🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-11-1444 ᴴ | 29-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-11-1444 ᴴ | 29-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-11-1444 ᴴ | 29-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-11-1444 ᴴ | 29-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔ لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ، بن مولانا سعد الدین صادق ، بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ 24 شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعد شیخ رحمت اللہ اور ملا مقیم السنۃ ٹوپی گر، اور اخوند نور الہدیٰ ٹوپی گر، کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کم عمر ی میں تمام علوم و فنون حاصل کر لیے ۔ حدیث و قرأت کی اجازت میر قاری ، تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی، اور زمانے کے علماء میں ممتاز ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24 سال تک ان سے فیض حاصل کرتے رہے ۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علومِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل، جید فقیہ، جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے ۔ بہت قلیل عرصے میں تمام علومِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہو گئے، بلکہ ان سے سبقت لے گئے ۔ اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا ۔ بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے ۔ علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی، اور پھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصبِ عظمیٰ پر فائز ہوئے ۔ لیکن درس و تدریس، افتاء و قضاء اور دیگر مصروفیات کے باوجود ذکر و اذکار مراقبہ و مجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا ۔ حضرت نے ایک کتاب " صحائفِ سلطانی " تصنیف فرمائی ہے، جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک، 9 ذو القعدہ 1216ھ، بمطابق ۔ 12 مارچ 1802 کو وصال ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔ لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ، بن مولانا سعد الدین صادق ، بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ 24 شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعد شیخ رحمت اللہ اور ملا مقیم السنۃ ٹوپی گر، اور اخوند نور الہدیٰ ٹوپی گر، کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کم عمر ی میں تمام علوم و فنون حاصل کر لیے ۔ حدیث و قرأت کی اجازت میر قاری ، تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی، اور زمانے کے علماء میں ممتاز ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24 سال تک ان سے فیض حاصل کرتے رہے ۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علومِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل، جید فقیہ، جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے ۔ بہت قلیل عرصے میں تمام علومِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہو گئے، بلکہ ان سے سبقت لے گئے ۔ اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا ۔ بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے ۔ علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی، اور پھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصبِ عظمیٰ پر فائز ہوئے ۔ لیکن درس و تدریس، افتاء و قضاء اور دیگر مصروفیات کے باوجود ذکر و اذکار مراقبہ و مجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا ۔ حضرت نے ایک کتاب " صحائفِ سلطانی " تصنیف فرمائی ہے، جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک، 9 ذو القعدہ 1216ھ، بمطابق ۔ 12 مارچ 1802 کو وصال ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
scholars.pk
Hazrat Molana Qawwamuddin Kashmiri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید نظام الدین قادری بھکاری
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید نظام الدین ۔ لقب: بھکاری ۔ والد کا اسمِ گرامی: حضرت علامہ قاری سید سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ ۔
بھکاری کی وجہِ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ولایت اور توکل کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے، اس لئے آپ ہر چیز کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرتے تھے، اس لئے "بھکاری" لقب مشہور ہوا، یعنی رب کا بھکاری ۔
حدیث شریف:
رسولِ اکرم نورِ مجسم رحمتِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليسأل أحدكم ربه حاجته كلها، حتى يسأل شسع نعله إذا انقطع ۔ (رواہ الترمذی)
