🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.81K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
07-11-1444 ᴴ | 28-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت علامہ مخدوم بصر الدین صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نامور بزرگ حضرت علامہ مخدوم بصر الدین صدیقی ’’سیوہن شریف‘‘ کے صدیقی خاندان کے نامور عالم گزرے ہیں۔ مخدوم بصر الدین کا اصل نام رکن الدین تھا لیکن شہرت بصر الدین سے حاصل ہوئی۔ جد بزرگوار مخدوم محمد حسن صدیقی (وفات ۱۲۲۰ھ/۱۸۰۵ئ) اپنے وقت کے عالم عارف و کامل بزرگ تھے۔ اس خاندان ذی وقار میں بے شمار علماء ، فضلائ، مشائخ، ادبائ، حکما اور شعراء نے جنم لیا ہے۔ ’’مغل حکومت‘‘ میں اس خاندان کے بعض علماء قاضی اور قاضی القضاء (چیف جسٹس) کے مناصب جلیلہ پر فائز تھے جو کہ اپنے دور میں شرعی و فقہی مسائل سے متعلق فتاویٰ جاری فرماتے اور فیصلہ صادر فرماتے تھے۔ کلہوڑ اور تالپوروں کے عہد میں بھی انہی مناصب پر فائز رہے۔

مخدوم بصر الدین کی ۲۹ رمضان المبارک ۱۲۸۲ھ بمطابق ۱۷ ستمبر ۱۸۶۳ء کو قلندر کی نگری سیوہن شریف (ضلع دادو) میں ولاد تہ ہوئی ۔ خلفہ حکیم غلام محی الدین عباسی آپ کے ماموں او ان کے بیٹے حکیم فتح محمد صغیر سیوہا نی (۱۸۸۲ئ۔۱۹۴۲ئ) آپ کے ماموں زاد بھائی تھے (لیکن فتح سیوہانی کے عقائد تبدیل ہوگئے تھے، خلاف کے دور میںوہ امروٹی گروپ کا قریبی ارو دین محمد وفائی جیسے نامور کٹر وہابی کا دست راز بن گیا تھا)

تعلیم و تربیت:
مخدوم بصر الدین نے ابدتائی فارسی و عربی تعلیم سیوہن شریف میں حاصل کی ۔ مزید تعلیم اپنے چچا زاد بھائی علامۃ الزمان حضرت مخدوم حسن اللہ صدیقی (۱۸۵۰ئ۔۱۹۲۰ئ) کی خدمت عالیہ میں رہ کر پاٹ شریف کی درسگاہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔

مخدوم صاحب کے والد احمد صدیقی کراچی میں گورنمنٹ ملازم تھے ، انہوں نے اپنے بیٹے کو انگریزی تعلیم دلانے کیلئے ’’سندھ مدرسۃ الاسلام‘‘ کراچی میں داخل کرایا۔ جہاں سے مخدوم بصر الدین صدیقی نے قانون کی ڈگری اعلیٰ اعزاز سے حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کے والد نے آپ کو سرکاری نوکری دلا دی لیکن آپ کا دل مطمئن نہ تھا اسلئے جلد ہی ملازمت سے سبکدوش ہو کر سیوہن شریف واپس آئے اور یاد الٰہی میں مصروف ہوگئے۔

تصنیف و تالیف:
مخدوم صاحب قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، تصوف ، تاریخ، جفر، نجوم اور کیمیاء کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست پر بھی بھر پور دسترس رکھتے تھے۔ آپ نے کئی کتابوں پر حاشیہ رقم کئے۔ ایسی قلمی کتب سیوہن میں حکیم محمد مراد صدیقی کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے ابن سینا کی کتاب ’’القانون‘‘ (عربی) الجزء الاول، الثانی و الثالث پر حاشیہ تحریر ہے جو کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ کا خط ایسا نفیس ہے جیسے موتی چمک رہے ہیں۔ آپ کی تحریر کا عکس سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے مجلہ ’’مہران‘‘ مطبوعہ ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا ہے۔

مخدوم صاحب نے عربی میں بھی کئی کتب تصنیف فرمائی ہیں ان میں سے ’’البصائر‘‘ نامی کتاب نہایت مشہور ہے جس میں کئی مسائل پر تسلی بخش کلام کیا گیا ہے۔ نام سے معلوم ہورہا ہے کہ عقائد کے موضوع پر ہوگی، خدا کرے اشاعت کی راہ ہموار ہو۔

حکمت:
مخدوم بصر الدین خاندانی حاذق حکیم تھے۔ ننہیال اور ددھیال کی کی طر ف سے پشت ہا پشت حکیم گزرے ہیں۔ آپ کے داد اجان حکیم مخدوم حسن نے طب کے موضوع پر آزمودہ مجرب نسخہ جات پر مشتمل ایک اہم کتاب ’’سدیدی‘‘ تالیف کی تھی۔ ان کے علاوہ بھی مخدوم صاحب کے پاس خاندانی آزمودہ نسخہ جات تھے اور عوام الناس کا علاج اپنے آزمودہ نسخہ جات سے کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی اسلئے سینکڑوں لوگ مستفیض ہوتے۔

شاعری:
مخدوم بصر الدین صدیقی عالم عارف اور شاعر تھے۔ آپ کی شاعری حمد، نعت، مولود و مداح پر مشتمل ہے۔ آپ کا سینہ عشق مصطفیﷺ کا گنجینہ تھا۔ شاعری میں ’’بصر الدین‘‘ تخلص اپنا یا ہے۔

عادات و خصائل:
مخدوم بصر الدین انتہائی ذہین اور قوی حافظہ شخصیت تھے۔ آخر عمر تک حوالہ میں کتابوں کے نام، مصنف کا نام اور باب و صفحہ وغیرہ بتادیتے تھے۔ حسن اخلاق ، سادگی پسند، درویش طبیعت، پرہیزگار، خلیق، سخی، رحم دل اور گوشہ نشین تھے۔ کھانا دن میں صرف ایک بار تناول فرماتے ، خاموش طبیعت، اکثر مجاہدہ، عبادت و ریاضت اور مطالعہ کتب میں وقت صرف کرتے تھے۔ سفید لباس زیب تن، سر پر عمامہ ، ہاتھ میں عصا، رنگ گندمی، دارھی سنت مباکہ کے مطابق اور چہرہ پر نور تھا۔

آپ مستجاب الدعوات تھے۔ لارکانہ ، شکار پور اور جیکب آباد اضلاع سے رئیس، جاگیردار، زمیندار ،وڈیرے، آفیسر، علما و عوام زیارت و دعا دوا کیلئے حاضرت ہوتے تھے۔ آپ انسانیت کی خدمت میں پیش پیش تھے۔ ۱۹۲۴ء میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط پڑا، فصلیں تباہ ہو رہی تھیں، جانور پیاس سے مر رہے تھے۔ مخدوم صاحب لاڑکانہ تشریف لائے تو شہر کے لوگوں کے اسرار پر (لاڑکانہ میں جہاں آج چانڈ کا ہسپتال ہے) نماز باران (استقائ) پڑھانے کے بعد دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو اسی وقت آسمان پر بادل چھا گئے اور بارش ہونے لگی اور بارش مسلسل چار روز برستی رہی۔

۱۹۳۵ء میں مخدوم صاحب چانڈ یہ قوم کے سردار نواب غیبی خان چانڈیو کے بنگلہ (شہر لا
2👍1
ڑکانہ) میں مہمان تھے۔ ان دنوں بھی سخت قحط تھا۔ باران نماز کیلئے لوگ جمع تھے۔ مولوی احمد عرف مولوی ٹھوڑہو نے نماز پڑھائی اور آپ نے دعا کیلئے ہاتھ درا زکئے اسی وقت دعا قبول ہوئی اور بارش برسنا شروع ہوئی چند گھڑیوں میں شہر کی گلیوں کوچون میں پانی جمع ہوگیا۔

آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب ولی اور بارگاہ صمدیت میں مقبول تھے، اس لئے آپ کی دعا قبول ہوتی۔ دعا مانگنے، تعویذ دینے سے لوگوں کو زمین و آسمان کی آفات و بلیات و مشکلات سے چھٹکارا مل جاتا تھا اسلئے جوق در جوق لوگ آپ کی طر ہر مسئلہ دینی و دنیاوی و روحانی میں رجوع کرتے تھے۔

رد وہابیت:
دیوبندی و اہل حدیث (غیر مقلد) گستاخ رسول ہیں، وہابی مولویوں نے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں اپنی کتابوں میں لکھ کر شائع کی، علماء اہل سنت کی نشاندہی کے باوجود توبہ سے گریز کیا اور اشاعت بھی برقرار رکھی۔ یہی سبب تھا کہ علماء حرمین شریفین نے اکابر علماء دیو بند پر کفر کا فتویٰ جاری فرمایا جو کہ ’’حسام الحرمین‘‘ کتاب میں محفوظ ہے اور اس کی حمایت میں برصغیر پاک و ہند کے اکابر علماء اہل سنت نے بھی فتاویٰ مبارکہ جاری فرمائیں وہ فتاویٰ ’’الصوام الہندیہ‘‘ میں محفوظ ہیں۔

مخدوم بصر الدین وہابیوں کی گستاخیوں کے سبب ان سے سخت نفرت رکھتے تھے اسی نفرت کا نتیجہ ہے کہ آپ نے الصوارم الہندیہ (طبع اول مکتبہ فریدیہ ساہیوال) پر تصدیق فرمائی۔

اولاد:
آپ کو نرینہ اولاد می نصرف ایک بیٹا حکیم فخرالدین صدیقی تولد ہوا جس کو تین بیٹے تولد ہوئے۔

۱۔ میاں محمد (وفات لندن مدفون سیوہن)

۲۔ میاں احمد (مجذوب مدفون سیوہن)

۳۔ میاں سیف الدین (ریٹائرڈ سیشن جج کراچی) والد ڈاکٹر محمد سلیم صدیقی (کراچی)

وصال:
مخدوم بصر الدین صدیقی نے ۷۵ برس کی عمر پائی۔ ۸ ذوالقعدہ ۱۳۵۶ھ بمطابق ۱۱ جنوری ۱۹۳۸ء منگل کی نصف شب محلہ قاضی سیوہن شریف مین انتقال کیا۔ آپ کی مزار شریف آبائی قبرستان نزد درگاہ حضرت چٹھوا مرانی سیوہن شریف (ضلع دادو) میں مرجع خلائق ہے جہاں آپ کے عقیدت مند و معتقدین حاضری و فاتحہ کیلئے جمع ہوتے رہتے ہیں۔ (ماہنامہ السند جنوری ۲۰۰۲ئ)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-makhdoom-basruddin-sidddiqui
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید شاہ میر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حسن ۔ کنیت: ابو عبد اللہ، ابو محمد ۔ لقب: جمال الدین، سلطان المشائخ ۔ مشہور نام: سید شاہ میر گیلانی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید شاہ میر گیلانی بن حضرت سید ابو الحسن علی گیلانی بن سید مسعود گیلانی بن سید ابو العباس احمد گیلانی بن سید صفی الدین گیلانی بن سید عبد الوہاب گیلانی بن سیدنا غوث اعظم عبد القادر گیلانی ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 676ھ، بمطابق 1278ء کو "حلب" شام میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر، اور تمام علومِ منقول و معقول اپنے والد بزرگوار حضرت سید ابو الحسن علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ سید ابو علی صالح محمد گیلانی حلبی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیے، اور متبحر عالم ہوئے ۔تمام لوگ آپ کے حلقۂ درس سے استفادہ حاصل کرتے تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید ابو الحسن علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ روحانی بیعت اپنے جدِ امجد حضرت محبوب سبحانی سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے حاصل تھی ۔

