مولانا سیداحمدچٹاگانگ میں مدرسہ قائم کرنےکےباوجوداپنےشیخ و مرشد کےقائم کردہ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں دلچسپی لیتےرہے۔چنانچہ دار العلوم کی موجودہ بلند و بالا عمار ت میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔اسی طرح پیرومرشدکی کتاب’’مجموعہ صلوٰ ۃ الرسول‘‘کثیر رقم خرچ کرکےاسےپہلی بارچھپوایا۔ورنہ نامعلوم یہ کتاب بھی دیگراکابرین کےمخطوطات کی طرح ناپید ہوجاتی۔آپ نےتقریباًسولہ سال تک مشرقی پاکستان میں قیام کیا۔اس عرصےمیں بلا مبالغہ لاکھوں افراد حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے۔آپ کےمریدین کا امتیازی نشان مسلک اہل سنت پر ثابق قدمی،پاکستان سےسچی محبت اور دین ِمتین کے ساتھ گہرا لگاؤتھا۔اس جگہ یہ امر قابل ذکر ہےکہ شہید ِو فاجناب فضل القادر چودھری مرحوم آپ کے نیاز مندوں میں سے تھے[7]۔انہوں نےدارالعلوم رحمانیہ کاحسن انتظام دیکھا تو محکمہ تعلیم سےپچاس ہزارروپے کی گرانقدر رقم دارالعلوم کومرحمت فرمائی۔سابق صدرپاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں مرحوم نےدارالعلوم کاوزٹ کیااورایک جم غفیرسےخطاب فرمایا،اور دولاکھ رقم عطیہ دیا[8]۔
آپنےتمام عمر ذکر الہی،عبادات،تبلیغ اسلام،اقامتِ دین،خدمتِ خلق اور اشاعت سلسلہ عالیہ قادریہ میں گزاری۔تقریباً سوبرس عمر پائی مگر وفات تک ایک لمحہ بھی غفلت وسستی میں نہیں گزرا۔آپ ہمت،استقلال،صبراور شکرکےپیکرتھے۔آپ سےسینکڑوں کرامات کاظہور ہوا۔مگرآپ استقامت فی الدین کوکرامت پر ترجیح دیتےتھے۔آپ کے دوفرزند ہوئے ۔ بڑے فرزند حافظ سید محمد طیب صاحب، شریعت و طریقت میں بلند مقام رکھتے تھے ۔ والد کے حقیقی جانشین اور ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز جمعرات، 11 / ذیقعدہ 1380ھ، مطابق 27 / اپریل1961ء کو ہوا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ ہری پور شہر سے
مغرب کی جانب اٹھارہ میل کے فاصلے پر ’’ شتالو شریف، سری کوٹ‘‘ میں ہے ۔
[1] تذکرہ علماء ومشائخِ سرحدجلد دوم:289 / تذکرہ اکابر علماءِ اہل سنت:169
[2] تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد جلد دوم:289
[3] تذکرہ علمائے اہل سنت:48 / تذکرہ اکابر اہل سنت:169
[4] راریخ محمد مظہر صدیقی قادری ، مولانا : مجموعہ شجرئہ عالیہ قادریہ حافظیہ ، مطبوعہ ۱۳۹۵ھ ، ص ۹
[5] تذکرہ علماء ومشائخ سر حد جلددوم:290
[6] تذکرہ اکابر اہل سنت : 170
[7] تذکرہ اکابر اہل سنت : 170
[8] تذکرہ علماء و مشائخِ سرحد جلد دوم، ص: 290 / تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:48
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ahmed-sarikoti
آپنےتمام عمر ذکر الہی،عبادات،تبلیغ اسلام،اقامتِ دین،خدمتِ خلق اور اشاعت سلسلہ عالیہ قادریہ میں گزاری۔تقریباً سوبرس عمر پائی مگر وفات تک ایک لمحہ بھی غفلت وسستی میں نہیں گزرا۔آپ ہمت،استقلال،صبراور شکرکےپیکرتھے۔آپ سےسینکڑوں کرامات کاظہور ہوا۔مگرآپ استقامت فی الدین کوکرامت پر ترجیح دیتےتھے۔آپ کے دوفرزند ہوئے ۔ بڑے فرزند حافظ سید محمد طیب صاحب، شریعت و طریقت میں بلند مقام رکھتے تھے ۔ والد کے حقیقی جانشین اور ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز جمعرات، 11 / ذیقعدہ 1380ھ، مطابق 27 / اپریل1961ء کو ہوا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ ہری پور شہر سے
مغرب کی جانب اٹھارہ میل کے فاصلے پر ’’ شتالو شریف، سری کوٹ‘‘ میں ہے ۔
