🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
जब तुम्हारी औलाद बालिग़ हो जाए तो उन का निकाह कर दो और उनके गुनाहों का बोझ अपने कंधों पर मत उठाओ - [मनाक़िबे अमीरुल मुअ्मिनीन उ़मर बिन ख़त़्त़ाब स़फ़्ह़ा¹⁹⁹]
جب تمہاری اولاد بالغ ہو جائے تو ان کا نکاح کر دو اور ان کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر مت اُٹھاؤ ـ [مناقب امیر المؤمنین عمر بن خطاب صفحہ¹⁹⁹]
Jab Tumhaari Aulaad Baaligh Ho Jaye To Un Ka Nikaah Kar Do Aur Unke Gunaahon Ka Bojh Apne Kaandhon Par Mat Uthawo - [Manaaqib e Ameerul Muamineen 'Umar Bin 'Khattaab Page¹⁹⁹]
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Tariq Mehmood Razvi
رَدُّ الـرَّفَـضَـةِ
تبرائی رافضیوں کا رد


سیتاپور کے رہنے والے حکیم سید محمد مہدی صاحب نے سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک سیدہ خاتون کے چچا کی اولاد کے متعلق سوال کیا جو عصبہ بن کر سیدہ کی وراثت سے حصہ چاہ رہے تھے جبکہ وہ خود رافضی تبرائی تھے، اس کے جواب میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے برجستہ تقریباً ستر عبارتیں نوے کتب کے حوالے سے بیان فرمائی ہیں، اللہ اکبر کیا قوت حافظہ ہے، ان عبارتوں کا مجموعہ اس بات پر دال ہے کہ اعلی حضرت کو علم فقہ میں بے مثال مہارت وعبقریت حاصل تھی، اور یہ ایسی مہارت تھی جس کو دیکھ کر چشم فلک بھی دیدہ حیراں بن جائے، اور یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب  آپ نے برجستگی کے اندر ایک ہی جواب میں ستر عبارتوں کا مجموعہ تقریباً نوے کتب کے حوالے سے بآسانی پیش کردیا تو آپ کے فتاوی میں کتنے ان گنت جزئیات مکتوب ہوں گے، اور عقل انسان اس بات پر حیران ہے کہ صرف کتاب کا حوالہ نہیں دیا بلکہ کس مکتبہ کی کتاب کے کس صفحے پر یہ عبارت ہے اسے بھی بیان فرمایا، اور یہ نہیں کی ایک جگہ بلکہ پورے رسالے میں آپ کو یہی انداز عاشقانہ ملے گا، ان عبارتوں اور صفحوں کا حفظ اعلی حضرت کی ذہانت وفطانت کی دلیل ہے، اور جودت وطبع کا بین ثبوت ہے.

مطالعہ میں سہولت کے لیے فقیر نے اس رسالے کو تین فصلوں میں تقسیم کیا ہے؛
فصل اول: کیا چچازاد روافض بی بی سیدہ کے ترکے سے عصبہ بن کر کچھ پا سکتے ہیں جبکہ روافض کے یہاں اصلاً عصوبت نہیں؟ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ رافضی اس مرحومہ سیدہ سنیہ کے ترکے سے کچھ نہیں پا سکتے، اصلا کسی قسم کا استحقاق نہیں رکھتے اگرچہ بنی عم نہیں خاص حقیقی بھائی بلکہ اس سے بھی قریب رشتے کے کہلاتے اگرچہ وہ عصوبت کے منکر نہ بھی ہوتے کہ ان کی محرومی دینی اختلاف کے باعث ہے. اس جواب پر سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے پینتالیس عبارتیں ساٹھ کتب کے حوالے سے نقل فرمائی ہیں.

فصل دوم: میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے روافض زمانہ کے تبرائی علی العموم منکران ضروريات دین اور باجماع مسلمین یقینی وقطعی طور پر کافر ومرتد ہونا بیان فرمایا، اور ان کے خاص دو ایسے کفریہ عقائد بیان فرمائے ہیں جن میں ان کے عالم وجاہل، مرد وعورت، چھوٹے بڑے سب بالاتفاق شامل ہیں؛
پہلا کفریہ عقیدہ: قرآن عظیم کو ناقص (نا مکمل، ادھورا) بتانا، اور اس عقیدے میں روافض کے تین نظریے آپ نے بیان فرمائے ہیں؛
پہلا نظریہ: کلام پاک میں سے کچھ سورتیں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ اہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے گھٹا دیں.
دوسرا نظریہ: کلام پاک میں سے کچھ لفظ بدل دیے.
تیسرا نظریہ: نقص وتبدیلی اگرچہ یقیناً ثابت نہیں لیکن ایسا ہوا ہے اس کا امکان ضرور ہے.
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تینوں کا ایک ہی حکم بیان فرمایا ہے، آپ لکھتے ہیں: "جو شخص قرآن مجید میں زیادت یا نقص (کمی) یا تبدیل کسی طرح کے تصرفِ بشری کا دخل مانے یا اسے محتمل (یعنی قرآن پاک میں کمی و بیشی کا ہونا ممکن) جانے بالإجماع کافر مرتد ہے."

دوسرا کفریہ عقیدہ: سیدنا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم اور دوسرے ائمہ طاہرین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل بتانا. اس عقیدے کے متعلق فرماتے ہیں: جو کسی غیر نبی کو نبی سے افضل کہے باجماع مسلمین کافر بے دین ہے.

تیسری فصل: اس میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے چند تنبیہات ارشاد فرمائی ہیں، جو در حقیقت اصول ہیں، آپ بھی ان سے مستفیض ہوں؛
١: اصل مدار ضروریاتِ دین ہیں.
٢: ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقاً ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں.
٣: ضروریات پر اگر بالخصوص کوئی نص قطعی اصلًا نہ ہو جب بھی ان کا منکر یقیناً کافر ہے.
٤: ضروریاتِ دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی.

اس کے علاوہ رافضیوں تبرائیوں کے متعلق کچھ احکام بیان فرمائے ہیں:
١: یہ یقینی قطعی اجماعی طور پر علی العموم کفار مرتدین ہیں.
٢: ان کا ذبیحہ مردار ہے.
٣: ان کے ساتھ نکاح کرنا نہ صرف حرام بلکہ زنا ہے.
٤: مرد سنی ہو اور عورت ان کی جب بھی ہرگز نکاح نہیں ہوگا صرف زنا ہوگا.
٥: اولاد ولد الزنا ہوگی.
٦: اولاد باپ کا ترکہ نہیں پائے گی اگرچہ اولاد سنی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں.
٧: عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لیے مہر نہیں.
٨: رافضی اپنے کسی قریبی کا ترکہ نہیں پاسکتا.
٩: رافضی کا خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اصلا کچھ حصہ نہیں.
١٠: ان سے میل جول، سلام کلام سخت کبیرہ اشد حرام.
١١: ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہوکر پھر بھی انہیں مسلمان جاننے والا یا ان کے کافر ہونے میں شک کرنے والا باجماع تمام ائمہ دین خود کافر ہے.


🖋️طارق محمود رضوی

بتاریخ: ١٠/ذو القعدہ٤٤٤١؁ھ
مطابق: ٣١/مئی ٣٢٠٢؁ء
9587397683
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
زبدۃ الاصفیاء حضرت مولانا سید احمد سری کوٹی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت علامہ مولانا سید احمد۔لقب:عمدۃ العلماء،زبدۃ الاصفیاء۔موضع’’سری کوٹ‘‘علاقہ کی نسبت سے’’سری کوٹی‘‘کہلاتےہیں۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید احمد شاہ بن سیدصدرالدین شاہ علیہماالرحمہ۔آپ خاندان ِ ساداتِ کےچشم وچراغ تھے۔آپ کاعلاقہ موضع سری کوٹ ہری پور ہزارہ سےپینتیس کلومیٹرمغرب کی جانب واقع ہے،آپ کی جائے ولادت ومدفن بھی یہی ہے[1]۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی تاریخِ ولادت کسی کتاب میں نہیں ملی۔تقریباً اٹھارویں صدی عیسوی کےوسط میں ہوئی ہوگی۔

تحصیلِ علم:
ابتدا ءً تجوید کےساتھ قرآ ن کریم حفظ کیا، بعد ازاں اپنے علاقے کے جید فضلاء سے تحصیل علم کیا، اور دار العلوم دیوبند جاکر درس حدیث لیا ۔ مولوی محمود الحسن دیوبندی کے اول تلامذہ میں سےتھے، وہ ان پر فخر کیا کرتے تھے [2] ۔

مگر وہاں سے جلد ہی واپس ہوئے، دیوبند کے غلط ماحول کا آپ نے مشاہدہ کر لیا تھا ۔ اس لئے دیوبندیوں سے سخت بے زار ہو گئے تھے، اور اپنی مجلس میں ان کا شدید رد فرماتے تھے [3] ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم اور شیخ طریقت تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ غوث زماں حضرت خواجہ عبدالرحمن چھوہروی﷫ (بانیِ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ، و مصنف مجموعہ صلوٰۃ الرسول) کے دستِ حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔کچھ عرصہ بعد خلافت واجازت سےمشرف ہوئے۔

سیرت وخصائص:
جامع علوم عقلیہ ونقلیہ،عارف اسرار ربانیہ،قدوۃ العلماء،زبدۃ الاصفیاء،حامیِ دینِ سیدالانبیاء حضرت علامہ سید احمدسری کوٹی﷫۔آپ﷫وقت کےاجل عالم اور نہایت متقی اور پرہیز گارصوفی تھے،علم و فضل کے با وجود اپنے شیخ طریقت غوث زماں حضرت خواجہ عبد الرحمن چھو ہروی ﷫سےبے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ اسی لئے آپ اپنے مرشد کامل کی خد مت میں کوئی وقیقہ فرو گزاشت نہ کرتے تھے۔تکمیلِ علوم کےبعدایک عرصہ تک افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤ ن،زنجبار،اورممباسہ میں عرصہ ٔ دراز تک تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ 1339ھ/1920ءمیں پھر تبلیغ دین کے لئے رنگون( موجودہ نام یانگوں، برما کا سب سے بڑاشہر، اور سابق دارالخلافہ) تشریف لے گئے اور مرکزی مسجد، مسجد نا خدا میں امام وخطیب مقررہوئے۔آپ کی شخصیت اس قدر پر کشش تھی کہ وہاں کے لوگ جوق درجوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوکرراہِ ہدایت سیکھنے لگے۔ آپ کی تبلیغ وتلقین کایہ اثرہواکہ شراب وکباب کےرسیا،نہ صرف فسق و فجورسےتائب ہو گئےبلکہ نمازی اورتہجدگزاربن گئے[4]۔آپ کو اپنے شیخ سے بڑی عقیدت تھی چنانچہ آپ اکثر و بیشتر محبت بھرے الفاظ میں مرشد ِکامل کا تذکرہ فرماتےرہتے،اس کااثریہ ہواکہ بہت سے لوگوں نےدرخواست کی کہ آپ حضرت خواجہ چھوہری قدس سرہ کو دعوت دیں تاکہ ہم ان کی زیارت مشرف ہوں اور حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کریں ۔آپ نے یہ صورت حال حضرت خواجہ چھوہروی قدس سرہ کی خدمت میں لکھ بھیجی۔انہوں نے جو اباً اپنا ایک رو مال بھجوادیااورفرمایاجوشخص سحری کےوقت باوضو ہوکراس پر ہاتھ رکھےگاوہ میرامریدبن جائےگا۔اس طرح بے شمار افراد حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے،تین سال بعد آپ نےاجازت و خلافت سے مشرف فرمایا[5]۔

1344ھ/1925ء میں آپ نے چٹا گانگ میں انجمن شوریٰ قائم کی اور جامعہ احمدیہ سنیّہ کی بنیاد رکھی۔جامعہ کی سہ منزلہ حسین و جمیل عمارت میں سینکڑوں طلباء کیلئے رہائش کا انتظام کیاجہاں جدیدنصاب کےمطابق علومِ دینیہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔بعدازاں آپ کےفرزند ارجمند حضرت مولانا صاحبزادہ سید محمد طیب صاحب﷫کی سرپرستی میں جامعہ طیبہ ڈھاکہ کی تعمیر بڑی تیزی سے جاری تھی کہ غداروں کی غداری کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوگیا اوربنگلہ دیش کےنام سےایک علیحدہ ملک بن گیا۔ نہ معلوم اس وقت وہاں دینی مدارس اور مساجد کی کیا حالت ہوگی[6]۔(اِس وقت2017ء میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجدایک عورت کی حکومت ہے،وہاں مسلمان اکثریت میں ہیں،لیکن نظام سیکولرازم کاہے،مذہبی لوگوں کو تختۂ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے اورظالمانہ سزائیں دی جاتی ہیں۔تونسوی ؔغفرلہ)۔
مولانا سیداحمد﷫چٹاگانگ میں مدرسہ قائم کرنےکےباوجوداپنےشیخ و مرشد کےقائم کردہ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں دلچسپی لیتےرہے۔چنانچہ دار العلوم کی موجودہ بلند و بالا عمار ت میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔اسی طرح پیرومرشدکی کتاب’’مجموعہ صلوٰ ۃ الرسول‘‘کثیر رقم خرچ کرکےاسےپہلی بارچھپوایا۔ورنہ نامعلوم یہ کتاب بھی دیگراکابرین کےمخطوطات کی طرح ناپید  ہوجاتی۔آپ نےتقریباًسولہ سال تک مشرقی  پاکستان میں قیام کیا۔اس عرصےمیں بلا مبالغہ لاکھوں افراد حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے۔آپ کےمریدین کا امتیازی نشان مسلک اہل سنت پر ثابق قدمی،پاکستان سےسچی محبت اور دین ِمتین کے ساتھ گہرا لگاؤتھا۔اس جگہ یہ امر قابل ذکر ہےکہ شہید ِو فاجناب فضل القادر چودھری  مرحوم آپ کے نیاز مندوں میں سے تھے[7]۔انہوں نےدارالعلوم رحمانیہ کاحسن انتظام دیکھا تو محکمہ تعلیم سےپچاس ہزارروپے کی گرانقدر رقم دارالعلوم کومرحمت فرمائی۔سابق صدرپاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں مرحوم نےدارالعلوم کاوزٹ کیااورایک جم غفیرسےخطاب فرمایا،اور دولاکھ رقم عطیہ دیا[8]۔

آپ﷫نےتمام عمر ذکر الہی،عبادات،تبلیغ اسلام،اقامتِ دین،خدمتِ خلق اور اشاعت سلسلہ عالیہ قادریہ میں گزاری۔تقریباً سوبرس عمر پائی مگر وفات تک ایک لمحہ بھی غفلت وسستی میں نہیں گزرا۔آپ ہمت،استقلال،صبراور شکرکےپیکرتھے۔آپ سےسینکڑوں کرامات کاظہور ہوا۔مگرآپ استقامت فی الدین کوکرامت پر ترجیح دیتےتھے۔آپ کے دوفرزند ہوئے ۔ بڑے فرزند حافظ سید محمد طیب صاحب﷫، شریعت و طریقت میں بلند مقام رکھتے تھے ۔ والد کے حقیقی جانشین اور ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز جمعرات، 11 / ذیقعدہ 1380ھ، مطابق 27 / اپریل1961ء کو ہوا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ ہری پور شہر سے

مغرب کی جانب اٹھارہ میل کے فاصلے پر ’’ شتالو شریف، سری کوٹ‘‘ میں ہے ۔

[1] تذکرہ علماء ومشائخِ سرحدجلد دوم:289 / تذکرہ اکابر علماءِ اہل سنت:169
[2] تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد جلد دوم:289
[3] تذکرہ علمائے اہل سنت:48 / تذکرہ اکابر اہل سنت:169
[4] راریخ محمد مظہر صدیقی قادری ، مولانا : مجموعہ شجرئہ عالیہ قادریہ حافظیہ ، مطبوعہ ۱۳۹۵ھ ، ص ۹
[5] تذکرہ علماء ومشائخ سر حد جلددوم:290
[6] تذکرہ اکابر اہل سنت : 170
[7] تذکرہ اکابر اہل سنت : 170
[8] تذکرہ علماء و مشائخِ سرحد جلد دوم، ص: 290 / تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:48

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ahmed-sarikoti
1