سیرت و خصائص:
کاشفِ اسرار رب العالمین، قدوۃ المتقدمین والمتاخرین، ماہر رموزِ مقطعات فرقانی، واقف اسرار متشابہاتِ قرآنی، امام الطریقت، سلطانِ حقیقت، زبدۃ الاصفیاء سید شاہ میر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ حضرت سید ابو الحسن علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر و مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔ آپ کی ذات پر استغراقی حالت غالب رہتی تھی، سارا دن توجہ اے اللہ اور شہودِ حق میں ہی گذر جاتا ۔ اخلاق و کمالات آپ نہایت پارسا جلیل القدر، ذی مراتب، عالی مناقب،قدوۂ مشایخ و زبدہ عباد و زُہاد تھے ۔

ولایت کے مقام میں شہباز تھے، صاحبِ مدرسہ و خانقاہ تھے۔آپ کا دستر خوان عام تھا، لنگر ہر وقت جاری رہتا، امراء سے اجتناب رکھتے، غریب نواز و یتیم پرور تھے۔ علمائے عراق آپ سے سندِ فضیلت حاصل کرتے تھے ۔ سیر و سیاحت آپ کو ملک الٰہی کے سیر کا شوق ہوا تو والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کی طرح سر زمینِ ہند میں تشریف لائے، اور اس علاقہ کو فیوضِ قادریہ سے لبریز کیا، اور پھر واپس حلب تشریف لے گئے ۔ آپ صاحب خوارق و کرامات و عالی مقامات تھے ۔

مریدین کو نصیحت:
آپ نے سالکانِ طریقت کو فرمایا ہے:
مخلوق سے اعراض کرو خواہ وہ تم کو قبول کریں یا رَد کریں، ملامت کرنے والوں کی ملامت سے کچھ خوف نہ کرو، اور قلب کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حاضر رکھو، اور معنوی طور پر صحبتِ ﷺ کو ہر وقت لازم سمجھو، شریعت کے مخالف اور بیجا کلام سے زبان کو بچاؤ، لا یعنی باتوں کو ترک کردو، مسلمانوں کو نصیحت کیا کرو اور اپنے مشائخِ سلسلہ کے لیے دعائے خیر کیا کرو، اور پوشیدہ و ظاہر میں اُن سے نیک ارادت رکھو، اور ظاہر و باطن میں ان کی خدمات کو لازم سمجھو، اور حضور و غیبت میں اپنے دل کا تعلق ان کے ساتھ رکھو، اور سب اولیاء اللہ سے بالعموم اور اپنے سلسلے کےمشائخ کے ساتھ بالخصوص زیادہ تعلق رکھو، اور جو کتابیں ان کی طرف منسوب ہیں اُن کا مطالعہ کیا کرو، اور اُن کی صحبت کو غنیمت جانو ۔

وصال:
آپ کا وصال بروز جمعۃ المبارک، 8 ذوالقعدہ 766ھ، بمطابق 26 جولائی 1365ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پُر انوار "حلب" شام میں اپنے والد ماجد اور جد امجد کے پاس ہے ۔

ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-meer-gilani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام امام ابو الحسن دارقطنی رضی اللہ عنہ

نام و نسب:
اسم گرامی: علی، کنیت ابو الحسن ۔ لقب: شیخ الاسلام، امام الحدیث، حافظ الحدیث۔

سلسلۂ نسب یہ ہے:
علی بن عمر احمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان بن دینار بن عبداللہ بغدادی دارقطنی ۔ آپ کا مولد و مسکن بغداد معلیٰ کا محلہ "دار قطن" ہے جس کی طرف نسب کرتے ہوئے دار قطنی کہلائے۔

تاریخِ ولادت:
چوتھی صدی ہجری کا آغاز ہوچکا تھا ۔ دنیائے اسلام کی عظیم علمی شخصیتیں رخصت ہوچکی تھیں ۔ علمی محفلیں بے نور ہو گئی ایسے ماحول میں قدرت نے امام دارقطنی کو پیدا فرمایا۔ آپ کی ولادت 306ھ، بمطابق 918ء میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
امام در اقطنی نے دنیائے اسلام کے عظیم علمی شہر بغداد معلیٰ میں نشونما پائی جو عباسیوں کا پایۂ تخت اور علم و علماء کا عظیم مرکز تھا جہاں کے ذروں سے علم و فن کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ آپ کا گھر بھی علم کی تجلیوں سے معمور تھا والد عمر بن احمد کا شمار محدثین میں ہوتا تھا ۔ جن کی آغوش میں امام دار قطنی نے پرورش پائی اور صغر سنی ہی سے طلب علم کا شوق پروان چڑھنے لگا ۔ جب آپ کی عمر نو سال کی تھی درس حدیث میں شرکت شروع کر دی ۔

علم کا شوق:
یوسف قواس کہتے ہیں: کہ ‘‘جب ہم لوگ امام بغوی کی مجلس میں شرکت کرنے جاتے تھے اس وقت امام دار قطنی ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا لیے ہوئے ہمارا پیچھے پیچھے چلتے تھے۔نیز فرماتے ہیں: کہ ‘‘ایک مرتبہ ہم لوگ ابن منیع کے یہاں جارہے تھے یہ بھی روٹی پر سالن ڈالے ہوئے پیچھے پیچھے آرہے تھے ہم نے ان کو اندر جانے نہیں دیا وہ وہیں دروازے پر بیٹھے روتے رہے۔’’ (تاریخ دمشق، ج۲۲، ص۲۴۱)

امام دارقطنی کا شہر بغداد علم و علماء کا مرکز تھا جہاں بڑے بڑے محدثین، فقہاء، مفسرین اور ادباء کے حلقے قائم تھے مگر آپ کا شوق علم اتنا بڑھا ہوا تھا کہ بغداد کے علماء سے سیری نہ ہوئی اور دوسرے بلادو امصار کا رخ کیا۔ کوفہ، بصرہ، شام، واسط اور مصر کی خاک چھانی اور وہاں کے علماء و مشائخ سے حدیث، تفسیر، فقہ اور دوسرے مروجہ اسلامی علوم و فنون کا درس لیا اس طرح ان کے شیوخ و اساتذہ کی تعداد کافی ہے چند اہم شیوخ حدیث یہ ہیں۔امام بغوی، ابن ابی داؤد، ابن ساعد، حضرمی، ابن درید، ابن فیروز، علی بن عبداللہ بن بشر محمد بن قاسم محاربی، ابو علی محمد بن سلیمان مالکی، ابو عمر قاضی ابو جعفر احمد بن بہلول، ابن زیاد نیشاپوری بدر بن ہشم قاضی، احمد بن قاسم فرائضی، حافظ ابو طالب۔ الیٰ آخرہ۔(علیہم الرحمہ)(تذکرۃ، الحفاظ، ج۳، ص۱۸۶)

فضل و کمال اور جامعیت:
یوں تو امام دار قطنی کا خاص میدان حدیث، رجال اور علوم حدیث کی معرفت تھا مگر وہ نحو، ادب تفسیر، قرأت اور فقہ میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ عنہ لکھتے ہیں: علم نحوفن تجوید میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے۔ فن معرفت علل حدیث و اسماء الرجال میں بے نظیراور اپنے وقت کے یگانہ تھے چناں چہ خطیب اور حاکم اور اس فن کے دوسرے اماموں نے ان کی فضیلت کی شہادت دی ہے۔ نیز مذاہب فقہاء سے بھی باخبر تھے علم ادب و شعر سے بھی خوب واقفیت رکھتے تھے۔(بستان المحدثین، ص۷۶)

حافظ ابو ذر کہتے ہیں:
میں نے امام حاکم سے پوچھا کیا آپ نے امام دارقطنی جیسا کوئی آدمی دیکھا ہے بولے ‘‘ھولم یر مثل نفسہ فکیف انا؟’’انہوں نے خود اپنے جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا میں کیسے دیکھتا۔ (ایضاً)

حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
میں شہادت دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنے پیچھے روئے زمین پر اپنے جیسا کوئی آدمی نہیں چھوڑا۔ (ایضاً، ص۱۸۷)

فنِ حدیث:
یوں تو امام دار قطنی کی ذات علوم و فنون کا مجمع البحرین تھی مگر انہیں شہرت اور عظمت علم حدیث میں امتیاز کی بنا پر حاصل ہوئی۔ آپ کی کثرت حدیث، معرفت رجال و علل، تعدد طرق اور جرح و نقد حدیث کی صلاحیت کا اعتراف بڑے بڑے محدثین اور علماء فن نے کیا ہے۔

خطیب بغدادی:
علم حدیث کی جانکاری، علل حدیث اور رجال کی معرفت احوال رواۃ کا علم، صداقت و امانت، فقہ اور عدالت کے ساتھ ساتھ آپ پر ختم ہے۔ (تاریخ بغداد، ج۱۲، ص۳۴)

ابو طیب طبری:
امام دارقطنی حدیث میں مسلمانوں کے امام ہیں۔ (ایضاً، ص۱۸۸)

عبد الغنی ازدی:
حدیث رسول پر اپنے اپنے دور میں گفتگو کرنے والے تین افراد سب سے بہتر ہیں۔ علی بن مدینی، موسیٰ بن ہارون اور امام دارقطنی۔

حافظ ابن جوزی:
امام دارقطنی کی علم حدیث اسماء الرجال اور علل حدیث میں معرفت مسلم ہے۔

سیرت و خصائص:
امام صاحب علم و فضل میں جس قدر بلند مقام رکھتے تھے سیرت و کردار میں بھی اتنے ہی عظیم تھے۔ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت ان کا مشغلہ تھا۔ یوں تو وہ خاموش طبع، متواضع اور انتہائی خلیق انسان تھے لیکن دین کے معاملہ میں ذرا بھی مداہنت گوار نہ تھی۔ لوگوں کی دل آزاری نہ کرتے۔ طلبہ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کرتےتھے ان کی مالی امداد کرتے تھے۔ ان کے ورع و تقویٰ کے بارے میں حاکم بیان ہے ‘‘وہ درع و تقویٰ میں بے مثال تھے’’۔
1
سنن دار قطنی:
سنن کو شہرت دوام حاصل ہوئی یہ کتاب صحاح ستہ کے بعد صحت کے لحاظ سے اہم شمار کی جاتی ہے حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دارقطنی کی یہ مشہور کتاب اس فن کی بہترین کتابوں میں ہے۔ (ایضاً، ص۱۰۱)

اس کتاب کی چند اہم خصوصیات یہ ہیں: امام دارقطنی کو کثرت و تعدد طرق میں بڑا کمال حاصل تھا اسلئے سنن دارقطنی نقد و جرح حدیث کے متعلق اقوال کا عمدہ ذخیرہ ہے انہوں نے اکثر طرق و اسانید بیان کرنے کے ساتھ ان پر مفصل کلام کرکے ان کی قوت و ضعف کا فیصلہ اور حدیث کے مرتبہ کی تعیین کی ہے۔اس کتاب سے فقہی آراء اور اجتہادی اختلافات ائمہ کا علم بھی ہوتا ہے۔رواۃ کے اسماء وکنی، بلاد و مساکن اور بعض مشکل و غریب الفاظ حدیث کی مختصر وضاحت بھی ہے۔روایت کے حسن وقبح کے ضمن میں بعض واقعات اور تاریخی حالات بھی زیر بحث آگئے ہیں۔

وصال:
صحیح قول کے مطابق اس پیکر علم و عمل کا وصال بروز جمعرات 8 ذیقعدہ 385ھ ، 3 دسمبر995ء کو ہوا ۔ ابو حامد اسفرائنی (مشہور فقیہ) نے نماز جنازہ پڑھائی، اور بغداد شریف میں شیخ معروف کرخی علیہ الرحمہ کے مزار کے متصل "قبرستان باب دیر"میں مدفون ہیں۔

ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات و خدمات ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-hasan-dar-qutni-muhaddis
1👍1