یہی وجہ ہےکہ مولانا عبدالحی نےاہل سنت اور سلسلہ عالیہ کی ایسی خدمت فرمائی کہ جس کی مثال مشکل ہے)۔
وصال سےایک دن قبل اتوار کادن گزارکررات بھراپناحجرہ بندکرکےعبادت وریاضت میں مشغول رہے،صبح کاوقت ہواتوتازہ وضو کرکےتمام احباب کےہمراہ باجماعت نمازادافرمائی۔اس کےبعد ذکروفکر میں مشغول رہے،پھرفرمایا کیاسورج نکل آیاہے،مریدین نےعرض کی جوحضورتھوڑی دیر پہلےہی ظاہر ہواہے۔یہ سن کرانگشتِ شہادت آسمان کی جانب بلند کی اور لبوں پر حرکت وجنبش محسوس ہوئی کہ جیسے کچھ پڑھ رہےہوں،اسی حالت میں آپ کاوصال باکمال ہوگیا۔مولانا سید عبدالحی چاٹگامیآپ کےجانشین وفرزندتھے۔
تاریخِ وصال:
بروز پیر 12 ذیقعد 1302ھ، مطابق 24 اگست 1885ء کو واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزاز پر انوار موضع ’’قصبہ دیانگ‘‘ ضلع چاٹگام بنگلہ دیش میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ سیرت فخر العارفین ۔ انسائکلو پیڈیا اولیائے کرام جلد 5۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mukhlis-ul-rahman-chatgaami
آپ کی شخصیت کارعب ودبدبہ اس قدرتھاکہ مخالف مناظرکتابیں چھوڑکرفرارمیں عافیت سمجھتا۔آپ نےبدنامِ زمانہ کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘ کےردمیں ’’شرح الصدور‘‘تحریرفرمائی اور مولوی اسماعیل قتیل کاردبلیغ کیا۔یہ حقیقت ہےاسلامیانِ ہندمیں فرقہ واریت کی یہ سب سےپہلی اینٹ تھی،جس کےبعدمسلمان فرقہ واریت کی دلدل میں پھنستےگئے۔
آپیادگاراسلاف تھے۔آپ کوددیکھ کراکابرین اولیاء کی زندگی کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔آپ نے فرائض واجبات،سنن،مستحبات،نوافل کی ادائیگی میں کبھی سستی نہیں کی۔آپاکثردعافرماتےتھےکہ اےاللہ ایسی تونگری سےبچاناجوغفلت میں ڈال دے،اور ایسی غریبی سےبچانا جوتیر ی یاد سےغافل کردے۔آپ ہمیشہ سُستی وکاہلی کواپنےقریب نہیں آنےدیتےتھے۔فرماتےتھے کہ غفلت وسستی شریفوں کاشعار نہیں ہے۔شرافت ونجابت کی بقاء محنت وچُستی میں ہے۔سنتِ مصطفیٰﷺکاخاص اہتمام تھا۔پوری زندگی میں آپ سےکسی نےقہقہہ کی آواز نہیں سنی۔قدم ہمیشہ جماکر چلتےگویا کہ آپ کاچلنابھی ذکرفکرسےخالی نہیں ہوتاتھا۔
آپصاحبِ کشف وکرامات تھے۔بالخصوص لاعلاج مریض آپ کی دعاسےشفاء یاب ہوجایاکرتےتھے۔ آپ کاکشف ایسےہوتاتھاجیسےایک انسان دیکھ کربیان کرتاہے۔آپنےاپنی موت کادن وقت سب کچھ بیان کردیاتھا۔ایک دن فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کےحبیبﷺکاوصال ِ ظاہری پیر کےدن ہوا۔لہذا ہماراوصال بھی اتباع ِ حبیبﷺ میں پیرکےدن ہوگا۔یہی وجہ ہےکہ آپ نےوصال ِ باکمال سےقبل اپنےسفر ِ آخرت کےتمام انتظامات اور اس کااخراجات کابندوبست پہلےسےہی کردیاتھا۔کچھ دن قبل فرمایا ہمارا وقت قریب ہےمیری قبر خانقاہ کےساتھ والےتالاب کےشمالی گوشےمیں بنانا تاکہ آنےجانےوالوں کی خبر گیری کرتارہوں۔میرےبیٹے عبدالحی کی تعلیم ابھی نامکمل ہے،ان کوتعلیم مکمل کرنےدینا۔(کاش ! یہی فکرآج کےسجادگان کونصیب ہوتی، اب توحالات ایسےابترہیں کہ پیرصاحب کافرزند پیدا ہوتےہی ’’ولی عہد‘‘ بن جاتاہے،یہ ایک نئی اصطلاح نئی رائج ہوئی ہے۔اس کےلیےنہ علم کی ضرورت، اورنہ ہی عمل کی، پھرایسے’’مادرزاد‘‘اپنی جہالت پر پردہ ڈالنےکےلئےاپنی مجالس میں علم اور علماء کامذاق اڑاتےہیں۔اس وقت بڑی بڑی خانقاہوں کامشاہدہ کریں،جہاں ایک وقت میں قال اللہ،اور قال رسول اللہ کی صدائیں آتی تھیں،آج ان محلوں سےکتےبھونکنےکی آوازیں آتی ہیں،کمال ہےان عقیدت مندوں کے ایمان پر جوسب کچھ دین کے نام پرہوتا دیکھ کرپِیرکےپَیراور ہاتھ چوم رہے ہوتے ہیں، اورنذرانہ دےکران کی عیاشیوں کےسامان فراہم کررہےہوتےہیں۔اکابرین اولیاء اللہ تو اہل کواپنی مسند پربٹھاتےتھے،اس میں موروثی سلسلےکاتصور بھی نہیں ہے۔تونسویؔ غفرلہ)
