حضرت مولانا ابو یزید جلال الدین پورانی علیہ الرحمہ
آپ نے علوم شرعیہ حاصل کیے تھے اور شریعت کی رعایت اور سنت کی متابعت سے مقابلہ عالیہ تک پہنچے تھے۔آپ اکثر اوقات وظائف شرعی کو ادا کر کے مسلمانوں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔جو شخص کسی مطلب میں آپ کی طرف رجوع کرتا ،حتی الامکان اس میں سعی فرماتے اور اس کو پورا کرنے کے لیے جس دنیادار کی طرف جاان مناسب ہوتا،آپ خود جاتے۔جو وعظ و نصیحت آپ کی زبان پر گزرتی۔سامعین کے دلوں میں اس کا خاص بڑااثر ہوتا تھا۔اگرچہ ان کو بارہا سنا ہوتا۔اس کو دل پر رکھتے اور ان کا بظاہر طریقت میں کوئی پیر نہ تھا۔وہ ضرور اویسی تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ جب مجھے کوئی اشکال پیدا ہوتا ہے تو آنحضرت ﷺ کی وحانیت بے واسطہ اس کو دور کر دیتی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دن اپنے دوستوں سے شاز طلب کیااور کہا کہ حضرت رسالت پناہ ﷺ نے فرمایا کہ بایزید کبھی اپنی داڑھی میں کنگھا تو کیا کرو۔آپ مولانا ظہیر الدین خلوتی میں جایا کرتے تھے۔ان کے طریقہ کے بہت معتقد تھے۔اگرچہ اس کی مریدی کے لحاط سے نہ آتے تھے۔ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ آپ کا گھر مہمانوں سے خالی ہوتا۔ان کے لیے عمدہ کھانے تیار کرتے ،باوجود یکہ ان کی آمدن باغ اور کھیت کی تھوڑی تھی۔ایک دن کہتےکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی دوستوں کی جماعت شہر سے پوران کی طرف جاتی تو مجھ کو معلوم ہوجاتا۔میں جان لیتا تھا کہ قدس آدمی ہیںاور کب پہنچیں گے۔یں ان کے لیے مناسب کھانا تیار کرتا تھاجب آجائیں بے انتظار کھالیں ۔ایک رات مسجد میں ختم قرآن ہوتا تھا ۔ایک ترک نہر کے کنارے سے چند روغن جوش مسجد میں لایا اور مجھے قسم دی کہ اس میں سے کھاؤ کیونکہ یہ بوجہ حلال ہے۔ایک روغن جوش اٹھایا اور اس کے دو ٹکڑے کیے پھر ایک کے دو کیے اور اس میں سے ایک کھایا تو وہ مطلب مجھ پر چھپ گیا۔ اس وقت سے پیچھے اب مہمانوں کی توجہ کی اس طرف کا مجھے علم نہیں ہوتا۔ان کے پہنچنے کے وقت کو نہیں جانتا ۔میں تشویش میں رہتا ہوں۔
ایک دن جماعت کے ساتھ زیارت کوان کی خدمت میں ہم گئے۔وہ موسم انگور کا تھا۔ہم کو انگور کے باغ میں لائے اورآپ چل دئے۔ہم نے باغ کا چکرلگایا۔جس قدر انگور چاہیئےتھے"ہم نے کھائے۔جماعت میں سےایک شخص نےچند خوشہ انگور کے اٹھا لیے۔دوسرےنے اس سے کہا کہ مولانا نے اٹھانے کی اجازت نہیں دی اور وہ قصہ بیان کیا کہ ایک عالم وقت سے واق ہواتھا۔یعنی اس کے چندلوگ مہمان ہوئے تھے۔جماعت میں سے ایک شخص نے ان کے دسترخوان سے تبرک اٹھایا تھا۔جب خادم نے دسترخان اٹھایا تو خادم سے کہا کہ تم نے کیوں برے کام سے نہ روکا۔خادم نے کہا کہ میں نےتو کوئی برا کام نہیں دیکھا۔کہا کہ فلاں شخص نے بے اجازت ٹکڑا اٹھالیا ہے۔دسترخوان اس کے پاس لے جا کہ اس کو اس میں ڈال دے۔خادم دسترخوان اس کے پاس لے گیا۔اس نے وہ ٹکڑا اس میں ڈال دیا۔اس کے بعد مولانا آئے اور ہمارے لیے کھانا لائے۔جب کھانا کھا چکے تو ہم نےلوٹنے کی اجازت مانگی۔ہمارےآنے کے وقت دروازہ میں کھڑے ہوگئے اور کہا"جن کو میں نے باغ میں آنے کی زجازت دے دی تھی۔ان کو کھانے اور لےجانے کی بھی اجازت تھی"لیکن جو کچھ عالم نے کیا"اچھا نہیں کیا۔