🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from چینل صدائے حق
نہیں جانتے تو جان لیجیے
1) سب حدیثیں مدون نہ ہوئیں
ذرا سوچیے! امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں، امام مسلم کو تین لاکھ پھر صحیحین میں صرف سات ہزار باقی کہاں گئیں؟ امام احمد کو دس لاکھ یاد تھیں مسند میں فقط تیس ہزار. خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اعتراف ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے ان سے زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں حالانکہ ان کی مرویات 700 ملتی ہیں اور ابوہریرہ کی پانچ ہزار تین سو.
2) جتنی مدون ہوئیں، سب محفوظ نہیں. سیدنا امام مالک کے زمانے میں "موطا" نام کی 80 اسی کتابیں تصنیف ہوئیں کتنی باقی ہیں؟
3) جتنی محفوظ ہیں، سب ہر ایک کے پاس موجود نہیں. بہت سی کتابیں ہیں جو ہم تک نہ پہنچیں،

4) جو موجود ہیں، سب پر نظر نہیں

5) جن پر نظر ہے کیا انہیں سمجھا بھی؟ کیوں حفظِ حدیث اور ہے، فہمِ حدیث اور -
📚 ملخصا صفائح اللجین
غیر مقلدین کے فریب سے بچنے کے لیے آج سے ہی امام اہلسنت کا *رسائل* کا مطالعہ شروع کیجیے بالخصوص صفائح اللجین پڑھیے.

📝حسن نوری گونڈوی
Forwarded from چینل صدائے حق
*ضرب حیدر بر منکر افضلیت صدیق اکبر*
اسّی 80 رایوں نے روایت کیا کہ سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر بیٹھ کر فرمایا کہ " خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر.علماء نے اسے متواتر قرار دیا ہے،
📚 تاریخ الاسلام امام ذہبی
📚 تکمیل الایمان شیخ عبدالحق محدث دہلوی
📚 البدایہ والنہایہ لابن کثیر
📚 تاریخ الخلفاء امام سیوطی
👈🏻 مشکل کشا نے اہلسنت کی یوں مشکل کشائی فرمائی کہ" افضلیت شیخین" کے منکر کو اسّی 80 کوڑے مارنے کا اعلان فرمایا ہے.
لا أجد أحدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حدالمفتری.
📚 فضائل صحابہ
📚 السنۃ لابن ابی عاصم
📚 الاستیعاب
📚 المؤتلف المختلف للدار قطنی
📚 ابن عساکر وغیرہم
یہ اعلان کوفہ کے منبر پر فرمایا ان گنت لوگوں نے سنا، یہ حدیث صحیح ہے
📚 مکتوبات امام ربانی
📚 شرح فقہ اکبر
📚 فتاوی عزیزی
📚 الزلال الانقی
شاء عبدالعزيز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فتاوی عزیزی صفحہ 283 پر لکھا ہے کہ " ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ قطعی ہے، اس واسطے کی اجماع سے ثابت ہے، کہ امور ظنیہ میں سزا نہیں-
نوٹ:- یہ سارے حوالے 📚 افضلیت شیخین اور تف.ضیلی فتنہ علامہ غلام رسول قاسمی سے لیے گیے ہیں.
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
Forwarded from چینل صدائے حق
بارہویں صدی میں ملا معین ٹھٹھوی شیعی نے *"دراسات اللبیب" اور الحجۃ الجلیلہ"* تحریر کی
اسی سے متاثر ہو کر مصری عالم شیخ محمود سعید ممدوح نے *غایۃ التبجیل* لکھی اور انہیں کتابوں کی طرح شاذ و متروک و منسوب قول کو جمع کرکے پندرہویں صدی ہجری میں مولوی عبد القادری نے *زبدۃ التحقیق* کے نام سے کتاب لکھی، جس میں افضلیت سیدنا صدیق اکبر کو متنازعہ بنانے کی ناکام سعی کی گئی، اس کے علاوہ چھوٹی بڑی اور بھی کئ کتابیں لکھی گئی ہیں، سچ تو یہ ہے کہ افضلیت صدیق اکبر کا عقیدہ تواتر سے ثابت ہے صحابہ و تابعین اور تمام اہلسنت کا اس پر اجماع ہے، لہذا اہلسنت نے منکرین افضلیت صدیق اکبر کو جواب دینے اور عوام اہلسنت کے عقائد و نظریات کی حفاظت کے لیے درج ذیل کتابیں لکھی ہیں،
نوٹ:- برصغیر کا کوئی بھی را.فضی تف.ضیلی ہو یاد رہے ان کے اعتراضات نیے نہیں بلکہ پس خوردہ ہیں، جنہیں یہ حضرات اپنی تحقیق کہہ کر پیش کرتے ہیں، مرعوب ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہمارے علماے اہلسنت نے ایک ایک اعتراض کا شافی و کافی جواب دے دیا ہے لیکن ماننے کے بجائے اسی کو بار بار دہراتے رہتے ہیں تاکہ ناخواندہ کو لگے کہ اس کا جواب نہیں ہے اور وہ بد.ظن ہوں_
تف.ضیلیہ کی چال ملاحظہ فرمائیں
سب سے پہلے کہیں گے کہ افضلیت پر اجماع نہیں ہے جب آپ اجماع ثابت کریں گے تو کہیں گے اجماع ظنی ہے، جب آپ قطعی ثابت کریں گے تو کہیں گے اس سے مراد ظاہری خلافت باطنی نہیں اور جب آپ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی افضلیت ثابت کریں گے تو یہ بھاگ کر گرے پڑے اقوال جمع کرنا شروع کر دیں گے بچیں اور اپنی نسلوں کو بچائیں-

📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
Forwarded from چینل صدائے حق
ضمیر کی آواز اور غلامی

آج بھی دنیا میں کچھ بھی ہو سب سے پہلے قومِ مسلم، علماء، ائمہ کی طرف دیکھتی ہے یعنی ضمیر کی آواز یہ ہے کہ بہتر انصاف، اچھا بدلا، مدد اور درست سہارا یہی لوگ دے سکتے ہیں-


لیکن اس کے باوجود
آج علماء، عمدہ کپڑے، بہترین گاڑی، عالی شان گھر، عمدہ کھانا، اور سیاسی اثر رسوخ کی طرف بڑھیں تو غیر کچھ کہیں یا نہ کہیں لیکن ان کی اقتدا کرنے والی *عوام* سب سے بڑی دشمن بن جاتی ہے، سب کچھ گوارا کر سکتے ہیں وہ عالم کا آگے بڑھ جانا، مالدار ہو جانا، عالی شان گاڑیوں میں سفر کرنا برداشت نہیں کر سکتے، اس وقت پوری دنیا میں سواے مسلمانوں کے تمام قومیں اپنے مذہبی پیشوا کو ہر طرح کی طاقت دینے میں مصروف ہیں، انہیں ہر طرح مضبوط کرنا چاہتی ہیں، ان سے نہ صرف مذہبی بلکہ ہر طرح کی قیادت نہ صرف چاہتی ہیں بلکہ لیتی ہیں، ذرا سوچو جن کے دین و مذہب میں سب کچھ تیاگ دینے کا حکم، سنیاس لینے کے بعد سب آسائش چھوڑنے کا حکم ہے وہ حکمران بن گیے اور جن کے دین و مذہب نے اول دن سے ہی قیادت، سیاست، دور اندیشی، پیشوائ سکھائی ہے وہ اغیار کے جھنڈے اٹھا رہے ہیں یعنی غلامی میں خوش ہیں-
وہیں علماء کے نقال پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اہل حق کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی-

📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
Forwarded from چینل صدائے حق
ترجیحات کیا ہے؟
جان لیجیے! کہ تمام اسلامی احکام پانچ چیزوں کی حفاظت پر مامور ہیں- دین، جان، عقل، نسب، مال،
جب دو فرض یا واجب یا سنت بہ یک وقت پیش آئیں. موقع ایسا ہو کہ دونوں میں سے کسی ایک پر ہی عمل ہو سکتا ہے تو ایسے میں علم ترجیحات کے ذریعہ ہی کسی ایک پر عمل کیا جاتا ہے . مثلاً *غار میں یار غار پر ایک وقت میں دو فرض آگیا*
1) جان بچانا فرض ہے
2) تعظیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرض ہے
وقت ایسا کہ دونوں میں سے ایک پر ہی عمل ہو سکتا تھا جان بچاتے، تعظیم میں خلل آتا اور تعظیم کرتے ہیں تو جان جاتی ہے، پھر وہ تو درسگاہ نبوی کے تعلیم یافتہ فوراً فیصلہ کیا کہ *دونوں فرض میں سب سے بڑا فرض تعظیم مصطفی ہے*
(1) مقام صہبا پر مولا مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم پر بھی ایک ہی وقت میں دو فرض آگیا،
1)نماز فرض ہے اور بھی نماز عصر
2) تعظیم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرض ہے-
دونوں میں سے ایک ہی پر عمل ہو سکتا تھا جگائیں تو نیند میں خلل، نہ جگائیں تو فرض جا رہا ہے، وہ تو باب العلم تھے فورا سمجھ گیے دو فرض جب ایک ساتھ جمع ہوں تو ایسے وقت میں علم ترجیحات کے ذریعہ یہ جانا جاتا ہے کہ سب سے بڑا فرض کیا ہے، چنانچہ آپ نے تعظیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی-
جہاں تک میری معلومات ہے تمام اسلامی احکام میں ترجیحات موجود ہے، اور ہر ایک کے ساتھ زندگی میں سینکڑوں مرتبہ اس قسم کے مسائل پیش آتے ہیں، لیکن علم نہ ہونے کے سبب ہم بڑی فاش غلطی کر جاتے ہیں،
دیکھو، غور کرو،
آج ہم پر کئی فرض ایک وقت میں موجود ہیں، کیا ہم ترجیحات پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا راہبر ترجیحات کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے یہ جاننے کے کوشش کی کہ آج ہم ایسے وقت میں کیا کریں.
مثلاً ازالہ شبہات فرض اعظم ہے،
اب اس فرض کو ہم ، تحریر، تقریر، تدریس، تبلیغ، وغیرہ کے ذریعہ ادا کر سکتے ہیں- جس میں جو صلاحیت ہے وہ اسے بروے کام لا کر اس پر عمل کرے، ایک مقرر پر فرض ہے کہ وہ ایسے وقت میں اپنی زبان سے اسلام کا دفاع، حقانیت اسلام، عظمت دین، ازالہ شبہات کرے - ایک مبلغ پر فرض ہے کہ وہ دل و دماغ میں عظمت دین اسلام ڈالے، ایک مدرس پر فرض ہے کہ *طلبا کو دینی ضروری باتیں* عقلا و نقلا بتاے تاکہ وہ میدان میں نکل کر *ازالہ شبہات کریں* ایک محرر پر فرض ہے کہ وہ اپنے دین کے دفاع پر سارا وقت صرف کرے اب اگر ایسے وقت میں آپ انتہائی اہم فرض کو چھوڑ کر غیر ضروری حتی کہ مباحات و مستحبات میں پڑے ہیں تو اپنا محاسبہ کریں.

شعائر اسلام کو مٹایا یا کم از کم ان کی عظمت پر حملہ ہے
جانِ مسلم انتہائی ارزاں ہو کر رہ گئی ہے.
اسلام اور پیغمبر اسلام پر اے دن کوئی نہ کوئی حملہ ہوتا ہے. کیا ہم ایسے میں شکوک و شبہات میں مبتلا اپنی عوام کا اصلاح کر رہے ہیں؟ کیا ہم غیروں کے کیے ہوئے سوال کا جواب بتا کر اپنوں کو مطمئن کر رہے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مسلمان دین و مذہب کے نام پر لاکھوں روپیہ خرچ کرکے جلسہ کرتے ہیں اس میں سب کچھ ہوتا ہے یہی ازالہ شبہات نہیں ہوتے، ہزاروں کے مجمع میں ہمارے مقرر کیوں دین اسلام کی حقانیت پر عقلی و نقلی دلائل پیش نہیں کرتے؟
پیر اپنی عظمت بتانے کے بجائے اسلام کی حقانیت دلوں میں کیوں نہیں اتارتا؟
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذات مقدسہ پر اعتراض کیا گیا جواب تو درکنار ہم نے بہت سے مولانا حضرات کو عمر ام المومنین کو لے کر شبہات میں مبتلا دیکھا

📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
Forwarded from چینل صدائے حق
*کتابوں میں بھی درجات ہیں*

انبیاء کرام علیہم السلام درجے میں بعض بعض سے بلند ہیں
تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض.