[1] تذکرہ علماء ومشائخِ سرحدجلد دوم:289 / تذکرہ اکابر علماءِ اہل سنت:169
[2] تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد جلد دوم:289
[3] تذکرہ علمائے اہل سنت:48 / تذکرہ اکابر اہل سنت:169
[4] راریخ محمد مظہر صدیقی قادری ، مولانا : مجموعہ شجرئہ عالیہ قادریہ حافظیہ ، مطبوعہ ۱۳۹۵ھ ، ص ۹
[5] تذکرہ علماء ومشائخ سر حد جلددوم:290
[6] تذکرہ اکابر اہل سنت : 170
[7] تذکرہ اکابر اہل سنت : 170
[8] تذکرہ علماء و مشائخِ سرحد جلد دوم، ص: 290 / تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:48
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ahmed-sarikoti
scholars.pk
Hazrat Molana Syed Ahmed Sarikoti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ نور محمد بدایونی۔لقب:عالم کامل،عارفِ واصل۔سلسلہ نسب:آپ خاندان ساداتِ کرام کےروشن چراغ تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کسی کتاب میں میسر نہیں۔تقریباً دسویں صدی ہجری کےربع اخیرمیں ہوئی ہوگی۔
تحصیلِ علم:
تمام علوم ظاہری میں کمال تھا۔تفسیر، حدیث، فقہ اور تصوف میں مہارتِ تامہ حاصل تھا۔بالخصوص فقہ کی جزئیات ادلہ کےساتھ یادتھیں۔ظاہر وباطن میں نور علی نور تھے۔
بیعت و خلافت:
سید السادات حضرت سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ عالم ظاہر و باطن اور فقیہ کامل تھے آپ نے کسب مقامات سلوک حضرت شیخ محمد سیف الدین قدس سرہ سے کیا۔ اور کئی سال حضرت حافظ محسن کی خدمت میں بھی رہے۔ جو حضرت عروۃ الوثقیٰ کے خلیفہ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی اولاد سے تھے۔ اور حالاتِ عالیہ اور مقامات ارجمند سے مشرف ہوئے۔ آپ کو استغراق بہت تھا۔ پندرہ سال وقت نماز کے سوا کسی وقت آپ کو افاقہ نہ ہوتا تھا۔ نماز کے بعد پھر مغلوب الحال ہوجاتے تھے۔ آخر میں افاقہ ہوگیا تھا۔ کثرت مراقبہ سے آپ کی پشت مبارک خم ہوگئی تھی۔ (تاریخ مشائخِ نقشبندیہ:435۔ازپروفیسر عبدالرسول للّٰہی)
سیرت و خصائص:
جامع علومِ ظاہریہ وباطنیہ،کامل علوم ومعارف اسرار ربانیہ،حضرت سید نور محمد بدایونی۔آپسلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےشیخِ کامل تھے۔آپنےسلسلہ عالیہ کےترویج وفروغ میں اہم کردار اداکیا۔آپ کی توجہ سےحضرت مرزامظہر جان جاناں جیسی عظیم شخصیت تیارہوئیں،اور ان کی صحبت سےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتینکھر کرآئے،اورانہوں نے’’تفسیرِ مظہری‘‘ جیسی عظیم تفسیر امت کوعطاء فرمائی۔
احتیاط و تقویٰ:
آپ کمالِ تقویٰ اور اتباع ِسنت میں ممتاز تھے۔رسول اللہ ﷺ کے آداب و عادات کا نہایت التزام و اہتمام تھا۔ کتب سیر و اخلاق نبوی پیش نظر رہتی تھیں۔ ان کے موافق عمل کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ بیت الخلا میں پہلے دایاں پاؤں رکھا۔ تین دن تک احوال باطنی میں قبض رہی۔ بہت تضرع کے بعد حالت بسط پیدا ہوئی۔آپ لقمہ میں نہایت احتیاط کرتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے کئی دن کا کھانا پکالیا کرتے۔ اور بھوک کی شدت کے وقت اُسی میں سے کچھ کھالیا کرتے۔ فرماتے تھے کہ تین سال سے طبیعت کا تعلق کیفیت عذا سے نہیں رہا۔ ضرورت کے وقت جو مل جاتا ہے کھالیتے ہیں۔ کمال اتباع سنت کے سبب سے آپ دو سالن کے اجتماع کو بدعت سمجھ کر ایک صاحبزادے کو گھی اور دوسرے کو شکر دیا کرتے۔ امیروں کے گھر کا کھانا کبھی نہ کھاتے تھے۔ کیونکہ وہ اکثر شبہ کی ظلمت سے خالی نہیں ہوتا۔ایک دفعہ کسی دنیا دار کے گھر سے کھانا آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں ظلمت معلوم ہوتی ہے اور براہِ نوازش اپنے خلیفہ مرزا مظہر جان جاناں سے فرمایا کہ تم بھی اس کھانے میں غور کرو۔ مرزا ممدوح نے متوجہ ہوکر عرض کیا کہ کھانا وجہ حلال سے ہے۔ مگر ریا کی نیت کے سبب سے اس میں کچھ عفونت پیدا ہوگئی ہے۔ نواب مکرم خاں جو حضرت شاہ نقشبندی کی اولاد سے تھے۔ اور حضرت عروۃ الوثقیٰ کے مرید تھے ان کے کھانے میں بہت تکلفات ہوا کرتے اور حد اسراف تک پہنچ جاتے۔ مگر حضرت سید باوجود احتیاط کمال تقویٰ کے اُن کا کھانا کبھی کبھی بطور تبرک کھالیا کرتے اور فرماتے کہ ان کے کھانے کی برکتوں سے اس قدر نور باطنی زیادہ ہوتا ہے کہ گویا ہم نے کھایا نہیں دورکعت نماز پڑھی ہے۔ اپنے پیر کی محبت کے غلبہ اور انوار نسبت کے ظہور کے سبب سے نواب موصوف کی تمام چیزیں نور ہوگئی تھیں ۔ (ایضا:436) اگر آپ دنیا داروں کے گھر سے کوئی کتاب بطور عاریت منگواتے تھے تو تین روز تک اُس کا مطالعہ نہ کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ اُن کی صحبت کی ظلمت مثل غلاف کے اُس پر لپیٹی ہوئی ہے۔ جب آپ کی صحبت مبارک کی برکت سے وہ ظلمت زائل ہوجاتی تو مطالعہ فرماتے۔
مکاشفات و کرامات:
آپ کے مکشوفات بہت صحیح اور مطابق واقع ہوا کرتے تھے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو چشمِ سر سے ویسا محسوس نہیں ہوتا جیسا کہ آپ کو چشمِ دل سے نظر آتا تھا۔ چنانچہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید ناقل ہیں کہ ایک دن میں اپنے مُرشد حضرت سید السادات سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں دیکھا کہ حضرت خوش بیٹھے ہیں۔ میں نے سبب دریافت کیا۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ آج میں نے بہت سے پنکھے فقیروں میں تقسیم کیے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس عمل کی قبولیت کے سبب سے جناب الٰہی سے بکثرت فیوض و برکات مثل بارش کے برس رہے ہیں۔
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ نور محمد بدایونی۔لقب:عالم کامل،عارفِ واصل۔سلسلہ نسب:آپ خاندان ساداتِ کرام کےروشن چراغ تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کسی کتاب میں میسر نہیں۔تقریباً دسویں صدی ہجری کےربع اخیرمیں ہوئی ہوگی۔
تحصیلِ علم:
تمام علوم ظاہری میں کمال تھا۔تفسیر، حدیث، فقہ اور تصوف میں مہارتِ تامہ حاصل تھا۔بالخصوص فقہ کی جزئیات ادلہ کےساتھ یادتھیں۔ظاہر وباطن میں نور علی نور تھے۔
بیعت و خلافت:
سید السادات حضرت سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ عالم ظاہر و باطن اور فقیہ کامل تھے آپ نے کسب مقامات سلوک حضرت شیخ محمد سیف الدین قدس سرہ سے کیا۔ اور کئی سال حضرت حافظ محسن کی خدمت میں بھی رہے۔ جو حضرت عروۃ الوثقیٰ کے خلیفہ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی اولاد سے تھے۔ اور حالاتِ عالیہ اور مقامات ارجمند سے مشرف ہوئے۔ آپ کو استغراق بہت تھا۔ پندرہ سال وقت نماز کے سوا کسی وقت آپ کو افاقہ نہ ہوتا تھا۔ نماز کے بعد پھر مغلوب الحال ہوجاتے تھے۔ آخر میں افاقہ ہوگیا تھا۔ کثرت مراقبہ سے آپ کی پشت مبارک خم ہوگئی تھی۔ (تاریخ مشائخِ نقشبندیہ:435۔ازپروفیسر عبدالرسول للّٰہی)
سیرت و خصائص:
جامع علومِ ظاہریہ وباطنیہ،کامل علوم ومعارف اسرار ربانیہ،حضرت سید نور محمد بدایونی۔آپسلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےشیخِ کامل تھے۔آپنےسلسلہ عالیہ کےترویج وفروغ میں اہم کردار اداکیا۔آپ کی توجہ سےحضرت مرزامظہر جان جاناں جیسی عظیم شخصیت تیارہوئیں،اور ان کی صحبت سےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتینکھر کرآئے،اورانہوں نے’’تفسیرِ مظہری‘‘ جیسی عظیم تفسیر امت کوعطاء فرمائی۔
احتیاط و تقویٰ:
آپ کمالِ تقویٰ اور اتباع ِسنت میں ممتاز تھے۔رسول اللہ ﷺ کے آداب و عادات کا نہایت التزام و اہتمام تھا۔ کتب سیر و اخلاق نبوی پیش نظر رہتی تھیں۔ ان کے موافق عمل کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ بیت الخلا میں پہلے دایاں پاؤں رکھا۔ تین دن تک احوال باطنی میں قبض رہی۔ بہت تضرع کے بعد حالت بسط پیدا ہوئی۔آپ لقمہ میں نہایت احتیاط کرتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے کئی دن کا کھانا پکالیا کرتے۔ اور بھوک کی شدت کے وقت اُسی میں سے کچھ کھالیا کرتے۔ فرماتے تھے کہ تین سال سے طبیعت کا تعلق کیفیت عذا سے نہیں رہا۔ ضرورت کے وقت جو مل جاتا ہے کھالیتے ہیں۔ کمال اتباع سنت کے سبب سے آپ دو سالن کے اجتماع کو بدعت سمجھ کر ایک صاحبزادے کو گھی اور دوسرے کو شکر دیا کرتے۔ امیروں کے گھر کا کھانا کبھی نہ کھاتے تھے۔ کیونکہ وہ اکثر شبہ کی ظلمت سے خالی نہیں ہوتا۔ایک دفعہ کسی دنیا دار کے گھر سے کھانا آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں ظلمت معلوم ہوتی ہے اور براہِ نوازش اپنے خلیفہ مرزا مظہر جان جاناں سے فرمایا کہ تم بھی اس کھانے میں غور کرو۔ مرزا ممدوح نے متوجہ ہوکر عرض کیا کہ کھانا وجہ حلال سے ہے۔ مگر ریا کی نیت کے سبب سے اس میں کچھ عفونت پیدا ہوگئی ہے۔ نواب مکرم خاں جو حضرت شاہ نقشبندی کی اولاد سے تھے۔ اور حضرت عروۃ الوثقیٰ کے مرید تھے ان کے کھانے میں بہت تکلفات ہوا کرتے اور حد اسراف تک پہنچ جاتے۔ مگر حضرت سید باوجود احتیاط کمال تقویٰ کے اُن کا کھانا کبھی کبھی بطور تبرک کھالیا کرتے اور فرماتے کہ ان کے کھانے کی برکتوں سے اس قدر نور باطنی زیادہ ہوتا ہے کہ گویا ہم نے کھایا نہیں دورکعت نماز پڑھی ہے۔ اپنے پیر کی محبت کے غلبہ اور انوار نسبت کے ظہور کے سبب سے نواب موصوف کی تمام چیزیں نور ہوگئی تھیں ۔ (ایضا:436) اگر آپ دنیا داروں کے گھر سے کوئی کتاب بطور عاریت منگواتے تھے تو تین روز تک اُس کا مطالعہ نہ کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ اُن کی صحبت کی ظلمت مثل غلاف کے اُس پر لپیٹی ہوئی ہے۔ جب آپ کی صحبت مبارک کی برکت سے وہ ظلمت زائل ہوجاتی تو مطالعہ فرماتے۔
مکاشفات و کرامات:
آپ کے مکشوفات بہت صحیح اور مطابق واقع ہوا کرتے تھے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو چشمِ سر سے ویسا محسوس نہیں ہوتا جیسا کہ آپ کو چشمِ دل سے نظر آتا تھا۔ چنانچہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید ناقل ہیں کہ ایک دن میں اپنے مُرشد حضرت سید السادات سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں دیکھا کہ حضرت خوش بیٹھے ہیں۔ میں نے سبب دریافت کیا۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ آج میں نے بہت سے پنکھے فقیروں میں تقسیم کیے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس عمل کی قبولیت کے سبب سے جناب الٰہی سے بکثرت فیوض و برکات مثل بارش کے برس رہے ہیں۔
❤1
مراقبہ کی کیفیت:
آپ کا تصرف قوی تھا۔ اپنے مخلصوں کی حاجت برآری کے لیے توجہ فرمایا کرتے تھے۔ ایسا کم ہوتا کہ توجہ سے مراد پوری نہ ہوتی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک عورت نے عرض کیا کہ میری لڑکی کو جن اُٹھا لے گئے ہیں۔ ہر چند عمل و عزائم پڑھے گئے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آپ توجہ فرمائیں۔ آپ نے دیر تک مراقبہ کر کے فرمایا کہ فلاں وقت تیری لڑکی آجائے گی۔ چنانچہ ویسا ہی وقوع میں آیا۔ لڑکی سے ماجرا دریافت کیا گیا تو اُس نے کہا کہ میں ایک صحرا میں تھی۔
ایک بزرگ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے یہاں لے آیا۔ کسی شخص نے آپ سے مراقبہ کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا کہ مراقبہ میں میں نے جناب الٰہی میں عرض کی تھی کہ اگر میری دعا و توجہ میں اثر ہو تو کروں۔ جب الہام الٰہی سے مجھے معلوم ہوگیا کہ فقیر کی ہمت اس امر میں اثر رکھتی ہے تو میں نے کہہ دیا کہ لڑکی آجائے گی۔
نور فراست:
آپ کا ہر عمل رضائے خدا کے موافق تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ دو رافضی عورتیں مرید ہونے کے لیے حاضر خدمت ہوئیں۔ آپ نے نورِ فراست سے اُن کا حال معلوم کر کے فرمایا کہ تم پہلے عقیدہ بد سے توبہ کرو۔ اُن میں سے ایک آپ کے کمال کی قائل ہوکر داخل طریق ہوگئی۔ اور دوسری کو توفیق نہ ہوئی۔
گناہ سے بچا لیا:
آپ کا ایک مخلص ہواے نفسانی سے چاہتا تھا کہ مرتکب زنا ہو۔ اسی اثنا میں آپ کی صورت مثالی حاضر ہوکر درمیان میں حائل ہوگئی۔ عورت تو دہشت سے ایک گوشہ میں جا چھپی اور دہ مخلص تائب ہوگیا۔ اور مارے ندامت کے مدت تک حاضرِ خدمت نہ ہوا۔
نسبت باطنی کی کیفیت:
ایک دفعہ آپ کے قیام گاہ کے قریب ایک بھنگ فروش نے دوکان کھولی۔ آپ نے فرمایا کہ بھنگ کی ظلمت نے ہماری نسبتِ باطن کو مکدر کردیا۔ یہ سُن کر ارادتمندوں نے اُس پر سختی کی اور دکان خراب کردی۔ آپ نے فرمایا کہ نسبت باطنی اب پہلے سے زیادہ مکدر ہوگئی۔ کیونکہ خلاف شرع احتساب وقوع میں آیا ہے۔ پہلے نرمی سے اُسے توبہ کرانی چاہیے تھی۔ اگر وہ تائب نہ ہوتا تو سختی سے منع کرتے۔ پس آپ نے اُسے تلاش کر کے بلوایا۔ اور مریدوں کی جرأت کی معافی مانگی۔ اور بڑی نرمی سے فرمایا کہ خلافِ شرع پیشہ اچھا نہیں۔ کوئی مباح پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔ وہ یہ دیکھ کر تائب ہوگیا اور داخل طریق ہوگیا۔الغرض اخلاق وتعلیماتِ مصطفوی کےپیکرِ جمیل تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 11/ ذیقعدہ 1135ھ میں ہوئی اور دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار مبارک کے قریب نواب مکرم خاں کے باغ میں مدفون ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ مقامات مظہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-noor-muhammad-badayuni
آپ کا تصرف قوی تھا۔ اپنے مخلصوں کی حاجت برآری کے لیے توجہ فرمایا کرتے تھے۔ ایسا کم ہوتا کہ توجہ سے مراد پوری نہ ہوتی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک عورت نے عرض کیا کہ میری لڑکی کو جن اُٹھا لے گئے ہیں۔ ہر چند عمل و عزائم پڑھے گئے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آپ توجہ فرمائیں۔ آپ نے دیر تک مراقبہ کر کے فرمایا کہ فلاں وقت تیری لڑکی آجائے گی۔ چنانچہ ویسا ہی وقوع میں آیا۔ لڑکی سے ماجرا دریافت کیا گیا تو اُس نے کہا کہ میں ایک صحرا میں تھی۔
ایک بزرگ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے یہاں لے آیا۔ کسی شخص نے آپ سے مراقبہ کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا کہ مراقبہ میں میں نے جناب الٰہی میں عرض کی تھی کہ اگر میری دعا و توجہ میں اثر ہو تو کروں۔ جب الہام الٰہی سے مجھے معلوم ہوگیا کہ فقیر کی ہمت اس امر میں اثر رکھتی ہے تو میں نے کہہ دیا کہ لڑکی آجائے گی۔
نور فراست:
آپ کا ہر عمل رضائے خدا کے موافق تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ دو رافضی عورتیں مرید ہونے کے لیے حاضر خدمت ہوئیں۔ آپ نے نورِ فراست سے اُن کا حال معلوم کر کے فرمایا کہ تم پہلے عقیدہ بد سے توبہ کرو۔ اُن میں سے ایک آپ کے کمال کی قائل ہوکر داخل طریق ہوگئی۔ اور دوسری کو توفیق نہ ہوئی۔
گناہ سے بچا لیا:
آپ کا ایک مخلص ہواے نفسانی سے چاہتا تھا کہ مرتکب زنا ہو۔ اسی اثنا میں آپ کی صورت مثالی حاضر ہوکر درمیان میں حائل ہوگئی۔ عورت تو دہشت سے ایک گوشہ میں جا چھپی اور دہ مخلص تائب ہوگیا۔ اور مارے ندامت کے مدت تک حاضرِ خدمت نہ ہوا۔
نسبت باطنی کی کیفیت:
ایک دفعہ آپ کے قیام گاہ کے قریب ایک بھنگ فروش نے دوکان کھولی۔ آپ نے فرمایا کہ بھنگ کی ظلمت نے ہماری نسبتِ باطن کو مکدر کردیا۔ یہ سُن کر ارادتمندوں نے اُس پر سختی کی اور دکان خراب کردی۔ آپ نے فرمایا کہ نسبت باطنی اب پہلے سے زیادہ مکدر ہوگئی۔ کیونکہ خلاف شرع احتساب وقوع میں آیا ہے۔ پہلے نرمی سے اُسے توبہ کرانی چاہیے تھی۔ اگر وہ تائب نہ ہوتا تو سختی سے منع کرتے۔ پس آپ نے اُسے تلاش کر کے بلوایا۔ اور مریدوں کی جرأت کی معافی مانگی۔ اور بڑی نرمی سے فرمایا کہ خلافِ شرع پیشہ اچھا نہیں۔ کوئی مباح پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔ وہ یہ دیکھ کر تائب ہوگیا اور داخل طریق ہوگیا۔الغرض اخلاق وتعلیماتِ مصطفوی کےپیکرِ جمیل تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 11/ ذیقعدہ 1135ھ میں ہوئی اور دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار مبارک کے قریب نواب مکرم خاں کے باغ میں مدفون ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ مقامات مظہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-noor-muhammad-badayuni
scholars.pk
Sheikh Syed Noor Muhammad Badayanwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
والدِ غوث الاعظم، حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ ۔ کنیت: ابو صالح ۔ لقب: جنگی دوست ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبد اللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبد اللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 27 / رجب المرجب 400ھ، بمطابق 9 / اپریل 648ء کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو آذر بائیجان کے ساتھ ہے) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے ۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ربانیین میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے ۔
جنگی دوست کی وجہ تسمیہ:
"جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کو دوست رکھتے تھے۔
" ریاض الحیات " میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے ۔
چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی ، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء ومساکین کو بلا کر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جو کی روٹی اور گرم پانی بہت ہے ۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو ۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں ۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا ۔ جب سے آپ کا لقب " جنگی دوست" ہو گیا ۔ (سیرتِ غوث الاعظم)
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، والدِ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس ، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے ـ آپکا چہرہ مبارک انوار بانی کا مرقع تھا ۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تووہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی ۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔
اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو ۔ جب کسی محفل میں حضور سید الانبیاء ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو ، ہر آن پرور دگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک11 / ذوالقعدہ 489 ھ، بمطابق 30 / اکتوبر 1096ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
سیرتِ غوث الاعظم ۔ تذکرہ قادریہ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-saleh-mosa-jangi-dost
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ ۔ کنیت: ابو صالح ۔ لقب: جنگی دوست ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبد اللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبد اللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 27 / رجب المرجب 400ھ، بمطابق 9 / اپریل 648ء کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو آذر بائیجان کے ساتھ ہے) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے ۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ربانیین میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے ۔
جنگی دوست کی وجہ تسمیہ:
"جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کو دوست رکھتے تھے۔
" ریاض الحیات " میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے ۔
چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی ، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء ومساکین کو بلا کر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جو کی روٹی اور گرم پانی بہت ہے ۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو ۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں ۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا ۔ جب سے آپ کا لقب " جنگی دوست" ہو گیا ۔ (سیرتِ غوث الاعظم)
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، والدِ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس ، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے ـ آپکا چہرہ مبارک انوار بانی کا مرقع تھا ۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تووہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی ۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔
اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو ۔ جب کسی محفل میں حضور سید الانبیاء ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو ، ہر آن پرور دگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک11 / ذوالقعدہ 489 ھ، بمطابق 30 / اکتوبر 1096ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
سیرتِ غوث الاعظم ۔ تذکرہ قادریہ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-saleh-mosa-jangi-dost
scholars.pk
Hazrat Syed Abu Saleh Musa Jangi Dost
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1