اگرچہ اول اجازت نہ دی تھی "مگر مناسب تھاکہ آخر معاف کر دیتا۔اس ٹکڑہ کو واپس نہ کرتا۔ایک اور مرتبہ ان کی زیارت کا اتفاق ہوا۔واپسی کے وقت ان میں سے ایک کے دل میں یہ گذرا تھا کہ اگر مولانا میں کرامت ہے تو چاہیئے کہ مجھےکشمکش تبرک کے طور پر دیں۔جب آپ کو ہم نے رخصت کیا تو آپنےاس شخص کو آواز دی کہ تھوڑی دیر ٹھہرو ۔ گھر میں گئے اور ایک طباق کشمکش کالائے ۔ اس کو دے کر کہا"معاف رکھنا کہ ہمارے باغوں میں کشمکش نہیں ہوتا میں ایک دفعہ ان کے پاس نماز مغرب پڑھتا تھا۔ان کو ایسا مغلوب و مستغرق پایا کہ ان کو کوئی شعور نہ تھا۔قیام میں کھڑے ہوتے تھے۔کبھی دایاں ہاتھ بائیں پر اور کبھی بایاں دائیں پر رکھتے تھے۔آپ پیر کی رات ۱۰ذی القعدہ ۸۶۲ھ میں فوت ہوئے۔آپ کی قبر بوارن میں ہے۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abu-yazeed-jalaluddin-porani
آپ نے علوم شرعیہ حاصل کیے تھے اور شریعت کی رعایت اور سنت کی متابعت سے مقابلہ عالیہ تک پہنچے تھے۔آپ اکثر اوقات وظائف شرعی کو ادا کر کے مسلمانوں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔جو شخص کسی مطلب میں آپ کی طرف رجوع کرتا ،حتی الامکان اس میں سعی فرماتے اور اس کو پورا کرنے کے لیے جس دنیادار کی طرف جاان مناسب ہوتا،آپ خود جاتے۔جو وعظ و نصیحت آپ کی زبان پر گزرتی۔سامعین کے دلوں میں اس کا خاص بڑااثر ہوتا تھا۔اگرچہ ان کو بارہا سنا ہوتا۔اس کو دل پر رکھتے اور ان کا بظاہر طریقت میں کوئی پیر نہ تھا۔وہ ضرور اویسی تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ جب مجھے کوئی اشکال پیدا ہوتا ہے تو آنحضرت ﷺ کی وحانیت بے واسطہ اس کو دور کر دیتی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دن اپنے دوستوں سے شاز طلب کیااور کہا کہ حضرت رسالت پناہ ﷺ نے فرمایا کہ بایزید کبھی اپنی داڑھی میں کنگھا تو کیا کرو۔آپ مولانا ظہیر الدین خلوتی میں جایا کرتے تھے۔ان کے طریقہ کے بہت معتقد تھے۔اگرچہ اس کی مریدی کے لحاط سے نہ آتے تھے۔ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ آپ کا گھر مہمانوں سے خالی ہوتا۔ان کے لیے عمدہ کھانے تیار کرتے ،باوجود یکہ ان کی آمدن باغ اور کھیت کی تھوڑی تھی۔ایک دن کہتےکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی دوستوں کی جماعت شہر سے پوران کی طرف جاتی تو مجھ کو معلوم ہوجاتا۔میں جان لیتا تھا کہ قدس آدمی ہیںاور کب پہنچیں گے۔یں ان کے لیے مناسب کھانا تیار کرتا تھاجب آجائیں بے انتظار کھالیں ۔ایک رات مسجد میں ختم قرآن ہوتا تھا ۔ایک ترک نہر کے کنارے سے چند روغن جوش مسجد میں لایا اور مجھے قسم دی کہ اس میں سے کھاؤ کیونکہ یہ بوجہ حلال ہے۔ایک روغن جوش اٹھایا اور اس کے دو ٹکڑے کیے پھر ایک کے دو کیے اور اس میں سے ایک کھایا تو وہ مطلب مجھ پر چھپ گیا۔ اس وقت سے پیچھے اب مہمانوں کی توجہ کی اس طرف کا مجھے علم نہیں ہوتا۔ان کے پہنچنے کے وقت کو نہیں جانتا ۔میں تشویش میں رہتا ہوں۔
ایک دن جماعت کے ساتھ زیارت کوان کی خدمت میں ہم گئے۔وہ موسم انگور کا تھا۔ہم کو انگور کے باغ میں لائے اورآپ چل دئے۔ہم نے باغ کا چکرلگایا۔جس قدر انگور چاہیئےتھے"ہم نے کھائے۔جماعت میں سےایک شخص نےچند خوشہ انگور کے اٹھا لیے۔دوسرےنے اس سے کہا کہ مولانا نے اٹھانے کی اجازت نہیں دی اور وہ قصہ بیان کیا کہ ایک عالم وقت سے واق ہواتھا۔یعنی اس کے چندلوگ مہمان ہوئے تھے۔جماعت میں سے ایک شخص نے ان کے دسترخوان سے تبرک اٹھایا تھا۔جب خادم نے دسترخان اٹھایا تو خادم سے کہا کہ تم نے کیوں برے کام سے نہ روکا۔خادم نے کہا کہ میں نےتو کوئی برا کام نہیں دیکھا۔کہا کہ فلاں شخص نے بے اجازت ٹکڑا اٹھالیا ہے۔دسترخوان اس کے پاس لے جا کہ اس کو اس میں ڈال دے۔خادم دسترخوان اس کے پاس لے گیا۔اس نے وہ ٹکڑا اس میں ڈال دیا۔اس کے بعد مولانا آئے اور ہمارے لیے کھانا لائے۔جب کھانا کھا چکے تو ہم نےلوٹنے کی اجازت مانگی۔ہمارےآنے کے وقت دروازہ میں کھڑے ہوگئے اور کہا"جن کو میں نے باغ میں آنے کی زجازت دے دی تھی۔ان کو کھانے اور لےجانے کی بھی اجازت تھی"لیکن جو کچھ عالم نے کیا"اچھا نہیں کیا۔اگرچہ اول اجازت نہ دی تھی "مگر مناسب تھاکہ آخر معاف کر دیتا۔اس ٹکڑہ کو واپس نہ کرتا۔ایک اور مرتبہ ان کی زیارت کا اتفاق ہوا۔واپسی کے وقت ان میں سے ایک کے دل میں یہ گذرا تھا کہ اگر مولانا میں کرامت ہے تو چاہیئے کہ مجھےکشمکش تبرک کے طور پر دیں۔جب آپ کو ہم نے رخصت کیا تو آپنےاس شخص کو آواز دی کہ تھوڑی دیر ٹھہرو ۔ گھر میں گئے اور ایک طباق کشمکش کالائے ۔ اس کو دے کر کہا"معاف رکھنا کہ ہمارے باغوں میں کشمکش نہیں ہوتا میں ایک دفعہ ان کے پاس نماز مغرب پڑھتا تھا۔ان کو ایسا مغلوب و مستغرق پایا کہ ان کو کوئی شعور نہ تھا۔قیام میں کھڑے ہوتے تھے۔کبھی دایاں ہاتھ بائیں پر اور کبھی بایاں دائیں پر رکھتے تھے۔آپ پیر کی رات ۱۰ذی القعدہ ۸۶۲ھ میں فوت ہوئے۔آپ کی قبر بوارن میں ہے۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abu-yazeed-jalaluddin-porani
scholars.pk
Hazrat Molana Abu Yazeed Jalaluddin Porani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا مفتی محمد عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ (مفتیِ الگوں)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبد العزیز ۔ لقب: مفتیِ الگوں ۔ یہ لقب علاقہ (الگوں) کی نسبت سےہے۔آپ کے تاریخِ ولادت اور خاندان کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت شرفِ ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں:’’ امین الحسنات حضرت مولانا سید خلیل احمد قادری خطیب مسجد وزیر خاں نے ایک دفعہ بر سبیل تذکرہ راقم سے بیان کیا کہ حضرت مفتی صاحب ابتداءً وہابی علماء سے تعلیم حاصل کرتے رہے تھے ۔ اس لئے ان پرغیرمقلدانہ رنگ چڑھا ہوا تھا۔
خوش قسمتی سے حدیث شریف پڑھنے کےلئے امام المحدثین حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بعض حضرات کا خیال تھاکہ انہیں دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔لیکن حضر ت امام المحدثین نےنہ صرف داخلے کی اجازت دی بلکہ خاص توجہ سےبھی سرفرازفرمایا۔چندہی دنوں میں حضرت امام المحدثین کے دلائلِ قاہرہ اورتوجہ کی برکت سے اثراتِ وہابیت کا فور ہو گئےاورحنفیت کا ایسا رنگ چڑھا کہ حضرت مفتی عبد العزیزتمام عمر فقہ حنفی کی خدمت اور اہل باطل کی سر کوبی میں مصروف رہے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:234)
بیعت و خلافت:
آ پ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں غلام اللہ لاثانی شر قپوری سے بیعت اور مجاز تھے ۔
سیرت و خصائص:
فاضلِ جلیل، عالمِ نبیل، جامع الکمال، حضرت علامہ مولانا عبد العزیز نقشبندی ۔
آپ اپنے دور کے زبرد ست فاضل، مسلک اہل سنت و جماعت کے عظیم مبلغ، فقہِ حنفی کے عظیم مفتی اور ملت اسلامہ کا بے پناہ درد رکھنے والنے بزرگ تھے۔ ابتداءً وہابی اساتذہ سےتعلیم کی بدولت وہابیت کارنگ چڑھاہواتھا۔پھر امام المحدثین سید دیدار علی شاہ کی برکت اور خصوصی توجہ سےوہ رنگ زائل ہوا،اور شرقپوریکی کامل توجہ سے نقشبندی ومصطفوی رنگ چڑھا۔یہ رنگ ایسا چڑھاکہ پھرجوملااس کوبھی اس رنگ میں رنگ دیا۔ساری زندگی ملت اسلامیہ کی خدمت میں مصروف رہے۔حضرت امام اعظم ابوحنیفہکےمسلک ِ حق کی ترویج واشاعت فرماتےرہے،اور وہابیت کی بیخ کنی نصب العین رہا۔آپ کےابتدائی حالات پردۂ خفامیں ہیں۔
حضرت مولانا مفتی محمد عبد العزیز نے فراغت کے بعد ضلع لاہور کے ایک قصبہ الگوں (جو تقسیم کے بعد ہندوستان کا حصہ بن گیا ) میں 1933ء میں ’’مدرسہ عربیہ احیاء العلوم‘‘ قائم کیا۔آپ کے دورۂ حدیث کے ساتھی فقیہِ اعظم حضرت مولانا مفتی ابو الخیر محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری نے بصیر پور میں دارالعلوم حنفیہ فرید یہ کا آغاز کیا ۔ الگوں ایک ایسا قصبہ تھا جہاں کے باشندےاحکامِ الٰہیہ سے بے بہرہ تھے۔ مدرسہ عربیہ احیاء العلوم کے قیام سے جہاں ایک طرف، اطراف و اکناف کےطلباء اپنی علمی پیاس بجھانے لگےوہاں دوسری طرف عوام الناس میں پھیلی ہوئی جہالت کی تاریکی چھٹنے لگی اور یہ علاقہ ذکر الٰہی اور ذکر مصطفیٰﷺکے نور سے جگمگانےلگا۔
قیام پاکستان کے بعد حضرت مفتی محمد عبد العزیز نے غلہ منڈی بور یوالہ کی جامع مسجد میں مدرسہ عربیہ احیاء العلوم دوبارہ جاری کردیا ۔ 1950ء میں مدرسہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر آپ نے حاضرین کی توجہ مدرسہ کی عمارت قائم کرنے کی طرف مبذول کرائی تو سردار محمد یعقوب نے مدرسہ کو دو کنال زمین دے دی ، ۔3مئی 1951ء کو عمارت کا سنگ بنیادرکھ دیاگیا اور اسی سال مدرسہ نئی عمارت میں منتقل ہو گیا جواب تک دین متین کی خدمات بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے ۔
1945ء اور 1954ء میں دوبار حرمین طیبین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضرت مفتی صاحب نے عمر بھر علوم دینیہ کی تعلیم اور مسلک اہل سنت و جماعت کی تبلیغ میں صرف کی،آپ کے شاگردارور شاگردوں کے آج بھی مختلف شہروں میں خدمات دین میں مصروف ہیں ۔ ان میں سےایک نام عمدۃ المتکلمین، خطیبِ پاکستان حضرت علامہ مولانا سید محمد محفوظ الحق شاہ صاحب اطال اللہ عمرہ (خلیفہ حضرت قطبِ مدینہ)کابھی ہے۔
تاریخِ وصال:
1960ء میں حضرت پر ذیابیطس کا شدید حملہ ہوا، علاج کارگر نہ ہو سکا، اور 10 ذیقعدہ 1380ھ مطابق 26 اپریل1961ء، بروز بدھ چار بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ بوری والا ہی آخری آرام گاہ بنی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-aziz
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبد العزیز ۔ لقب: مفتیِ الگوں ۔ یہ لقب علاقہ (الگوں) کی نسبت سےہے۔آپ کے تاریخِ ولادت اور خاندان کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت شرفِ ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں:’’ امین الحسنات حضرت مولانا سید خلیل احمد قادری خطیب مسجد وزیر خاں نے ایک دفعہ بر سبیل تذکرہ راقم سے بیان کیا کہ حضرت مفتی صاحب ابتداءً وہابی علماء سے تعلیم حاصل کرتے رہے تھے ۔ اس لئے ان پرغیرمقلدانہ رنگ چڑھا ہوا تھا۔
خوش قسمتی سے حدیث شریف پڑھنے کےلئے امام المحدثین حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بعض حضرات کا خیال تھاکہ انہیں دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔لیکن حضر ت امام المحدثین نےنہ صرف داخلے کی اجازت دی بلکہ خاص توجہ سےبھی سرفرازفرمایا۔چندہی دنوں میں حضرت امام المحدثین کے دلائلِ قاہرہ اورتوجہ کی برکت سے اثراتِ وہابیت کا فور ہو گئےاورحنفیت کا ایسا رنگ چڑھا کہ حضرت مفتی عبد العزیزتمام عمر فقہ حنفی کی خدمت اور اہل باطل کی سر کوبی میں مصروف رہے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:234)
بیعت و خلافت:
آ پ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں غلام اللہ لاثانی شر قپوری سے بیعت اور مجاز تھے ۔
سیرت و خصائص:
فاضلِ جلیل، عالمِ نبیل، جامع الکمال، حضرت علامہ مولانا عبد العزیز نقشبندی ۔
آپ اپنے دور کے زبرد ست فاضل، مسلک اہل سنت و جماعت کے عظیم مبلغ، فقہِ حنفی کے عظیم مفتی اور ملت اسلامہ کا بے پناہ درد رکھنے والنے بزرگ تھے۔ ابتداءً وہابی اساتذہ سےتعلیم کی بدولت وہابیت کارنگ چڑھاہواتھا۔پھر امام المحدثین سید دیدار علی شاہ کی برکت اور خصوصی توجہ سےوہ رنگ زائل ہوا،اور شرقپوریکی کامل توجہ سے نقشبندی ومصطفوی رنگ چڑھا۔یہ رنگ ایسا چڑھاکہ پھرجوملااس کوبھی اس رنگ میں رنگ دیا۔ساری زندگی ملت اسلامیہ کی خدمت میں مصروف رہے۔حضرت امام اعظم ابوحنیفہکےمسلک ِ حق کی ترویج واشاعت فرماتےرہے،اور وہابیت کی بیخ کنی نصب العین رہا۔آپ کےابتدائی حالات پردۂ خفامیں ہیں۔
حضرت مولانا مفتی محمد عبد العزیز نے فراغت کے بعد ضلع لاہور کے ایک قصبہ الگوں (جو تقسیم کے بعد ہندوستان کا حصہ بن گیا ) میں 1933ء میں ’’مدرسہ عربیہ احیاء العلوم‘‘ قائم کیا۔آپ کے دورۂ حدیث کے ساتھی فقیہِ اعظم حضرت مولانا مفتی ابو الخیر محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری نے بصیر پور میں دارالعلوم حنفیہ فرید یہ کا آغاز کیا ۔ الگوں ایک ایسا قصبہ تھا جہاں کے باشندےاحکامِ الٰہیہ سے بے بہرہ تھے۔ مدرسہ عربیہ احیاء العلوم کے قیام سے جہاں ایک طرف، اطراف و اکناف کےطلباء اپنی علمی پیاس بجھانے لگےوہاں دوسری طرف عوام الناس میں پھیلی ہوئی جہالت کی تاریکی چھٹنے لگی اور یہ علاقہ ذکر الٰہی اور ذکر مصطفیٰﷺکے نور سے جگمگانےلگا۔
قیام پاکستان کے بعد حضرت مفتی محمد عبد العزیز نے غلہ منڈی بور یوالہ کی جامع مسجد میں مدرسہ عربیہ احیاء العلوم دوبارہ جاری کردیا ۔ 1950ء میں مدرسہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر آپ نے حاضرین کی توجہ مدرسہ کی عمارت قائم کرنے کی طرف مبذول کرائی تو سردار محمد یعقوب نے مدرسہ کو دو کنال زمین دے دی ، ۔3مئی 1951ء کو عمارت کا سنگ بنیادرکھ دیاگیا اور اسی سال مدرسہ نئی عمارت میں منتقل ہو گیا جواب تک دین متین کی خدمات بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے ۔
1945ء اور 1954ء میں دوبار حرمین طیبین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضرت مفتی صاحب نے عمر بھر علوم دینیہ کی تعلیم اور مسلک اہل سنت و جماعت کی تبلیغ میں صرف کی،آپ کے شاگردارور شاگردوں کے آج بھی مختلف شہروں میں خدمات دین میں مصروف ہیں ۔ ان میں سےایک نام عمدۃ المتکلمین، خطیبِ پاکستان حضرت علامہ مولانا سید محمد محفوظ الحق شاہ صاحب اطال اللہ عمرہ (خلیفہ حضرت قطبِ مدینہ)کابھی ہے۔
تاریخِ وصال:
1960ء میں حضرت پر ذیابیطس کا شدید حملہ ہوا، علاج کارگر نہ ہو سکا، اور 10 ذیقعدہ 1380ھ مطابق 26 اپریل1961ء، بروز بدھ چار بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ بوری والا ہی آخری آرام گاہ بنی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-aziz
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Mufti Abdul Aziz
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
شیخ جمالی دہلوی سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حامد بن فضل اللہ ، بعض مؤرخین کے نزدیک آپ کا نام جلال خان عرف جمالی ہے ۔ لقب: شیخ جمالی، درویش جمالی، جما ل الدین فضل اللہ ۔"کمبوہ" قبیلہ سے تعلق کی وجہ سے "جمالی کمبوہ" بھی کہا جاتا ہے ۔ تخلص: جمالی ۔ والد کا اسمِ گرامی: فضل اللہ تھا ۔ (آثار شیخ جمالی، ص:150)
تاریخِ ولادت:
آپ 862ھ، بمطابق 1458ء کو پیدا ہوئے ۔(ایضاً)
تحصیلِ علم:
صغرسنی میں آپ کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا تھا ۔ اپنی خدا داد استعداد اور قابلیتِ فطری کےسبب عمدہ تعلیم و تربیت سے بہرہ مند ہوئے، اور علوم رسمی میں فضیلت حاصل کی۔آپ کے مروجہ علوم کے اساتذہ کے نام دستیاب نہیں ہیں، آپ اپنے شیخ کی خانقاہ میں کافی عرصہ رہے ہیں،اور اس وقت کی خانقاہیں ایک یونیورسٹی کادرجہ رکھتی تھیں۔ ہوسکتا ہے آپ نے تمام علوم اپنے شیخ سے حاصل کیے ہوں،کیونکہ شیخ سماء الدین سہروردی شیخِ طریقت کےساتھ شریعت کے"بحرالعلوم" بھی تھے۔
بیعت و خلافت:
علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ حضرت علامہ شیخ سماء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ پیرروشن ضمیر کی خدمت میں رہ کر عبادات، ریاضات اورمجاہدات کئےاورآخرکار درجہ کمال کوپہنچے۔آپ کے پیرومرشد آپ سے بہت محبت فرماتے تھے۔
سیرت و خصائص:
برہانِ ملت، شیخِ عزیمت، شاعرِ حقیقتِ، بحرِ علم و معرفت شیخ حامد بن فضل اللہ المعروف شیخ جمالی سہروردی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ قطبِ وقت، بڑے عابد و زاہد تھے ۔ ذکر و فکرمیں ہمہ تن مشغول رہتے تھے ۔ بہت متقی اور پرہیز گار تھے ۔ نہایت منکسر المزاج ، ایک باوقار بزرگ تھے ۔ اپنے پیر و مرشد سے انتہائی محبت اور عقیدت تھی، اپنے پیر و مرشد کی خدمت کو اپنے لئے باعث فخر اور سعادت سمجھتے تھے۔جمال صوری اورکمال معنوی سے آراستہ تھے، آپ کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ "شیخ جمال دہلوی، جمال با کمال اورزبان خوش مقال رکھتے تھے"۔ صوفیوں کی بزم میں آپ عارف ہوتے تھے، اور علماء کی مجلس میں جید عالم ہوتے تھے ۔
سیر و سیاحت:
آپ نے بحکم سیروفی الارض دنیا کی خوب سیر کی اور خدا وند تعالیٰ کی قدرت کے مناظر، اور اس کی صفات کو دیدہ حق میں سے خوب دیکھا۔ حرمین شریف کی زیارت سے مشرف ہوئے، مدینہ منورہ پہنچ کر فیضان نبوی سے مستفید ہوئے ۔ ملتان، یمن، مصر، بغداد، بیت المقدس، روم ، شام، عراق، عرب و عجم، آذربائی جان، گیلان، خراسان بہت سے ممالک کی سیر کی اور بہت سے اولیائے کرام و پیران عظام و شعراء نامدار سے ملاقات کی۔ جن میں شیخ صدر الدین ملتانی، مولانا عبد الرحمن جامی، اور شیخ جلال الدین دوانی جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔
شعر و شاعری:
بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا تھا لیکن اپنی قابلیت اور محنت کی بدولت اپنے وقت کے عظیم شاعر بن گئے۔ شاعری کی من جملہ اقسام پر مہارتِ تامہ رکھتے ۔آپ کے اشعار سے اہل سخن واقف ہیں۔
آپ نے ایک فارسی کا دیوان چھوڑا ہے، جو نو ہزار اشعار پر مشتمل ۔ مثنوی "مہر و ماہ" بھی آپ کی یادگار ہے ۔ آپ کی نعت کا یہ شعر بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں مقبول ہے۔
؏ موسیٰ زہوش رفت بیک جلوۂ صفات
توعین ذات می نگری درتبسمی
یعنی اللہ کے کلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام تو (کوہِ طور پر) صفات کے ایک جلوے سے بے ہوش ہو گئے، اور سیاحِ لا مکاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ عین ِذات کو دیکھتے اور مسکراتے رہے۔
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے بعض صلحاء کو اس شعر کے مقبول ہونے کی بشارت دی، اور خوشی خوشی فرمایا: "ہذا المدحی" ۔ "یہ میری نعت ہے"۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک، 10 ذیقعد 942ھ، بمطابق 30 اپریل 1536ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار "مہر ولی، دہلی" انڈیا میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ آثار شیخ جمالی ۔ اخبار الاخیار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalal-khan-sheikh-jamali
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حامد بن فضل اللہ ، بعض مؤرخین کے نزدیک آپ کا نام جلال خان عرف جمالی ہے ۔ لقب: شیخ جمالی، درویش جمالی، جما ل الدین فضل اللہ ۔"کمبوہ" قبیلہ سے تعلق کی وجہ سے "جمالی کمبوہ" بھی کہا جاتا ہے ۔ تخلص: جمالی ۔ والد کا اسمِ گرامی: فضل اللہ تھا ۔ (آثار شیخ جمالی، ص:150)
تاریخِ ولادت:
آپ 862ھ، بمطابق 1458ء کو پیدا ہوئے ۔(ایضاً)
تحصیلِ علم:
صغرسنی میں آپ کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا تھا ۔ اپنی خدا داد استعداد اور قابلیتِ فطری کےسبب عمدہ تعلیم و تربیت سے بہرہ مند ہوئے، اور علوم رسمی میں فضیلت حاصل کی۔آپ کے مروجہ علوم کے اساتذہ کے نام دستیاب نہیں ہیں، آپ اپنے شیخ کی خانقاہ میں کافی عرصہ رہے ہیں،اور اس وقت کی خانقاہیں ایک یونیورسٹی کادرجہ رکھتی تھیں۔ ہوسکتا ہے آپ نے تمام علوم اپنے شیخ سے حاصل کیے ہوں،کیونکہ شیخ سماء الدین سہروردی شیخِ طریقت کےساتھ شریعت کے"بحرالعلوم" بھی تھے۔
بیعت و خلافت:
علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ حضرت علامہ شیخ سماء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ پیرروشن ضمیر کی خدمت میں رہ کر عبادات، ریاضات اورمجاہدات کئےاورآخرکار درجہ کمال کوپہنچے۔آپ کے پیرومرشد آپ سے بہت محبت فرماتے تھے۔
سیرت و خصائص:
برہانِ ملت، شیخِ عزیمت، شاعرِ حقیقتِ، بحرِ علم و معرفت شیخ حامد بن فضل اللہ المعروف شیخ جمالی سہروردی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ قطبِ وقت، بڑے عابد و زاہد تھے ۔ ذکر و فکرمیں ہمہ تن مشغول رہتے تھے ۔ بہت متقی اور پرہیز گار تھے ۔ نہایت منکسر المزاج ، ایک باوقار بزرگ تھے ۔ اپنے پیر و مرشد سے انتہائی محبت اور عقیدت تھی، اپنے پیر و مرشد کی خدمت کو اپنے لئے باعث فخر اور سعادت سمجھتے تھے۔جمال صوری اورکمال معنوی سے آراستہ تھے، آپ کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ "شیخ جمال دہلوی، جمال با کمال اورزبان خوش مقال رکھتے تھے"۔ صوفیوں کی بزم میں آپ عارف ہوتے تھے، اور علماء کی مجلس میں جید عالم ہوتے تھے ۔
سیر و سیاحت:
آپ نے بحکم سیروفی الارض دنیا کی خوب سیر کی اور خدا وند تعالیٰ کی قدرت کے مناظر، اور اس کی صفات کو دیدہ حق میں سے خوب دیکھا۔ حرمین شریف کی زیارت سے مشرف ہوئے، مدینہ منورہ پہنچ کر فیضان نبوی سے مستفید ہوئے ۔ ملتان، یمن، مصر، بغداد، بیت المقدس، روم ، شام، عراق، عرب و عجم، آذربائی جان، گیلان، خراسان بہت سے ممالک کی سیر کی اور بہت سے اولیائے کرام و پیران عظام و شعراء نامدار سے ملاقات کی۔ جن میں شیخ صدر الدین ملتانی، مولانا عبد الرحمن جامی، اور شیخ جلال الدین دوانی جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔
شعر و شاعری:
بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا تھا لیکن اپنی قابلیت اور محنت کی بدولت اپنے وقت کے عظیم شاعر بن گئے۔ شاعری کی من جملہ اقسام پر مہارتِ تامہ رکھتے ۔آپ کے اشعار سے اہل سخن واقف ہیں۔
آپ نے ایک فارسی کا دیوان چھوڑا ہے، جو نو ہزار اشعار پر مشتمل ۔ مثنوی "مہر و ماہ" بھی آپ کی یادگار ہے ۔ آپ کی نعت کا یہ شعر بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں مقبول ہے۔
؏ موسیٰ زہوش رفت بیک جلوۂ صفات
توعین ذات می نگری درتبسمی
یعنی اللہ کے کلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام تو (کوہِ طور پر) صفات کے ایک جلوے سے بے ہوش ہو گئے، اور سیاحِ لا مکاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ عین ِذات کو دیکھتے اور مسکراتے رہے۔
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے بعض صلحاء کو اس شعر کے مقبول ہونے کی بشارت دی، اور خوشی خوشی فرمایا: "ہذا المدحی" ۔ "یہ میری نعت ہے"۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک، 10 ذیقعد 942ھ، بمطابق 30 اپریل 1536ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار "مہر ولی، دہلی" انڈیا میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ آثار شیخ جمالی ۔ اخبار الاخیار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalal-khan-sheikh-jamali
scholars.pk
Hazrat Jalal Khan Sheikh Jamali
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-11-1444 ᴴ | 30-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-11-1444 ᴴ | 31-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1