🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-11-1444 ᴴ | 30-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-11-1444 ᴴ | 30-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-11-1444 ᴴ | 30-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-11-1444 ᴴ | 30-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ عثمان زندہ پیر صابری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ شیخ عثمان ۔ لقب: زندہ پیر ۔ مکمل نام: حضرت خواجہ شیخ عثمان المعروف زندہ پیر چشتی صابری ۔

سلسلۂ نسب:
شیخ عثمان بن شیخ عبدالکبیر چشتی صابری بن قطب العالم شیخ عبد القدوس گنگوہی۔(علیہم الرحمہ)

تحصیلِ علم:
آپ نے تمام ظاہری و باطنی علوم کی تحصیل وتکمیل اپنے والدِ گرامی سے کی،اور اپنے وقت علماء ومشائخ میں ممتاز ہوئے۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی شیخ عبدالکبیر چشتی علیہ الرحمہ کے مرید وخلیفہ اور جانشین تھے۔

سیرت و خصائص:
فنا فی اللہ بقا بااللہ قطب الواصلین حضرت شیخ عثمان زندہ پیر چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ ظاہری اور باطنی علوم میں کمال رکھتے تھے، اورسلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے ممتاز مشائخ میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کا شمار اس وقت کے کاملین میں ہوتا تھا۔عوام وخواص آپ کی رجوع کرتے تھے۔آپ علیہ الرحمہ مستجاب الدعوات تھے۔آپ کی زبان کن کی کنجی تھی جو فرمادیتے وہ پورا ہوتا تھا۔

سیر الاقطاب میں ہے:
کہ جٹوں میں سے دو آدمی ایک ہندو ایک مسلمان آپس میں اختلاف رکھتے تھے ان کے معاملے میں فیصلہ نہیں ہوتا تھا دونوں حضرت شیخ کی خدمت میں آئے دونوں کی باتیں سنی اور اِس نتیجےپر پہنچے کہ مسلمان سچا ہے، چنانچہ آپ نے مسلمان کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ ہندو نے احتجاج کیا کہ آپ نے محض مسلمان ہونے کی وجہ سے اُس کے حق میں فیصلہ کیا ہے ورنہ میں زیادہ حقدار تھا حضرت شیخ یہ بات سُن کرمراقبے میں چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ تمہاری عورتیں حمل میں ہیں تم دونوں کے لیے حکم دیا جاتا ہے کہ سیدھے گھر چلےجاؤ سچے کے گھر میں لڑکا پیدا ہوگا اور جھوٹے کے گھر میں لڑکی پیدا ہوگی دونوں اس بات پر راضی ہوگئے اور گھر چلے گئے کچھ دنوں بعد مسلمان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اورہندو کے لڑکی دونوں نے حضرت شیخ کا فیصلہ مان لیا اور جھگڑا ختم کر دیا۔

وصال:
آپ کا وصال 10 ذوالقعدہ 990ھ، بمطابق 5 دسمبر 1582ء بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار "پانی پت" صوبہ ہریانہ (انڈیا) میں مرجع خاص وعام ہے۔

ماخذ و مراجع:
انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-usman-zinda-peer-sabri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا ابو یزید جلال الدین پورانی علیہ الرحمہ

آپ نے علوم شرعیہ حاصل کیے تھے اور شریعت کی رعایت اور سنت کی متابعت سے مقابلہ عالیہ تک پہنچے تھے۔آپ اکثر اوقات وظائف شرعی کو ادا کر کے مسلمانوں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔جو شخص کسی مطلب میں آپ کی طرف رجوع کرتا ،حتی الامکان اس میں سعی فرماتے اور اس کو پورا کرنے کے لیے جس دنیادار کی طرف جاان مناسب ہوتا،آپ خود جاتے۔جو وعظ و نصیحت آپ کی زبان پر گزرتی۔سامعین کے دلوں میں اس کا خاص بڑااثر ہوتا تھا۔اگرچہ ان کو بارہا سنا ہوتا۔اس کو دل پر رکھتے اور ان کا بظاہر طریقت میں کوئی پیر نہ تھا۔وہ ضرور اویسی تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ جب مجھے کوئی اشکال پیدا ہوتا ہے تو آنحضرت ﷺ کی وحانیت بے واسطہ اس کو دور کر دیتی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دن اپنے دوستوں سے شاز طلب کیااور کہا کہ حضرت رسالت پناہ ﷺ نے فرمایا کہ بایزید کبھی اپنی داڑھی میں کنگھا تو کیا کرو۔آپ مولانا ظہیر الدین خلوتی میں جایا کرتے تھے۔ان کے طریقہ کے بہت معتقد تھے۔اگرچہ اس کی مریدی کے لحاط سے نہ آتے تھے۔ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ آپ کا گھر مہمانوں سے خالی ہوتا۔ان کے لیے عمدہ کھانے تیار کرتے ،باوجود یکہ ان کی آمدن باغ اور کھیت کی تھوڑی تھی۔ایک دن کہتےکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی دوستوں کی جماعت شہر سے پوران کی طرف جاتی تو مجھ کو معلوم ہوجاتا۔میں جان لیتا تھا کہ قدس آدمی ہیںاور کب پہنچیں گے۔یں ان کے لیے مناسب کھانا تیار کرتا تھاجب آجائیں بے انتظار کھالیں ۔ایک رات مسجد میں ختم قرآن ہوتا تھا ۔ایک ترک نہر کے کنارے سے چند روغن جوش مسجد میں لایا اور مجھے قسم دی کہ اس میں سے کھاؤ کیونکہ یہ بوجہ حلال ہے۔ایک روغن جوش اٹھایا اور اس کے دو ٹکڑے کیے پھر ایک کے دو کیے اور اس میں سے ایک کھایا تو وہ مطلب مجھ پر چھپ گیا۔ اس وقت سے پیچھے اب مہمانوں کی توجہ کی اس طرف کا مجھے علم نہیں ہوتا۔ان کے پہنچنے کے وقت کو نہیں جانتا ۔میں تشویش میں رہتا ہوں۔

