Forwarded from چینل صدائے حق
صدرالافاضل کا جواب سن کر پنڈت فرار ہو گیا
پیشکش: سید وقاص
مرادآباد بازار چوک میں آریہ مبلغ روزانہ اسلام کے خلاف تقریریں کرتے تھے۔ حضرت صدرالافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ بانی جامعہ نعیمیہ مرادآباد قلعہ والی مسجد سے جمعہ پڑھا کر واپس آرہے تھے، دیکھا کہ آریہ اعتراض کر رہا ہے اور شاہی مدرسہ کے ایک مدرس مولوی قدرت اللہ جواب دے رہے ہیں۔ اور جب مکمل جواب نہ دے سکے تو عاجز ہو کر فرار ہو گئے۔ اور آریہ نے تالی بجا دی کہ مولوی صاحب عاجز ہو کر بھاگ گئے۔ میرے اعتراض کا جواب نہ دے سکے۔ اس پر صدرالافاضل نے فرمایا:
پنڈت جی!
اعتراض کیا ہے مجھے بتائیے میں جواب دیتا ہوں۔ اس نے بڑی تعلی سے کہا کہ آپ کے مولوی صاحب جواب نہ دے سکے تو آپ کیا جواب دیں گے۔ آپ نے کہا آپ اعتراض تو کیجیے پھر دیکھیے کہ تسلی بخش جواب آپ کو ملتا ہے کہ نہیں! اس نے اعتراض کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا ہوتا ہے اور تمہارے پیغمبرحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے زید کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا، حضور صدر الافاضل علیہ الرحمہ نے دلائل وبراہین سے ثابت کیا کہ کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے حقیقت نہیں بدلتی اور حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ اور حقیقت میں بیٹا وہ ہوتا ہے جو کسی کے نطفہ سے پیدا ہو۔ مگر وہ پنڈت نہ مانا اور اس نے کہا میں نہیں مانتا۔ آپ نے فرمایا میں تمہیں ابھی منوائے دیتا ہوں۔
مجمع کو مخاطب کرکے فرمایا "یہ پنڈت میرا بیٹا ہے لہذا پنڈت جی کے قول کے مطابق یہ میرے حقیقی بیٹے ہو گئے اور حقیقی بیٹے کی بیوی باپ پر حرام اور اس کی ماں اس پر حلال ہوتی ہے۔ تو ان کی ماں میرے لیے حلال ہو گئی۔ پنڈٹ یہ سن کر بوکھلا گیا اور کہنے لگا تم مجھے گالی دیتے ہو۔ صدرالافاضل نے فرمایا: میرا مدعا ثابت ہوا تو خود اس کو گالی تسلیم کرتا ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ پنڈت مبہوت ہو کر کہنے لگا پہلے تمہارا مولوی چلا گیا تھا اب میں چلتا ہوں۔
(حیات صدر الافاضل ص:11،10)
پیشکش: سید وقاص
مرادآباد بازار چوک میں آریہ مبلغ روزانہ اسلام کے خلاف تقریریں کرتے تھے۔ حضرت صدرالافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ بانی جامعہ نعیمیہ مرادآباد قلعہ والی مسجد سے جمعہ پڑھا کر واپس آرہے تھے، دیکھا کہ آریہ اعتراض کر رہا ہے اور شاہی مدرسہ کے ایک مدرس مولوی قدرت اللہ جواب دے رہے ہیں۔ اور جب مکمل جواب نہ دے سکے تو عاجز ہو کر فرار ہو گئے۔ اور آریہ نے تالی بجا دی کہ مولوی صاحب عاجز ہو کر بھاگ گئے۔ میرے اعتراض کا جواب نہ دے سکے۔ اس پر صدرالافاضل نے فرمایا:
پنڈت جی!
اعتراض کیا ہے مجھے بتائیے میں جواب دیتا ہوں۔ اس نے بڑی تعلی سے کہا کہ آپ کے مولوی صاحب جواب نہ دے سکے تو آپ کیا جواب دیں گے۔ آپ نے کہا آپ اعتراض تو کیجیے پھر دیکھیے کہ تسلی بخش جواب آپ کو ملتا ہے کہ نہیں! اس نے اعتراض کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا ہوتا ہے اور تمہارے پیغمبرحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے زید کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا، حضور صدر الافاضل علیہ الرحمہ نے دلائل وبراہین سے ثابت کیا کہ کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے حقیقت نہیں بدلتی اور حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ اور حقیقت میں بیٹا وہ ہوتا ہے جو کسی کے نطفہ سے پیدا ہو۔ مگر وہ پنڈت نہ مانا اور اس نے کہا میں نہیں مانتا۔ آپ نے فرمایا میں تمہیں ابھی منوائے دیتا ہوں۔
مجمع کو مخاطب کرکے فرمایا "یہ پنڈت میرا بیٹا ہے لہذا پنڈت جی کے قول کے مطابق یہ میرے حقیقی بیٹے ہو گئے اور حقیقی بیٹے کی بیوی باپ پر حرام اور اس کی ماں اس پر حلال ہوتی ہے۔ تو ان کی ماں میرے لیے حلال ہو گئی۔ پنڈٹ یہ سن کر بوکھلا گیا اور کہنے لگا تم مجھے گالی دیتے ہو۔ صدرالافاضل نے فرمایا: میرا مدعا ثابت ہوا تو خود اس کو گالی تسلیم کرتا ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ پنڈت مبہوت ہو کر کہنے لگا پہلے تمہارا مولوی چلا گیا تھا اب میں چلتا ہوں۔
(حیات صدر الافاضل ص:11،10)
Forwarded from چینل صدائے حق
📚نثر المرجان فی رسم نظم القرآن
مصنف :- غیاث الملۃ والدین مولوی محمد غوث ابن ناصر الدین مدراسی
آپ علیہ الرحمہ نے استخارہ کیا کہ بحر العلوم علامہ عبد العلی فرنگی محلی سے استفادہ کروں یا نہ کروں؟ خواب میں سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے اور آب زمزم اتنا پلایا کہ حلق تک آگیا اور سمجھ گیے کہ استفادہ کی اجازت مل گئی ہے صبح اٹھے تو حلق میں زمزم شریف کا مزہ موجود تھا. مختصر یہ کہ آپ نے "بحر العلوم" سے استفادہ کیا اور ایک ایسی کتاب لکھی کہ چودہ سو سال میں اس موضوع پر اتنی جامع کتاب کسی نے نہ لکھی آج بھی پوری دنیا میں یہ کتاب سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے.
ملخصا. ممتاز علماے فرنگی محل
📝حسن نوری گونڈوی
مصنف :- غیاث الملۃ والدین مولوی محمد غوث ابن ناصر الدین مدراسی
آپ علیہ الرحمہ نے استخارہ کیا کہ بحر العلوم علامہ عبد العلی فرنگی محلی سے استفادہ کروں یا نہ کروں؟ خواب میں سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے اور آب زمزم اتنا پلایا کہ حلق تک آگیا اور سمجھ گیے کہ استفادہ کی اجازت مل گئی ہے صبح اٹھے تو حلق میں زمزم شریف کا مزہ موجود تھا. مختصر یہ کہ آپ نے "بحر العلوم" سے استفادہ کیا اور ایک ایسی کتاب لکھی کہ چودہ سو سال میں اس موضوع پر اتنی جامع کتاب کسی نے نہ لکھی آج بھی پوری دنیا میں یہ کتاب سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے.
