🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
जब तुम्हारी औलाद बालिग़ हो जाए तो उन का निकाह कर दो और उनके गुनाहों का बोझ अपने कंधों पर मत उठाओ - [मनाक़िबे अमीरुल मुअ्मिनीन उ़मर बिन ख़त़्त़ाब स़फ़्ह़ा¹⁹⁹]
جب تمہاری اولاد بالغ ہو جائے تو ان کا نکاح کر دو اور ان کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر مت اُٹھاؤ ـ [مناقب امیر المؤمنین عمر بن خطاب صفحہ¹⁹⁹]
Jab Tumhaari Aulaad Baaligh Ho Jaye To Un Ka Nikaah Kar Do Aur Unke Gunaahon Ka Bojh Apne Kaandhon Par Mat Uthawo - [Manaaqib e Ameerul Muamineen 'Umar Bin 'Khattaab Page¹⁹⁹]
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Tariq Mehmood Razvi
رَدُّ الـرَّفَـضَـةِ
تبرائی رافضیوں کا رد


سیتاپور کے رہنے والے حکیم سید محمد مہدی صاحب نے سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک سیدہ خاتون کے چچا کی اولاد کے متعلق سوال کیا جو عصبہ بن کر سیدہ کی وراثت سے حصہ چاہ رہے تھے جبکہ وہ خود رافضی تبرائی تھے، اس کے جواب میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے برجستہ تقریباً ستر عبارتیں نوے کتب کے حوالے سے بیان فرمائی ہیں، اللہ اکبر کیا قوت حافظہ ہے، ان عبارتوں کا مجموعہ اس بات پر دال ہے کہ اعلی حضرت کو علم فقہ میں بے مثال مہارت وعبقریت حاصل تھی، اور یہ ایسی مہارت تھی جس کو دیکھ کر چشم فلک بھی دیدہ حیراں بن جائے، اور یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب  آپ نے برجستگی کے اندر ایک ہی جواب میں ستر عبارتوں کا مجموعہ تقریباً نوے کتب کے حوالے سے بآسانی پیش کردیا تو آپ کے فتاوی میں کتنے ان گنت جزئیات مکتوب ہوں گے، اور عقل انسان اس بات پر حیران ہے کہ صرف کتاب کا حوالہ نہیں دیا بلکہ کس مکتبہ کی کتاب کے کس صفحے پر یہ عبارت ہے اسے بھی بیان فرمایا، اور یہ نہیں کی ایک جگہ بلکہ پورے رسالے میں آپ کو یہی انداز عاشقانہ ملے گا، ان عبارتوں اور صفحوں کا حفظ اعلی حضرت کی ذہانت وفطانت کی دلیل ہے، اور جودت وطبع کا بین ثبوت ہے.

مطالعہ میں سہولت کے لیے فقیر نے اس رسالے کو تین فصلوں میں تقسیم کیا ہے؛
فصل اول: کیا چچازاد روافض بی بی سیدہ کے ترکے سے عصبہ بن کر کچھ پا سکتے ہیں جبکہ روافض کے یہاں اصلاً عصوبت نہیں؟ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ رافضی اس مرحومہ سیدہ سنیہ کے ترکے سے کچھ نہیں پا سکتے، اصلا کسی قسم کا استحقاق نہیں رکھتے اگرچہ بنی عم نہیں خاص حقیقی بھائی بلکہ اس سے بھی قریب رشتے کے کہلاتے اگرچہ وہ عصوبت کے منکر نہ بھی ہوتے کہ ان کی محرومی دینی اختلاف کے باعث ہے. اس جواب پر سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے پینتالیس عبارتیں ساٹھ کتب کے حوالے سے نقل فرمائی ہیں.