ایک دن جماعت کے ساتھ زیارت کوان کی خدمت میں ہم گئے۔وہ موسم انگور کا تھا۔ہم کو انگور کے باغ میں لائے اورآپ چل دئے۔ہم نے باغ کا چکرلگایا۔جس قدر انگور چاہیئےتھے"ہم نے کھائے۔جماعت میں سےایک شخص نےچند خوشہ انگور کے اٹھا لیے۔دوسرےنے اس سے کہا کہ مولانا نے اٹھانے کی اجازت نہیں دی اور وہ قصہ بیان کیا کہ ایک عالم وقت سے واق ہواتھا۔یعنی اس کے چندلوگ مہمان ہوئے تھے۔جماعت میں سے ایک شخص نے ان کے دسترخوان سے تبرک اٹھایا تھا۔جب خادم نے دسترخان اٹھایا تو خادم سے کہا کہ تم نے کیوں برے کام سے نہ روکا۔خادم نے کہا کہ میں نےتو کوئی برا کام نہیں دیکھا۔کہا کہ فلاں شخص نے بے اجازت ٹکڑا اٹھالیا ہے۔دسترخوان اس کے پاس لے جا کہ اس کو اس میں ڈال دے۔خادم دسترخوان اس کے پاس لے گیا۔اس نے وہ ٹکڑا اس میں ڈال دیا۔اس کے بعد مولانا آئے اور ہمارے لیے کھانا لائے۔جب کھانا کھا چکے تو ہم نےلوٹنے کی اجازت مانگی۔ہمارےآنے کے وقت دروازہ میں کھڑے ہوگئے اور کہا"جن کو میں نے باغ میں آنے کی زجازت دے دی تھی۔ان کو کھانے اور لےجانے کی بھی اجازت تھی"لیکن جو کچھ عالم نے کیا"اچھا نہیں کیا۔اگرچہ اول اجازت نہ دی تھی "مگر مناسب تھاکہ آخر معاف کر دیتا۔اس ٹکڑہ کو واپس نہ کرتا۔ایک اور مرتبہ ان کی زیارت کا اتفاق ہوا۔واپسی کے وقت ان میں سے ایک کے دل میں یہ گذرا تھا کہ اگر مولانا میں کرامت ہے تو چاہیئے کہ مجھےکشمکش تبرک کے طور پر دیں۔جب آپ کو ہم نے رخصت کیا تو آپنےاس شخص کو آواز دی کہ تھوڑی دیر ٹھہرو ۔ گھر میں گئے اور ایک طباق کشمکش کالائے ۔ اس کو دے کر کہا"معاف رکھنا کہ ہمارے باغوں میں کشمکش نہیں ہوتا میں ایک دفعہ ان کے پاس نماز مغرب پڑھتا تھا۔ان کو ایسا مغلوب و مستغرق پایا کہ ان کو کوئی شعور نہ تھا۔قیام میں کھڑے ہوتے تھے۔کبھی دایاں ہاتھ بائیں پر اور کبھی بایاں دائیں پر رکھتے تھے۔آپ پیر کی رات ۱۰ذی القعدہ ۸۶۲ھ میں فوت ہوئے۔آپ کی قبر بوارن میں ہے۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abu-yazeed-jalaluddin-porani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت مولانا مفتی محمد عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ (مفتیِ الگوں)

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبد العزیز ۔ لقب: مفتیِ الگوں ۔ یہ لقب علاقہ (الگوں) کی نسبت سےہے۔آپ کے تاریخِ ولادت اور خاندان کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضرت شرفِ ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں:’’ امین الحسنات حضرت مولانا سید خلیل احمد قادری﷫ خطیب مسجد وزیر خاں نے ایک دفعہ بر سبیل تذکرہ راقم سے بیان کیا کہ حضرت مفتی صاحب ابتداءً وہابی علماء سے تعلیم حاصل کرتے رہے تھے ۔ اس لئے ان پرغیرمقلدانہ رنگ چڑھا ہوا تھا۔