ملخصا. ممتاز علماے فرنگی محل
📝حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
پانی کس طرح پیئں
برتن منہ سے علیحدہ کرکے سانس لے تاکہ تھوک یا رینٹ پانی میں نہ پڑے،نیز سانس میں اندر کی گرمی اور زہریلا مادہ ہوتا ہے جو پانی میں مل کر بیماری پیدا کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ چائے وغیرہ گرم چیز میں پھونکیں مارنا منع ہے۔
📚 مراۃ المناجیح
📝حسن نوری گونڈوی
برتن منہ سے علیحدہ کرکے سانس لے تاکہ تھوک یا رینٹ پانی میں نہ پڑے،نیز سانس میں اندر کی گرمی اور زہریلا مادہ ہوتا ہے جو پانی میں مل کر بیماری پیدا کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ چائے وغیرہ گرم چیز میں پھونکیں مارنا منع ہے۔
📚 مراۃ المناجیح
📝حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
ہجرت دو قسم ہے: عامہ و خاصہ۔ عامہ یہ کہ تمام اہل وطن ترکِ وطن کرکے چلے جائیں۔ اور خاصہ یہ کہ خاص اشخاص، پہلے ہجرت دارالحرب سے ہر مسلمان پر فرض ہے، جس کا بیان آیہ کریمہ _
ان الذین توفّٰھم الملٰئکۃ ظالمی انفسھم_ ۱؎الآیۃ
میں ہے، اس سے صرف عورتیں اور بچے اور عاجز مرد جو نکل نہیں سکتے مستثنٰی ہیں، جس کا ذکر اس کے متصل دوسری آیہ کریمہ_ الاالمستضعفین _۲؎الآیۃ میں ہے،
باقی سب پر فرض ہے *جوباوصفِ قدرت دارالحرب میں سکونت رکھے اور ہجرت نہ کرے مستحقِ عذاب ہے،*
*رہا دارالاسلام اس سے ہجرتِ عامہ حرام ہے* کہ اس میں مساجد کی ویرانی وبے حرمتی، قبور مسلمین کی بربادی، عورتوں بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی
اور(دار الاسلام) *ہجرت خاصہ میں تین صورتیں ہیں،* اگر کوئی شخص کسی وجہ خاص سے کسی مقام خاص میں اپنے فرائض دینیہ بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائے،
اور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں اٹھ جائے اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں، وعلٰی ہذا لقیاس۔
*دوسرے وہ کہ* یہاں اپنے فرائض مذہبی بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دارالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہے،
*یا وہ عالم* جس سے بڑھ کر اس شہر میں عالم نہ ہو اسے بھی حرام ہے-
*تیسرے وہ کہ* نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجت، اسے اختیار ہے رہے یاچلاجائے جو اس کی مصلحت سے ہو، یہ تفصیل دارالاسلام میں ہے،
اب آپ اپنی حالت کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ آپ کو ہجرت جائز یا واجب یاحرام ہے۔وﷲ تعالٰی اعلم۔
ان الذین توفّٰھم الملٰئکۃ ظالمی انفسھم_ ۱؎الآیۃ
میں ہے، اس سے صرف عورتیں اور بچے اور عاجز مرد جو نکل نہیں سکتے مستثنٰی ہیں، جس کا ذکر اس کے متصل دوسری آیہ کریمہ_ الاالمستضعفین _۲؎الآیۃ میں ہے،
باقی سب پر فرض ہے *جوباوصفِ قدرت دارالحرب میں سکونت رکھے اور ہجرت نہ کرے مستحقِ عذاب ہے،*
*رہا دارالاسلام اس سے ہجرتِ عامہ حرام ہے* کہ اس میں مساجد کی ویرانی وبے حرمتی، قبور مسلمین کی بربادی، عورتوں بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی
اور(دار الاسلام) *ہجرت خاصہ میں تین صورتیں ہیں،* اگر کوئی شخص کسی وجہ خاص سے کسی مقام خاص میں اپنے فرائض دینیہ بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائے،
اور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں اٹھ جائے اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں، وعلٰی ہذا لقیاس۔
*دوسرے وہ کہ* یہاں اپنے فرائض مذہبی بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دارالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہے،
*یا وہ عالم* جس سے بڑھ کر اس شہر میں عالم نہ ہو اسے بھی حرام ہے-
*تیسرے وہ کہ* نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجت، اسے اختیار ہے رہے یاچلاجائے جو اس کی مصلحت سے ہو، یہ تفصیل دارالاسلام میں ہے،
اب آپ اپنی حالت کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ آپ کو ہجرت جائز یا واجب یاحرام ہے۔وﷲ تعالٰی اعلم۔
Forwarded from چینل صدائے حق
دشمن دیں کے مرنے پر اظہار مسرت
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قتل ابوجہل کی خبر سن کر سجدۂ شکر ادا کیا جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔خیال رہے کہ اپنے جانی مالی دشمن کے فوت ہونے پر خوشی منانا ممنوع ہے۔اگر بمرد عدو جائے شادمانی نیست کہ زندگانی مانیز جاودانی نیستمگر قومی دینی ملکی دشمن کے مرجانے پر شکر کرنا سنت ہے۔عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ اسی لیے سنت ہے کہ اس دن فرعون غرق ہوا ہے۔ دینی دشمن کے مرجانے سے مخلوق خدا اس کے فساد سے محفوظ ہوجاتی ہے.
📚 مراۃ المناجیح جلد پنجم
📝 حسن نوری گونڈوی
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قتل ابوجہل کی خبر سن کر سجدۂ شکر ادا کیا جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔خیال رہے کہ اپنے جانی مالی دشمن کے فوت ہونے پر خوشی منانا ممنوع ہے۔اگر بمرد عدو جائے شادمانی نیست کہ زندگانی مانیز جاودانی نیستمگر قومی دینی ملکی دشمن کے مرجانے پر شکر کرنا سنت ہے۔عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ اسی لیے سنت ہے کہ اس دن فرعون غرق ہوا ہے۔ دینی دشمن کے مرجانے سے مخلوق خدا اس کے فساد سے محفوظ ہوجاتی ہے.
📚 مراۃ المناجیح جلد پنجم
📝 حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
ثواب پہنچتا ہے
حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
"دیکھو ہماری کتاب"فہرست القرآن"۔ اشعۃ للمعات میں اسی جگہ ہے کہ شیخ عزیز الدین عبدالسلام کو کسی نے ان کی موت کے بعد خواب میں دیکھا فرمایا ہم دنیا میں تلاوت قرآن کے ثواب پہنچنے کے منکر تھے مگر اس جہاں میں آکر پتہ لگا کہ اس کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔
📚 مراۃ المناجیح جلد سوم
📝حسن نوری گونڈوی
حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
"دیکھو ہماری کتاب"فہرست القرآن"۔ اشعۃ للمعات میں اسی جگہ ہے کہ شیخ عزیز الدین عبدالسلام کو کسی نے ان کی موت کے بعد خواب میں دیکھا فرمایا ہم دنیا میں تلاوت قرآن کے ثواب پہنچنے کے منکر تھے مگر اس جہاں میں آکر پتہ لگا کہ اس کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔
📚 مراۃ المناجیح جلد سوم
📝حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
*علم دین فرض عین ہے*
یاد رہے علم دین *وہ علم ہے* کہ اس میں شکست کھانے والا بھی کوشش کرنے کا ثواب پا لیتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ *اس علم میں* فیل ہونے والا بھی کثیر نیکیاں حاصل کرلیتا ہے جو بعض وقت پاس ہونے والا نہیں لے پاتا.
ہمیں علم دین سیکھنے سکھانے میں کوئی شرم نہیں کرنی چاہیے، بلکہ تجربہ یہ ہے کہ زیادہ غلطی کرنے والا زیادہ سیکھتا ہے، اور غلطی کے بعد جو اصلاح ہوتی ہے اس سے اس کا علم مزید پختہ ہوجاتا ہے.
اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فقیر نے ایک خوبصورت سلسلہ شروع کر دیا ہے. آپ بھی تشریف لائیں، مسلمانوں کو اس میں جوائن کروائیں اور علم کے ساتھ ثواب بھی کمائیں،
*WhatsApp*
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
*Telegram*
https://t.me/+PqvRcZ4qAuRH2meI
📝حسن نوری گونڈوی
یاد رہے علم دین *وہ علم ہے* کہ اس میں شکست کھانے والا بھی کوشش کرنے کا ثواب پا لیتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ *اس علم میں* فیل ہونے والا بھی کثیر نیکیاں حاصل کرلیتا ہے جو بعض وقت پاس ہونے والا نہیں لے پاتا.
ہمیں علم دین سیکھنے سکھانے میں کوئی شرم نہیں کرنی چاہیے، بلکہ تجربہ یہ ہے کہ زیادہ غلطی کرنے والا زیادہ سیکھتا ہے، اور غلطی کے بعد جو اصلاح ہوتی ہے اس سے اس کا علم مزید پختہ ہوجاتا ہے.
اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فقیر نے ایک خوبصورت سلسلہ شروع کر دیا ہے. آپ بھی تشریف لائیں، مسلمانوں کو اس میں جوائن کروائیں اور علم کے ساتھ ثواب بھی کمائیں،
*WhatsApp*
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
*Telegram*
https://t.me/+PqvRcZ4qAuRH2meI
📝حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
*کیا زوال مکروہ وقت ہے؟*
ایک غلط فہمی کا ازالہ
1) ایک ہے شرعی دن، جو صبح صادق سے غروب آفتاب تک مانا جاتا ہے
2) دوسرا ہے عرفی دن، جو طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک مانا جاتا ہے
اس سے واضح ہوا کہ شرعی دن عرفی دن سے بڑا ہے، اب شرعی دن آدھا کریں. *مثلاً آج صبح صادق چار بجے صبح صادق ہوا اور سات بجے سورج ڈوبا تو شرعی دن کل پندرہ گھنٹے کا ہوا* اب اسے آدھا کریں تو ساڑھے گیارہ بجے نصف نصف ہو جاے گا اس سے معلوم ہوا کہ آج "ضحو کبری یعنی نصف النہار شرعی" ساڑھے گیارہ بجے ہوا اور یہیں سے مکروہ وقت شروع ہوا اسی طرح عرفی دن کا آدھا کریں تو اس سے "نصف النہار عرفی نکلے گا
تو جان لیجیے مکروہ وقت نصف النہار شرعی سے شروع ہو کر نصف النہار عرفی پر ختم ہوتا ہے،
✅ اور زوال مکروہ وقت نہیں بلکہ وہیں سے جائز وقت یعنی ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے.
ان شاء اللہ علم سیکھیں گے سکھائیں گے، کسی بھائی کو نہ سمجھ آیا ہو تو الحمدللہ سمجھانے کو تیار ہوں
📝 حسن نوری گونڈوی
ایک غلط فہمی کا ازالہ
1) ایک ہے شرعی دن، جو صبح صادق سے غروب آفتاب تک مانا جاتا ہے
2) دوسرا ہے عرفی دن، جو طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک مانا جاتا ہے
اس سے واضح ہوا کہ شرعی دن عرفی دن سے بڑا ہے، اب شرعی دن آدھا کریں. *مثلاً آج صبح صادق چار بجے صبح صادق ہوا اور سات بجے سورج ڈوبا تو شرعی دن کل پندرہ گھنٹے کا ہوا* اب اسے آدھا کریں تو ساڑھے گیارہ بجے نصف نصف ہو جاے گا اس سے معلوم ہوا کہ آج "ضحو کبری یعنی نصف النہار شرعی" ساڑھے گیارہ بجے ہوا اور یہیں سے مکروہ وقت شروع ہوا اسی طرح عرفی دن کا آدھا کریں تو اس سے "نصف النہار عرفی نکلے گا
تو جان لیجیے مکروہ وقت نصف النہار شرعی سے شروع ہو کر نصف النہار عرفی پر ختم ہوتا ہے،
✅ اور زوال مکروہ وقت نہیں بلکہ وہیں سے جائز وقت یعنی ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے.