فصل دوم: میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے روافض زمانہ کے تبرائی علی العموم منکران ضروريات دین اور باجماع مسلمین یقینی وقطعی طور پر کافر ومرتد ہونا بیان فرمایا، اور ان کے خاص دو ایسے کفریہ عقائد بیان فرمائے ہیں جن میں ان کے عالم وجاہل، مرد وعورت، چھوٹے بڑے سب بالاتفاق شامل ہیں؛
پہلا کفریہ عقیدہ: قرآن عظیم کو ناقص (نا مکمل، ادھورا) بتانا، اور اس عقیدے میں روافض کے تین نظریے آپ نے بیان فرمائے ہیں؛
پہلا نظریہ: کلام پاک میں سے کچھ سورتیں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ اہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے گھٹا دیں.
دوسرا نظریہ: کلام پاک میں سے کچھ لفظ بدل دیے.
تیسرا نظریہ: نقص وتبدیلی اگرچہ یقیناً ثابت نہیں لیکن ایسا ہوا ہے اس کا امکان ضرور ہے.
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تینوں کا ایک ہی حکم بیان فرمایا ہے، آپ لکھتے ہیں: "جو شخص قرآن مجید میں زیادت یا نقص (کمی) یا تبدیل کسی طرح کے تصرفِ بشری کا دخل مانے یا اسے محتمل (یعنی قرآن پاک میں کمی و بیشی کا ہونا ممکن) جانے بالإجماع کافر مرتد ہے."

دوسرا کفریہ عقیدہ: سیدنا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم اور دوسرے ائمہ طاہرین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل بتانا. اس عقیدے کے متعلق فرماتے ہیں: جو کسی غیر نبی کو نبی سے افضل کہے باجماع مسلمین کافر بے دین ہے.

تیسری فصل: اس میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے چند تنبیہات ارشاد فرمائی ہیں، جو در حقیقت اصول ہیں، آپ بھی ان سے مستفیض ہوں؛
١: اصل مدار ضروریاتِ دین ہیں.
٢: ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقاً ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں.
٣: ضروریات پر اگر بالخصوص کوئی نص قطعی اصلًا نہ ہو جب بھی ان کا منکر یقیناً کافر ہے.
٤: ضروریاتِ دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی.

اس کے علاوہ رافضیوں تبرائیوں کے متعلق کچھ احکام بیان فرمائے ہیں:
١: یہ یقینی قطعی اجماعی طور پر علی العموم کفار مرتدین ہیں.
٢: ان کا ذبیحہ مردار ہے.
٣: ان کے ساتھ نکاح کرنا نہ صرف حرام بلکہ زنا ہے.
٤: مرد سنی ہو اور عورت ان کی جب بھی ہرگز نکاح نہیں ہوگا صرف زنا ہوگا.
٥: اولاد ولد الزنا ہوگی.
٦: اولاد باپ کا ترکہ نہیں پائے گی اگرچہ اولاد سنی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں.
٧: عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لیے مہر نہیں.
٨: رافضی اپنے کسی قریبی کا ترکہ نہیں پاسکتا.
٩: رافضی کا خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اصلا کچھ حصہ نہیں.
١٠: ان سے میل جول، سلام کلام سخت کبیرہ اشد حرام.
١١: ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہوکر پھر بھی انہیں مسلمان جاننے والا یا ان کے کافر ہونے میں شک کرنے والا باجماع تمام ائمہ دین خود کافر ہے.


🖋️طارق محمود رضوی

بتاریخ: ١٠/ذو القعدہ٤٤٤١؁ھ
مطابق: ٣١/مئی ٣٢٠٢؁ء
9587397683
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
زبدۃ الاصفیاء حضرت مولانا سید احمد سری کوٹی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت علامہ مولانا سید احمد۔لقب:عمدۃ العلماء،زبدۃ الاصفیاء۔موضع’’سری کوٹ‘‘علاقہ کی نسبت سے’’سری کوٹی‘‘کہلاتےہیں۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید احمد شاہ بن سیدصدرالدین شاہ علیہماالرحمہ۔آپ خاندان ِ ساداتِ کےچشم وچراغ تھے۔آپ کاعلاقہ موضع سری کوٹ ہری پور ہزارہ سےپینتیس کلومیٹرمغرب کی جانب واقع ہے،آپ کی جائے ولادت ومدفن بھی یہی ہے[1]۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی تاریخِ ولادت کسی کتاب میں نہیں ملی۔تقریباً اٹھارویں صدی عیسوی کےوسط میں ہوئی ہوگی۔

تحصیلِ علم:
ابتدا ءً تجوید کےساتھ قرآ ن کریم حفظ کیا، بعد ازاں اپنے علاقے کے جید فضلاء سے تحصیل علم کیا، اور دار العلوم دیوبند جاکر درس حدیث لیا ۔ مولوی محمود الحسن دیوبندی کے اول تلامذہ میں سےتھے، وہ ان پر فخر کیا کرتے تھے [2] ۔

مگر وہاں سے جلد ہی واپس ہوئے، دیوبند کے غلط ماحول کا آپ نے مشاہدہ کر لیا تھا ۔ اس لئے دیوبندیوں سے سخت بے زار ہو گئے تھے، اور اپنی مجلس میں ان کا شدید رد فرماتے تھے [3] ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم اور شیخ طریقت تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ غوث زماں حضرت خواجہ عبدالرحمن چھوہروی﷫ (بانیِ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ، و مصنف مجموعہ صلوٰۃ الرسول) کے دستِ حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔کچھ عرصہ بعد خلافت واجازت سےمشرف ہوئے۔

سیرت وخصائص:
جامع علوم عقلیہ ونقلیہ،عارف اسرار ربانیہ،قدوۃ العلماء،زبدۃ الاصفیاء،حامیِ دینِ سیدالانبیاء حضرت علامہ سید احمدسری کوٹی﷫۔آپ﷫وقت کےاجل عالم اور نہایت متقی اور پرہیز گارصوفی تھے،علم و فضل کے با وجود اپنے شیخ طریقت غوث زماں حضرت خواجہ عبد الرحمن چھو ہروی ﷫سےبے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ اسی لئے آپ اپنے مرشد کامل کی خد مت میں کوئی وقیقہ فرو گزاشت نہ کرتے تھے۔تکمیلِ علوم کےبعدایک عرصہ تک افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤ ن،زنجبار،اورممباسہ میں عرصہ ٔ دراز تک تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ 1339ھ/1920ءمیں پھر تبلیغ دین کے لئے رنگون( موجودہ نام یانگوں، برما کا سب سے بڑاشہر، اور سابق دارالخلافہ) تشریف لے گئے اور مرکزی مسجد، مسجد نا خدا میں امام وخطیب مقررہوئے۔آپ کی شخصیت اس قدر پر کشش تھی کہ وہاں کے لوگ جوق درجوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوکرراہِ ہدایت سیکھنے لگے۔ آپ کی تبلیغ وتلقین کایہ اثرہواکہ شراب وکباب کےرسیا،نہ صرف فسق و فجورسےتائب ہو گئےبلکہ نمازی اورتہجدگزاربن گئے[4]۔آپ کو اپنے شیخ سے بڑی عقیدت تھی چنانچہ آپ اکثر و بیشتر محبت بھرے الفاظ میں مرشد ِکامل کا تذکرہ فرماتےرہتے،اس کااثریہ ہواکہ بہت سے لوگوں نےدرخواست کی کہ آپ حضرت خواجہ چھوہری قدس سرہ کو دعوت دیں تاکہ ہم ان کی زیارت مشرف ہوں اور حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کریں ۔آپ نے یہ صورت حال حضرت خواجہ چھوہروی قدس سرہ کی خدمت میں لکھ بھیجی۔انہوں نے جو اباً اپنا ایک رو مال بھجوادیااورفرمایاجوشخص سحری کےوقت باوضو ہوکراس پر ہاتھ رکھےگاوہ میرامریدبن جائےگا۔اس طرح بے شمار افراد حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے،تین سال بعد آپ نےاجازت و خلافت سے مشرف فرمایا[5]۔

1344ھ/1925ء میں آپ نے چٹا گانگ میں انجمن شوریٰ قائم کی اور جامعہ احمدیہ سنیّہ کی بنیاد رکھی۔جامعہ کی سہ منزلہ حسین و جمیل عمارت میں سینکڑوں طلباء کیلئے رہائش کا انتظام کیاجہاں جدیدنصاب کےمطابق علومِ دینیہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔بعدازاں آپ کےفرزند ارجمند حضرت مولانا صاحبزادہ سید محمد طیب صاحب﷫کی سرپرستی میں جامعہ طیبہ ڈھاکہ کی تعمیر بڑی تیزی سے جاری تھی کہ غداروں کی غداری کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوگیا اوربنگلہ دیش کےنام سےایک علیحدہ ملک بن گیا۔ نہ معلوم اس وقت وہاں دینی مدارس اور مساجد کی کیا حالت ہوگی[6]۔(اِس وقت2017ء میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجدایک عورت کی حکومت ہے،وہاں مسلمان اکثریت میں ہیں،لیکن نظام سیکولرازم کاہے،مذہبی لوگوں کو تختۂ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے اورظالمانہ سزائیں دی جاتی ہیں۔تونسوی ؔغفرلہ)۔
مولانا سیداحمد﷫چٹاگانگ میں مدرسہ قائم کرنےکےباوجوداپنےشیخ و مرشد کےقائم کردہ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں دلچسپی لیتےرہے۔چنانچہ دار العلوم کی موجودہ بلند و بالا عمار ت میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔اسی طرح پیرومرشدکی کتاب’’مجموعہ صلوٰ ۃ الرسول‘‘کثیر رقم خرچ کرکےاسےپہلی بارچھپوایا۔ورنہ نامعلوم یہ کتاب بھی دیگراکابرین کےمخطوطات کی طرح ناپید  ہوجاتی۔آپ نےتقریباًسولہ سال تک مشرقی  پاکستان میں قیام کیا۔اس عرصےمیں بلا مبالغہ لاکھوں افراد حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے۔آپ کےمریدین کا امتیازی نشان مسلک اہل سنت پر ثابق قدمی،پاکستان سےسچی محبت اور دین ِمتین کے ساتھ گہرا لگاؤتھا۔اس جگہ یہ امر قابل ذکر ہےکہ شہید ِو فاجناب فضل القادر چودھری  مرحوم آپ کے نیاز مندوں میں سے تھے[7]۔انہوں نےدارالعلوم رحمانیہ کاحسن انتظام دیکھا تو محکمہ تعلیم سےپچاس ہزارروپے کی گرانقدر رقم دارالعلوم کومرحمت فرمائی۔سابق صدرپاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں مرحوم نےدارالعلوم کاوزٹ کیااورایک جم غفیرسےخطاب فرمایا،اور دولاکھ رقم عطیہ دیا[8]۔

آپ﷫نےتمام عمر ذکر الہی،عبادات،تبلیغ اسلام،اقامتِ دین،خدمتِ خلق اور اشاعت سلسلہ عالیہ قادریہ میں گزاری۔تقریباً سوبرس عمر پائی مگر وفات تک ایک لمحہ بھی غفلت وسستی میں نہیں گزرا۔آپ ہمت،استقلال،صبراور شکرکےپیکرتھے۔آپ سےسینکڑوں کرامات کاظہور ہوا۔مگرآپ استقامت فی الدین کوکرامت پر ترجیح دیتےتھے۔آپ کے دوفرزند ہوئے ۔ بڑے فرزند حافظ سید محمد طیب صاحب﷫، شریعت و طریقت میں بلند مقام رکھتے تھے ۔ والد کے حقیقی جانشین اور ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز جمعرات، 11 / ذیقعدہ 1380ھ، مطابق 27 / اپریل1961ء کو ہوا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ ہری پور شہر سے

مغرب کی جانب اٹھارہ میل کے فاصلے پر ’’ شتالو شریف، سری کوٹ‘‘ میں ہے ۔

[1] تذکرہ علماء ومشائخِ سرحدجلد دوم:289 / تذکرہ اکابر علماءِ اہل سنت:169
[2] تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد جلد دوم:289
[3] تذکرہ علمائے اہل سنت:48 / تذکرہ اکابر اہل سنت:169
[4] راریخ محمد مظہر صدیقی قادری ، مولانا : مجموعہ شجرئہ عالیہ قادریہ حافظیہ ، مطبوعہ ۱۳۹۵ھ ، ص ۹
[5] تذکرہ علماء ومشائخ سر حد جلددوم:290
[6] تذکرہ اکابر اہل سنت : 170
[7] تذکرہ اکابر اہل سنت : 170
[8] تذکرہ علماء و مشائخِ سرحد جلد دوم، ص: 290 / تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:48

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ahmed-sarikoti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ نور محمد بدایونی﷫۔لقب:عالم کامل،عارفِ واصل۔سلسلہ نسب:آپ خاندان ساداتِ کرام کےروشن چراغ تھے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کسی کتاب میں میسر نہیں۔تقریباً دسویں صدی ہجری کےربع اخیرمیں ہوئی ہوگی۔

تحصیلِ علم:
تمام علوم ظاہری میں کمال تھا۔تفسیر، حدیث، فقہ اور تصوف میں مہارتِ تامہ حاصل تھا۔بالخصوص فقہ کی جزئیات ادلہ کےساتھ یادتھیں۔ظاہر وباطن میں نور علی نور تھے۔

بیعت و خلافت:
سید السادات حضرت سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ عالم ظاہر و باطن اور فقیہ کامل تھے آپ نے کسب مقامات سلوک حضرت شیخ محمد سیف الدین قدس سرہ سے کیا۔ اور کئی سال حضرت حافظ محسن﷫ کی خدمت میں بھی رہے۔ جو حضرت عروۃ الوثقیٰ ﷫کے خلیفہ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی﷫ کی اولاد سے تھے۔ اور حالاتِ عالیہ اور مقامات ارجمند سے مشرف ہوئے۔ آپ کو استغراق بہت تھا۔ پندرہ سال وقت نماز کے سوا کسی وقت آپ کو افاقہ نہ ہوتا تھا۔ نماز کے بعد پھر مغلوب الحال ہوجاتے تھے۔ آخر میں افاقہ ہوگیا تھا۔ کثرت مراقبہ سے آپ کی پشت مبارک خم ہوگئی تھی۔ (تاریخ مشائخِ نقشبندیہ:435۔ازپروفیسر عبدالرسول للّٰہی)

سیرت و خصائص:
جامع علومِ ظاہریہ وباطنیہ،کامل علوم ومعارف اسرار ربانیہ،حضرت سید نور محمد بدایونی﷫۔آپ﷫سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےشیخِ کامل تھے۔آپ﷫نےسلسلہ عالیہ کےترویج وفروغ میں اہم کردار اداکیا۔آپ کی توجہ سےحضرت مرزامظہر جان جاناں جیسی عظیم شخصیت تیارہوئیں،اور ان کی صحبت سےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی﷫نکھر کرآئے،اورانہوں نے’’تفسیرِ مظہری‘‘ جیسی عظیم تفسیر امت کوعطاء فرمائی۔

احتیاط و تقویٰ:
آپ کمالِ تقویٰ اور اتباع ِسنت میں ممتاز تھے۔رسول اللہ ﷺ کے آداب و عادات کا نہایت التزام و اہتمام تھا۔ کتب سیر و اخلاق نبوی پیش نظر رہتی تھیں۔ ان کے موافق عمل کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ بیت الخلا میں پہلے دایاں پاؤں رکھا۔ تین دن تک احوال باطنی میں قبض رہی۔ بہت تضرع کے بعد حالت بسط پیدا ہوئی۔آپ لقمہ میں نہایت احتیاط کرتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے کئی دن کا کھانا پکالیا کرتے۔ اور بھوک کی شدت کے وقت اُسی میں سے کچھ کھالیا کرتے۔ فرماتے تھے کہ تین سال سے طبیعت کا تعلق کیفیت عذا سے نہیں رہا۔ ضرورت کے وقت جو مل جاتا ہے کھالیتے ہیں۔ کمال اتباع سنت کے سبب سے آپ دو سالن کے اجتماع کو بدعت سمجھ کر ایک صاحبزادے کو گھی اور دوسرے کو شکر دیا کرتے۔ امیروں کے گھر کا کھانا کبھی نہ کھاتے تھے۔ کیونکہ وہ اکثر شبہ کی ظلمت سے خالی نہیں ہوتا۔ایک دفعہ کسی دنیا دار کے گھر سے کھانا آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں ظلمت معلوم ہوتی ہے اور براہِ نوازش اپنے خلیفہ مرزا مظہر جان جاناں سے فرمایا کہ تم بھی اس کھانے میں غور کرو۔ مرزا ممدوح نے متوجہ ہوکر عرض کیا کہ کھانا وجہ حلال سے ہے۔ مگر ریا کی نیت کے سبب سے اس میں کچھ عفونت پیدا ہوگئی ہے۔ نواب مکرم خاں جو حضرت شاہ نقشبندی کی اولاد سے تھے۔ اور حضرت عروۃ الوثقیٰ کے مرید تھے ان کے کھانے میں بہت تکلفات ہوا کرتے اور حد اسراف تک پہنچ جاتے۔ مگر حضرت سید باوجود احتیاط کمال تقویٰ کے اُن کا کھانا کبھی کبھی بطور تبرک کھالیا کرتے اور فرماتے کہ ان کے کھانے کی برکتوں سے اس قدر نور باطنی زیادہ ہوتا ہے کہ گویا ہم نے کھایا نہیں دورکعت نماز پڑھی ہے۔ اپنے پیر کی محبت کے غلبہ اور انوار نسبت کے ظہور کے سبب سے نواب موصوف کی تمام چیزیں نور ہوگئی تھیں ۔ (ایضا:436) اگر آپ دنیا داروں کے گھر سے کوئی کتاب بطور عاریت منگواتے تھے تو تین روز تک اُس کا مطالعہ نہ کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ اُن کی صحبت کی ظلمت مثل غلاف کے اُس پر لپیٹی ہوئی ہے۔ جب آپ کی صحبت مبارک کی برکت سے وہ ظلمت زائل ہوجاتی تو مطالعہ فرماتے۔

مکاشفات و کرامات:
آپ کے مکشوفات بہت صحیح اور مطابق واقع ہوا کرتے تھے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو چشمِ سر سے ویسا محسوس نہیں ہوتا جیسا کہ آپ کو چشمِ دل سے نظر آتا تھا۔ چنانچہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید﷫ ناقل ہیں کہ ایک دن میں اپنے مُرشد حضرت سید السادات سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں دیکھا کہ حضرت خوش بیٹھے ہیں۔ میں نے سبب دریافت کیا۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ آج میں نے بہت سے پنکھے فقیروں میں تقسیم کیے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس عمل کی قبولیت کے سبب سے جناب الٰہی سے بکثرت فیوض و برکات مثل بارش کے برس رہے ہیں۔
1
مراقبہ کی کیفیت:
آپ کا تصرف قوی تھا۔ اپنے مخلصوں کی حاجت برآری کے لیے توجہ فرمایا کرتے تھے۔ ایسا کم ہوتا کہ توجہ سے مراد پوری نہ ہوتی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک عورت نے عرض کیا کہ میری لڑکی کو جن اُٹھا لے گئے ہیں۔ ہر چند عمل و عزائم پڑھے گئے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آپ توجہ فرمائیں۔ آپ نے دیر تک مراقبہ کر کے فرمایا کہ فلاں وقت تیری لڑکی آجائے گی۔ چنانچہ ویسا ہی وقوع میں آیا۔ لڑکی سے ماجرا دریافت کیا گیا تو اُس نے کہا کہ میں ایک صحرا میں تھی۔

ایک بزرگ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے یہاں لے آیا۔ کسی شخص نے آپ سے مراقبہ کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا کہ مراقبہ میں میں نے جناب الٰہی میں عرض کی تھی کہ اگر میری دعا و توجہ میں اثر ہو تو کروں۔ جب الہام الٰہی سے مجھے معلوم ہوگیا کہ فقیر کی ہمت اس امر میں اثر رکھتی ہے تو میں نے کہہ دیا کہ لڑکی آجائے گی۔

نور فراست:
آپ کا ہر عمل رضائے خدا کے موافق تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ دو رافضی عورتیں مرید ہونے کے لیے حاضر خدمت ہوئیں۔ آپ نے نورِ فراست سے اُن کا حال معلوم کر کے فرمایا کہ تم پہلے عقیدہ بد سے توبہ کرو۔ اُن میں سے ایک آپ کے کمال کی قائل ہوکر داخل طریق ہوگئی۔ اور دوسری کو توفیق نہ ہوئی۔

گناہ سے بچا لیا:
آپ کا ایک مخلص ہواے نفسانی سے چاہتا تھا کہ مرتکب زنا ہو۔ اسی اثنا میں آپ کی صورت مثالی حاضر ہوکر درمیان میں حائل ہوگئی۔ عورت تو دہشت سے ایک گوشہ میں جا چھپی اور دہ مخلص تائب ہوگیا۔ اور مارے ندامت کے مدت تک حاضرِ خدمت نہ ہوا۔

نسبت باطنی کی کیفیت:
ایک دفعہ آپ کے قیام گاہ کے قریب ایک بھنگ فروش نے دوکان کھولی۔ آپ نے فرمایا کہ بھنگ کی ظلمت نے ہماری نسبتِ باطن کو مکدر کردیا۔ یہ سُن کر ارادتمندوں نے اُس پر سختی کی اور دکان خراب کردی۔ آپ نے فرمایا کہ نسبت باطنی اب پہلے سے زیادہ مکدر ہوگئی۔ کیونکہ خلاف شرع احتساب وقوع میں آیا ہے۔ پہلے نرمی سے اُسے توبہ کرانی چاہیے تھی۔ اگر وہ تائب نہ ہوتا تو سختی سے منع کرتے۔ پس آپ نے اُسے تلاش کر کے بلوایا۔ اور مریدوں کی جرأت کی معافی مانگی۔ اور بڑی نرمی سے فرمایا کہ خلافِ شرع پیشہ اچھا نہیں۔ کوئی مباح پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔ وہ یہ دیکھ کر تائب ہوگیا اور داخل طریق ہوگیا۔الغرض اخلاق وتعلیماتِ مصطفوی کےپیکرِ جمیل تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 11/ ذیقعدہ 1135ھ میں ہوئی اور دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء﷫ کے مزار مبارک کے قریب نواب مکرم خاں کے باغ میں مدفون ہوئے۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ مقامات مظہری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-noor-muhammad-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
والدِ غوث الاعظم، حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ ۔ کنیت: ابو صالح ۔ لقب: جنگی دوست ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبد اللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبد اللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 27 / رجب المرجب 400ھ، بمطابق 9 / اپریل 648ء کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو آذر بائیجان کے ساتھ ہے) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے ۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ربانیین میں سے تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے ۔

جنگی دوست کی وجہ تسمیہ:
"جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کو دوست رکھتے تھے۔

" ریاض الحیات " میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے ۔

چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی ، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء ومساکین کو بلا کر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جو کی روٹی اور گرم پانی بہت ہے ۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو ۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں ۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا ۔ جب سے آپ کا لقب " جنگی دوست" ہو گیا ۔ (سیرتِ غوث الاعظم)

سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، والدِ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس ، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے ـ آپکا چہرہ مبارک انوار بانی کا مرقع تھا ۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تووہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی ۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔

اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو ۔ جب کسی محفل میں حضور سید الانبیاء ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو ، ہر آن پرور دگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو ۔

وصال:
بروز جمعۃ المبارک11 / ذوالقعدہ 489 ھ، بمطابق 30 / اکتوبر 1096ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
سیرتِ غوث الاعظم ۔ تذکرہ قادریہ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-saleh-mosa-jangi-dost
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-11-1444 ᴴ | 01-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1