آپنےایک دن فرمایاچھوٹےمیاں(صاحبزادہ عبدالحی)آج کل لکھنؤمیں مولانا فرنگی محل کےپاس تعلیم حاصل کررہےہیں، ہمارےوصال کےبعدہماراسجادہ،قلمدان،گدی شریف،عصاء،اورکتابیں وغیرہ ان کودےدینا،اوران سےکہ دیناکہ ہمارےمریدین کی خبرگیری کرتےرہیں۔ (مولاناکےاورصاحبزادےبھی موجودتھے،اگراپنےبیٹےکوہی سجادہ نشین منتخب کرنامقصودتھاتو انہیں کرلیتے،لیکن وہ اس معیارپرپورےنہیں اترتےتھے،یہی وجہ ہےکہ مولانا عبدالحی نےاہل سنت اور سلسلہ عالیہ کی ایسی خدمت فرمائی کہ جس کی مثال مشکل ہے)۔
وصال سےایک دن قبل اتوار کادن گزارکررات بھراپناحجرہ بندکرکےعبادت وریاضت میں مشغول رہے،صبح کاوقت ہواتوتازہ وضو کرکےتمام احباب کےہمراہ باجماعت نمازادافرمائی۔اس کےبعد ذکروفکر میں مشغول رہے،پھرفرمایا کیاسورج نکل آیاہے،مریدین نےعرض کی جوحضورتھوڑی دیر پہلےہی ظاہر ہواہے۔یہ سن کرانگشتِ شہادت آسمان کی جانب بلند کی اور لبوں پر حرکت وجنبش محسوس ہوئی کہ جیسے کچھ پڑھ رہےہوں،اسی حالت میں آپ کاوصال باکمال ہوگیا۔مولانا سید عبدالحی چاٹگامیآپ کےجانشین وفرزندتھے۔
تاریخِ وصال:
بروز پیر 12 ذیقعد 1302ھ، مطابق 24 اگست 1885ء کو واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزاز پر انوار موضع ’’قصبہ دیانگ‘‘ ضلع چاٹگام بنگلہ دیش میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ سیرت فخر العارفین ۔ انسائکلو پیڈیا اولیائے کرام جلد 5۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mukhlis-ul-rahman-chatgaami
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Mukhlis-ul-Rahman Chatgaami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ یعقوب صرفی کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت شیخ یعقوب۔لقب: حضرت ایشاں[1]،جامی ِثانی،صرفی۔خطۂ کشمیر کی نسبت سے’’کشمیری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مولانا شیخ یعقوب صرفی کشمیری بن شیخ حسن گنِائی[2] بن میر علی بن میر بایزیدعلیہم الرحمہ[3]۔آپکاخاندانی تعلق وادیِ کشمیر کےامراء میں سےہے۔اسی طرح آپ خود بھی امرائےسلطنت میں ایک اہم مقام پر فائز تھے[4]۔اسی طرح سلسلہ ٔنسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروق اعظمکےفرزندحضرت عاصمکی اولادسےہے۔اسی نسبت سےآپ’’عاصمی‘‘کہلاتےہیں۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 908ھ،مطابق 1502ء کو’’سری نگر‘‘کشمیر میں ہوئی[5]۔’’مقدمہ دیوانِ صرفی‘‘ میں آپ کی تاریخِ ولادت 928ھ/1522ء ہے۔
تحصیلِ علم: بچپن میں ہی ذہانت،تیز فہمی،اور سعادت مندی کےآثار آپ کی پیشانی سے ظاہر تھے۔سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل میں مصروف ہوگئے۔آٹھ سال کی قلیل عمر میں آپ نےفارسی زبان میں اشعار کہنا شروع کیے۔آپ کےوالد گرامی بھی ایک بلند پایہ فاضل تھے۔وہ آپ کےاشعار کی اصلاح کیا کرتےتھے۔چنانچہ آپ خودفرماتےہیں:
؏: چودر سال ہشتم نہادم قدم۔۔۔۔زطبعم رواں گشت شعر عجم۔۔۔۔پدر کردے اصلاح اشعار من۔۔۔۔دراں کار بودے مددگار من۔۔
آپنےبہت سارے اساتذہ جوا س وقت کی فاضل ترین ہستیوں میں شمار ہوتےتھے تحصیلِ علوم کیا۔ان میں مولانا شاہ محمد آنی(جو مولانا عبدالرحمن جامیکے شاگردِ رشید تھے،سیالکوٹ سےکشمیرتشریف لےگئے، اور پھر وہیں مقبرہ شیخ بہاء الدین گنج بخشمیں آرام فرماہیں)اوران کےعلاوہ حضرت اخوندملا بصیر سےبھی علمی استفادہ کیا۔اسی طرح حضرت شیخ المحدثین ابنِ حجر مکیسےسندِ حدیث حاصل کی۔آپ کی ذہانت وفطانت اور علمی صلاحیتوں کی بدولت آپ کےاستاد ملاآنی نے آپ کا اسم گرامی ’’جامیِ ثانی‘‘ رکھا[6]۔
بیعت وخلافت:آپ حضرت خواجہ حسن عاصمیکےخلیفہ تھے۔ آپ سید امیر کبیر ہمدانی کے اویسی تھے۔ آپ حضرت شیخ کمال الدین حسینی خوارزمی کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت ہوئے،اور انہیں کے حکم سے سمر قند پہنچے اور حضرت خواجہ حسین خوارزمی کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔
سیرت وخصائص: جامع کمالات ِ صوری ومعنوی،مظہر اسرار ربانی،مفخر اربابِ حقانی،الملقب امام اعظم ثانی،حضرت علامہ مولانا شیخ یعقوب صرفی کشمیری۔بڑے عالم فاضل،فقیہ، محدث جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔خطۂ کشمیر آپ کےانوار وفیوضات سےمنو رہے۔اس خطےمیں آپ نےرسول اللہﷺ کےدین کی بڑی خدمت فرمائی ہے۔لوگوں کودین سے روشناس کرایا۔ایک ایسی درگاہ کی بنیاد رکھی جہاں دور دراز علاقوں سے متلاشیانِ علم آکر علم حاصل کرتےتھے۔آپ کےاستاد محترم ملا آنی نے آپ کےغیر معمولی فہم وادراک، فصاحت وبلاغت، اور سخن گوئی میں مولانا جامی کارتبہ حاصل کرکے’’جامیِ ثانی‘‘کےلقب سےمشہور ہوجائیں گے۔آپ کی یہ پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔چنانچہ آپ خود فرماتےہیں۔؏: بعد خسرو بود جامی بلبل باغِ سخن۔۔۔۔۔کیست جز صرفی کنوں آں مرغ خوشخواں را عوض۔۔۔
تحصیلِ علم کے بعد ریاضت اور عبادت میں اس طرح مشغول ہوئے کہ اولیاء اللہ میں شمار ہونے لگے۔جب ابتداء ً تصوف کی طرف میلان ہوا توآپ کے والدین اور عزیزوں نے آپ کو ایسے امور سے روکنا چاہا۔ حضرت امیر کبیر ہمدانی نے ان لوگوں کو خواب میں متنبہ کرکے ایسےامور سےروک دیا۔ پھر حضرت یعقوب ہزاروں شوق کے ساتھ کشمیر سے عازمِ سمر قند ہوئے۔شیخ حسین خوارزمی کی خانقاہ کے دروازے کے باہر قیام کیا۔ شیخ حسین باطنی طور پر آپ کی آمد سے مطلع ہوچکے تھے۔ استقبال کے لیے تشریف لائے اور آپ کو ساتھ لے کر اندر آئے۔حضرت یعقوب صوفی نے گذارش کی حضور مجھے خانقاہ کی کسی خدمت پرمامور فرمائیں۔آپ کو مطبخ (باورچی خانہ)کے لیے لکڑیاں لانے اور وضو خانہ کی صفائی کےلیےمقرر کیا گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں تکمیل و تر تیب سے مراحل سے گزرے۔ خرقہِ خلافت عطا ہوا اور پھر کشمیر کی طرف واپس ہوئے۔آپ کشمیر پہنچے ہی تھے کہ علماء و صلحاء نے آپ کی مجلس کو حاضری سے بھر دیا۔ آپ کا فیض عام ہونے لگا۔ ارشاد و ہدایت کے دروازے کھل گئے۔ سالکین کی جماعتیں اور طالبین کے ہجوم جمع ہونے لگے۔
ایک عرصہ کے بعد آپ کے دل میں اپنے پیر و مرشد کی زیارت کا شوق اٹھا۔ اور آپ پھر سمر قند کو روانہ ہوئے۔وہاں سےرخصت پاکر مشہد، بغداد،ختلان، مکہ معظمہ،اور مدینۃ المنورہ میں کچھ عرصہ قیام رہا۔وہاں حضرت شیخ المحدثین حضرت ابن حجر مکی اور شیخ الاولیاء حضرت شیخ سلیم چشتی فتح پوری ملاقات ہوئی،ان سےسلسلہ عالیہ چشتیہ خرقۂ خلافت حاصل کیا۔اس سفر میں آپاپنے ساتھ بہت سارے تبرکات مختلف مقامات سےلائے،ان میں خصوصا جبہ شریف حضرت امام اعظم،حضرت امام علی رضا کاعصا مبارک، اور حضرت بایزید بسطامی کی کلاہ مبارک۔
ان دنوں ایران میں صفوی خاندان حکمران تھا۔ شیعہ لوگ سنّیوں کو چن چن کر تکلیفیں دیا کرتے تھے۔شاہ طہما سپ صفوی کے حکم سے سنّی علما ک
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت شیخ یعقوب۔لقب: حضرت ایشاں[1]،جامی ِثانی،صرفی۔خطۂ کشمیر کی نسبت سے’’کشمیری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مولانا شیخ یعقوب صرفی کشمیری بن شیخ حسن گنِائی[2] بن میر علی بن میر بایزیدعلیہم الرحمہ[3]۔آپکاخاندانی تعلق وادیِ کشمیر کےامراء میں سےہے۔اسی طرح آپ خود بھی امرائےسلطنت میں ایک اہم مقام پر فائز تھے[4]۔اسی طرح سلسلہ ٔنسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروق اعظمکےفرزندحضرت عاصمکی اولادسےہے۔اسی نسبت سےآپ’’عاصمی‘‘کہلاتےہیں۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 908ھ،مطابق 1502ء کو’’سری نگر‘‘کشمیر میں ہوئی[5]۔’’مقدمہ دیوانِ صرفی‘‘ میں آپ کی تاریخِ ولادت 928ھ/1522ء ہے۔