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی ضرورت کی ہر چیز اپنے رب سے مانگے حتیٰ کہ جب اُس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹے تو وہ بھی اُسی سے مانگے ـ (مشکوٰۃ المصابیح، ص: 2273) ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 890ھ کو قصبہ" کا کوری "ضلع لکھنؤ (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدِ ماجد حضرت سیدنا سیف الدین علیہ الرحمہ اپنے وقت کے بڑے مایہ ناز عالم اور قراءتِ سبعہ کے بہت بڑے امام تھے ۔ انہیں کی نگرانی میں آپ نے علومِ نقلیہ و عقلیہ اور تفاسیر و تجوید نیز وظائف و اَذکار حاصل کئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بیعت کا شرف حضرت سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل تھا اور اُن ہی سے خرقہ خلافت و اجازت حاصل ہوا تھا ۔
سیرت و خصائص:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے متعدد بار حضور سرورِ کائنات ﷺ کی زیارت کی اور بارگاہِ رسالت ﷺ سے عظیم بشارتوں سے فیض یاب ہوئے ۔ اکثر مرتبہ سرکار ِغوثیت مآب رضی اللہ تعالی عنہ کی بھی زیارت فرمائی ۔
چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں:
کہ میں اکثر زیارتِ حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ سے مشرف ہوا ہوں مگر حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تنہا کبھی بھی نہیں دیکھا بلکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ بانیِ سلسلہ سہروردیہ حضرت شہاب الدین عمر سہر وردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی ہوتے ہیں ۔
وصال:
91 برس کی عمر میں بروز جمعۃ المبارک، 9 ذیقعدہ 981ھ، بمطابق یکم مارچ 1574 کو آپ کا وصال ہوا ۔
مزار شریف:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار مبارک قصبہ " کاکوری " کے وسط محلہ " جھنجھری " ضلع لکھنؤ ، صوبہ اتر پردیش (انڈیا) میں واقع ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-nizamuddin-bhikari
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید نظام الدین ۔ لقب: بھکاری ۔ والد کا اسمِ گرامی: حضرت علامہ قاری سید سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ ۔
بھکاری کی وجہِ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ولایت اور توکل کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے، اس لئے آپ ہر چیز کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرتے تھے، اس لئے "بھکاری" لقب مشہور ہوا، یعنی رب کا بھکاری ۔
حدیث شریف:
رسولِ اکرم نورِ مجسم رحمتِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليسأل أحدكم ربه حاجته كلها، حتى يسأل شسع نعله إذا انقطع ۔ (رواہ الترمذی)
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی ضرورت کی ہر چیز اپنے رب سے مانگے حتیٰ کہ جب اُس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹے تو وہ بھی اُسی سے مانگے ـ (مشکوٰۃ المصابیح، ص: 2273) ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 890ھ کو قصبہ" کا کوری "ضلع لکھنؤ (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدِ ماجد حضرت سیدنا سیف الدین علیہ الرحمہ اپنے وقت کے بڑے مایہ ناز عالم اور قراءتِ سبعہ کے بہت بڑے امام تھے ۔ انہیں کی نگرانی میں آپ نے علومِ نقلیہ و عقلیہ اور تفاسیر و تجوید نیز وظائف و اَذکار حاصل کئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بیعت کا شرف حضرت سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل تھا اور اُن ہی سے خرقہ خلافت و اجازت حاصل ہوا تھا ۔
سیرت و خصائص:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے متعدد بار حضور سرورِ کائنات ﷺ کی زیارت کی اور بارگاہِ رسالت ﷺ سے عظیم بشارتوں سے فیض یاب ہوئے ۔ اکثر مرتبہ سرکار ِغوثیت مآب رضی اللہ تعالی عنہ کی بھی زیارت فرمائی ۔
چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں:
کہ میں اکثر زیارتِ حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ سے مشرف ہوا ہوں مگر حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تنہا کبھی بھی نہیں دیکھا بلکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ بانیِ سلسلہ سہروردیہ حضرت شہاب الدین عمر سہر وردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی ہوتے ہیں ۔
وصال:
91 برس کی عمر میں بروز جمعۃ المبارک، 9 ذیقعدہ 981ھ، بمطابق یکم مارچ 1574 کو آپ کا وصال ہوا ۔
مزار شریف:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار مبارک قصبہ " کاکوری " کے وسط محلہ " جھنجھری " ضلع لکھنؤ ، صوبہ اتر پردیش (انڈیا) میں واقع ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-nizamuddin-bhikari
scholars.pk
Hazrat Muhammad Nizamuddin Bhikari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-11-1444 ᴴ | 29-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-11-1444 ᴴ | 30-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1