ان شاء اللہ علم سیکھیں گے سکھائیں گے، کسی بھائی کو نہ سمجھ آیا ہو تو الحمدللہ سمجھانے کو تیار ہوں
📝 حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
--------سلسلہ نمبر7------------
📝 حسن نوری دوآبہ وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
-----------------------------------
26) بعض لوگ ابوجہل کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا کہتے ہیں جبکہ ابوجہل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا نہیں
📚 فتاوی شارح بخاری اول ص 354اور ص 411
*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
26) امام اہلسنت سیدی اعلیحضرت رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں
📚 کنزالایمان کوئز
*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
27) ثعلبہ بن ابی حاطب انصاری مومن تھے
📚 فتاوی شارح بخاری دوم ص 41
*کیا آپ کو معلوم ہے*
28)، انبیاء کرام علیہم السلام شہید کیے گئے ہیں نہ کہ رسل علیھم السلام
📚 فتاوی شارح بخاری اول ص 367 الملفوظ کامل
*جاری ہے*
-----------9/5/2017-------------
جوائن فیس بک پیج
https://www.facebook.com/SADAEHAQE786/
ٹیلیگرام چینل جوائن کریں
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
--------سلسلہ نمبر7------------
📝 حسن نوری دوآبہ وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
-----------------------------------
26) بعض لوگ ابوجہل کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا کہتے ہیں جبکہ ابوجہل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا نہیں
📚 فتاوی شارح بخاری اول ص 354اور ص 411
*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
26) امام اہلسنت سیدی اعلیحضرت رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں
📚 کنزالایمان کوئز
*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
27) ثعلبہ بن ابی حاطب انصاری مومن تھے
📚 فتاوی شارح بخاری دوم ص 41
*کیا آپ کو معلوم ہے*
28)، انبیاء کرام علیہم السلام شہید کیے گئے ہیں نہ کہ رسل علیھم السلام
📚 فتاوی شارح بخاری اول ص 367 الملفوظ کامل
*جاری ہے*
-----------9/5/2017-------------
جوائن فیس بک پیج
https://www.facebook.com/SADAEHAQE786/
ٹیلیگرام چینل جوائن کریں
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
Forwarded from چینل صدائے حق
ابوجہل کے مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ثابت نہیں جبکہ نصرۃ الواعظین میں سرکار شیر بیشہ اہلسنت نے اسے بیان فرمایا ہے آپ بھی مطالعہ کریں
Forwarded from چینل صدائے حق
ابوجہل کے مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا یہ واقعہ نصرۃ الواعظین. مثنوی شریف میں بھی ہے
Forwarded from چینل صدائے حق
*روز بدر امت محمدیہ کا فرعون ابوجہل* کو عظیم صحابیہ سیدہ عفراء رضی اللہ عنہا کے بیٹوں نے قتل کیا، جن کا نام معاذ اور معوذ ہے.(سرِ ابوجہل کو سیدنا عبداللہ بن مسعود نے کاٹا تھا رضی اللہ عنہ) یہ حارث بن رفاعہ کے بیٹے تھے، بدر میں تین سگے اور چار اخیافی بھائی شریک تھے (یعنی سیدہ عفراء کے سات بیٹے شرکاء بدر سے ہیں) خطبا بڑے زور شور سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ و معوذ چھوٹے چھوٹے بچے تھے جو ابوجہل تک نہیں پہنچ پا رہے تھے، پہلے اس کی سواری کی کونچیں کاٹیں بعدہ اسے قتل کیا، کوئی کہتا ہے کہ وہ اٹھ دس سال کے تھے تو کوئی اس کے ساتھ اور بھی عجیب و غریب باتیں شامل کرتا ہے.
اے لوگو! جان لو کہ یہ حضرات نوجوان تھے حتی سیدنا معوذ جو بدر میں شہید بھی ہوے ان کی بیٹی سیدہ ربیع بنت معوذ کی شادی بدر کے بعد ہوئی اب آپ بھی ذرا سوچیے جو شادی شدہ بلکہ صاحب اولاد تھے حتی کی جن کی جوان بیٹی سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا تھیں انہیں چھوٹے چھوٹے بچے کہہ کر بیان کیا جاتا ہے، خطبا نے بہت سے واقعات میں نمک مرچ لگا کر اس کی اصل شبیہ بگاڑ دی ہے لہذا پڑھیں پڑھنے کی ترغیب دیں
📝حسن نوری گونڈوی
اے لوگو! جان لو کہ یہ حضرات نوجوان تھے حتی سیدنا معوذ جو بدر میں شہید بھی ہوے ان کی بیٹی سیدہ ربیع بنت معوذ کی شادی بدر کے بعد ہوئی اب آپ بھی ذرا سوچیے جو شادی شدہ بلکہ صاحب اولاد تھے حتی کی جن کی جوان بیٹی سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا تھیں انہیں چھوٹے چھوٹے بچے کہہ کر بیان کیا جاتا ہے، خطبا نے بہت سے واقعات میں نمک مرچ لگا کر اس کی اصل شبیہ بگاڑ دی ہے لہذا پڑھیں پڑھنے کی ترغیب دیں
📝حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
دشمن دیں کے مرنے پر اظہار مسرت
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قتل ابوجہل کی خبر سن کر سجدۂ شکر ادا کیا جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔خیال رہے کہ اپنے جانی مالی دشمن کے فوت ہونے پر خوشی منانا ممنوع ہے۔اگر بمرد عدو جائے شادمانی نیست کہ زندگانی مانیز جاودانی نیستمگر قومی دینی ملکی دشمن کے مرجانے پر شکر کرنا سنت ہے۔عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ اسی لیے سنت ہے کہ اس دن فرعون غرق ہوا ہے۔ دینی دشمن کے مرجانے سے مخلوق خدا اس کے فساد سے محفوظ ہوجاتی ہے.
📚 مراۃ المناجیح جلد پنجم
📝 حسن نوری گونڈوی
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قتل ابوجہل کی خبر سن کر سجدۂ شکر ادا کیا جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔خیال رہے کہ اپنے جانی مالی دشمن کے فوت ہونے پر خوشی منانا ممنوع ہے۔اگر بمرد عدو جائے شادمانی نیست کہ زندگانی مانیز جاودانی نیستمگر قومی دینی ملکی دشمن کے مرجانے پر شکر کرنا سنت ہے۔عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ اسی لیے سنت ہے کہ اس دن فرعون غرق ہوا ہے۔ دینی دشمن کے مرجانے سے مخلوق خدا اس کے فساد سے محفوظ ہوجاتی ہے.
📚 مراۃ المناجیح جلد پنجم
📝 حسن نوری گونڈوی
حضرت مولانا شاہ مخلص الرحمن چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت مولانا سید شاہ مخلص الرحمن۔لقب:جہانگیرشاہ،شیخ العارفین،بانیِ سلسلہ جہانگیریہ۔
سلسلۂ نسب:
مولانا شاہ مخلص الرحمن بن مولانا سید غلام علی علیہما الرحمہ۔مولاناسیدغلام علیسادات وعلاقائی شرفاء میں سےتھے۔سلسلہ ٔ معاش وکالت،اور زمینداری سےتھا۔آپ کےجد اعلیٰ سرزمین عرب سےوارد ہندوستان ہوئے۔ملازمت شاہی کےسلسلہ میں کافی عرصےتک دہلی میں رہے۔جب سلاطین دیلی نےفتوحات کارخ بنگال کی طرف موڑا اور مسلمانوں کےلشکرکےہاتھوں یہاں اسلام کاجھنڈانصب ہوا، تو اس لشکر کےساتھ ساداتِ بنی فاطمہ کےدوبزرگ بھی تھے۔وہ چاٹگام میں ہی میں آباد ہوگئے۔بےشمار غیرمسلم اقوام ان کےہاتھوں مشرف بااسلام ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نےان کی نسل میں ایسی برکت رکھی کہ بستیاں آبادہوگئیں،یہ دونوں بزرگ آج بھی بڑےمیاں اور چھوٹے میاں کےنام سےمعروف ِ زمانہ ہیں۔(سیرتِ فخرالعارفین جلد اول:4)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر1229ھ مطابق 1814ءکوموضع ’’مرزاکھیل شریف‘‘ ضلع چاٹگام موجودہ بنگلہ دیش میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں والد کےزیرِسایہ ہوئی۔عربی وفارسی کی تکمیل کرنےکےبعد مزید حصول علم کےلیےکلکتہ کےاسلامی مراکز میں داخلہ لیااوربقیہ کتب کی تکمیل وہیں ہوئی۔