تحصیلِ علم: بچپن میں ہی ذہانت،تیز فہمی،اور سعادت مندی کےآثار آپ کی پیشانی سے ظاہر تھے۔سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل میں مصروف ہوگئے۔آٹھ سال کی قلیل عمر میں آپ نےفارسی زبان میں اشعار کہنا شروع کیے۔آپ کےوالد گرامی بھی ایک بلند پایہ فاضل تھے۔وہ آپ کےاشعار کی اصلاح کیا کرتےتھے۔چنانچہ آپ خودفرماتےہیں:
؏: چودر سال ہشتم نہادم قدم۔۔۔۔زطبعم رواں گشت شعر عجم۔۔۔۔پدر کردے اصلاح اشعار من۔۔۔۔دراں کار بودے مددگار من۔۔
آپنےبہت سارے اساتذہ جوا س وقت کی فاضل ترین ہستیوں میں شمار ہوتےتھے تحصیلِ علوم کیا۔ان میں مولانا شاہ محمد آنی(جو مولانا عبدالرحمن جامیکے شاگردِ رشید تھے،سیالکوٹ سےکشمیرتشریف لےگئے، اور پھر وہیں مقبرہ شیخ بہاء الدین گنج بخشمیں آرام فرماہیں)اوران کےعلاوہ حضرت اخوندملا بصیر سےبھی علمی استفادہ کیا۔اسی طرح حضرت شیخ المحدثین ابنِ حجر مکیسےسندِ حدیث حاصل کی۔آپ کی ذہانت وفطانت اور علمی صلاحیتوں کی بدولت آپ کےاستاد ملاآنی نے آپ کا اسم گرامی ’’جامیِ ثانی‘‘ رکھا[6]۔
بیعت وخلافت:آپ حضرت خواجہ حسن عاصمیکےخلیفہ تھے۔ آپ سید امیر کبیر ہمدانی کے اویسی تھے۔ آپ حضرت شیخ کمال الدین حسینی خوارزمی کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت ہوئے،اور انہیں کے حکم سے سمر قند پہنچے اور حضرت خواجہ حسین خوارزمی کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔
سیرت وخصائص: جامع کمالات ِ صوری ومعنوی،مظہر اسرار ربانی،مفخر اربابِ حقانی،الملقب امام اعظم ثانی،حضرت علامہ مولانا شیخ یعقوب صرفی کشمیری۔بڑے عالم فاضل،فقیہ، محدث جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔خطۂ کشمیر آپ کےانوار وفیوضات سےمنو رہے۔اس خطےمیں آپ نےرسول اللہﷺ کےدین کی بڑی خدمت فرمائی ہے۔لوگوں کودین سے روشناس کرایا۔ایک ایسی درگاہ کی بنیاد رکھی جہاں دور دراز علاقوں سے متلاشیانِ علم آکر علم حاصل کرتےتھے۔آپ کےاستاد محترم ملا آنی نے آپ کےغیر معمولی فہم وادراک، فصاحت وبلاغت، اور سخن گوئی میں مولانا جامی کارتبہ حاصل کرکے’’جامیِ ثانی‘‘کےلقب سےمشہور ہوجائیں گے۔آپ کی یہ پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔چنانچہ آپ خود فرماتےہیں۔؏: بعد خسرو بود جامی بلبل باغِ سخن۔۔۔۔۔کیست جز صرفی کنوں آں مرغ خوشخواں را عوض۔۔۔
تحصیلِ علم کے بعد ریاضت اور عبادت میں اس طرح مشغول ہوئے کہ اولیاء اللہ میں شمار ہونے لگے۔جب ابتداء ً تصوف کی طرف میلان ہوا توآپ کے والدین اور عزیزوں نے آپ کو ایسے امور سے روکنا چاہا۔ حضرت امیر کبیر ہمدانی نے ان لوگوں کو خواب میں متنبہ کرکے ایسےامور سےروک دیا۔ پھر حضرت یعقوب ہزاروں شوق کے ساتھ کشمیر سے عازمِ سمر قند ہوئے۔شیخ حسین خوارزمی کی خانقاہ کے دروازے کے باہر قیام کیا۔ شیخ حسین باطنی طور پر آپ کی آمد سے مطلع ہوچکے تھے۔ استقبال کے لیے تشریف لائے اور آپ کو ساتھ لے کر اندر آئے۔حضرت یعقوب صوفی نے گذارش کی حضور مجھے خانقاہ کی کسی خدمت پرمامور فرمائیں۔آپ کو مطبخ (باورچی خانہ)کے لیے لکڑیاں لانے اور وضو خانہ کی صفائی کےلیےمقرر کیا گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں تکمیل و تر تیب سے مراحل سے گزرے۔ خرقہِ خلافت عطا ہوا اور پھر کشمیر کی طرف واپس ہوئے۔آپ کشمیر پہنچے ہی تھے کہ علماء و صلحاء نے آپ کی مجلس کو حاضری سے بھر دیا۔ آپ کا فیض عام ہونے لگا۔ ارشاد و ہدایت کے دروازے کھل گئے۔ سالکین کی جماعتیں اور طالبین کے ہجوم جمع ہونے لگے۔
ایک عرصہ کے بعد آپ کے دل میں اپنے پیر و مرشد کی زیارت کا شوق اٹھا۔ اور آپ پھر سمر قند کو روانہ ہوئے۔وہاں سےرخصت پاکر مشہد، بغداد،ختلان، مکہ معظمہ،اور مدینۃ المنورہ میں کچھ عرصہ قیام رہا۔وہاں حضرت شیخ المحدثین حضرت ابن حجر مکی اور شیخ الاولیاء حضرت شیخ سلیم چشتی فتح پوری ملاقات ہوئی،ان سےسلسلہ عالیہ چشتیہ خرقۂ خلافت حاصل کیا۔اس سفر میں آپاپنے ساتھ بہت سارے تبرکات مختلف مقامات سےلائے،ان میں خصوصا جبہ شریف حضرت امام اعظم،حضرت امام علی رضا کاعصا مبارک، اور حضرت بایزید بسطامی کی کلاہ مبارک۔
ان دنوں ایران میں صفوی خاندان حکمران تھا۔ شیعہ لوگ سنّیوں کو چن چن کر تکلیفیں دیا کرتے تھے۔شاہ طہما سپ صفوی کے حکم سے سنّی علما ک
❤1👍1
و قتل کردیا جاتا تھا۔ شیخ یعقوب نے بادشاہ سے ملاقات کرنا چاہی اور اپنی کرامات اور خوارق کے اظہار سے بادشاہ کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ آپ نے شاہ طہما سپ کو اس بات پہ آمادہ کیا کہ وہ سنّیوں کے بے دریغ قتل سے اپنا ہاتھ روک لے۔ چنانچہ آپ کی نصیحت کا بڑا خوشگوار اثر ہوا۔ دور دراز ممالک کے سفر کے بعد آپ دوبار خطۂ کشمیر میں وارد ہوئے یہ وہ زمانہ تھا کہ وادی کشمیر میں مذہبی اور نظریاتی کش مکش زوروں پر تھی۔ مختلف علاقوں کے حکمران آپس میں جنگ و جدل میں مصروف رہتے تھے۔ مذہبی تعصّب سے ملک کا سکون تباہ ہوچکا تھا۔ آپ نے کوشش کی کہ ان حالات کو بدلا جائے اور حالات کو معمول پر لایا جائے۔ آپ کی کوششوں سے تمام کشمیر پر اکبر بادشاہ کا تسلّط ہوگیا۔ یعقوب خان جو بڑا متعصب رافضی تھا گرفتار ہوگیا۔مغل حکمرانوں کے عمل دخل نے کشمیر میں امن قائم کیا۔ خانہ جنگی ختم ہوگئی اور باہمی اتفاق کی فضاء قائم ہوئی۔ آپ تیسری بار خطۂ کشمیر سے نکلے اور حرمین الشریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ ایک سال بعد ایک بہت بڑا کتب خانہ جس میں احادیث اور تفاسیر کا خزینہ تھا اپنے ساتھ لائے خلق خدا کو پھر زیور علم و عرفان سے مالا مال کرنے لگے۔آپ کےکتب خانے میں پینسٹھ ہزار اہم مخطوطات اب بھی موجود ہیں۔آپنےپچیس سال کی عمر میں نکاح کیا،اور آپ کاایک فرزندمحمد یوسف نامی تولد ہوا،جو عہد شباب میں ہی رحلت کرگیا۔
امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی کی عقیدت: حضرت مجدد الفِ ثانیکو آپ سےبہت عقیدت تھی،اور انہوں نےآپ سےکتبِ حدیث کا درس لیا،سند لی،اور آپ نےسلسلہ کبرویہ میں اجازت عطاء فرمائی[7]۔اسی سےآپ کی عظمت وعلمی مقام کااندازہ کیاجاسکتاہے،کہ حضرت امام ربانی جیسی عظیم شخصیت آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔
مولانا عبدالقادر بدایونیاکابر علماء میں سےتھے۔اکبر بادشاہ کےقریب تھے۔’’منتخب التواریخ‘‘ کتاب مشہور ِزمانہ ہے۔مولانا بدایونی آپ کےہم عصر تھے۔وہ فرماتےہیں: حضرت صرفی اپنے وقت کی ممتاز ترین شخصیتوں سےمیں سےایک تھے۔تمام علوم،تفسیر ،حدیث، اور تصوف میں یگانۂ روزگارتھے۔بادشاہ اکبر اور ہمایوں دونوں شیخ صرفیسےپوری عقیدت تھی،اور بہت تعظیم کیاکرتےتھے[8]۔
اسی طرح تمام مؤرخین،اور فضلاء متفق الرائے ہیں کہ حضرت شیخ صرفی کےپایۂ کا دوسرا فاضل، سرزمینِ کشمیر میں پیدانہیں ہوا۔آپ نےتصانیف کی صورت میں ایک اہم ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے۔جن میں سے تفسیر قرآن شریف نا مکمل،شرح صحیح بخاری،مغازی النبیﷺ،حاشیہ توضیح و تلویح،مسلک الاخیار،کتاب مناسکِ حج،روائح،وامق و عذرا، رسالہ اذکار،لیلیٰ مجنوں، مقاماتِ مرشد، جواہرِ خمسہ،شرح رباعیات،پنج گنج،خمسہ نظامی،کنزالجواہر،تفسیرپارۂ تبارک وعم،دیوانِ صرفی وغیرہ مشہور و معروف ہیں[9]۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروزجمعرات بعد نماز عشاء،12/ذیقعدہ1003ھ،مطابق 20/جولائی1595ءکوہوا۔آپ کامزار پرانوار محلہ’’ایشاں صاحب،سری نگر،مقبوضہ کشمیر‘‘میں مرجعِ خلائق ہے۔
[1] کشمیرمیں عام لوگ آپ کو’’حضرت ایشاں‘‘ کےنام سےجانتے ہیں۔آپ نے ایک عرصہ ترکستان میں گزارا وہاں یہ لفظ بطورِ تعظیم استعمال ہوتا ہے۔
[2] گنِائی عالم وفاضل شخص کو کہتےہیں۔
[3] مقدمہ دیوانِ صرفی
[4] خزینۃ الاصفیاء:323
[5] خزینۃ الاصفیاء:324/حدائق الحنفیہ:416
[6] خزینۃ الاصفیاء:324
[7] مقدمہ دیوانِ صرفی/سیرت مجدد الفِ ثانی۔از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد
[8] مقدمہ دیوان صرفی۔
[9] حدائق الحنفیہ:415/خزینۃ الاصفیاء:325
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-yaqoob-sufi-kashmiri
امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی کی عقیدت: حضرت مجدد الفِ ثانیکو آپ سےبہت عقیدت تھی،اور انہوں نےآپ سےکتبِ حدیث کا درس لیا،سند لی،اور آپ نےسلسلہ کبرویہ میں اجازت عطاء فرمائی[7]۔اسی سےآپ کی عظمت وعلمی مقام کااندازہ کیاجاسکتاہے،کہ حضرت امام ربانی جیسی عظیم شخصیت آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔
مولانا عبدالقادر بدایونیاکابر علماء میں سےتھے۔اکبر بادشاہ کےقریب تھے۔’’منتخب التواریخ‘‘ کتاب مشہور ِزمانہ ہے۔مولانا بدایونی آپ کےہم عصر تھے۔وہ فرماتےہیں: حضرت صرفی اپنے وقت کی ممتاز ترین شخصیتوں سےمیں سےایک تھے۔تمام علوم،تفسیر ،حدیث، اور تصوف میں یگانۂ روزگارتھے۔بادشاہ اکبر اور ہمایوں دونوں شیخ صرفیسےپوری عقیدت تھی،اور بہت تعظیم کیاکرتےتھے[8]۔
اسی طرح تمام مؤرخین،اور فضلاء متفق الرائے ہیں کہ حضرت شیخ صرفی کےپایۂ کا دوسرا فاضل، سرزمینِ کشمیر میں پیدانہیں ہوا۔آپ نےتصانیف کی صورت میں ایک اہم ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے۔جن میں سے تفسیر قرآن شریف نا مکمل،شرح صحیح بخاری،مغازی النبیﷺ،حاشیہ توضیح و تلویح،مسلک الاخیار،کتاب مناسکِ حج،روائح،وامق و عذرا، رسالہ اذکار،لیلیٰ مجنوں، مقاماتِ مرشد، جواہرِ خمسہ،شرح رباعیات،پنج گنج،خمسہ نظامی،کنزالجواہر،تفسیرپارۂ تبارک وعم،دیوانِ صرفی وغیرہ مشہور و معروف ہیں[9]۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروزجمعرات بعد نماز عشاء،12/ذیقعدہ1003ھ،مطابق 20/جولائی1595ءکوہوا۔آپ کامزار پرانوار محلہ’’ایشاں صاحب،سری نگر،مقبوضہ کشمیر‘‘میں مرجعِ خلائق ہے۔
[1] کشمیرمیں عام لوگ آپ کو’’حضرت ایشاں‘‘ کےنام سےجانتے ہیں۔آپ نے ایک عرصہ ترکستان میں گزارا وہاں یہ لفظ بطورِ تعظیم استعمال ہوتا ہے۔
[2] گنِائی عالم وفاضل شخص کو کہتےہیں۔
[3] مقدمہ دیوانِ صرفی
[4] خزینۃ الاصفیاء:323
[5] خزینۃ الاصفیاء:324/حدائق الحنفیہ:416
[6] خزینۃ الاصفیاء:324
[7] مقدمہ دیوانِ صرفی/سیرت مجدد الفِ ثانی۔از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد
[8] مقدمہ دیوان صرفی۔
[9] حدائق الحنفیہ:415/خزینۃ الاصفیاء:325
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-yaqoob-sufi-kashmiri
scholars.pk
Sheikh Yaqoob
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی ۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے واسطے سے حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے، اس لئے آپ "صدیقی" ہیں ۔
آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے تھیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1060ھ، بمطابق 1650ء کو "قصبہ نگراؤں" شہر کاکوری ضلع لکھنؤ ہندوستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے وطن میں ہوئی ۔ دہلی کے اہلِ علم کا شہرہ سن کر آپ بقصد انصرام بقیہ تحصیل علم دہلی تشریف لائے ۔ دہلی میں آپ نے حضرت شیخ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا شہرہ فضل و کمال سنا، آپ نے چاہا کہ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے فیوض و برکات حاصل کروں، ایک دن آپ حضرت شیخ کی خانقاہ میں حاضر ہوئے ۔ دروازہ پر دستک دی، اس وقت مجلس سماع گرم تھی ۔ دروازہ بند تھا ۔
