مراقبہ کی کیفیت:
آپ کا تصرف قوی تھا۔ اپنے مخلصوں کی حاجت برآری کے لیے توجہ فرمایا کرتے تھے۔ ایسا کم ہوتا کہ توجہ سے مراد پوری نہ ہوتی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک عورت نے عرض کیا کہ میری لڑکی کو جن اُٹھا لے گئے ہیں۔ ہر چند عمل و عزائم پڑھے گئے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آپ توجہ فرمائیں۔ آپ نے دیر تک مراقبہ کر کے فرمایا کہ فلاں وقت تیری لڑکی آجائے گی۔ چنانچہ ویسا ہی وقوع میں آیا۔ لڑکی سے ماجرا دریافت کیا گیا تو اُس نے کہا کہ میں ایک صحرا میں تھی۔
ایک بزرگ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے یہاں لے آیا۔ کسی شخص نے آپ سے مراقبہ کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا کہ مراقبہ میں میں نے جناب الٰہی میں عرض کی تھی کہ اگر میری دعا و توجہ میں اثر ہو تو کروں۔ جب الہام الٰہی سے مجھے معلوم ہوگیا کہ فقیر کی ہمت اس امر میں اثر رکھتی ہے تو میں نے کہہ دیا کہ لڑکی آجائے گی۔
نور فراست:
آپ کا ہر عمل رضائے خدا کے موافق تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ دو رافضی عورتیں مرید ہونے کے لیے حاضر خدمت ہوئیں۔ آپ نے نورِ فراست سے اُن کا حال معلوم کر کے فرمایا کہ تم پہلے عقیدہ بد سے توبہ کرو۔ اُن میں سے ایک آپ کے کمال کی قائل ہوکر داخل طریق ہوگئی۔ اور دوسری کو توفیق نہ ہوئی۔
گناہ سے بچا لیا:
آپ کا ایک مخلص ہواے نفسانی سے چاہتا تھا کہ مرتکب زنا ہو۔ اسی اثنا میں آپ کی صورت مثالی حاضر ہوکر درمیان میں حائل ہوگئی۔ عورت تو دہشت سے ایک گوشہ میں جا چھپی اور دہ مخلص تائب ہوگیا۔ اور مارے ندامت کے مدت تک حاضرِ خدمت نہ ہوا۔
نسبت باطنی کی کیفیت:
ایک دفعہ آپ کے قیام گاہ کے قریب ایک بھنگ فروش نے دوکان کھولی۔ آپ نے فرمایا کہ بھنگ کی ظلمت نے ہماری نسبتِ باطن کو مکدر کردیا۔ یہ سُن کر ارادتمندوں نے اُس پر سختی کی اور دکان خراب کردی۔ آپ نے فرمایا کہ نسبت باطنی اب پہلے سے زیادہ مکدر ہوگئی۔ کیونکہ خلاف شرع احتساب وقوع میں آیا ہے۔ پہلے نرمی سے اُسے توبہ کرانی چاہیے تھی۔ اگر وہ تائب نہ ہوتا تو سختی سے منع کرتے۔ پس آپ نے اُسے تلاش کر کے بلوایا۔ اور مریدوں کی جرأت کی معافی مانگی۔ اور بڑی نرمی سے فرمایا کہ خلافِ شرع پیشہ اچھا نہیں۔ کوئی مباح پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔ وہ یہ دیکھ کر تائب ہوگیا اور داخل طریق ہوگیا۔الغرض اخلاق وتعلیماتِ مصطفوی کےپیکرِ جمیل تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 11/ ذیقعدہ 1135ھ میں ہوئی اور دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار مبارک کے قریب نواب مکرم خاں کے باغ میں مدفون ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ مقامات مظہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-noor-muhammad-badayuni
آپ کا تصرف قوی تھا۔ اپنے مخلصوں کی حاجت برآری کے لیے توجہ فرمایا کرتے تھے۔ ایسا کم ہوتا کہ توجہ سے مراد پوری نہ ہوتی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک عورت نے عرض کیا کہ میری لڑکی کو جن اُٹھا لے گئے ہیں۔ ہر چند عمل و عزائم پڑھے گئے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آپ توجہ فرمائیں۔ آپ نے دیر تک مراقبہ کر کے فرمایا کہ فلاں وقت تیری لڑکی آجائے گی۔ چنانچہ ویسا ہی وقوع میں آیا۔ لڑکی سے ماجرا دریافت کیا گیا تو اُس نے کہا کہ میں ایک صحرا میں تھی۔
ایک بزرگ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے یہاں لے آیا۔ کسی شخص نے آپ سے مراقبہ کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا کہ مراقبہ میں میں نے جناب الٰہی میں عرض کی تھی کہ اگر میری دعا و توجہ میں اثر ہو تو کروں۔ جب الہام الٰہی سے مجھے معلوم ہوگیا کہ فقیر کی ہمت اس امر میں اثر رکھتی ہے تو میں نے کہہ دیا کہ لڑکی آجائے گی۔
نور فراست:
آپ کا ہر عمل رضائے خدا کے موافق تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ دو رافضی عورتیں مرید ہونے کے لیے حاضر خدمت ہوئیں۔ آپ نے نورِ فراست سے اُن کا حال معلوم کر کے فرمایا کہ تم پہلے عقیدہ بد سے توبہ کرو۔ اُن میں سے ایک آپ کے کمال کی قائل ہوکر داخل طریق ہوگئی۔ اور دوسری کو توفیق نہ ہوئی۔
گناہ سے بچا لیا:
آپ کا ایک مخلص ہواے نفسانی سے چاہتا تھا کہ مرتکب زنا ہو۔ اسی اثنا میں آپ کی صورت مثالی حاضر ہوکر درمیان میں حائل ہوگئی۔ عورت تو دہشت سے ایک گوشہ میں جا چھپی اور دہ مخلص تائب ہوگیا۔ اور مارے ندامت کے مدت تک حاضرِ خدمت نہ ہوا۔
نسبت باطنی کی کیفیت:
ایک دفعہ آپ کے قیام گاہ کے قریب ایک بھنگ فروش نے دوکان کھولی۔ آپ نے فرمایا کہ بھنگ کی ظلمت نے ہماری نسبتِ باطن کو مکدر کردیا۔ یہ سُن کر ارادتمندوں نے اُس پر سختی کی اور دکان خراب کردی۔ آپ نے فرمایا کہ نسبت باطنی اب پہلے سے زیادہ مکدر ہوگئی۔ کیونکہ خلاف شرع احتساب وقوع میں آیا ہے۔ پہلے نرمی سے اُسے توبہ کرانی چاہیے تھی۔ اگر وہ تائب نہ ہوتا تو سختی سے منع کرتے۔ پس آپ نے اُسے تلاش کر کے بلوایا۔ اور مریدوں کی جرأت کی معافی مانگی۔ اور بڑی نرمی سے فرمایا کہ خلافِ شرع پیشہ اچھا نہیں۔ کوئی مباح پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔ وہ یہ دیکھ کر تائب ہوگیا اور داخل طریق ہوگیا۔الغرض اخلاق وتعلیماتِ مصطفوی کےپیکرِ جمیل تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 11/ ذیقعدہ 1135ھ میں ہوئی اور دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار مبارک کے قریب نواب مکرم خاں کے باغ میں مدفون ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ مقامات مظہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-noor-muhammad-badayuni