بیعت و خلافت:
علوم ِظاہری کی تکمیل کےبعد آپ کا طبعی میلان علوم باطنیہ کی طرف بڑھااور سینےمیں محبت الہی کاجوش مارنےلگی۔توآپ کسی شیخ کامل کی تلاش میں کلکتہ سےلکھنؤ میں مولانا برہان الدین فرنگی محلی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا ایک جید عالم دین ہونےکےساتھ عارف ِ کامل بھی تھے۔مولانابڑی محبت سےپیش آئے،اوراچھی طرح مہمان نوازی کرنےکےبعد فرمایاکہ آپ کاحصہ میرےپاس نہیں ہے۔آپ یہاں سےبھاگل پور میں حضرت سید امدادعلی شاہکی خدمت میں چلےجائیں،جب مولانا کلکتہ سےلکھنؤکےلیےروانہ ہوئے، تومولانا فرنگی محلی نےحزب البحر پڑھنےپڑھانےکی اجازت عنایت فرمائی۔بھاگل پورمیں پہنچ کرحضرت سید امداد علی شاہسےدستِ بیعت ہوئے،سلوک کی منازل طےکرنےلگے۔اسی دوران اپنےدادا مرشد حضرت خواجہ محمد مہدی شاہ چشتی قادریکی خدمت میں بھی سلوک کی منازل طےفرمائیں۔جب واپس بھاگل پور پہنچےتومرشد نےدستار خلافت عطاء فرماکرصاحبِ ارشاد ومجاز فرماکر طریقت میں آپ کو’’جہانگیر شاہ‘‘کا لقب عطاء فرمایا،اور واپس اپنےوطن کی طرف روانہ کردیا۔(سیرت فخرالعارفین جلد اول)
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، برہان العارفین، دلیل الواصلین، شیخ العارفین حضرت علامہ مولانا سید مخلص الرحمن چشتی قادری جہانگیری چاٹگامی۔آپسلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ جہانگیریہ کےبانی ہیں۔ایک جید عالم دین اور عارف ِ کامل تھے۔آپنےچاٹگام میں ایک عالی شان درس گاہ قائم فرمائی جہاں دوردراز سےتشنگان ِعلم علومِ مصطفیٰﷺسےسیراب ہوتےتھے۔اسی طرح ایک خانقاہ قائم فرمائی جہاں مئے وحدت کےجام پلائے جاتےتھے۔آپ کی ذاتِ مبارکہ سےاہل سنت کوبہت فروغ حاصل ہوا۔آپچونکہ عالم وعارف تھےاس لیےوقت کےبڑےبڑےعلماء مسائل پوچھنےکےلئےآپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔حافظہ اس قدر قوی تھا کہ ایک کتاب کااگر سرسری مطالعہ کرلیاتو ازبرہوجاتی تھی۔جہاں آپ اپنےوقت کےایک بہترین مدرس تھےوہاں ایک بہترین مناظر بھی تھے۔
مناظرہ:
ایک مرتبہ مولوی کرامت اللہ جون پوری(جون پوری صاحب کی تصانیف کودیکھ کراندازہ ہوتاہےکہ آپ عقائدمیں تذبذب کاشکارتھے۔کسی کتاب میں معمولاتِ اہل سنت کی تاکید،اور دوسری کتاب میں مخالفت،بعض مرتبہ ایک ہی کتاب میں یہ مَناظر ملتےہیں، مثلاً آپ کی ایک کتاب ’’مراد المریدین‘‘ہے اس کےصفحہ نمبر8پرمیلادشریف کی تاکید ہے،اسی طرح صفحہ نمبر9پرآپﷺکوحاضر ناظرلکھاہے، 12 پرآپﷺکونور، اورآپ کےنورسےکائنات کی تخلیق ہوئی تحریرکیاہے۔ یہ عقائدتو وہابیوں میں شرک وکفرہیں،تونسوی) چاٹگام میں آئے،انھوں نےایصال ثواب،اور بزرگان دین کےاعراس وفاتحہ کےمسائل میں معمولات اہل سنت کےخلاف تقریر بازی شروع کردی،شہر میں ان باتوں کاچرچاپھیلا، مسلمانوں میں اضطراب پیداہونےلگا۔مولوی ابوالحسن کی درخواست پر آپ شہر تشریف لےگئے، اور’’قدم مبارک‘‘والی مسجد میں قیام فرمایا۔یہ خبر پورےشہر میں پھیل گئی، عوام کی کثیر تعداد’’لال ڈیگی‘‘ کےسامنے بڑےمیدان میں جمع ہوگئے،اسی جگہ مناظرہ طے پایا۔ انگریز حکام نےانتظاماً پولیس تعینات کردی، انتظامیہ کےاہم افرادجلسہ گاہ میں موجود رہے۔مولوی کرامت علی نےگاڑی بھر کرکتابیں پہلےسےہی جلسہ گاہ میں پہنچادیں،اور کتابوں کاڈھیرلگادیا۔ جسےدیکھ کربعض افراد نے حضرت شاہ مخلص الرحمن سے پوچھ لیا کہ حضرت مد مقابل مولوی صاحب تو کتابوں کا ڈھیر لایا ہے، اور آپ کی کتابیں کہاں ہیں؟ آپ نےفرمایا مولوی صاحب کا علم کتابوں میں اور ہمارا علم سینےمیں ہے۔
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت مولانا سید شاہ مخلص الرحمن۔لقب:جہانگیرشاہ،شیخ العارفین،بانیِ سلسلہ جہانگیریہ۔
سلسلۂ نسب:
مولانا شاہ مخلص الرحمن بن مولانا سید غلام علی علیہما الرحمہ۔مولاناسیدغلام علیسادات وعلاقائی شرفاء میں سےتھے۔سلسلہ ٔ معاش وکالت،اور زمینداری سےتھا۔آپ کےجد اعلیٰ سرزمین عرب سےوارد ہندوستان ہوئے۔ملازمت شاہی کےسلسلہ میں کافی عرصےتک دہلی میں رہے۔جب سلاطین دیلی نےفتوحات کارخ بنگال کی طرف موڑا اور مسلمانوں کےلشکرکےہاتھوں یہاں اسلام کاجھنڈانصب ہوا، تو اس لشکر کےساتھ ساداتِ بنی فاطمہ کےدوبزرگ بھی تھے۔وہ چاٹگام میں ہی میں آباد ہوگئے۔بےشمار غیرمسلم اقوام ان کےہاتھوں مشرف بااسلام ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نےان کی نسل میں ایسی برکت رکھی کہ بستیاں آبادہوگئیں،یہ دونوں بزرگ آج بھی بڑےمیاں اور چھوٹے میاں کےنام سےمعروف ِ زمانہ ہیں۔(سیرتِ فخرالعارفین جلد اول:4)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر1229ھ مطابق 1814ءکوموضع ’’مرزاکھیل شریف‘‘ ضلع چاٹگام موجودہ بنگلہ دیش میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں والد کےزیرِسایہ ہوئی۔عربی وفارسی کی تکمیل کرنےکےبعد مزید حصول علم کےلیےکلکتہ کےاسلامی مراکز میں داخلہ لیااوربقیہ کتب کی تکمیل وہیں ہوئی۔
بیعت و خلافت:
علوم ِظاہری کی تکمیل کےبعد آپ کا طبعی میلان علوم باطنیہ کی طرف بڑھااور سینےمیں محبت الہی کاجوش مارنےلگی۔توآپ کسی شیخ کامل کی تلاش میں کلکتہ سےلکھنؤ میں مولانا برہان الدین فرنگی محلی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا ایک جید عالم دین ہونےکےساتھ عارف ِ کامل بھی تھے۔مولانابڑی محبت سےپیش آئے،اوراچھی طرح مہمان نوازی کرنےکےبعد فرمایاکہ آپ کاحصہ میرےپاس نہیں ہے۔آپ یہاں سےبھاگل پور میں حضرت سید امدادعلی شاہکی خدمت میں چلےجائیں،جب مولانا کلکتہ سےلکھنؤکےلیےروانہ ہوئے، تومولانا فرنگی محلی نےحزب البحر پڑھنےپڑھانےکی اجازت عنایت فرمائی۔بھاگل پورمیں پہنچ کرحضرت سید امداد علی شاہسےدستِ بیعت ہوئے،سلوک کی منازل طےکرنےلگے۔اسی دوران اپنےدادا مرشد حضرت خواجہ محمد مہدی شاہ چشتی قادریکی خدمت میں بھی سلوک کی منازل طےفرمائیں۔جب واپس بھاگل پور پہنچےتومرشد نےدستار خلافت عطاء فرماکرصاحبِ ارشاد ومجاز فرماکر طریقت میں آپ کو’’جہانگیر شاہ‘‘کا لقب عطاء فرمایا،اور واپس اپنےوطن کی طرف روانہ کردیا۔(سیرت فخرالعارفین جلد اول)