حضرت کا یہ دستور تھا کہ اجنبی شخص کو مجلس سماع میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ دستک کی آواز سن کر حضرت شیخ نے حاضرین میں سے ایک کو حکم دیا کہ دروازہ پر جا کر دیکھے کہ کون ہے، اس شخص نے آپ کا نام نامی و احوال گرامی معلوم کر کے حضرت شیخ سے جاکر عرض کیا، حضرت نے آپ کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ حاضرین کو تعجب ہوا، انہوں نے حضرت شیخ سے عرض کیا: "دخل اجنبی در مجلس سماع دستور حضور نیست" ۔ (اجنبی کو مجلس سماع میں داخل کرنا حضور کا دستور نہیں ہے) ۔ "ایں مرد عزیز است اجنبی نیست" ۔ (یہ شخص عزیز (آشنا) ہے غیر نہیں ہے) ۔
آپ جب حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آداب بجا لائے، حضرت شیخ نے آپ کے سلام کا جواب دیا اور آپ سے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، آپ نے عرض کیا کہ "تحصیل علم کی خواہش حضور کے قدموں میں لائی ہے" حضرت شیخ نے آپ کی درخواست منظور فرمائی اور آپ کو خدمت عالی میں رہنے کی اجازت دی ۔
بقیہ علوم کی تحصیل وتکمیل حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ سے ہوئی ۔
آپ کا شمار اپنے وقت کے عظیم اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
منبعِ علم و عرفاں، محدثِ وجد و پیماں، رازیِ گلستانِ نبوت، عمدۃ السالکین، امام العاشقین، برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کچھ عرصہ تک حضرت شیخ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری سے فارغ ہوئے ۔ پھر ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے اور بہت جلد درجۂ کمال کو پہنچے ـ
آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی نے دکن کی ولایت آپ کے سپرد فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اورنگ آباد میں جاکر مستقل سکونت اختیار کریں ۔
آپ اورنگ آباد میں تشریف لائے اور ذکر و فکر و مراقبہ میں مشغول رہے، تا دم واپسی رشد و ہدایت کرتے رہے ۔
آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے ۔ سنت رسول ﷺ کے سخت پابند تھے ۔ریاضت، مجاہدہ اور مراقبہ میں مشغول رہتےتھے ۔ جب آپ استغراق میں ہوتے تھے تو کسی بھی بے شغل شخص کو چاہے وہ آپ کا مرید ہی کیوں نہ ہو، نہیں پہچانتے تھے ۔ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔ ہر آنے والے کی کھڑے ہو کر تعظیم کرتے تھے ـ
آپ کا لباس سادہ اور معمولی ہوتا تھا ۔قیمتی کپڑا زیب تن نہیں فرماتے تھے ۔اکثر کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے ۔خوراک بہت کم تھی ۔ معمولی غذا پر اکتفا کرتے تھے ۔
ہر شخص کی جہاں تک ممکن ہوتا، حاجت پوری کرتے تھے ۔ چلتے وقت ہر شخص کو کچھ نہ کچھ دیتے جاتے، جمعہ کے علاوہ جو نذرانہ آتا، وہ آپ محتاجوں کو دے دیتے تھے ۔
علمی ذوق:
آپ نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں "نظام القلوب" آپ کی مشہور تصنیف ہے ۔ آپ کی انگوٹھی پر یہ عبارت کنداں تھی ۔ "ذکر مولیٰ از ہمہ اولیٰ "۔
وصال:
آپ کا وصال 12 ذوالقعدہ 1142ھ، بمطابق 28 مئی 1730ء بعمر 82 برس، بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار اورنگ آباد (انڈیا) میں مرجعِ عام و خاص ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیاء پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nizam-uddin-aorangh-abadi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی ۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے واسطے سے حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے، اس لئے آپ "صدیقی" ہیں ۔
آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے تھیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1060ھ، بمطابق 1650ء کو "قصبہ نگراؤں" شہر کاکوری ضلع لکھنؤ ہندوستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے وطن میں ہوئی ۔ دہلی کے اہلِ علم کا شہرہ سن کر آپ بقصد انصرام بقیہ تحصیل علم دہلی تشریف لائے ۔ دہلی میں آپ نے حضرت شیخ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا شہرہ فضل و کمال سنا، آپ نے چاہا کہ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے فیوض و برکات حاصل کروں، ایک دن آپ حضرت شیخ کی خانقاہ میں حاضر ہوئے ۔ دروازہ پر دستک دی، اس وقت مجلس سماع گرم تھی ۔ دروازہ بند تھا ۔
حضرت کا یہ دستور تھا کہ اجنبی شخص کو مجلس سماع میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ دستک کی آواز سن کر حضرت شیخ نے حاضرین میں سے ایک کو حکم دیا کہ دروازہ پر جا کر دیکھے کہ کون ہے، اس شخص نے آپ کا نام نامی و احوال گرامی معلوم کر کے حضرت شیخ سے جاکر عرض کیا، حضرت نے آپ کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ حاضرین کو تعجب ہوا، انہوں نے حضرت شیخ سے عرض کیا: "دخل اجنبی در مجلس سماع دستور حضور نیست" ۔ (اجنبی کو مجلس سماع میں داخل کرنا حضور کا دستور نہیں ہے) ۔ "ایں مرد عزیز است اجنبی نیست" ۔ (یہ شخص عزیز (آشنا) ہے غیر نہیں ہے) ۔
آپ جب حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آداب بجا لائے، حضرت شیخ نے آپ کے سلام کا جواب دیا اور آپ سے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، آپ نے عرض کیا کہ "تحصیل علم کی خواہش حضور کے قدموں میں لائی ہے" حضرت شیخ نے آپ کی درخواست منظور فرمائی اور آپ کو خدمت عالی میں رہنے کی اجازت دی ۔
بقیہ علوم کی تحصیل وتکمیل حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ سے ہوئی ۔
آپ کا شمار اپنے وقت کے عظیم اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
منبعِ علم و عرفاں، محدثِ وجد و پیماں، رازیِ گلستانِ نبوت، عمدۃ السالکین، امام العاشقین، برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کچھ عرصہ تک حضرت شیخ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری سے فارغ ہوئے ۔ پھر ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے اور بہت جلد درجۂ کمال کو پہنچے ـ
آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی نے دکن کی ولایت آپ کے سپرد فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اورنگ آباد میں جاکر مستقل سکونت اختیار کریں ۔
آپ اورنگ آباد میں تشریف لائے اور ذکر و فکر و مراقبہ میں مشغول رہے، تا دم واپسی رشد و ہدایت کرتے رہے ۔
آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے ۔ سنت رسول ﷺ کے سخت پابند تھے ۔ریاضت، مجاہدہ اور مراقبہ میں مشغول رہتےتھے ۔ جب آپ استغراق میں ہوتے تھے تو کسی بھی بے شغل شخص کو چاہے وہ آپ کا مرید ہی کیوں نہ ہو، نہیں پہچانتے تھے ۔ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔ ہر آنے والے کی کھڑے ہو کر تعظیم کرتے تھے ـ
آپ کا لباس سادہ اور معمولی ہوتا تھا ۔قیمتی کپڑا زیب تن نہیں فرماتے تھے ۔اکثر کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے ۔خوراک بہت کم تھی ۔ معمولی غذا پر اکتفا کرتے تھے ۔
ہر شخص کی جہاں تک ممکن ہوتا، حاجت پوری کرتے تھے ۔ چلتے وقت ہر شخص کو کچھ نہ کچھ دیتے جاتے، جمعہ کے علاوہ جو نذرانہ آتا، وہ آپ محتاجوں کو دے دیتے تھے ۔
علمی ذوق:
آپ نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں "نظام القلوب" آپ کی مشہور تصنیف ہے ۔ آپ کی انگوٹھی پر یہ عبارت کنداں تھی ۔ "ذکر مولیٰ از ہمہ اولیٰ "۔
وصال:
آپ کا وصال 12 ذوالقعدہ 1142ھ، بمطابق 28 مئی 1730ء بعمر 82 برس، بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار اورنگ آباد (انڈیا) میں مرجعِ عام و خاص ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیاء پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nizam-uddin-aorangh-abadi
scholars.pk
Sheikh Nizam Uddin Aorangh Abadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-11-1444 ᴴ | 02-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1