ملائکہ میں بھی بعض بعض سے بلند تر ہیں.
صحابہ کرام میں بھی درجات ہیں،
اولئک اعظم درجة
اولیاے کرام میں بھی کئی درجے ہیں،
یہ مثالیں تقریب فہم کے لیے ہیں ورنہ کہاں یہ اور کہاں وہ.
علوم و فنون بے شمار ہیں، پھر ان پر لکھی گئی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں، دینی علوم ہی دیکھیے اس کے مختلف شعبے ہیں ہر شعبے پر کتابیں ہیں، علم کلام پر کتابیں اشاعرہ ماتریدیہ ہی نے نہیں بلکہ معتزلہ، خوارج، روافض نے بھی لکھے ہیں، علم تفسیر اور تفسیر پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں، علم فقہ پر لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے، لہذا یاد رہے کہ محض کتابوں میں کسی بات کا ہونا کافی نہیں بلکہ اسے عقلاً و نقلا پرکھا اور جانچا بھی جائے گا، آج کل کتابیں دکھا کر مرعوب کرنے کا رواج چل نکلا ہے اب چاہے وہ قول شاذ و متروک ہو یا شطح و تسامح و تفردات بس کتاب میں مل گیا تو اسے دلیل بنا لیا جاتا ہے کہ دیکھو فلاں نے فلاں کتاب میں ایسا لکھا ہے
قارئین کرام :- قرآن کریم میں کوئی حکم ہو تو دیکھا جائے گا کہ آیا وہ ناسخ ہے یا منسوخ، یہی نہیں درجنوں باتیں مزید دیکھی جاتی ہیں، پھر کونسی ایسی کتاب ہے جس پر آنکھ بند کرکے یقین کیا جاے؟ کسی ذات کا معتبر ہونا اور ہے اور اس کی ہر ہر بات کا معتبر ہونا اور، یہی نہیں بعض وقت شخصیت انتہائی معتبر ہوتی ہے اور ان کا قول بعض مسائل میں قابلِ اعتماد نہیں، کبھی کتاب انتہائی معتبر ہوتی ہے لیکن اس میں موجود بعض باتیں قابل عمل نہیں، ایسا بھی ہوتا ہے کہ کتاب غیر معتبر ہو لیکن اس میں بعض باتیں انتہائی معتبر و مستند ہوتی ہیں لہذا اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ قول کسی کا بھی ہو پرکھا اور جانچا جاے گا، کیا رواۃ صحاح پر جرح نہ کیا گیا؟ کیا راویان حدیث کو پرکھا نہ گیا؟ کیا ایسا نہ ہوا کہ بعض شخصیات تقوی و طہارت کے اعتبار سے بلند تر تھیں لیکن بعض معاملات میں ان پر اور ان کے اقوال پر کلام نہ ہوا؟ اگر معتبر شخصیت کی ہر ہر بات معتبر مانی جائے تو اصول اربعہ کی کیا ضرورت؟ احادیث کی درجنوں قسمیں کیوں؟
ذرا سوچیے! جب فقہ و کلام وغیرہ میں موجود باتیں بلا جانچے پرکھے قبول نہیں کی جاتیں تو تاریخ کی باتیں جن کی سند بھی نہ ہو، جن درایتا و روایتا ثابت بھی نہ ہو اسے عقائد و نظریات کے مقابل پیش کرنا جنون خالص نہیں تو کیا ہے؟
چراغ جلا کے میں نے رکھ دیا ہے راہوں میں
اب جو راستہ بھولے یہ اس کی قسمت ہے
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
Forwarded from چینل صدائے حق
نصاب کے متعلق اہم وضاحت