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، برہان العارفین، دلیل الواصلین، شیخ العارفین حضرت علامہ مولانا سید مخلص الرحمن چشتی قادری جہانگیری چاٹگامی۔آپسلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ جہانگیریہ کےبانی ہیں۔ایک جید عالم دین اور عارف ِ کامل تھے۔آپنےچاٹگام میں ایک عالی شان درس گاہ قائم فرمائی جہاں دوردراز سےتشنگان ِعلم علومِ مصطفیٰﷺسےسیراب ہوتےتھے۔اسی طرح ایک خانقاہ قائم فرمائی جہاں مئے وحدت کےجام پلائے جاتےتھے۔آپ کی ذاتِ مبارکہ سےاہل سنت کوبہت فروغ حاصل ہوا۔آپچونکہ عالم وعارف تھےاس لیےوقت کےبڑےبڑےعلماء مسائل پوچھنےکےلئےآپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔حافظہ اس قدر قوی تھا کہ ایک کتاب کااگر سرسری مطالعہ کرلیاتو ازبرہوجاتی تھی۔جہاں آپ اپنےوقت کےایک بہترین مدرس تھےوہاں ایک بہترین مناظر بھی تھے۔
مناظرہ:
ایک مرتبہ مولوی کرامت اللہ جون پوری(جون پوری صاحب کی تصانیف کودیکھ کراندازہ ہوتاہےکہ آپ عقائدمیں تذبذب کاشکارتھے۔کسی کتاب میں معمولاتِ اہل سنت کی تاکید،اور دوسری کتاب میں مخالفت،بعض مرتبہ ایک ہی کتاب میں یہ مَناظر ملتےہیں، مثلاً آپ کی ایک کتاب ’’مراد المریدین‘‘ہے اس کےصفحہ نمبر8پرمیلادشریف کی تاکید ہے،اسی طرح صفحہ نمبر9پرآپﷺکوحاضر ناظرلکھاہے، 12 پرآپﷺکونور، اورآپ کےنورسےکائنات کی تخلیق ہوئی تحریرکیاہے۔ یہ عقائدتو وہابیوں میں شرک وکفرہیں،تونسوی) چاٹگام میں آئے،انھوں نےایصال ثواب،اور بزرگان دین کےاعراس وفاتحہ کےمسائل میں معمولات اہل سنت کےخلاف تقریر بازی شروع کردی،شہر میں ان باتوں کاچرچاپھیلا، مسلمانوں میں اضطراب پیداہونےلگا۔مولوی ابوالحسن کی درخواست پر آپ شہر تشریف لےگئے، اور’’قدم مبارک‘‘والی مسجد میں قیام فرمایا۔یہ خبر پورےشہر میں پھیل گئی، عوام کی کثیر تعداد’’لال ڈیگی‘‘ کےسامنے بڑےمیدان میں جمع ہوگئے،اسی جگہ مناظرہ طے پایا۔ انگریز حکام نےانتظاماً پولیس تعینات کردی، انتظامیہ کےاہم افرادجلسہ گاہ میں موجود رہے۔مولوی کرامت علی نےگاڑی بھر کرکتابیں پہلےسےہی جلسہ گاہ میں پہنچادیں،اور کتابوں کاڈھیرلگادیا۔ جسےدیکھ کربعض افراد نے حضرت شاہ مخلص الرحمن سے پوچھ لیا کہ حضرت مد مقابل مولوی صاحب تو کتابوں کا ڈھیر لایا ہے، اور آپ کی کتابیں کہاں ہیں؟ آپ نےفرمایا مولوی صاحب کا علم کتابوں میں اور ہمارا علم سینےمیں ہے۔
❤1
یہ گفتگو ہورہی تھی کہ مولوی کرامت علی صاحب بھی گاڑی میں آگئے، اور گاڑی جلسہ گاہ میں دروازے پر رُکی، مگر وہ گاڑی سےاترے نہیں، لوگوں سے پوچھا کہ جن سے مناظرہ ہونے والا ہے، وہکون ہیں، اور کہاں ہیں؟ لوگوں نےحضرت شیخ العارفین کی طرف اشارہ کیا۔مولوی کرامت علی نےآپ کودیکھا اور دیکھتے ہی رہ گئے، اور گاڑی میں بیٹھے ہی بیٹھےکہا گاڑی واپس کی جائے۔یہ حضرت کارعب وہیبت تھا کہ ایسے خائف ہوئے کہ جلسہ گاہ میں قدم نہ رکھ سکے۔(سیرت فخرالعارفین جلداول:7)
آپ کی شخصیت کارعب ودبدبہ اس قدرتھاکہ مخالف مناظرکتابیں چھوڑکرفرارمیں عافیت سمجھتا۔آپ نےبدنامِ زمانہ کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘ کےردمیں ’’شرح الصدور‘‘تحریرفرمائی اور مولوی اسماعیل قتیل کاردبلیغ کیا۔یہ حقیقت ہےاسلامیانِ ہندمیں فرقہ واریت کی یہ سب سےپہلی اینٹ تھی،جس کےبعدمسلمان فرقہ واریت کی دلدل میں پھنستےگئے۔
آپیادگاراسلاف تھے۔آپ کوددیکھ کراکابرین اولیاء کی زندگی کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔آپ نے فرائض واجبات،سنن،مستحبات،نوافل کی ادائیگی میں کبھی سستی نہیں کی۔آپاکثردعافرماتےتھےکہ اےاللہ ایسی تونگری سےبچاناجوغفلت میں ڈال دے،اور ایسی غریبی سےبچانا جوتیر ی یاد سےغافل کردے۔آپ ہمیشہ سُستی وکاہلی کواپنےقریب نہیں آنےدیتےتھے۔فرماتےتھے کہ غفلت وسستی شریفوں کاشعار نہیں ہے۔شرافت ونجابت کی بقاء محنت وچُستی میں ہے۔سنتِ مصطفیٰﷺکاخاص اہتمام تھا۔پوری زندگی میں آپ سےکسی نےقہقہہ کی آواز نہیں سنی۔قدم ہمیشہ جماکر چلتےگویا کہ آپ کاچلنابھی ذکرفکرسےخالی نہیں ہوتاتھا۔
آپصاحبِ کشف وکرامات تھے۔بالخصوص لاعلاج مریض آپ کی دعاسےشفاء یاب ہوجایاکرتےتھے۔ آپ کاکشف ایسےہوتاتھاجیسےایک انسان دیکھ کربیان کرتاہے۔آپنےاپنی موت کادن وقت سب کچھ بیان کردیاتھا۔ایک دن فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کےحبیبﷺکاوصال ِ ظاہری پیر کےدن ہوا۔لہذا ہماراوصال بھی اتباع ِ حبیبﷺ میں پیرکےدن ہوگا۔یہی وجہ ہےکہ آپ نےوصال ِ باکمال سےقبل اپنےسفر ِ آخرت کےتمام انتظامات اور اس کااخراجات کابندوبست پہلےسےہی کردیاتھا۔کچھ دن قبل فرمایا ہمارا وقت قریب ہےمیری قبر خانقاہ کےساتھ والےتالاب کےشمالی گوشےمیں بنانا تاکہ آنےجانےوالوں کی خبر گیری کرتارہوں۔میرےبیٹے عبدالحی کی تعلیم ابھی نامکمل ہے،ان کوتعلیم مکمل کرنےدینا۔(کاش ! یہی فکرآج کےسجادگان کونصیب ہوتی، اب توحالات ایسےابترہیں کہ پیرصاحب کافرزند پیدا ہوتےہی ’’ولی عہد‘‘ بن جاتاہے،یہ ایک نئی اصطلاح نئی رائج ہوئی ہے۔اس کےلیےنہ علم کی ضرورت، اورنہ ہی عمل کی، پھرایسے’’مادرزاد‘‘اپنی جہالت پر پردہ ڈالنےکےلئےاپنی مجالس میں علم اور علماء کامذاق اڑاتےہیں۔اس وقت بڑی بڑی خانقاہوں کامشاہدہ کریں،جہاں ایک وقت میں قال اللہ،اور قال رسول اللہ کی صدائیں آتی تھیں،آج ان محلوں سےکتےبھونکنےکی آوازیں آتی ہیں،کمال ہےان عقیدت مندوں کے ایمان پر جوسب کچھ دین کے نام پرہوتا دیکھ کرپِیرکےپَیراور ہاتھ چوم رہے ہوتے ہیں، اورنذرانہ دےکران کی عیاشیوں کےسامان فراہم کررہےہوتےہیں۔اکابرین اولیاء اللہ تو اہل کواپنی مسند پربٹھاتےتھے،اس میں موروثی سلسلےکاتصور بھی نہیں ہے۔تونسویؔ غفرلہ)
آپنےایک دن فرمایاچھوٹےمیاں(صاحبزادہ عبدالحی)آج کل لکھنؤمیں مولانا فرنگی محل کےپاس تعلیم حاصل کررہےہیں، ہمارےوصال کےبعدہماراسجادہ،قلمدان،گدی شریف،عصاء،اورکتابیں وغیرہ ان کودےدینا،اوران سےکہ دیناکہ ہمارےمریدین کی خبرگیری کرتےرہیں۔ (مولاناکےاورصاحبزادےبھی موجودتھے،اگراپنےبیٹےکوہی سجادہ نشین منتخب کرنامقصودتھاتو انہیں کرلیتے،لیکن وہ اس معیارپرپورےنہیں اترتےتھے،یہی وجہ ہےکہ مولانا عبدالحی نےاہل سنت اور سلسلہ عالیہ کی ایسی خدمت فرمائی کہ جس کی مثال مشکل ہے)۔
وصال سےایک دن قبل اتوار کادن گزارکررات بھراپناحجرہ بندکرکےعبادت وریاضت میں مشغول رہے،صبح کاوقت ہواتوتازہ وضو کرکےتمام احباب کےہمراہ باجماعت نمازادافرمائی۔اس کےبعد ذکروفکر میں مشغول رہے،پھرفرمایا کیاسورج نکل آیاہے،مریدین نےعرض کی جوحضورتھوڑی دیر پہلےہی ظاہر ہواہے۔یہ سن کرانگشتِ شہادت آسمان کی جانب بلند کی اور لبوں پر حرکت وجنبش محسوس ہوئی کہ جیسے کچھ پڑھ رہےہوں،اسی حالت میں آپ کاوصال باکمال ہوگیا۔مولانا سید عبدالحی چاٹگامیآپ کےجانشین وفرزندتھے۔
تاریخِ وصال:
بروز پیر 12 ذیقعد 1302ھ، مطابق 24 اگست 1885ء کو واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزاز پر انوار موضع ’’قصبہ دیانگ‘‘ ضلع چاٹگام بنگلہ دیش میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ سیرت فخر العارفین ۔ انسائکلو پیڈیا اولیائے کرام جلد 5۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mukhlis-ul-rahman-chatgaami
آپ کی شخصیت کارعب ودبدبہ اس قدرتھاکہ مخالف مناظرکتابیں چھوڑکرفرارمیں عافیت سمجھتا۔آپ نےبدنامِ زمانہ کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘ کےردمیں ’’شرح الصدور‘‘تحریرفرمائی اور مولوی اسماعیل قتیل کاردبلیغ کیا۔یہ حقیقت ہےاسلامیانِ ہندمیں فرقہ واریت کی یہ سب سےپہلی اینٹ تھی،جس کےبعدمسلمان فرقہ واریت کی دلدل میں پھنستےگئے۔
آپیادگاراسلاف تھے۔آپ کوددیکھ کراکابرین اولیاء کی زندگی کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔آپ نے فرائض واجبات،سنن،مستحبات،نوافل کی ادائیگی میں کبھی سستی نہیں کی۔آپاکثردعافرماتےتھےکہ اےاللہ ایسی تونگری سےبچاناجوغفلت میں ڈال دے،اور ایسی غریبی سےبچانا جوتیر ی یاد سےغافل کردے۔آپ ہمیشہ سُستی وکاہلی کواپنےقریب نہیں آنےدیتےتھے۔فرماتےتھے کہ غفلت وسستی شریفوں کاشعار نہیں ہے۔شرافت ونجابت کی بقاء محنت وچُستی میں ہے۔سنتِ مصطفیٰﷺکاخاص اہتمام تھا۔پوری زندگی میں آپ سےکسی نےقہقہہ کی آواز نہیں سنی۔قدم ہمیشہ جماکر چلتےگویا کہ آپ کاچلنابھی ذکرفکرسےخالی نہیں ہوتاتھا۔
آپصاحبِ کشف وکرامات تھے۔بالخصوص لاعلاج مریض آپ کی دعاسےشفاء یاب ہوجایاکرتےتھے۔ آپ کاکشف ایسےہوتاتھاجیسےایک انسان دیکھ کربیان کرتاہے۔آپنےاپنی موت کادن وقت سب کچھ بیان کردیاتھا۔ایک دن فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کےحبیبﷺکاوصال ِ ظاہری پیر کےدن ہوا۔لہذا ہماراوصال بھی اتباع ِ حبیبﷺ میں پیرکےدن ہوگا۔یہی وجہ ہےکہ آپ نےوصال ِ باکمال سےقبل اپنےسفر ِ آخرت کےتمام انتظامات اور اس کااخراجات کابندوبست پہلےسےہی کردیاتھا۔کچھ دن قبل فرمایا ہمارا وقت قریب ہےمیری قبر خانقاہ کےساتھ والےتالاب کےشمالی گوشےمیں بنانا تاکہ آنےجانےوالوں کی خبر گیری کرتارہوں۔میرےبیٹے عبدالحی کی تعلیم ابھی نامکمل ہے،ان کوتعلیم مکمل کرنےدینا۔(کاش ! یہی فکرآج کےسجادگان کونصیب ہوتی، اب توحالات ایسےابترہیں کہ پیرصاحب کافرزند پیدا ہوتےہی ’’ولی عہد‘‘ بن جاتاہے،یہ ایک نئی اصطلاح نئی رائج ہوئی ہے۔اس کےلیےنہ علم کی ضرورت، اورنہ ہی عمل کی، پھرایسے’’مادرزاد‘‘اپنی جہالت پر پردہ ڈالنےکےلئےاپنی مجالس میں علم اور علماء کامذاق اڑاتےہیں۔اس وقت بڑی بڑی خانقاہوں کامشاہدہ کریں،جہاں ایک وقت میں قال اللہ،اور قال رسول اللہ کی صدائیں آتی تھیں،آج ان محلوں سےکتےبھونکنےکی آوازیں آتی ہیں،کمال ہےان عقیدت مندوں کے ایمان پر جوسب کچھ دین کے نام پرہوتا دیکھ کرپِیرکےپَیراور ہاتھ چوم رہے ہوتے ہیں، اورنذرانہ دےکران کی عیاشیوں کےسامان فراہم کررہےہوتےہیں۔اکابرین اولیاء اللہ تو اہل کواپنی مسند پربٹھاتےتھے،اس میں موروثی سلسلےکاتصور بھی نہیں ہے۔تونسویؔ غفرلہ)
آپنےایک دن فرمایاچھوٹےمیاں(صاحبزادہ عبدالحی)آج کل لکھنؤمیں مولانا فرنگی محل کےپاس تعلیم حاصل کررہےہیں، ہمارےوصال کےبعدہماراسجادہ،قلمدان،گدی شریف،عصاء،اورکتابیں وغیرہ ان کودےدینا،اوران سےکہ دیناکہ ہمارےمریدین کی خبرگیری کرتےرہیں۔ (مولاناکےاورصاحبزادےبھی موجودتھے،اگراپنےبیٹےکوہی سجادہ نشین منتخب کرنامقصودتھاتو انہیں کرلیتے،لیکن وہ اس معیارپرپورےنہیں اترتےتھے،یہی وجہ ہےکہ مولانا عبدالحی نےاہل سنت اور سلسلہ عالیہ کی ایسی خدمت فرمائی کہ جس کی مثال مشکل ہے)۔
وصال سےایک دن قبل اتوار کادن گزارکررات بھراپناحجرہ بندکرکےعبادت وریاضت میں مشغول رہے،صبح کاوقت ہواتوتازہ وضو کرکےتمام احباب کےہمراہ باجماعت نمازادافرمائی۔اس کےبعد ذکروفکر میں مشغول رہے،پھرفرمایا کیاسورج نکل آیاہے،مریدین نےعرض کی جوحضورتھوڑی دیر پہلےہی ظاہر ہواہے۔یہ سن کرانگشتِ شہادت آسمان کی جانب بلند کی اور لبوں پر حرکت وجنبش محسوس ہوئی کہ جیسے کچھ پڑھ رہےہوں،اسی حالت میں آپ کاوصال باکمال ہوگیا۔مولانا سید عبدالحی چاٹگامیآپ کےجانشین وفرزندتھے۔
تاریخِ وصال:
بروز پیر 12 ذیقعد 1302ھ، مطابق 24 اگست 1885ء کو واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزاز پر انوار موضع ’’قصبہ دیانگ‘‘ ضلع چاٹگام بنگلہ دیش میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ سیرت فخر العارفین ۔ انسائکلو پیڈیا اولیائے کرام جلد 5۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mukhlis-ul-rahman-chatgaami
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Mukhlis-ul-Rahman Chatgaami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ یعقوب صرفی کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت شیخ یعقوب۔لقب: حضرت ایشاں[1]،جامی ِثانی،صرفی۔خطۂ کشمیر کی نسبت سے’’کشمیری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مولانا شیخ یعقوب صرفی کشمیری بن شیخ حسن گنِائی[2] بن میر علی بن میر بایزیدعلیہم الرحمہ[3]۔آپکاخاندانی تعلق وادیِ کشمیر کےامراء میں سےہے۔اسی طرح آپ خود بھی امرائےسلطنت میں ایک اہم مقام پر فائز تھے[4]۔اسی طرح سلسلہ ٔنسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروق اعظمکےفرزندحضرت عاصمکی اولادسےہے۔اسی نسبت سےآپ’’عاصمی‘‘کہلاتےہیں۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 908ھ،مطابق 1502ء کو’’سری نگر‘‘کشمیر میں ہوئی[5]۔’’مقدمہ دیوانِ صرفی‘‘ میں آپ کی تاریخِ ولادت 928ھ/1522ء ہے۔
تحصیلِ علم: بچپن میں ہی ذہانت،تیز فہمی،اور سعادت مندی کےآثار آپ کی پیشانی سے ظاہر تھے۔سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل میں مصروف ہوگئے۔آٹھ سال کی قلیل عمر میں آپ نےفارسی زبان میں اشعار کہنا شروع کیے۔آپ کےوالد گرامی بھی ایک بلند پایہ فاضل تھے۔وہ آپ کےاشعار کی اصلاح کیا کرتےتھے۔چنانچہ آپ خودفرماتےہیں:
؏: چودر سال ہشتم نہادم قدم۔۔۔۔زطبعم رواں گشت شعر عجم۔۔۔۔پدر کردے اصلاح اشعار من۔۔۔۔دراں کار بودے مددگار من۔۔
آپنےبہت سارے اساتذہ جوا س وقت کی فاضل ترین ہستیوں میں شمار ہوتےتھے تحصیلِ علوم کیا۔ان میں مولانا شاہ محمد آنی(جو مولانا عبدالرحمن جامیکے شاگردِ رشید تھے،سیالکوٹ سےکشمیرتشریف لےگئے، اور پھر وہیں مقبرہ شیخ بہاء الدین گنج بخشمیں آرام فرماہیں)اوران کےعلاوہ حضرت اخوندملا بصیر سےبھی علمی استفادہ کیا۔اسی طرح حضرت شیخ المحدثین ابنِ حجر مکیسےسندِ حدیث حاصل کی۔آپ کی ذہانت وفطانت اور علمی صلاحیتوں کی بدولت آپ کےاستاد ملاآنی نے آپ کا اسم گرامی ’’جامیِ ثانی‘‘ رکھا[6]۔
بیعت وخلافت:آپ حضرت خواجہ حسن عاصمیکےخلیفہ تھے۔ آپ سید امیر کبیر ہمدانی کے اویسی تھے۔ آپ حضرت شیخ کمال الدین حسینی خوارزمی کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت ہوئے،اور انہیں کے حکم سے سمر قند پہنچے اور حضرت خواجہ حسین خوارزمی کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔
سیرت وخصائص: جامع کمالات ِ صوری ومعنوی،مظہر اسرار ربانی،مفخر اربابِ حقانی،الملقب امام اعظم ثانی،حضرت علامہ مولانا شیخ یعقوب صرفی کشمیری۔بڑے عالم فاضل،فقیہ، محدث جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔خطۂ کشمیر آپ کےانوار وفیوضات سےمنو رہے۔اس خطےمیں آپ نےرسول اللہﷺ کےدین کی بڑی خدمت فرمائی ہے۔لوگوں کودین سے روشناس کرایا۔ایک ایسی درگاہ کی بنیاد رکھی جہاں دور دراز علاقوں سے متلاشیانِ علم آکر علم حاصل کرتےتھے۔آپ کےاستاد محترم ملا آنی نے آپ کےغیر معمولی فہم وادراک، فصاحت وبلاغت، اور سخن گوئی میں مولانا جامی کارتبہ حاصل کرکے’’جامیِ ثانی‘‘کےلقب سےمشہور ہوجائیں گے۔آپ کی یہ پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔چنانچہ آپ خود فرماتےہیں۔؏: بعد خسرو بود جامی بلبل باغِ سخن۔۔۔۔۔کیست جز صرفی کنوں آں مرغ خوشخواں را عوض۔۔۔
تحصیلِ علم کے بعد ریاضت اور عبادت میں اس طرح مشغول ہوئے کہ اولیاء اللہ میں شمار ہونے لگے۔جب ابتداء ً تصوف کی طرف میلان ہوا توآپ کے والدین اور عزیزوں نے آپ کو ایسے امور سے روکنا چاہا۔ حضرت امیر کبیر ہمدانی نے ان لوگوں کو خواب میں متنبہ کرکے ایسےامور سےروک دیا۔ پھر حضرت یعقوب ہزاروں شوق کے ساتھ کشمیر سے عازمِ سمر قند ہوئے۔شیخ حسین خوارزمی کی خانقاہ کے دروازے کے باہر قیام کیا۔ شیخ حسین باطنی طور پر آپ کی آمد سے مطلع ہوچکے تھے۔ استقبال کے لیے تشریف لائے اور آپ کو ساتھ لے کر اندر آئے۔حضرت یعقوب صوفی نے گذارش کی حضور مجھے خانقاہ کی کسی خدمت پرمامور فرمائیں۔آپ کو مطبخ (باورچی خانہ)کے لیے لکڑیاں لانے اور وضو خانہ کی صفائی کےلیےمقرر کیا گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں تکمیل و تر تیب سے مراحل سے گزرے۔ خرقہِ خلافت عطا ہوا اور پھر کشمیر کی طرف واپس ہوئے۔آپ کشمیر پہنچے ہی تھے کہ علماء و صلحاء نے آپ کی مجلس کو حاضری سے بھر دیا۔ آپ کا فیض عام ہونے لگا۔ ارشاد و ہدایت کے دروازے کھل گئے۔ سالکین کی جماعتیں اور طالبین کے ہجوم جمع ہونے لگے۔
ایک عرصہ کے بعد آپ کے دل میں اپنے پیر و مرشد کی زیارت کا شوق اٹھا۔ اور آپ پھر سمر قند کو روانہ ہوئے۔وہاں سےرخصت پاکر مشہد، بغداد،ختلان، مکہ معظمہ،اور مدینۃ المنورہ میں کچھ عرصہ قیام رہا۔وہاں حضرت شیخ المحدثین حضرت ابن حجر مکی اور شیخ الاولیاء حضرت شیخ سلیم چشتی فتح پوری ملاقات ہوئی،ان سےسلسلہ عالیہ چشتیہ خرقۂ خلافت حاصل کیا۔اس سفر میں آپاپنے ساتھ بہت سارے تبرکات مختلف مقامات سےلائے،ان میں خصوصا جبہ شریف حضرت امام اعظم،حضرت امام علی رضا کاعصا مبارک، اور حضرت بایزید بسطامی کی کلاہ مبارک۔
ان دنوں ایران میں صفوی خاندان حکمران تھا۔ شیعہ لوگ سنّیوں کو چن چن کر تکلیفیں دیا کرتے تھے۔شاہ طہما سپ صفوی کے حکم سے سنّی علما ک
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت شیخ یعقوب۔لقب: حضرت ایشاں[1]،جامی ِثانی،صرفی۔خطۂ کشمیر کی نسبت سے’’کشمیری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مولانا شیخ یعقوب صرفی کشمیری بن شیخ حسن گنِائی[2] بن میر علی بن میر بایزیدعلیہم الرحمہ[3]۔آپکاخاندانی تعلق وادیِ کشمیر کےامراء میں سےہے۔اسی طرح آپ خود بھی امرائےسلطنت میں ایک اہم مقام پر فائز تھے[4]۔اسی طرح سلسلہ ٔنسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروق اعظمکےفرزندحضرت عاصمکی اولادسےہے۔اسی نسبت سےآپ’’عاصمی‘‘کہلاتےہیں۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 908ھ،مطابق 1502ء کو’’سری نگر‘‘کشمیر میں ہوئی[5]۔’’مقدمہ دیوانِ صرفی‘‘ میں آپ کی تاریخِ ولادت 928ھ/1522ء ہے۔
تحصیلِ علم: بچپن میں ہی ذہانت،تیز فہمی،اور سعادت مندی کےآثار آپ کی پیشانی سے ظاہر تھے۔سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل میں مصروف ہوگئے۔آٹھ سال کی قلیل عمر میں آپ نےفارسی زبان میں اشعار کہنا شروع کیے۔آپ کےوالد گرامی بھی ایک بلند پایہ فاضل تھے۔وہ آپ کےاشعار کی اصلاح کیا کرتےتھے۔چنانچہ آپ خودفرماتےہیں:
؏: چودر سال ہشتم نہادم قدم۔۔۔۔زطبعم رواں گشت شعر عجم۔۔۔۔پدر کردے اصلاح اشعار من۔۔۔۔دراں کار بودے مددگار من۔۔
آپنےبہت سارے اساتذہ جوا س وقت کی فاضل ترین ہستیوں میں شمار ہوتےتھے تحصیلِ علوم کیا۔ان میں مولانا شاہ محمد آنی(جو مولانا عبدالرحمن جامیکے شاگردِ رشید تھے،سیالکوٹ سےکشمیرتشریف لےگئے، اور پھر وہیں مقبرہ شیخ بہاء الدین گنج بخشمیں آرام فرماہیں)اوران کےعلاوہ حضرت اخوندملا بصیر سےبھی علمی استفادہ کیا۔اسی طرح حضرت شیخ المحدثین ابنِ حجر مکیسےسندِ حدیث حاصل کی۔آپ کی ذہانت وفطانت اور علمی صلاحیتوں کی بدولت آپ کےاستاد ملاآنی نے آپ کا اسم گرامی ’’جامیِ ثانی‘‘ رکھا[6]۔
بیعت وخلافت:آپ حضرت خواجہ حسن عاصمیکےخلیفہ تھے۔ آپ سید امیر کبیر ہمدانی کے اویسی تھے۔ آپ حضرت شیخ کمال الدین حسینی خوارزمی کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت ہوئے،اور انہیں کے حکم سے سمر قند پہنچے اور حضرت خواجہ حسین خوارزمی کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔
سیرت وخصائص: جامع کمالات ِ صوری ومعنوی،مظہر اسرار ربانی،مفخر اربابِ حقانی،الملقب امام اعظم ثانی،حضرت علامہ مولانا شیخ یعقوب صرفی کشمیری۔بڑے عالم فاضل،فقیہ، محدث جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔خطۂ کشمیر آپ کےانوار وفیوضات سےمنو رہے۔اس خطےمیں آپ نےرسول اللہﷺ کےدین کی بڑی خدمت فرمائی ہے۔لوگوں کودین سے روشناس کرایا۔ایک ایسی درگاہ کی بنیاد رکھی جہاں دور دراز علاقوں سے متلاشیانِ علم آکر علم حاصل کرتےتھے۔آپ کےاستاد محترم ملا آنی نے آپ کےغیر معمولی فہم وادراک، فصاحت وبلاغت، اور سخن گوئی میں مولانا جامی کارتبہ حاصل کرکے’’جامیِ ثانی‘‘کےلقب سےمشہور ہوجائیں گے۔آپ کی یہ پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔چنانچہ آپ خود فرماتےہیں۔؏: بعد خسرو بود جامی بلبل باغِ سخن۔۔۔۔۔کیست جز صرفی کنوں آں مرغ خوشخواں را عوض۔۔۔
تحصیلِ علم کے بعد ریاضت اور عبادت میں اس طرح مشغول ہوئے کہ اولیاء اللہ میں شمار ہونے لگے۔جب ابتداء ً تصوف کی طرف میلان ہوا توآپ کے والدین اور عزیزوں نے آپ کو ایسے امور سے روکنا چاہا۔ حضرت امیر کبیر ہمدانی نے ان لوگوں کو خواب میں متنبہ کرکے ایسےامور سےروک دیا۔ پھر حضرت یعقوب ہزاروں شوق کے ساتھ کشمیر سے عازمِ سمر قند ہوئے۔شیخ حسین خوارزمی کی خانقاہ کے دروازے کے باہر قیام کیا۔ شیخ حسین باطنی طور پر آپ کی آمد سے مطلع ہوچکے تھے۔ استقبال کے لیے تشریف لائے اور آپ کو ساتھ لے کر اندر آئے۔حضرت یعقوب صوفی نے گذارش کی حضور مجھے خانقاہ کی کسی خدمت پرمامور فرمائیں۔آپ کو مطبخ (باورچی خانہ)کے لیے لکڑیاں لانے اور وضو خانہ کی صفائی کےلیےمقرر کیا گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں تکمیل و تر تیب سے مراحل سے گزرے۔ خرقہِ خلافت عطا ہوا اور پھر کشمیر کی طرف واپس ہوئے۔آپ کشمیر پہنچے ہی تھے کہ علماء و صلحاء نے آپ کی مجلس کو حاضری سے بھر دیا۔ آپ کا فیض عام ہونے لگا۔ ارشاد و ہدایت کے دروازے کھل گئے۔ سالکین کی جماعتیں اور طالبین کے ہجوم جمع ہونے لگے۔
ایک عرصہ کے بعد آپ کے دل میں اپنے پیر و مرشد کی زیارت کا شوق اٹھا۔ اور آپ پھر سمر قند کو روانہ ہوئے۔وہاں سےرخصت پاکر مشہد، بغداد،ختلان، مکہ معظمہ،اور مدینۃ المنورہ میں کچھ عرصہ قیام رہا۔وہاں حضرت شیخ المحدثین حضرت ابن حجر مکی اور شیخ الاولیاء حضرت شیخ سلیم چشتی فتح پوری ملاقات ہوئی،ان سےسلسلہ عالیہ چشتیہ خرقۂ خلافت حاصل کیا۔اس سفر میں آپاپنے ساتھ بہت سارے تبرکات مختلف مقامات سےلائے،ان میں خصوصا جبہ شریف حضرت امام اعظم،حضرت امام علی رضا کاعصا مبارک، اور حضرت بایزید بسطامی کی کلاہ مبارک۔
ان دنوں ایران میں صفوی خاندان حکمران تھا۔ شیعہ لوگ سنّیوں کو چن چن کر تکلیفیں دیا کرتے تھے۔شاہ طہما سپ صفوی کے حکم سے سنّی علما ک
❤1👍1
و قتل کردیا جاتا تھا۔ شیخ یعقوب نے بادشاہ سے ملاقات کرنا چاہی اور اپنی کرامات اور خوارق کے اظہار سے بادشاہ کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ آپ نے شاہ طہما سپ کو اس بات پہ آمادہ کیا کہ وہ سنّیوں کے بے دریغ قتل سے اپنا ہاتھ روک لے۔ چنانچہ آپ کی نصیحت کا بڑا خوشگوار اثر ہوا۔ دور دراز ممالک کے سفر کے بعد آپ دوبار خطۂ کشمیر میں وارد ہوئے یہ وہ زمانہ تھا کہ وادی کشمیر میں مذہبی اور نظریاتی کش مکش زوروں پر تھی۔ مختلف علاقوں کے حکمران آپس میں جنگ و جدل میں مصروف رہتے تھے۔ مذہبی تعصّب سے ملک کا سکون تباہ ہوچکا تھا۔ آپ نے کوشش کی کہ ان حالات کو بدلا جائے اور حالات کو معمول پر لایا جائے۔ آپ کی کوششوں سے تمام کشمیر پر اکبر بادشاہ کا تسلّط ہوگیا۔ یعقوب خان جو بڑا متعصب رافضی تھا گرفتار ہوگیا۔مغل حکمرانوں کے عمل دخل نے کشمیر میں امن قائم کیا۔ خانہ جنگی ختم ہوگئی اور باہمی اتفاق کی فضاء قائم ہوئی۔ آپ تیسری بار خطۂ کشمیر سے نکلے اور حرمین الشریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ ایک سال بعد ایک بہت بڑا کتب خانہ جس میں احادیث اور تفاسیر کا خزینہ تھا اپنے ساتھ لائے خلق خدا کو پھر زیور علم و عرفان سے مالا مال کرنے لگے۔آپ کےکتب خانے میں پینسٹھ ہزار اہم مخطوطات اب بھی موجود ہیں۔آپنےپچیس سال کی عمر میں نکاح کیا،اور آپ کاایک فرزندمحمد یوسف نامی تولد ہوا،جو عہد شباب میں ہی رحلت کرگیا۔
امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی کی عقیدت: حضرت مجدد الفِ ثانیکو آپ سےبہت عقیدت تھی،اور انہوں نےآپ سےکتبِ حدیث کا درس لیا،سند لی،اور آپ نےسلسلہ کبرویہ میں اجازت عطاء فرمائی[7]۔اسی سےآپ کی عظمت وعلمی مقام کااندازہ کیاجاسکتاہے،کہ حضرت امام ربانی جیسی عظیم شخصیت آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔
مولانا عبدالقادر بدایونیاکابر علماء میں سےتھے۔اکبر بادشاہ کےقریب تھے۔’’منتخب التواریخ‘‘ کتاب مشہور ِزمانہ ہے۔مولانا بدایونی آپ کےہم عصر تھے۔وہ فرماتےہیں: حضرت صرفی اپنے وقت کی ممتاز ترین شخصیتوں سےمیں سےایک تھے۔تمام علوم،تفسیر ،حدیث، اور تصوف میں یگانۂ روزگارتھے۔بادشاہ اکبر اور ہمایوں دونوں شیخ صرفیسےپوری عقیدت تھی،اور بہت تعظیم کیاکرتےتھے[8]۔
اسی طرح تمام مؤرخین،اور فضلاء متفق الرائے ہیں کہ حضرت شیخ صرفی کےپایۂ کا دوسرا فاضل، سرزمینِ کشمیر میں پیدانہیں ہوا۔آپ نےتصانیف کی صورت میں ایک اہم ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے۔جن میں سے تفسیر قرآن شریف نا مکمل،شرح صحیح بخاری،مغازی النبیﷺ،حاشیہ توضیح و تلویح،مسلک الاخیار،کتاب مناسکِ حج،روائح،وامق و عذرا، رسالہ اذکار،لیلیٰ مجنوں، مقاماتِ مرشد، جواہرِ خمسہ،شرح رباعیات،پنج گنج،خمسہ نظامی،کنزالجواہر،تفسیرپارۂ تبارک وعم،دیوانِ صرفی وغیرہ مشہور و معروف ہیں[9]۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروزجمعرات بعد نماز عشاء،12/ذیقعدہ1003ھ،مطابق 20/جولائی1595ءکوہوا۔آپ کامزار پرانوار محلہ’’ایشاں صاحب،سری نگر،مقبوضہ کشمیر‘‘میں مرجعِ خلائق ہے۔
[1] کشمیرمیں عام لوگ آپ کو’’حضرت ایشاں‘‘ کےنام سےجانتے ہیں۔آپ نے ایک عرصہ ترکستان میں گزارا وہاں یہ لفظ بطورِ تعظیم استعمال ہوتا ہے۔
[2] گنِائی عالم وفاضل شخص کو کہتےہیں۔
[3] مقدمہ دیوانِ صرفی
[4] خزینۃ الاصفیاء:323
[5] خزینۃ الاصفیاء:324/حدائق الحنفیہ:416
[6] خزینۃ الاصفیاء:324
[7] مقدمہ دیوانِ صرفی/سیرت مجدد الفِ ثانی۔از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد
[8] مقدمہ دیوان صرفی۔
[9] حدائق الحنفیہ:415/خزینۃ الاصفیاء:325
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-yaqoob-sufi-kashmiri
امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی کی عقیدت: حضرت مجدد الفِ ثانیکو آپ سےبہت عقیدت تھی،اور انہوں نےآپ سےکتبِ حدیث کا درس لیا،سند لی،اور آپ نےسلسلہ کبرویہ میں اجازت عطاء فرمائی[7]۔اسی سےآپ کی عظمت وعلمی مقام کااندازہ کیاجاسکتاہے،کہ حضرت امام ربانی جیسی عظیم شخصیت آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔
مولانا عبدالقادر بدایونیاکابر علماء میں سےتھے۔اکبر بادشاہ کےقریب تھے۔’’منتخب التواریخ‘‘ کتاب مشہور ِزمانہ ہے۔مولانا بدایونی آپ کےہم عصر تھے۔وہ فرماتےہیں: حضرت صرفی اپنے وقت کی ممتاز ترین شخصیتوں سےمیں سےایک تھے۔تمام علوم،تفسیر ،حدیث، اور تصوف میں یگانۂ روزگارتھے۔بادشاہ اکبر اور ہمایوں دونوں شیخ صرفیسےپوری عقیدت تھی،اور بہت تعظیم کیاکرتےتھے[8]۔
اسی طرح تمام مؤرخین،اور فضلاء متفق الرائے ہیں کہ حضرت شیخ صرفی کےپایۂ کا دوسرا فاضل، سرزمینِ کشمیر میں پیدانہیں ہوا۔آپ نےتصانیف کی صورت میں ایک اہم ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے۔جن میں سے تفسیر قرآن شریف نا مکمل،شرح صحیح بخاری،مغازی النبیﷺ،حاشیہ توضیح و تلویح،مسلک الاخیار،کتاب مناسکِ حج،روائح،وامق و عذرا، رسالہ اذکار،لیلیٰ مجنوں، مقاماتِ مرشد، جواہرِ خمسہ،شرح رباعیات،پنج گنج،خمسہ نظامی،کنزالجواہر،تفسیرپارۂ تبارک وعم،دیوانِ صرفی وغیرہ مشہور و معروف ہیں[9]۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروزجمعرات بعد نماز عشاء،12/ذیقعدہ1003ھ،مطابق 20/جولائی1595ءکوہوا۔آپ کامزار پرانوار محلہ’’ایشاں صاحب،سری نگر،مقبوضہ کشمیر‘‘میں مرجعِ خلائق ہے۔
[1] کشمیرمیں عام لوگ آپ کو’’حضرت ایشاں‘‘ کےنام سےجانتے ہیں۔آپ نے ایک عرصہ ترکستان میں گزارا وہاں یہ لفظ بطورِ تعظیم استعمال ہوتا ہے۔
[2] گنِائی عالم وفاضل شخص کو کہتےہیں۔
[3] مقدمہ دیوانِ صرفی
[4] خزینۃ الاصفیاء:323
[5] خزینۃ الاصفیاء:324/حدائق الحنفیہ:416
[6] خزینۃ الاصفیاء:324
[7] مقدمہ دیوانِ صرفی/سیرت مجدد الفِ ثانی۔از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد
[8] مقدمہ دیوان صرفی۔
[9] حدائق الحنفیہ:415/خزینۃ الاصفیاء:325
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-yaqoob-sufi-kashmiri
scholars.pk
Sheikh Yaqoob
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1