scholars.pk
Sheikh Syed Noor Muhammad Badayanwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
والدِ غوث الاعظم، حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ ۔ کنیت: ابو صالح ۔ لقب: جنگی دوست ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبد اللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبد اللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 27 / رجب المرجب 400ھ، بمطابق 9 / اپریل 648ء کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو آذر بائیجان کے ساتھ ہے) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے ۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ربانیین میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے ۔
جنگی دوست کی وجہ تسمیہ:
"جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کو دوست رکھتے تھے۔
" ریاض الحیات " میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے ۔
چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی ، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء ومساکین کو بلا کر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جو کی روٹی اور گرم پانی بہت ہے ۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو ۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں ۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا ۔ جب سے آپ کا لقب " جنگی دوست" ہو گیا ۔ (سیرتِ غوث الاعظم)
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، والدِ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس ، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے ـ آپکا چہرہ مبارک انوار بانی کا مرقع تھا ۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تووہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی ۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔
اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو ۔ جب کسی محفل میں حضور سید الانبیاء ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو ، ہر آن پرور دگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک11 / ذوالقعدہ 489 ھ، بمطابق 30 / اکتوبر 1096ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
سیرتِ غوث الاعظم ۔ تذکرہ قادریہ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-saleh-mosa-jangi-dost
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ ۔ کنیت: ابو صالح ۔ لقب: جنگی دوست ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبد اللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبد اللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 27 / رجب المرجب 400ھ، بمطابق 9 / اپریل 648ء کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو آذر بائیجان کے ساتھ ہے) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے ۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ربانیین میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے ۔
جنگی دوست کی وجہ تسمیہ:
"جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کو دوست رکھتے تھے۔
" ریاض الحیات " میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے ۔
چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی ، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء ومساکین کو بلا کر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جو کی روٹی اور گرم پانی بہت ہے ۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو ۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں ۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا ۔ جب سے آپ کا لقب " جنگی دوست" ہو گیا ۔ (سیرتِ غوث الاعظم)
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، والدِ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس ، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے ـ آپکا چہرہ مبارک انوار بانی کا مرقع تھا ۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تووہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی ۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔
اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو ۔ جب کسی محفل میں حضور سید الانبیاء ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو ، ہر آن پرور دگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک11 / ذوالقعدہ 489 ھ، بمطابق 30 / اکتوبر 1096ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
سیرتِ غوث الاعظم ۔ تذکرہ قادریہ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-saleh-mosa-jangi-dost
scholars.pk
Hazrat Syed Abu Saleh Musa Jangi Dost
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1