خوش قسمتی سے حدیث شریف پڑھنے کےلئے امام المحدثین حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بعض حضرات کا خیال تھاکہ انہیں دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔لیکن حضر ت امام المحدثین نےنہ صرف داخلے کی اجازت دی بلکہ خاص توجہ سےبھی سرفرازفرمایا۔چندہی دنوں میں حضرت امام المحدثین کے دلائلِ قاہرہ اورتوجہ کی برکت سے اثراتِ وہابیت کا فور ہو گئےاورحنفیت کا ایسا رنگ چڑھا کہ حضرت مفتی عبد العزیز﷫تمام عمر فقہ حنفی کی خدمت اور اہل باطل کی سر کوبی میں مصروف رہے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:234)

بیعت و خلافت:
آ پ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں غلام اللہ لاثانی شر قپوری سے بیعت اور مجاز تھے ۔

سیرت و خصائص:
فاضلِ جلیل، عالمِ نبیل، جامع الکمال، حضرت علامہ مولانا عبد العزیز نقشبندی ۔

آپ اپنے دور کے زبرد ست فاضل، مسلک اہل سنت و جماعت کے عظیم مبلغ، فقہِ حنفی کے عظیم مفتی اور ملت اسلامہ کا بے پناہ درد رکھنے والنے بزرگ تھے۔ ابتداءً وہابی اساتذہ سےتعلیم کی بدولت وہابیت کارنگ چڑھاہواتھا۔پھر امام المحدثین سید دیدار علی شاہ﷫ کی برکت اور خصوصی توجہ سےوہ رنگ زائل ہوا،اور شرقپوری﷫کی کامل توجہ سے نقشبندی ومصطفوی رنگ چڑھا۔یہ رنگ ایسا چڑھاکہ پھرجوملااس کوبھی اس رنگ میں رنگ دیا۔ساری زندگی ملت اسلامیہ کی خدمت میں مصروف رہے۔حضرت امام اعظم ابوحنیفہ﷜کےمسلک ِ حق کی ترویج واشاعت فرماتےرہے،اور وہابیت کی بیخ کنی نصب العین رہا۔آپ کےابتدائی حالات پردۂ خفامیں ہیں۔

حضرت مولانا مفتی محمد عبد العزیز نے فراغت کے بعد ضلع لاہور کے ایک قصبہ الگوں (جو تقسیم کے بعد ہندوستان کا حصہ بن گیا ) میں 1933ء میں ’’مدرسہ عربیہ احیاء العلوم‘‘ قائم کیا۔آپ کے دورۂ حدیث کے ساتھی فقیہِ اعظم حضرت مولانا مفتی ابو الخیر محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری﷫ نے بصیر پور میں دارالعلوم حنفیہ فرید یہ کا آغاز کیا ۔ الگوں ایک ایسا قصبہ تھا جہاں کے باشندےاحکامِ الٰہیہ سے بے بہرہ تھے۔ مدرسہ عربیہ احیاء العلوم کے قیام سے جہاں ایک طرف، اطراف و اکناف کےطلباء اپنی علمی پیاس بجھانے لگےوہاں دوسری طرف عوام الناس میں پھیلی ہوئی جہالت کی تاریکی چھٹنے لگی اور یہ علاقہ ذکر الٰہی اور ذکر مصطفیٰﷺکے نور سے جگمگانےلگا۔

قیام پاکستان کے بعد حضرت مفتی محمد عبد العزیز نے غلہ منڈی بور یوالہ کی جامع مسجد میں مدرسہ عربیہ احیاء العلوم دوبارہ جاری کردیا ۔ 1950ء میں مدرسہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر آپ نے حاضرین کی توجہ مدرسہ کی عمارت قائم کرنے کی طرف مبذول کرائی تو سردار محمد یعقوب نے مدرسہ کو دو کنال زمین دے دی ، ۔3مئی 1951ء کو عمارت کا سنگ بنیادرکھ دیاگیا اور اسی سال مدرسہ نئی عمارت میں منتقل ہو گیا جواب تک دین متین کی خدمات بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے ۔

1945ء اور 1954ء میں دوبار حرمین طیبین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضرت مفتی صاحب نے عمر بھر علوم دینیہ کی تعلیم اور مسلک اہل سنت و جماعت کی تبلیغ میں صرف کی،آپ کے شاگردارور شاگردوں کے آج بھی مختلف شہروں میں خدمات دین میں مصروف ہیں ۔ ان میں سےایک نام عمدۃ المتکلمین، خطیبِ پاکستان حضرت علامہ مولانا سید محمد محفوظ الحق شاہ صاحب اطال اللہ عمرہ (خلیفہ حضرت قطبِ مدینہ﷫)کابھی ہے۔

تاریخِ وصال:
1960ء میں حضرت پر ذیابیطس کا شدید حملہ ہوا، علاج کارگر نہ ہو سکا، اور 10 ذیقعدہ 1380ھ مطابق 26 اپریل1961ء، بروز بدھ چار بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ بوری والا ہی آخری آرام گاہ بنی ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-aziz
1👍1