تین موقع پر ہم نصاب کا مسئلہ پوچھتے یا سنتے ہیں
1) مالک نصاب پر زکوٰۃ فرض ہے
2) مالک نصاب پر فطرہ واجب ہے
3) مالک نصاب پر قربانی واجب ہے،

جاننا چاہیے کہ زکوٰۃ "مال نامی" پر ہے اگر مال غیر نامی ہو خواہ کتنا بھی ہو اسے مال زکوٰۃ میں شمار نہیں کیا جاے گا.
جبکہ فطرہ اور قربانی کا" نصاب" بناتے وقت حاجت اصلیہ سے زائد مال بھی شمار کیا جاے گا.

زکوٰۃ کے لیے سال گزرنا شرط ہے.
جبکہ فطرہ و قربانی کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں

زکوٰۃ میں روپیہ، یا اس سے کوئی چیز خرید کر مثلاً کھانا کپڑا بھی دیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جاے گی،
جبکہ قربانی میں قربانی ہی کرنی ہوگی بدل نہیں، اور وقت نکل جاے تو قیمت صدقہ کرنا ہوگا، البتہ صدقہ فطرہ میں آپ قیمت دیں یا گیہوں وغیرہ،
آپ زکوٰۃ نکالنا چاہتے ہیں؟
تو ایسا کیجیے کہ کاغذ پر لکھیے
1) میرے پاس سونا اتنا ہے اور اس کی موجودہ قیمت یہ ہے،
نوٹ:- سونا زیور کی شکل میں ہو، یا بسکٹ یا برتن ڈبیہ وغیرہ، البتہ "گروی " (رہن) رکھا ہوا شمار نہ ہوگا
2)میرے پاس چاندی اتنی ہے اور موجودہ قیمت یہ ہے.
نوٹ:- چاندی کسی بھی شکل میں خواہ زیور ہو یا برتن وغیرہ ہاں گروی شمار نہ ہوگا
3) روپیہ خواہ ملکی ہو یا غیر ملکی، کیش اتنا ہے، بینک میں جمع اتنا ہے، قرض اتنا دے رکھا ہوں، فلاں اتنا باقی ہے
4) مال تجارت تجارت جو میرے پاس آج موجود ہے اس کی آج کے حساب سے کل اتنی قیمت بنتی ہے

اس کے علاوہ کوئی مال شمار نہ ہوگا

ان کی موجودہ قیمت نکال کر ٹوٹل کر لیجیے
اب آپ پر جو قرض ہیں، اسے گھٹائیں باقی جو بچے اس سے ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ نکال دیجیے.
نوٹ:- مختصر لکھا ہوں تفصیل میسج وغیرہ کے ذریعہ سے معلوم کر سکتے ہیں
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
*اس پر زکوٰۃ نہیں*

رہنے کا مکان خواہ کتنا ہی بڑا ہو
کرایہ پر دیا گیا مکان خواہ کتنے بھی ہوں
کرایہ پر دی ہوئی دکان خواہ کتنی بھی ہو
بس، ٹرک، کار، موٹر سائیکل، سائیکل جو خود چلانے یا چلا کر پیسہ کمانے کے لیے ہو اب یہ ایک ہو یا انیک

آپ کا جو پیشہ ہے اس کے لیے جو آلات، مشین وغیرہ لگتے ہیں وہ خواہ کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہو


آپ نے زمین لے رکھی ہے جو کبھی آپ گھر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا دکان وغیرہ بنانے کا.

کولر، پنکھا، واشنگ مشین، فریج، موبائل، برتن وغیرہ خواہ کتنے ہی مہنگے کیوں نہ ہوں

نوٹ:- اصل یہ ساری چیزیں حاجت اصلیہ میں شمار ہوتی ہیں اور اگر اس سے زائد بھی ہوں تو مال نامی نہیں، ہاں زائد ہونے کی صورت میں اس مال کا شمار صدقہ فطر و قربانی میں کیا جاے گا.
ہاں اس سے جو کمائی ہو اور اس پر سال گزرے اس پر یا پہلے نصاب سے مل کر زکوٰۃ ہوگی

حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی